20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے5

5 یعنی اپنی وحی و رسالت کے لیے تیار کر کے اپنے خواص و مقربین میں داخل کیا اور جس طرح خود چاہا تیری پرورش کرائی۔
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر اور سستی نہ کریو میری یاد میں6

6 یعنی جس کام کے لیے بنائے گئے ہو، وقت آگیا ہے کہ اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لے کر اس کے لیے نکل کھڑے ہو اور جو دلائل و معجزات تم کو دیے گئے ہیں ضرورت کے وقت ظاہر کرو۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) پیشتر دعا کرتے وقت کہہ چکے تھے (كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا 33؀ۙ وَّنَذْكُرَكَ كَثِيْرًا 34؀ۭ ) 20 ۔ طہ :33) یہاں (وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ ) 20 ۔ طہ :42) کہہ کر وہ بات یاد دلا دی۔ یعنی اللہ کے نام کی تبلیغ میں پوری مستعدی دکھلاؤ اور تمام احوال و اوقات میں عموماً اور دعوت تبلیغ کے وقت خصوصاً اللہ کو کثرت سے یاد کرو کہ اہل اللہ کے لیے کامیابی کا بڑا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار یہی ہے۔ حدیث میں ہے۔ " وان عبدی کل عبدی الذی یذکرنی وہومنا جزقرنہ "
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جاؤ طرف فرعون کے اس نے بہت سر اٹھایا7

7 پہلے جانے کا حکم دیا تھا۔ اب مقام بتلا دیا کہ کہاں کس کے پاس جانا ہے اور یہ جملہ آگے آنے والے کلام کی تمہید ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

سو کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے8

8 یعنی دعوت و تبلیغ وعظ و نصیحت کے وقت نرم، آسان، رقت انگیز اور بلند بات کہو۔ گو اس کے تمردو طغیان کو دیکھتے ہوئے قبول کی امید نہیں۔ تاہم تم یہ خیال کر کے کہ ممکن ہے کہ وہ کچھ سوچ سمجھ کر نصیحت حاصل کرلے یا اللہ کے جلال و جبروت کو سن کر ڈر جائے اور فرمانبرداری کی طرف جھک پڑے، گفتگو نرمی سے کرو۔ اس سے دعاۃ و مبلغین کے لیے بہت بڑا دستور العمل معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ صاف ارشاد ہے۔ (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ) 16 ۔ النحل :125)
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

بولے اے رب ہمارے ہم ڈرتے ہیں کہ بھبک پڑے ہم پر یا جوش میں آجائے9

9 یعنی اس کے ڈرنے کی امید تو بعد کو ہوگی، فی الحال اپنی بےسروسامانی اور اس کے جاہ و جلال پر نظر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سننے کے لیے بھی آمادہ ہوگا یا نہیں۔ ممکن ہے ہماری پوری بات سننے سے پہلے ہی وہ بھبک پڑے یا سننے کے بعد غصہ میں بپھر جائے اور تیری شان میں زیادہ گستاخی کرنے لگے۔ یا ہم پر دست درازی کرے جس سے اصل مقصد فوت ہوجائے۔ (تنبیہ) موسیٰ (علیہ السلام) کے اس خوف اور شرح صدر میں کچھ منافات نہیں۔ کاملین بلاء کے نزول سے پہلے ڈرتے ہیں اور استعاذہ کرتے ہیں لیکن جب آپڑتی ہے اس وقت پورے حوصلہ اور کشادہ دلی سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا نہ ڈرو میں ساتھ ہوں تمہارے سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں10

10 یعنی جو باتیں تمہارے اور اس کے درمیان ہوں گی یا جو معاملات پیش آئیں گے وہ سب میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں میں کسی وقت تم سے جدا نہیں، میری حمایت و نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ گھبرانے اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

سو جاؤ اس کے پاس اور کہو ہم دونوں بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور مت ستا ان کو11 ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لے کر تیرے رب کی12

11 اس میں تین چیزوں کی طرف دعوت دی گئی۔ (1) فرعون کا اور سب مخلوقات کا کوئی رب ہے جو رسول بھیجتا ہے (2) ہم دونوں اس کے رسول ہیں لہذا ہماری اطاعت اور رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ گویا اس جملہ میں اصل ایمان کی دعوت دی گئی اس کو " نازعات " میں اس طرح ادا کیا ہے۔ (فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى 18؀ۙ وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى 19؀ۚ ) 79 ۔ النازعات :19-18) آگے (3) تیسری چیز وہ ہے جس کی اس وقت خاص ضرورت تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی ذلت آمیز اور درد انگیز غلامی سے نجات دلانا۔ مطلب یہ ہے کہ اس شریف و نجیب الاصل خاندان پر ظلم و ستم مت توڑ اور ذلیل ترین غلامی سے آزادی دے کر ہمارے ساتھ کر دے۔ جہاں چاہیں آزادانہ زندگی بسر کریں۔ 12 یعنی ہمارا دعویٰ رسالت بےدلیل نہیں بلکہ اپنی صداقت پر خدائی نشان لے کر آئے ہیں۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

اور سلامتی ہو اس کی جو مان لے راہ کی بات ہم کو حکم ملا ہے کہ عذاب اس پر جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے13

13 یعنی جو ہماری بات مان کر سیدھی راہ چلے گا اس کے لیے دونوں جہان میں سلامتی ہے۔ اور جو تکذیب یا اعراض کرے گا اس کے لیے عذاب یقینی ہے۔ خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی۔ اب تم اپنا انجام سوچ کر جو راستہ چاہو اختیار کرلو۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

بولا پھر کون ہے رب تم دونوں کا اے موسیٰ14

14 یعنی تم اپنے کو جس رب کا بھیجا ہوا بتلاتے ہو وہ رب کون ہے اور کیسا ہے (اس سوال سے مترشح ہوتا ہے کہ فرعون دہری عقیدہ کی طرف مائل ہوگا یا محض دق کرنے کے لیے ایسا سوال کیا ہو)
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اس کی صورت پھر راہ سجھائی15

15 یعنی ہر چیز کو اس کی استعداد کے موافق شکل صورت، قویٰ ، خواص وغیرہ عنایت فرمائے۔ اور کمال حکمت سے جیسا بنانا چاہیے تھا بنایا۔ پھر مخلوقات میں سے ہر چیز کے وجود وبقاء کے لیے جن سامانوں کی ضرورت تھی، مہیا کیے اور ہر چیز کو اپنی مادی ساخت اور روحانی قوتوں اور خارجی سامانوں سے کام لینے کی راہ سجھائی۔ پھر ایسا محکم نظام دکھلا کر ہم کو بھی ہدایت کردی کہ مصنوعات کے وجود سے صانع کے وجود پر کسی طرح استدلال کرنا چاہیے فللہ الحمد والمنہ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی کھانے پینے کو ہوش دیا۔ بچہ کو دودھ پینا وہ نہ سکھائے تو کوئی نہ سکھا سکے۔ "
Ayahs 20:51–52

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

بولا پھر کیا حقیقت ہے ان پہلی جماعتوں کی

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا ان کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے1

1 یعنی اگر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسی روشن دلیلیں قائم ہوچکی ہیں اور جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو، وہ حق ہے تو گذشتہ اقوام کے تفصیلی حالات تم کو ضرور معلوم ہونے چائیں یہ سب لایعنی اور دور ازکار قصے فرعون نے اس لیے چھیڑے کہ حضرت موسیٰ کے مضامین ہدایت کو ان فضول باتوں میں رلا دے۔ حضرت موسیٰ نے فرما دیا کہ پیغمبر کو تمام چیزوں کا تفصیلی علم ہونا ضروری نہیں، ہر قوم کے حالات کا تفصیلی علم حق تعالیٰ کو ہے جو بعض مخفی مصالح کی بناء پر کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت بھی کردیا گیا۔ اللہ کے علم سے نہ کوئی چیز ابتداء غائب ہوسکتی ہے اور نہ علم میں آئی ہوئی چیز کو ایک سیکنڈ کے لیے بھول سکتا ہے۔ جو اعمال کسی قوم نے کسی وقت کیے ہیں سب کا ذرہ ذرہ حساب لکھا ہوا موجود ہے جو وقت پر پیش کردیا جائے گا۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ ہے جس نے بنادیا تمہارے واسطے زمین کو بچھونا اور چلائیں تمہارے لئے اس میں راہیں2 اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے طرح طرح کی سبزی3

2 یعنی وادیوں دریاؤں اور پہاڑوں کے بیچ میں سے زمین پر راہیں نکال دیں جن پر چل کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ سکتے ہو۔ 3 یعنی پانی کے ذریعہ سے طرح طرح کی سبزیاں، غلے اور پھل پھول پیدا کردیئے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو4 البتہ اس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو5

4 یعنی عمدہ غذائیں تم کھاتے ہو، جو تمہارے کام کی نہیں وہ اپنے مویشیوں کو کھلاتے ہو جن کی محنت سے ساری پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ 5 یہ فرمایا ہے دہریوں کی آنکھ کھولنے کو یعنی اس کی تدبیریں اور قدرتیں دیکھو۔ اگر عقل ہے تو سمجھ لو گے کہ یہ مضبوط و محکم انتظامات یوں ہی بخت و اتفاق سے قائم نہیں ہوسکتے۔ گویا ان آیات میں وجود باری اور توحید کی طرف توجہ دلائی۔ آگے معاد کا ذکر ہے۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین سے ہم نے تم کو بنایا اور اسی میں تم کو پھر پہنچا دیتے ہیں اور اسی سے نکالیں گے تم کو دوسری بار6

6 سب کے باپ آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ پھر جن غذاؤں سے آدمی کا بدن پرورش پاتا ہے وہ بھی مٹی سے نکلتی ہیں، مرنے کے بعد بھی عام آدمیوں کو جلد یا بدیر مٹی میں مل جانا ہے۔ اسی طرح حشر کے وقت بھی ان اجزاء کو جو مٹی میں مل گئے تھے دوبارہ جمع کر کے از سر نو پیدا کردیا جائے گا اور جو قبروں میں مدفون تھے وہ ان سے باہر نکالے جائیں گے۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو دکھلا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا7

7 یعنی جو آیات اس کو دکھلانا منظور تھیں، سب دکھلادیں مثلاً القائے عصاء اور یدبیضا وغیرہ مع اپنے متعلقات و تفاصیل کے۔ اس پر بھی بدبخت نہ مانا اور حجود و تکذیب پر اڑا رہا۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

بولا کیا تو آیا ہے ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اے موسیٰ8

8 فرعون نے یہ بات اپنی قوم " قبط " کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے نفرت اور اشتعال دلانے کے لیے کہی۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ جادو کے زور سے ہم کو نکال باہر کرے اور ساحرانہ ڈھونگ بنا کر عوام کی جمعیت اپنے ساتھ کرلے اور اس طرح قبطیوں کے تمام املاک و اموال پر قابض ہوجائے۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں ایک ایسا ہی جادو سو ٹھہرالے ہمارے اور اپنے بیچ میں ایک وعدہ نہ ہم خلاف کریں اس کا اور نہ تو ایک میدان صاف میں9

9 یعنی تو اس ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہمارے یہاں بھی بڑے بڑے ماہر جادوگر موجود ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ان سے مقابلہ ہوجائے۔ پس جس دن اور جس جگہ مقابلہ کرنا چاہے تجھے اس کی تعیین کا اختیار دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ جو وقت معین ہوجائے اس سے کوئی فریق گریز نہ کرے اور جگہ ایسی ہو جہاں فریقین کو آنے اور بیٹھنے میں یکساں سہولت حاصل ہو۔ نشست وغیرہ میں راعی و رعایا یا حاکم و محکوم اور بڑے چھوٹے کا کوئی سوال نہ ہو، ہر ایک فریق آزادی سے اپنی قوت کا مظاہرہ کرسکے اور میدان بھی کھلا، ہموار اور صاف ہو کہ تماشا دیکھنے والے سب بےتکلف مشاہدہ کرسکیں۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن اور یہ کہ جمع ہوں لوگ دن چڑھے10

10 پیغمبروں کے کام میں کوئی تلبیس و تلمیع نہیں ہوتی، ان کا معاملہ کھلم کھلا صاف صاف ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہتر ہے جو بڑا میلہ اور جشن تمہارے یہاں ہوتا ہے اسی روز جب دن چڑھ جائے اس وقت میدان مقابلہ قائم ہو۔ یعنی میلہ میں جہاں زیادہ سے زیادہ مخلوق جمع ہوگی اور دن کے اجالے میں یہ کام کیا جائے، تاکہ دیکھنے والے بکثرت ہوں اور روز روشن میں کسی کو اشتباہ والتباس نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کی غرض تھی۔ وہ چاہے کہ ان کو ہرا دے سب کے روبرو، یہ چاہیں کہ وہ ہارے۔ جشن کا دن سارے مصر کے شہروں میں مقرر تھا فرعون کی سالگرہ کا۔ "
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا فرعون پھر جمع کئے اپنے سارے داؤ پھر آیا11

11 یعنی یہ طے کر کے فرعون مجلس سے اٹھ گیا اور ساحروں کو جمع کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کی تدبیریں اور داؤ گھات کرنے لگا۔ اور آخرکار مکمل تیاری کے بعد پوری طاقت کے ساتھ وقت معین پر میدان مقابلہ میں حاضر ہوگیا۔ ساحروں کی بڑی فوج اس کے ہمراہ تھی، انعام و اکرام کے وعدے ہو رہے تھے اور ہر طرح موسیٰ کو شکست دینے اور حق کو مغلوب کرلینے کی فکر تھی۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

کہا ان کو موسیٰ نے کم بختی تمہاری جھوٹ نہ بولو اللہ پر پھر غارت کر دے تم کو کسی آفت سے اور مراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا12

12 معلوم ہوتا ہے کہ اس مجمع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر شخص کو اس کے حسب حال نصیحت فرمائی۔ چونکہ جادوگر حق کا مقابلہ جادو سے کرنے والے تھے، ان کو تنبیہ کردی کہ دیکھو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ خدا کے نشانوں اور انبیاء کے معجزات کو سحر بتلانا اور بےحقیقت کی چیزوں کو ثابت شدہ حقائق کے مقابلہ میں پیش کرنا گویا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ جھوٹ باندھنے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کوئی آسمانی آفت آپڑے۔ جو ان کی بیخ و بنیاد تک نہ چھوڑے۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کیا مشورہ13

13 موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر نے ساحروں کی جماعت میں کھلبلی ڈال دی۔ آپس میں جھگڑنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔ غرض باہم بحث و مناظرہ کرتے رہے اور سب سے الگ ہو کر انہوں نے مشورہ کیا۔ آخر اختلاف و نزاع کے بعد فرعون کے اثر سے متاثر ہو کر وہ کہا جو آگے مذکور ہے۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

بولے مقرر یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ نکال دیں تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور موقوف کرادیں تمہارے اچھے خاصے چلن کو1

1 یعنی تمہارا جو دین اور رسوم پہلے سے چلی آتی ہیں ان کو مٹا کر اپنا دین اور طور و طریق رائج کردیں اور جادو کے فن کو بھی جس سے ملک میں تمہاری عزت اور کمائی ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں بھائی تم سے لے اڑیں اور تن تنہا خود اس پر قابض ہوجائیں۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو مقرر کرلو اپنی تدبیر پھر آؤ قطار باندھ کر اور جیت گیا آج جو غالب رہا2

2 یعنی موقع کی اہمیت کو سمجھو، وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دو ، پوری ہمت وقوت سے سب مل کر ان کے گرانے کی تدبیر کرو۔ اور دفعتاً ایسا متفقہ حملہ کردو کہ پہلے ہی وار میں ان کے قدم اکھڑ جائیں کہ آج کا معرکہ فیصلہ کن معرکہ ہے، آج کی کامیابی دائمی کامیابی ہے۔ جو فریق آج غالب رہے گا وہ ہمیشہ کے لیے منصور و مفلح سمجھا جائے گا۔
Ayahs 20:65–66

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ یا تو تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

کہا نہیں تم ڈالو3 پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑ رہی ہیں4

3 موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت بےپروائی سے جواب دیا کہ نہیں، تم پہلے اپنے حوصلے نکال لو اور اپنے کرتب دکھا لو۔ تاکہ باطل کی زور آزمائی کے بعد حق کا غلبہ پوری طرح نمایاں ہو۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔ 4 یعنی ساحرین کی نظر بندی سے موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں خیال ہونے لگا گویا رسیاں اور لاٹھیاں سانپوں کی طرح دوڑ رہی ہیں، اور واقعہ میں ایسا نہ تھا۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسیٰ5

5 کہ جادو گروں کا یہ سوانگ دیکھ کر کہیں بیوقوف لوگ دھوکہ میں نہ پڑجائیں اور سحر و معجزہ میں فرق نہ کرسکیں۔ ایسی صورت میں حق کا غلبہ واضح نہ ہوگا۔ خوف کا یہ مطلب آگے جواب سے ظاہر ہوتا ہے۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا تو مت ڈر مقرر تو ہی رہے گا غالب6

6 یعنی ڈر کو دل سے نکال دو ۔ اس قسم کے وسوسے مت لاؤ۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور سربلند رکھنے والا ہے۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جائے جو کچھ انہوں نے بنایا7 انکا بنایا ہوا تو فریب ہے جادوگر کا اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو8

7 یعنی اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دو جو ان کے بنائے ہوئے سوانگ کا ایک دم لقمہ کر جائے گی۔ 8 یعنی جادوگر کے ڈھکوسلے چاہے کہیں ہوں اور کسی حد تک پہنچ جائیں، حق کے مقابل کامیاب نہیں ہوسکتے نہ جادوگر کبھی فلاح پاسکتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ساحر کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پھر گرپڑے جادوگر سجدہ میں بولے ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسیٰ کے9

9 ساحرین فن کے جاننے والے تھے۔ اصول فن کے اعتبار سے فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں ہوسکتا یقینا سحر سے اوپر کوئی اور حقیقت ہے، دل میں ایمان آیا اور سجدہ میں گرپڑے۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

بولا فرعون تم نے اس کو مان لیا میں نے ابھی حکم نہ دیا تھا وہ ہی تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھایا جادو10 سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں11 اور سولی دوں گا تم کو کھجور کے تنہ پر12 اور جان لو گے ہم میں کس کا عذاب سخت ہے اور دیر تک رہنے والاف 13

10 یعنی ہم سے بےپوچھے ہی ایمان لے آئے۔ ہمارے فیصلہ کا بھی انتظار نہ کیا۔ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہاری اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے، جنگ زرگری کر کے عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہو جیسا کہ سورة اعراف میں گزرا۔ 11 یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤں، یا بایاں ہاتھ داہنا پاؤں۔ 12 تاکہ تمہارا حال دیکھ کر سب عبرت حاصل کریں۔ 13 یعنی تم ایمان لا کر سمجھے ہو کہ ہم ہی ناجی ہیں اور دوسرے لوگ (یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) سب ابدی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ سو ابھی تم کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے۔
Ayahs 20:72–73

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے اس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اس سے جس نے ہم کو پیدا کیا سو تو کر گزر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ بخشے ہم کو ہمارے گناہ اور جو تو نے زبردستی کروایا ہم سے یہ جادو1 اور اللہ بہتر ہے اور سدا باقی رہنے والاف 2

1 یعنی ہم ایسے صاف دلائل کو تیری خاطر سے نہیں چھوڑ سکتے اور اپنے خالق حقیقی کی خوشنودی کے مقابلہ میں تیری کچھ پروا نہیں کرسکتے۔ اب جو تو کرسکتا ہے کر گزر۔ تیرا بڑا زور یہ ہی چل سکتا ہے کہ ہماری اس فانی زندگی کو ختم کر دے۔ سو کچھ مضائقہ نہیں، ہم پہلے ہی دارالفناء کے مقابلہ میں دارالقرار کو اختیار کرچکے ہیں۔ ہم کو اب یہاں کے رنج و راحت کی فکر نہیں۔ تمنا صرف یہ ہے کہ ہمارا مالک ہم سے راضی ہوجائے اور ہمارے عام گناہوں کو خصوصاً اس گناہ کو جو تیری حکومت کے خوف سے زبردستی کرنا پڑا (یعنی حق کا مقابلہ جادو سے) معاف فرما دے۔ کہتے ہیں کہ جادوگر حضرت موسیٰ کے نشان دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ جادو نہیں۔ مقابلہ نہ کرنا چاہیے، پھر فرعون کے ڈر سے کیا۔ 2 یعنی جو انعام و اکرام تو ہم کو دیتا اس سے کہیں بہتر اور پائدار اجر مومنین کو خدا کے ہاں ملتا ہے۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ جو کوئی آیا اپنے رب کے پاس گناہ لے کر سو اس کے واسطے دوزخ ہے مرے اس میں نہ جیئے3

3 یعنی انسان کو چاہیے کہ اول آخرت کی فکر کرے۔ لوگوں کا مطیع بن کر خدا کا مجرم نہ بنے۔ اس کے مجرم کا ٹھکانہ بہت برا ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ دنیا کی تکلیفیں کتنی ہی شاق ہوں موت آکر سب کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن کافر کو دوزخ میں موت بھی نہیں آئے گی جو تکالیف کا خاتمہ کر دے، اور جینا بھی جینے کی طرح کا نہ ہوگا، زندگی ایسی ہوگی کہ موت کو ہزار درجہ اس پر ترجیح دے گا، العیاذ باللہ۔
Ayahs 20:75–76

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو آیا اس کے پاس ایمان لے کر نیکیاں کر کے سو ان لوگوں کے لئے ہیں درجے بلند

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہا کریں گے ان میں4 اور یہ بدلہ ہے اس کا جو پاک ہوا5

4 مجرمین کے بالمقابل یہ مطیعین کا انجام بیان فرمادیا۔ 5 یعنی پاک ہوا، گندے خیالات، فاسد عقائد، رذیل اخلاق، اور برے اعمال سے۔
Ayahs 20:77–78

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو کہ لے نکل میرے بندوں کو رات سے پھر ڈال دے ان کے لئے سمندر میں راستہ سوکھا نہ خطرہ کر آپکڑنے کا اور نہ ڈر ڈوبنے سے

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر پھر ڈھانپ لیا انکو پانی نے جیسا کہ ڈھانپ لیا6

6 جب فرعونیوں نے میدان مقابلہ میں شکست کھائی، ساحرین مشرف بایمان ہوگئے۔ بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے سالہا سال تک اللہ تعالیٰ کی آیات باہرہ دکھلا کر ہر طرح حجت تمام کردی۔ اس پر بھی فرعون حق کو قبول کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ تب حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ سب بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات کے وقت مصر سے ہجرت کر جاؤ تاکہ اس طرح بنی اسرائیل کی مظلومیت اور غلامی کا خاتمہ ہو۔ راستہ میں سمندر (بحر قلزم) حائل ہوگا لیکن تم جیسے اولوالعزم پیغمبر کے راستہ میں سمندر کی موجیں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ ان ہی کے اندر سے اپنے لیے خشک راستہ نکال لو۔ جس سے گزرتے ہوئے نہ غرق ہونے کا اندیشہ کرو اور نہ اس بات کا کہ شاید دشمن پیچھے سے تعاقب کرتا ہوا آپکڑے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی ہدایت کے موافق سمندر میں لاٹھی ماری جس سے پانی پھٹ کر راستہ نکل آیا۔ خدا نے ہوا کو حکم دیا کہ زمین کو فوراً خشک کر دے۔ چناچہ آناً فاناً سمندر کے بیچ خشک راستہ تیار ہوگیا جس کے دونوں طرف پانی کے پہاڑ کھڑے ہوئے تھے (فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ ) 26 ۔ الشعرآء :63) بنی اسرائیل اس پر سے بےتکلف گزر گئے۔ پیچھے سے فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کو لیے تعاقب کرتا آرہا تھا۔ خشک راستہ دیکھ کر ادھر ہی گھس پڑا۔ جس وقت بنی اسرائیل عبور کر گئے اور فرعونی لشکر راستہ کے بیچوں بیچ پہنچا، خدا تعالیٰ نے سمندر کو ہر طرف سے حکم دیا کہ ان سب کو اپنی آغوش میں لے لے۔ پھر کچھ نہ پوچھو کہ سمندر کی موجوں نے کس طرح ان سب کو ہمیشہ کے لیے ڈھانپ لیا۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا7

7 یعنی دعوے تو زبان سے بہت کیا کرتا تھا۔ ( وَمَآ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ ) 40 ۔ غافر :29) لیکن اس نے اپنی قوم کو کیسا اچھا راستہ بتلایا۔ وہ ہی مثال سچی کردی کہ " ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ " جو حال دنیا میں ہوا تھا وہ ہی آخرت میں ہوگا۔ یہاں سب کو لے کر سمندر میں ڈوبا تھا وہاں سب کو ساتھ لے کر جہنم میں گرے گا۔ (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) 11 ۔ ہود :98)