53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

(کہ) کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا

بنیادی تعلیم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا 38 ؎ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں کا ذکر کر کے اس بنیادی تعلیم کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے جو بنیادی تعلیم سرے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام اور خصوصاً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول اللہ ﷺ میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں ہے اور ہر ایک کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ اس طرح گویا سارے گروہوں کے مشترکہ عقیدہ کی مکمل تردید کردی جو سب کے سب لوگوں میں کسی نہ کسی رنگ میں چلا آ رہا ہے۔ وہ عقیدہ کیا ہے ؟ وہ عقیدہ یہ ہے کہ پہلے و قیامت و یا مت کچھ ہوگی نہیں اور اگر ہوگی بھی تو ہمارا فلاں فلاں اور فلاں سفارشی موجود ہے وہ ہماری سفارش کر کے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے غزوہ الوثقیٰ ‘ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 164 ‘ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 15 ‘ جلد ہفتم سورة فاطر کی آیت 18 ‘ سورة الزمر کی آیت 7 میں کرچکے ہیں وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔ خیال رہے کہ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت اس لئیہوئی کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے قبل یہ قانون رائج تھا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کرتا تو اس کے عوض میں اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی قتل کر دیاجاتا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے قبل کسی نبی و رسول کی تعلیم میں ایسا کرنا جائز رکھا گیا تھا نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ عام لوگوں میں اس سیاہ قانون کی پیروی کی جاتی تھی اور اگر آپ غور کریں گے تو ہمارے ہاں آج تک یہی قانون رائج چلا آتا اپ کو دکھائی دے گا کہ ایک خاندان کے آدمی نے اگر کسی دوسرے خاندان کے آدمی کو قتل کردیا ہو تو وہ خاندان جس کا آدمی قتل ہوا قاتل کے خاندان کے کسی آدمی سے بھی اس کا بدلہ لے سکتا ہے یعنی مقتول کے خاندان کا ہاتھ پڑا تو وہ قاتل کے خاندان کے کسی آدمی کو بھی قتل کر کے اپنے مقتول کا بدلہ لے لیں گے۔ یہی کچھ اس وقت ہو رہا تھا اور قرآن کریم نے اس کی وضاحت کردی ہے کہ یہ ظالمانہ قانون ہے جو کسی حال میں بھی جائز اور درست نیں ہو سکتا۔ لیکن جیسا کہ اوپر ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس کو کسی جماعت نے بھی برا نہ کہا بلکہ سارے گروہ خاموشی کے ساتھ خاموش ہی رہے بلکہ ہر گروہ کا یہی دستور رہا جس دستور کا اوپر ذکر کیا گیا۔ لیکن ایسا کرنے والوں نے بھی اس قانون کو جائز اور درست تسلیم نہیں کیا اگرچہ عمل اس کے خلاف ہوتا رہا اور اب بھی ہو رہا ہے۔ زیر نظر آیت کی پوری وضاحت سورة فاطر کی آیت 18 میں کردی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ بعض آیات میں یہ بھی آیا ہے کہ ” وہ ضرور اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اور قیامت کے روز ان سے ان افترا پردازیوں کی بازپرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔ “ (العنکبوت : 13) اور اس سے بھی واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ باتیں وہ اس لئے کر رہے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ ان لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بربنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں۔ دیکھو یہ کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ لوگ اپنے ذمہ لے رہے ہیں۔ “ (النحل 16 : 25) بطاہر یہ آیتیں جن کا ترجمہ اوپر ذکر کردیا گیا اور بعض احادیث اس آیت سے متعارض ہوتی ہیں جیسا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا یہ ارساد کہ : (من سنتہ سیئتہ و زرھا و وزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ ) (آخر جہ احمد و مسلم من حدیث جریر بن عبداللہ) ” جو شخص برا طریقہ رائج کرتا ہے اس پر اس کا بوجھ بھی لادا جائے گا اور قیامت تک جو لوگ اس طریقہ کو اختیار کریں گے ان کا بوجھ بھی اس پر لادا جائے گا “۔ (اس حدیث کو احمد اور مسلم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے) اور ایک اور حدیث میں ہے کہ : (اذا انزل اللہ بقوم عذابا اصاب ال عذاب من کان فیہ ثم بعثوا علی اعمالھم ) (بخاری و مسلم عن عبداللہ بن عمر ؓ) ” جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ عذاب نازل کرتا ہے تو اس قوم کے تمام افراد نیک و بد اس عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں پھر قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے “ سورة العنکبوت اور سورة النحل کی آیات اور مذکورہ اہادیث اور ان احادیث جیسی دوری احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب ان لوگوں پر بھی نازل ہوتا ہے جو مجرم نہیں ہوتے گویا بعض کے جرم کا وبال بعض پر پڑتا ہے حالانکہ زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری بہت سی آیات اس کی تردید کرتی ہیں اس لئے اس کی وضاحت سمجھ لیں تاکہ ابہام نہ رہے۔ ان احادیث اور آیات میں تو کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بوجھوں کو جو ان پر لادا جائے گا تو دراصل وہ بوجھ ان ہی کے ہوں گے کیونکہ انہوں نے ایسے طریقے رائج کئے جن پر دوسروں نے عمل کیا حالانکہ وہ طریقے برے تھے اس طرح گویا انہوں نے ایک برائی کو رواج دے کر جو برا کیا اس برائی کا وبال ان پر پڑنا چاہئے تھا کیونکہ یہ متعدی بیماری ان ہی نے پھیلائی تھی اگر اس طرح کوئی سخص نیکی کو پھیلا دے تو اس کو اپنی نیکی کے ساتھ دوسروں کی نیکی کا اجر بھی ملے گا جنہوں نے کسی نیکی پھیلانے والے کے باعچ یہ نیکیاں کیں اس طرح گویا ابتداً برائی کرنے والے نے اپنے عمل میں ایک راستہ کھولا اور پھر اس راستہ پر چل نکلنے والوں کے ساتھ اس کا عمل بھی شامل ہوگیا جس نے ابتداً یہ راستہ کھولا اور اس طرح ان احادیث نے تو اوپر والی آیات کی مزید وضاحت کردی اور آیات کے درمیان بھی تضاد نہ رہا جب ہم کو معلوم ہوگیا کہ دوسروں کے جو بوجھ ان پر پڑے دراصل وہ بوجھ ان کے اپنے ہی تھے کیونکہ انہوں نے ابتداً ایک برائی کر کے بڑے عمل کی داغ بیل ڈال دی اور اس طرح داغ بیل ڈالنے میں ان اپنے کے عمل ہی کو دخل تھا پھر وہ خود اگرچہ نہ رہے لیکن ان کا یہ برا عمل تو بدستور رہا اور جب عمل بدستور جاری رہا تو ظاہر ہے کہ اس عمل کا نتیجہ بھی اس کے ساتھ لازمی رہنا چاہئے تھا اور ان آیات میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لاریب اس آیت سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ” قرآن خوانی کا ثواب مردوں کو پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ تو اس کا جواز بیان فرمایا اور نہ ہی اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی ‘ نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ کسی فرمان کے ذریعہ سے ‘ نہ کسی طرح کے اشارہ و استعارہ سے اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے خود ایسا فعل و عمل کیا اور ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام ؓ میں سے بھی کسی ایک سے یہ بات ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن کریم پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ کسی میت کے لئے بھیجا ہو۔ “ ابن کثیر) اگر یہ نیک کام ہوتا اور مرنے والوں کے لئے مفید ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ نیکیوں میں سبقت کرنے والے صحابہ کرام ؓ تھے اور یہ بات بھی واضح رہے کہ نیکیوں کے کام قران کریم اور احادیث کے صاف فرمان سے ہی ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کی رائے ‘ قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ہاں ! انسان کے مرنے کے بعد معا اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لن کے کچھ اعمال ایسے بھی ہوتے ہیں جو مرنے والے کے مرنے کے ساتھ منقطع نہیں ہوتے اور وہ تین قسم کے ہیں : (1) نیک اولاد جو والدین کے لئے دعا کرے یا جب کہ وہ کوئی نیک عمل کرے۔ (2) صدقہ و خیرات وج مرنے والے نے خود کیا یا اس کی خواہش تھی لیکن وقت نہ ملا یا مال میسر نہ آیا اس طرح جو صدقہ و خیرات اس نے کیا وہ اس کا عمل تھا جو جاری رہا لیکن خود عمل کرنے والا موجود نہ رہا۔ (3) وہ لم جو اس نے کسی کو سکھایا اور محض رضائے الٰہی کے لئے سکھایا۔ علم سکھانے والا نہ رہا لیکن اس کا یہ عمل بدستور جاری رہا ‘ لوگ اس سے نفع اٹھاتے رہے۔ اور اب غور کرو تو یہ تینوں ہی چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں خود مرنے والی کی سعی و کوشش شامل ہے اور اس طرح گویا ان اعمال میں وہ باقاعدہ ہصلہ دار ہیں اور اس کی ہصہ کا اجر اس کو ملنا چاہئے۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة یٰسین کی آیت 12 میں کرچکے ہیں۔ اور ایک بار پھر اس کا خلاصہ سن لیں اور یاد رکھیں کہ ” انسان کا نامہ اعمال تین قسم خے اندراجات پر مشتمل ہے۔ (1) ایک یہ کہ جو شخص بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ (2) دوسرے اپنے گرد و پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضا پر جو نقوش بھی انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے ہیں اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح ابھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سنی جائے گی اور اس کے اپنے خیالات ‘ نیتوں اور ارادوں تک کی پوری داستان اس کے لوح ذہن پر لکھی نظر آئے گی اور اس کے ایک ایک اچھے یا برے فعل و عمل اور اس کی تمام ہر کات و سکنات کی ساری تصویریں سامنے آجائیں گی۔ (3) تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی آئندہ نسل پر ‘ اپنے معاشرہ پر ‘ اپنے ماحول پر اور اسی طرح پوری انسانیت پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے جو اثرات وہ چھوڑ گیا ہے وہ جس وقت تک اور جہاں جہاں تک کار فرما رہیں گے وہ سب اس کے حساب میں لکھے جاتے رہیں گے۔ اپنی اولاد کو جو بھی اچھی یا بری تعلیم اس نے دی ہے اور اپنے معاشرے میں جو بھلائیاں یا برائیاں بھی اس نے پھیلائی ہیں اور انسنایت کے لئے جو پھول یا کانٹے بھی اس نے بوئے ہیں ان سب کا پورا پورا ریکارڈ اس وقت تک تیار کیا جائے گا جب تک اس کی لگائی ہوئی یہ فصل دنیا میں اپنے اچھے یا برے پھل لاتی رہے گی۔ حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر کھانا انسان کی اپنی کمائی ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی میں داخل ہے کیونکہ اس کی حاصل کردہ چیز ہے لہٰذا اولاد کے اچھے اعمال کا صلہ والدین کو خود بخود ہی ملتا رہے گا اس کے لئے کسی بھیجنے والے اور اس کی ساتھ دوسرے سارے لوازمات جو ثواب پہنچانے کے ٹھیکیداروں نے لگا لئے ہیں ان کی کوئی ضرورت نہین اور نہ ہی ان ٹھیکیداروں کی ٹھیکہ داری کا کوئی جواز ہے۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ ہر انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

اور یہ کہ ہر انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے 39 ؎ ” انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے “ آیت زیر نظر مفسرین کے درمیان ایک معرکتہ الآرا بن کر رہ گئی ہے اور اس پر عجیب عجیب بحثیں اٹھائی گئی ہیں اور بات سے بات نکالتے ہوئے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے لئے متداول تفاسیر کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔ کہیں عذاب وثواب کی بحث ہے کہ آیا مرنے والوں کو زندوں کا بھیجا ہوا ثواب ملتا ہے یا نہیں ؟ اور کہیں دنیوی زندگی پر بحث ہے کہ انسان کے لئے اپنی اپنی کمائی کا اصول قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور کسی ایک کی کمائی میں دوسرے کا کوئی حق نہیں اس آیت میں اس طرح کی وضاحت کی گئی ہے اور پھر اس پر اشتراکیت کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اس طرح ثابت کیا گیا ہے کہ ہر انسان صرف اسی چیز کا حق دار ہے جو اس نے اپنی محنت اور کوشش سے ہاصل کی ہو اور اپنے اس نظریہ پر قرآن کریم کی اس آیت کو پیش کی ا ہے۔ ہمارے خیال میں اس طرح کی ساری بحثیں اختراعی ہیں اور قرآن کریم کی یہ آیت ان بحثوں کی متحمل نہیں ہے۔ پیچھے سے جو مضمون چلا آ رہا ہے اس پر غور کرنے اور آگے جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کو اپنے اصل مقام سے اٹھا کر باہر رکھا گیا ہے اور اس کے بعد اپنی من مانیوں کے لئے اس کو دلیل بنایا گیا ہے اور اس طرح قرآن کریم کی کتنی آیات ہیں جن کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا ہے حالانکہ ان بحثوں کا وہاں کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ بات بالکل سیدھی اور صاف تھی کہ انسان کے اندر جو طاقتیں وار قوتیں ودیعت کی گئی ہیں ان میں سے جس کے لئے انسان کوشش کرتا ہے اس کو حاصل کرلیتا ہے اور باقی ساری طقتیں اور قوتیں خفتہ رہتی ہیں اور بیدار نہیں ہوتیں جس کا صاف اور سیدھا مطلب جو بندہ یا بندہ ہے جو جس چیز کی تلاش کرتا ہے یقینا اس کو پا لیتا ہے اور اس طرح یہ بھی کہ اگر اس کی سعی و کوشش فقط اس دنیوی زندگی کے لئے ہوتی ہے تو اس کو اس دنیوی زندگی میں ملتا ہے اور اگر اس کی کوشش آخرت کے لئے بھی ہوتی ہے تو وہ آخرت کے آرام و آسائش کو بھی حاص کرلے گا اللہ کے ہاں اندھا کھاتہ اور اندھیر نگری نہیں ہے اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا بلکہ ہر انسان جتنی کوشش کرتا ہے اور جس چیز کی کوشش کرتا ہے اس کو مل جاتی ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ اس معاملہ میں چور نہ ہو کہ کرے کچھ اور کہے کچھ یا عملی محنت و مشقت نہ کرے اور صرف زبانی جمع تفریق کرتا رہے اور یہ بھی کہ دوسروں کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش نہ کرے بلکہ محنت و مشقت کا عادی ہو پھر جس کام کے لئے وہ محنت کرے گا اس کو حاصل کرلی گا۔ مثلاً ایک شخص دنیوی کاروبار کے لحاظ سے حداد ہے اور دوسرا نجار تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حداد حدادی کے لئے پیدا ہوا تھا اور نجار نجاری کے لئے یا حداد میں حدادی کی صلاحیتیں ودیعت تھیں اور نجار میں نجاری کی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نجاری پیشہ اختیار کرنے والے نے اس کے لئے کوشش وسعی کی اور اس کو حاصل کرلیا اور دوسرے نے حدادی کے لئے محنت و کوشش کی تو وہ حداد ہوگیا اگر ان کی کوشش اس کے بالکل برعکس ہوتی تو نتجہا بھی بالکل اس کے برعکس برآمد ہوتا اس پر ساری محنتوں اور کوششوں کو پرکھتے چلے جائو تو اس نتیجہ پہنچو گے کہ صلاحیتیں ہر طژرح کی انسان میں اللہ نے ودیعت کردی ہیں پھر انسان جس طرح کی سعی و کوشش کرتا ہے اس طرح کا نتیجہ حاصل کرلیتا ہے اور جو نجار ہے وہ حداد ہو سکتا تھا اور جو حداد ہے وہ نجار ہو سکتا تھا اور اب بھی ہو سکتا ہے معاملہ صرف کاوش و محنت کا ہے جس کو قران کریم نے (سعی) سے تعبیر کیا ہے اور یہی حال آخرت کے معاملات کا ہے کہ جو شخص آخرت کی فکر کرتا ہے اور پھر اس کے لئے کوشش و سعی کرتا ہے وہ یقینا آخرت میں کامیاب ہوگا اور جس نے اس کی فکر ہی کبھی نہیں کی وہ مہض دنیا ہی کا ہو کر رہ گیا ہے تو اس کے لئے قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ (مومالہ فی الآخرۃ من خلاق) (البقرہ 2 : 200) اور زیر نظر آیت میں ذکر آخرت ہی کی سعی و کوشش کا ہے۔ اشتراکی ذہن کے مالکوں نے کو اہ مخواہ بحث شروع کی ہے اور اس دور میں دوسری گمراہیوں کے ساتھ یہ گمراہی بھی عام ہے کہ جو شخص جس بات کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لئے قرآن کریم کی آیات کا سہارا ڈھونڈتا ہے اور کسی نہ کسی طرح سے الٹا سیدھا کر کے اپنے مطلب کی بات نکال ہی لیتا ہے۔ آپ کو کبھی اتفاق ہوا تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خاندانی منصوبہ بندی والوں نے ‘ بینکاروں نے احتکار کرنے والوں نے ‘ انشورنس والوں نے ‘ لاٹریاں ڈالنے والوں نے اقساط پر چیزیں فروخت کرنے والوں نے ‘ ادھار بیچنے والوں نے ‘ نقد کی قیمتیں الگ اور ادھار کی قیمتیں الگ رکھنے والوں نے ‘ بیمہ کرنے والوں نے ‘ سٹہ بازوں نے ‘ نیلام کرنے والوں نے ‘ نیالمگ ھر والوں نے ‘ اشیاء کی قیمت کے ساتھ مفت چیزیں دینے والوں نے ‘ انعما کی پرچیاں نکالنے والوں نے بانڈ بھرنے والون نے ‘ سینما گھر چلانے والوں نے کتاب و سنت سے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے اور باقاعدہ آیات قرآنی اور احادیث ان کے جواز کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ تعجب یہ ہے کہ ان شعبدہ بازوں نے جنہوں نے ثواب پہنچانے کے ٹھیکے لے رکھے ہیں انہوں نے بھی اس آیت قرآنی سے استدلال کر کے اپنے کاروبار کو چمکایا ہے اور قرآن خوانی ‘ تیسرے ‘ ساتویں ‘ دسویں ‘ اور چالیسویں کی رسومات کے ادا کرنے کے لئے جواز کے طریقے اس آیت کے تحت بیان کئے ہیں اور قوم کی ایسی مت ماری ہے کہ پوری قوم کی قوم کو اس کام پر لگا دیا ہے بلکہ فی زمالنا اسلام نام ہی ان رسومات کے ادا کرنے کا رکھ دیا گیا ہے اور جو ان رسومات کو ادا نہ کرے اس کو مسلمان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمارے پیر کرم شاہ صاحب نے ان کے جواز کے لئے اپنے مکتبہ فکر کو خوش کرنے کے لئے خوب زور لگایا ہے اور ہمارے سید مودودی صاحب (رح) نے بھی اس کے جواز میں گفتگو کی ہے اور سواد اعظم کو امام اعظم کے فتویٰ سے اچھی طرح آگاہ کیا ہے تاکہ ” خلافت و ملوکیت “ کے سارے داغ دھبے صاف ہوجائیں اور وقتی مصلحت بہت ساری بحثوں کا خود بکود قل قمع کر دے تاہم اس موضوع سے ہم درگزر کر رہے ہیں کیونکہ اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر کی جا چکی ہے خصوصاً غزوۃ الوثقی جلد ہفتم ص 196 تا 210 ملاحظہ کریں۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس کی کوشش جلد ہی سامنے آجائے گی

اور بلاشبہ اس کی کوشش جلد ہی سامنے آجائے گی 40 ؎ غور کرو کہ اگر یہ بات ہوتی جو اشتراکی ذہن رکھنے والوں نے بنائی ہے یا وہ بات ہوتی جو ثواب کے ٹھیکہ داروں نے مردوں کی بخشش کے لئے اختراع کی ہے تو اس آیت کا مفہوم کیا ہوتا جو سعی و کوشش کرنے والے کو مخاطب کر کے کی جا رہی ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے لمحات کو جن مقاصد کے لئے صرف کر رہا ہے اور اپنی ساری قوتیں اور توانایاں ان کے حصول کے لئے وقف کئے ہوئے ہے قیامت کے روز ان کی پوری جانچ پڑتال کی جائے گی اور اس کے مقاصد اور اس کی نیت کے مطابق اس کی کو شس و سعی کے نتائج برآمد ہوں گے اس لئے آج ہی اپنے اعمال کا خود احتساب کیا کرو تاکہ قیامت کے روز تمہیں نادم اور شرمسار نہ ہونا پڑے۔ غور کرو کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ ہر ایک انسان جو اس نے جدوجہد اور کوشش کی ہے اس کو اپنے سامنے دیکھے گا اس لئے جو کچھ آنے والے دن میں اس کو دیکھنا ہے اس کے متعلق اس کو فکر ہونی چاہئے تھی۔ اور اس کے متعلق اس کو محاسبہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ کود احتساب کر کے دیکھ لیتا اور اچھی طرح جانچ لیتا کہ ایسا نہ ہو کہ جب میری کوشش و سعی کا نتیجہ میرے سامنے آئے تو مجھے شرمندگی نہ ہو۔ لیکن ہمارے لیڈر تحریکیں چلاتے ہیں اور ان کا نام احتساب رکھتے ہیں۔ وہ احتساب کرتے ہیں ‘ کن کا ؟ جو ان کے مخالف ہیں ان کا وہ احتساب چاہتے ہیں ‘ کس کا ؟ جن سے ان کی ان بن ہے ان کا لیکن ان میں سے کوئی ایک لیڈر ایسا بھی آپ دکھا سکتے ہیں جو اپنا احتساب خود کر رہا ہو لیکن احتسابوں اور ان دھرنوں کا کوئی فائدہ ؟ فائدہ یہ ہے کہ پوری قوم کی قوم اب بےلگام ہو رہی ہے اور آہستہ آہستہ بےلگام ہونے کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جن لوگوں کے احتساب کی باتیں کی جا رہی ہیں اور جن کے اثاثے منجمد کئے جا رہے ہیں وہ بالکل اطمینان کے ساتھ تحریک چلا رہے ہیں ‘ جلوس نکال رہے ہیں اور عوام ہیں کون سے عوام وہی جنہوں نے ٹیوی پر ‘ اخبارات میں ان لیڈروں کے احتساب اور ان کے اثاثے منجمد ہونے کی خبر دیکھی اور پڑھی ہیں اور صبح انہی لیڈروں کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں ‘ ایسا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ احتساب احتساب کے نعرے لگانے والوں کے بارے میں اچھی طرح جان چکے ہیں کہ انکی ہانڈیاں بھی اسی طرح سیاہ ہیں اور ان کا منہ بھی اسی طرح کالا ہے گویا یہ لوگ سیشے میں اپنا منہ دیکھ کر شور مچا رہے ہیں اس لئے کہ بروں کو برا منہ نظر آ رہا ہے اور آج جو چہرے ہیں یہ کل تک بدل جائیں گے تو وہ بھی یہی کچھ کریں گے جو آج وہ کر رہے ہیں اور اسی طرح کر کے وہ قوم کو دھوکے میں ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور قوم ان سے بھی زیادہ سمجھدار ہے وہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے دونوں گروپوں کے ساتھ ہے اور وہ دونوں گروپوں کی عیاریوں اور مکاریوں سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہے۔ ہماری سیاست کا یہی حال ہی ‘ ہمارے گروہوں کا یہی حال ہی ‘ ہماری دینی درسگاہوں کا یہی حال ہے ‘ ہماری ساری جماعتوں کا خواہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں یا خالصتاً مذہبی جماعتیں ہیں سب اسی ڈگر پر چل نکلی ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم میں ایک بھی ایسا نظر نہیں ص آیا جس کو اپنا احتساب کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہو اور قرآن کریم کی تعلیم کا مآحصل یہ ہے کہ جب تک انسان اپنا محاسبہ خود کر کے اپنی اصلاح خود نہ کرے کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کی اصلاح کی فکر میں ہے لیکن ہم میں سے کسی کو فکر نہیں تو محض اپنی اصلاح کی نہیں اور قانون یہ کہتا ہے کہ جب اصلاح کرنے والے کی اپنی اصلاح نہ ہو تو وہ دوسرے کی اصلاح کر ہی نہیں سکتا اور اسی قانون کے مطابق نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہم جوں جوں اصلاح اور احتساب کا شور کرتے ہیں تخریب کاری اتنی ہی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس وقت یہی کچھ کرتے ہم مکمل طور پر تباہی کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے ہیں بالکل اس تباہی کے گڑھے پر جس تباہی کے گڑھے سے بچانے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور آپ ﷺ نے فی الواقع اپنی قوم کو اس تباہی کے گڑھے کے کنارے سے ہٹا کر دکھا دیا تھا اور اتنا دور کردیا تھا کہ تباہی و بربادی کے گڑھے کی بجائے حوض کوثر کے کنارے پر لا کھڑا کردیا تھا لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم انکھیں بند کر کے حوض کوثر کے گیت گاتے گاتی اس گڑھے کا کنارے جا پہنچے ہیں جو تباہی و بربادی کا گڑھا ہے اور نہ معلوم کہ اب دھڑام کی آواز کب آتی ہے ؟ جونہی آواز آئے گی تو ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی سعی و کوشش کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔
Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا

پھر ہر ایک کو اس کی سعی و کوشش کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا 41 ؎ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیر نگری نہیں وہاں ہر ایک عمل و فعل کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور بلاشبہ وہ ہو رہی ہے جو مہض دنیوی زندگی کی کوشش میں مصروف ہے وہ بھی اور جو آخرت کی فکر رکھتا ہے وہ بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے علم میں ہے۔ ج وشخص زندگی بھر نفس کی خواہشات کی تکمیل می لگا رہا اور کبھی اپنے پروردگار کی یاد اور عبادت کا اسے خیال تک نہ آیا تو اس کو ایسا ہی بدلے ملے گا اور جو شخص محض اپنے رب کریم کی رضاکا طاب رہا اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر اس کو دامن گیر رہی اور وہ اسی راہ میں مصائب و آلام کی پرواہ کئے بغیر تسلیم و رضا کی راہ پر قدم بڑھاتا رہا تو اس کی جو پذیرائی ہوگی اس کا اندازہ بھی اس وقت ہی لگ سکے گا جب سب کی آنکھوں کے سامے اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ یہ تو آخرت کی بات ہے لیکن اس دنیا کی زندگی میں بھی لاریب عمل مکافات اپنا کام کر رہا ہے کوئی شخص تسلم کرے یا نہ کرے بہرحال مکمل نہ سہی کسی حد تک اس کی سعی و کوشش کے نتائج بہرحال سامنے آ ہی جاتے ہیں اور آ رہے ہیں۔ جن جن کی اصلاح کا آپ شور سنتے ہیں ان کی اصلاح کا نتیجہ اپ کی انکھیں نہیں دیکھ رہیں ؟ اگر دیکھ رہی ہیں اور یقینا دیکھ رہی ہیں تو کیا وہ اصلاح ہے یا تخریب ؟ آپ غور کریں گے تو اس سوال کا جواب اصلاح کی لفظ سے آپ نہیں دے سکیں گے بلکہ زور دار آوا سے گرج کر کہیں یا بالکل مدھم آواز سے تاکہ کوئی سن کر پہچان نہ جائے کہ یہ کون ہے ؟ بہرحال آپ نام تخریب ہی کا لیں گے اصلاح کا نہیں لے سکیں گے۔ پھر جب نتیجہ تخریب ہے تو آپ کو تسلیم کرلیناچاہئے کہ وہ کام بھی تخریب ہی کا تھا جس کا نام ہم نے یا ہمارے لیڈروں نے ‘ ہمارے وڈیروں نے اصلاح رکھ دیا تھا۔ بیج آپس میں مل گیا آپ معلوم نہ کرسکے تاہم آپ نے شلجم کا بیج سمجھ کر بویا لیکن جب وہ اگ کر سامنے آیا اور اس دنیا میں بڑھا اور پھولا تو معلوم ہوگیا کہ یہ شلجم نہیں تھا بلکہ سرسوں تھی۔ اب بھی اگر اپ یہیں کہیں گے کہ نہیں میں نے تو شلجم ہی بویا تھا اس کے اگنے میں کوئی خرابی ہوگئی تو آپ کی یہ بات نہیں مانے جائے گی بلکہ یہی کہا جائے گا اور یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کو بوتے وقت غلطی لگی جس کو آپ نے شلجم سمجھا وہ دراصل سرسوں تھی تاہم اس وقت آپ تسلیم کریں یا تسلیم نہ کریں نتیجہ نے آپ کی غلطی ثابت کردی اور فطرت نے جو کچھ آپ نے بویا تھا اسی کا بدلہ دے دیا اب اسی پر گزارا کرنا ہی ‘ مان لو تو بھی اور اگر نہ مانو تو بھی اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ (سب کو) آپ ﷺ کے رب تک پہنچنا ہے

اور ہاں ! سب کو اپنے پروردگار حقیقی کے ہاں پہنچنا ہے خواہ وہ کوئی ہے اور کون ہے 42 ؎ فکر انسانی کی انتہا کیا ہے ؟ یہی سعی و کوشش کی انتہا ہے کہ وہ اپنی دنیا کے سنوارنے کی سعی و کوشش کرے اور اس کی سعی و کوشش اس طریقہ سے ہو کہ اس کی آخرت برباد نہ ہوجائے کیونکہ اس کی انتہا اس کی آخرت ہے اور اس سے آگے کچھ نہیں یعنی اس سے آگے اس کی کوشش اور سعی بیکار ہے۔ اس سے آگے کیا ہے ؟ اس سے آگے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے جو خالق کل ہے اور خالق کے متعلق غور و فکر کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ وہ ذہن انسانی سے ماورا ہے اور عقل انسانی اس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور یہ بھی کہ ہر انسان کی انتہا رب کریم ہی کی ذات ہے کیونکہ ہر ایک انسان خواہ کوئی ہو ‘ کون ہو اور کہاں ہو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہے اور کوئی نہیں جو کسی کو اس کی جوابدہی سے بچا لے ‘ ہاں ! وہ خود جس کو چاہے اپنے کامل علم کی بناء پر نہ پوچھے کیونکہ وہ بغیر کسی کے بتائے ہر ایک کے متعلق جانتا ہے پھر وہ کسی کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کر دے تو اس کے اس احسان کا جو حق دار ہوا وہ یقینا اسی پر احسان فرمائے گا اور حدیث میں بعض لوگوں کے متعلق آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا جیسے وہ لوگ جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں۔
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے 43 ؎ زندگی میں ہر انسان ہنستا بھی ہے اور روتا بھی یعنی اس کو ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جن حالات میں انسان کو خوشی ہوتی ہے اور ہنسی آتی ہے اور ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ وہ مغموم ہوتا ہے اور اس کو رونا آتا ہے اور پھر زندگی میں کتنے ہی مواقع ایسے آتے ہیں کہ ہنستے کھیلتے لوگ رونا شروع کردیتے ہیں اور ابھی رونے سے آنکھیں نم ہوتی ہیں کہ آدمی ہنسنے لگتا ہے۔ نظام الٰہی میں یہ حالات اللہ رب کریم ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہی ہے جو ان دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے۔ کوئی دوسرا ایسا نہیں جو کسی کی قسمت بنانے یا بگاڑنے والا ہو۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے متعلق ایسی باتوں کی نسبت جوڑتا ہے تو وہ قدرت الٰہی کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے اس لئے اسلام کی زبان میں اس کو شرک کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت سورة یونس کی آیت 107 ‘ 108 میں کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو دکھ پہنچانا چاہے تو کوئی اس کو دور نہیں کرسکتا اور اس طرح اگر اللہ رب کریم کی طرف سے کسی کو خیر اور بھلائی پہنچانے کا حکم ہو تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ جو چاہے تو کسی کو خوش کر کے ہنسا دے اور چاہے تو کسی وک غم واندوہ میں مبتلا کر کے رلا دے لاریب مسرتیں اور غم اس کے دست قدرت میں ہیں۔ عقل مند وہ ہے جو ہر حال میں راضی برضا رہے اور خوشی آئے تو اپنے آپے سے باہر نہ نکلے اور اعتدال سے زیادہ ہی خوش نہ ہو اور اسی طرح اگر اس کی طرف سے غم واندوہ کی گھڑیاں آجائیں تو بھی حد اعتدال کا دامن نہ چھوڑے جہاں تک ہو سکے کوشی کی بھیک مانگے تو اسی سے اور حزن و ملال سے پناہ طلب کرے تو اسی ذات بےنیاز سے اور کسی حال میں بھی اللہ رب کریم کا دروازہ نہ چھوڑے۔ خوشیوں کی تلاش میں غیر اللہ کا دروازہ ہرگز ہرگز نہ کھٹکھٹائے اور یقین جانے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا خوشی دینے والا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی غم کو دور کرنے والا ہے۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہے اور وہی جلاتا ہے اس کے سوا کسی کے قبضہ میں موت وحیات نہیں 44 ؎ زندگی اور موت کا کھیل بھی اسی کے دست قدرت میں ہے کوئی نہیں جو کسی کو موت دے اور کوئی نہیں جو کسی کو زندگی عطا کرے۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اگ روہ اپنی پیدائش پر غور و فکر کرے کہ وہ کس قطرہ منی سے پیدا ہوا ہے اور وہ بھی کہاں ٹپکائی گئی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس قطرہ منی میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں اور یکے بعد دیگرے تخلیقی عمل کس طرح جاری کیا گیا ہے اور پھر صرف پانچ مہینے دس دن کے اندر اس نے کیا سے کیا بنا دیا ہے اور کس طرح اس کو جوڑ کر اس کا سارا نظام چلا دیا ہے اور پھر زندگی کی روح پھونک کر نر و مادہ کی صورت میں اس کو تمہارے سامنے پیش کردیا ہے جو خالق اتنی طاقت و قوت کا مالک ہے کہ اس نے لاشے کو ایک شے بنا کر تمہارے سامنے پیش کردیا اس قطرہ منی میں قوت نمو اس نے رکھ دی اگر تم چاہو تو اس کو کسی ایسے مقام پر جہاں اس کو اس طرح کا ماحول میسر آجائے جس طرح کا ماحول اس کو ماں کے پیٹ میں میسر ہے تو وہ قوت نمو اپنا عمل جاری رکھتے ہوئے اسی طریقہ کے مطابق اس کو برھاتی چلی جائے۔ غور کرو کہ تم نے کروروں اور اربوں روپیہ لگایا۔ اللہ کی دی ہوئی عقل و فکر کو استعمال کر کے اسی قطرہ آب کو وہ ماحول میسر کیا جو اس قادر مطلق نے بگیر کوئی آنہ پانی خرچ کرنے کے ایک زندہ انسان کے اندر قائم کردیا پھر تعجب ہے تم پر کہ تم نے اتنی مہنگی چیز کو تیار کر کے اس قطرہ منی پر جس میں قوت نمو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ایک تجربہ کیا اور جب وہ تجربہ کامیاب ہوا تو تم پھولے نہ سمائے کہ ہم نے یہ کردیا اور وہ کردیا حالانکہ جو کچھ تم نے کیا اس میں جب تک اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ وہ بیج نہ بویا کامیابی حاصل نہ کی لیکن تم نے اس ذات الٰہی کا کمال تسلیم نہ کیا جس نے اس میں بیج کو پیدا کیا اور اس بیج کے اندر قوت نمو کو مہفوظ کردیا اور تم نے اندھیری رات میں اندھا دھند بیج پھینک دیا لیکن اس ذات کریمی نے اس کو اسی ماحول میں جا گرایا جو ماحول صرف اور صرف اس کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ تم نے کوئی احتیاط نہ کی اور وہ برتن جس کے اندر وہ بیج داخل ہوا ایسا محفوظ رہا کہ تم کروروں روپے خرچ کر کے اور ہزاروں احتیاطیں کرنے کے بعد بھی ایسا محفوظ برتن تیار نہ کرسکے اور بغیر کسی دیکھ بھال کے وہ بچہ پروان چڑھتا چلا گیا۔ کتنے جاہل ہو تم کہ تم نے اس ذات کی قدرت کو تسلیم نہ کیا اور اپنے کمال کے ڈھنڈورے کو اس قدر پیٹا کہ دنیا جہان کے اخبارات انہیں خبروں سے بھر گئے۔ اگر تم غور کرتے تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ تم نے تو اتنا کام بھی نہ کیا جتنا ایک ناخواندہ ‘ جاہل کاشتکار نے کیا کہ زمین میں ہل چلایا اور بہت سا بیج لے کر زمین کے اندر پھیلا دیا اور اسی قدرت خداوندی نے اس میں جو قوت نمو رکھی تھی اسی کے مطابق اس بیج کو اگا کر ایک ہری بھری فصل تمہارے سامنے پیش کردی جس کو تم نے بطور خواک استعمال کیا اور زبان کے چس کے کے لئے تم نے اپنی مرضی کے مطابق اس میں نمک مرچ ملا کر لقمہ لقمہ کر کے پیٹ میں ڈالا ذرا اس کاریگر کی قدرت اور کاریگری کا اندازہ تو کرو کہ تمہاری اس خوراک پر کیا کیا کیمیاوی عمل کئے اور اس خوراک سے تمہارے جسم کے اندر ہی اندر بیسیوں تقسیمات کردیں اور کن کن محلولات میں اس کو تبدیل کرتے ہوئے اس کے فضلات کو کہاں سے خارج کیا اور تمہارے جسم کے لئے کر آمد چیزوں کو کس طرح تقسیم در تقسیم کرتے ہوئے وہ قطرہ منی بھی اس سے تیار کردیا قوت نمو بھی اس میں پیدا کردی اور تمہارے اندر کس خوبصورتی کی ساتھ اس کو سنبھال کر رکھا اور پھر تمہارے جسم سے اس کے اخراج کے لئے کیا ترپ پیدا کردی اور تم اس کے اخراج کے لئے کس طرح بےقرار ہوئے اور تمہاری اس بی قراری کا انتظام اس نے کہاں کیا اور پھر جب تم کو اس بےقراری سے قرار آیا اور تم کو تسکین ہوئی اور اس تسکین کا نتیجہ کس طرح تمہارے سامنے پیش کردیا لیکن تم کتنے ناکارہ ہو کہ اب بھی تم (فتبارک اللہ احسن الخالقین) کہنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس بچہ کو دیکھتے ہی تم اس قدر اندھے ہوگئے کہ تم نے اس کی نسبت کسی بزرگ پیر و فقیر یا کسی پتھر و قبر سے جوڑ دی اور بندوں کا شکریہ ادا کرنے لگے اور یہ نہ سمجھے کہ زندگی اور موت تو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے قبضہ وقدرت میں ہے۔
Ayah 53:45

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا

بلاشبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا 45 ؎ جنس انسان کی دونوں اصناف یعنی نر و مادہ کو پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کہ نر کو قرار مکین میں داخلکر دے یا مادہ کو یا ان دونوں میں سے کسی کو طاقت و قوت میں زیادہ کر دے کہ اس بیج یا خلیہ میں کس کی طاقت و قوت حاوی ہے کہ شکل و صورت اختیار کرتے وقت وہ نر کی صورت اختیار کرے گا یا مادہ کی۔ انسان اپنی دسترس سے جو تجربات کر رہا ہے ان تجربات میں اگر اس کو یہ بات حاصل بھی ہوجائے کہ اس بیج سے نر پیدا ہو سکتا ہے اور اس سے مادہ تو عین ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ سوائے خسارہ اور گھاٹا کے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اگر تجربات کرتے کرتے کسی ایک کو درمیان سے ہٹا دیا گیا جو ممکن نظر نہیں آتا تو پھر انسان کو اس سے جو خسارہ ہوگا اس کا اندازہ اس وقت نہیں لگایا جاسکتا اس لئے بہتر ہے کہ انسان نفع کی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش و سعی مناسب اور جائز طریقہ سے جاری رکھے لیکن ضرر رساں باتوں کی طرف دھیان نہ دے بہرحال تخلیق حیوانی کے لئے اس جنس کی دونوں اصاف ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کسی ایک کو درمیان سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ مصنوعی اور یاں تیار کر بھی لی گئیں تو بھی مادہ منویہ حاصل کرنے کی ضرورت برقرار رہے گی اور وہ اگر صرف ایک صنف سے حاصل کرلیا گیا تو چونکہ اس صنف میں دونوں کے اجزا موجود ہیں ممکن ہے کہ اس میں کامیابی حاصل کرلی جائے لیکن اس سے آگے نسل کا جاری کرنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ پیوند کاری کی مزید نسل ممکن نہیں ہے جب تک اصل کی طرف مراجعت نہ کی جائے اس لئے جس طرف سے بھی آپ غور کریں گے نتیجہ یہی نکلے گا کہ جنس انسانی کے لئے دونوں اصناف کا ہونا ناگزیر ہے اس لئے تخلیق اللہ رب کریم ہی کا کام ہے اور وہی جانتا ہے کہ اس جوڑے سے کیا پیدا ہوگا بچی یا بچہ یا دونوں توام ہوں گے یا ایک ہی صنف توام پیدا ہوگی اس لئے تخلیق زوجین ہی سے نرپیدا ہوگا یا مادہ علم الٰہی میں یہ موجود ہے اور وہی اس حقیقت کو جانتا ہے ۔ غور کرو کہ قرآن کریم میں کتنے بچوں کی خوشخبریاں سنائی گئی اور اس سے قبل سنائی گئیں کہ ابھی ان کی ابتدا بھی نہ ہوئی تھی کہ اعلان کردیا گیا کہ بچہ پیدا ہوگا اور پھر اس کی عمر کا ایک اندازہ بھی مقرر کردیا کہ یہ بچہ پیدا ہو کر مر نہیں جائے گا بلکہ اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک اس سے آگے بچہ پیدا نہ ہوجائے اور پھر جس بات کا اعلان کیا من و عن وہی ہوا اس میں تخلیق انسانی کی بہت سی وضاحتیں خود بخود آجاتی ہیں اگر کوئی صاحب عقل ‘ عقل سے کام لے کر غور و فکر کرے۔
Ayah 53:46

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

(اس) بوند سے جو ٹپکنے والی ہے

پیدائش کی اصل کیا ہے ؟ وہ قطرہ ہے جو ٹپکنے والا ہے 46 ؎ حیوانی پیدائش کا وہ ضابطہ و قانون بتایا جا رہا ہے جس ضابطہ و قانون کے تحت وہ پیدا ہوتا ہے۔ فرمایا کہ پیدا کرنے والا پیدا کرتا ہے لیکن اس نے پیدا کرنے کے لئے ایک قانون بھی بنا دیا ہی اور جب تک اس قانون کے مطابق وہ مراہل طے نہ کردیئے جائیں جو مراحل اللہ تعالیٰ نے خود اپنی قدرت کاملہ سے بیان کئے ہیں اس وقت تک تخلیق کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب تخلیق ہے تو ضروری ہے کہ وہ مراحل طے ہوئے ہیں اور وہ ماحول میسرآئے تو پیدائش ہوگی۔ وہ قانون کیا ہے ؟ فرمایا وہ قانون یہ ہے کہ پہلے جنس حیوانی کا جوڑ پیدا ہو یعنی نر و مادہ کا جفت و ملاپ پیدا ہو اور وہ قطرہ منی گرایا جائے۔ ہاں ! بیج بویا جائے پھر بیج کو وہ ماحول میسر آئے جس ماحول میں اس بیج کی قوت نمو اپنا عمل جاری کرسکے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہ بیج مردہ نہ ہو بس قانون قدرت اپنا عمل شروع کر دے گا اور اسی سے اس جنس کا حیوان پیدا ہو جائی گا۔ غور کرو کہ منی کی بوند تو ایک ہی جیسی ہے اور اس کے ٹپکانے کا طریقہ بھی ایک ہی جیسا ہے لیکن تخلیق کرنے والا ہی جانتا ہے کہ اس سے نرپیدا ہوگا یا مادہ ؟ تم بیج ڈال کر مطمئن ہوگئے اور قدرت الٰہی نے اپنے قانون کے مطابق اس پر عمل شروع کردیا اور پھر وہ وقت آیا کہ تم نے بچی یا بچے کی شکل دیکھی۔ تم نہیں جانتے کہ اس کی عمر کتنی ہے ؟ وہ پیدا ہونے والا نہیں جانتا کہ میری عمر کیا ہے ؟ تم نہیں جانتے کہ اس کائنات ارضی میں اس نوزائیدہ نے کیا کیا بنتے جانا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ میں نے کیا کیا بننا ہے لیکن وہ خالق جس نے اس کو تخلیق کیا ‘ جس کے قانون کے تحت یہ پیدا ہوا اس کی ہر ہر حرکت کو جانتا ہے اور جو کچھ اس کے ساتھ ہونا اور جو کچھ اس کو بننا ہے اس کے علم میں ہے۔ اس قانون کے اندر جتنا حصہ آپ کا ہے اگر وہ آپ نے نہ تو ڈالا تو تخلیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں ! آپ نے قانون کا پیٹ بھر دیا اور وہ فی الواقعہ بھر گیا تو تخلیق کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرام اسی اصل کے مطابق یعنی جنس کے مطابق تم کو ایک وجود مہیا کر دے گا اس کے لئے فطری طریقہ جو تمہارے لئے سہل اور آسان ہے استعمال کرو یا غیر فطری طریقہ جو تمہارے لئے نہایت مشکل اور وبال جان ہے۔ اب یہ تمہاری خوشی کہ تم فطری طریقہ اختیار کرتے ہو یا غیر فطری طریقہ اپناتے ہو خلق کی تخلیق کا عمل دونوں ہی صورتوں میں جاری ہوجائے گا۔
Ayah 53:47

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوسری بار پیدا کرنا

بلاشبہ جس نے پہلی بار پیدا کیا اس کے ذمہ دوسری بار پیدا کرنا بھی ہے 47 ؎ جس خالق ہقیقی نے اس جنس حیوانی کو پہلی بار بغیر کسی اصل کے پیدا کردیا اور پھر جس خالق نے اس کے لئے ایک صابطہ پیدائش مقرر کیا اور اسی قانون کے مطابق پیدائش کا سلسلہ چلایا اور جس نے زندگی اور موت کا یہ سلسلہ چلا دیا جس سلسلہ کے مطابق وہ پیدا بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے اس کے لئے آخر یہ کیونکر مشکل ہوگیا کہ وہ اس جنس کو چاہے ایک بار مارنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے اور قیامت کے روز ان بکھرے ہوئے زوروں کو دوبارہ جوڑ دے اور پھر زندگی کا وہ جوڑ لگا دے۔ اس می آخر مشکل کیا ہے ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوا ہی کہ اس خالق کل نے تخلیق کا پہلا ضابطہ یا قانون منسوخ کر کے دوسرا قانون اور ضابطہ جاری کردیا ہے۔ پہلے قانون کے مطابق بھی تم خود بخود ہی پیدا کئے جا رہے ہو اور دوسرے قانون کے مطابق پیدا کرتے وقت بھی وہ تم سے نہیں پوچھے گا کہ کیا تم پیدا ہونا چاہتے ہو یا نہیں ؟ پھر جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے اسی طرح دوسری بار بھی پیدا کر دے گا۔ تف ہے تم پر کہ تم پہلی بار پید ہونے کے باوجود دوسری بارپیدا ہونے سے انکار کر رہے ہو۔ کیا پہلی بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے ؟ فیصلہ تم ہی پر رہا۔ ہاں ! بتائو کیا بتاتے ہو ؟ لاریب تم یہی کہہ سکتے ہو کہ پہلی پیدائش دوسری سے زیادہ مشکل ہے پھر جو زیادہ مشکل تم کو نظر آئی وہ تو تم خود ہی ہو جو بنفس نفیس موجود ہو کیا تمہارا دوبارہ پیدا ہونا جو تمہاری نظروں میں بھی سہل ہے تم کو کیوں تعجب میں ڈالتا ہے ؟ بس مان لو اور ضد نہ کرو کہ تمہارے پہلی بار پیدا کرنے والا تم کو دوسری بار بھی ضرور پدتا کر دے گا جب چاہے گا۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہی غنی کرتا اور مفلس بناتا ہے

بلاشبہ وہی دل کا غنی کرتا ہے اور وہی مال سے مالا مال کردیتا ہے 48 ؎ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو دل کا غنی بنا دیتا ہے۔ مال اس کے پاس کم ہو یا زیادہ لیکن وہی ہے جس نے بعض لوگوں کو مال سے مالا مال کردیا ہے لیکن دل کے وہ کنگال ہیں۔ (اغنی) کا اصل مادہ غ ن ی ہے۔ (اغنی) وہ کام آیا ۔ اس نے غنی بنا دیا۔ اس نے دولت دی۔ اگناء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (غنی) بےنیاز ‘ غیر محتاج ‘ کم مہتاج ‘ قانع ‘ مالدار ‘ غنا کے تین معنی ہیں۔ (1) بالکل محتاج اور ضرورت مند نہ ہونا۔ بےنیاز ہونا اور ظاہر ہے کہ ایسا غنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ (2) کم ضرورت مند ہونا ‘ قانع ہونا اور یہ صفت ہر قانع کی ہے۔ (3) بہت زیادہ مالدار ہونا۔ (اغنی) اس جگہ اقنی کے مقابلہ میں ہے اس لئے اس جگہ مراد دل کا غنی یعنی قانع ہی ہو سکتا ہے اور قانع دل کے غنی ہی کو کہتے ہیں۔ (اقنی) کا مادہ ق ن ی ہے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ (اقنیٰ ) اس نے خزانہ دیا۔ گویا مال سے مالا مال کردیا لیکن جس کو اس طرح مالا مال کردیا گیا وہ دل کا ایسا کنگال ہے کہ گویا وہ فقیر ہے کہ مزید لینے کو اس کا جی چاہتا ہے اور دینے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا دل اس بات کو قبول کرتا ہے۔ ان مالداروں کا ذکر پیچھے آیت 33 ‘ 34 میں گزر چکا ہے اور ان کی صفت دوسری جگہ خود قرآن کریم نے بہت وضاحت سے بیان کردی ہے جہاں فرمایا ہے کہ : (الذی جمعمالہ و عدوہ) کہ وہ مال کو جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کا عادی ہوجاتا ہے نہ خود استعمال کرتا ہے اور نہ دوسروں کو کرنے دیتا ہے اور اس کو مال سنبھال سنبھال کر رکھنے کا بہت شوق ہے اس طرح وہ مال کے لحاظ سے تو بہت غنی ہے لیکن دل کا کنگال ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ غنی ہے جس کے پاس مال کے خزانے جمع نہیں ہیں لیکن مال کو صرف کرنے کا اس کو بہت شوق ہے جو کچھ اس کے پاس ہوتا ہے اس پر قناعت کرتا ہے اور کوئی شخص اس کو نہیں سمجھ سکتا کہ اس کے پاس کسی چیز کی کمی ہے بلکہ سمجھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ یہ شخص بہت مالدار ہے اگرچہ وہ محض سفید پوش ہو اور اپنی حالت کو ظاہر نہ ہونے دیتا ہو گویا وہ دل کا غنی ہے۔ عام طور پر (اقنیٰ ) کے معنی یہی بیان کئے جاتے ہیں۔ چناچہ حافظ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : و علی ھذا یدور کلام کثیر من المفسرین منھم ابو صالح وابن جریر و غیر ھما ” ابو صالح ابن جریر وغیرہ کا کلام اس معنی میں دائر ہے لیکن ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (اقنیٰ ) کے معنی ارضی اس نے راضی… کیا کہ نقل کئے ہیں۔ (فتح القدیر المشوکانی ج 5 ص 115) علامہ محمد آلوسی (رح) کی تصریح ہے کہ : یہ معنی تنبیہ سے مجاز آلئے گئے ہیں۔ روح المعانی ج 27 ‘ ص 57) راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ اس معنی کی حقیقت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے رضا وطاعت کا سرمایہ کردیا۔ مجاہد ‘ قتادہ اور حسن بصری ؓ نے (اقنیٰ ) کے معنی اخدم کے کئے ہیں یعنی اس نے خادم عطا فرمایا یا فرمائے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 9 ص 338 طبع مصر بر حاشیہ فتح البیان) لیکن خیال رہے کہ یہ دونوں معنی بھی پہلے معنی میں داخل ہیں کیونکہ وہ اپنی عمومیت کے اعتبار سے دونوں پر مشتمل ہے۔ ابن زید ‘ ابن کسی ان اور اخفش (رح) (اقنیٰ ) کے معنی افقر کے کرتے ہیں یعنی اس نے کسی کو فقیر بنایا۔ شوکانی کا بیان ہے کہ ابن جریر بھی اس کو اختیار کرتے ہیں۔ (فتح القدیر ج 5 ص 113) مگر ابن کثیر (رح) کی رائے میں یہ معنی لفظ کے اعتبار سے بعید ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص 338) لیکن خیال رہے کہ باب افعال کی ہمزہ سلب مآخذ کے لئے بھی آتی ہے جیسے اشقی اور اش کی سلب شفا اور سلب شکایت کے معنی میں بھی مستعمل ہیں اور اس اعتبار سے اگر (اقنیٰ ) کا بھی سلب تنیہ یعنی فقیر بنا دیتے ہیں تو یہ استعمال جائز ہے اور بعید ازعقل نہیں بلکہ یہ معنی سیاق کلام کے مناسب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ پیچھے مقابل جن چیزوں کا ذکر چلا آ رہا ہے اور بعض مترجمین نے یہ معنی بھی کئے ہیں اور مفسرین نے بھی اس کو استعمال کیا ہے ۔ ہم نے ترجمہ میں تو پہلے معنی ہی استعمال کئے ہیں اس کو بحث موضوع بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور (الغنی غنی النفس) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مال کے غنی سے دل کا غنی ہونا زیادہ قابل تعریف بات ہے۔ جس شخص کو اللہ نے ایسا دل دے دیا لا ریب وہ غنی ہوگیا اور اس غنا کو قرآن کریم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا ہے جہاں فرمایا گا ک ہے کہ : (ووجدک عائلا فاغنی) (الضحیٰ 93 : 8) ” اور تمہیں نادار پیا اور پھر غنی بنا دیا “ اور آپ ﷺ کے غنا کی حالت یہ تھی کہ کبھی کسی کے سوال کو خالی ہاتھ نہیں پھیرا بلکہ جو کھچ پاس ہوا وہ سب کا سب بھی دے دیا اور خود خالی ہاتھ رہ گئے اور بعض اوقات قرض لے کر بھی ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کردیا اور بعد میں قرض ادا کردیا۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے

اور بلاشبہ وہی شعریٰ ستارے کا رب ہے 49 ؎ (الشعری) کیا ہے ؟ شعریٰ ایک مشہور ستارہ کا نام ہے اور اس کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ عرب میں ایک قوم اس کو معبود مانتی تھی۔ چناچہ شیخ سلیمان جمل لکھتے ہیں کہ ” عربی زبان میں شعریٰ نام کے دو ستارے ہیں۔ ان میں سے ایک الشعریٰ العبور کہلاتا ہے اور وہی اس جگہ مراد ہے کیونکہ قبیلہ خزاہ اس کی پرستش کیا کرتا تھا۔ قبیلہ کے سرداروں میں ایک شخص ابو کبثہ نامی تھا۔ اس نے اس کی پوجا کا طریقہ قائم کیا۔ وہ کہتا تھا کہ سارے ستارے تو آسمان کو عرض میں قطع کرتے ہیں اور (شعریٰ ) طول میں آسمان کو قطع کرتا ہے اس لئے یہ ان سے جدا ہے۔ چناچہ اس نے اس کی پوجا کرنا شروع کردی اور خزاعہ و عمیر بھی اسے پوجنے لگے۔ ابو کہشہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے نانائوں میں سے کوئی ہوا ہے اسی بناء پر نبی کریم ﷺ نے مشرکین قریش کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کے مذہب کی مخالفت کی تو وہ آپ ﷺ کو اس شخص سے مشابہت دے کر کہ اس نے ان کے دین کے سوا نیا دین نکالا تھا۔ ابن ابی کبشہ کہتے ہیں : یہ ستارہ جو ازا کے بعد سخت مگر ما کے زمانہ میں طلوع ہوتا ہے ” اور ” شعریٰ یمانیہ “ سے موسوم ہے اور دوسرا ستارہ ” الشعری الغمیصاء “ سے ہے جس کے معنی ” آنسوئوں کے جاری ہونے کے ہیں “۔ (حاشیہ الجمل علی الجلالین ج 4 ص 238 طبع مصر 1352 ھ) رسالہ زینت آسمان میں مرقوم ہے کہ شعرائے یمانی تمام آسمان میں اس کے برابر کوئی روشن ستارہ نہیں۔ نیلگوں سفید رنگ ہے اور جب ٹمٹماتا ہے تو رنگ بدلتا نظر آتا ہے اس کی روشنی ” الدبران “ سے بارہ گناہ ہے اور اس کی ضیاء حقیقی ہمارے آفتاب سے بیس گناہ ہے۔ یہ ہمارے آفتاب سے بہت زیادہ گرم ہے۔ اس کا فاصلہ 75۔ 8 سال نوری ہے اور خود اس سال کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کی رفتار جب 0000 ، 86 ، 1 میل فی سیکنڈ ہے گویا ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے اس ستارے کی روشنی 75 ، 8 سال کی مدت میں ہم تک پہنچتی ہے۔ یعنی ان ستاروں میں سے ہے جو ہم سے قریب ہیں اور یہ ہماری طرف 300 میل فی منٹ بڑھ رہا ہے چونکہ ” کلب اکبر “ کا مشہور ستارہ شعریٰ ہے اس لئے اسے ” کلب الجبار “ بھی کہتے ہیں اور 25 جولائی سے 5 ستمبر تک آفتاب اور کلب الجبار کا طلوع تقریباً ایک ہی وقت پر ہوتا ہے اس لئے ان دونوں کو ایام الکلب کہتے ہیں ۔ “ (ص 29 طبع امرتسر ‘ زینت آسمان برکت علی و منہاج الدین پروفیسر ان اسلام کالج پشاور کا رسالہ ہے) (الشعریٰ ) کے متعلق عجیب و غریب کہانیاں گھڑی گئی ہیں اور اس طرح ان کو ایک عجوبہ بیان کیا گیا ہے۔ ستارہ جو ازا جسے جبار بھی کہا جاتا ہے چونکہ یہ ستارہ جو زا یا جبار کے پیچھے پیچھے چلتا ہے اس لئے اس کو کلب الجبار یعنی کتے کی طرح پیچھے پیچھے چلنے والا کہا جاتا ہے۔ بعض قبائل چونکہ اس کی پرستش کرتے تھے اس لئے اس کا ذکر کرتے وقت کہا گیا ہے کہ گزشتہ جتنے کام ذکر کئے گئے ان کا کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہے اور وہی (الشعریٰ ) ستارے کا بھی رب ہے گویا مطلب یہ ہے کہ (الشعریٰ ) رب نہیں بلکہ رب تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہی (الشعری) کا بھی رب ہے۔
Ayah 53:50

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس نے عاد اوّل کو ہلاک کیا

وہ وہی ہے جس نے عاد اولیٰ کو بھی بلاک کیا تھا 50 ؎ عاد اولیٰ سے مراد سیدنا ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ عاد عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار افراد جماعت کا نام ہے۔ عاد کا ذکر قرآن کریم کی نو سورتوں میں ہوا ہے۔ یعنی سورة الاعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة المومنون ‘ سورة الشعراء ‘ سورة فصلت ‘ سورة الاحقاف ‘ سورة الذاریات ‘ سورة القمر اور سورة الحاقہ میں۔ عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے جو حضر موت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے شرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخال مگر اس وقت ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں ہے اور یمن ان کا دارالحکومت تھا۔ عادم قوم بت پرست تھی اور اپنی پیش رو قوم نوح کی طرح صنم پرستی اور صنم تراشی میں وہ بہت ماہر تھے اور ان کے معبود ان باطل بھی تقریباً وہی تھے جو نوح (علیہ السلام) کی قوم کے تھے اور وہی ” پنج تن “ ان کے ہاں بھی معروف تھے جو نوح (علیہ السلام) کی قوم سے چلے آ رہے تھے۔ ود ‘ سواع ‘ یغوث ‘ یعقو اور نسرالتبہ ان کے علوہ بھی وہ بہت سے بزرگوں کے بت تراشتے اور پوجتے تھے۔ عاد اپنی مملکت کی سطوت و جبروت ‘ جسمانی قوت و صولت کے غرور میں ایسے بہکے کہ انہوں نے خدائے واحد کو بالکل بھلا دیا اور اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود مان کر ہر قسم کے شیطانی اعمال بےخوف و خطر کرنے لگے اور جو کچھ آج کل بزرگوں کی قبروں پر میلے لگوانے والے کرتے ہیں یہ سب کچھ وہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ہود علہ السلام نے ان کو بار بار سمجھایا کہ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں بلکہ دوست ہوں اور تم سے سیم و زر اور ریاست کا طالب نہیں ہوں بلکہ تمہاری فلاح و نجات چاہتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کے بارہ میں خائن نہیں ہوں بلکہ امین ہوں ‘ وہی کہتا ہوں جو مجھ سے کہا جاتا ہے۔ جو کچھ کہتا ہوں تمہاری سعادت اور حسن مال کے لئے کہتا ہوں بلکہ دائمی اور سرمدی نجات کے لئے کہتا ہوں اور تمہیں ایک اللہ وہدہ لا شریک لہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ قوم عاد نے جب ایک اللہ کا نام سنا تو حیرت میں پڑگئے اور انجام کار ان کے اندر غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی کہ ہم اپنے باپ دادا کی ریت کو کیسے چھوڑ دیں ؟ یہ ہماری اور ہمارے باپ دادا کی سخت توہین ہے۔ مختصر یہ کہ ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا اور ہود لیہ السلام سے بگڑ کر کہنے لگے کہ تو نے ہم کو اپنے خدا کے عذاب کی دھمکی دی ہے پس اب ہم تجھ سے کچھ نہیں چاہتے۔ الا یہ کہ تو وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر واقعی تو سچوں میں سے ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک مدت چلتا رہا اور وہ مطالبہ پر مطالبہ کرتے رہے۔ الحاصل قوم عاد کی انتہائی شرارت و بغاوت اور اپنے پیغمبر سے بےپناہ بغاوت و بغض کی پاداش میں ان پر قحط مسلط کردیا گیا اور خشک سالی نے ان کو بھوک کر رکھ دیا جس سے وہ بہت عاجز آگئے لیکن اپنی عادتوں سے وہ باز آنے والے نہیں تھے انجام کار ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا۔ آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیز و تند ہوا گھمنڈ میں سر مست تھے اس طرح بےحس و حرکت پڑے نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تناور درخت بےجان ہو کر گر جاتے ہیں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے درس عبرت بنیں۔ اس طرح گویا دنیاو آخرت کی لعنت اور عذاب ان پر مسلط کردیا گیا کہ وہ اسی کے مستحق تھے اور اس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 53:51

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی پھر کسی کو باقی نہ چھوڑا

اور پھر ثمود کو بھی ہلاک کیا گیا اور کسی کو باقی نہ چھوڑا 51 ؎ ثمود قوم کی طرف سیدنا صالح (علیہ السلام) مبعوث کئے گئے تھے۔ ثمود کا ذکر بھی تقریباً عاد قوم کے ساتھ ہی کیا گیا ہے اور ثمود کا ذکر بھی قرآن کریم کی نو سورتوں میں آیا ہے یعنی سورة الاعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة الحجر ‘ سورة النمل ‘ سورة فصلت ‘ سورة النجم ‘ سورة القمر ‘ سورة الحاقہ اور سورة الشمس میں۔ ثمود کس خطہ میں پھیلے ہوئے تھے ؟ اس کے متعلق یہ تو طے شدہ بات ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں۔ حجاز اور شام کے درمیان وادئی قریٰ تک جو میدان نظر آتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت ہے اور آج کل یہ ” فج الناقہ “ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں۔ مصریوں کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے جو ” شاہی حویلی “ کہی جاتی ہے اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان پہاٹ کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ ثمود بھی اپنے پیشروئوں کی طرح بت پرست ہی تھے۔ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو بھی مانتے تھے لیکن اس کی ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے معبودان باطل کی پرستش بھی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح اور احقاق حق کے لئے ان ہی کے قبیلہ میں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ناصح پیغمبر اور رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کو راہ راست پر لائیں اور ان کو رب کریم کی نعمتیں یاد دلائیں جن سے صبح و شام وہ محفوظ ہوتے رہتے ہیں اور ان کو بتائیں کہ پرستش و عبادت کے لائق ذات احد کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں ہے۔ بہرحال مختصر یہ کہ اس مغرور قوم نے بھی صالح (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مطالبہ کیا۔ صالح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنی وہی اونٹنی جس پر سوار ہو کر وہ ثمود کی بستیوں میں آیا جایا کرتے تھے اور قوم کو وعظ و تبلیغ کرتے تھے بطور نشان عذاب الٰہی کی علامت کے طور پر مقرر کیا اور فرمایا کہ اے قوم ! یہ اونٹنی تمہارے لئے ایک نشان ہے اگر تم نے اس کو کسی طرح کی کوئی گزند پہنچائی تو تم کو عذاب الٰہی فوراً اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس ناقہ کو (ناقتہ اللہ) (اللہ کی اونٹنی) قرار دیا۔ ان بدبختوں نے آپس میں مشورہ کر کے اپنی قوم کے ایک آدمی کو مقرر کیا کہ وہ اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دے اور اس کو یقین دلایا کہ ہماری ہمدردیاں تمہارے ساتھ ہیں۔ اس بدبخت نے اونٹنی کو ہلاک کردیا اور اس کے ٹھیک تین دن بعد قوم ثمود پر وہ موعود عذاب آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفریں آواز کو کسی مقام پر (صاعقہ) (کڑک) اور کسی جگہ (رجفتہ ) (زلزلہ ڈال دینے والی شے) اور بعض (طاغیتہ ) دہشت ناک اور بعض جگہ (صیحتہ ) چیخ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور یہ سب نام اس پر صادق آتے ہیں اور یہی ثمود کی ہلاکت کی کہانی ہے۔