Ayah 20:12011 یعنی ایسا درخت بتاؤں، جس کے کھانے سے کبھی موت نہ آئے اور لازوال بادشاہت ملے۔
Ayah 20:1211 یہ سب قصہ سورة اعراف وغیرہ میں مفصل گزر چکا ہے۔ وہاں کے فوائد میں ہم اس کے اجزاء پر نہایت کافی و شافی کلام کرچکے ہیں۔
Ayah 20:1222 یعنی جب حکم الٰہی کے امتثال میں غفلت و کوتاہی ہوئی تو اپنی شان کے موافق عزم و استقامت کی راہ پر ثابت قدم نہ رہے۔ اسی کو غوایت و عصیان سے تغلیظاً تعبیر فرمایا ہے بقاعدہ " حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ " اس کی بحث بھی پہلے گزر چکی۔ یعنی شیطان کا تسلط نہیں ہونے دیا، بلکہ فوراً توبہ کی توفیق بخشی، خلعت قبول سے نوازا، اور بیش از بیش مہربانی سے اس کی طرف متوجہ ہوا اور اپنی خوشنودی کے راستہ پر قائم کردیا۔
Ayah 20:1233 اگر یہ خطاب صرف آدم و حوا کو ہے تو یہ مراد ہوگی کہ ان کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کی دشمن رہے گی۔ جیسا رفاقت کر کے گناہ کیا تھا۔ اس رفاقت کا بدلہ یہ ملا کہ اولاد آپس میں دشمن ہوئی اور اگر خطاب آدم و ابلیس کو ہے تو یہ مطلب ہوگا کہ دونوں کی ذریت میں یہ دشمنی برابر قائم رہے گی۔ شیاطین ہمیشہ بنی آدم کو ضرر پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
4 یعنی نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ سے۔
5 یعنی نہ جنت کے راستہ سے بہکے گا نہ اس سے محروم ہو کر تکلیف اٹھائے گا۔ جس وطن اصلی سے نکل کر آیا تھا، بےکھٹکے پھر وہیں جا پہنچے گا۔
Ayah 20:1246 جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھا ہے، اس کی گزران مکدّر اور تنگ کردی جاتی ہے گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش و عشرت نظر آئیں۔ مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بناء پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے۔ کسی وقت ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوال دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں۔ یورپ کے اکثر متنعّمین کو دیکھ لیجئے کسی کو رات دن میں دو گھنٹے اور کسی خوش قسمت کو تین چار گھنٹے سونا نصیب ہوتا ہوگا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی دنیا کے مخمصوں سے تنگ آکر موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اس نوع کی خود کشی کی بہت مثالیں پائی گئی ہیں۔ نصوص اور تجربہ اس پر شاہد ہیں کہ اس دنیا میں قلبی سکون اور حقیقی اطمینان کسی کو بدون یاد الٰہی کے حاصل نہیں ہوسکتا۔ (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ) 13 ۔ الرعد :28) " لیکن " ذوق این بادہ ندانی بخدا تانہ چشی " بعض مفسرین نے " معیشۃِ ضنک " کے معنی لیے ہیں وہ زندگی جس میں خیر داخل نہ ہو سکے۔ گویا خیر کو اپنے اندر لینے سے تنگ ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ ایک کافر جو دنیا کے نشہ میں بدمست ہے اس کا سارا مال و دولت اور سامان عیش و تنعم آخرکار اس کے حق میں وبال بننے والا ہے۔ جس خوشحالی کا انجام چند روز کے بعد دائمی تباہی ہو۔ اسے خوشحالی کہنا کہاں زیبا ہے بعض مفسرین نے " مَعِیْشَۃً ضَنْکًا " سے قبر کی برزخی زندگی مراد لی ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے اس پر سخت تنگی کا ایک دور آئے گا جبکہ قبر کی زمین بھی اس پر تنگ کردی جائے گی۔ " معیشۃ ضنک " کی تفسیر عذاب قبر سے بعض صحابہ نے کی ہے بلکہ بزار نے باسناد جید ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ بہرحال " معیشۃً ضنکًا " کے تحت میں یہ سب صورتیں داخل ہوسکتی ہیں۔ واللہ اعلم۔
7 یعنی آنکھوں سے اندھا کر کے محشر کی طرف لایا جائے گا۔ اور دل کا بھی اندھا ہوگا کہ کسی حجت کی طرف راستہ نہ پائے گا۔ یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی۔ تاکہ دوزخ وغیرہ احوال محشر کا معائنہ کرے۔
Ayah 20:1258 یعنی جو کافر دنیا میں ظاہری آنکھیں رکھتا تھا تعجب سے سوال کرے گا کہ آخر مجھ سے کیا قصور ہوا جو آنکھیں چھین لی گئیں۔
Ayah 20:1269 یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا، یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا کر کے اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے۔
Ayah 20:12710 یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے مناسب حال سزا دی جائے گی۔
11 اس لیے بڑی حماقت ہوگی کہ یہاں کی تکلیف سے گھبرائیں اور وہاں کے عذاب سے بچنے کی فکر نہ کریں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی یہ عذاب اندھا ہونے کا حشر میں ہے اور دوزخ میں اور زیادہ "
Ayah 20:12812 یعنی آخرت میں جو سزا ملے گی اگر اس پر یقین نہیں آتا تو کیا تاریخی واقعات سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ان ہی مکہ والوں کے آس پاس کتنی قومیں اپنے کفر و طغیان کی بدولت تباہ کی جا چکی ہیں جن کے افسانے لوگوں کی زبان پر باقی ہیں اور جن میں سے بعض کے کھنڈرات پر ملک شام وغیرہ کا سفر کرتے ہوئے خود ان کا گزر بھی ہوتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی یاد تازہ ہوجانا چاہیے کہ کس طرح انہی مکانوں میں چلتے پھرتے ہلاک کردیے گئے۔
Ayah 20:1291 یعنی حق تعالیٰ کی رحمت غضب پر سابق ہے۔ اسی لیے مجرم کو دیر تک اصلاح کا موقع دیتے ہیں اور پوری طرح اتمام حجت کے بدون ہلاک نہیں کرتے۔ بلکہ اس امت کے متعلق تو یہ بھی فرما دیا ہے۔ (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8 ۔ الانفال :33) اور اپنی خاص مہربانی سے عذاب عام مستأصل کو اس امت سے اٹھا لیا ہے۔ یہ بات ہے جو تیرے رب کی طرف سے نکل چکی اگر یہ نہ ہوتی اور ہر ایک مجرم قوم کے عذاب کا ایک خاص وقت مقرر نہ ہوتا تو لازمی طور پر ان کو عذاب آگھیرتا۔ کیونکہ ان کا کفر و شرارت اسی کو مقتضی ہے کہ فوراً ہلاک کردیے جائیں۔ صرف مصالح مذکورہ بالا مانع ہیں جن سے اس قدر توقف ہو رہا ہے۔ آخر قیامت میں عذاب عظیم کا مزا چکھنا پڑے گا۔ اور جب وقت آئے گا تو دنیا میں بھی اس گھمسان کا نمونہ دیکھ لیں گے۔ چناچہ بدر میں مسلمانوں سے مڈ بھیڑ ہوئی تو تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیا۔
Ayah 20:1302 یعنی عذاب اپنے وقت پر ہو کر رہے گا۔ تاخیر و امہال کو دیکھ کر یہ لوگ جو کچھ بکیں بکنے دو ۔ آپ فی الحال ان کی باتوں کو سہتے رہیے اور صبرو سکون سے آخری نتیجہ کا انتظار کیجئے۔ ان کے کلمات کفر پر حد سے زیادہ مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں۔
3 یہ فجر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ یعنی احمقوں اور شریروں کی باتوں پر دھیان نہ کرو۔ صبر و سکون کے ساتھ اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو۔ کیونکہ خدا کی مدد صبرو صلوٰۃ دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔ (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2 ۔ البقرۃ :45)
4 اس میں مغرب و عشاء بلکہ بعض تفاسیر کے موافق نماز تہجد بھی داخل ہے۔
5 یہ ظہر کی نماز ہوئی، کیونکہ اس وقت دن کے نصف اول اور نصف آخر کی حدیں ملتی ہیں۔ بلکہ صحاح و قاموس وغیرہ میں تصریح کی ہے کہ " طرف " طائفۃ من الشئی " یعنی کسی شئے کے حصہ کو کہتے ہیں۔ خاص حد اور کنارہ کے معنی نہیں اس صورت میں نہار کو جنس مان کر ہر دن کا ایک خاص حصہ مراد ہوسکتا ہے، جہاں دن کی تنصیف ہوتی ہے۔
6 یعنی ایسا طرز عمل رکھو گے تو ہمیشہ دنیا و آخرت میں راضی رہو گے۔ اس عمل کا بڑا بھاری اجر ملے گا اور امت کی مدد ہوگی دنیا میں اور بخشش ہوگی آخرت میں آپ کی سفارش سے جسے دیکھ کر آپ خوش ہوں گے۔
Ayah 20:1317 یعنی دنیا میں قسم قسم کے کافروں مثلاً یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوسی وغیرہ کو ہم نے عیش و تنعم کے جو سامان دیے ہیں ان کی طرف آپ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے (جیسے اب تک نہیں دیکھا) یہ محض چند روزہ بہار ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان کا امتحان کرتے ہیں کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے، جو عظیم الشان دولت حق تعالیٰ نے (اے پیغمبر ﷺ آپ کے لیے مقدر کی ہے مثلاً قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحات عظیمہ، رفع ذکر اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب اس کے سامنے ان فانی اور حقیر سامانوں کی کیا حقیقت ہے۔ آپ کے حصہ میں جو دولت آئی وہ ان کی دولتوں سے کہیں بہتر ہے اور بذات خود یا اپنے اثر کے اعتبار سے ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ بہرحال آپ نہ ان کی تکذیب و اعراض سے مضطرب ہوں نہ ان کے سازو سامان اور مال و دولت کی طرف نظر التفات اٹھائیں۔
Ayah 20:1328 یعنی اپنے متعلقین اور اتباع کو بھی نماز کی تاکید فرماتے رہیے۔ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو (عادت ڈالنے کے لیے) نماز پڑھواؤ۔ جب دس برس کا ہو تو مار کر پڑھاؤ۔
9 دنیا میں مالک غلاموں سے روزی کمواتے ہیں۔ وہ مالک بندگی چاہتا ہے اور غلاموں کو روزی آپ دیتا ہے (کذافی الموضح) غرض ہماری نماز سے اس کا کچھ فائدہ نہیں، البتہ ہمارا فائدہ ہے کہ نماز کی برکت سے بےغائلہ روزی ملتی ہے ( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۙ وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) 65 ۔ الطلاق :3-2) اسی لیے اگر فرض نماز اور کسب معاش میں تعارض ہو تو اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتا کہ کسب معاش کے مقابلہ میں نماز ترک کردو۔ نماز بہرحال ادا کرنی ہے۔ روزی پہنچانے والا وہ خدا ہے جس کی نماز پڑھتے ہیں۔ الحاصل کسب معاش کے ان ذرائع کا خدا تعالیٰ نے حکم نہیں دیا جو ادائے فرائض عبودیت میں مخل و مزاحم ہوں۔ انسان کو چاہیے کہ پرہیزگاری اختیار کرے۔ انجام کار دیکھ لے گا کہ خدا کس طرح اس کی مدد کرتا ہے۔
Ayah 20:13310 یعنی کوئی ایسی کھلی نشانی کیوں نہیں دکھلاتے جس کے بعد ہم کو انکار کی گنجائش ہی نہ رہے۔ ورنہ اس روز روز کی تہدید و تخویف سے کیا فائدہ۔
11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگلی کتابوں میں خبر ہے رسول آخر الزماں ﷺ کی۔ یا یہ معنی کہ پہلے پیغمبروں کی نشانی کافی ہے۔ یہ پیغمبر بھی اصولاً ان ہی باتوں کی تقید کرتا ہے کوئی انوکھی بات نہیں کہتا۔ یا یہ نشانی کی اگلی کتابوں کے موافق واقعات بیان کرتا ہے۔ " اور بہترین تفسیر میرے نزدیک وہ ہے جو ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی۔ یعنی یہ لوگ ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ کوئی نشانی کیوں نہیں لایا۔ کیا اور سینکڑوں نشانات کے علاوہ سب سے بڑا عظیم الشان یہ قرآن ان کے پاس نہیں آچکا جو اگلی کتابوں کے ضروری مضامین کا محافظ اور ان کی صداقت کے لیے بطور حجت اور گواہ کے ہے اور جس کا اعجاز آفتاب سے زیادہ روشن ہے (وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 50 اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّذِكْرٰي لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 51 ) 29 ۔ العنکبوت :51-50)
Ayahs 20:134–13512 یعنی ایسا عظیم الشان نشان دیکھنے کے بعد تو کہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہ لایا۔ اور فرض کرو ہم یہ نشان نہ دکھاتے، یعنی قرآن نازل نہ کرتے، بس انزال کتاب اور ارسال رسول سے پہلے ہی کفر و شرک کی سزا میں ان کو دھر گھسیٹتے، تو شور مچاتے کہ صاحب ! سزا دینے سے بیشتر ہمارے پاس کوئی کتاب اور سمجھانے والا تو بھیجنا تھا کہ ہم کو ذلت و رسوائی اٹھانے سے قبل آگاہ کردیتا۔ پھر دیکھتے کہ ہم آپ کے کہنے پر کیسا چلتے۔ غرض قرآن نہ آتا تو یوں کہتے، اب آیا تو اسے چھوڑ کر دوسری من گھڑت نشانیوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا مقصود ہدایت حاصل کرنا ہی نہیں۔ فضول حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ سو خیر ان سے کہہ دو کہ ہم اور تم دونوں انتظار کرتے ہیں کہ عنقریب پردہ غیب سے کیسا مستقبل سامنے آتا ہے۔ اس وقت سب حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ کس جماعت کا راستہ سیدھا ہے ؟ اور کون اس راستہ پر ٹھیک چل رہا ہے ؟ تم سورة طٰہٰ بتوفیقہ وعونہ فلہ الحمد اولاً وآخراً وعلٰی نبیہ الصلوٰۃ والتسلیم وافراً متکاثراً ۔