6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 6:40–41

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا یا آوے تم پر قیامت کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتاؤ اگر تم سچے ہو

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکارتے ہو پھر دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو اگر چاہتا ہے اور تم بھول جاتے ہو جن کو شریک کرتے تھے2

2 جب اندھے بہرے گونگے ہو کر آیات اللہ کو جھٹلایا اور گمراہی کے عمیق غار میں جا پڑے۔ اس پر اگر دنیا میں یا قیامت میں خدا کا سخت عذاب نازل ہو تو سچ سچ بتلاؤ کہ خدا کے سوا اس وقت کسے پکارو گے۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی مصیبتوں میں بھی جب گھر جاتے ہو تو مجبور ہو کر اسی خدائے واحد کو پکارتے ہو اور سب شرکاء کو بھول جاتے ہو (فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :65) جس پر اگر خدا چاہتا ہے تو اس مصیبت کو دور بھی کردیتا ہے اسی سے اندازہ کرلو کہ نزول عذاب یا ہول قیامت سے بچانے والا بجز خدا کے اور کون ہوسکتا ہے پھر یہ کس قدر حماقت اور اندھا پن ہے کہ اس خدا کی عظمت و جلال کو فراموش کر کے اس کی نازل کی ہوئی آیات کی تکذیب اور فرمائشی آیات کا مطالبہ کرتے ہو۔
Ayahs 6:42–44

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت سی امتوں پر تجھ سے پہلے پھر ان کو پکڑا ہم نے سختی میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑ گڑاویں

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہوگئے دل ان کے اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کی دی گئیں پکڑ لیا ہم نے ان کو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے ناامید3

3 گزشتہ آیت میں عذاب آنے کا احتمال ہوا تھا۔ اب واقعات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پہلے زمانے میں اس طرح کے عذاب آ چکے ہیں۔ نیز متنبہ فرما دیا کہ جب مجرم کو ابتدا ہلکی تنبیہ کی جائے تو اسکو معاً خدا کیطرف رجوع ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور اغوائے شیطانی سے اسے ہلکا نہ سمجھے۔ موضح القرآن میں ہے کہ گنہگار کو اللہ تعالیٰ تھوڑا سا پکڑتا ہے، اگر وہ گڑ گڑایا توبہ کی تو بچ گیا اور اگر اتنی پکڑ نہ مانی تو پھر بھلاوا دیا اور وسعت عیش کے دروازے کھولے۔ جب نعمتوں کی شکر گزاری اور انعام واحسان سے متأثر ہونے کے بجائے خوب گناہ میں غرق ہوا تو دفعۃ بیخبر پکڑا گیا۔ یہ ارشاد ہے کہ آدمی کو گناہ پر تنبیہ پہنچے تو شتاب توبہ کرے۔ یہ راہ نہ دیکھے کہ اس سے زیادہ پہنچے تو یقین کروں۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پھر کٹ گئی جڑ ان ظالموں کی اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہان کا4

4 ظالموں کا استیصال بھی اسکی ربوبیت عامہ کا اثر اور مجموعہ عالم کے لئے رحمت عظیم ہے اسی لئے یہاں حمد و شکر کا اظہار فرمایا۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر چھین لے اللہ تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر کر دے تمہارے دلوں پر5 تو کون ایسا رب ہے اس کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دیوے1 دیکھ ہم کیونکر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں پھر بھی وہ کنارہ کرتے ہیں

5 کہ نہ تم سن سکو نہ دیکھ سکو نہ دل سے سمجھ سکو۔ 1 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں " یعنی توبہ میں دیر نہ کرے جو کان اور آنکھ اور دل اس وقت ہے شاید پھر نہ ملے اور اس لئے توبہ واستغفار کی توفیق نہ ہو سکے۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا اچانک2 یا ظاہر ہو کر تو کون ہلاک ہوگا ظالم لوگوں کے سوا3

2 " اچانک " یعنی وہ عذاب جس کی کچھ علامات پہلے سے ظاہر نہ ہوں۔ لہذا " جھرۃً " سے مراد وہ عذاب ہوگا جس کے آنے سے قبل علامات ظاہر ہونے لگیں۔ 3 یعنی توبہ میں دیر نہ کرنا چاہیے شاید اس دیر میں عذاب پہنچ جائے جس کا خمیازہ صرف ظالموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر پہلے ہی ظلم وعدوان سے توبہ کرچکا ہوگا تو اس عذاب سے بچ رہے گا۔
Ayahs 6:48–49

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسول نہیں بھیجتے مگر خوشی اور ڈر سنانے کو پھر جو کوئی ایمان لایا اور سنور گیا تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ان کو پہنچے گا عذاب اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے4

4 یعنی تم جو عذاب الہٰی سے نہ ڈر اور بےفکر ہو کر بیہودہ فرمائشیں اور دو راز کار سوالات کر کے پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو دق کرتے اور ان کی تصدیق کے لئے خود ساختہ معیار تراشتے ہو، خوب سمجھ لو کہ پیغمبر دنیا میں اس لئے نہیں بھیجے گئے کہ تمہاری ایسی واہی تباہی فرمائشیں پوری کرتے رہا کریں۔ ان کی بعثت کی غرض صرف " تبشیر و انذار " اور " تبلیغ وارشاد " ہے۔ وہ خدا کی طرف سے اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ فرما نبرداروں کو بشارات سنائیں اور نافرمانوں کو ان کے انجام بد پر متنبہ کردیں، آگے ہر شخص کی کمائی اس کے ساتھ ہے۔ جس نے انبیاء (علیہم السلام) کی باتوں پر یقین کیا اور اعتقادا و عملا اپنی حالت درست کرلی، حقیقی امن اور چین اس کو نصیب ہوا۔ اور جس نے خدا کی آیات کو جھٹلا کر ہدایت الہٰی سے روگردانی کی وہ نافرمانی اور بغاوت کیوجہ سے سخت تباہی اور عذاب عظیم کے نیچے آگیا۔ العیاذ باللہ
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں جانوں غیب کی بات اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں5 میں تو اسی پر چلتا ہوں جو میرے پاس اللہ کا حکم آتا ہے تو کہہ دے کب برابر ہوسکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا سو کیا تم غور نہیں کرتے6

5 اس آیت میں منصب رسالت پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی کوئی شخص جو مدعی نبوت ہو، اس کا دعویٰ یہ نہیں ہوتا کہ تمام مقدورات الہٰیہ کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں کہ اس سے کسی امر کی فرمائش کی جائے وہ ضرور ہی کر دکھلائے یا تمام معلومات غیبیہ و شہادیہ پر خواہ ان کا تعلق فرائض رسالت سے ہو یا نہ ہو، اس کو مطلع کردیا گیا ہے کہ جو کچھ تم پوچھو، وہ فوراً ابتلا دیا کرے یا نوع بشر کے علاوہ وہ کوئی اور نوع ہے جو لوازم و خواص بشریہ سے اپنی برأت ونزہت کا ثبوت پیش کرے۔ جب ان باتوں میں سے وہ کسی چیز کا مدعی نہیں تو فرمائشی معجزات اس سے طلب کرنا یا ازراہ تعنت وعناد اس قسم کا سوال کرنا کہ " قیامت کب آئے گی " یا یہ کہنا کہ " یہ رسول کیسے ہیں جو کھانا کھاتے اور بازاروں میں خریدو فروخت کیلئے جاتے ہیں " اور انہی امور کو معیار تصدیق و تکذیب ٹھہرانا کہاں تک صحیح ہوسکتا ہے۔ 6 یعنی اگرچہ پیغمبر نوع بشر سے علیحدہ کوئی دوسری نوع نہیں۔ لیکن اس کے اور باقی انسانوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسانی قوتیں دو قسم کی ہیں علمی و عملی۔ قوت علمیہ کے اعتبار سے نبی کے دل کی آنکھیں ہر وقت مرضیات الہٰی اور تجلّیات ربانی کے دیکھنے کیلئے کھلی رہتی ہیں، جسکے بلاواسطہ مشاہدہ سے دوسرے انسان محروم ہیں اور قوت عملیہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے قول وفعل اور ہر ایک حرکت و سکون میں رضائے الہٰی اور حکم خدا وندی کے تابع و منقاد ہوتے ہیں، وحی سماوی اور احکام الہٰیہ کے خلاف نہ کبھی ان کا قدم اٹھ سکتا ہے نہ زبان حرکت کرسکتی ہے۔ ان کی مقدس ہستی اخلاق واعمال اور کل واقعات زندگی میں تعلیمات ربانی اور مرضیات الہٰی کی روشن تصویر ہوتی ہے جسے دیکھ کر غورو فکر کرنے والوں کو ان کی صداقت اور مامور من اللہ ہونے میں ذرا بھی شبہ نہیں رہ سکتا۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور خبردار کر دے اس قرآن سے لوگوں کو جن کو ڈر ہے اس کا کہ جو جمع ہوں گے اپنے رب کے سامنے اس طرح پر کہ اللہ کے سوا نہ کوئی ان کا حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والاف 7 تاکہ وہ بچتے رہیں8

7 یعنی جو لوگ فرمائشی معجزات دکھلائے جانے پر اپنے ایمان کو موقوف رکھتے اور ازراہ تعنت وعناد آیات اللہ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں، ان سے قطع نظر کیجئے۔ کیونکہ ایسے ہی لوگوں سے امید ہوسکتی ہے کہ نصیحت سے متأثر اور ہدایت قرآنی سے منتفع ہوں۔ 8 یعنی یہ سن کر گناہ سے بچتے رہیں۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور مت دور کر ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام چاہتے ہیں اس کی رضا1 تجھ پر نہیں ہے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر ہے کچھ کہ تو ان کو دور کرنے لگے پس ہوجاوے گا تو بےانصافوں میں2

1 یعنی رات دن اسکی عبادت میں حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔ 2 یعنی جب ان کا ظاہر حال یہ بتلا رہا ہے کہ شب و روز خدا کی عبادت اور رضا جوئی میں مشغول رہتے ہیں تو اسی کے مناسب ان سے معاملہ کیجئے ان کا باطنی حال کیا ہے یا آخری انجام کیا ہوگا، اسکی تفتیش و محاسبہ پر معاملات موقوف نہیں ہوسکتے۔ یہ حساب نہ آپ کا ان کے ذمے ہے نہ انکا آپ کے۔ لہذا اگر بالفرض آپ دولتمندوں کی ہدایت کی طمع میں ان غریب مخلصین کو اپنے پاس سے ہٹانے لگیں تو یہ بات بےانصافی کی ہوگی۔ موضح القران میں ہے " کافروں میں بعض سرداروں نے حضرت ﷺ سے کہا کہ تمہاری بات سننے کو ہمارا دل چاہتا ہے لیکن تمہارے پاس بیٹھتے ہیں رذیل لوگ ہم ان کے برابر نہیں بیٹھ سکتے اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی خدا کے طالب اگرچہ غریب ہیں، ان ہی کی خاطر مقدم ہے "۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعضے لوگوں کو بعضوں سے تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے فضل کیا ہم سب میں کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو3

3 یعنی دولتمندوں کو غریبوں سے آزمایا ہے کہ ان کو ذلیل دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ یہ کیا لائق ہیں اللہ ان کے دل دیکھتا ہے کہ اللہ کا حق مانتے ہیں۔
Ayahs 6:54–55

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتوں کے ماننے والے تو کہہ دے تو سلام ہے تم پر لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو کہ جو کوئی کرے تم سے برائی ناواقفیت سے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہوجاوے تو بات یہ ہے کہ وہ ہے بخشنے والا مہربان

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتوں کو اور تاکہ کھل جاوے طریقہ گناہ گاروں کا4

4 پہلے فرمایا تھا کہ پیغمبر تبشیر و انذار کے لئے آتے ہیں، چناچہ اس رکوع کے شروع میں وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الخ سے شان انذار کا استعمال تھا۔ اب مومنین کے حق میں شان تبشیر کا اظہار ہے یعنی مومنین کو کامل سلامتی اور رحمت و مغفرت کی بشارت سنا دیجئے تاکہ ان غریبوں کا دل بڑھے اور دولت مند متکبرین کے طعن وتشنیع اور تحقیر آمیز برتاؤ سے شکستہ خاطر نہ رہیں۔ اسی لئے ہم احکام و آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں نیز اس لئے کہ مومنین کے مقابلہ میں مجرمین کا طریقہ بھی واضح ہوجائے (تنبیہ) یہ جو فرمایا کہ " جو کوئی کرے تم میں سے برائی ناواقفیت سے " اس سے شاید یہ غرض ہو کہ مومن جو برائی یا معصیت کرتا ہے خواہ نادانستہ ہو یا جان بوجھ کر، وہ فی الحقیقت اس برائی اور گناہ کے انجام بد سے ایک حد تک ناواقف اور بیخبر ہی ہو کر کرتا ہے اگر گناہ کے تباہ کن نتائج کا پوری طرح اندازہ اور استحضار ہو تو کون شخص ہے جو اس اقدام کی جرأت کرے گا۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

تو کہہ دے مجھ کو روکا گیا ہے اس سے کہ بندگی کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا تو کہہ میں نہیں چلتا تمہاری خوشی پر بیشک اب تو میں بہک جاؤں گا اور نہ رہوں گا ہدایت پانے والوں میں5

5 گزشتہ آیت میں وہ چیزیں بیان ہوئیں جو مومنین سے کہنے کے لائق ہیں۔ اس رکوع میں ان امور کا تذکرہ ہے جو مجرمین و مکذبین کے حق میں قابل خطاب ہیں۔ یعنی آپ فرما دیجئے کہ میرا ضمیر، میری فطر ت، میری عقل، میرا نور وشہود اور وحی الٰہی جو مجھ پر اترتی ہے، یہ سب مجھ کو اس سے روکتے ہیں کہ میں توحید کامل کے جادہ سے ذرا بھی قدم ہٹاؤں۔ خواہ تم کتنے ہی حیلے اور تدبیریں کرو میں کبھی تمہاری خوشی اور خواہش کی پیروی نہیں کرسکتا۔ بفرض محال اگر پیغمبر کسی معاملہ میں وحی الٰہی کو چھوڑ کر عوام کی خواہشات کا اتباع کرنے لگیں تو خدا نے جنہیں ہادی بنا کر بھیجا تھا معاذاللہ وہ ہی خود بہک گئے، پھر ہدایت کا بیج دنیا میں کہاں رہ سکتا ہے۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ مجھ کو شہادت پہنچی میرے رب کی اور تم نے اس کو جھٹلایا1 میرے پاس نہیں جس چیز کی تم جلدی کر رہے ہو2 حکم کسی کا نہیں سو اللہ کے بیان کرتا ہے حق بات اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے

1 یعنی میرے پاس خدا کی صاف وصریح شہادت اور واضح دلائل پہنچ چکیں، جن کے قبول سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا۔ تم اس کو جھٹلاتے ہو تو اسکا انجام سوچ لو۔ 2 یعنی عذاب الٰہی کفار کہتے تھے، ( اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 8 ۔ الانفال :32) (اگر یہ حق ہے جسکی ہم تکذیب کر رہے ہیں تو آپ آسمان سے ہم پر پتھروں کی بارش کر دیجئے یا ہم پر اور کوئی سخت عذاب بھیج دیجئے)
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

تو کہہ اگر ہوتی میرے پاس وہ چیز جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہوچکا ہوتا جھگڑا درمیان میرے اور درمیان تمہارے3 اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

3 یعنی جس پر چاہے جب چاہے اور جس قسم کا چاہے عذاب بھیجے یا نہ بھیجے ویسے ہی توبہ کی توفیق مرحمت فرما دے، یہ سب اللہ کے قبضہ میں ہے۔ کسی کا حکم اور زور اس کے سوا نہیں چلتا۔ وہ دلائل وبراہین کے ساتھ حق کو بیان کردیتا ہے۔ پھر جو نہ مانیں ان کے متعلق بہترین فیصلہ کرنیوالا بھی وہ ہی ہے۔ اگر ان کا فیصلہ کرنا یا سزا دینا میرے قبضہ اختیار میں ہوتا اور یہ نزول عذاب میں جلدی چاہنے والے مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تو اب تک کبھی کا جھگڑا ختم ہوچکا ہوتا۔ یہ تو خدا ہی کے علم محیط، حلم عظیم، حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کا پر تو ہے کہ بیشمار مصالح و حکم کی رعایت کرتے ہوئے باوجود پوری طرح جاننے اور قدرت رکھنے کے ظالموں پر فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔ آئندہ آیات میں اس کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا ذکر ہے تاکہ ثابت ہو کہ تاخیر عذاب جہل یا عجز کی بناء پر نہیں۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی کہ ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے4

4 یعنی لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ میں جو چیز ہوگی وہ علم الٰہی میں پہلے ہوگی۔ اس اعتبار سے مضمون آیت کا حاصل یہ ہوا کہ عالم غیب و شہادت کی کوئی خشک و تر اور چھوٹی بڑی چیز حق تعالیٰ کے علم ازلی محیط سے خارج نہیں ہوسکتی۔ بناء علیہ ان ظالموں کے ظاہری و باطنی احوال اور ان کی سزا دہی کے مناسب وقت و محل کا پورا پورا علم اسی کو ہے (تنبیہ) " مفاتیح " کو جن علماء نے مفتح بفتح المیم کی جمع قرار دیا ہے انھوں نے " مفاتیح الغیب " کا ترجمہ " غیب کے خزانوں " سے کیا اور جن کے نزدیک مفتح بکسر المیم کی جمع ہے وہ " مفاتیح الغیب " کا ترجمہ مترجم (رح) کے موافق کرتے ہیں، یعنی " غیب کی کنجیاں " مطلب یہ ہے کہ غیب کے خزانے اور ان کی کنجیاں صرف خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان میں سے جس خزانہ کو جس وقت اور جس قدر چاہے کسی پر کھول سکتا ہے کسی کو یہ قدرت نہیں کہ اپنے حواس و عقل وغیرہ آلات ادراک کے ذریعہ سے علوم غیبیہ تک رسائی پا سکے یا جتنے غیوب اس پر منکشف کر دئیے گئے ہیں ان میں از خود اضافہ کرلے کیونکہ علوم غیبیہ کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں نہیں دی گئیں۔ خواہ لاکھوں کروڑوں جزئیات واقعات غیبیہ پر کسی بندے کو مطلع کردیا گیا ہو۔ تاہم غیب کے اصول و کلیات کا علم جن کو " مفاتیح غیب " کہنا چاہئے، حق تعالیٰ نے اپنے ہی لئے مخصوص رکھا ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں5 اور جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرچکے ہو دن میں6 پھر تم کو اٹھا دیتا ہے اس میں تاکہ پورا ہو وہ وعدہ جو مقرر ہوچکا ہے7 پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر خبر دے گا تم کو اس کی جو کچھ تم کرتے ہو8

5 یعنی شب میں سوتے وقت ظاہری احساس و شعور باقی نہیں رہتا اور آدمی اپنے گرد و پیش بلکہ اپنے جسم کے احوال تک سے بھی بیخبر ہوجاتا ہے گویا اس وقت یہ قوتیں اس سے لے لی گئیں 6 یعنی دن میں جو کچھ چلنا پھرنا، نقل و حرکت اور کسب و اکتساب واقع ہوتا ہے وہ سب کامل تفصیل کے ساتھ خدا کے علم میں موجود ہے۔ 7 یعنی اگر وہ چاہتا تو تم سوتے کے سوتے رہ جاتے لیکن موت کا وعدہ پورا ہونے تک ہر نیند کے بعد تم کو بیدار کرتا رہتا ہے۔ 8 دن میں کاروبار کر کے رات کو سونا، پھر سو کر اٹھنا یہ روز مرہ کا سلسلہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے، دنیا کی زندگی پھر موت پھر دوبارہ زندہ کئے جانے کا۔ اسی لئے نیند اور بیداری کے تذکرہ کے ساتھ " مسئلہ معاد " پر متنبہ کردیا گیا۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان9 یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضہ میں لے لیتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے10 اور وہ کوتاہی نہیں کرتے11

9 یعنی وہ فرشتے جو تمہاری اور تمہارے اعمال کی نگہداشت کرتے ہیں۔ 10 یعنی جو فرشتے روح قبض کرنے کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔ 11 یعنی جس وقت اور جس طرح جان نکالنے کا حکم ہوتا ہے اس میں وہ کسی طرح کی رعایت یا کوتاہی نہیں کرتے۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر پہنچائے جاویں گے اللہ کی طرف جو مالک ان کا ہے سچا سن رکھو حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے1

1 یعنی ایک لحظہ میں آدمی کی عمر بھر کی بھلائی برائی واضح کر دے۔
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

تو کہہ کون تم کو بچا لاتا ہے جنگل کے اندھیروں سے اور دریا کے اندھیروں سے اس وقت میں کہ پکارتے ہو تم اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے سے کہ اگر ہم کو بچا لیوے اس بلا سے تو البتہ ہم ضرور احسان مانیں گے

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

تو کہہ دے اللہ تم کو بچاتا ہے اس سے اور ہر سختی سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو2 تو کہہ اسی کو قدرت ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب3

2 یعنی حق تعالیٰ باوجود علم محیط اور قدرت کاملہ کے جس کا بیان اوپر ہوا، تمہاری بد اعمالیوں اور شرارتوں کی سزا فورا نہیں دیتا۔ بلکہ جب مصائب و شدائد کی اندھیریوں میں پھنس کر تم اس کو عاجزی سے پکارتے ہو اور پختہ وعدے کرتے ہو کہ اس مصیبت سے نکلنے کے بعد کبھی شرارت نہ کریں گے اور ہمیشہ احسان کو یا رکھیں گے، تو بسا اوقات تمہاری دستگیری کر کے ان مہالک اور ہر قسم کی سختیوں سے نجات دے دیتا ہے لیکن تم پھر بھی اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتے اور مصیبت سے آزاد ہوتے ہی بغاوت شروع کردیتے ہو۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو مختلف فرقے کر کے اور چکھا دے ایک کو لڑائی ایک کی4 دیکھ کس کس طرح سے ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو تاکہ وہ سمجھ جاویں5

3 یعنی خدا کے امہال و درگزر کو دیکھ کر مامون اور بےفکر نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح وہ شدائد و مصائب سے نجات دے سکتا ہے۔ اسے یہ بھی قدرت ہے کہ کسی قسم کا عذاب تم پر مسلط کر دے۔ 4 اس میں عذاب کی تین قسمیں بیان فرمائیں (1) جو اوپر سے آئے، جیسے پتھر برسنا یا طوفانی ہوا اور بارش (2) جو پاؤں کے نیچے سے آئے، جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ یہ دونوں خارجی اور بیرونی عذاب ہیں۔ جو اگلی قوموں پر مسلط کئے گئے۔ حضور ﷺ کی دعا سے اس امت کو اس قسم کے عام عذاب سے محفوط کردیا گیا ہے یعنی اس قسم کا عام عذاب جو گزشتہ اقوام کی طرح اس امت کا استیصال کر دے نازل نہ ہوگا۔ جزئی اور خصوصی واقعات اگر پیش آئیں تو اس کی نفی نہیں۔ ہاں تیسری قسم عذاب کی جسے اندرونی اور داخلی عذاب کہنا چاہیے اس امت کے حق میں باقی رہی ہے اور وہ پارٹی بندی، باہمی جنگ وجدل اور آپس کی خونریزی کا عذاب ہے۔ موضح القرآن میں ہے کہ قرآن شریف میں اکثر کافروں کو عذاب کا وعدہ دیا۔ یہاں کھول دیا کہ عذاب وہ بھی ہے جو اگلی امتوں پر آیا آسمان سے یا زمین سے اور یہ بھی ہے کہ آدمیوں کو آپس میں لڑا دے اور انکو قتل یا قید یا ذلیل کرے، حضرت نے سمجھ لیا کہ اس امت پر یہ ہی عذاب ہوگا، اکثر " عذاب الیم " اور " عذاب مہین " اور " عذاب شدید " اور " عذاب عظیم " ان ہی باتوں کو فرمایا ہے آخرت کا عذاب بھی ہے ان پر جو کافر ہی مرے۔ 5 یعنی قرآن کو یا عذاب کے آنے کو۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سب جھوٹی دھمکیاں ہیں، عذاب وغیرہ کچھ نہیں آتا۔
Ayahs 6:66–67

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس کو جھوٹ بتلایا تیری قوم نے حالانکہ وہ حق ہے تو کہہ دے کہ میں نہیں تم پر داروغہ

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور قریب ہے کہ اس کو جان لو گے6

6 یعنی میرا یہ منصب نہیں کہ تمہاری تکذیب پر وہ عذاب نازل کر دوں یا اس کے وقت اور نوعیت وغیرہ کی تفصیل بتلاؤں میرا کام صرف باخبر اور متنبہ کردینا ہے۔ آگے ہر چیز کے وقوع کا علم الٰہی میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وقت آجائے گا تم خود جان لو گے کہ میں جس چیز سے ڈراتا تھا وہ کہاں تک سچ ہے۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر یہاں تک کہ مشغول ہوجاویں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تجھ کو شیطان تو مت بیٹھ یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ1

1 یعنی جو لوگ آیات اللہ پر طعن و استہزاء اور ناحق کی نکتہ چینی میں مشغول ہو کر اپنے کو مستحق عذاب بنا رہے ہیں تم ان سے خط ملط نہ رکھو کہیں تم بھی ان کے زمرے میں داخل ہو کر مورد عذاب نہ بن جاؤ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ایک مومن کی غیرت کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ایسی مجلس سے بیزار ہو کر کنارہ کرے اور کبھی بھول کر شریک ہوگیا تو یاد آنے کے بعد فوراً وہاں سے اٹھ جائے اس میں اپنی عاقبت کی درستی ' دین کی سلامتی اور طعن و استہزاء کرنے والوں کے لئے عملی نصیحت اور تنبیہ ہے۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمہ نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں2

2 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں یعنی اگر پرہیزگار لوگ جھگڑنے اور طعن کرنے والوں کی مجلس سے اٹھ کر چلے آئے تو طاعنین کے گمراہی میں پڑے رہنے کا کوئی مواخذہ اور ضرر ان متقین پر عائد نہیں ہوسکتا۔ ہاں ان کے ذمے بقدر استطاعت اور حسب موقع نصیحت کرتے رہنا ہے۔ شائد وہ بدبخت نصیحت سن کر اپنے انجام سے ڈر جائیں ' یا یہ مطلب ہے کہ پرہیزگار اور محتاط لوگوں کو اگر کسی واقعی معتدبہ دینی یا دنیاوی ضرورت سے ایسی مجلس میں جانے کا اتفاق ہوجائے تو ان کے حق میں طاعنین کے گناہ اور باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچتا۔ ہاں ان کے ذمہ بشرت قدرت نصیحت کردینا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان پر بھی نصیحت کا اثر پڑجائے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشا3 اور دھوکا دیا ان کو دنیا کی زندگانی نے4 اور نصیحت کر ان کو قرآن سے تاکہ گرفتار نہ ہوجاوے کوئی اپنے کئے میں کہ نہ ہو اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر بدلے میں دے سارے بدلے تو قبول نہ ہوں اس سے5 وہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے میں ان کو پینا ہے گرم پانی اور عذاب ہے دردناک بدلے میں کفر کے6

3 یعنی اپنے اس دین کو جس کا قبول کرنا اس کے ذمہ فرض تھا ' اور وہ مذہب اسلام ہے۔ 4 دنیا کی لذتوں میں مست ہو کر عاقبت کو بھلا بیٹھے۔ 5 یعنی ایسے لوگوں کو جو تکذیب و استہزاء کی کرتوت میں پکڑے گئے ہوں نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے زبردستی عذاب الٰہی سے چھڑا لے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جو سعی اور سفارش سے کام نکال دے اور نہ کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول کیا جائے گا اگر بالفرض ایک مجرم دنیا ٰبھر کے معاوضے دے کر چھوٹنا چاہے تو نہ چھوٹ سکے گا۔ 6 گزشتہ آیت میں خاص اس مجلس سے کنارہ کشی کا حکم تھا جہاں آیات اللہ کے متعلق طعن و استہزاء اور ناحق کے جھگڑے کئے جا رہے ہوں اس آیت میں ایسے لوگوں کی عام مجالست و صحبت ترک کردینے کا ارشاد ہے مگر ساتھ ہی حکم ہے کہ ان کو نصیحت کردیا کرو تاکہ وہ اپنے کئے کے انجام سے آگاہ ہوجائیں
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

تو کہہ دے کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا ان کو جو نہ نفع پہنچا سکیں ہم کو اور نہ نقصان اور کیا پھر جاویں ہم الٹے پاؤں اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو مثل اس شخص کے کہ راستہ بھلا دیا ہو اس کو جنوں نے جنگل میں جب کہ وہ حیران ہے اس کے رفیق بلاتے ہیں اس کو راستہ کی طرف کہ چلا آ ہمارے پاس7 تو کہہ دے کہ اللہ نے جو راہ بتلائی وہی سیدھی راہ ہے8 اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ تابع رہیں پروردگار عالم کے

7 یعنی مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ گمراہوں کو نصیحت کر کے سیدھی راہ پر لائے اور جو خدا سے بھاگ کر غیر اللہ کی چوکھٹ پر سر رکھے ہوئے ہیں ان کو خدائے واحد کے سامنے سر بسجود کرنے کی فکر کرے۔ اس سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی ایسی ہستی کے آگے سر جھکائے گا جس کے قبضے میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ یا اہل باطل کی صحبت میں رہ کر توحید و ایمان کی صاف سڑک چھوڑ دے گا اور شرک کی بھول بھلیوں کی طرف الٹے پاؤں پھرے گا۔ اگر معاذ اللہ ایسا ہو تو اس کی مثال اس مسافر کی سی ہوگی جو اپنے راہ جاننے والے رفقاء کے ساتھ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ ناگاہ غول بیابانی (خبیث جنات) نے اسے بہکا کر راستے سے الگ کردیا وہ چاروں طرف بھٹکتا پھرتا ہے اور اسکے رفقاء ازراہ خیر خواہی اسے آوازیں دے رہے ہیں کہ ادھر آؤ راستہ اس طرف ہے مگر وہ حیران و مخبوط و الخو اس ہو کر نہ کچھ سمجھتا ہے اور نہ ادھر آتا ہے اسی طرح سمجھ لو کہ مسافر آخرت کے لئے سیدھی راہ اسلام و توحید کی ہے اور جن کی رفاقت اور معیت میں یہ سفر طے ہوتا ہے وہ پیغمبر اور اس کے متبعین ہیں۔ جب یہ بدبخت شیاطین ومضلین کے پنجے میں پھنس کر صحرائے ضلالت میں بھٹکتا پھرتا ہے اس کے ہادی اور رفقاء ازراہ ہمدردی جادہ حق کی طرف بلا رہے ہیں مگر یہ نہ کچھ سنتا ہے نہ سمجھتا ہے۔ تو اے گروہ اشرار کیا تمہاری یہ غرض ہے کہ ہم اپنی ایسی مثالیں بنالیں۔ یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں اتری ہے جنہوں نے مسلمانوں سے ترک اسلام کی درخواست کی تھی۔ 8 ہم سے یہ امید مت رکھو کہ اسے چھوڑ کر ہم شیطان کی بتلائی ہوئی راہوں پر چلیں گے۔
Ayahs 6:72–73

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ قائم رکھو نماز کو اور ڈرتے رہو اللہ سے اور وہی ہے جس کے سامنے تم سب اکھٹے ہو گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر اور جس دن کہے گا کہ ہوجا1 تو وہ ہوجائے گا اس کی بات سچی ہے اور اسی کی سلطنت ہے جس دن پھونکا جائے گا صور2 جاننے والا چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی ہے حکمت والا جاننے والاف 3

1 یعنی حشر ہوجا۔ 2 یعنی اس روز ظاہری اور مجازی طور پر بھی خدا کے سوا کسی کی سلطنت نہ رہے گی۔ ( لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) 40 ۔ غافر :16) ۔ 3 جو خدا یہ صفات رکھتا ہے جن کا ذکر ان دو تین آیات میں ہوا ' وہ ہی اسی لائق ہے کہ ہم اس کے تابع فرمان ہوں ' اس کے سامنے انتہائی عبودیت اختیار کریں اور ہر آن اس سے ڈرتے رہیں۔ اسی کا ہم کو حکم ہوا ہے جس سے ہم کسی حال منہ نہیں موڑ سکتے۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور یاد کر جب کہا ابراہیم نے4 اپنے باپ آزر کو5 تو کیا مانتا ہے بتوں کو خدا میں دیکھتا ہوں کہ تو اور تیری قوم صریح گمراہ ہیں6

4 گزشتہ آیات میں جو توحید کا اثبات ' شرک کی نفی اور مسلمانوں کے ارتداد سے مایوس کیا گیا تھا۔ یہاں مؤ حد اعظم حضرت ابراہیم کے واقعہ سے اسی کی تاکید مقصود ہے اور ضمنا مسلمانوں کو یہ بھی سمجھانا ہے کہ مکذبین و معاندین کو کس طرح نصیحت و فرمائش کی جائے۔ کس طرح ان سے علیحدگی اور بیزاری کا اظہار ہونا چاہیے اور کس طرح ایک مومن قانت کو خدا پر اور صرف خدا پر بھروسہ رکھنا ' اسی سے ڈرنا اور اسی کا تابع فرمان ہونا چاہیے۔ 5 علمائے انساب نے حضرت ابراہیم کے باپ کا نام " تارخ " رکھا ہے ممکن ہے " تارخ " نام اور " آزر " لقب ہو ابن کثیر نے مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ " آزر " بت کا نام تھا ' شاید اس بت کی خدمت میں زیادہ رہنے سے خود ان کا لقب آزر پڑگیا ہو۔ واللہ اعلم 6 اس سے زیادہ صریح وصاف گمراہی کیا ہوگی کہ اکرم المخلوقات " انسان " اپنے ہاتھ سے تراشے پتھروں کو خدائی کا درجہ دے کر ان کے سامنے سربسجود ہوجائے اور انھی سے مرادیں مانگنے لگے۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم دکھانے لگے ابراہیم کو عجائبات آسمانوں اور زمین کے اور تاکہ اس کو یقین آجاوے7

7 یعنی جس طرح بت پرستی کی شناعت و قبح ہم نے ابراہیم پر ظاہر کر کے اس کی قوم کو قائل کیا اسی طرح علویات و سفلیات کے نہایت محکم اور عجیب و غریب نظام ترکیبی کی گہرائیوں پر بھی اس کو مطلع کردیا تاکہ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے وجود و وحدانیت وغیرہ پر اور تمام مخلوقات سماوی و ارضی کے محکومانہ عجزو بیچارگی پر استدلال اور اپنی قوم کے عقیدے کواکب پرستی و ہیاکل سازی کو علیٰ وجہ البصیرت رد کرسکے اور خود بھی حق الیقین کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو بلاشبہ عالم کا یہ اکمل و احکم اور بہترین نظم و نسق ہی ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر بالبداہت اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس عظیم الشان مشین کا بنانے اور چلانے والا ' اس کے پرزوں کو نہایت مضبوط ترتیب و سلیقہ سے جوڑنے والا اور ہزاروں لاکھوں برس سے ایک ہی انداز پر اس کی حفاظت کرنے والا ' بڑا زبردست حکیم و قدیر صانع ہے جس کے حکیمانہ تصرف اور نفوذ و اقتدار سے مشین کا کوئی چھوٹا بڑا پرزہ باہر نہیں جاسکتا۔ یہ کام یونہی بخت و اتفاق یا بےشعور طبیعت یا اندھے بہرے مادہ سے نہیں ہوسکتا۔ یورپ کا مشہورو معروف حکیم نیوٹن کہتا ہے کہ کواکب کی حرکات حالیہ ممکن نہیں کہ محض عام قوت جاذبہ کے فعل کا نتیجہ ہوں یہ قوت جاذبہ تو کواکب کو شمس کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس لئے کواکب کو سورج کے گرد حرکت دینے والا ضروری ہے کہ خدائی ہاتھ ہو۔ جو باوجود قوت جاذبہ کی عام کشش کے ان کو اپنے مدارت پر قائم رکھ سکے۔ کوئی سبب طبعی ایسا نہیں بتلایا جاسکتا جس نے تمام کواکب کو کھلی فضا میں جکڑ بند کردیا ہے کہ وہ سب سورج کے گرد چکر لگاتے وقت ہمیشہ معین مدارت پر اور ایک خاص جہت ہی میں حرکت کریں جس میں کبھی تخلف نہ ہو۔ پھر کواکب کی حرکات اور درجات سرعت میں ان کی اور سورج کی درمیانی مسافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو دقیق تناسب اور عمیق توازن قائم رکھا گیا ہے کوئی سبب طبعی نہیں جس سے ہم ان منظم و محفوظ نوامیس کو وابستہ کرسکیں۔ ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا نظام کسی ایسے زبردست حکیم وعلیم کے ماتحت ہے جو ان تمام اجرام سماویہ کے مواد اور ان کی کمیات سے پورا پورا واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کس مادہ کی کس قدر مقدار سے کتنی قوت جاذبہ صادر ہوگی۔ اسی نے اپنے زبردست اندازے سے کواکب اور شمس کے درمیان مختلف مسافتیں اور حرکت کے مختلف مدارج مقرر کئے ہیں کہ ایک کا دوسرے سے تصادم و تزاحم نہ ہو اور عالم ٹکرا کر تباہ نہ ہوجائے۔ ہر چھوٹا بڑا سیارہ نہایت مضبوط نظام کے ماتحت معین وقت پر طلوع و غروب ہوتا ہے جب کوئی سیارہ غروب ہو کر دنیا کو اپنے اس فیض و تاثیر سے محروم کر دے جو طلوع کے وقت حاصل تھا تو نہ اس ستارہ کی اور نہ کسی مخلوق کی قدرت میں ہے کہ ایک منٹ کے لئے اسے واپس لے آئے یا غروب سے روک دے یہ رب العالمین ہی کی شان ہے کہ کسی وقت بھی کسی قسم کے افاضہ سے عاجز نہیں (وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا ۭذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ 38؀ۭ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ 39؀ لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۭ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ 40؀) 36 ۔ یس :38-39-40) یہ علویات کا حال ہے تو سفلیات کا اسی سے اندازہ کرلو یہ ہی تکوینی عجائب اور ملکوت السمٰوٰات والارض ہیں جن کے دیکھنے سے ابراہیم کی زبان پر ( لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :76) اور (اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :79) بےساختہ جاری ہوگیا جو اگلی آیات میں مذکور ہے) کما تدل علی الفاء فی قول تعالیٰ (فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّيْ ۚ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :76)
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب اندھیرا کرلیا اس پر رات نے دیکھا اس نے ایک ستارہ بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہوگیا تو بولا میں پسند نہیں کرتا غائب ہوجانے والوں کو8

8 کہ انھیں اپنا رب بنا لوں۔ کیا ایک مجبور قیدی اور بیگاری کو شہنشاہی کے تخت پر بٹھلانا کوئی پسند کرسکتا ہے باقی ابراہیم کا ھٰذا ربی کہنا یا تو استفہام انکاری کے لہجے میں ہے یعنی کیا یہ ہے راب میرا اور یا بطریق تہکم و تبکیت ہے۔ یعنی یہ ہے رب میرا تمہارے عقیدہ اور گمان کے موافق جیسے موسیٰ نے فرمایا (وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِيْ ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا) 20 ۔ طہ :97) اِیْ فِیْ زَعْمِکَ اس کے سوا مفسرین کے اوراقوال بھی ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں یہ ہی راجح ہے واللہ اعلم۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب دیکھا چاند چمکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا پھر جب غائب ہوگیا بولا اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو رب میرا تو بیشک میں رہوں گا گمراہ لوگوں میں9

9 چاند چونکہ بہت حسین اور چمکدار سیارہ ہے اگر خدا دستگیری نہ فرمائے تو بیشک انسان اس کی چمک دمک پر مفتون ہو کر رہ جائے۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب دیکھا سورج جھلکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا سب سے بڑا ہے10 پھر جب غائب ہوگیا بولا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو1

10 یعنی نظام فلکی میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فیض رساں سیارہ ہے شائد عالم مادی کی کوئی چیز اس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض تأثر سے مستغنی ہو۔ 1 یہ تو سب خدا کے مزدور ہیں جو وقت معین پر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ایک منٹ کی تقدیم و تاخیر پر قادر نہیں پھر ان کو خدائی کے حقوق میں شریک کرنا کس قدر گستاخی اور قابل نفرت فعل ہے۔
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے متوجہ کرلیا اپنے منہ کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والاف 2

2 یعنی ساری مخلوق سے یک سو ہو کر صرف خالق جل و علیٰ کا دروازہ پکڑ لیا ہے جس کے قبضہ اقتدار میں سب علویات و سفلیات ہیں۔