6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی لاتا ہے ایک نیکی تو اس کیلئے ان کا دس گناہ ہے اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی سو سزا پاوے گا اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا4

4 (ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :159) میں ان کے افعال شنیعہ کی مجازات پر متنبہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی ہر نیک و بد کی مجازات کا عام قانون بتلا دیا کہ بھلائی کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے اور برائی کا زائد از زائد اس کے برابر یعنی جس نے ایک نیکی کمائی تو کم از کم ویسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا زائد کی حد نہیں (ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ) 2 ۔ البقرۃ :261) اور جو ایک بدی کا مرتکب ہوا تو ویسی ایک بدی کی جس قدر سزا مقرر ہے اس سے آگے نہ بڑھیں گے، تخفیف کردیں یا بالکل معاف فرما دیں، یہ اختیار ہے۔ پھر جہاں وفور رحمت کی یہ کیفیت ہو وہاں ظلم کا کیا امکان ہے۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

تو کہ دے مجھ کو سجھائی میرے رب نے راہ سیدھی دین صحیح ملت ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا5 اور نہ تھا شرک والوں میں6

5 یعنی ایک خدا ہی کا ہو رہا تھا۔ 6 یعنی تم دین میں جتنی چاہو راہیں نکالو اور جس قدر معبود چاہو ٹھہرا لو۔ مجھ کو تو میرا پروردگار صراط مستقیم بتلا چکا اور وہ ہی خالص توحید اور کامل تفویض و توکل کا راستہ ہے، جس پر موحد اعظم ابو الانبیاء ابراہیم خلیل اللہ بڑے زور شور سے چلے جن کا نام آج بھی تمام عرب اور کل ادیان سماویہ غایت عظمت و احترام سے لیتے ہیں۔
Ayahs 6:162–163

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

تو کہہ کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو پالنے والا سارے جہان کا ہے

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

کوئی نہیں اس کا شریک1 اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں2

1 اس آیت میں توحید و تفویض کے سب سے اونچے مقام کا پتہ دیا گیا ہے جس پر ہمارے سید و آقا محمد رسول اللہ ﷺ فائز ہوئے۔ نماز اور قربانی کا خصوصیت سے ذکر کرنے میں مشرکین پر جو بدنی عبادت اور قربانی غیر اللہ کے لئے کرتے تھے، تصریحاً رد ہوگیا۔ 2 عموماً مفسرین (وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :163) کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس امت محمدیہ کے اعتبار سے آپ اول المسلمین ہیں لیکن جامع ترمذی کی حدیث کنت نبیاً و اٰدم بین الروح والجسد کے موافق آپ اول الانبیاء ہیں تو اول المسلمین ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ یہاں اولیت زمانی مراد نہ ہو بلکہ تقدم رتبی مراد ہو۔ یعنی میں سارے جہان کے فرمانبرداروں کی صف میں نمبر اول اور سب سے آگے ہوں۔ شاید مترجم محقق قدس سرہ، نے ترجمہ میں " سب سے پہلا فرمانبردار ہوں " کی جگہ " سب سے پہلے فرمانبردار ہوں " کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہو۔ کیونکہ محاورات کے اعتبار سے یہ تعبیر اولیت رتبی کے ادا کرنے میں زیادہ واضح ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

تو کہہ کیا اب میں اللہ کے سوا تلاش کروں کوئی رب اور وہی ہے رب ہر چیز کا3 اور جو کوئی گناہ کرتا ہے سو وہ اس کے ذمہ پر ہے اور بوجھ نہ اٹھائے گا ایک شخص دوسرے کا پھر تمہارے رب کے پاس ہی تم سب کو لوٹ کر جانا ہے سو وہ جتلائے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے4

3 پہلے توحید فی الالوہیت کا ذکر تھا اب توحید فی الربوبیت کی تصریح فرمائی۔ یعنی جس طرح معبود اس کے سوا کوئی نہیں، مستعان بھی کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ استعانت ربوبیت عامہ پر متفرع ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ 4 کفار مسلمانوں سے توحید وغیرہ میں جھگڑتے اور کہتے تھے کہ تم توحید کی راہ چھوڑ کر ہمارے راستہ پر آجاؤ۔ اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہمارے سر (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰيٰكُمْ ) 29 ۔ العنکبوت :12) یہاں اس کا جواب دے دیا کہ ہر ایک کا گناہ اسی کے سر ہے، کوئی شخص دوسرے کے گناہوں کا بار نہیں اٹھا سکتا۔ باقی تمہارے جھگڑے اور اختلافات خدا کے یہاں جا کر سب طے ہوجائیں گے۔ یہ دنیا فیصلہ کی جگہ نہیں، امتحان و آزمائش کا گھر ہے جیسا کہ اگلی آیت میں آگاہ فرمایا۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو نائب کیا ہے زمین میں5 اور بلند کر دئیے تم میں درجے ایک کے ایک پر6 تاکہ آزمائے تم کو اپنے دئیے ہوئے حکموں میں تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے7

5 یعنی خدا نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا کہ تم اس کے دیے ہوئے اختیارات سے کام لے کر کیسے کیسے حاکمانہ تصرفات کرتے ہو، یا تم کو باہم ایک دوسرے کا نائب بنایا کہ ایک قوم جاتی ہے، تو دوسری قوم اس کی جانشین ہوتی ہے۔ 6 یعنی تمہارے آپس میں بیحد فرق مدارج رکھا۔ چناچہ شکل و صورت، رنگت، لہجہ، اخلاق و ملکات، محاسن و مساوی، رزق، دولت، عزت و جاہ وغیرہ میں افراد انسانی کے بیشمار درجات ہیں۔ 7 یعنی ظاہر ہوجائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حکم مانتا ہے۔ ابن کثیر نے فِی مَا اٰتَاکُمْ سے وہ مختلف احوال و درجات مراد لئے ہیں جن میں حسب استعداد و لیاقت ان کو رکھا گیا ہے۔ اس تقدیر پر آزمایش کا حاصل یہ ہوگا کہ مثلاً غنی حالت غناء میں رہ کر کہاں تک شکر کرتا ہے اور فقیر حالت فقر میں کس حد تک صبر کا ثبوت دیتا ہے و قس علیٰ ہذا۔ بہرحال اس آزمائش میں جو بالکل نالائق ثابت ہوا۔ حق تعالیٰ اس کے حق میں سریع العقاب اور جس سے قدرے کوتاہی رہ گئی اس کے حق میں غفور اور جو پورا اترا اس کے لئے رحیم ہے۔ (تمت سورة الانعام بعون اللّٰہ الملک العلاّم)