20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 20:80–81

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے اولاد اسرائیل چھڑالیا ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے اور وعدہ ٹھہرایا تم سے داہنی طرف پہاڑ کی اور اتارا تم پر من اور سلویٰ

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھاؤ سھتری چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور نہ کرو اس میں زیادتی1 پھر تو اترے گا تم پر میرا غصہ اور جس پر اترا میرا غصہ سو وہ پٹکا گیا2

1 یہ حق تعالیٰ بنی اسرائیل کو نصیحت فرماتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تم پر کیسے کیسے احسان و انعام کیے، چاہیے کہ ان کا حق ادا کرو۔ کیا یہ تھوڑی بات ہے کہ ایسے سخت جابر و قاہر دشمن کے ہاتھوں سے تم کو نجات دی اور اس کو کیسے عبرتناک طریقہ سے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا۔ پھر بتوسط حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے وعدہ ٹھہرا کہ مصر سے شام کو جاتے ہوئے کوہ " طور " کا جو مبارک و میمون حصہ داہنے ہاتھ پڑتا ہے وہاں آؤ تم کو " تورات " عطا کی جائے گی۔ " تِیہ " کے لق ودق میدان میں تمہارے کھانے کے لیے من وسلویٰ اتارا گیا (جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے) ان احسانات کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حلال طیب لذیذ اور ستھری چیزیں عنایت فرمائیں ہیں انھیں شوق سے استعمال کرو۔ لیکن اس معاملہ میں حد سے نہ گزرو مثلاً ناشکری یا فضول خرچی کرنے لگو۔ یا اس فانی تنعم پر اترانے لگو۔ یا اس میں سے حقوق واجبہ ادا نہ کرو۔ یا اللہ کی دی ہوئی دولت معاصی میں خرچ کرنے لگو۔ یا جہاں اور جس وقت جوڑ کر رکھنے کی ممانعت ہے وہاں جوڑنے کے پیچھے پڑجاؤ، غرض خدا کی نعمتوں کو طغیان و عصیان کا آلہ نہ بناؤ۔ 2 یعنی زیادتی کرو گے تو اللہ کا غضب تم پر نازل ہوگا اور ذلت و عذاب کے تاریک غاروں میں پٹک دیئے جاؤ گے۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے3

3 مغضوبین کے بالمقابل یہ مغفورین کا بیان ہوا۔ یعنی کتنا ہی بڑا مجرم ہو اگر سچے دل سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے اور اسی پر موت تک مستقیم رہے تو اللہ کے یہاں بخشش اور رحمت کی کمی نہیں۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور کیوں جلدی کی تو نے اپنی قوم سے اے موسیٰ

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

بولا وہ یہ آرہے ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی آیا تیری طرف اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو4

4 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ نہایت اشتیاق کے ساتھ کوہ طور پر پہنچے۔ شاید قوم کے بعض نقباء کو بھی ہمراہ لے جانے کا حکم ہوگا وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ حضرت موسیٰ شوق میں آگے بڑھے چلے گئے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آئے۔ عرض کیا کہ اے پروردگار ! تیری خوشنودی کے لیے جلد حاضر ہوگیا۔ اور قوم بھی کچھ زیادہ دور نہیں یہ میرے پیچھے چلی آرہی ہے۔ کذا فی التفاسیر و یحتمل غیر ذلک واللہ اعلم۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ہم نے تو بچلا دیا تیری قوم کو تیرے پیچھے اور بہکایا ان کو سامری نے5

5 یعنی تم تو ادھر آئے اور ہم نے تیری قوم کو ایک سخت آزمائش میں ڈال دیا، جس کا سبب عالم اسباب میں سامری بنا ہے کیونکہ اس کے اغواء واضلال سے بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت میں بچھڑا پوجنا شروع کردیا تھا۔ جس کا قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (تنبیہ) سامری کا نام بھی بعض کہتے ہیں موسیٰ تھا۔ بعض کے نزدیک یہ اسرائیلی تھا بعض کے نزدیک قبطی۔ بہرحال جمہور کی رائے یہ ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد کا منافق تھا اور منافقین کی طرح فریب اور چالبازی سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔ ابن کثیر کی روایت کے موافق کتب اسرائیلیہ میں اس کا نام ہارون ہے۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پھر الٹا پھرا موسیٰ اپنی قوم کے پاس غصہ میں بھرا پچہتاتا ہوا کہا اے قوم کیا تم سے وعدہ نہ کیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ کیا طویل ہوگئی تم پر مدت یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کا اس لئے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ6

6 یعنی میری اتباع میں تم کو دینی و دنیاوی ہر طرح کی بھلائی پہنچے گی۔ چناچہ بہت سی عظیم الشان بھلائیاں ابھی ابھی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو اور جو باقی ہیں وہ بھی عنقریب ملنے والی ہیں۔ کیا اس وعدہ کو بہت زیادہ مدت گزر گئی تھی کہ تم پچھلے احسانات کو بھول گئے اور اگلے انعامات کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہو ؟ یا جان بوجھ کر تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟ اور دین توحید پر قائم نہ رہ کر خدا کا غضب مول لیا (کذا فسرہ ابن کثیر (رح) ) یا یہ مطلب لیا جائے کہ تم سے حق تعالیٰ نے تیس چالیس روز کا وعدہ کیا تھا کہ اتنی مدت موسیٰ (علیہ السلام) " طور " پر معتکف رہیں گے، تب تورات شریف ملے گی۔ تو کیا بہت زیادہ مدت گزر گئی کہ تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے ؟ اور گوسالہ پرستی اختیار کرلی، یا عمداً یہ حرکت کی ہے تاکہ غضب الٰہی کے مستحق بنو۔ اور " اَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ " سے مراد وہ وعدہ ہے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا کہ آپ ہم کو خدا کی کتاب لا دیجئے ہم اسی پر عمل کیا کریں گے۔ اور آپ کے اتباع پر مستقیم رہیں گے۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے لیکن اٹھوایا ہم نے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا پھر اس طرح ڈھالا سامری نے7

7 یعنی ہم نے اپنے اختیار سے از خود ایسا نہیں کیا، یہ حرکت ہم سے سامری نے کرائی۔ صورت یہ ہوئی کہ قوم فرعون کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اسے کیا کریں۔ وہ ہم نے باہمی مشورہ کے بعد اپنے سے اتار پھینکا۔ اس کو آگ میں پگھلا کر سامری نے ڈھال لیا اور بچھڑے کی صورت بنا کر کھڑی کردی۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے وہاں اس کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ (تنبیہ) قوم فرعون کے یہ زیورات کس طرح بنی اسرائیل کے ہاتھ آئے تھے ؟ یا ان سے مستعار لیے تھے۔ یا مال غنیمت کے طور پر ملے یا اور کوئی صورت ہوئی۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ کوئی صورت بھی ہو، بنی اسرائیل ان کا استعمال اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے تھے، لیکن غضب ہے کہ اس کا بت بنا کر پوجنا جائز سمجھا۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر بنا نکالا ان کے واسطے ایک بچھڑا ایک دھڑ جس میں آواز گائے کی پھر کہنے لگے یہ معبود ہے تمہارا اور معبود ہے موسیٰ کا سو وہ بھول گیا8

8 یعنی موسیٰ سے بھول ہوئی کہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے طور پر گئے۔ خدا تو یہاں موجود ہے۔ یعنی یہ ہی بچھڑا العیاذ باللہ۔ شاید یہ قول ان میں سے سخت غالیوں کا ہوگا۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ جواب تک نہیں دیتا ان کو کسی بات کا اور اختیار نہیں رکھتا ان کے برے کا اور بھلے کا1

1 یعنی اندھوں کو اتنی موٹی بات بھی نہیں سوجھتی کہ جو مورتی نہ کسی سے بات کرسکے نہ کسی کو ادنیٰ ترین نفع نقصان پہنچانے کا اختیار رکھے، وہ معبود یا خدا کس طرح بن سکتی ہے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور کہا تھا ان کو ہارون نے پہلے سے اے قوم بات یہی ہے کہ تم بہک گئے اس بچھڑے سے اور تمہارا رب تو رحمان ہے سو میری راہ چلو اور مانو بات میری2

2 یعنی حضرت ہارون نرمی سے زبانی فہمائش کرچکے تھے کہ جس بچھڑے پر تم مفتون ہو رہے ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ تمہارا پروردگار اکیلا رحمان ہے۔ جس نے اب تک خیال کرو کس قدر رحمتوں کی بارش تم پر کی ہے۔ اسے چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو۔ میں موسیٰ کا جانشین ہوں اور خود نبی ہوں اگر اپنا بھلا چاہتے ہو تو لازم ہے کہ میری راہ چلو اور میری بات مانو۔ سامری کے اغواء میں مت آؤ۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

بولے ہم برابر اسی پر لگے بیٹھے رہیں گے جب تک لوٹ کر آئے ہمارے پاس موسیٰ3

3 یعنی موسیٰ کے واپس آنے تک تو ہم اس سے ٹلتے نہیں ان کے آنے پر دیکھا جائے گا جو کچھ مناسب معلوم ہوگا کریں گے۔
Ayahs 20:92–93

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اے ہارون کس چیز نے روکا تجھ کو جب دیکھا تھا تو نے کہ وہ بہک گئے

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے رد کیا میرا حکم4

4 یعنی تم کو اپنا خلیفہ بنا کر اور حکم کر کے گیا تھا کہ میری غیبت میں ان کی اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔ پھر تم نے کیا اصلاح کی ؟ کیوں اپنے موافقین کو ساتھ لے کر ان گوسالہ پرستوں کا سختی سے مقابلہ نہ کیا ؟ اگر یہ نہ ہوسکتا تھا تو ان سے منقطع ہو کر میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے ؟ غرض تم نے ایسی صریح گمراہی کو دیکھ کر میرے طریق کار کی پیروی کیوں نہیں کی ؟
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

وہ بولا اے میری ماں کے جنے نہ پکڑ میری داڑھی اور نہ سر5 میں ڈرا کہ تو کہے گا پھوٹ ڈال دی تو نے بنی اسرائیل میں اور یاد نہ رکھی میری بات6

5 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرط جوش میں ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے تھے۔ اس کی مفصل بحث سورة اعراف کے فوائد میں گزر چکی۔ 6 یعنی میری سمجھ میں یہ ہی آیا کہ تمہارے آنے کا انتظار کرنا اس سے بہتر ہے کہ تمہارے پیچھے کوئی ایسا کام کروں جس سے بنی اسرائیل میں پھوٹ پڑجائے۔ کیونکہ ظاہر ہے اگر مقابلہ یا انقطاع ہوتا تو کچھ لوگ میرے ساتھ ہوتے اور بہت سے مخالف رہتے۔ مجھے ڈر ہوا کہ تم آکر یہ الزام نہ دو کہ میرا انتظار کیوں نہ کیا ؟ اور قوم میں ایسا تفرقہ کیوں ڈال دیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " چلتے وقت موسیٰ ہارون کو نصیحت کر گئے تھے کہ سب کو متفق رکھیو۔ اس لیے انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ نہ کیا۔ زبان سے البتہ سمجھایا وہ نہ سمجھے " بلکہ ان کے قتل پر تیار ہونے لگے " وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ "
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے اب تیری کیا حقیقت ہے اے سامری7

7 ادھر سے فارغ ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ اب تو اپنی حقیقت بیان کر۔ یہ حرکت تو نے کس وجہ سے کی ؟ اور کیا اسباب پیش آئے کہ بنی اسرائیل تیری طرف جھک پڑے۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

بولا میں نے دیکھ لیا جو اوروں نے نہ دیکھا پھر بھر لی میں نے ایک مٹھی پاؤں کے نیچے سے اس بھیجے ہوئے کے پھر میں نے وہی ڈال دی اور یہی صلاح دی مجھ کو میرے جی نے8

8 سامری نے کہا کہ مجھ کو ایک ایسی چیز نظر پڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی تھی۔ یعنی خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ (جبرائیل) کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ شاید یہ اس وقت ہوا ہو جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر گھسا اس حالت میں جبرائیل دونوں جماعتوں کے درمیان میں کھڑے ہوگئے تاکہ ایک کو دوسرے سے ملنے نہ دیں۔ بہرحال سامری نے کسی محسوس دلیل سے یا وجدان سے یا کسی قسم کے تعارف سابق کی بناء پر سمجھ لیا کہ یہ جبرائیل ہیں ان کے پاؤں یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھالی۔ وہ ہی اب سونے کے بچھڑے میں ڈال دی۔ کیونکہ اس کے جی میں یہ بات آئی کہ روح القدس کی خاک پا میں یقینا کوئی خاص تاثیر ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " سونا تھا کافروں کا مال لیا ہوا فریب سے، اس میں مٹی پڑی برکت کی، حق اور باطل مل کر ایک کرشمہ بن گیا کہ جاندار کی طرح کی روح اور آواز اس میں ہوگئی۔ " ایسی چیزوں سے بہت بچنا چاہیے۔ اسی سے بت پرستی بڑھتی ہے۔ (تنبیہ) آیت کی جو تفسیر اوپر بیان ہوئی، صحابہ وتابعین اور علمائے مفسرین سے یہ ہی منقول ہے۔ بعض زائغین نے اس پر جو طعن کیے ہیں اور آیت کی دور از صواب تاویلیں کی ہیں، ان کا کافی جواب صاحب روح المعانی نے دیا ہے۔ یہاں اس قدر بسط کا موقع نہیں۔ من شآء فلیراجعہ۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے دور ہو تیرے لئے زندگی بھر تو اتنی سزا ہے کہ کہا کرے مت چھیڑو9 اور تیرے واسطے ایک وعدہ ہے وہ ہرگز تجھ سے خلاف نہ ہوگا10 اور دیکھ اپنے معبود کو جس پر تمام دن تو معتکف رہتا تھا ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے دریا میں اڑا کر11

9 یعنی مجھے ہاتھ مت لگاؤ مجھ سے علیحدہ رہو، چونکہ اس نے بچھڑا کا ڈھونگ بنایا تھا حُبِ جاہ و ریاست سے کہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے، جو قریب جائے وہ خوددور رہنے کی ہدایت کر دے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔ 10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " دنیا میں اس کو یہ ہی سزا ملی کہ لشکر بنی اسرائیل سے باہر الگ رہتا۔ اگر وہ کسی سے ملتا یا کوئی اس سے تو دونوں کو تپ چڑھتی، اسی لیے لوگوں کو دور دور کرتا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ایک وعدہ ہے جو خلاف نہ ہوگا۔ شاید مراد عذاب آخرت ہے اور شاید دجال کا نکلنا، وہ بھی یہود میں سامری کے فساد کی تکمیل کرے گا۔ جیسے ہمارے پیغمبر مال بانٹتے ہیں، ایک شخص نے کہا انصاف سے بانٹو۔ فرمایا " اس کی جنس کے لوگ نکلیں گے " وہ خارجی نکلے کہ اپنے پیشواؤں پر لگے اعتراض پکڑنے، جو کوئی دین کے پیشواؤں پر طعن کرے ایسا ہی ہے۔ " 11 یعنی تیری سزا تو یہ ہوئی۔ اب تیرے جھوٹے معبود کی قلعی بھی کھولے دیتا ہوں۔ جس بچھڑے کو تو نے خدا بنایا اور دن بھر وہاں دل جمائے بیٹھا رہتا تھا، ابھی تیری آنکھوں کے سامنے توڑ پھوڑ کر اور جلا کر راکھ کر دوں گا۔ پھر راکھ کو دریا میں بہادوں گا۔ تاکہ اس کے پجاریوں کو خوب واضح ہوجائے کہ وہ دوسروں کو تو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا، خود اپنے وجود کی بھی حفاظت نہیں کرسکتا۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں سب چیز سما گئی ہے اس کے علم میں1

1 باطل کو مٹانے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو حق کی طرف بلاتے جاتے ہیں یعنی بچھڑا تو کیا چیز ہے کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی معبود نہیں بن سکتی، سچا معبود تو وہ ہی ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی عقلاً و نقلاً و فطرۃً روا نہیں اور جس کا لامحدود علم ذرہ ذرہ کو محیط ہے۔
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

یوں سناتے ہیں ہم تجھ کو ان کے احوال جو پہلے گزر چکے2 اور ہم نے دی تجھ کو اپنے پاس سے پڑھنے کی کتاب3

2 یعنی موسیٰ و فرعون کی طرح اور بہت سی گذشتہ اقوام کے واقعات ہم تجھ کو اور تیرے ذریعہ سے تمام دنیا کو سناتے رہتے ہیں جس میں بہت سے فوائد ہیں مثلاً علم کی توقیر، معجزات کی تکثیر، پیغمبر اور مسلمانوں کی تسلی، عقلمندوں کے لیے عبرت و تذکیر اور معاندین کے حق میں تہدید و ترہیب کا سامان ہوتا ہے۔ 3 یعنی قرآن کریم جو ان عبرت آموز واقعات و حقائق پر مشتمل ہے۔
Ayahs 20:100–101

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی منہ پھیر لے اس سے سو وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

سدا رہیں گے اس میں اور برا ہے ان پر قیامت میں وہ بوجھ اٹھانے کا4

4 یعنی اعراض و تکذیب سے جو گناہوں کا بوجھ قیامت کے دن ان پر لادا جائے گا، کبھی ہلکا نہ ہوگا۔ ہمیشہ اس کے نیچے دبے رہیں گے پھر اس کا اٹھانا کوئی ہنسی کھیل نہیں جب اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ کیسے برے اور سخت بوجھ کے نیچے دبائے گئے ہیں۔
Ayah 20:102

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن پھونکیں گے صور میں اور گھیر لائیں گے ہم گناہ گاروں کو اس دن نیلی آنکھیں5

5 یعنی محشر میں لائے جانے کے وقت اندھے ہوں گے۔ یا شاید یوں ہی آنکھیں نیلی ہوں بدنمائی کے واسطے، بہرحال اگر پہلے معنی لیے جائیں تو یہ ایک خاص وقت کا ذکر ہے۔ پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی تاکہ دوزخ وغیرہ کو دیکھ سکیں۔ (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا) 18 ۔ الکہف :53) (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) 19 ۔ مریم :38)
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

چپکے چپکے کہتے ہوں گے آپس میں تم نہیں رہے مگر دس دن6

6 یعنی آخرت کا طول اور وہاں کے ہولناک احوال کی شدت کو دیکھ کر دنیا میں یا قبر میں رہنا اتنا کم نظر آئے گا کہ گویا ہفتہ عشرہ سے زیادہ نہیں رہے۔ بڑی جلدی دنیا ختم ہوگئی۔ یہاں کے مزے اور لمبی چوڑی امیدیں سب بھول جائیں گے۔ بیہودہ عمر ضائع کرنے پر ندامت ہوگی۔ یا شاید معذرت کے طور پر ایسا کہیں گے۔ یعنی دنیا میں بہت ہی کم ٹھہرنا ہوا۔ موقع نہ ملا کہ آخرت کے لیے کچھ سامان کرے جیسے دوسری جگہ فرمایا (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ ) 30 ۔ الروم :55)
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم کو خوب معلوم ہے جو کچھ کہتے ہیں7 جب بولے گا ان میں اچھی راہ روش والا تم نہیں رہے مگر ایک دن8

7 یعنی چپکے کہنا ہم سے نہیں چھپتا۔ وہ آپس میں جو سرگوشیاں کریں گے ہم کو خوب معلوم ہیں۔ 8 یعنی جو ان میں زیادہ عقلمند، صاحب الرائے اور ہوشیار ہوگا وہ کہے گا کہ یہاں دس دن بھی کہاں ؟ صرف ایک ہی دن سمجھو۔ اس کو زیادہ عقلمند اور اچھی راہ روش والا اس لیے فرمایا کہ دنیا کے زوال و فنا اور آخرت کی بقاء و دوام اور شدت ہول کو اس نے دوسروں سے زیادہ سمجھا۔
Ayahs 20:105–107

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال سو تو کہہ ان کو بکھیر دے گا میرا رب اڑا کر

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

نہ دیکھے گا تو اس میں موڑ اور نہ ٹیلا9

9 یعنی قیامت کے ذکر پر منکرین حشر استہزاءً کہتے ہیں کہ ایسے ایسے سخت اور عظیم الشان پہاڑوں کا کیا حشر ہوگا ؟ کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ؟ اس کا جواب دیا کہ حق تعالیٰ کی لامحدود قدرت کے سامنے پہاڑوں کی کیا حقیقت ہے ان سب کو ذرا سی دیر میں کوٹ پیس کر ریت کے ذرات اور دھنی ہوئی روئی کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف و ہموار کردی جائے گی جس میں کچھ ایچ پیچ اور اونچ نیچ نہ رہے گی، پہاڑوں کی رکاوٹیں ایک دم میں صاف کردی جائیں گی۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن پیچھے دوڑیں گے پکارنے والے کے ٹیڑھی نہیں جس کی بات10 اور دب جائیں گی آوازیں رحمان کے ڈر سے پھر تو نہ سنے گا مگر کھس کھسی آواز11

10 یعنی جدھر فرشتہ آواز دے گا یا جہاں بلائے جائیں گے سیدھے تیر کی طرح ادھر دوڑے جائیں گے۔ نہ بلانے والے کی بات ٹیڑھی ہوگی اور نہ دوڑنے والوں میں کچھ ٹیڑھا ترچھا پن رہے گا۔ کاش یہ لوگ دنیا میں اللہ کے داعی کی آواز پر اسی طرح سیدھے جھپٹتے تو وہاں کام آتا۔ پر یہاں اپنی بدبختی اور کجروی سے ہمیشہ ٹیڑھی چال چلتے رہے۔ 11 یعنی محشر کی طرف چلنے کی کھسکھساہٹ کے سوا اس وقت رحمان کے خوف وہیبت کے مارے کسی کی آواز نہ سنائی دے گی، اگر کوئی کچھ کہے گا بھی تو اس قدر آہستہ جیسے کانا پھوسی کرتے ہوں۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کام نہ آئے گی سفارش مگر جس کو اجازت دی رحمان نے اور پسند کی اس کی بات12

12 یعنی اس کی سفارش چلے گی جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سفارش کی اجازت ملے۔ اس کا بولنا خدا کو پسند ہو اور بات ٹھکانے کی کہے اور ایسے شخص کی سفارش کرے جس کی بات (لا الہ الا اللہ) خدا کو پسند آچکی ہے کافر کے حق میں کوئی سعی سفارش نہیں چلے گی۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ہے ان کے آگے اور پیچھے اور یہ قابو میں نہیں لاسکتے اس کو دریافت کر کے1

1 یعنی خدا کا علم سب کو محیط ہے لیکن بندوں کا علم اس کو یا اس کی معلومات کو محیط نہیں۔ اس لیے وہ ہی اپنے علم محیط سے جانتا ہے کہ کس کو کس کے لیے شفاعت کا موقع دینا چاہیے۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور رگڑتے ہیں منہ آگے اس جیسے ہمیشہ رہنے والے کے2 اور خراب ہوا جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا3

2 یعنی اس روز بڑے بڑے سرکش متکبروں کے سر بھی اعلانیہ اسی حیّ و قیّوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے۔ جنہوں نے کبھی خدا کے آگے پیشانی نہ ٹیکی تھی اس وقت بڑی عاجزی سے گردن جھکائے چلے آئیں گے۔ 3 یعنی ظالم کا حال کچھ نہ پوچھو کیسا خراب ہوگا۔ ظلم کے لفظ میں شرک اور دوسرے معاصی بھی داخل ہیں۔ جیسے فرمایا ( ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31 ۔ لقمان :13) اور ( وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :135) ہر ایک ظالم کی خرابی اس کے درجہ ظلم کے موافق ہوگی۔
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو کوئی کرے کچھ بھلائیاں اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو سو اس کو ڈر نہیں بےانصافی کا اور نہ نقصان پہنچنے کا4

4 بےانصافی یہ کہ کوئی نیکی ضائع کردی جائے یا ناکردہ گناہ پکڑا جائے۔ اور نقصان پہنچنا یہ کہ استحقاق سے کم بدلہ دیا جائے۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہم نے قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر کر سنائی ہم نے اس میں ڈرانے کی باتیں تاکہ وہ پرہیز کریں یا ڈالے ان کے دل میں سوچ5

5 یعنی جیسے یہاں محشر کے احوال اور نیک و بد کے نتائج صاف صاف سنا دیے۔ اسی طرح ہم نے پورا قرآن صاف زبان عربی میں نازل کیا تھا جو لوگ اس کے اولین مخاطب ہیں اس کو پڑھ کر خدا سے ڈریں۔ اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں، اور اتنا نہ ہو تو کم ازکم ان کے دلوں میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ سوچ تو پیدا ہوجائے۔ ممکن ہے یہ ہی سوچ اور غور و فکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے اور ان کے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت ہو۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

سو بلند درجہ اللہ کا اس سچے بادشاہ کا6 اور تو جلدی نہ کر قرآن کے لینے میں جب تک پورا نہ ہوچکے اس کا اترنا اور کہہ اے رب زیادہ کر میری سمجھ7

6 جس نے ایسا عظیم الشان قرآن اتارا، اور اپنی رعایا کو ایسی سچی اور کھری باتیں ان کے فائدہ کے لیے سنائیں۔ 7 یعنی جب قرآن ایسی مفید و عجیب چیز ہے تو جس طرح ہم اس کو بتدریج آہستہ آہستہ اتارتے ہیں، تم بھی اس کو جبرائیل سے لینے میں جلدی نہ کیا کرو۔ جس وقت فرشتہ وحی پڑھ کر سنائے، تم عجلت کر کے اس کے ساتھ ساتھ نہ پڑھو۔ ہم ذمہ لے چکے ہیں کہ قرآن تمہارے سینے سے نکلنے نہ پائے گا۔ پھر اس فکر میں کیوں پڑتے ہو کہ کہیں بھول نہ جاؤں اس فکر کے بجائے یوں دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرمائے۔ دیکھو آدم نے ایک چیز میں بےموقع تعجیل کی تھی اس کا انجام کیا ہوا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جبرائیل جب قرآن لاتے تو حضرت محمد ﷺ ان کے پڑھنے کے ساتھ آپ بھی پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاؤں، اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورة قیامۃ میں (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه ٗ 17؀ښ) 75 ۔ القیامہ :16) اور تسلی کردی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ہمارے ذمہ ہے۔ لیکن بندہ بشر ہے، شاید بھول گئے ہوں اس لیے پھر اس آیت سے تقید کیا اور بھولنے پر آگے مثل بیان فرمائی آدم کی۔ "
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید کردی تھی آدم کو اس سے پہلے پھر بھول گیا اور نہ پائی ہم نے اس میں کچھ ہمت8

8 وہ ہی جو دانہ کھالیا تھا۔ بھول گئے، یعنی قائم نہ رہے، آگے اس قصہ کی قدرے تفصیل ہے۔
Ayahs 20:116–117

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گرپڑے مگر نہ مانا ابلیس نے

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر کہہ دیا ہم نے اے آدم یہ دشمن تیرا ہے اور تیرے جوڑے کا سو نکلوا نہ دے تم کو بہشت سے پھر تو پڑجائے تکلیف میں9

9 ظاہر ہے بہشت کا آرام دوسری جگہ کہاں مل سکتا ہے۔ آخر کھانے پہننے، رہنے سہنے کی تدبیریں کرنی پڑیں گی۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

تجھ کو یہ ملا ہے کہ نہ بھوکا ہو تو اس میں اور نہ ننگا

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاس کھینچے تو اس میں اور نہ دھوپ10

10 انسان کی یہ ہی بڑی ضرورتیں ہیں، کھانا، پینا، پہننا اور رہنے کے لیے مکان جس میں دھوپ بارش کا بچاؤ ہو۔ جنت میں اس طرح کی کوئی تکلیف نہیں۔ ہر طرح راحت ہی راحت ہے۔ " بہشت آنجا کہ آزارے نباشد " یہاں راحت کا ذکر نہیں کیا۔ صرف تکلیفوں کی نفی کی شاید متنبہ کرنے کے لیے کہ یہاں سے نکلے تو ان سب چیزوں کی تکلیف اٹھاؤ گے۔