53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 53:52

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور اس سے قبل بھی قوم نوح کو (ہلاک کیا) کہ وہ بڑے ظالم (مشرک) اور سرکش (لوگ) تھے

اس سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا کہ وہ بڑے سرکش لوگ تھے 52 ؎ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے و رسول ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا۔ نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم کی تقریباً 28 سورتوں میں آیا ہے یعنی سورة آل عمران ‘ سورة النساء ‘ سورة الانعام ‘ سورة الاعراف ‘ سورة التوبہ ‘ سورة یونس ‘ سورة ہود ‘ سورة ابراہیم ‘ سورة الاسراء ‘ سورة مریم ‘ سورة الانبیاء ‘ سورة الحج ‘ سورة المومنون ‘ سورة الفرقان ‘ سورة الشعراء ‘ سورة العنکبوت ‘ سورة الاحزاب ‘ سورة الصافات ‘ سورة ص ‘ سورة غافر ‘ سورة الشوریٰ ‘ سورة ق ‘ سورة الذاریات ‘ سورة النجم ‘ سورة القمر ‘ سورة الحدید ‘ سورة التحریم اور سورة نوح۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے تمام قوم اللہ تعالیٰ کی توحید اور صحیح روشنی سے یکسر نا آشنا ہوچکی تھی۔ اور ایک اللہ رب کریم کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی۔ غیر اللہ کی پرستش کا سلسلہ عام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی رشد و ہدایت کے لئے ان ہی میں سے ایک رسول نوح (علیہ السلام) کو ہادی و راہنما بنا کر بھیج دیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف پطکارا اور سچے مذہب کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے نہ مانا اور نفرت و حقارت کے ساتھ انکار پر اصرار کیا۔ امراء و رئوسائے قومنی ان کی تکذیب و تحقیر کی۔ وہ غریب اور نادار افراد کو جب نوح (علیہ السلام) کا تابع فرمان دیکھتے تو نہایت مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے : ” ہم ان کی طرح نہیں ہیں کہ تیرے تابع فرمان بن جائیں اور تجھ کو اپنا مقتدا مان لیں “ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کمزور اور پست لوگ نوح (علیہ السلام) کے اندھے مقلد ہیں ‘ پھر نہ تو یہ لوگ ذی رائے ہیں کہ ہماری طرح اپنی جانچی ‘ پرکھی رائے سے کام لیتے اور نہ ہی ڈی شعور لوگ ہیں کہ حقیقت حال کو سمجھ لیتے اور اگر وہ نوح (علیہ السلام) کی بات کی طرف کبھی توجہ بھی دیتے تو ان سے اصرار کرتے کہ پہلے ان پست اور غریب افراد قوم کو اپنے پاس سے نکال دے تب ہم تیری بات سنیں گے کیونکہ ہم کو ان سے گھن آتی ہے اور ہم ان کے ساتھ مل کر ایک مجلس میں نہیں بیٹھ سکتے۔ نوح (علیہ السلام) ان کو کہتے کہ یہ بھی انسان ہیں میں یہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اللہ کے مخلص بندے ہیں۔ تم یہ بات کان کھول کر سن لو کہ اللہ رب کریم کی سعادت و خیر کا قانون ظاہری دولت و حشمت کے تابع نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ہاں سعادت وہدایت کا ہصول و ادراک سرمایہ کی رونق کے زیر اثر ہے بلکہ اس کے برعکس طمانیت نفس ‘ رضا الٰہی ‘ غناء قلب اور اخلاص نیت و عمل پر موقوف ہے۔ نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اور نہ ہی جاہ و منصب کی ‘ نہ میں کسی اجرت کا طلبگار ہوں۔ مختصر یہ کہ نوح (علیہ السلام) نے انتہائی کوشش کی کہ بدبخت قوم سمجھ جائے لیکن قوم نے نوح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور جس قدر نوح (علیہ السلام) کی جانب سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی اسی قدر قوم کی جانب سے نغض وعناد میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذا رسانی اور تکلیف دہی کے تمام وسائل کا استعمال کیا گیا اور ان کے بڑوں نے عوام سے صاف صاف کہہ دیا کہ تم کسی طرح دو ‘ سواع ‘ یغوث ‘ اور نسر جیسے بزرگوں کے بتوں کی پرستش نہ چھوڑو بلکہ ان پر قائم رہو اور نوح (علیہ السلام) کو تو کسی کی مار لگ گئی ہے اس لئے وہ پاگل ہوگیا ہے۔ تب ہی اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ بہرحال یہ بات ایک مدت اسی طرح ہوتی رہی اور قوم کے وڈیروں نے نوح (علیہ السلام) کا ناطقہ بند کردیا اور اس کا انجامیہ ہوا کہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ آپ ایک بہت بڑی کشتی تیار کریں ہم آسمان کو کہیں گے وہ برسنا شروع ہوجائے گا اور زمین سے کہیں گے تو اس سے چشمے ابلنے لگیں گے اور صرف وہی لوگ بچیں گے جو تیری کشتی میں سوار ہوں گے۔ اس پیش گوئی کے مطابق نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانا شروع کی۔ قوم کے لوگ اس کیتت کا بہت مذاق اڑاتے رہے بہرحال وہ وقت بھی آگیا کہ آسمان نے برسنا شروع کردیا اور زمین سے چشمے ابلنے لگے۔ نوح (علیہ السلام) نے صدائے عام دی کہ آئو کشتی میں سوار ہو جائو لیکن نوح پر ایمان لانے والوں کے سوا کوئی شخص بھی کشتی کے قریب نہ گیا۔ نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانی والے لوگ اور وقتی ضرورت کی اشیاء اور جانور سب کے سب نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے سوار کر لئے اور پانی کا یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ نوح (علیہ السلام) کی اس کشتی کے سوا باقی ساری مخلوق جو اس علاقے میں تھی تباہ و برباد ہوگئی اور نوح (علیہ السلام) کے مخالفین میں سے ایک بھی باقی رہا یہاں تک کہ آپ کا بیٹا جو کشتی پر سوار نہ ہوا اور وہ بھی جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر سوار نہ ہوا لہٰذا وہ بھی قوم کے ساتھ ہی غرق ہو کر رہ گیا۔ تفصیل ” نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت “ میں ملے گی جو غزوہ الوثقیٰ ‘ جلد چہارم میں سورة ہود کی آیت 49 کے بعد درج کی گئی ہے۔ زیر نظر آیت میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کے ظلم اور سرکشی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور (اس نے) بستیوں کو الٹا کر رکھ دیا

اس نے بستیوں کو الٹا کر کے رکھ دیا جو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تھیں 53 ؎ (الموتفکتہ) اسم فاعل واحد مونث منصوب الموتفکات جمع الٹائی گئی بستیاں ‘ مراد اس سے لوط (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں اور لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کر آئے تھے۔ مصر تک اکٹھے رہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے الگ الگ ہوگئے اور لوط (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے سدوم کی بستیوں کی طرف نبی بنا کر مبعوث کردیا۔ سدوم اردون کی وہ جانب جہاں آج کل بحر میت یا بحر لوط واقع ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم و عا سورة کی بستیاں آباد تھیں اور یہ جگہ جو آج سمندر نظر آتی ہیں کبھی خشک علاقہ تھا جس پر یہ بستیاں آباد تھیں۔ سدوم میں دوسری اخلاقی بیماریوں کے علاوہ ایک اخلاقی بیماری ایسی پھیل گئی جو اس قوم سے پہلے کبھی نہیں پھیلی تھی کہ وہ نفسانی خواہش کے پورا کرنے کے لئے عورتوں کی بجائے امرد لڑکوں کو پسند کرتے تھے اور علاوہ ازیں بھی دنیا کی کوئی برائی ایسی نہ تھی جو ان میں موجود نہ ہو تفصیل اس کی غزوہ الوثقیٰ ‘ جلد چہارم تفسیر سورة ہود کی آیت 83 کے بعد ” لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت “ میں ملے گی۔ اختصار اس کا یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو ان کی بےحیائیوں اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی اور حسن خطابت ‘ لطافت اور نرمی کے ساتھ جو ممکن طریقے سمجھانے کے ہو سکتے تھے ان کو سمجھایا اور موعظمت و نصیحت کی اور گزشتہ اقوام کی بد اعمالیوں کے نتائج وثمرات بتا کر عبرت دلائی مگر ان بدبختوں پر مطلق اثر نہ ہوا بلکہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ ” ہم آپ کو اپنی بستی سے نکال دیں گے اور آپ کے ساتھ ان لوگوں کو بھی جو آپ پر ایمان لائے کہ تم بڑے پاکباز لوگ بنے بیٹھے ہو “ (انھم اناش یعطھرون) ۔ ” یہ لوگ بڑے پاک لوگ ہیں “ قوم لوط کا یہ مذاقیہ فقرہ تھا جو لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کے لئے طنز اور ٹھٹھے کے طور پر انہوں نے استعمال کیا تھا کہ یہ لوگ بڑے پاکباز لوگ ہیں ان کا ہماری بستی میں کیا کام ہے اگر ہم ناپاک ہیں تو یہ پاک لوگوں میں جا کر رہیں۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ ایک مدت تک سلسلہ چلتا رہا اور انجام کار جب ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا اور ابتدائے شب ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے ماننے والوں سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی آخر سب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آندھی اور وہ بھی اتنی زوردار کہ الامان والحفیظ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پتھروں اور کنکروں کی وہ بارش شروع کی جس سے بستیاں ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئیں اور انجام کار ایک ایسا زلزلہ آیا کہ زمین عین ان بستیوں کی جگہ سے شق ہوگئی جس سے نہ بستیاں رہیں اور نہ بستیوں والے اور وہ زمین کے اندر اس طرح گھس گئیں کہ اس کے بعد دیکھنے والوں نے جو دیکھا تو وہ سمندر ہی سمندر نظر آتا تھا اس لئے بعد میں آنے والوں نے اس کا نام بحر میت یا بحر لوط رکھ دیا جو آج تک اسی صورت میں موجود ہے۔
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر اس پر چھا گیا جو کچھ چھا گیا

پس ان پر چھا گیا جو کچھ چھا گیا یعنی عذاب الٰہی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا 54 ؎ جن قوموں اور بستیوں کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان پر چھا گیا جو کچھ چھا گیا یعنی جس طرح کا عذاب جس قوم کے لئے مقرر تھا اس قوم کو اسی طرح کے عذاب نے آ کر گھیر لیا اور ان کے نام و نشان تک اس عذاب نے مٹا کر رکھ دیا۔ اب سوائے اس کے کہ ان کے نام باقی رہ گئے ہیں وہ بھی اس لئے کہ ان کی داستانیں پڑھ ‘ سن کر اگر کوئی اپنی اصلاح چاہتا ہے تو کرلے کیونکہ جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ تو اپنے حساب کو گویا پہنچ گئے اور ان کے ساتھ تو ہوگا جو کچھ ہوگا بعد میں آنے والوں کے پاس وقت ہے اگر وہ اپنی اصلاح کرلیں گے اور عذاب الٰہی سے ڈر جائیں گے تو ان کا فائدہ ہوگا اور اگر انہوں نے وہی روش اختیار کی تو سنت اللہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ کرے گی جو پہلوں کے ساتھ کیا گیا۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

اب (اے انسان ! ) تو اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائے گا

اے انسنا تو ہی بتا کہ تو اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائے گا 55 ؎ (تعماری ) مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو جھگڑا کرے گا۔ تو جھٹلائے گا ۔ تو شک کرے گا۔ تمہاری سے جس کے معنی شک کرنے اور جھگڑنے کے ہیں۔ اس آیت میں ہر اس شخص کو جس نے ان گزشتہ اقوام کے تذکار پڑھے یا سنے ہیں ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ اقوام جن کا ذکر تو نے پڑھایا یا سنا ہے یعنی عاد ‘ ثمود ‘ قوم نوح اور قوم لوط وغیرہ جن کو عذاب الٰہی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ محض اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں شک کیا اور انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) سے وہ جھگڑتے رہے ان کو جو کچھ دیا گیا جس پر وہ اترائے اور پھولے نہ سمائے انہیں یقین ہی نہ آیا کہ ان انعامات سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان کو نوازا ہے بلکہ وہ غیر اللہ ہی کو اپنا داتا اور ان انعامات سے نوازنے والا سمجھتے رہے اور جب ان کے نبیوں اور رسولوں نے ان کو اس غلطی سے بچانے کی کوشش کی تو وہ ان نبیوں اور رسولوں ہی کے خلاف ہوگئے۔ ان کا مذاق اڑایا ‘ ان کو اذیتیں پہنچائین اور اس طرح سے ان کو تنگ کیا لیکن اس طرح جب ان کو دی گئی ڈھیل اور مہلت ختم ہوگئی تو وہ اپنے کئے کی سزا پا گئے اور دوسروں کے لئے ان کو درس عبرت بنا دیا گیا اور سب سننے والوں کو کہا جا رہا ہے کہ اگر تم لوگوں نے بھی وہی روشن اختیار کی تو یاد رکھو کہ تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو ان کی ساتھ ہا۔ اب غور کرو کہ اس وقت ہم کیا کر رہے ہیں ؟ وہی کچھ جو کچھ وہ کرتے رہے تھے بلکہ ان سے بھی ہماری حالت ناگفتہ بہ ہے اور یقین جانئے کہ اس وقت ہم بھی چاروں طرف سے اسی طرح گھر کر رہ گئے ہیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کسی کو یقین آئے یا نہ آئے ہر تعمیر کے لئے تخیرب لازم و ضروری ہے اور تخریب بہرحال جاری ہے۔ اقوام عالم کی تارخ گواہ ہے کہ تخریب ہوتی رہی ہے اور تخریب کے بعد تعمیر بھی ہوئی ہے اور اگر اب تخریب جاری ہے تو اس کا انجام کس طرح ہوگا ؟ واللہ اعلم لیکن بہرحال ہوگا ضرور کیونکہ یہ بات حتمی ہے پھر اس کے بعد اصلاح ہوگی یا تخریب کے بعد پھر تخریب تاآنکہ اصلاح ہوجائے۔ (الاء) جمع ہے الی اور الی کے معنی نعمت کے ہیں۔ نعمتیں یا احسانات۔ ای کے معنی ہیں کونسا ‘ کونسی ‘ جس ‘ جس میں ‘ کس کس ‘ کیا کیا۔ یہ استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور شرطیہ بھی۔ صفت بھی واقع ہوتی ہے اور جس پر الف لام داخل ہو اس کی ندا کا صلہ بھی نیز موصولہ بھی ہوتا ہے مگر بعض نے موصولہ ہونے سے انکار کیا ہے۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ (محمد رسول اللہ ﷺ کے پیغمبروں کی طرح ایک پیغمبر ہے

محمد رسول اللہ ﷺ بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ڈرانے والے ہیں 56 ؎ (ھذا) ھا حرف تنبیہہ ذرا اسم اشارہ قریب واحد مذکر۔ اس جگہ (ھذا) کا مشار الیہ کون ہے ؟ اس کے متعلق تین اقوال اختیار کئے گئے ہیں۔ (1) اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ یعنی پیغمبر اسلام بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ایک ڈرانے والے ہیں۔ جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا گیا کہ : (قل ما کنت بدعا من الرسل) (الاحقاف : 9) ” آپ ﷺ کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں یعنی ویسا ہی ایک رسول ہوں جیسا کہ اور بہت سے رسول آئے ہیں۔ (2) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس (ھذا) سے مراد قرآن کریم ہے یعنی قران کریم بھی پہلی آسمانی کتابوں کی طرح ڈرانے والی ہے۔ (3) یہ واقعات جو تم کو سنائے گئے ہیں یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اور ان کی قوموں کے یہ محض اس لئے سنائے گئے ہیں کہ تم درست ہو جائو گویا۔ (ھذا) کا اشارہ ان واقعات کی طرف ہے۔ لیکن زیادہ تر پہلا مفہوم ہی لیا گیا ہے اور وہی زیادہ مناسب بھی معلوم ہوتا ہے اور اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کے لئے (ھذا) کا لفظ جو رہتی دنیا تک پڑھا اور سمجھا جاتا رہے گا ممکن ہے کہ ان بھائیوں کا عقدہ بھی حل کر دے جو عذاب قبر میں فرشتوں کے سوال و جواب سے محض اس لئے الرجل ہیں کہ یہ لفظ (ھذا) ان کے لئے انکار کا باعث بن کر رہ گیا ہے کہ یہ تکلیف نبی کریم ﷺ کو جب کوئی مرا تو آپ کو وہاں حاضر کرنا پڑا تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ (ھذا) کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہاں اس کا مشارالیہ موجود ہو بلکہ اس کا ذکر بھی اس کے لئے کفایت کرتا ہے۔ فافھم تفدبر۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

آنے والی گھڑی (قیامت) آپہنچی

قریب آنے والی قریب آگئی اس سے مراد اس جگہ موت ہے 57 ؎ (ازفت) کا مادہ ا زہے اور اس کے معنی ہیں آپہنچی۔ ا زسے ماضی کا صیغہ وواحد مونث غائب ازف کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آ لگنا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ (الازفتہ) نزدیک آنے والی۔ قریب آ لگنے والی جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو اور مراد اس سے قیامت بھی ہو سکتی ہے اور موت بھی اور اس جگہ مراد موت ہی ہے۔ لاریب یہ حقیقت ہے کہ قیامت بھی لمحہ بہ لمحہ قریب سے قریب تر ہی ہوتی چلی آرہی ہے لیکن ہر وہ شخص جو پیدا ہوگیا وہ بھی تو لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب ہی آتا چلا جار ہا ہے اور پھر کیا ہوگا کہ اچانک موت اس کو آجائے گی اور جوں ہی وہ مرا گویا اس کی قیامت آگئی۔ (مات قد قامت قیامتہ ) لہٰذا زندگی کا قیمتی وقت اگر ادھر ادھر کی باتوں اور کاموں میں ضائع ہوگیا اور آخرت کی کوئی تیاری ہی نہ کی تو اس خسارے میں چلے گئے جس سے نکلنے کی کوئی امید باقی نہ رہی اور انجام اس کا کف دست ملنے کے سوا کچھ نہ ہوا لیکن اس افسوس کا فائدہ ؟ اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

جس کو اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں ہے

جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ظاہر کرنے والا نہیں ہے 58 ؎ (کاشفتہ ) اسم فاعل مفد مونث۔ کھولنے والی حالت یا شخصیت۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حالت یا کوئی شخصیت قیامت کے چہرے سے پردہ ہٹانے والی نہیں ہے اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور وہ کب آئے گی۔ (جلالین و صاوی) اور یہ بھی کہ اس کے شواہد کو کوئی دور نہیں کرسکتا۔ (صادی و جمل) اور (کاشفتہ) بمعنی مصدری (کشف) بھی مستعمل ہے۔ (قاموس) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف سے قیامت کا کشف نہیں ہو سکتا۔ (جمل) قیامت کا ظاہر کرنا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا کام ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس کو واضح کرسکے اور کھول سکے یا ظاہر کرسکے اور موت بھی ظاہر ہے کہ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ (ھوالذی یحییٰ ویمیت)
Ayah 53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے

کیا تم کو اس بات پر تعجب ہے ؟ 59 ؎ کسی چیز پر متعجب ہونے کی ایک سے زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں لیکن وہ تعجب جو بطور انکار کیا جاتا ہے اس جگہ وہی مراد ہے کہ قیامت اور آخرت کا نام سنتے ہی لوگ تعجب کرنا شروع کردیتے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہڈیاں جو کھائی گئی ہوں اور وہ ذرات جو اڑا دیئے گئے ہیں اور جسم جس کو زمین کھا چکی ہو اور وہ دوبارہ زندہ ہوجائے۔ نہیں کوئی نہیں جو دوبارہ زندہ کرسکے اور کسی کو دوبارہ زندگی نہیں ملے گی اور کوئی قیامت و یا مت نہیں ہے۔ (بعث) کے معنی کسی چیز کو اٹھا کھڑا کرنے اور سامنے کرنے کے ہیں۔ (بعث) کی دو قسمیں ہیں ایک بشریٰ اور دوسری الٰہی۔ اگر اس کی نسبت فاعل انسان کی طرف ہو تو اس کو بشری کہیں گے جیسے ایک شخص کا کسی دوسرے شخص کو روانہ کرنا اور بھیجنا اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے تو اس کو الٰہی کہا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے خاص ہے دوسرا کوئی زندہ نہیں کرسکتا اگر کسی مخلوق کی طرف اس کی نسبت ہوئی تو اس کے معنی موت سے دوبارہ زندہ کرنا مراد نہیں ہوگا اگر یہ بات آپ نے یاد رکھی تو آپ اس حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی نسبت غیر اللہ کی طرف اگر ہو تو اس کا مفہوم کیا ہوگا ؟ (بعث) کے معنی کیا ہوئے ؟ جی اٹھنا ‘ زندہ کرنا ‘ اٹھا کھڑا کرنا ‘ مگر قرائن اور متعلقات کے اعتبار سے اس کے معنی بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً اونٹ کے لئے (بعث) کا لفظ آئے گا تو معنی اونٹ کے اٹھانے اور چلانے کے ہوں گے۔ مردوں کے لئے استعمال ہوگا تو معنی جی اٹھنے اور حشر کے ہوں گے۔ رسولوں کے متعلق کہا جائے گا تو مبعوث کرنے اور بھینے کے ہوں گے۔ مختصر یہ کہ اس کے معنی حسب قرینہ و مقام سمجھنے چاہئیں۔ زیر نظر آیت میں (بعث) کا لفظ نہیں ہے لیکن چونکہ جس بات پر کفار مکہ کو تعجب تھا وہ بات قیامت کے آنے اور لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے حاضر کرنے ہی پر تھا اس لئے بعث کے لفظ کی بحث اس جگہ آگئی کہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا قیامت ہی ایک چیز یا ایسی بات ہے جس پر تم کو تعجب ہو رہا ہے ؟ آخر کیوں ؟ کیا تم کو پہلی بار جو زندگی ملی ہے اس پر تعجب نہیں ؟ پھر اگر اس پہلی زندگی پر تم کو تعجب نہیں تو دوسری پر کیوں ؟ کیا پہلی بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار ایک بنی ہوئی چیز کے مطابق اس کو پھر بنا دینا زیادہ مشکل ہے ؟ تعجب تو تم پر ہے کہ جس بات پر تعجب کرنا چاہئے تھا اس پر تو تعجب کر نہیں رہے اور جو بات تعجب کرنے کی نہیں ہے اس پر تم کو تعجب ہے ؟
Ayah 53:60

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟

تعجب تو تم پر ہے کہ تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو 60 ؎ (تبکون ) ” تم روتے ہو “ بکاء سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ (تضحکون) تم ہنستے ہو۔ تم ہنستی کرتے ہو ضحک سے جس کے معنی ہنسنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ضحک کا استعمال بطور استعارہ تمسخر اور ہنسی کے لئے بھی ہوتا ہے اور اس جگہ بطور استعارہ تمسکر اور ہنسی ہی کے لئے بولا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تعجب تو تم پر ہے کہ تم نے گزشتہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کی مختصر سی داستان سنی اور تم نے ان کی تفصیل بھی پڑھی کہ انہوں نے جب اپنے اپنے نبی و رسول کی تکذیب کی تو ان پر اچانک عذاب نازل ہوگیا لیکن عذاب نازل ہونی سے پہلے ان کو اس کے نازل ہونے کی باقاعدہ اطلاع دی گئی اور وہ اطلاع ملنے کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پھر اس کا جو انجام ہوا وہ بھی تم کو سنایا گیا لیکن تعجب ہے تم پر کہ تم نے یہ سب کچھ سن کر ‘ پڑھ کر اس کو ان ہی لوگوں کی طرح ٹھٹھہ اور مذاق سے اڑا دیا اور بجائے سبق حاصل کرنے اور ان کے تذکار پڑھ کر رونے اور آنسو بہانے کے ان واقعات کو ہنسی اور مذاق کا نشانہ بنایا۔ تف ہے تم پر کہ رونے اور چیخنے کے مقام پر ہنسنے اور مذاق کرنے لگے۔
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم حیران کھڑے ہو ؟

تم غفلت میں پڑے ہو اور اس سے نکلنے کو تیار نہیں 61 ؎ (سمدون) کھیل کرنے والے ‘ غافل کرنے والے یا غافل ہونے والے ۔ گانے والے ‘ تکبر سے سر اٹھانے والے ‘ حیرت میں کھڑے ہونے والے۔ (سمود) سے جس کے معنی کھیلنے ‘ غافل ہونے اور تکبر سے سر اٹھانے والے اور حیرت میں کھڑے ہونے والے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر (سامد) واحد۔ ابن ورید نے تصریح کی ہے کہ یہ یمانی لغت ہے اور عبدالرزاق بروایت عکرمہ ابن عباس ؓ سے اس کے معنی گانے بجانے کے نقل کرتے ہیں۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ یہ اہل یمن کی زبان ہے جب یمنی ” تغن “ کہنا چاہے گا تو اس کے لئے اسمد بولے گا۔ (فتح الباری ج 8 ص 465 طبع مصر) اور امام بخاری (رح) اپنی صحیح میں عکرمہ سے ناقل ہیں کہ (سامدون) کے معنی حمیری زبان میں گانے والوں کے ہیں۔ (صحیح بخاری ج 2 ص ۔ 27 طبع محتبانی دملی) عبدالرزاق نے ایک اور طریقہ سے بروایت عکرمہ ابن عباس ؓ سے اس کے معنی کھیلنے کے نقل کئے ہیں اور بروایت معمر قتادہ ؓ سے غافل ہونے والوں کے اور ابن مردویہ بروایت سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روگرانی کرنے والوں کے معنی نقل کرتے ہیں۔ (فتح الباری ج 8 ص 465 طبع مصر) یہی وجہ ہے کہ مفسرین و مترجمین نے ان میں سے جس معنی کو پسند کیا ہے وہ معنی بیان کردیئے ہیں۔ اب دیکھنا فقط یہ ہے کہ پیچھے کیا بیان کیا گیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ پیچھے لوگوں کی اس غفلت اور بےتوجہی کا ذکر ہے کہ وہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کے تذکار پڑھ کر ‘ سن کر بجائے ان سے نصیحت پکڑنے کے ہنسی اور مذاق اڑا رہے ہیں گویا ان کی غفلت اور بےتوجہی کی حد یہ ہے کہ ایک بات پر کان دھرنے کی بجائے وہ اس سے غفلت میں پڑے ہیں اور یہی حال قیامت اور آخرت کے متعلق ہے اور یہی صورت حال خود پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں وہ اختیار کئے ہوئے ہیں اس لئے ہم نے اس جگہ اس کے معنی غفلت میں پڑنے ہی کے لئے ہیں۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی کرو

پس اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اس کی بندگی کرو 62 ؎ سورة النجم نبی اعظم و آخر ﷺ نے بیت اللہ کے اندر کھڑے ہو کر پڑھی اور یہ بات ہجرت سے پہلے کی ہے کہ آپ ﷺ نے سورة النجم پڑھنے کے بعد سجدہ کیا اور جو لوگ اس وقت بیت اللہ میں سننے والے تھے سب کے سب نے سجدہ کیا حالانکہ ان لوگوں میں مسلمانوں کے علاوہ منکرین بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی ساتھ ہی سجدہ کیا سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس نے باقاعدہ سجدہ نہ کیا۔ البتہ بیت اللہ سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھی اور اس پر ماتھا لگا کر گویا سجدہ کیا۔ چناچہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ : (عن الاسود بن یزید عن عبداللہ قال اول سورة انزلت فیھا سجدۃ النجم قال فسجد رسول اللہ ﷺ و سجد من خلفہ ‘ الا رجلاً رایتہ اخذ کفا من تراب فسجد علیہ فرائیہ بعد ذلک قتل کافر او ھوامیۃ بن خلف) ۔ (بخاری کتاب التفسیر سورة النجم) ” اسود بن یزید نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے جو سجدہ والی سورت اتری وہ سورة النجم تھی۔ ابن مسعود ؓ نے کہا کہ آپ ﷺ نے اس سورت کے آخر میں سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے پیچھے جتنے لوگ بیٹھے تھے یعنی خواہ وہ مسلمان تھے یا مشرک سب نے سجدہ کیا مگر ایک شخص امیہ بن خلف نے کیا کیا کہ ایک مٹھی بھر مٹی لی اور منہ سے لگا لی اور اس پر سجدہ کیا ‘ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد یہ شخص کفر کی حالت میں بدر کے دن مارا گیا۔ “ زیر نظر آیت میں اہل ایمان و توحید کو حکم دیا جا رہا ہے کہ تم عجز و نیاز سے اپنے پروردگار کی جناب میں سجدہ ریز ہو جائو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام کی عبادت کرو اور اس کو سجدہ کرو کہ اس کی ذات کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہے۔ قرآن کریم کے سجدوں میں سے یہ تیرہواں سجدہ ہے اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا نزول کے اعتبار سے سورة النجم پہلی سورت ہے جس میں سجدہ کرنے کا حکم آیا ہے۔ علاوہ ازیں موطا امام مالک کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے صبح کی نماز میں سورة النجم پڑھی اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے اٹھ کر سورة زلزال پڑھی اور پھر رکوع کیا۔ جس سے اس بات کی وضاحت آگئی کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور خصوصاً نماز فجر کی ایک رکعت میں مختلف جگہوں سے قرآن کریم پڑھا جاسکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ کوئی ایک سورت ایک ہی رکعت میں ایک سے زیادہ بار بھی پڑھی جاسکتی ہے ۔ بحمد اللہ انہی حروف پر سورة النجم کی تفسیر ختم کی جا رہی ہے۔ عبدالکریم اثری بعد از نماز عشاء 6 / مارچ 1998 ء