6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑ دو کھلا ہوا گناہ اور چھپا ہوا جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب سزا پاویں گے اپنے کیے کی5

5 یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو نہ دل میں شبہ رکھو۔ کذافی موضح القرآن۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور اس میں سے نہ کھاؤ جس پر نام نہیں لیا گیا اللہ کا6 اور یہ کھانا گناہ ہے اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہوئے7

6 یعنی نہ حقیقۃً نہ حکماً ۔ حنفیہ متروک التسمیہ عمداً کے مسئلہ میں ذکر حکمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 7 یعنی شرک فقط یہ ہی نہیں کہ کسی کو سوائے خدا کے پوجے بلکہ شرک کے حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی تحلیل و تحریم میں مستند شرعی کو چھوڑ کر محض آراء و اہوا کا تابع ہوجائے۔ جیسا کہ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر میں مرفوعا منقول ہے کہ اہل کتاب نے وحی الہٰی کو چھوڑ کر صرف احبارو رہبان ہی پر تحلیل و تحریم کا مدار رکھ چھوڑا تھا۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو کہ مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو دی روشنی کہ لیے پھرتا ہے اس کو لوگوں میں برابر ہوسکتا ہے اس کے کہ جس کا حال یہ ہے کہ پڑا ہے اندھیروں میں وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح مزین کر دئیے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام1

1 پہلے فرمایا کہ شیاطین اپنے رفقاء کے دل میں ڈالتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے جھگڑا کریں یعنی بحث و جدل، تلبیس و تلمیع اور وسوسہ اندازی کر کے ان کو طریق حق سے ہٹا دیں۔ لیکن ان کو یہ ہوس خام اپنے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔ وہ گروہ یا وہ شخص جو جہل و ضلال کی موت سے مرچکا تھا۔ پھر اس کو حق تعالیٰ نے ایمان و عرفان کی روح سے زندہ کیا اور قرآن کی روشنی عطا فرمائی جسے لے کر وہ لوگوں کے ہجوم میں بےتکلف راہ راست پر چل رہا ہے کیا اس کا حال اغواء شیطانی کے قبول کرنے میں ان " اولیاء الشیطان " جیسا ہوسکتا ہے جو جہالت و ضلالت کی اندھیروں میں پڑے ٹھوکریں کھا رہے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے کیونکہ اسی ظلمت کو نور اور برائی کو بھلائی سمجھتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار کہ حیلے کیا کریں وہاں اور جو حیلے کرتے ہیں سو اپنی ہی جان پر اور نہیں سوچتے2

2 یعنی کچھ آج رؤسائے مکہ ہی نہیں ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے رہے ہیں تاکہ عوام الناس پیغمبروں کے مطیع نہ ہوجائیں جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ سحر کے زور سے سلطنت لیا چاہتا ہے لیکن ان کے یہ حیلے اور داؤ پیچ بحمد اللہ پکے ایمانداروں پر نہیں چلتے۔ حیلہ کرنے والے اپنی عاقبت خراب کر کے خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں جس کا احساس انھیں اس وقت نہیں ہوتا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جاوے ہم کو جیسا کچھ کہ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو کہ جہاں بھیجے اپنے پیغام عنقریب پہنچے گی گناہ گاروں کو ذلت اللہ کے ہاں اور عذاب سخت اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے3

3 ان کی مکاری اور متکبرانہ حیلہ جوئی کی ایک مثال یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صدق کا جب کوئی نشان دیکھتے تو کہتے کہ ہم ان دلائل و نشانات کو نہیں جانتے۔ ہم تو اس وقت یقین کرسکتے ہیں جب ہمارے اوپر فرشتے نازل ہوں اور پیغمبروں کی طرح ہم کو بھی خدا کا پیغام سنائیں یا خود حق تعالیٰ ہی ہمارے سامنے آجائیں۔ " وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُونَ لَقَاءَنَا لَوْلاَ اُنْزَلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِی اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْعُتُوًّا کَبِیْرًا " (فرقان، رکوع 3 ' آیت نمبر 21) خیر یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ کون شخص اس کا اہل ہے کہ منصب پیغامبری پر سرفراز کیا جائے اور اس عظیم الشان امانت الہٰیہ کا حامل بن سکے۔ یہ نہ کوئی کسبی چیز ہے کہ دعاء یا ریاضت یا دنیاوی جاہ و دولت وغیرہ سے حاصل ہو سکے اور نہ ہر کس و ناکس کو ایسی جلیل القدر اور نازک ذمہ داری پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ ہاں ایسے گستاخ، متکبر، حیلہ جو مکاروں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ عنقریب اس معزز منصب کی طلب کا جواب ان کو سخت ذلت اور عذاب شدید کی صورت میں دیا جائے گا۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جس کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو کھول دیتا ہے اس کے سینہ کو واسطے قبول کرنے اسلام کے اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے کردیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ بےنہایت تنگ گویا وہ زور سے چڑھتا ہے آسمان پر4 اسی طرح ڈالے گا اللہ عذاب کو ایمان نہ لانے والوں پر

4 یعنی زور سے آسمان پر چڑھنا چاہتا ہے مگر چڑھ نہیں سکتا، اس لئے سخت تنگ دل ہوتا ہے۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ ہے راستہ تیرے رب کا سیدھا ہم نے واضح کردیا نشانیوں کو غور کرنے والوں کے واسطے5

5 جو لوگ ایمان لانے کا ارادہ نہیں رکھتے ان پر اسی طرح عذاب اور تباہی ڈالی جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ ان کا سینہ اس قدر تنگ کردیا جاتا ہے کہ اس میں حق کے گھسنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی۔ پھر یہ ہی ضیق صدر عذاب ہے جو قیامت میں بشکل محسوس سامنے آجائے گا۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے " رجس " کا ترجمہ جو عذاب سے کیا ہے اس کے موافق یہ تقریر ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے " رجس " کے معنی عذاب ہی کے لئے ہیں۔ مگر ابن عباس نے یہاں " رجس " سے مراد شیطان لیا ہے۔ شاید اس لئے کہ " رجس " ناپاک کو کہتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر کون ناپاک ہوگا۔ بہرحال اس تفسیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح ان پر بےایمانیوں کی وجہ سے شیطان مسلط کردیا جاتا ہے کہ کبھی رجوع الی الحق کی توفیق نہیں ہوتی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " اول فرماتا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ آیت دیکھیں تو البتہ یقین لاویں اور اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لاویں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے نقل کئے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر، وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے ان پر کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔ " باقی اللہ تعالیٰ کی طرف ارادہ ہدایت واضلال کی نسبت کرنا، اس کے متعلق متعدد مواضع میں ہم کلام کرچکے ہیں اور آئندہ بھی حسب موقع لکھا جائے گا۔ مگر یہ مسئلہ طویل الذیل اور معرکۃ الآراء ہے اس لئے ہمارا ارادہ ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھ کر فوائد کے ساتھ ملحق کردیا جائے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

انہی کے لئے ہے سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں اور وہ ان کا مددگار ہے بسبب ان کے اعمال کے1

1 یعنی جو اسلام و فرمانبرداری کے سیدھے راستہ پر چلے گا وہ ہی سلامتی کے گھر پہنچے گا اور خدا اس کا ولی و مددگار ہوگا۔ یہ حال تو ان کا ہوا جن کا ولی خدا ہے (یعنی اولیاء الرحمن) ۔ آگے اولیاء الشیطان کا حال بیان کیا جاتا ہے۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو فرمائے گا اے جماعت جنات کی تم نے بہت کچھ تابع کرلیے اپنے آدمیوں میں سے2 اور کہیں گے ان کے دوستدار آدمیوں میں سے اے رب ہمارے کام نکالا ہم نے ایک نے دوسرے سے اور ہم پہنچے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا3 فرماوے گا آگ ہے گھر تمہارا رہا کرو گے اسی میں مگر جب چاہے اللہ4 البتہ تیرا رب حکمت والا خبردار ہے5

2 یعنی اے شیاطین الجن تم نے بہت سے بدبخت انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور اپنی راہ پر لگا لیا۔ 3 دنیا میں جو انسان بت وغیرہ پوجتے ہیں وہ فی الحقیقت خبیث جن (شیاطین) کی پوجا ہے۔ اس خیال پر کہ وہ ہمارے کام نکالیں گے ان کو نیازیں چڑھاتے ہیں اور ویسے بہت سے اہل جاہلیت تشویش و اضطراب کے وقت جنوں سے استعانت کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة جن " میں اشارہ کیا گیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں۔ جب آخرت میں وہ شیاطین الجن اور انسان برابر پکڑے جائیں گے اور حقائق کا انکشاف ہوگا تب مشرک لوگ یوں عذر کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے پوجا نہیں کی لیکن آپس میں وقتی کارروائی کرلی تھی اور موت کا وعدہ آنے سے پہلے پہلے دنیاوی کاروبار میں ہم ایک دوسرے سے کام نکالنے کی کچھ ترکیب کرلیا کرتے تھے ان کی عبادت مقصود نہ تھی۔ 4 یہ جو فرمایا " مگر جب چاہے اللہ " اس واسطے کہ دوزخ کا عذاب دائم ہے تو اس کے چاہنے سے ہے وہ جب چاہے موقوف کرنے پر قادر ہے، لیکن ایک چیز چاہ چکا اور اس کی خبر پیغمبروں کی زبانی دی جا چکی وہ اب ٹل نہیں سکتی۔ 5 یعنی مجرموں کے جرائم سے پوری طرح خبردار ہے اور حکمت بالغہ سے ہر جرم کی برمحل اور مناسب سزا دیتا ہے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ساتھ ملاویں گے گناہ گاروں کو ایک کو دوسرے سے ان کے اعمال کے سبب6

6 جیسے تم نے " شیاطین الجن " اور ان کے اولیاء انسی کا حال سنا۔ اسی طرح تمام ظالموں اور گنہگاروں کو ان کے ظلم اور سیہ کاریوں کے تناسب سے دوزخ میں ہم ایک دوسرے کے قریب کردیں گے اور جو جس درجہ کا ظالم و گنہگار ہوگا اس کو اسی کے طبقہ عصاۃ میں ملا دیں گے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جماعت جنوں کی اور انسانوں کی کیا نہیں پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تمہی میں سے کہ سناتے تھے تم کو میرے حکم اور ڈراتے تھے تم کو اس دن کے پیش آنے سے7 کہیں گے کہ ہم نے اقرار کرلیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکا دیا دنیا کی زندگی نے8 اور قائل ہوگئے اپنے اوپر اس بات کے کہ وہ کافر تھے9

7 اوپر جن و انس کی شرارت اور سزا کا بیان تھا اور " اولیاء الجن " کی زبانی فی الجملہ معذرت بھی نقل کی گئی تھی، اب بتلایا جاتا ہے کہ ان کا کوئی عذر معقول اور قابل سماعت نہیں، دنیا میں خدا کی حجت تمام ہوچکی تھی جس کا خود انہیں بھی اقرار کرنا پڑے گا۔ یہ خطاب " یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ " کا قیامت کے دن ہوگا اور مخاطب جن وانس کا یعنی کل مکلفین کا مجموعہ ہے، ہر جماعت الگ الگ مخاطب نہیں جو یہ اعتراض ہو کہ رسول تو ہمیشہ انسانوں میں سے آئے قوم جن میں سے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ پھر " رُسُلٌ مِّنْکُمْ " (رسول تم ہی میں کے) کہنا کیسے صحیح ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ مجموعہ مخاطبین میں سے اگر کسی نوع میں بھی اتیان رسل متحقق ہوجائے جس کی غرض تمام مخاطبین کو بلا تخصیص فائدہ پہنچانا ہو تو مجموعہ کو خطاب کرنے میں کوئی اشکال نہیں رہتا۔ مثلاً کوئی یہ کہے " اے عرب و عجم کے باشندو ! اور پورب پچھم کے رہنے والو ! کیا تم ہی میں سے خدا نے محمد ﷺ جیسے کامل انسان کو پیدا نہیں کیا " اس عبارت کا مطلب کسی کے نزدیک یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک محمد ﷺ تو عرب میں پیدا کئے گئے اور دوسرے عجم میں ہونے چاہئیں، اسی طرح پورب کے علیحدہ اور پچھم کے علیحدہ محمد ﷺ ہوں، تب یہ عبارت صحیح ہوگی، علیٰ ہذا القیاس یہاں سمجھ لیجئے کہ ( يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ ) 6 ۔ الانعام :130) کا مدلول صرف اس قدر ہے کہ جن وانس کے مجموعہ سے پیغمبر بھیجے گئے۔ باقی یہ تحقیق کہ ہر نوع میں سے الگ الگ پیغمبر آئے یا ہر ایک پیغمبر کل افراد جن و انس کی طرف مبعوث ہوا، یہ آیت اس کے بیان سے ساکت ہے۔ دوسری نصوص سے جمہور علماء نے یہ ہی قرار دیا ہے کہ نہ ہر ایک پیغمبر کی بعثت عام ہے اور نہ کسی جن کو اللہ نے مستقل رسول بنا کر بھیجا۔ اکثر معاشی و معادی معاملات میں ان کو حق تعالیٰ نے انسانوں کے تابع بنا کر رکھا ہے جیسا کہ سورة جن کی آیات اور نصوص حدیثیہ وغیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ کوئی ضابطہ نہیں کہ مخلوق کی ہر نوع کے لئے اسی نوع کا کوئی شخص رسول ہوا کرے۔ باقی انسانوں کی طرف فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجنے سے جو قرآن کے متعدد مواضع میں انکار کیا گیا ہے، اس کا اصلی منشاء یہ ہے کہ عام انسان بہیئۃ الاصلیہ اس کی رویت کا تحمل نہیں کرسکتے اور بےاندازہ خوف وہیبت کی وجہ سے مستفید نہیں ہوسکتے اور بصورت انسان آئیں تو بےضرورت التباس رہتا ہے۔ اسی پر قیاس کرلو کہ اگر قوم جن میں منصب نبوت کی اہلیت ہوتی تو وہ بھی انسانوں کے لئے مبعوث نہیں کئے جاسکتے تھے کیونکہ وہاں بھی یہ ہی اشکال تھا۔ ہاں رسول انسی کا جن کی طرف مبعوث ہونا اس لئے نہیں کہ جنوں کے حق میں انسان کی رؤیت نہ تو ناقابل تحمل ہے اور نہ انسان کا صوری خوف و رعب استفادہ سے مانع ہوسکتا ہے۔ ادھر پیغمبر کو حق تعالیٰ وہ قوت قلبی عطا فرما دیتا ہے کہ اس پر جن جیسی ہیبت ناک مخلوق کا کوئی رعب نہیں پڑتا۔ 8 یعنی دنیا کی لذات و شہوات نے انہیں آخرت سے غافل بنادیا۔ کبھی خیال بھی نہ آیا کہ اس احکم الحاکمین کے سامنے جانا ہے جو ذرہ ذرہ کا حساب لے گا۔ 9 اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا انکار کریں گے۔ پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قائل کرے گا۔
Ayahs 6:131–132

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ تیرا رب ہلاک کرنے والا نہیں بستیوں کو ان کے ظلم پر اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں ان کے عمل کے اور تیرا رب بیخبر نہیں ان کے کام سے1

1 یعنی خدا کی یہ عادت نہیں کہ بدون آگاہ اور خبردار کئے کسی کو اس کے ظلم و عصیان پر دنیا یا آخرت میں پکڑ کر ہلاک کر دے۔ اسی لئے رسول اور نذیر بھیجے کہ وہ خوب کھول کر تمام جن وانس کو ان کے بھلے برے اور آغاز و انجام سے خبردار کریں۔ پھر جس درجہ کا کسی کا عمل ہوگا حق تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے گا۔
Ayahs 6:133–134

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا رب بےپروا ہے رحمت والا اگر چاہے تو تم کو لے جاوے اور تمہارے پیچھے قائم کر دے جس کو چاہے جیسا تم کو پیدا کیا اوروں کی اولاد سے

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے2

2 خدا نے رسول بھیج کر اپنی حجت تمام کردی۔ اب اگر تم نہ مانو اور سیدھے راستہ پر نہ چلو تو وہ غنی ہے اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں۔ وہ چاہے تو تم کو ایک دم میں لے جائے اور اپنی رحمت سے دوسری قوم کو تمہاری جگہ کھڑا کر دے جو خدا کی مطیع و وفادار ہو اور تم کو لے جا کر دوسری قوم کا لے آنا خدا کے لئے کیا مشکل ہے۔ آج تم اپنے جن آباء و اجداد کے جانشین بنے بیٹھے ہو، آخر ان کو اٹھا کر تم کو دنیا میں اسی خدا نے جگہ دی ہے۔ بہرحال خدا کا کام رک نہیں سکتا۔ تم نہ کرو گے دوسرے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہاں یہ سوچ رکھو کہ یہ ہی بغاوت و شرارت رہی تو خدا کا عذاب اٹل ہے۔ تم اگر سمجھو کہ بھاگ کر یا کسی کی پناہ لے کر سزا سے بچ جاؤ گے تو یہ محض حماقت ہے۔ ساری مخلوق مل کر بھی خدا کو اس کی مشیت کے نفاذ سے عاجز نہیں کرسکتی۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

تو کہہ دے اے لوگوں تم کام کرتے رہو اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں سو عنقریب جان لو گے تم کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر بالیقین بھلا نہ ہوگا ظالموں کا3

3 یعنی ہم سب نیک و بد اور نفع و ضرر سے آگاہ کرچکے۔ اس پر بھی اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آئے تو تم جانو۔ تم اپنا کام کئے جاؤ میں اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ اس دنیا کا آخری انجام کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ بلاشبہ ظالموں کا انجام بھلا نہیں ہوسکتا۔ آگے ان کے چند اعتقادی اور عملی ظلم بیان کئے جاتے ہیں جو ان میں رائج تھے اور سب سے بڑا ظلم وہ ہی ہے جسے فرمایا ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31 ۔ لقمان :13)
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں اللہ کا اس کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مواشی میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں یہ حصہ اللہ کا ہے اپنے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے وہ تو نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو اللہ کا ہے وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کی طرف کیا ہی برا انصاف کرتے ہیں4

4 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " کافر اپنی کھیتی میں سے اور مواشی کے بچوں میں سے اللہ کی نیاز نکالتے اور بتوں کی بھی نیاز نکالتے۔ پھر بعضا جانور اللہ کے نام کا بہتر دیکھا تو بتوں کی طرف بدل دیا۔ مگر بتوں کی طرف کا اللہ کی طرف نہ کرتے، ان سے زیادہ ڈرتے "۔ اسی طرح غلہ وغیرہ میں سے اگر بتوں کے نام کا اتفاقاً اللہ کے حصّہ میں مل گیا تو پھر جدا کر کے بتوں کی طرف لوٹا دیتے اور اللہ نام کا بتوں کے حصہ میں جا پڑا تو اسے نہ لوٹاتے۔ بہانہ یہ کرتے تھے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا کم ہوجائے تو کیا پروا ہے بخلاف بتوں کے کہ وہ ایسے نہیں۔ تماشہ یہ ہے کہ یہ کہہ کر بھی شرماتے نہ تھے کہ جو ایسے محتاج ہوں ان کو معبود و مستعان ٹھہرانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ بہرحال ان آیات میں سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ سے مشرکین کی اس تقسیم کا رد کیا گیا ہے۔ یعنی خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مواشی وغیرہ میں سے اول تو اس کے مقابل غیر اللہ کا حصہ لگانا، پھر بری اور ناقص چیز خدا کی طرف رکھنا کس قدر ظلم اور بےانصافی ہے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح مزین کردیا بہت سے مشرکوں کی نگاہ میں ان کی اولاد کے قتل کو ان کے شریکوں نے تاکہ ان کو ہلاک کریں اور رلاملا دیں ان پر ان کے دین کو5 اور اللہ چاہتا تو یہ کام نہ کرتے سو چھوڑ دے جانیں اور ان کا جھوٹ6

5 یہاں " شرکاء " کی تفسیر مجاہد نے " شیاطین " سے کی ہے۔ مشرکین کی انتہائی جہالت اور سنگدلی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ بعض اپنی بیٹیوں کو سسر بننے کے خوف سے اور بعض اس اندیشہ پر کہ کہاں سے کھلائیں گے حقیقی اولاد کو قتل کردیتے تھے اور بعض اوقات منت مانتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے ہوجائیں گے یا فلاں مراد پوری ہوگی تو ایک بیٹا فلاں بت کے نام پر ذبح کریں گے۔ پھر اس ظلم و بےرحمی کو بڑی عبادت اور قربت سمجھتے تھے۔ شاید یہ رسم شیطان نے سنت خلیل اللہ ہی کے جواب میں سجھائی ہوگی۔ یہود میں بھی مدت تک قتل اولاد کی رسم بطور ایک عبادت و قربت کے جاری رہی ہے جس کا انبیائے بنی اسرائیل نے بڑی شدو مد سے رد کیا۔ بہرحال اس آیت میں قتل اولاد کی ان تمام صورتوں کی شناعت بیان فرمائی ہے جو جاہلیت میں رائج تھیں۔ یعنی شیاطین قتل اولاد کی تلقین و تزیین اس لئے کرتے ہیں کہ اس طرح لوگوں کو دنیا و آخرت دونوں جگہ تباہ و برباد کر کے چھوڑیں اور ان کے دین میں گڑ بڑی ڈال دیں کہ جو کام ملت ابراہیمی و اسماعیلی کے بالکل مضاد و منافی ہے، اسے ایک دینی کام اور قربت و عبادت باور کرائیں۔ والعیاذ باللہ ! کجا سنت ابراہیمی اور کجا یہ حماقت و جہالت ؟ 6 اسی طرح کی آیت " وَلَوْ اَنَّنَا " کے شروع میں گزر چکی۔ وہاں جو کچھ ہم نے لکھا ہے نیز اسی مضمون کی دوسری آیات کے تحت میں لکھا گیا۔ اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ مواشی اور کھیتی ممنوع ہے اس کو کوئی نہ کھاوے مگر جس کو ہم چاہیں ان کے خیال کے موافق اور بعضے مواشی کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کیا اور بعض مواشی کے ذبح کے وقت نام نہیں لیتے اللہ کا اللہ پر بہتان باندھ کر عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی1

1 مثلاً مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں یا صرف مہنت کھا سکیں جو بت خانوں کے مجاور تھے۔ یہ قیود اپنے خیال میں بعض مواشی اور کھیتوں کے متعلق عائد کر رکھی تھیں جو بتوں کے نام پر وقف کئے جاتے تھے، اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سواری اور بار برداری کو حرام سمجھتے تھے۔ بعض جانوروں کی نسبت یہ اقرار دیا تھا کہ ذبح کرنے یا سواری لینے یا دودھ نکالنے کے وقت ان پر خدا کا نام نہ لیا جائے کہیں بتوں کی چیز میں خدا کی شرکت نہ ہوجائے۔ پھر غضب یہ تھا کہ ان خرافات اور جہالتوں کو خدا کی طرف نسبت کرتے تھے۔ گویا اس نے معاذ اللہ یہ احکام دیے ہیں اور ان ہی طریقوں سے اس کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسی بد عنوانیوں کے ساتھ یہ افتراء و بہتان۔ عنقریب ان گستاخیوں کی سزا سے ان کو دو چار ہونا پڑے گا۔
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں جو بچہ ان مواشی کے پیٹ میں ہے اس کو تو خاص ہمارے مرد ہی کھاویں اور وہ حرام ہے ہماری عورتوں پر اور جو بچہ مردہ ہو تو اس کے کھانے میں سب برابر ہیں وہ سزا دے گا ان کو ان تقریروں کی وہ حکمت والا جاننے والا ہے2

2 ایک مسئلہ یہ بنا رکھا تھا کہ بحیرہ اور سائبہ کہ اگر ذبح کیا اور اس کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلا تو اسے مرد کھائیں اور عورتیں نہ کھائیں اور مردہ نکلے تو سب کھا سکتے ہیں۔ اس طرح کے بےسند مسئلے گھڑنے والوں کے جرائم سے خدا بیخبر نہیں۔ ہاں وہ اپنی حکمت کے موافق مناسب وقت میں ان کو مناسب سزا دے گا۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بیشک خراب ہوئے جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو نادانی سے بغیر سمجھے اور حرام ٹھہرا لیا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا بہتان باندھ کر اللہ پر بیشک وہ گمراہ ہوئے اور نہ آئے سیدھی راہ پر3

3 اس سے بڑی خرابی، گمراہی اور نقصان و خسران کیا ہوگا کہ بیٹھے بٹھائے بلاوجہ دنیا میں اپنی اولاد و اموال سے محروم اور سنگدلی، بد اخلاقی و جہل میں مشہور ہوئے اور آخرت کا دردناک عذاب سر پر رکھا، نہ عقل سے کام لیا نہ شرع کو پہچانا، پھر سیدھی راہ پر آتے تو کیسے آتے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اسی نے پیدا کئے باغ جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے4 اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں ان کے پھل اور پیدا کیا زیتون کو اور انار کو ایک دوسرے کے مشابہ اور جدا جدا بھی5 کھاؤ ان کے پھل میں سے جس وقت پھل لاویں اور ادا کرو ان کا حق جس دن ان کو کاٹو اور بےجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے1

4 جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ اور جو ایسے نہیں مثلاً کھجور، آم وغیرہ تنہ دار درخت یا خربوزہ تربوز وغیرہ جن کی بیل بدون کسی سہارے کے زمین پر پھیلتی ہے۔ 5 یعنی صورت شکل میں ملتے جلتے، مزہ میں جدا جدا۔ 1 یعنی جو غلے اور پھل حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کے کھانے سے بدون سند کے مت رکو ہاں دو باتوں کا خیال رکھو، ایک یہ کہ کاٹنے اور اتارنے کے ساتھ ہی جو اللہ کا حق اس میں ہے وہ ادا کردو۔ دوسرے فضول اور بےموقع خرچ مت کرو۔ اللہ کے حق سے یہاں کیا مراد ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، ابن کثیر کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء مکہ معظمہ میں کھیتی اور باغ کی پیداوار میں سے کچھ حصہ نکالنا واجب تھا جو مساکین و فقراء پر صرف کیا جائے۔ مدینہ طیبہ پہنچ کر 2 ھجری میں اس کی مقدار وغیرہ کی تعیین و تفصیل کردی گئی۔ یعنی بارانی زمین کی پیداوار میں (بشرطیکہ خراجی نہ ہو) دسواں حصہ اور جس میں پانی دیا جائے بیسواں حصہ واجب ہے۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور پیدا کئے مواشی میں بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے2 کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر وہ تمہارا دشمن ہے صریح3

2 بوجھ اٹھانے والے جیسے اونٹ وغیرہ اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قدو قامت کے جانور جیسے بھیڑ بکری۔ 3 اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے منتفع ہونا چاہئے۔ شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ ان کو خواہی نخواہی بدون حجت شرعی کے حرام کرلیا جائے یا شرک و بت پرستی کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ شیطان کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دشمنی کیا ہوگی کہ ان نعمتوں سے تم کو دنیا میں محروم رکھا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ بھیڑ میں سے دو4 اور بکری میں سے دو پوچھ تو کہ دونوں نر اللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے بتلاؤ مجھ کو سند اگر تم سچے ہو5

4 یعنی ایک نر ایک مادہ اس طرح ہر نوع میں دو دو زوج ہوئے اور مجموعہ آٹھ ہوگیا۔ 5 یعنی کسی چیز کو حلال و حرام کہنا صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتا ہے پھر ان میں سے نر کو یا مادہ کو یا بچہ کہ جو مادہ کے پیٹ میں ہے اگر تم سب آدمیوں کے یا بعض کے حق میں حرام کہتے ہو جیسا کہ پچھلی آیات میں گزرا، اس کی سند تمہارے پاس کیا ہے۔ جب خدائی حکم ہونے کی کوئی سند نہیں رکھتے تو محض آراء و ہواء سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو حلال یا حرام کہنا اس کا مترادف ہے کہ خدائی کا منصب معاذ اللہ تم اپنے لئے تجویز کرتے ہو یا خدا پر جان بوجھ کر افتراء کر رہے ہو۔ دونوں صورتیں تباہ کن اور مہلک ہیں۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور پیدا کئے اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو پوچھ تو دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا پھر اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بلا تحقیق بیشک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو6

6 اشیاء کی تحلیل و تحریم محض خدا کے حکم سے ہوسکتی ہے، اور خدا کا حکم یا بواسطہ انبیاء پہنچے گا یا بلاواسطہ حق تعالیٰ کسی کو مخاطب فرمائے تو اسے معلوم ہو۔ یہاں دونوں صورتیں منفی ہیں۔ پہلی شق کے انتفاء پر نَبِّئُونِیْ بِعِلْمٍ الخ میں اور دوسری کی نفی پر (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِھٰذَا) 6 ۔ الانعام :144) میں متنبہ فرمایا ہے۔ پھر مشرکین کے دعاوی میں افتراء واضلال کے سوا اور کیا چیز باقی رہ گئی۔ بلاشبہ اس سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہوسکتا جو خدا پر بہتان باندھے اور علم و تحقیق سے تہی دست ہونے کے باوجود لوگوں کو باطل اور غلط مسائل بیان کر کے گمراہ کرتا پھرے۔ جس شخص نے اس قدر ڈھٹائی اختیار کرلی اور ایسے ظلم عظیم پر کمر باندھ لی اس کے ہدایت پانے کی توقع رکھنا فضول ہے۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھاوے مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا گوشت سور کا کہ وہ ناپاک ہے یا ناجائز ذبیحہ جس پر نام پکارا جاوے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی بھوک سے بےاختیار ہوجاوے نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے تو تیرا رب بڑا معاف کرنے والا ہے نہایت مہربان1

1 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں " یعنی جن جانوروں کا کھانا دستور ہے ان میں سے یہ ہی حرام ہے۔ " اس آیت میں کفار کو یہ بتلانا ہے کہ جو چیزیں اوپر مذکور ہوئیں حلال تھیں جن کو تم نے حرام بنا لیا۔ اب وہ چیزیں بتلائی جاتی ہیں جو واقعی حرام ہیں اور تم ان کو حلال سمجھتے ہو۔ باقی مضمون آیت کی تفسیر و توضیح " سورة مائدہ کے شروع میں (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ ۔ الخ) 5 ۔ المائدہ :3) کے نیچے گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے حرام کیا تھا ہر ایک ناخن والا جانور اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا انتڑیوں پر یا جو چربی کہ ملی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے ان کو سزا دی تھی ان کی شرارت پر اور ہم سچ کہتے ہیں2

2 یعنی اصلی حرمت تو ان چیزوں میں ہے جو اوپر مذکور ہوئیں، البتہ وقتی مصلحت سے بعض چیزیں عارضی طور پر بعض اقوام پر پہلے حرام کی جا چکی ہیں۔ مثلاً یہود پر ان کی شرارتوں کی سزا میں ہر ناخن (کھر) والا جانور جس کی انگلیاں پھٹی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ حرام کیا گیا تھا۔ نیز گائے بکری کی جو چربی پشت یا انتڑیوں پر لگی ہوئی ہو یا ہڈی کے ساتھ نہ ملی ہو ان پر حرام کردی گئی تھی جیسے گردہ کی چربی۔ بنی اسرائیل کا دعویٰ غلط ہے کہ یہ چیزیں ابراہیم نوح کے زمانہ ہی سے مستمر طور پر حرام چلی آتی ہیں سچی بات یہ کہ ان میں سے کوئی چیز عہد ابراہیمی میں حرام نہ تھی یہود کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی وجہ سے یہ سب چیزیں حرام ہوئیں جو کوئی اس کے خلاف دعویٰ کرے جھوٹا ہے، جیسے پارہ " لَنْ تَنَالُوْا " کے شروع میں (قُلْ فَاْتُوْا بالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :93) سے ان دعویٰ کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر تجھ کو جھٹلاویں تو کہہ دے کہ تمہارے رب کی رحمت میں بڑی وسعت ہے اور نہیں ٹلے گا اس کا عذاب گناہ گار لوگوں سے3

3 یعنی رحمت کی سمائی سے تم اب تک بچے ہو۔ نہ جانو کہ عذاب مل گیا۔ کذافی موضح القرآن۔
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب کہیں گے مشرک اگر اللہ چاہتا تو شرک نہ کرتے ہم اور نہ ہمارے باپ دادے اور نہ ہم حرام کرلیتے کوئی چیز اسی طرح جھٹلایا کئے ان سے اگلے یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارا عذاب تو کہہ کچھ علم بھی ہے تمہارے پاس کہ اس کو ہمارے آگے ظاہر کرو تم تو نری اٹکل پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

تو کہہ دے بس اللہ کا الزام پورا ہے سو اگر وہ چاہتا تو ہدایت کردیتا4

4 گذشتہ رکوع میں مشرکین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جن حلال و طیب چیزوں کو تم نے حرام ٹھہرا لیا ہے اور اس تحریم کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہو، اس کی سند اور دلیل لاؤ۔ یہاں ان کی دلیل بیان کی گئی ہے جو وہ پیش کرنے والے تھے یعنی اگر اللہ چاہتا تو اس کو قدرت تھی کہ ہم کو اور ہمارے اسلاف کو اس تحریم سے بلکہ تمام مشرکانہ افعال و اقوال سے روک دیتا۔ جب نہ روکا اور یوں ہی ہوتا چلا آیا تو ثابت ہوا کہ اس کے نزدیک ہماری یہ کارروائیاں پسندیدہ ہیں۔ ناپسند ہوتیں تو ان کے کرنے میں ہم کو اب تک کیوں آزاد چھوڑتا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک نیک نام اور مدبرّ گورنمنٹ کسی باغیانہ تحریک میں حصہ لینے والے کو باوجود یقینی اطلاع اور کافی قدرت کے پہلے ہی دن پکڑ کر پھانسی نہیں دے دیتی۔ وہ اس کی حرکات کی نگرانی رکھتی ہے، کبھی رویہ درست رکھنے کی ہدایت کرتی ہے اور موقع دیتی ہے کہ آدمی ایسی حرکات کا انجام سوچ کر خود سنبھل جائے، کبھی اصلاح سے مایوس ہو کر ڈھیل چھوڑتی ہے کہ اس کی بغاوت کا ایسا باضابطہ اور مکمل مواد فراہم ہوجائے جس کے بعد اس کی انتہائی مجرمانہ غداری قانونی حیثیت سے علیٰ رؤس الاشہاد ثابت کی جاسکے۔ ان تمام صورتوں میں مجرم کی باگ ڈھیلی چھوڑ دینے اور فوراً سزا نہ دینے سے کیا ثابت ہوگا کہ گورنمنٹ کی نظر میں وہ کارروائی جرم و بغاوت نہیں ہے۔ گورنمنٹ کی نگاہ میں ان افعال کا جرم ہونا مہلت پوری ہونے پر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور باضابطہ اثبات و اظہار جرم کے بعد پھانسی یا حبس دوام کی سزا بھگتے گا، تب برأی العین مشاہدہ ہوجائے گا کہ گورنمنٹ کی نظر میں یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ بہرحال گورنمنٹ کا کسی جرم پر باوجود علم وقدرت رکھنے کے کسی مصلحت سے فوری سزا جاری نہ کرنا اس کی دلیل نہیں کہ وہ جرم کو جرم نہیں سمجھتی۔ اسی پر قیاس کرلیجئے کہ وہ احکم الحاکمین ابتدائے آفرینش سے آج تک بتوسط اپنے صادق القول اور پاکباز نائبین کے ہر قسم کے قوانین و احکام سے بندوں کو مطلع فرماتا رہا اور کھول کھول کر بتلا دیا کہ کونسی بات اس کے یہاں پسندیدہ اور کون سی ناپسند ہے کبھی پے درپے اور کبھی تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ان احکام و ہدایات کی یاد دہانی بھی ہوتی رہی۔ اس دوران میں خلاف ورزی کرنے والوں سے مسامحت کی حد تک مسامحت کی گئی۔ معمولی تنبیہات کی ضرورت ہوئی تو وقتاً فوقتاً انہیں بھی کام میں لایا گیا۔ اور جن کی شقاوت کا پیمانہ لبریز ہونے والا تھا انہیں ڈھیل دی گئی کہ وہ صاف اور اعلانیہ طور پر اپنے کو خدا کی انتہائی سزا کا مستحق ٹھہرا کر کیفر کردار کو پہنچیں۔ چناچہ بہت سی قومیں اپنے جرائم کی پاداش کا دنیا میں تھوڑا تھوڑا مزا چکھ چکی ہیں۔ پھر ان حالات کی موجودگی میں کسی قوم کے چند روز جرائم میں مبتلا رہنے اور فوراً نہ پکڑے جانے سے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ وہ جرائم (معاذاللہ) خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں ورنہ خدا انہیں ایک گھنٹہ کی بھی مہلت نہ دیتا۔ رہا یہ سوال کہ خدا نے انسان کی ساخت ہی ابتداء سے ایسی کیوں نہ بنادی کہ وہ برائی کی طرف قطعاً نہ جاسکتا اور اس طرح فطرۃً اسے ایسی کیوں نہ بنادی کہ وہ برائی کی طرف قطعاً نہ جاسکتا اور اس طرح فطرۃً اسے مجبور کردیا جاتا کہ نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی چیز اختیار نہ کرسکے۔ اگر غور کیا جائے تو اس سوال کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ایسا کیوں نہ پیدا کردیا گیا کہ وہ انسان ہی نہ رہتا۔ یا تو اینٹ پتھر بن جاتا جو ادراک و شعور اور کسب و اختیار سے یکسرخالی ہو یا گدھے گھوڑے وغیرہ جانوروں کی طرح جزئی احساس و ارادہ رکھنے والا حیوان ہوتا جو ازل سے ابد تک اپنے مخصوص و متشابہ افعال و احوال کے محدود دائرہ میں چکر لگاتا رہے اور یا بہت عزت دی جاتی تو فرشتوں کی صفوں میں بٹھلا دیا جاتا جو محض طاعت و عبادت کے اختیار کرنے پر مجبول و مفطور ہیں۔ الحاصل یہ کلی ادراکات اور عظیم الشان کسبی تصرفات رکھنے والی ترقی کن نوع ہی صفحہ ہستی پر نہ لائی جاتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی انسان اپنے شرف و کرامت کا بلند بانگ دعویٰ رکھتے ہوئے ایسی جرأت نہ کرے گا کہ سرے سے اپنی نوع کے وجود ہی کا مخالف ہوجائے۔ پھر اگر نوع انسانی کا مع اس کی عقلی و عملی قوتوں اور کسب و اختیار کی موجودہ آزادی کے پیدا کرنا نظام عالم کی تکمیل کے لئے ضروری تھا تو اس نظام تکوینی کے آثار و نتائج کا قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مادی اور معاشی زندگی کے شعبوں میں تو انسانوں کی عقلی و کسبی آزادی کی بدولت بیشمار انواع و اقسام کے مختلف مظاہر سامنے آئیں۔ لیکن معادی و روحانی میدانوں میں وہ ہی دل و دماغ اور کسب و اختیار کی قوتیں رکھنے والے انسان سب کے سب ایک ہی پگڈنڈی پر چلنے کے لئے مجبور ہوجائیں اور کوئی ایک قدم ادھر ادھر ہٹانے کی قدرت نہ رکھے۔ پس اگر نوع انسان کا بحقیقۃ الموجودہ مجموعہ عالم میں پایا جانا ضروری ہے تو نیک و بد کا اختلاف بھی لا بدی ہوگا اور یہ ہی اختلاف کا وجود بڑی دلیل اس کی ہے کہ ہر وہ فعل جو وقوع میں آئے ضروری نہیں کہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہو ورنہ مختلف و متضاد افعال کی موجودگی میں ماننا پڑے گا کہ مثلاً خوش اخلاقی بھی خدا کو پسند ہو اور بد اخلاقی بھی، ایمان لانا بھی پسند ہو اور نہ لانا بھی، جو صریحاً باطل ہے۔ بیشک خدا اگر چاہتا تو انسان کی ساخت ایسی بنا سکتا تھا کہ سب ایک ہی راستہ پر چلنے کے لیے مجبور ہوجاتے، لیکن جب ایسا واقعہ نہیں ہوا تو یہ ہی حجت بالغہ اور پورا الزام ان لوگوں پر ہے جو لَوْشَاء اللّٰہُ مَا اَشْرَکْنَا کہہ کر مشیت و رضائے الٰہی میں تلازم ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس قدر شدید اختلافات کی موجودگی میں ان کے اصول کے موافق کہنا پڑے گا کہ مثلاً توحید خالص بھی اللہ کے نزدیک صحیح اور مرضی ہو اور اس کی نقیض شرک جلی بھی، وقس علیٰ ہذا۔ ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مشرکین کا یہ استدلال لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا الخ محض لغو اور پادر ہوا ہے، کوئی علمی اصول ان کے پاس نہیں جسے عقلمندوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ محض اٹکل کے تیر اور تخمینی باتیں ہیں جن کو خدا کی حجت بالغہ بکلّی رد کرتی ہے۔ جس کی طرف (فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :149) میں اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی انسان کی فطرت ایسی نہیں بنائی گئی کہ سب کے سب راہ ہدایت پر چل پڑیں۔ اس کو کسب و اختیار کی وہ آزادی حق جل و علا نے عطا فرمائی ہے جس کا عطا کیا جانا کسی مخلوق کے لئے ممکن تھا۔ اس لئے لازم ہے کہ اس آزادی کے استعمال کے وقت راہیں مختلف ہوجائیں کوئی نیکی کو اختیار کرلے کوئی بدی کو، کوئی حق تعالیٰ کی رضاء و رحمت کا مظہر بن جائے کوئی غضب کا۔ اس طرح وہ آخری مقصد جو خالق کائنات نے آفرینش عالم سے ارادہ کیا ہے یعنی اپنی صفات جمال و جلال کا اظہار علی الوجہ الاتم پورا ہو۔ ( لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) 76 ۔ الملک :2) اور نہ اگر تمام عالم ایک ہی حال پر فرض کرلیا جائے تو بعض صفات الہٰیہ کا ظہور ممکن ہوگا، اور دوسری بعض کے ظہور کے لئے کوئی محل نہ ملے گا۔ یہاں تک کہ جو کچھ ہم نے کہا وہ اس تقدیر پر تھا کہ مشرکین کے قول لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا سے یہ غرض ہو کہ وہ اپنے خرافات و کفریات کا استحسان ثابت کرنا چاہتے تھے جیسا کہ ان کے احوال سے ظاہر ہے اور اگر کلام مذکور سے ان کی غرض صرف معذرت ہو کہ جو کچھ خدا چاہتا ہے وہ ہم سے کراتا ہے، اچھا ہو یا برا، بہرحال اس کی مشیت سے ہے۔ پھر مشیت الہٰی کے مقابلہ میں انبیاء ورسل ہم سے کیوں مزاحمت کرتے ہیں اور عذاب الہٰی کا ڈراوا کیوں سناتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس خدا کی مشیت سے تم ان افعال شنیعہ کا کسب کرتے ہو، اسی کی مشیت سے انبیاء ورسل تمہاری مزاحمت کرتے ہیں اور وہ ہی مشیت تمہارے کسب پر مناسب عذاب بھیجتی ہے۔ جس طرح قدرت نے سانپ کو پیدا کیا اور وہ ہی مار گزیدہ کے حق میں ہلاکت کا اثر مرتب کرتی ہے خواہ سانپ کے کاٹنے میں مارگزیدہ کے فعل و اختیار کو کچھ دخل ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح تمہارے شرک و کفر میں ہلاکت دائمی کی، اور ایمان و عمل صالح میں نجات ابدی کی تاثیرات رکھ دینا بھی اسی قدرت و مشیت ایزدی کا کام ہے جس سے تمام سلسلہ اسباب و مسببات کی تخلیق ہوئی ہے۔ پس اگر تم اپنے مشرکانہ اطوار سے باز نہ آنے میں مشیت کے عموم سے احتجاج کرسکتے ہو تو ارسال رسل اور انزال عذاب وغیرہ امور کو بھی اسی مشیت کی کارفرمائی کا نتیجہ سمجھ کر خدا کی حجت بالغہ کو تمام سمجھو۔ بیشک خدا چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لگا دیتا لیکن اس نے تمہاری سوء استعداد کی وجہ سے ایسا نہیں چاہا۔ آخر تمہارے سوء اختیار سے جو افعال صادر ہوئے ان کا طبعی اثر عذاب کی صورت میں مرتب ہو کر رہا۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

تم سب کو تو کہہ کہ لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں اس بات کی کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں بھی تو تو نہ اعتبار کر ان کا اور نہ چل ان کی خوشی پر جنہوں نے جھٹلایا ہمارے حکموں کو اور جو یقین نہیں کرتے آخرت کا اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اوروں کو1

1 یعنی دلیل عقلی کا حال تو اوپر معلوم ہوچکا۔ اب اگر اس من گھڑت تحریم پر کوئی نقلی دلیل رکھتے ہو تو وہ لاؤ۔ کیا تمہارے پاس ایسے گواہ موجود ہیں جو یہ بیان کریں کہ ہاں ان کے روبرو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا تھا ؟ ظاہر ہے کہ ایسے واقعی گواہ کہاں دستیاب ہوسکتے ہیں۔ اگر دو چار گستاخ جھوٹے بےحیا یہ ہی گواہی دینے کو کھڑے ہوجائیں تو ایسوں کی بات پر تم کان نہ دھرو اور نہ ان کی خواہشات کی پروا کرو۔ یہاں تک ان چیزوں کا بیان تھا جنہیں مشرکین نے محض اپنی رائے و ہوا سے حرام ٹھہرا رکھا تھا، پھر اس تحریم کے لئے حیلے اور باطل عذر پیش کرتے تھے۔ آگے وہ چیزیں بیان کی جاتی ہیں جنہیں خدا نے حرام کیا اور ہمیشہ سے حرام رہی ہیں لیکن یہ مشرکین ان میں مبتلا ہیں۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

تو کہہ تم آؤ میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے کہ شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی چیز کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور مار نہ ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی سے ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو2 اور پاس نہ جاؤ بےحیائی کے کام کے جو ظاہر ہو اس میں سے اور جو پوشیدہ ہو3 اور مار نہ ڈالو اس جان کو جس کو حرام کیا ہے اللہ نے مگر حق پر4 تم کو یہ حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو5

2 عرب مفلسی کی وجہ سے بعض اوقات اولاد کو قتل کردیتے تھے کہ خود ہی کھانے کو نہیں اولاد کو کہاں سے کھلائیں۔ اسی لئے فرمایا کہ رزق دینے والا تو خدا ہے تم کو بھی اور تمہاری اولاد کو بھی۔ دوسری جگہ بجائے " مِنْ اِمْلاَقٍ " خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ فرمایا ہے یعنی مفلسی کے ڈر سے قتل کر ڈالتے تھے۔ یہ ان کا ذکر ہوگا جو فی الحال مفلس نہیں مگر ڈرتے ہیں کہ جب عیال زیادہ ہونگے تو کہاں سے کھلائیں گے چونکہ پہلے طبقہ کو عیال سے پہلے اپنی روٹی کی فکر ستا رہی تھی اور دوسرے کو زیادہ عیال کی فکر نے پریشان کر رکھا تھا، شاید اسی لئے یہاں من املاق کے ساتھ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ اور اس آیت میں خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ کے ساتھ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّا کُمْ ارشاد فرمایا۔ واللہ اعلم۔ 3 " پاس نہ جاؤ " سے شاید یہ مراد ہو کہ ایسے کاموں کے مبادی و وسائل سے بھی بچنا چاہئے، مثلاً زنا کی طرح نظر بد سے بھی اجتناب لازم ہے۔ 4 اِلَّا بالْحَقِّ کا استثناء ضروری تھا۔ جس میں قاتل عمد، زانی محصن اور مرتد عن الاسلام کا قتل داخل ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح وارد ہوچکی اور ائمہء مجتہدین اس پر اجماع کرچکے ہیں۔ 5 اس آیت سے ان چیزوں کا حرام ہونا ثابت ہوا (1) شرک باللہ (2) والدین کے ساتھ بد سلوکی (3) قتل اولاد (4) سب بےحیائی کے کام مثلاً زنا وغیرہ (5) کسی شخص کو ناحق قتل کرنا۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طرح سے کہ بہتر ہو یہاں تک کے پہنچ جاوے اپنی جوانی کو6 اور پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اس کو طاقت ہو7 اور جب بات کہو تو حق کی کہو اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو8 اور اللہ کا عہد پورا کرو9 تم کو یہ حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو

6 یتیم کے مال میں بیجا تصرف کرنا حرام ہے۔ ہاں بہتر و مشروع طریقہ سے احتیاط کے ساتھ اس میں ولی یتیم تصرف کرسکتا ہے۔ جب یتیم جوان ہوجائے اور اپنے فرائض کو سنبھال سکے تو اس کے حوالہ کردیا جائے۔ 7 یعنی اپنی طاقت کے موافق ان احکام کی بجا آوری میں کوشش کرو اسی کے تم مکلف ہو۔ خدا کسی کو اس کی قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ 8 یعنی حق و انصاف کی بات کہنے میں کسی کی قرابت و محبت مانع نہ ہونی چاہئے۔ 9 اس کے اوامرو نواہی پر پابندی سے عمل کرو۔ خدا کے لئے جو نذر مانو یا قسم کھاؤ بشرطیکہ غیر مشروع بات کی نہ ہو اسے پورا کرنا چاہئے۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور حکم کیا کہ یہ راہ ہے میری سیدھی سو اس پر چلو اور مت چلو اور راستوں پر کہ وہ تم کو جدا کردیں گے اللہ کے راستہ سے1 یہ حکم کردیا ہے تم کو تاکہ تم بچتے رہو

1 یعنی احکام مزکورہ بالا کی پابندی اور خدا کے عہد کو اعتقاداً پورا کرنا یہ ہی صراط مستقیم (سیدھی راہ) ہے جس کی طلب سورة فاتحہ میں تلقین کی گئی تھی۔ یہ راہ تم کو دکھلا دی گئی اب چلنا تمہارا کام ہے۔ جو کوئی اس کے سوا دوسرے راستہ پر چلا وہ خدا کے راستہ سے بھٹکا۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب واسطے پورا کرنے نعمت کے نیک کام والوں پر اور واسطے تفصیل ہر شے کے اور ہدایت اور رحمت کے تاکہ وہ لوگ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں2

2 معلوم ہوتا ہے کہ جو احکام اوپر ( قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ) 6 ۔ الانعام :151) سے پڑھ کر سنائے گئے، یہ ہمیشہ سے جاری تھے۔ تمام انبیاء اور شرائع کا ان پر اتفاق رہا کیا۔ بعدہ، حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری جس میں احکام شرع کی مزید تفصیل درج تھی۔ تورات عطا فرما کر اس زمانہ کے نیک کام کرنے والوں پر خدا نے اپنی نعمت پوری کردی۔ ہر ضروری چیز کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا اور ہدایت و رحمت کے ابو اب مفتوح کردیے تاکہ اسے سمجھ کر لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کا کامل یقین حاصل کریں۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور ایک یہ کتاب ہے کہ ہم نے اتاری برکت والی سو اس پر چلو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت ہو3

3 یعنی تورات تو تھی ہی جیسی کچھ تھی، لیکن ایک یہ کتاب ہے (قرآن کریم) جو اپنے درخشاں اور ظاہر و باہر حسن و جمال کے ساتھ تمہارے سامنے ہے اس کی خوبصورتی اور کمال کا کیا کہنا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی ظاہری و باطنی برکات اور صوری و معنی کمالات کو دیکھ کر بےاختیار کہنا پڑتا ہے۔ بہار عالم حسنش دل و جاں تازہ میدارد برنگ اصحاب صورت رابہ بوار باب معنی را اب دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر خدا کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس آخری اور مکمل کتاب پر چل پڑو اور خدا سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی ہونے نہ پائے۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اس واسطے کہ کبھی تم کہنے لگو کہ کتاب جو اتری تھی سو ان ہی فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر نہ تھی4

4 یعنی اس مبارک کتاب (قرآن کریم) کے نزول کے بعد عرب کے امین کے لئے یہ کہنے کا بھی موقع نہیں چھوڑا گیا کہ پیشتر جو آسمانی کتابیں شرائع الہٰیہ کو لے کر اتریں وہ تو ہمارے علم کے موافق انہی دو فرقوں (یہود و نصاریٰ ) پر اتریں بیشک وہ لوگ آپس میں اسے پڑھتے پڑھاتے تھے اور بعضے اس کا ترجمہ بھی عربی میں کرتے تھے مثلاً ورقہ بن نوفل وغیرہ اور بہت سے مدت تک اس دھن میں لگے رہے کہ عرب کو یہودی یا نصرانی بنالیں لیکن ہمیں ان کی تعلیم و تدریس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس سے بحث نہیں کہ یہود نصاریٰ جو کچھ پڑھتے پڑھاتے تھے وہ چیز کہاں تک اپنی اصلی سماوی صورت میں محفوظ تھی۔ مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان شرائع و کتب کی اصلی مخاطب فقط قوم بنی اسرائیل تھی۔ خواہ اس تعلیم کے بعض اجزاء مثلاً توحید اور اصول دینیہ کی دعوت کو وسعت دے کر بنی اسرائیل کے سوا دوسری اقوام کے حق میں بھی عام کردیا گیا ہوتا ہم جو شریعت اور کتاب سماوی بہیئت مجموعی کسی خاص قوم پر اسی کے مخصوص فائدہ کے لئے اتری ہو اس کے درس و تدریس سے اگر دوسری اقوام خصوصاً عرب جیسی غیور و خوددار قوم کو دلچسپی اور لگاؤ نہ ہو تو کچھ مستبعد نہیں، بنا بریں وہ کہہ سکتے تھے کہ کوئی آسمانی کتاب و شریعت ہماری طرف نہیں آئی اور جو کسی مخصوص قوم کے لئے آئی اس سے ہم نے چنداں واسطہ نہیں رکھا پھر ہم ترک شرائع پر کیوں ماخوذ ہوں گے۔ مگر آج ان کے لئے اس طرح کے حیلے حوالوں کا موقع نہیں رہا۔ خدا کی حجت اس کی روشن کتاب اور ہدایت و رحمت عامہ کی بارش خاص ان کے گھر میں اتاری گئی۔ تاکہ وہ اولاً اس سے مستفید ہوں، پھر اس امانت الہٰیہ کو تمام احمرو اسود اور مشرق و مغرب کے باشندوں تک حفاظت و احتیاط کے ساتھ پہنچا دیں۔ کیونکہ یہ کتاب کسی خاص قوم و ملک کے لئے نہیں اتاری گئی۔ اس کا مخاطب تو سارا جہان ہے۔ چناچہ خدا کے فضل و توفیق سے عرب کے ذریعہ سے خدا کا یہ عام اور آخری پیغام آج دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ گیا۔ والحمدللّٰہ علیٰ ذٰلک۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا کہنے لگو کہ اگر ہم پر اترتی کتاب تو ہم تو راہ پر چلتے ان سے بہتر سو آچکی تمہارے پاس حجت تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت5 اب اس سے زیادہ ظالم کون جو جھٹلاوے اللہ کی آیتوں کو اور ان سے کتراوے ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں برا عذاب بدلے میں اس کترانے کے1

5 یعنی پہلی امتوں کا حال سن کر شاید تم کو ہوس ہوتی اور دل میں ولولہ اٹھتا کہ ہمارے پاس خدا کی کتاب آتی تو ہم دوسروں سے بڑھ کر عمل کر کے دکھلاتے۔ سو تم کو ان سے بہتر کتاب دے دی گئی۔ اب دیکھیں کون کیا کام کر کے دکھلاتا ہے۔ 1 اب ایسی بےمثال روشن کتاب آنے کے بعد اگر اس کی آیتوں کو کوئی جھٹلائے اور اس کے احکام قبول کرنے سے کترائے یا دوسروں کو روکے، اس سے بڑا ظالم کون ہوگا (تنبیہ) صَدَفَ عَنْھَا کے دونوں معنی سلف سے منقول ہیں " روکنا " اور " اعراض کرنا "۔ مترجم علاّم نے دوسرے معنی لے کر " کترائے " ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کا ہے کی راہ دیکھتے ہیں لوگ مگر یہی کہ ان پر آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب یا آئے کوئی نشانی تیرے رب کی جس دن آئے گی ایک نشانی تیرے رب کی کام نہ آئے گا کسی کے اس کا ایمان لانا جو کہ پہلے سے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی تھی تو کہہ دے تم راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں2

2 یعنی اللہ کی طرف سے ہدایت کی جو حد تھی وہ پوری ہوچکی، انبیاء تشریف لائے، شریعتیں اتریں کتابیں آئیں حتیٰ کہ اللہ کی آخری کتاب بھی آچکی، تب بھی نہیں مانتے تو شاید اب اس کے منتظر ہیں کہ اللہ آپ آئے یا فرشتے آئیں یا قدرت کا کوئی بڑا نشان (مثلاً قیامت کی کوئی بڑی علامت) ظاہر ہو تو یاد رہے کہ قیامت کے نشانوں میں سے ایک نشان وہ بھی ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد نہ کافر کا ایمان لانا معتبر ہوگا نہ عاصی کی توبہ۔ صحیحین کی احادیث بتلاتی ہیں کہ یہ نشان آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا ہے۔ یعنی جب خدا کا ارادہ ہوگا کہ دنیا کو ختم کرے اور عالم کا موجودہ نظام درہم برہم کردیا جائے تو موجودہ قوانین طبیعیہ کے خلاف بہت سے عظیم الشان خوارق وقوع میں آئیں گے ان میں سے ایک یہ ہے کہ آفتاب مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ غالباً اس حرکت مقلوبی اور رجت قہقری سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہو کہ جو قوانین قدرت اور نوامیس طبیعیہ دنیا کے موجودہ نظم و نسق میں کار فرما تھے، ان کی میعاد ختم ہونے اور نظام شمسی کے الٹ پلٹ ہوجانے کا وقت آپہنچا ہے۔ گویا اس وقت سے عالم کبیر کے نزع اور جانکنی کے وقت کا ایمان اور توبہ مقبول نہیں کیونکہ وہ حقیقت میں اختیاری نہیں ہوتا، اسی طرح طلوع الشمس من المغرب کے بعد مجموعہ عالم کے حق میں یہ ہی حکم ہوگا کہ کسی کا ایمان و توبہ معتبر نہ ہو۔ بعض روایات میں طلوع الشمس من مغربھا کے ساتھ چند دوسرے نشانات بھی بیان ہوئے ہیں مثلاً خروج دجال، خروج دابہ وغیرہ۔ ان روایات کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب ان سب نشانات کا مجموعہ متحقق ہوگا اور وہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ طلوع الشمس من المغرب بھی متحقق ہو تو دروازہ توبہ کا بند کردیا جائے گا الگ الگ ہر نشان پر یہ حکم متفرع نہیں۔ ہمارے زمانہ کے بعض ملحدین جو ہر غیر معمولی واقعہ کو استعارہ کا رنگ دینے کے خوگر ہیں وہ طلوع الشمس من المغرب کو بھی استعارہ بنانے کی فکر میں ہیں۔ غالباً ان کے نزدیک قیامت کا آنا بھی ایک طرح کا استعارہ ہی ہوگا۔ (تنبیہ) یہ جو کہا کہ " آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب " اس کی تفسیر " سیقول " کے نصف پر آیت (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ) 2 ۔ البقرۃ :210) کے تحت میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے اور جملہ اور کَسَبَتْ فِی اِیْمَانِھَا خَیْراً کا عطف اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ پر ہے اور تقدیر عبارت کی ابن المنیر وغیرہ محققین کے نزدیک یوں ہے لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا اوکسبھا خیرا لم تکن امنت من قبل او لم تکن کسبت فی ایمانھا خیرا یعنی جو پہلے سے ایمان نہیں لایا اس وقت اس کا ایمان نافع نہ ہوگا اور جس نے پہلے سے کسب خیر نہ کیا اس کا کسب خیر نافع نہ ہوگا۔ (یعنی توبہ قبول نہ ہوگی) ۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے تجھ کو ان سے کچھ سروکار نہیں ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہی جتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے3

3 پچھلے رکوع میں ( قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ) 6 ۔ الانعام :151) سے بہت سے احکام بیان فرما کر ارشاد ہوا تھا ( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ) 6 ۔ الانعام :153) یعنی صراط مستقیم (دین کی سیدھی راہ) ہمیشہ سے ایک رہی ہے۔ اس سے ہٹ کر گمراہی کے راستے بہت ہیں۔ تمام انبیاء ومرسلین اصولی حیثیت سے اسی ایک راہ پر چلے اور لوگوں کو بلاتے رہے (شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ) 42 ۔ الشوری :13) اول دین میں ان کے باہم کوئی تفریق نہیں۔ زمان و مکان اور خارجی احوال کے اختلاف سے فروع شرعیہ میں جو تفاوت ہوا، وہ تفرق نہیں بلکہ ہر وقت کے مناسب رنگ میں ایک ہی مشترک مقصد کے ذرائع حصول کا تنوع ہے جو دین انبیائے سابقین لے کر آئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی اس کی مخالفت کے لئے نہیں بلکہ اس کی تکمیل و تفصیل کی غرض سے اتاری گئی۔ سب کے آخر میں قرآن آیا جو تمام کتب سابقہ کی تتمیم و تصدیق اور ان کے علوم و معارف کی حفاظت کرنے والا ہے۔ درمیان میں ان کتب و شرائع سے اعراض کرنے والوں کا حال بیان کرکے (اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ ) 6 ۔ الانعام :159) سے پھر اصل مطلب کی طرف عود کیا گیا۔ یعنی دین الہٰی کا راستہ (صراط مستقیم) ایک ہے۔ جو لوگ اصل دین میں پھوٹ ڈال کر جدا جدا راہیں نکالتے اور فرقہ بندی کی لعنت میں گرفتار ہوتے ہیں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ یا وہ مدعیان اسلام جو مستقبل میں عقائد دینیہ کی چادر کو پھاڑ کر پارہ پارہ کرنے والے تھے، ان لوگوں سے آپ کو کچھ واسطہ اور سروکار نہیں۔ یہ سب ( فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِه) 6 ۔ الانعام :153) میں داخل ہیں۔ آپ ان سے بیزاری اور برأت کا اظہار کر کے خدا کے اسی ایک راستہ (صراط مستقیم) پر جمے رہیے اور ان کا انجام اللہ کے حوالہ کیجئے۔ وہ ان کو دنیا اور آخرت میں جتلا دے گا جو کچھ دین میں گڑ بڑی کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرقوا دینھم کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں " جو باتیں یقین لانے کی ہیں (اصول دین) ان میں فرق نہ چاہیے اور جو کرنے کی ہیں (فروع دین) ان کے طریقے کئی ہوں تو برا نہیں۔