Ayah 53:20مناۃ کا حال بھی دیکھو جو ان میں آخری تیسری ہے
20 ؎ ان کے ان وہمی مفروضوں میں سے ایک مفروضہ ” مناۃ “ کا بھی تھا۔ مناۃ کا بھی تھا۔ مناۃ اسم غیر مشتق ہے اور مقام قدید میں قبیلہ خزاعہ کا ایک بت تھا جو عورت کی شکل پر تھا۔ (قتادہ) قبیلہ خزاعہ اور ہذیل کا ایک بت تھا جس کو مکہ والے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ (ضحاک) ایک مندر یا مکان مقام شلل میں تھا جس کی پوجا بنی کعب کرتے تھے۔ (ابن زید) ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا : اسلام سے قبل انصار مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل تھا۔
بعض کا قول ہے کہ لات ‘ عزیٰ اور مناۃ تینوں بت کعبہ کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ (بغوی) اور یہ سب اقوال درست ہو سکتے ہیں کہ اس طرح کے اعتقاد رکھنے والے ایک ایک شخصیت کو مختلف جگہوں سے منسوب کرلیتے ہیں اور پھر ہر جگہ کے لئے مختلف روایتیں گھڑ لی جاتی ہیں اور ان روایتوں کو منسوب کرنے والے ان کے مطابق عمل کرتے رہتے ہیں۔
اس وقت ہمارے گرد نواح میں کتنے ہی بزرگ ہیں جن کو مختلف جگہوں پر منسوب کرلیا گیا ہے اور ہر جگہ کے ساتھ اعتقاد رکھنے والے اعتقاد رکھتے ہیں اگر فرق ہے تو یہ ہے کہ وہ کفار مکہ تھے جنہوں نے وہ نام گھڑ لئے تھے اور یہ نام کے مسلمان ہیں۔ تاہم کام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ مکہ کے لوگ اور عرب کے دوسرے رہنے والے ان کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کے مفروضہ میں یہ بات داخل تھی کہ اللہ کی بیٹیاں ہماری سفارش کرا کر ہم کو اللہ سے بخشوا لیں گی اور ان کی پوجا کرنے والے وہی لوگ تھے جو کسی نہ کسی طرح آخرت کا دھندلا سا خیال اپنے ذہن میں رکھتے تھے گویا جہاں شدید قسم کے آخرت سے انکار کرنے والے لوگ موجود تھے وہاں آخرت کا تصور رکھنے والے بھی موجود تھے لیکن ان کے ہاں بھی محض ایک طرح کا تصور ہی تھا اس سے آگے کچھ نہیں تھا گویا وہی حالت جو آج کل ہماری اکثریت کی ہے کہ آخرت کا ایک تصور ہمارے ہاں موجود ہے اور اسی تصور کے ابعث لوگ مختلف شخصیتوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے کے ساتھ ساتھ آخرت کی لئے سفارش میں کام آنے والے بھی ان کو سمجھتے ہیں۔ سید سلیمان ندوی ؓ رقم طراز ہیں کہ ” اس لفظ کا اشتقاق چند ماخوذوں سے ہو سکتا ہے۔ سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ وہ منی سے مشتق ہے جس کے معنی بہانے کے ہیں اس سے مکہ کے مقام منیٰ کا نام ماخوذ ہے یعنی خون بہانے کی جگہ۔ مناۃ شاید خون بہانے کا دیوتا تھا جس کے نام سے خون بہایا جاتا تھا لیکن بجز قیاس کے اس اشتقاق کی صحت میں کوئی اور دلیل موجود نہیں ہے “ اور ہم نے اس کو محض سید صاحب ؓ کے ذکر کرنے سے تحریر کردیا ہے لیکن ہم اس کو قطعاً صحیح نہیں سمجھتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کا ذرا شائبہ بھی موجود ہوتا تو نبی اعظم و آخر ﷺ اس کی ممانعت فرما دیتے اور قوم کو کبھی اسکا حکم نہ دیتے کیونکہ اس طرح اس میں شرک کی بوباس پائی جاتی۔ یاقوت نے اس کے مختلف اشتقاقات بتائے ہیں ہمارے نزدیک ان میں سب سے زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ منا سے مشتق ہے اور اس کے معنی تقدیر کے ہیں اور اس کے ثانی معنی موت کے ہیں۔ صاحب لسان العرب نے بتایا ہے کہ اس میں ” ہ “ علامت تانیث ہے گویا ” منوٰۃ “ تقدیر ہے اور موت کی دیبی سمجھی جاتی تھی۔ بطی کتبات میں یہی منات منوت کی صورت میں ہے اور قرآن کریم میں اس کی املا (منوٰۃ) ہی ہے۔
Ayah 53:21کیا تمہارے لئے بیٹے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ہیں ؟
21 ؎ غرض انسان کو اندھا کردیتی ہے اور اس کی مت ایسی ماری جاتی ہے کہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ میں کیا کر رہا ہوں یا کیا کہہ رہا ہوں ؟ یہی حالت قریش مکہ کی تھی کہ جب ان کو کسی نے کہہ دیا کہ یہ دیویاں حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ان کو پکارنے ‘ سورنے اور ان کے نام کی نیازیں دینے سے یہ خوش ہوتی ہیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش بہت مقبول ہے کیونکہ یہ تو اللہ کی بیٹیاں ہیں تو انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ اپنے لئے بیٹی کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے اللہ کے لئے ان کو اللہ کی بیٹیاں تسلیم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ تو اولاد سے پاک ہے اس کے لئے نہ بیٹیاں ہیں نہ بیٹے لیکن چونکہ انہوں نے ایک ایسی بات اللہ کے لئے پسند کی جو خود اپنے لئے نہایت معیوب سمجھتے تھے اس لئے گویا ان سے استفسار کیا جا رہا ہے کہ تعجب ہے تم پر کہ تم اپنے لئے تو بیٹیوں کو بہت ناپسند کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے تم نے بیٹیوں کو پسند کیا ہے جو اس لحاظ سے بھی انصاف کے خلاف ہے کہ تم نے اللہ کے لئے وہ چیز پسند کی جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اس طرح گویا تمہاری خود غرضی کی حد ہوگئی۔ اس کو کہتے ہیں کہ غرض انسان کو اندھا کردیتی ہے کہ تم کو کسی بیوقوف نے یہ بات کہہ دی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو تم نے وہی کہنا شروع کردیا۔
Ayah 53:22تمہاری یہ تقسیم تو بہت ہی بری تقسیم ہے کیونکہ وہ نہایت ہی غیر منصفانہ ہے
22 ؎ (ضیریٰ ) بہت ناقص ‘ غیر منصفانہ ‘ اور بہت بھونڈی۔ خیال رہے کہ ضار یصیر سے ہے جس کا استعمال بیدار کرنے اور ستم ڈھانے کے معنی میں ہوتا ہے اور (ضیریٰ ) کے معنی ہوئے ظالمانہ۔ اس لئے ہم نے اس کو غیر منصفانہ کہا ہے اور اس صورت میں دو وجہوں کا احتمال ہے ایک یہ کہ صفت ہو بروزن فعلی ہضم الفاء اور فا کو کسرہ اس لئے دیا گیا تاکہ ی کی سلامتی برقرار رہ سکے جیسا کہ بیض میں ہوا کہ بیض اصل میں ابیض کی جمع ہے جیسا کہ سود اسود کی جمع ہے اس طرح اس کی باء جو کہ اصل میں ضمہ تھا مگر باء کے سلامت رہنے کے لئے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (ضیری) مصدر ہے جیسے کہ (ذکری) ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ ذکر یذکر ذکریٰ کی طرح ضار یضیر ضیزی بھی بولا جاتا ہے اور علاوہ ازیں بھی اس کی توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ زیر نظر آیت میں ان کو کہا جا رہا ہے کہ تم لوگوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر دوہرا ظلم کیا ہے ایک تو اللہ تعالیٰ جو اولاد سے پاک ہے اس کے لئے اولاد قرار دی ہے اور دوسرا یہ تقسیم بھی نہایت ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے کہ جو چیز اپنے لئے ناپسند کی ہے وہ اللہ کے لئے پسند کی ہے حالانکہ یہ بات ہر انسان سمجھتا ہے کہ جو چیز اپنے لئے ناپسندیدہ ہو وہ دوسرے کے لئے بھی ناپسندیدہ ہی ہونا چاہئے اور یہ بات عام ہے لیکن انہوں نے اس عام بات کا لحاظ بھی نہیں کیا جو نہایت ہی احمقانہ بات ہے۔
Ayah 53:23یہ تو نام ہی نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں یا تمہارے آبائو اجداد نے
23 ؎ اب ان کے وہمی مفروضوں پر ان کی سرزنش کی جا رہی ہے کہ تم عجیب آدمی ہو کہ جن کو تم نے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیا ہے ان میں کوئی بات حاجت روائی اور مشکل کشائی کی نہیں ہے کیونکہ حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اور صرف وہ ذات ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر ایک چیز کی روزی کا بندوبست فرمایا ہے اور ہر ایک چیز کی حفاظت وہ براہ راست کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا اور نہ ہی یہ اختیار کسی انسان کو دیئے جاسکتے ہیں یہ تو محض نام ہی نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے یا تمہارے آبائو اجداد نے اور تمہاری ان وہمی مفروضوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ ہی اس طرح کی باتیں کرنے والوں کے پاس کوئی آسمانی نوشتہ ہے کہ جس سے ان کو یہ بات معلوم ہوئی ہے۔ یہ تو محض نشانات ہیں جن میں انہوں نے خالق کی صفات تسلیم کرلی ہیں حالانکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اپنی ذات یا اپنی صفات میں کسی کو کبھی بھی کسی زمانہ میں شریک نہیں کیا اور نہ ہی اس کو کسی کی اجازت دی ہے اور نہ عقل سلیم اس کو ماننے کیلئے تیار ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ جو اپنے آپ کو یا اپنے جیسی دوسری مخلوق کو اپنا خدا بنائے اور اس میں خالق کی صفات تسلیم کرے پھر تعجب ہے کہ جب اللہ کے نیک بندوں اور فرشتوں کے خیالی مجسمے گھڑ کر ان میں وہ صفات تسلیم کرلی گئیں جو محض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہیں تو شرک کیا ہے ‘ اگر یہ شرک نہیں ؟ پھر یہ بھی کہ ان بےجان پتھروں اور تراشوں کا تعلق ان انسانوں اور اللہ کے نیک بندوں سے کیا ہوا جن کے متعلق انہوں نے یہ مفروضہ گھڑ لیا کہ یہ ان نیک بندوں کے تراشے ہیں اور اللہ کے نیک بندوں سے کیا ہوا جن کے متعلق انہوں نے یہ مفروضہ گھڑ لیا کہ یہ ان نیک بندوں کے تراشے ہیں اور اللہ کے ان فرشتوں کے جن کو ہم نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا ہے۔ دوسری جگہ ان سے پوچا گیا ہے کہ کیا تم اس وقت پاس تھے جب اللہ نے ان کو پیدا کیا کہ یہ لڑکیاں ہیں یا ویسے ہی ایک من گھڑت بات کہہ رہے ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ہے اور یہ بھی کہ ان کفار پر اس لئے بھی تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا کے معاملات میں تو بڑے زیرک اور ہوشیار بنتے ہیں کیا یہ زیر کی اور ہوشیاری کی بات ہے جو یہ کہہ رہے ہیں یا سراسر بیوقوفی اور حماقت کی بات ہے۔ پھر خود ہی اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ سب کچھ ان کے ظن وتخمین کی گل کاریاں ہیں اور ان کے نفوس کی خواہشات ہیں جن کی وہ پیروی کر رہے ہیں ایسی چیزوں کو معبود ماننے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں جو کچھ نذر و نیاز لے کر ان کے خیالات کے مطابق ان کی مصیبتوں کو ٹال دیں اور اگر بفرض محال قیامت قائم ہوجائے تو ان کی شفاعت کی ذمہ داری قبول کرلیں۔ ایسے معبودوں کو وہ ماننے کے لئے تیار ہیں وہ ان کے لئے قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لئے ‘ ان کے درباروں پر منت کے بکرے ‘ چھترے ‘ چڑھانے کے لئے اور ان کی نذریں ‘ نیازیں دینے کے لئے لیکن ایک اللہ کو ماننا اور وہ جو احکام صادر کرے ان کو تسلیم کرنا اور خصوصاً ایسے احکام جو ان کے دنیاوی مفاد کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہوں ‘ ایسے احکام جو ان کی بساط عیش و طرب کو الٹنے کا موجب بن سکتے ہوں ‘ جو ان کی آزاد طبع پر قدغن لگا دیتے ہوں۔ ایسے اللہ کی الوہیت کو وہ تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ لاریب حقیقت یہی ہے کہ وہ ان بزرگوں ‘ فرشتوں اور ان کے مفروضہ بتوں کے پجاری نہیں بلکہ وہ خواہشات نفس کے پرستار ہیں اس لئے ایسے لوگوں سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ آج نہیں توکل اور کل نہیں تو پرسوں عقل و خرد سے کام لیں گے اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو غور سے سنیں گے۔ ع
” ایں خیال است و محال اس وجنوں “
اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے صرف اور صرف ان کی راہنمائی کے لئے ایسا کامل و اکمل رسول ان کی طرف بھیج دیا جو بغیر کسی مزدوری و اجر کے ان کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہے اور اپنے نورانی ارشادات سے ان کے دلوں کی تاریک دنیا روشن کر رہا ہے اور اس کی نہ ختم ہونے والی نبوت و رسالت اور قرآن کریم جیسی کامل کتاب بھی ہے لیکن یہ بدبخت اور بدنصیب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بھیجی ہوئی ہدایت کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور دن بدن رذیل خواہشات کی دلدل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اور ان کی بدبختی کا یہ عالم ہے کہ اپنے رب کریم کی لائی ہوئی ہدایت کو اس طرح ٹھکرا رہے ہیں جس طرح یہ لوگ گویا مخاطب ہی نہیں بلکہ اس کا مخاطب کوئی اور ہے۔
Ayah 53:24کیا انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟
24 ؎ یہ ان خواہشات کے پجاریوں کو کہا جا رہا ہے یا ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟ یا بہت سی تمنائیں ایسی ہوتی ہیں جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتیں۔ اگر فی الواقع بات ایسی ہے کہ بہت سی تمنائیں ایسی ہوتی ہیں جو پوری نہیں ہوتیں تو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ تمہاری یہ تمنا کبھی شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہوگی کہ تم جس کو چاہو اپنا معبود بنا لو کیونکہ معبود صرف اور صرف ایک ہے جو وحدہ لا شریک ہے اور اس طرح یہ بھی تم سمجھ لو کہ اپنی مرادیں حاصل کرلینے کی غیر اللہ سے جو امیدیں رکھتے ہو اور جس طرح ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا سمجھتے ہو یہ تمہاری آرزو کبھی پوری نہ ہوگی اور عین اس وقت سب کے سب تم سے آنکھیں پھیر جائیں گے اور ان سے قائم کئے ہوئے تعلقات سب کے سب ٹوٹ جائیں گے اور پیر ‘ مریدوں سے بیزار ہوں گے اور مرید ‘ پیروں سے (ضعف الطالب والمطلوب ) مزید وضاحت درکار ہو تو غزوہ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 165 ‘ 167 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 53:25یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے
25 ؎ مخاطب وہی وہمی مفروضوں پر زندگی گزارنے والے ہیں جو شرک کو پسند کرتے ہیں اور غیر اللہ سے طرح طرح کی توقعات وابستہ کرنے کے عادی ہیں۔ اللہ کے سوا دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز دینے اور کھانے کے شیدائی ہیں جن کے سامنے ٹیڑھی راہ آئے تو پسند کرتے ہیں اور سیدھی راہ سے دور بھاگتے ہیں۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ کان کھول کر سن لو کہ اگر بھلائی چاہتے ہو تو وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اس دنیا کی بھلائی بھی اور آخرت کی بھلائی بھی اللہ تعالیٰ ہی نے یہ نظام قائم کیا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ ہرچیز کا انجام اسی ذات کریمی کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہی سب بھلائیوں کا مالک ہے۔ انسان جو چاہے وہ کبھی پورا ہوتا ہے کبھی پورا نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات انسان کے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور اس سے انسان کو شناخت ہوتی ہے کہ کوئی انسان قادر نہیں ہے کہ اس کا ہر کام پایہ تکمیل کو پہنچے اس حقیقت کے متعلق سیدنا علی ؓ کا مقولہ ہے کہ عرفت ربی یفسخ العزائم۔
Ayah 53:26آسمانوں میں کتنے فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کسی کے کام نہیں آسکتی
26 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ مشرکوں کے وہمی مفروضوں سے کیا ہوتا ہے کہ وہ محض اپنے مفروضوں کے سہارے زندہ ہیں اور موہوم آرزوئوں پر زندگی گزار رہے ہیں جس کو چاہتے ہیں حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں ‘ جس کو چاہتے ہیں اس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار دے دیتے ہیں ‘ جس کو چاہتے ہیں بھلائی اور خیر کا مالک قرار دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اس کو اللہ کے ہاں اپنا سفارشی قرار دے دیتے ہیں۔ گویا سارا معاملہ ان کی اپنی چاہت اور تمنا کا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کیا تمنا رکھتے ہیں ؟ ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا جا رہا ہے کہ ان آسروں اور سہاروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے سارے کا سارا نظام رب ذوالجلال والاکرام کے قبضہ میں ہے جن ہستیوں کے متعلق تمہارا خیال ہے کہ وہ قیامت کے روز اگر وہ روز کوئی ہے تو ہماری سفارش کریں گے اور عذاب جہم سے ہم کو بچا لیں گے۔ ان بیچاروں کی حقتقہ کیا ہے ؟ وہ تو خود مخلوق ہیں اور خالق کے ہاں کسی کی سفارش کے لئے لب کشائی کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ فرشتے جو ہماری طاقت و قوت کا ایک مظہر ہیں اور ہماری عبادت میں ہر وقت مصروف ہیں ان کی مجال کیا ہے کہ جس کی چاہیں یا جو لوگ ان کو چاہیں ان سے سفارش کا کام لے لیں اور جن کو وہ چاہیں بخشوا کر جنت میں پہنچا دیں۔
کوئی انسان ہو یا فرشتہ اس بات کا اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں ! یہ تو اللہ تعالیٰ کی اپنی مرضی ہے کہ وہ چاہے کسی کے متعلق ان میں سے کسی کو سفارش کی اجازت دے دے اور جب کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے تو وہ فقط اس کی سفارش کریں مرضی اور رضا اللہ کی ہے نہ کہ ان سفارش کرنے والوں کی اور اس طرح گویا سفارش کی اجازت اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کی عزت افزائی کے لئے رکھی ہے نہ کہ ان کی رضا اور مرضی کے لئے پھر جس کے ہاتھ میں اختیار ہے اس کو چھوڑ کر جن کے اختیار اور مرضی میں کچھ نہیں ان پر انحصار کہاں کی عقل مندی اور کہاں کی سمجھداری ہے ؟ جب آسمانوں کے فرشتے اور اس دنیا کے نیک اور پاکباز بندے اس کا اختیار نہیں رکھتے تو ان کے تیار کردہ یہ مجسمے جو خود انہوں نے گھڑ لئے ہیں یا ان گھڑے پتھر اور قبریں اور روضے تعمیر کر لئے ہیں ان کی سفارش کیونکر کرسکیں گے۔ ان کی مت کیونکر ماری گئی اور کس نے مار دی ہے کہ اتنی سیدھی اور صاف بات کو بھی وہ نہیں سمجھتے۔
Ayah 53:27جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے زنا نے نام رکھتے ہیں
27 ؎ کہاوت ہے کہ ” آنکھوں دکھائی نہ دے نام نور بھری “ اظہار تعجب ہے کجہ وہ لوگ جو آخرت کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یہ آخرت و اخرت اور قیامت و یا مت کچھ نہیں محض ایک ڈھکوسلا ہے جو ملائیت نے گھڑ لیا ہے اس طرح کی واہیات بکنے والے ایک طرف تو قیامت کو ماننے ہی کے لئے تیار نہیں اور دوسری طرف یہ سر پھرے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں اور اظہار عقیدہ اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ہماری سفارش کریں گے اور ہمیں آخرت میں کام آئیں گے اور ان کے ذریعہ اگر کوئی قیامت ہوئی بھی تو اس کی سختیوں سے ہم بچ جائیں گے۔ اس طرح ان کی تضاد بیانی اور تضاد خیال کی پوری پوری وضاحت کی جا رہی ہے اور ان کے مفروضوں کا حال کھولا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو کچھ مانتے ہیں وہ اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے پاس اس کے ماننے کے ٹھوس دلائل موجود ہیں اور نہ یہ کہ اگر وہ کسی چیز یا بات سے انکار کرتے ہیں تو اس لئے کہ ان کے پاس اس سے انکار کرنے کے دلائل موجود ہیں ؟ نہ یہ کہ اگر وہ کسی چیز یا بات سے انکار کرتے ہیں تو اس لئے کہ ان کے پاس اس سے انکار کرنے کے دلائل موجود ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں یہ تو محض ان کی ایک ترنگ ہے کہ جس کو چاہا مان لیا اور جس سے چاہا انکار کردیا۔ جب کسی قوم میں یا فرد میں احساس ذمہ داری نہ رہے تو اسکی حالت ایسی ہی ہوتی ہے۔ ان کے لئے اشارات و استعارات کچھ کام نہیں دیتے یہ تو ہر سنی ان سنی کردیتے ہیں اور ہر دیکھی ان دیکھی۔ عقل و فکر نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ جو کرتے ہیں اندھا دھند کرتے ہیں اور جو مانتے ہیں اندھا دھند مانتے ہیں اور یہی حال ان کے انکار کا ہے۔ ان کی ترنگ کہویا ڈینگ صرف یہ ہے کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ حقیقت اس ترنگ کی یہ ہے کہ آخرت پر ان کا ایمان نہیں ہے بلکہ وہ رسم و رواج کے شیدائی ہیں۔ انہوں نے اپنے وڈیروں سے صرف یہ سنا ہے کہ یہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ رسماً اور رواجاً اس طرح مانتے اور کہتے چلے آ رہے ہیں جس کو وہ کبھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں کہ اس طرح ان کے باپ دادا کی توہین ہوتی ہے اور اس کا خلاف مان کر وہ ان کی توہین نہیں کرنا چاہتے۔ یہ تو اس وقت کے لوگوں کی حالت تھی لیکن اگر غور و فکر کیا جائے تو آج ہم میں اور ان میں سرمو کا فرق بھی نہیں ہے صرف مرور زمانہ نے نام بدل دیئے ہیں کام آج بھی وہی ہیں جو اس وقت ان کے تھے۔
Ayah 53:28علم نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں وہ ظن و گمان پر سارا کاروبار کرتے ہیں
28 ؎ افسانے بیان کرنے والے اور مفروضے تراشنے والے داستان گو جو کچھ کرتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ ان کا تعلق علم سے نہیں بلکہ ظن و گمان سے ہوتا ہے۔ ظن و گمان کیا ہے ؟ یہ وہی کچھ ہے جس کو انکل پچو کے لفظ سے تعبیر کی اجاتا ہے۔ حقیقی علم کا سرچشمہ اللہ رب کریم کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا مظہر انبیاء و رسل ہیں جن کو بارگاہ صدی سے براہ راست علم و عرفان کی دولت عطا فرمائی جاتی ہے اور نبوت و رسالت کو یہ لوگ ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں پھر یہی نہیں کہ ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس سے خواہ مخواہ کا برا ہے اور اس کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہیں اور وہی الٰہی کے چشمہ علم و عرفان سے سیراب ہونے کے لئے نہ تو ان کو توفیق ہے اور نہ ہی اس کے لئے وہ تیار ہیں۔ ان کے پاس علم کی بجائے ظن وتخمین ہے اور اس گھوڑے کے وہ سوار ہیں اور وہم و گمان کے ریگ زاروں میں خاک اڑاتے اور گھوڑے دوڑاتے پھرتے ہیں۔ اس لئے زندگی کی بنیادی سچائیوں تک ان کی رسائی ہی نہیں ہے وہ آوارہ گرد ہیں اور آوارہ گردی ہی کو پسند کرتے ہیں اسی میں ان کے پہلوئوں نے عمریں کھپائی ہیں اور اسی میں وہ خود کھپ رہے ہیں۔ پہلوں کی عمر بھی اسی طرح برباد ہوئی اور ان کی بھی ہو رہی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ اللہ رب کریم کا اصول بھی یہ ہے کہ جو بندہ ہی یابندہ ہوتا ہے جو تلاش نہیں کرتا اس کو کبھی نہیں ملتا اور اس طرح جو شخص جس کی تلاش کرتا ہے وہ کچھ اس کو ملتا ہے یہ لوگ جس غلط فہمی میں مبتلا ہیں اس سے نکلنے کی نہ کبھی انہوں نے کوشش کی اور نہ ہی یہ نکل سکیں گے۔ ظن وتخمین حق کا مقابلہ نہ پہلے کبھی کرسکا اور نہ ہی آئندہ کبھی کرے گا۔ پھر آزمودہ را آزمو ون جہل است کے تحت ان کے پیچھے پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنا کام اپنے منہ و دھیان کرنے کی ضرورت ہے جس کو طلب ہوگی وہ خود اس علم کی طرف متوجہ ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ ظن و گمان اور انکل پچو اور وہمی مفروضے خالصتاً دنیوی زندگی کے لئے کارآمد ہیں کہ لگ گیا تو تیر ورنہ تکہ۔ اس لئے دنیوی زندگی کے لئے ان سے کام لینے کی نہ تو ممانعت ہے اور نہ ہی کوئی ناجائز اور حرام ہے بلکہ مے نویس و مے نویس و مے نویس ہی ہوتا ہے اور اس کو آج کل کی زبان میں Try Try Again کا نام دیا جاتا ہے لیکن عقیدہ ٔ آخرت کی مضبوطی کے لئے خالصتاً اس روحانی علم کی ضرورت ہے جو انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) ہی کے ذریعہ سے اللہ نے اپنے بندوں تک پہنچایا ہے اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) نے دنیوی ترقیوں اور ایجادات کے خلاف کبھی اشارہ تک بھی نہیں کیا بلکہ ان کو اچھی نگاہ سے دیکھا ہے ‘ ان کی ترغیب دی ہے اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ اگر کہیں ظن و گمان اور وہمی مفروضوں کی مذمت کی ہے تو وہ وہی ہے جہاں ان وہمی مفروضوں کو آخرت کے اعمال میں دخل انداز ہوتے یا کرتے دیکھا ہے کیونکہ آخرت کے معاملات میں حقیقی علم سے کام لینے کی ہدایت کے لئے ہی تو انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا دنیوی زندگی کی نئی نئی ایجادات کی طاقت و قوت جو انسان کے ساتھ ودیعت کی گئی ہے اس کا ذکر کہیں کہیں انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی تعلیم میں تذکر تاً کیا گیا ہے اور یہی بات قرآن کریم میں اختیار کی گئی ہے کہ جو کچھ بیان کیا ہے محض اشارات و استعارات میں کیا ہے تاکہ ہر دور کا انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق جدوجہد جاری رکھتے ہوئے ان استعارات و اشارات سے کام لے کر اپنی دنیوی زندگی کے سنوارنے میں جدوجہد کرتا رہے اور آخرت کو سنوارنے کے لئے علوم الٰہی کی پیروی میں کے جو کچھ کرے تاکہ اس طرح اس کی دنیوی زندگی بھی سنورے اور آخرت کی زندگی بھی اور اسی نظریہ کے مطابق ہدایت دیئے ہوئے اپنی طلب اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی ہدایت فرمائی کہ اللہ سے اپنی طلب اس طرح مانگوں ۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ و فی الاخرۃ وحسنۃ وقنا عذاب النار۔
Ayah 53:29جو لوگ محض دنیادار ہیں اور آخرت سے بےنیاز ہیں یہی وہ غافل ہیں جو خسارہ میں ہیں
29 ؎ نبی اعظم و اخر ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے رسول ! ﷺ جو شخص ہماری یاد یعنی قرآن کریم سے اعراض کرتا ہے آپ ﷺ اس کی طرف سے منہ پھیر لیں یعنی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور اس کے اعراض کرنے کی پروا نہ کریں اور اپنی جان کو اس غم میں ہلکان نہ کریں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتا۔ جو شخص ایمان نہیں لاتا اور ہماری ہدایت سے روگردانی کرتا ہے وہ سراسر اپنا نقصان کر رہا ہے اور اگر وہ حق کے مقابلہ میں باطل کی پیروی کرنا چاہتا ہے تو ایسا کر کے اس کا نتیجہ دیکھ لے کہ کیا نکلتا ہے۔ (عن ذ کرنا میں (ذکر) سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کو ذکر سے جہاں بھی یاد کیا جاتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور وہ یہاں بھی موجود ہے۔ قرآن کریم لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتا ہے اور اس کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتا ہے غیر اللہ کی پرستش سے روک کر ایک اللہ کی پرستش کا حکم دیتا ہے۔ وہمی مفروضوں اور ظن و گمان سے کام لینے کی بجائے اپنی آخروی زندگی کو سنوارنے کے لئے سنہری اصول بناتا ہے۔ دوسروں کے سہاروں اور آسروں سے نکال کر انسان کو اچھے اعمال کی ہدایت دیتا ہے اور ہر عمل کے ساتھ اس کے نتیجہ کو وابستہ ہونا ضروری قرار دیتا ہے وہ بتاتا ہے کہ اچھا عمل کیا ہے اور برا عمل کیا اور پھر یہ بھی کہ ہر اچھے عمل کا نتیجہ اچھا ہے اور ہر برے عمل کا نتیجہ برا ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس نے یہ اصول واضح فرما دیا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی تعلیم سے اعراض کرتا ہے اس کا مقصد کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ وہ محض دنیا کی زندگی کو زندگی مانتا اور تصور کرتا ہے اور آخرت کی زندگی سے وہ عملاً انکاری ہے خواہ زبان سے اس کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ ہرچیز کی ایک پہچان ہے جس سے وہ پہچانی جاتی ہے ۔ آخرت پر یقین رکھنے والوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ کبھی برا عمل نہیں کرتے اور نیکیوں کی طرف دوڑنا ان کا کام ہوتا ہے اور دنیا کے مال و متاع کی ان کی نظروں میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی وہ دنیا میں رہ کر صرف زندگی گزارتے ہیں اور اپنے آپ کو محض ایک مسافر خیال کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کے اس سفر میں کوئی اچھی یاد چھوڑ جائیں جو آنے والوں کے لئے نشان منزل ہو۔ لیکن ان کے مقابلہ میں دنیا کا طالب جو کچھ کرتا ہے اس کا مطمع نظر صرف دنیا ہوتا ہے اور وہ آخرت سے اس لئے بھی بےنیاز ہوتا ہے کہ آخرت کا تصور اس کے خیال کے مطابق محض ایک ڈھکوسلا ہے جس کی کوئی حقیقت اس کی نگاہ میں نہیں ہے اس لئے وہ رات دن دولت سمے ٹن اور اس کو گن گن کر رکھنے میں مصروف رہتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس طرح کے لوگ ہرگز ہرگز مستحق نہیں کہ آپ ان کے لئے متفکر رہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اگر یہ قصر مذلت میں چھلانگ لگانا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کا جی ڈوبنے کے لئے بےقرار ہے اور پھر جب ایسی بات ہے تو ان کو وب کر بھی آپ ﷺ دیکھ لینے دیں۔
Ayah 53:30ان کے علم کی پہنچ یہیں تک ہے ‘ اللہ تعالیٰ بھولنے والوں اور راہ پانے والوں کو جانتا ہے
30 ؎ انہوں نے جو دنیوی علوم سیکھے ہیں وہ آخرت کے علم سے بالکل بےبہرہ ہو کر سکھے ہیں اس لئے ان کے علوم کی پہنچ بھی اس دنیا تک محدود ہے اور ظاہر ہے کہ جو برتن میں ڈالا جائے گا وہی اس سے نکلے گا نکالنے والا خواہ کوئی ہو وار ان کے ظرف میں جب آخرت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں تو پھر وہ آخرت کے لئے کچھ کریں گے تو آخر کیوں ؟ ان کی دنیوی آنکھ کھلی ہے اور اس سے وہ خوب کام بھی لے رہے ہیں اور کام ہے کہ وہ بھی خوب ہوا چلا جا رہا ہے اور پھر جب وہ دنیوی لذتوں سے باہر نکل کر کچھ دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تو انکو کچھ دکھائی دے گا تو کیوں ؟ دنیوی زندگی کے لئے وہ کوشاں ہیں اور ان کی یہ کوشش کس ورطے پر ہے اور کس کے انحصار پر انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ غور کرتے تو یہ گوہر ان کو اس جگہ سے مل جاتا کہ ان کی دنیوی ترقیوں کا سارا انحصار اس کائنات کی اشیاء پر ہے اور اس کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا خالق حقیقی اللہ رب ذوالجلال والا کرام نہ ہو پھر وہ کتنے بےعقل اور کتنے بےسمجھ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک تخلیق سے دل کھول کر استفادہ کر رہے ہیں اور خالق کو پہچانتے تک نہیں پھر خالق کائنات کا کتنا فیض عام ہے کہ اس نے آج تک ان کی اس ناسمجھی کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور ان کی ان ساری بد اعتدالیوں کے بواجود ان پر اپنے انعامات کی بارش کرتا چلا جا رہا ہے اور پھر اس تعجب پر مزید تعجب ہے کہ وہ کفر و شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور دعویٰ ان کا یہ ہے کہ ہم ہی راہ حق پر گامزن ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی درست ہے ‘ جس منزل پر وہ رواں دواں ہیں یہی اصل منزل مقصود ہے اور پھدر اپنی ان دنیوی ترقیوں کو جو ان کو بطور انعام دی گئی ہیں کیونکہ ان کی ترقیوں کا سارا انحصار اس کائنات کی تخلیق پر ہے اور اس کائنات کی تخلیق میں کسی ایک چیز کی بھی وہ نشاندہی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے یہ خود بنائی ہے۔ ان کی ساری ایجادات کا انحصار دریافت پر ہے اور دریافت کرنے اور تخلیق کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن ان کی کوتاہ عقلی کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے دریافت کرنے کو اصل سمجھ لیا اور تخلیق کرنے والے سے مکمل طور پر منہ پھیر گئے اور اس کے متعلق انہوں نے سوچا تک بھی نہیں کہ یہ کمال ہمارا نہیں بلکہ اصل کمال تو اس ذات خداوندی کا ہے جس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا ہے اور اس کی تخلیق پر ان کی دریافت کا سارا انحصار ہے اور اس کو کہتے ہیں کہ بوٹیوں سے صلح اور شوربے سے بیر اور یہ کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کوڑا کوڑا تھو۔ لاریب یہ سیدھی راہ سے گمراہ ہیں اور شیشے میں منہ دیکھ کر اس پر تھوک رہے ہیں ان کو اتنی خبر نہیں کہ جس منہ پر ہم نے تھوکا ہے وہ تو منہ ہی ہمارا اپنا ہے جس اللہ نے اس شیشہ میں یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ دیکھنے والے کو اس کا منہ دکھاتا ہے اس بات کو وہ سمجھ ہی نہیں سکے حالانکہ وہ ان کے بھٹکنے سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہے اور ہدایت پانے والوں کی ہدایت سے بھی وہ اچھی طرح باخبر ہے اور پھر دنیا کی یہ آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے کہ آخرت کا سارا منظر ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا پھر اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔
Ayah 53:31اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بادشاہی میں کسی کی کوئی حصہ داری نہیں ہے
31 ؎ اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور اس طرح اس زمین کے اندر جو کچھ ہے اور آسمانوں کے اوپر سب کا مالک و مختار اور سب کا علم رکھنے والا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے۔ اسی ذات کریمی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور وہی ہرچیز کا محافظ و نگہبان ہے۔ اسی نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا اور عقل و فکر سے نوازا اور اسی عقل و کر کے باعث ان کو مکلف بنا دیا۔ اس دنیا کے لئے قانون مکافات کو بھی رکھا اور آخرت کے قانون عدل کا بھی واضح الفاظ میں اعلان کردیا اور اس کی حکمتوں کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے ؟ انسان کے اعمال کا یہ حال ہے کہ بعض اعمال وقتی ہوتے ہیں ان کی جزا و سزا بھی وقتی ہوتی ہے لیکن بعض اعمال انسان کے مرنے کے بعد بھی ایک مدت مدید تک باقی رہتے ہیں۔ عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اعمال جو دیر تک زندہ رہنے والوں ہوں ان کا اجر وثواب بھی دیر تک جاری رہے اس لئے اس نے کسی انسان کے اعمال کا بدلہ اس دنیا میں ختم نہیں کردیا بلکہ اس کو مؤخر کر کے اس کے لئے ایک دن مقرر کردیا تاکہ اس دن گزشتہ سارے اعمال کا دروازہ بند کر کے اعمال کرنے والوں کا جو اجر وثواب ان کو ملتا ہے وہ مل جائے۔ تاکہ عدل و انصاف کے سارے تقاضے پورے ہوجائیں۔ لاریب اگر ایک اور صرف ایک دن مقرر نہ کیا جاتا اور اسی طرح اس نظام کو ایک بار ختم کر کے نئے سرے سے نیا نظام قائم نہ کیا جاتا تو عدل و انصاف کا تقاضا پورا ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ ایک بیج جس اصل سے تعلق رکھتا ہو اس اصل کے سارے خواص اس کی اندر لازم و ضروری ہیں اور کوئی بیج ایسا ممکن نہیں جس کا تعلق کسی اصل سے ہو اور اس اصل کے خواص اس میں موجود نہ ہوں۔
اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہر ایک انسان کے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے کیونکہ وہ خود خالق ہے اور خالق سے مخلوق کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی پھر یہ کیونکر مان لی اجائے کہ وہ انسان کے برے اعمال اور اچھے اعمال سے باخبر نہ ہو اور جس طرح وہ ہر ایک انسان کے اچھے اور برے اعمال سے باخبر ہے اور اس نے ہر ایک انسان کو اچھے اعمال کرنے یا برے اعمال کرنے کا اختیار بھی دیا ہے تو ضروری ہے کہ اپنے اختیار سے اچھا کرنے والے کو انعام و اکرام سے نوازا جائے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور برے اعمال کرنے والے کو جب کہ وہ اپنے اختیار سے برے اعمال کر رہا ہے سزا دی جائے اور اس کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے۔ زی رنظر آیت میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے اعمال کا بدلہ دے جس نے برے اعمال کئے ہیں ظاہر ہے کہ وہ سزا کا مستحق ہے اور سزا دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اچھے اعمال کی جزا بھی اچھی ہوگی اور وہ جزا کا مستحق ہے اور جزا دینا اللہ رب کریم کا کام ہے لہٰذا یقینی ہے کہ وہ بدکاروں کو ان کی بدکاریوں کی سزا دے اور نیکوکاروں کو ان کی نیکیوں کی جزا دے اور یہی اس کا اپنا اعلان ہے جو زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات میں کیا گیا ہے۔ (لیجزی الذین اساء و ابما عملوا و یجزی الذین احسنو بالحسنیٰ ) ۔
Ayah 53:32جو لوگ بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں ان کا حال
32 ؎ کبائر کیا ہیں ؟ ان کی پوری وضاحت ہم پیچھے غزوہ الوثقی جلد دوم سورة النساء کی آیت 31 ‘ جلد ہزا سورة ’ الشوریٰ کی آیت 37 میں کرچکے ہیں ان دونوں مقامات کو اچھی طرح دیکھ لیں تو کبائر کی وضاحت آپ کو مل جائے گی۔ فرمایا یہ لوگ کبائر سے اجتناب کرتے ہیں اور بےحاقئی کے کاموں کے قریب نہیں جاتے۔ فواحش۔ فاحش ’ کی جمع ہے اور فاحشتہ اسم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ (قاموس ) ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ابوالفضل) ہر دو چیز جس کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے کردی ہے۔ (منتہیٰ الادب ) برا قول یا عمل۔ (النور : 29) زنا۔ (ابن عباس ؓ) (النساء : 14) برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرنا۔ (قرآن کریم الاعراف : 27) اور ان سب سے واضح معنی قبح کے ہیں کیونکہ جس چیز کی جو حد خالق کائنات نے مقرر کردی ہے اس سے آگے بڑھنا قبح یعنی برائی ہے اور اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو برائی حد سے زیادہ ہوجائے وہ (فاحشتہ) کہلاتی ہے خواہ وہ کس طرح کی ہو۔ ہر رذیل کام کو (فاحشتہ) کہہ سکتے ہیں اور رذائل کی فہرست بہت لمبی ہے۔ فحشا ‘ منکر اور بغی تینوں رذائل ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر ہیں اور ان تینوں میں برائی کی کوئی کمی نہیں ہے ایک سے بڑھ کر ایک برا ہے۔
(اللھم) کیا ہے ؟ (اللھم) چھوٹے گناہوں کو کہتے ہیں۔ (عن ابی ہریرہ ؓ) لیکن بعض نے ان کو کبائر کے نیچے اور صغائر کے اوپر بیان کیا ہے لیکن یہ خواہ مخواہ کا ایک تکلف ہے جو بال کی کھال اتارنے والے اکثر کرتے ہی رہتے ہیں۔ غلطی کرنے والے کو جب اس کی غلطی پر دل ملامت کرے کہ یہ میں نے کیا کیا یا مجھ سے کیا ہوا ؟ تو اس ملامت کرنے سے بعض گناہ محو ہوجاتے ہیں وہ ظاہر ہے کہ صغائر ہی ہیں۔ بعض صحابہ ؓ نے اس کے ضمن میں نظر کرنا ‘ چھوٹا اور بوسہ لینا بھی شامل کیا ہے اور اس طرح آنکھ سے اشارہ کرنا بھی۔ (معجم) اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ انسان سے بعض اوقات ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں کہ وہ کرنے کے بعد خود شرمندہ ہو کر رہ جاتا ہے اور ان غلطیوں کی اشاعت اور ہم جو لیوں میں ہنسی مذاق مین ان کا اظہار ان کے کرنے یا سرزد ہونے سے بھی زیادہ قبیح اور برا ہوتا ہے لیکن ایسی چیزوں کے مرتکب ہونے میں کوئی زیادہ احتیاط نہیں کی جاتی اور اس طرح کی بد احتیاطیاں اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ فرمایا اگر انسان کبائر سے بچنے کی پوری کوشش کرے اور پھر اس طرح کی جو چھوٹی چھوٹی غلطیاں سرز دہوجاتی ہیں ان کے سرزد ہونے کے بعد اللہ سے معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ معاف کردینے والا ہی اور اس کی مغفرت بہت وسیع ہے۔ فرمایا اس اللہ نے تم کو پیدا کیا ہی اور تمہارے سارے کل پرزوں سے وہ خوب واقف ہے۔ اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا گویا زمین کی طرف جھکنے والے کام اس نے فطرت میں رکھ دیئے وہ تمہاری ہر حرکت سے اچھی طرح واقف ہے۔ تم جب اپنی مائوں کے پیٹوں میں تھے تو وہ تمہاری ان حرکتوں سے واقف تھا کہ مولوی صاحب نے بڑے ہو کر کیا کچھ کرنا ہے۔ مزید وضاحت فرما دی کہ زیادہ پاک بننے کی کوشش نہ کرو تمہاری خلوت کی ساری کار ستانیوں سے وہ خوب واقف ہے اور تمہارے اندر جہاں جہاں کوئی کمزور رگ ہے وہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تمہارے دل کی دھڑکن سے بھی اور رگ کی پھڑک سے بھی ‘ تمہاری کوئی حرکت اس سے پوشیدہ نہیں اور تم جس میدان کے شہسوار ہو اس سے کچھ بھولے ہوئے نہیں ہو۔ یہ بات زور دے کر اس لئے فرما دی کہ بعض کم ظرف لوگ اپنی نیکیوں پر اترانے لگتے ہیں اور دراصل ان کا اظہار چاہتے ہیں اور اظہار کے لئے بڑے بڑے عجیب طریقے استعمال کرتے ہیں دوسروں کو اپنی پارسائی اور پرہیزگاری کی باتیں خوس ہو کر سناتے ہیں ‘ نیکی لاریب نیکی ہے لیکن اپنی نیکی کا اظہار نیکی کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ خود نمائی اور خود ستائی سارے اعمال حسنہ کو تباہ کردیتی ہے اس لئے نع فرمایا جا رہا ہے کہ لوگوں پر اپنے تقویٰ اور پرہیزگاری کا رعب جمانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ یہ عادت اچھی عادت نہیں۔ بعض اوقات اس سے کی گئی بھلائی بھی برائی میں بدل جاتی ہے۔ اور خوب یاد رکھو کہ تم ٹپک کر نکلنے ولے پانی سے پیدا ہونے والے ہو اس لئے گناہ سے آلودہ ہونے میں تم کو دیر نہیں لگے گی۔ شیخی نہ بگھارو اگر نیکی کی توفیق ملی ہے تو اللہ کا فضل سمجھو اس طرح اگر کسی برائی سے بچ گئے ہو تو اللہ کا احسان مانو اگر تمہاری کارستانیوں پر پردہ پڑا ہوا ہے تو تم خود ہی اس پردہ کو فاس نہ کرو بلکہ بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو جائو۔ (اجنتہ ) بچے جو پیٹ میں ہوں ۔ جنین کی جمع ہے یعنی بچے جو ابھی پیٹ ہی میں ہوں (اجنتہ ) کہلاتے ہیں۔
Ayah 53:33کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا
33 ؎ (افرء یت) کیا پس تو نے دیکھا ؟ تو نے یعنی اے پیغمبر اسلام ! تو نے دیکھا ؟ ظاہر ہے کہ جس شخص کی بات ہو رہی ہے اس کا واقعہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے گزر چکا ہے۔ (الذی) اس شخص کو (تولی) اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ ” اے پیغمبر اسلام ! تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے منہ پھیرلیا۔ “ یہ شخص کون تھا ؟ اس کے متعلق بعض مفسرین نے ولید بن مغیرہ بعض نے نفر بن الحرث اور بعض نے عاص بن وائل مراد لیا ہے۔ لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ تینوں اسلام کی طرف رغبت رکھتے تھے اور آپ ﷺ کی خدمت میں ایک دوسرے سے چھپ کر آتے تھے۔ قرآن کریم سنتے تھے اور اس کلام کی تعریف کرتے تھے لیکن اپنے اپنے احباب اور رشتہ داروں کے خوف سے رکے رہے اور اسلام کو قبول نہ کیا حالانکہ ان کے دل مانتے تھے اور خصوصاً ولید بن مغیرہ کے متعلق اکثر نے بہت کچھ بیان کیا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ شخص وہ ہے جس کے ہق میں سورة عبس کی شروع کی آیات نازل ہوئیں اور جس نے عبداللہ بن ام مکتوم کو دیکھ کر منہ پھیرا اور تیوری چڑھائی تھی اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب وہ شخص نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھا تھا اور آپ ﷺ کی باتیں سننے کے لئے اس مجلس میں آ بیٹھے اور اس شخص کے ساتھ چونکہ وہ بھٹم گئے اس لئے اس نے منہ پھیرا اور تیوری چڑھا کر عبدلالہ ابن ام مکتوم سے مخاطب ہوا۔ خواہ وہ شخص ان تینوں میں سے کوئی ایک تھا جن کا ذکر مفسرین نے اس جگہ کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے (عبس و تولی) کا فاعل محمد رسول اللہ ﷺ کو بتایا ہے جو بالکل غلط اور کسی حال میں بھی صحیح اور درست نہیں ہو سکتا۔ خاکم بدہن کہ میں (عبس و تولی) کا فاعل محمد رسول اللہ ﷺ کو قرار دوں جس کا فاعل ایک کافر ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں مفسرین نے خود (الذی تولی ) سے مراد کافر ہی لیا ہے خواہ وہ ولید بن مغیرہ ہے یا کوئی دوسرا۔ لکنا جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہم زیر نظر آیت میں اس شخص کو مراد لیتے ہیں جس نے عبداللہ ابن ام مکتوم کو دیکھ کر اور ان کی بات کو سن کر تیوری چڑھائی تھی اور منہ موڑا تھا۔ چونکہ یہ واقعہ معروف تھا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے پیش آیا تھا لہٰذا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس جگہ اس طرح بیان کردیا۔ رہی سورة عبس والی بات جس کے متعلق ہم نے اشارہ کیا ہے تو ہم کو معلوم ہے کہ ہمارے بزرگ سید مودودی رحمتہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر میں اسی طرح تحریر کیا ہے کہ ” مفسرین و محدثین نے بالاتفاق اس سورت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں مکہ معظمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے تھے اور حضور ﷺ ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرما رہے تھے ۔ اتنے میں ابن ام مکتوم نامی ایک نابینا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ حضور ﷺ کو یہ مداخلت ناگوار ہوئی اور آپ ﷺ نے ان سے بےرخی برتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سورت نازل ہوئی۔ ” لیکن ہم نے اس واقعہ کو اس طرح تسلیم نہیں کیا بلکہ واضح کیا ہے کہ جو سردار محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے کسی ایک نے ابن ام مکتوم کی مداخلت کو پسند نہ کیا حالانکہ ان کی مداخلت بےجا نہ تھی اور نہ ہی آپ ﷺ کی یہ مجلس کوئی نجی قسم کی مجلس تھی۔ سرداران قریش کو ابن ام مکتوم ؓ کا آنا ہی ناگوار گزارا اور ان میں سے جس شخص کے قریب ابن ام مکتوم بیٹھے اس نے تیوری چڑھائی اور ابن ام مکتوم سے منہ پھیرا لیکن تفصیل کا یہ موقع نہیں اس لئے تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ اس جگہ صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ زیر نظر آیت سورة النجم کی 23 ویں آیت ہے اس میں جس کافر کے منہ پھیرنے کا ذکر ہے اس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے یہ وہی کافر ہے جو (عبس و تولی) کا فاعل بنا۔ سید صاحب ؓ نے جو مفسرین کی ترجمانی کی ہے وہ ہمارے خیال میں صحیح نہیں اور ہم سختی سے اس کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 53:34وہ تھوڑا سا آگے بڑھتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے
34 ؎ (اعطیٰ ) ” اس نے دیا “ (اعطاہ) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس جگہ دینے سے مراد فرمانبرداری کرنا اور بات کو سن کر مائل ہونے کے ہیں یعنی اس نے قرآن کریم جیسا کلام سنا تو فرمانبرداری کی طرف مائل ہوا لیکن جب اپنے سرداروں اور ساتھیوں کی باتیں سنیں تو پھر قدم پیچھے ہٹا لیا اور اسلام کو قبول کرنے کی جرأت پیدا نہ ہوئی۔ حالانکہ اس کے لئے مائل بہ اعتراف تھا اور بات کو قبول کرنے پر دل آمادہ ہوتا تھا۔ (اکدی) وہ پتھر کی طرح سخت نکلا۔
(اکدہ) سے جس کے معنی زمین کے پتھر کی طرح سخت نکلنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (اکدہ) اصل میں کدیتہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی زمین کے سخت ہونے کے ہیں۔ چناچہ جب کنواں کھوایا جائے اور اس میں کوئی ایسا پتھر نکل آئے جو کھودنے سے عاجز کر دے تو اس وقت کہتے ہیں فدا کدی یعنی بہت سخت نکلا۔ پھر اہل عرب اس کا استعمال اس شخص کے متعلق کرنے لگے جو کچھ دے کر رک جائے اور پورے طور پر عطا نہ کرے یا ذرا طلب کرے اور پھر طلب کرنے سے باز رہے۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ کفر میں رہنے کے باوجود منافقت سے کام لیتے رہے کہ اسلام کی طرف مائل ہونے کے باوجود کفر پر قائم رہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو وقت نے مہلت نہ دی کہ وہ بھیڑ چال کے تحت اسلام میں داخل ہوجاتے کیونکہ اس وقت اسلام میں داخل ہونا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا۔ وہ اسلام کی دعوت سے متاثر تھے لیکن اعلان کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے اور یہ ہمت محض ان کے نفاق کے باعث ان کو میسر نہ آئی اور بلاشبہ سرداران قریش میں ایسے لوگوں کی کمی نہ تھی اور آج بھی وڈیروں کی تقریباً یہی حالت ہے جو اس وقت تھی کہ صحیح اور سچی باتوں کو ان کے دل قبول کرتے ہیں لیکن رسم و رواج اور اکثریت کا ہوا ان کو وہیں کھڑا رہنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ اس کے ہاتھوں ہمیشہ مجبور رہتے ہیں۔
Ayah 53:35کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے ؟
35 ؎ دنیا میں ہمیشہ سے ایسے لوگ رہے ہیں۔ اس وقت بھی موجود ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گے جو ہمیسہ اس طرف کو دیکھتے ہیں جو طرف ان کو بھاری نظر آتی ہے اور اپنی طرف سے وہ اپنے آپ کو بہت سمجھدار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ہر مجلس کے سرخیل بننا پسند کرتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر آدمی ان کی بات کو پسند کرے اور ہر آدمی ان کو اچھا سمجھے۔ وہ قدم رکھتے ہیں تو بہت سنبھل کر ‘ بات کرتے ہیں تو ہر بات میں رخنہ رکھنے کے عادی ہوتے ہیں اس لئے ان کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس ایسی عینک موجود ہے جس کو لگا کر انہوں نے اسلام کی تحریک کو اندر سے دور دور تک دیکھ لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ اسلام بڑھنے اور پھولنے والا پودا نہیں اور اگر انہوں نے اس کا ساتھ دیا تو وہ اپنے ماحول اپنے خاندان اور اپنی برداری میں اپنی ساکھ کھو دیں گے اور ان کو فائدے کی بجائے الٹا نقصان کا زیادہ احتمال ہے اس لئے وہ دودھ کے جلے لسی کو پھونک پھونک کر پی رہے ہیں۔
Ayah 53:36کیا اس کے پاس وہ خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے
36 ؎ گزشتہ آیت میں جس کردار کے لوگوں کی بات کی جا رہی تھی اس کردار کے لوگوں کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ کیا ان لوگوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف نہیں پہنچے اور یہ بات اس لئے فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف یعنی تورات میں یہ تعلیم موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال کبھی ضائع نہیں جاتا اور اسی طرح یہ بھی کہ ایک کے جرم میں دوسرا نہیں پکڑا جاتا خواہ وہ کتنا ہی قریب کا تعلق کیوں نہ رکھتا ہو یہاں تک کہ بیٹے کے عوض میں باپ یا باپ کے عوض میں بیٹا نہیں پکڑا جاسکتا اور جب اتنے قریب کے تعلق میں یہ بات تسلیم ہے تو دور کے تعلق والا کیسے پکڑا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ لوگوں نے اسلام کے اصول پر کم ہی دھیان دیا ہے۔
Ayah 53:37ابراہیم کے صحیفوں میں یہ بات اسی طرح موجود تھی جو صاحب وفا تھا
37 ؎ جو تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ نے دی یہ کوئی نئی تعلیم نہ تھی بلکہ یہ تو وہی پرانی تعلیم ہے جس کا درس موسیٰ (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اپنے دور میں دے چکے ہیں اور جس طرح یہ تعلیم قرآن کریم میں موجود ہے اسی طرح پہلی کتابوں تورات اور صحائف ابراہیم میں بھی موجود تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف کے متعلق تو اوپر ذکر کردیا گیا کہ وہ تورات کی صورت میں آج بھی موجود ہے اگرچہ اس میں تحریف ہوچکی ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں ؟ کیا اس تورات کے اندر وہ بھی داخل ہیں یا ان کی اصل دنیا میں موجود ہی نہیں رہی ؟ بہرحال قران کریم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور خصوصاً توحید کے باب میں تو بہت کچھ ہی بیان کیا ہے لیکن آپ کے صحائف کا نام ایک بار سورت میں اس جگہ اور دوسری بار سورة الاعلیٰ میں بطور ذکر بیان کیا ہے لیکن آج دنیا میں ان کی اصل یا ان کا ترجمہ کسی صورت میں بھی موجود نہیں پایا گیا۔ اس لئے جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ہم اسی پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں اور سوائے صحائف ابراہیم کے نام کے کچھ نہیں کہہ سکتے اور رسمی طور پر یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہر نبی و رسول کی بنیادی تعلیم صرف اور صرف ایک ہی جیسی تھی۔ اصولوں میں کبھی بھی کسی کی تعلیم میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس جگہ (الذی وفی) کی صفت کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے یعنی وہ جس نے اپنے پروردگار کی احکام کی تعمیل کا حق ادا کردیا اور جس نے اپنے رب کریم کا ہر عہد پورا کیا۔ خیال رہے کہ سارے نبیوں اور رسولوں نے اپنے رب کے احکام کو پورا کیا اور کسی نے بھی احکام ماننے میں ذرا برابر کوتاہی نہی کی۔ اس طرح سارے نبی و رسول ہی سچے اور صادق الوعد تھے کسی نبی و رسول نے بھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا لیکن اس کے باوجود کسی نبی و رسول کے لئے کوئی وجہ امتیاز ہوئی اور کسی کے لئے کوئی اور اس طرح سمجھ میں آتا ہے کہ یہ علم الٰہی کا مسئلہ ہے کہ جس نبی و رسول پر جو اتہام بعد میں کسی زمانہ پر لگایا جانے والا تھا اس نبی و رسول کے متعلق اس کی نفی لازماً کردی گئی مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے تذکرہ کو لے لیجئے۔ آپ (علیہ السلام) کے بارے میں مخصوص طور پر ذکر کیا گیا کہ (انہ کان صدیقا نبیا) کہ ” بلاشبہ وہ ایک سچا نبی تھا “ اور آپ (علیہ السلام) کی سچائی کی صفت کو کیوں اجاگر کیا گیا ؟ اس لئے کہ بعد میں آنے والوں نے آپ کے متعلق تین جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرنا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی سچائی کا آپ پر الزام لگائے جانے سے پہلے ہی اعلان کردیا کہ وہ ایک سچا نبی تھا۔ اس لئے اس کا مفہوم یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ کوئی نبی و رسول ایسا بھی ہو سکتا تھا جو سچا نہ ہوتا۔ اس طرح اس جگہ آپ کی صفت (ولی) کو اجاگر کردیا گیا اور اس کی وضاحت ہم نے غزوہ الوثقی جلد اول سورة البقرۃ کی آیت 124 میں کردی ہے جہاں بیان کیا گیا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش اللہ تعالیٰ نے کی تو وہ آزمائش میں پورا اترا اس کے بعد اس بنیادی تعلیم کا ذکر بھی کردیا کہ وہ کیا ہے۔