6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے بولا کیا تم مجھ سے جھگڑا کرتے ہو اللہ کے ایک ہونے میں اور وہ مجھ کو سمجھا چکا اور میں ڈرتا نہیں ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کا مگر میرا رب ہی کوئی تکلیف پہچانی چاہے احاطہ کرلیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا کیا تم نہیں سوچتے4

3 یعنی جس کو خدا سمجھا چکا اور ملکوت السّمٰوٰت والارض کی علیٰ وجہ البصیرت سیر کرا چکا کیا اس سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہارے جھگڑنے اور بیہودہ جدل و بحث کرنے سے بہک جائے گا۔ کبھی نہیں۔ 4 حضرت ابراہیم کی قوم کہتی تھی کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو۔ ڈرتے رہو کہیں اسکے وبال میں تم معاذ اللہ مجنون اور پاگل نہ بن جاؤ یا کسی اور مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ۔ اس کا جواب دیا کہ میں ان سے کیا ڈروں گا جن کے ہاتھ میں نفع و نقصان اور تکلیف و راحت کچھ بھی نہیں۔ ہاں میرا پروردگار کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس سے دنیا میں کون مستثنیٰ ہے وہ ہی اپنے علم محیط سے جانتا ہے کہ کس شخص کو کن حالات میں رکھنا مناسب ہوگا۔
Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں کیونکر ڈروں تمہارے شریکوں سے اور تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ شریک کرتے ہو اللہ کا ان کو جس کی نہیں اتاری اس نے تم پر کوئی دلیل5 اب دونوں فرقوں میں کون مستحق ہے دلجمعی کا بولو اگر تم سمجھ رکھتے ہو

5 یعنی میں تمہارے معبودوں سے کیوں ڈروں حالانکہ نہ ان کے قبضہ میں نفع و ضرر ہے اور نہ توحید کو اختیار کرنا کوئی جرم ہے۔ جس سے اندیشہ ہو ہاں تم خدا کے باغی اور مجرم بھی ہو اور خدا مالک نفع ضرر بھی ہے لہذا تم کو اپنے جرائم کی سزا سے ڈرنا چاہیے
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ یقین لے آئے اور نہیں ملا دیا انہوں نے اپنے یقین میں کوئی نقصان انہی کے واسطے ہے دلجمعی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر6

6 احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہاں ظلم کی تفسیر شرک سے فرمائی جیسا کہ سورة لقمان میں ہے اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ گویا ظلم کی تنوین تعظیم کے لئے ہوئی تو حاصل مضمون یہ ہوگا کہ مامون و مہتدی صرف وہ ہی لوگ ہوسکتے ہیں جو یقین لائے اس طرح کہ اس میں شرک کی ملاوٹ بالکل نہ ہو ' اگر خدا پر یقین رکھنے کے باوجود شرک کو نہ چھوڑا تو وہ نہ ایمان شرعی ہے نہ اس کے ذریعہ سے امن و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ وَہُوَکَمَا قَالَ (وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :106) (چونکہ ایمان شرک کا جمع ہونا بظاہر مستعبد تھا اس لئے مترجم محقق قدس سرہ نے بغرض تسہیل و تفہیم ایمان کا ترجمہ یقین سے اور ظلم کا نقصان سے کیا جو لغت عرب کے عین مطابق ہے۔ کما قولہ تعالیٰ (وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَـيْــــًٔـا) 18 ۔ الکہف :33) اور اس نقصان سے مراد شرک ہی لیا جائے گا جیسا کہ احادیث میں تصریح ہوچکی اور خود نظم کلام میں لفظ لبس اس کا قرینہ ہے اس کی مفصل تحقیق خود مترجم (رح) مقدمہ میں فرما چکے ہیں وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے دی تھی ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں تیرا رب حکمت والا ہے جاننے والاف 7

7 یعنی ابراہیم کو ایسی دلائل قاہرہ دیکر ان کی قوم پر غالب فرمانا اور دنیا و آخرت میں سر بلند کرنا اسی علیم و حکیم کا کام ہوسکتا ہے جو ہر شخص کی استعداد و قابلیت کو جانتا ہے اور اپنی حکمت سے ہر چیز کو اس کے مناسب موقع و مقام پر رکھتا ہے۔
Ayah 6:84

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے ابراہیم کو اسحاق کو اور یعقوب سب کو ہم نے ہدایت دی8 اور نوح کو ہدایت کی ہم نے ان سب سے پہلے1 اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان کو اور ایوب اور یوسف کو اور موسیٰ اور ہارون کو2 اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیک کام والوں کو

8 یعنی نہ صرف یہ کہ ہم نے ابراہیم کو ذاتی علم و فضل سے سرفراز کیا بلکہ بڑھاپے میں اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا عطا فرمایا۔ یعقوب وہ ہی اسرائیل ہیں جن کی طرف دنیا کی ایک عظیم الشان قوم بنی اسرائیل منسوب ہے جن میں سے ہزاروں نبی اٹھائے گئے بلکہ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے ' ابراہیم کے بعد حق تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے ان ہی کی نسل میں نبوت اور پیغمبری رکھ دی۔ 1 پہلے ابراہیم کے بعض فروع کا ذکر تھا اب بعض اصول کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ نوح حضرت ابراہیم کے اجداد میں سے ہیں اور جس طرح حضرت ابراہیم کے بعد نبوت کتاب کا انحصار صرف ان کی ذریت میں کردیا گیا تھا۔ اسی طرح نوع کے بعد نوح انسانی کا انحصار نوح کی نسل میں ہوگیا گویا طوفان کے بعد وہ دنیا کے لئے آدم ثانی ہوئے (وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ ) 37 ۔ صفت :77) 2 ظاہری ملک و سلطنت کے اعتبار سے انبیاء میں داؤد اور سلیمان ہم رنگ ہیں مصائب و شدائد پر صبر کرنے کے لحاظ سے ایوب و یوسف میں خاص مشابہت ہے۔ باقی موسیٰ اور ہارون کے قریبی تعلقات کی نسبت تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ خود حضرت موسیٰ نے ہارون کو بطور اپنے وزیر کے حق تعالیٰ سے طلب کیا تھا۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے ان میں سے ہر دو ناموں کے بعد لفظ " کو " لا کر شائد اسی قسم کے لطائف پر متنبہ فرمایا ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 6:85–86

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو سب ہیں نیک بختوں میں

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر3

3 یعنی اپنے اپنے زمانہ کے جہان والوں پر۔
Ayahs 6:87–88

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو ان کے باپ داؤد میں سے اور ان کی اولاد میں سے اور بھائیوں میں سے اور ان کو ہم نے پسند کیا اور سیدھی راہ چلایا

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اس پر چلاتا ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے4 اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو البتہ ضائع ہوجاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا5

4 یعنی خالص توحید اور معرفت و اطاعت خداوندی کا راستہ ہی وہ ہے۔ جس پر حق تعالیٰ اپنے فضل و توفیق سے مقبول بندوں کو چلاتا ہے پھر اس کے صلہ میں حسب استعداد درجات بلند کرتا ہے۔ 5 یہ ہم کو سنایا گیا کہ شرک انسان کے تمام اعمال کو حبط کردیتا ہے اور کسی کی تو حقیقت کیا ہے اگر بفضل محال انبیاء و مقربین سے معاذ اللہ ایسی حرکت سرزد ہو تو سارا کیا دھرا اکارت ہوجائے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہی لوگ تھے جن کو دی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت پھر اگر ان باتوں کو نہ مانیں مکہ والے تو ہم نے ان باتوں کے لئے مقرر کردیے ہیں ایسے لوگ جو ان سے منکر نہیں6

6 اگر مکہ کے کافر یا دوسرے منکرین ان باتوں ( کتاب ' شریعت اور نبوت) سے انکار کریں تو خدا کا دین ان پر موقوف نہیں۔ ہم نے دوسری قوم یعنی مہاجرین اور انصار اور ان کے اتباع کو ان چیزوں کی تسلیم و قبول اور حفاظت و ترویج کے لئے مسلط فرما دیا ہے۔ جو ہماری کسی بات سے بھی منہ موڑنے والے نہیں۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہدایت کی اللہ نے سو تو چل ان کے طریقہ پر7 تو کہہ دے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کو8

7 تمام انبیاء عقائد ' اصول دین اور مقاصد کلیہ میں متحد ہیں۔ سب کا دستور اساسی ایک ہے ہر نبی کو اس پر چلنے کا حکم ہے آپ بھی اس طریق مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں۔ گویا اس آیت میں متنبہ کردیا کہ اصولی طور پر آپ کا راستہ انبیائے سابقین کے راستے سے جدا نہیں۔ رہا فروع کا اختلاف وہ ہر زمانہ کی مناسبت و استعداد کے اعتبار سے پہلے بھی واقع ہوتا رہا ہے اور اب بھی واقع ہو تو مضائقہ نہیں۔ فائدہ علمائے اصول نے اس آیت کے عموم سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کسی معاملہ میں شرائع سابقہ کا ذکر فرمائیں تو اس امت کے حق میں بھی سند ہے بشرطیکہ شارع نے اس پر کلی یا جزوی طور پر انکار نہ فرمایا ہو۔ 8 یعنی اگر تم نہیں مانتے تو میرا کوئی نفع فوت نہیں ہوتا کیونکہ میں تم سے کسی طرح کے اجر کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو خدا کے یہاں ثابت ہے۔ ہاں تم نصیحت سے انحراف کر کے خود اپنا نقصان کرو گے سارے جہان میں سے ایک نہیں تو دوسرا نصیحت کو قبول کرے گا ' جو انکار کرے گا اسے اپنی محرومی اور بدبختی کا ماتم کرنا چاہئے۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور نہیں پہچانا انہوں نے اللہ کو پورا پہچاننا جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز1 پوچھ تو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آیا تھا روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے واسطے جس کو تم نے ورق ورق کر کے لوگوں کو دکھلایا اور بہت سی باتوں کو تم نے چھپا رکھا اور تم کو سکھلا دیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے باپ دادے2 تو کہہ دے کہ اللہ نے اتاری پھر چھوڑ دے ان کو اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں3

1 پچھلے رکوع میں منصب نبوت اور بہت سے انبیاء کا نام بنام تذکرہ تھا اور یہ کہ نبی عربی ﷺ بھی توحید و معرفت کی اسی صراط مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں جس پر انبیائے سابقین کو چلایا گیا تھا۔ پیغمبروں کا ہدایت خلق اللہ کے لئے بھیجنا حق تعالیٰ کی قدیم عادت رہی ہے آیات حاضرہ میں ان جاہلوں اور معاندوں کا رد کیا گیا ہے جو بد فہمی ' جہل و غباوت یا نبی کریم ﷺ کی عداوت کے جوش اور غصہ میں بےقابو ہو کر حق تعالیٰ کی اس صفت کا ہی انکار کرنے لگے کہ وہ کسی انسان کو اپنی وحی و مکالمہ خاص سے مشرف فرمائے۔ گویا انزال کتب و ارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی گئی۔ 2 یعنی اگر واقعی خدا نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری تو " تورات مقدس " جیسی عظیم الشان کتاب جو احکام و مرضیات الہیہ پر بندوں کو مطلع کرتی اور رشد ہدایت کی عجیب و غریب روشنی اپنے اندر رکھتی اور ان چیزوں کا علم تم کو عطا کرتی تھی جنہیں تم اور تمہارے باپ دادا بلکہ کل بنی آدم بھی بدون اعلام الٰہی محض اپنی عقل و حواس سے دریافت نہیں کرسکتے تھے۔ وہ کہاں سے آگئی اور کس نے موسیٰ پر اتاری۔ مانا کہ آج تم اسے ورق ورق اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے لوگوں کو اپنی خواہش کے موافق دکھلاتے اور اس کے بہت سے اخبار و احکام کو چھپائے بیٹھے ہو۔ اور اس طرح اس کی اصل روشنی تم نے باقی نہیں چھوڑی۔ تاہم جو حصہ آج باقی رہ گیا ہے وہ ہی پتہ دے رہا ہے کہ جس محل کے کھنڈرات یہ ہیں وہ اپنی زمانہ عروج میں کیسا عظیم الشان ہوگا۔ 3 یعنی ایسا نور و ہدایت بجز خدا کے اور کس خزانہ سے آسکتا ہے ؟ اگر ایسی صاف اور بدیہی چیز کو بھی لوگ نہیں مانتے تو آپ تبلیغ و تنبیہ کر کے سبکدوش ہو جائیے اور ان کو چھوڑ دیجئے کہ یہ اپنی خرافات اور لہو و لعب میں مشغول رہیں اور جب وقت آئے گا خدا خود انکو بتلا دے گا
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ قرآن کتاب ہے جو کہ ہم نے اتاری برکت والی تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلی ہیں4 اور تاکہ تو ڈراوے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو5 اور جن کو یقین ہے آخرت کا وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہیں اپنی نماز سے خبردار6

4 یعنی اگر خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ مبارک کتاب کہاں سے آئی جس کا نام قرآن ہے اور جو تمام پچھلی کتابوں کے مضامین کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اگر یہ آسمانی کتاب نہیں تو بتلاؤ کس کی تصنیف ہے جس کا مثل لانے پر جن و انس قادر نہ ہوں کیا اسے ایک امی کی تصنیف کہہ سکتے ہیں۔ 5 " اُم القریٰ " بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی اور دنیاوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت میں بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرف واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کے نیچے ہے اور روایات حدیثیہ کے موافق پانی سے زمین بنائی گئی تو اول یہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو " ام القریٰ " فرمایا اور آس پاس سے مراد یا عرب ہے کیونکہ دنیا میں قرآن کے اول مخاطب وہی تھے۔ ان کے ذریعہ سے باقی دنیا کو خطاب ہوا اور یا سارا جہان مراد ہو جیسے فرمایا (لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25 ۔ الفرقان :1) 6 جسے آخرت کی زندگی پر یقین اور بعد الموت کا خیال ہوگا ' اسی کو ہدایت اور طریق نجات کی تلاش ہوگی وہی پیغام الٰہی کو قبول اور نماز وغیرہ عبادات کی حفاظت کرے گا۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا کہے مجھ پر وحی اتری اور اس پر وحی نہیں اتری کچھ بھی اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اللہ نے اتارا7 اور اگر تو دیکھے جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں8 اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں9 آج تم کو بدلے میں ملے گا ذلت کا عذاب10 اس سبب سے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی باتیں اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے1

7 خدا پر بہتان باندھنے سے شائد یہ مراد ہے کہ خدا کی طرف ان باتوں کی نسبت کرے جو اس کی شان رفیع کے لائق نہیں مثلا کسی کو اس کا شریک ٹھرائے یا بیوی بچے تجویز کرے یا یوں کہے (مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ ) 6 ۔ الانعام :91) یعنی اس نے بندوں کی ہدایت کا کوئی سامان نہیں کیا۔ ایسا کہنے والا سخت ظالم ہے اسی طرح جو شخص نبوت و پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کرے یا یہ ڈینگ مارے کہ خدا کے جیسا کلام تو میں لاسکتا ہوں جیسے بعض مشرکین کہتے تھے ( لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ) 8 ۔ الانفال :31) یہ سب باتیں انتہائی ظلم اور دیدہ دلیری کی ہیں جس کی سزا کا تھوڑا سا حال آگے مذکور ہے۔ 8 یعنی موت کی باطنی اور روحانی سختیوں میں۔ 9 یعنی روح قبض کرنے اور سزا دینے کو ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور مزید تشدید اور اظہار غیظ کے لئے کہتے جاتے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں ( جنہیں بہت دنوں سے بانواع حیل بچاتے پھرتے تھے) 10 یعنی سخت تکلیف کے ساتھ ذلت و رسوائی بھی ہوگی۔ 1 یعنی ازراہ تکبر آیات اللہ کو جھٹلاتے تھے۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور البتہ تم ہمارے پاس آگئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا اپنی پیٹھ کے پیچھے2 اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارش والوں کو جن کو تم بتلایا کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے البتہ منقطع ہوگیا تمہارا علاقہ اور جاتے رہے جو دعوے کہ تم کیا کرتے تھے3

2 یعنی نہ سر پہ ٹوپی نہ پاؤں میں جوتی تہی دست چلے آ رہے ہو اور جس سازو سامان پر فخر و ناز تھا اسے ہمراہ نہیں لائے کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ 3 یعنی جن کو تم سمجھتے تھے کہ آڑے وقت میں ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور مصیبت میں ساتھ ہوں گے ' وہ کہاں چلے گئے آج ہم ان کو تمہاری سفارش اور حمایت پر نہیں دیکھتے۔ حمایت و نصرت کے وہ علاقے آج ٹوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم کیا کرتے تھے سب رفوچکر ہوئے۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

اللہ ہے کہ پھوڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی نکالتا ہے مردہ سے زندہ اور نکالنے والا ہے زندہ سے مردہ یہ ہے اللہ پھر تم کدھر بہکے جاتے ہو4

4 یعنی زمین میں دبائے جانے کے بعد گٹھلی اور دانہ کو پھاڑ کر سبز پودہ اگانا یا جاندار کو بےجان اور بےجان کو جاندار سے نکالنا (' مثلا آدمی کو نطفہ سے نطفہ سے آدمی کو پیدا کرنا) اسی خدا کا کام ہے۔ پھر اسے چھوڑ کر تم کدھر بہکے جا رہے ہو ؟ کیا اور کوئی ہستی تمہیں ایسی مل سکتی ہے جو ان کاموں کو انجام دے سکے
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

پھوڑ نکالنے والا صبح کی روشنی کا5 اور اس نے رات بنائی آرام کو اور سورج اور چاند حساب کے لئے یہ اندازہ رکھا ہوا ہے زور آور خبردار کا6

5 یعنی رات کی تاریکی میں سے جو پیلی پھٹ کر صبح صادق نمودار ہوتی ہے اس کا نکالنے والا بھی وہی ہے۔ 6 رات دن اور چاند سورج کا جو حکیمانہ نظام اور ان کی رفتار کا جو حساب مقرر فرما دیا اس میں ذرا بھی تخلف یا کم و بیش نہیں ہوتا۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور اسی نے بنا دیئے تمہارے واسطے ستارے کہ ان کے وسیلہ سے راستے معلوم کرو اندھیروں میں جنگل اور دریا کے7 البتہ ہم نے کھول کر بیان کردیئے پتے ان لوگوں کیلئے جو جانتے ہیں

7 یعنی بلاواسطہ ان سے راستہ معلوم کرو یا بالواسطہ مثلا قطب نما کے ذریعہ سے۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا کیا ایک شخص سے8 پھر ایک تو تمہارا ٹھکانا ہے اور ایک امانت رکھے جانے کی جگہ9 البتہ ہم نے کھول کر سنا دیئے پتے اس قوم کو جو سوچتے ہیں

8 یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے 9 " مستقر " ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکانہ کہا۔ اور " مستودع " سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ تو لغوی معنی ہوئے۔ آگے دونوں کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے حضرت شاہ صاحب نے موضح القران میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہم کو پسند ہے۔ " یعنی اول سپرد ہوتا ہے ماں کے پیٹ میں کہ آہستہ آہستہ دنیا کے اثر پیدا کرے پھر آ کر ٹھہرتا ہے دنیا میں۔ پھر سپرد ہوگا قبر میں کہ آہستہ آہستہ اثر آخرت کے پیدا کرے پھر جا ٹھہرے گا جنت میں یا دوزخ میں "۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور اسی نے اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے اگنے والی ہر چیز1 پھر نکالی اس میں سے سبز کھیتی جس سے ہم نکالتے ہیں دانے ایک پر ایک چڑھا ہوا اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے2 اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی3 دیکھو ہر ایک درخت کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو4 ان چیزوں میں نشانیاں ہیں واسطے ایمان والوں کے5

1 یعنی آسمان کی طرف سے بادل برسایا جو سبب ہے نباتات کے اگانے کا۔ 2 یعنی بسبب بوجھل ہونے کے نیچے کو جھکے۔ 3 یعنی صورت شکل ' مقدار ' رنگ بو اور مزے کے اعتبار سے بعضے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعضے نہیں۔ 4 یعنی ابتداً جب پھل آتا ہے تو کچا ' بدمزہ اور ناقابل انتفاع ہوتا ہے۔ پھر پکنے کے بعد کیسا لذیذ ' خوش ذائقہ اور کار آمد بن جاتا ہے یہ سب خدا کی قدرت کا ظہور ہے۔ 5 اس رکوع میں حق تعالیٰ کے جن افعال وصفات اور مظاہر قدرت کا بیان ہوا ' ان سے خدا کے وجود ' وحدانیت اور کامل الصفات ہونے پر استدلال تو واضح ہے لیکن غور کیا جائے تو وحی و نبوت کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب حق تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے ہماری دنیاوی زندگی اور مادی حوائج کے انتظام و انصرام کے لئے اس قدر اسباب ارضی و سماوی مہیا فرمائے ہیں ' تو یہ کہنا کس قدر لغو اور غلط ہوگا کہ ہماری حیات اخروی اور روحانی ضروریات کے انجام پانے کا اس نے کوئی سامان نہیں کیا یقیناً جس رب کریم نے ہماری جسمانی غذاؤں کی نشو نما کیلئے آسمان سے پانی اتارا ہے ہمارے روحانی تغذیہ کے لئے بھی اسی نے سحابہائے نبوت سے وحی الہام کی بارش نازل فرمائی۔ جب وہ برو بحر کی اندھیریوں میں ستاروں کے ذریعہ سے ظاہری راہنمائی کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ باطنی راہنمائی کے لئے اس نے ایک ستارہ بھی آسمان روحانیت پر روشن نہ کیا ہو۔ رات کی تاریکی کے بعد اس نے صبح صادق کا اجالا کیا اور مخلوق کو موقع دیا کہ وہ اپنے دنیاوی کاروبار میں چاند اور سورج کی روشنی سے ایک معین حساب کے ماتحت منتفع و مستفید ہوتی رہے پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کفر و شرک ' ظلم وعدوان اور فسق و فجور کی شب دیجور میں اسکی طرف سے کوئی چاند نہ چمکا ' نہ صبح صادق کا نور پھیلا ' نہ رات ختم ہو کر کوئی آفتاب طلوع ہوا۔ خدا کی ساری مخلوق ابدالآباد کے لئے جہل ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پڑی چھوڑ دی گئی۔ کیا گیہوں کے دانے اور کھجور کی گٹھلی کو پھاڑ کر خدائے کریم سرسبز درخت اگاتا ہے پر انسان کے قلب میں معرفت ربانی کا استعداد کا جو بیج فطرۃً بکھیرا گیا ہو وہ یوں ہی بیکار ضائع کردیا گیا کہ نہ ابھرا ' نہ پھیلا ' نہ پکا ' نہ تیار ہوا جب جسمانی حیثیت سے دنیا میں حی و میت کا سلسلہ قائم ہے۔ خدا زندہ سے مردہ کو مردہ سے زندہ کو نکالتا رہتا ہے تو روحانی نظام میں خدا کی اس عادت کا کیوں انکار کیا جائے بیشک وہ روحانی طور پر بھی وہ بہت دفعہ ایک زندہ قوم سے مردہ اور مردہ قوم سے زندہ افراد پیدا کرتا ہے۔ اور جس طرح اس نے ہماری دنیاوی زندگی کے مستقر و مستودع کا حکیمانہ بندوبست کیا ہے حیات اخروی کے مستقر و مستودع کے سامان اس سے کہیں بڑھ کر مہیا فرمائے۔ فللہ الحمد والمنہ وبہ الثقۃ والعصمۃ یہیں سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح ہم خدا تعالیٰ کو اسکے کاموں سے پہچانتے ہیں یعنی جو کام وہ اپنی قدرت کاملہ سے کرتا ہے کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ ویسا کام کرسکے۔ ٹھیک اسی طرح اسکے کلام کو بھی ہم اسی معیار پر جانچ سکتے ہیں کہ خدا کا کلام وہی ہوسکتا ہے کہ اس جیسا کلام ساری مخلوق مل کر بھی نہ بنا سکے پھر " سانزل مثل مآ انزل اللہ " کا ادعاء کہاں تک صحیح ہوسکتا ہے گویا اس رکوع میں حق تعالیٰ کی صفات و افعال بیان کر کے ان تمام مسائل کی حقیقت پر متنبہ کردیا گیا جن کی تغلیط گزشتہ رکوع میں کی گئی تھی۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں اللہ کے شریک جنوں کو حالانکہ اس نے ان کو پیدا کیا ہے6 اور تراشتے ہیں اس کے واسطے بیٹے اور بیٹیاں جہالت سے7 وہ پاک ہے اور بہت دور ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں8

6 یا تو " جن " سے مراد یہاں " شیاطین " ہیں چونکہ کفر و شرک کا ارتکاب شیطان کے اغوا سے ہوتا ہے اس لئے اس کے اغواؤ اضلال سے غیر اللہ کی عبادت کرنا گویا اسی کی عبادت ہوئی۔ ابراہیم نے بت پرستی کا رد کرتے ہوئے فرمایا یا ابت " لاَ تَعْبُدُ الشَّیْطٰن " دوسری جگہ ارشاد ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ) 36 ۔ یس :60) " ملائکہ قیامت میں فرمائیں گے (سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ) 34 ۔ سبأ :31) " اور یا " جن " سے مراد قوم جن لی جائے جن کے بعض سرداروں سے اہل جاہلیت استعانت و تعوذ کیا کرتے تھے (وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا) 72 ۔ جن :6) بہرحال وہ خود ہماری طرح خدا کی عاجز مخلوق ہے۔ پھر مخلوق ہو کر خالق کا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔ 7 نصاریٰ حضرت مسیح کو بعض یہود حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا اور مشرکین ملائکہ اللہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ 8 یعنی پاک ہے شرکت سے اسکی شان بہت بلند ہے ترکیب و تحلیل سے پھر باپ بیٹے کا تصور وہاں کیسے ہوسکتا ہے۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا9 کیونکر ہوسکتا ہے اس کے بیٹا حالانکہ اس کے کوئی عورت نہیں اور اس نے بنائی ہر چیز اور وہ ہر چیز سے واقف ہے10

9 جس نے تنہا تمام آسمان و زمین بدوں کسی نمونہ اور توسط آلات وغیرہ کے ایسے انوکھے طرز پر پیدا کردیئے۔ آج اس کو شرکاء کی امداد اور بیٹے پوتے کا سہارا ڈھونڈھنے کی کیا ضرورت ہے۔ 10 تعجب ہے کہ جب کسی مخلوق کو تم حقیقۃ خدا کی اولاد قرار دیتے ہو تو ان بچوں کی ماں کسے تجویز کرو گے اور اس ماں کا تعلق خدا کے ساتھ کس قسم کا مانو گے۔ عیسائی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں لیکن یہ جسارت وہ بھی نہیں کرسکے اور کہ مریم صدیقہ کو ( العیاذ باللہ) خدا کی بیوی قرار دیکر زنا شوی کے قائل ہوجائیں۔ جب ایسا نہیں تو مریم کے بطن سے پیدا ہونے والا خدا کا بیٹا کیونکر بن گیا۔ دنیا کے دوسرے بچوں کو بھی خدا تعالیٰ ماؤں کے پیٹ سے پیدا کرتا ہے اور وہ معاذ اللہ خدا کی نسلی اولاد نہیں کہلاتے۔ یہ فرق کہ کوئی بچہ محض نفخہء جبریلیہ سے بدوں توسط اسباب عادیہ کے پیدا کردیا جائے اور دوسروں کو عام اسباب کے سلسلہ میں پیدا فرمائیں ' ابوت و نبوت کے مسئلہ پر کچھ اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اسباب و مسببات ہوں یا خوارع عادات سب کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کس چیز کو کس وقت پیدا کرنا مصلحت و حکمت ہے۔
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا رب ہے نہیں ہے کوئی معبود سوا اس کے پیدا کرنے والا ہر چیز کا سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے11

11 اس کی عبادت اس لئے کرنی چاہیے کہ مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر استحقاق معبود بننے کا رکھتا ہے اور اس لئے بھی کہ تمام مخلوق کی کارسازی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نہیں پا سکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پاسکتا ہے آنکھوں کو اور وہ نہایت لطیف اور خبردار ہے12

12 حضرت شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آنکھ میں یہ قوت نہیں کہ اس کو دیکھ لے ہاں وہ خود ازراہ لطف کرم اپنے کو دکھانا چاہے تو آنکھوں میں ویسی قوت بھی فرما دے گا۔ مثلا آخرت میں مومنین کو حسب مراتب رویت ہوگی جیسا کہ نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے یا بعض روایات کے موافق نبی کریم ﷺ کو لیلتہ الاسراء میں رویت ہوئی علی اختلاف الاقوال۔ باقی مواضع میں چونکہ کوئی نص موجود نہیں لہذا عام قاعدہ کی بناء پر نفی رویت ہی کا اعتقاد رکھا جائے گا۔ مفسرین سلف میں سے بعض نے ادراک کو احاطہ کے معانی میں لیا ہے یعنی نگاہیں کبھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ آخرت میں بھی رویت ہوگی احاطہ نہ ہوگا۔ ہاں اسکی شان یہ ہے کہ وہ تمام ابصار و مبصرات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس وقت " لطیف " کا تعلق " لا تدرکہ " سے اور " خیبر کا " " وہو یدرک " سے ہوگا۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

تمہارے پاس آچکیں نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو اور میں نہیں تم پر نگہبان1

1 یعنی اگرچہ خدا ہمیں دکھائی نہیں دیتا مگر اس کے بصیرت افروز نشانات و دلائل ہمارے سامنے ہیں۔ جو آنکھ کھول کر دیکھے گا خدا کو پالے گا۔ اور جو اندھا بن گیا اس نے اپنا نقصان کیا میرے ذمے یہ نہیں کہ کسی کو دیکھنے پر مجبور کر دوں۔
Ayahs 6:105–106

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور یوں طرح طرح سے سمجھاتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ کہیں کہ تو نے کسی سے پڑھا ہے اور تاکہ واضح کردیں ہم اس کو واسطے سمجھ والوں کے2

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

تو چل اس پر جو حکم تجھ کو آوے تیرے رب کا کوئی معبود نہیں سوا اس کے اور منہ پھیرلے مشرکوں سے3

2 یعنی اپنی آیتوں کو مختلف پہلوؤں اور عجیب و غریب انداز سے اس لئے سمجھاتے ہیں کہ آپ سب لوگوں کو پہنچا دیں۔ اور ان میں استعداد و احوال کے اختلاف سے دو فریق ہوجائیں۔ ضدی اور بد فہم تو یہ کہیں کہ ایسے علوم و معارف اور موثر مضامین ایک اُمّی سے کیسے بن پڑتے تو ضرور مختلف اوقات میں کسی سے سیکھتے رہے ہوں گے۔ پھر پڑھ پڑھا کر ہمارے سامنے پیش کر دئیے۔ لیکن سمجھ دار اور انصاف پسند لوگوں پر حق واضح ہوجائے گا۔ اور شیطانی شکوک و شبہات زائل ہوجائیں گے۔ 3 آپ خدائے واحد پر بھرسہ کر کے اسکے حکم پر چلتے رہیں اور مشرکین کے جہل وعناد کی طرف خیال نہ فرمائیں کہ ایسے روشن دلائل و بیانات سننے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ شرک نہ کرتے4 اور ہم نے نہیں کیا تجھ کو ان پر نگہبان اور نہیں ہے تو ان پر داروغہ5

4 یعنی حق تعالیٰ کی تکوینی حکمت اس کو متقضی نہیں ہوئی کہ وہ ساری دنیا کو زبردستی مومن بنا دے بیشک وہ چاہتا تو روئے زمین پر ایک مشرک کو باقی نہ چھوڑتا۔ لیکن شروع سے اس نے انسانی فطرت کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ آدمی کوشش کرے تو یقیناً ہدایت قبول کرسکے تاہم قبول کرنے میں بالکل مجبور و مضطر نہ ہو پہلے اس مسئلہ کی تقریر گزر چکی۔ 5 آپ کا فرض تبلیغ احکام الٰہی کا اتباع ہے ان کے اعمال کے ذمہ دار اور جوابدہ آپ نہیں ہیں۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بےادبی سے بدوں سمجھے6 اسی طرح ہم نے مزین کردیا ہر ایک فرقہ کی نظر میں ان کے اعمال کو پھر ان کو اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے تب وہ جتلا دے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے7

6 یعنی تم تبلیغ و نصیحت کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوچکے اب جو جو کفر و شرک یہ لوگ کریں اس کے ذمہ دار خود ہیں تم پر اس کی کچھ ذمہ داری نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ تم اپنی جانب سے بلاضرورت ان کے مزید کفر و تعنت کا سبب نہ بنو۔ مثلاً فرض کیجیے ان کے مذہب کی تردید یا بحث و مناظرہ کے سلسلہ میں تم غصہ ہو کر ان کے معبودوں اور مقتداؤں کو سب و شتم کرنے لگو۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جواب میں تمہارے معبود برحق اور محترم بزرگوں کی بےادبی کریں گے۔ اور جہالت سے انھیں گالیاں دیں گے اس صورت میں اپنے واجب التعظیم معبود اور قابل احترام بزرگوں کی اہانت کا سبب تم بنے لہذا اس سے ہمیشہ احتراز کرنا چاہیے۔ کسی مذہب کے اصول و فروع کی معقول طریقے سے غلطیاں ظاہر کرنا یا اسکی کمزوری اور رکاکت پر تحقیقی و الزامی طریقوں سے متنبہ کرنا جداگانہ چیز ہے لیکن کسی قوم کے پیشواؤں اور معبودوں کی نسبت بغرض تحقیر و توہین دلخراش الفاظ نکالنا قرآن نے کسی وقت بھی جائز نہیں رکھا۔ 7 یعنی دنیا چونکہ دار امتحان ہے۔ اس کا نظام ہم نے ایسا رکھا ہے اور ایسے اسباب جمع کر دئیے ہیں کہ یہاں ہر قوم اپنے اعمال اور طور و طریق پر نازاں رہتی ہے، انسانی دماغ کی ساخت ایسی نہیں بنائی کہ وہ صرف سچائی کے قبول اور پسند کرنے پر مجبور ہو غلطی کی طرف جانے کی گنجائش ہی نہ رکھے ہاں خدا یہاں جاکر جب تمام حقائق سامنے ہوں گے، پتہ چل جائے گا کہ جو کام دنیا میں کرتے تھے وہ کیسے تھے۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکید سے کہ اگر آوے ان کے پاس کوئی نشانی تو ضرور اس پر ایمان لاویں گے8 تو کہہ دے کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تم کو اے مسلمانو کیا خبر ہے کہ جب وہ نشانیاں آویں گی تو یہ لوگ ایمان لے آویں گے9

8 یعنی بعض فرمائشی نشانیاں مثلا کوہ صفا خالص سونے کا بن جائے۔ 9 بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ اچھا ہو اگر ان کی یہ حجت بھی پوری کردی جائے اس پر فرما دیا کہ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ سرکش ضدی لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے پھر سنت اللہ کے موافق اس کے مستحق ہوں گے کہ فورا تباہ کردیئے جائیں۔ جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے10

10 یعنی جب کفر و سرکشی میں تمادی ہوگی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے۔ پھر حق کے سمجھنے اور دیکھنے کی توفیق نہ ملے گی۔ موضح القرآن میں ہے کہ " اللہ جن کو ہدایت دیتا ہے اوّل ہی حق سن کر انصاف سے قبول کرتے ہیں اور جس نے پہلے ہی ضد کی اگر نشانیاں بھی دیکھ لے تو کچھ حیلہ بنا لے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم اتاریں ان پر فرشتے اور باتیں کریں ان سے مردے اور زندہ کردیں ہم ہر چیز کو ان کے سامنے تو بھی یہ لوگ ہرگز ایمان لانے والے نہیں مگر یہ کہ چاہے اللہ لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں1

1 یعنی اگر ان کی فرمائش کے موافق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فرض کیجئے آسمان سے فرشتے اتر کر آپ کی تصدیق کریں اور مردے قبروں سے اٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگیں اور تمام امتیں جو گزر چکی ہیں دوبارہ زندہ کر کے ان کے سامنے لا کھڑی کی جائیں تب بھی سوء استعداد اور تعنت وعناد کی وجہ سے یہ لوگ حق کو ماننے والے نہیں۔ بیشک اگر خدا چاہے تو زبردستی منوا سکتا ہے لیکن ایسا چاہنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے۔ جس کو ان میں کے اکثر لوگ اپنے جہل کی وجہ سے نہیں سمجھتے۔ اس کی تشریح پچھلے فوائد میں گزر چکی۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح کردیا ہم نے2 ہر نبی کے لیے دشمن شریر آدمیوں کو اور جنوں کو جو کہ سکھلاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں فریب دینے کیلئے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ لوگ یہ کام نہ کرتے سو تو چھوڑ دے وہ جانیں اور ان کا جھوٹ3

2 یعنی پیدا کردیا ہم نے۔ 3 چونکہ خدا کی حکمت بالغہ تکویناً اسی کو مقتضی ہے کہ نظام عالم کو جب تک قائم رکھنا منظور ہے خیر و شر کی قوتوں میں سے کوئی قوت بھی بالکل مجبور اور نیست و نابود نہ ہو۔ اس لئے نیکی و بدی اور ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ ہمیشہ سے قائم رہی ہے۔ جس طرح آج یہ مشرکین و معاندین آپ کو بیہودہ فرمائشوں سے دق کرتے اور بانواع حیل لوگوں کو جادہ حق سے ڈگمگانا چاہتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے مقابل شیطانی قوتیں کام کرتی رہی ہیں کہ پیغمبروں کو ان کے پاک مقصد (ہدایت خلق اللہ) میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ اسی غرض فاسد کے لئے شیاطین الجن اور شیاطین الانس باہم تعاون کرتے، اور ایک دوسرے کو فریب دہی اور ملمع سازی کی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے ہیں اور ان کی یہ عارضی آزادی اسی عام حکمت اور نظام تکوینی کے ماتحت ہے جو تخلیق عالم میں حق تعالیٰ نے مرعی رکھی ہے۔ اس لئے آپ اعداء اللہ کی فتنہ پردازی اور مغویانہ فریب دہی سے زیادہ فکر و غم میں نہ پڑیں۔ ان سے اور ان کے کذب و افتراء سے قطع نظر کر کے معاملہ خدا کے سپرد کیجئے۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور اس لئے کہ مائل ہوں ان ملمع کی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل جن کو یقین نہیں آخرت کا اور وہ اس کو پسند بھی کرلیں اور کیے جاویں جو کچھ برے کام کر رہے ہیں4

4 یعنی شیاطین ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی فریب کی باتیں اس لئے سکھلاتے ہیں کہ انھیں سن کر جو لوگ دنیا کی زندگی میں غرق ہیں اور دوسری زندگی کا یقین نہیں رکھتے ان ابلہ فریب باتوں کی طرف مائل ہوجائیں۔ اور ان کو دل سے پسند کرنے لگیں۔ اور پھر کبھی برے کاموں اور کفر و فسق کی دلدل سے نکلنے نہ پائیں۔
Ayahs 6:114–115

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

سو کیا اب اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں حالانکہ اسی نے اتاری تم پر کتاب واضح اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ نازل ہوئی ہے تیرے رب کی طرف سے ٹھیک سو تو مت ہو شک کرنے والوں میں سے

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تیرے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی کوئی بدلنے والا نہیں اس کی بات کو اور وہی ہے سننے والا جاننے والاف 5

5 یعنی " شیاطین الانس والجن " کی تلبیس و تلمیع پر بدعقیدہ اور جاہل ہی کان دھر سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر یا اس کے متبعین جو ہر مسئلہ اور ہر معاملہ میں خدائے واحد ہی کو اپنا منصف اور حکم مان چکے ہیں کیا ان سے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی چکنی چپڑی باتوں کی طرف کان لگائیں۔ یا معاذاللہ غیر اللہ کے فیصلہ کے آگے گردن جھکا دیں، حالانکہ ان کے پاس خدا کی طرف سے ایسی معجز اور کامل کتاب آچکی جس میں تمام اصولی چیزوں کی ضروری توضیح و تفصیل موجود ہے۔ جس کی نسبت علمائے اہل کتاب بھی کتب سابقہ کی بشارات کی بناء پر خوب جانتے ہیں کہ یقیناً یہ آسمانی کتاب ہے جس کی تمام خبریں سچی اور تمام احکام معتدل اور منصفانہ ہیں جن میں کسی کی طاقت نہیں کہ موجودگی میں کیسے کوئی مسلمان وساوس و اوہام یا محض عقلی قیاسات اور مغویانہ مغالطات کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ جس کو ہم نے اپنا حکم اور جس کی کتاب مبین کو دستور العمل تسلیم کیا ہے وہ ہماری ہر بات کو سننے والا اور ہر قسم کے مواقع و احوال اور ان کے مناسب احکام و نتائج کی موزونیت کو پوری طرح جاننے والا ہے۔
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر تو کہنا مانے گا اکثر لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھ کو بہکا دیں گے اللہ کی راہ سے وہ سب تو چلتے ہیں اپنے خیال پر اور سب اٹکل ہی دوڑاتے ہیں1

1 مشاہدہ اور تاریخ بتلاتے ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ فہیم، محقق اور با اصول آدمی تھوڑے رہے ہیں۔ اکثریت ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو محض خیالی، بےاصول اور اٹکل پچو باتوں کی پیروی کرنے والے ہوں۔ اگر تم اسی اکثریت کا کہنا ماننے لگو اور بےاصول باتوں پر چلنا شروع کردو تو خدا کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ سے یقینا بہک جاؤ گے۔ یہ آپ پر رکھ کر دوسروں کو سنایا۔ جاہل عوام کی ان ہی بےاصول اور اٹکل پچو باتوں میں سے ایک وہ تھی جو انہوں نے ذبیحہ کے مسئلہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو جانور طبعی موت سے مرجائے (یعنی میتہ) اسے مسلمان حرام کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کا مارا ہوا ہے اور جو خود ان کے ہاتھ کا مارا ہوا ہو اسے حلال سمجھتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے، اس کا جواب اگلی آیتوں میں " فَکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ " سے دیا گیا۔ حضرت شاہ صاحب موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ " یہ کئی آیتیں اس پر اتریں کہ کافر کہنے لگے مسلمان اپنا مارا کھاتے ہیں اور اللہ کا مارا نہیں کھاتے، فرمایا کہ ایسی ملمع فریب کی باتیں انسانوں کو شبہ میں ڈالنے کے لئے شیطان سکھاتے ہیں۔ خوب سمجھ لو حلال و حرام وغیرہ میں حکم اللہ کا چلتا ہے۔ محض عقلی ڈھکوسلوں کا اعتبار نہیں۔ آگے کھول کر سمجھا دیا کہ مارنے والا سب کا اللہ ہے لیکن اس کے نام کو برکت ہے جو اس کے نام پر ذبح ہوا سو حلال ہے جو بغیر اس کے مرگیا سو مردار "۔ بتغیر یسیر۔
Ayahs 6:117–118

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تیرا رب خوب جاننے والا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سے اور وہی خوب جاننے والا ہے ان کو جو اس کی راہ پر ہیں

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو تم کھاؤ اس جانور میں سے جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اگر تم کو اس کے حکموں پر ایمان ہے2

2 جب دلائل صحیحہ کی بنا پر تم نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرلیا اور کلی طور پر اس کے احکام پر ایمان لا چکے تو اب فروع و جزئیات کی صحت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ہر اصل و فرع اور کلی و جزئی کا قبول کرنا ہمارے عقلی قیاسات پر موقوف ہو تو وحی اور نبوت کی ضرورت ہی نہ رہے۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور کیا سبب کہ تم نہیں کھاتے اس جانور میں سے کہ جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اور وہ واضح کرچکا ہے جو کچھ کہ اس نے تم پر حرام کیا ہے مگر جب کہ مجبور ہوجاؤ اس کے کھانے پر3 اور بہت لوگ بہکاتے پھرتے ہیں اپنے خیالات پر بغیر تحقیق تیرا رب ہی خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو4

3 یعنی اضطرار اور مجبوری کی حالت کو مستثنیٰ کر کے جو چیزیں حرام ہیں ان کی تفصیل کی جا چکی۔ ان میں وہ حلال جانور داخل نہیں جو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے پھر اس کے نہ کھانے کی کیا وجہ ؟ 4 مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر چیز کو بالواسطہ یا بلا واسطہ خدا ہی پیدا کرتا اور خدا ہی مارتا ہے۔ پھر جس طرح اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں بعض کا کھانا ہم کو مرغوب اور مفید ہے جیسے سیب انگور وغیرہ اور بعض چیزوں سے ہم نفرت کرتے ہیں یا مضر سمجھتے ہیں جیسے ناپاک گندی چیزیں اور سنکھیا وغیرہ۔ اسی طرح اس کی ماری ہوئی چیزیں بھی دو قسم کی ہیں ایک وہ جن سے فطرت سلیمہ نفرت کرے یا ان کا کھانا ہماری بدنی یا روحی صحت کیلئے خدا کے نزدیک مضر ہو۔ مثلاً وہ حیوان دموی جو اپنی طبعی موت سے مرے اور اس کا خون وغیرہ گوشت میں جذب ہو کر رہ جائے۔ دوسرے وہ حلال و طیب جانور جو باقاعدہ خدا کے نام پر ذبح ہو یہ بھی خدا ہی کا مارا ہوا ہے، جس پر مسلمان کی چھری کے توسط سے اس نے موت طاری کی۔ مگر عمل ذبح اور خدا کے نام کی برکت سے اس کا گوشت پاک و صاف ہوگیا۔ پس جو شخص دونوں قسموں کو ایک کرنا چاہے وہ معتدی (حد سے بڑھنے والا) ہوگا۔