53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور اس کو جو اس نے ایک بار اور بھی دیکھا

اور اس کو تو اس نے ایک بار اور بھی دیکھا 13 ؎ (زاہ) اس نے اس کو دیکھا رای روبہ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ‘ ضمیر واحد مذکر غائب۔ (نزلۃ) ایک مرتبہ اترنا (مصدر) (اخری) دوسری ‘ پچھلی اخر اور اخر دونوں کی مؤنث آخری آتی ہے۔ اس لئے دونوں معنی ہو سکتے ہیں لیکن اس جگہ (اخر) کی مونث ہے اس لئے معنی ہیں دوسری۔ اس نے اس کو دیکھا۔ اس نے ‘ کس نے ؟ محمد رسول اللہ ﷺ نے دیکھا۔ کس کو دیکھا ؟ نزول قرآن کو دیکھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا نہ آپ ﷺ نے کبھی اس کا مطالبہ کیا کہ میں اللہ کو دیکھوں اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی فرمایا کہ میں نے اللہ کو دیکھا بلکہ اللہ کے متعلق شروع ہی سے یہ تصور موجود تھا کہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام ان آنکھوں سے دیکھی جانے والی چیز نہیں اور اس دنیا میں کسی کی آنکھ بھی اللہ رب کریم کی ذات کو نہیں دیکھ سکتی اور جبریل (علیہ السلام) کی معیت میں آپ ﷺ تشریف لے گئے تھے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام دیکھی جانے والی چیز نہیں اور اس دنیا میں کسی کی آنکھ بھی اللہ رب کریم کی ذات کو نہیں دیکھ سکتی اور جبریل (علیہ السلام) کی معیت میں آپ ﷺ تشریف لے گئے تھے اور اس کی جو بھی صورت تھی وہ لاریب وہی تھی جس سے آپ ﷺ متعارف تھے کیونکہ کم و بیش پانچ سے دس سال تک کا عرصہ اس کے ساتھ تعارف ہوئے گزر چکا تھا اور اس دوران وہ سینکڑوں بار آپ ﷺ سے ملاقات کرچکا تھا پھر اس کو دیکھنے کے لئے (افق اعلیٰ ) پر جانے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہاں ! قرآن کریم کا نزول پہلی بار غار حرا میں آپ ﷺ کو نظر آیا جب آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا تھا کہ (اقرا) پڑھو اور ظاہر ہے کہ اس نزول قرآن کے وقت کوئی پڑھنے کی چیز آپ ﷺ کے سامنے پیش کی گئی تھی جس کے باعث آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ” میں پڑھا ہوا نہیں ہوں “ (ما انا بقاری) پھر جب وحی الٰہی کا سلسلہ شروع ہوا تو جبریل نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے آپ ﷺ کے سامنے وحی کو پڑھا اور اس کے پڑھنے سے آپ ﷺ کے دل میں نقش ہوگئی اور زبان سے اس طرح چلنے لگی جس طرح کوئی دیکھ کر چیز پڑھی جاتی ہے یا زبانی یاد ہوجانے والی چیز کو پڑھا جاتا ہے لیکن اس دفعہ اسی طرح جس طرح پہلی بار غار حرا کے اندر کسی چیز پر تحریر آپ ﷺ کے سامنے پیش کی گئی تھی وہ احکام جو آپ ﷺ کے سامنے اتارے گئے اس طرح گویا دوسری بار آپ ﷺ نے قرآن کریم کے احکام کو اس طرح نازل ہوتے دیکھا اور اسی طرح گزشتہ آیت میں بلانے والے یعنی رب کریم ‘ بلائے گئے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور بلا کر لانے والے یعنی جبریل (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا تھا اور اب زیر نظر آیت میں قرآن کریم کا ذکر بھی آگیا جو آپ ﷺ پر مسلسل نازل ہو رہا تھا لیکن اس نزول میں اور اس نزول میں جو پہلی بار ہوا تھا ایک خاص فرق چلا آ رہا تھا اور اس مقام پر پہنچ کر دوسری بار پھر نزول قرآن کا وہ منظر آپ ﷺ کو دکھایا گیا جو اس سے پہلے ایک بار آپ ﷺ دیکھ چکے تھے اور یہ دوسری بار دکھایا گیا تھا۔ لاریب اس رائے کا کسی نے اظہار نہیں کیا بلکہ دو ہی رائیں اس سے قبل ہمارے سامنے موجود تھیں ایک یہ کہ جبریل (علیہ السلام) کو محمد رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پہنچ کر دوسری بار اس کی اصل صورت میں دیکھا لیکن یہ ” اس کی اصل صورت “ کے الفاظ کہاں سے آئے کچھ معلوم نہیں کہ یہ پہلی بار کس نے استعمال کئے ؟ ہاں ! یہ الفاظ نبی اعظم و آخر ﷺ سے منقول نہیں ہیں۔ دوسری بات جو سمجھی گئی وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے دیکھنے کی تھی اور پھر اس میں بھی شروع سے اختلاف چلا آ رہا تھا کہ ایک فریق جس میں سیدہ عائشہ ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ بھی شامل تھے کہ اللہ تعالیٰ دیکھی جانے والی چیز نہیں بلکہ قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت کردی ہے کہ (لا تفر کہ الابصار و ھو یدرک الابصار) اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات تو مراد ہو ہی نہیں سکتی اس لئے اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں اور پھر جب ان کو یا بعد میں آنے والوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ جبریل آپ ﷺ کے پاس آتے ہی رہتے تھے تو اس کے درمیان ” اصل صورت “ کا اضافہ کردیا تاکہ وہ اعتراض ختم ہوجائے جو اس پر وارد ہوا اور بعض نے اللہ تعالیٰ کی روایت کا فتویٰ دے دیا اگرچہ وہ اس کی وضاحت نہ کرسکے اس لئے انہوں نے اس پر بحث کرنا حرام قرار دے کر اپنا پیچھا چھڑایا لیکن بعض نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کو دل پر محمول کیا اور توجیہ یہ پیش کی کہ قرآن کریم نے آنکھوں سے دیکھنے کی نفی کی ہے دل سے دیکھنے کی نفی نہیں کی لہٰذا اس جگہ دیکھنے سے مراد دل کا دیکھنا ہے اور پھر بعض نے یہی قلب کا دیکھنا بیان کیا اور بعض نے کشف کا دیکھنا مراد لیا اور بعض نے رویا کا دیکھنا بیان کیا حالانکہ کشف ہو یا رئویا دونوں ہی صورتوں میں قرآن کریم کے حکم کے خلاف نظر آتا ہے اور اس میں اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ ہم نے جو کچھ مراد لیا ہے اس پر اگرچہ بزرگوں کی مہر ثبت نہیں ہے یعنی نہ گزشتہ بزرگوں کی اور نہ موجودہ بزرگوں کی اس لئے ہم اس کو کسی کی طرف منسوب کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں اس تفہیم میں اگر ہم سے گناہ ہوا ہے تو اللہ سے معافی کے طلب گار ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیت سے واقف ہے جس طرح بہت سی باتیں اور ہم نے کہہ دی ہیں اس کو بھی آزادی کے ساتھ کہہ دیا ہے اگر بات یہی درست ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے ہمارا اس میں کوئی کمال نہیں غور و فکر سے جو بات ہمارے دل میں جم گئی ہم نے اس کو بیان کردیا۔ یہ دیکھنا کہاں دیکھنا تھا ؟ (سدرۃ المنتہیٰ ) کے پاس 14 ؎ (سدرۃ) سدر ایک درخت ہے جس کو ہماری زبان میں بیری کا درخت کہتے ہیں ‘ کانٹے دار ہوتا ہے ‘ پیوند کاری کے کام آتا ہے اور پیوند لگنے سے اس میں طرح طرح کی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں نہایت گھنا سایہ دیتا ہے۔ پھل اس کا بہت عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے درخت بہت بڑے بڑے بھی ہوتے ہیں اور اس کی اقسام بھی بیشمار ہیں اس جگہ اس کا ذکر کس نسبت کی وجہ سے کیا گیا ہے ؟ عالم بالا اور عالم آخرت کی بات ہے جس کا اصل علم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کسی کو نہیں ہے جتنے پھل دار درخت ہیں ان میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ پھل دینے والا اور سب سے زیادہ سایہ دینے والا ہے۔ صرف سائے کے کام آنے والے درختوں میں بعض ایسے درخت ہیں جو بہت بڑے ہیں اور پھل دار وہ نہیں ہوتے یہ ایک وصف کہ پھل دار ہونے کے باوجود اتنا بڑا اور اتنا گھنا سایہ دینے والا کوئی دوسرا درخت نہیں بشرطیکہ کسی اچھی جنس سے تعلق رکھتا ہو اور اس کو ماحول اچھا میسر آئے ورنہ جھائو اور جھاڑیوں ہی کی شکل میں زیادہ تر پایا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کو ناکارہ درختوں میں شامل کیا ہے اور بہت کارآمد درختوں میں بھی جو اہل جنت کو جنت میں میسر آئیں گے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ (جنھن ذواتی اکل خمط وائل و شی من سدر قلیل) (34 : 16) ” دو اور باغ بدل دیئے جن میں تلخ میوے اور جھائو اور کچھ بیریاں تھیں۔ “ ظاہر ہے کہ اس جگہ (سدرۃ ) کو جھائو اور جھاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے خواہ اس کی جنس اچھی نہ ہوگی۔ لیکن دوسری جگہ جنتیوں کو جو پھل پیس کئے جائیں گے ان میں بھی اس کو شامل کیا گیا ہے خواہ اس کی جنس اچھی نہ ہوگی۔ لیکن دوسری جگہ جنتیوں کو جو پھل پیش کئے جائیں گے ان میں بھی اس کو شامل کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : (ما اصحب الیمین ‘ فی سدر مخضود ‘ وطلح منضود) دائیں والوں کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ وہ بیریوں میں ہوں گے جن کے کانٹے نہیں اور کیلے تہ بہ تہ “ ان کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت اونچے درجے کے پھلوں میں سے نہ سہی لیکن درمیانہ درجہ کے پھلوں میں اس کو اولیت دی گئی ہے جو اس کے پھل کی اچھائی پر دلالت ہے۔ (سدرۃ) واحد ہے جس کی جمع سدر ہے۔ مفسرین نے اس درخت پر جو بحث کی ہے اور روایات میں اس کے متعلق جو کچھ آیا ہے سب کو جمع کرنے سے بھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آتی جو حتمی طور پر کہی جاسکے اس لئے ہم ان سارے بیانات کو درج کرنے کی بجائے اس صاف بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یہ انسانوں کے علم میں آنے والی چیز نہیں اس لئے اس کو (سدرۃ المنتہیٰ ) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے گویا یہ وہ حد ہے جس سے آگے انسان کے علم کی رسائی نہیں ہے جو علوم بھی ظاہر ہوں گے ان کا اختتام اس جگہ ہوگا اس سے آگے کا انسان کو کچھ علم نہیں ہو سکے گا اس لئے اس کو چھٹے یا ساتویں آسمان کی آخری حد قرار دیا گیا ہے۔ ہاں ! اس سے یہ اشارہ ضرور نکلتا ہے کہ آسمانوں میں یعنی ان بلندیوں اور فضائوں میں ابھی بہت کچھ پوشیدہ ہے جس کا ظاہر ہونا باقی ہے اور یہ بھی کہ اس کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ استعارات و اشارات موجود نہ ہوتے تو یہ ترقیاں جو روز افزوں ہوتی چلی جا رہی ہیں کبھی نہ ہوتیں انہی استعارات و اشارات نے انسانوں کو اس طرح متوجہ کیا اور جب کوئی شخص کسی معاملہ میں توجہ دیتا ہے تو اس کی توجہ کا نتیجہ بھی بروئے کار آتا ہے اور پھر اس طرح جوں جوں توجہ بڑھتی جاتی ہے نقطہ توجہ آگے کو بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس طرح ایک ایجاد سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف انسان کے قدم بڑھنے لگتے ہیں اور ہوتے ہوتے کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔ ابھی اس زمین کے اندر کے سارے دفینے ظاہر نہیں ہوئے فضاء کے اندر جو کچھ محفوظ ہے اس پر پوری دسترس انسان کو حاصل نہیں اور ان سیاروں کی مکمل صورت حال روشنی میں نہیں آئی اور یہ کام ایک دو یا چار چھ آدمیوں کا نہیں بلکہ اس میں کروڑوں انسان مل کر جب کام کریں گے اور ایک تلاش کے بعد دوسری تلاش شروع ہوگی تو نہ معلوم کتنے زمانے بدل جانے کے بعد ان خلائوں اور فضائوں اور ستاروں اور سیاروں کی ٹوہ مکمل ہوگی اور کسی ایک مقام پر جا کر سب کی ٹوہ ختم ہوجائے گی اور یہی وہ انتہا ہے جس کی طرف لازوال تعلیم قرآنی نے اشارہ کردیا ہے اور انسانوں کو ایک دوڑ لگانے کا حکم دیا ہے کہ ابھی تمہارے دوڑنے اور بھاگنے کے لئے ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے لئے اور بہت سی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دیکھنے کے لئے کافی وقت موجود ہے اور اگر تم ایمان باللہ کو مضبوط کرنا چاہو تو ایمان کی روشنی میں ان فضائوں اور خلائوں اور کوہ پیمائیوں کا سلسلہ تم کو قدرت الٰہی کے بہت سے نشانات کی طرف راہنمائی کرے گا اور تم قدرت الٰہی کے بہت سے نشانات ابھی مزید پائو گے۔ لاریب انسان کی اس جستجو کی حد ہے لیکن ابھی وہ بہت دور ہے جنہوں نے اس جستجو میں قدم اٹھائے ہیں افسوس ہے کہ وہ ایمان باللہ سے خالی ہیں اس لئے وہ صرف اندھی جستجو کر رہے ہیں تاہم ان کی جستجو کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں اگرچہ ان کے ساتھ ایمانیات کا تعلق قائم نہیں کیا گیا اور یہ کمزوری ہمارے علماء اسلام کی ہے کہ انہوں نے اس کام کو ایمان کا حصہ یا عجز قرار دینے سے انکر کردیا اور اس جستجو پر قدغن لگا دی اگر وہ اس کو ایمانات کا حصہ قرار دیتے اور مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کراتے تو آج قوم مسلم کے سائنس دانوں کی جستجو کے نتائج دوسری اقوام عالم کے مقابلہ میں بہت آگے ہوتے۔ لیکن بدقسمتی سے مذہبی ٹھیکہ داروں نے مذہب پر اپنی ٹھیکہ داری قائم رکھنے کے لئے ایسے لوگوں پر کفر کے فتویٰ دے کر ان کو مذہب کے بندھن سے ایسا آزاد کیا کہ اب وہ طبقہ مذہب سے اس قدر بیزار ہیں جس قدر یہ مذہبی ٹھیکہ دار اس طبقہ سے حالانکہ اس میں بیزاری کی نہیں بلکہ ساتھ جڑنے کی اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد اس منزل کی طرف بڑھنے کی تلقین لازم و ضروری تھی تاکہ اسلام کی راہیں جو پہلے ہی بہت کشادہ ہیں مزید کشادہ ہوجائیں اور یہ ترقیاں اور ایجادات دنیا کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ انسان کی آخرت کو بھی سنوار دیں اور اس طرح انسانیت نور علیٰ نور ہوجائے۔ بہرحال یہ رونا ہم روتی آ رہے ہیں اور روتے رہیں گے۔ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ‘ ترسوں ‘ بہرحال یہ سوچ لوگوں کے اندر پیدا ہوگی جس سے ان مذہبی ٹھیکہ داروں کی گرفت ڈھیلی ہوگی اور لوگ اسلام کے ان استعاروں ‘ اشاروں ‘ محاوروں اور ضرب الامثال سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے اور ان کی ایمانی قوت اس سے بہت بڑھے گی کیونکہ جس (سدرۃ المنتہیٰ ) پر محمد رسول اللہ ﷺ کو پہنچایا گیا اس پر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کے اس وسیع دائرہ کے اندر انسانیت کا پہنچنا لازم و ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ کا وہاں تک پہنچنا لاریب بامقصد تھا بےمقصد نہیں تھا ۔ اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ رب یسر ولا تعسر و تمم بالخیر۔
Ayahs 53:14–15

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

{ سدرۃ المنتھی } کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

جس کے پاس (ہی) جنت ماویٰ ہے

(سدرۃ المنتہیٰ ) وہی ہے جس کے پاس جنت الماویٰ ہے 15 ؎ (الماوی) مصدر اور اسم ظرف۔ قیام کرنا ‘ رہنا ‘ سکونت کرنا ‘ سکونت پذیر ہونا ‘ مقام سکونت ‘ ٹھکانہ ‘ آوی یاوی ماضی مضارع اور اوی بھی مصدر ہے۔ (الماوی) معرف باللام۔ قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے اور ہر جگہ مصدری معنی ہیں۔ (عندھا) اس کے پاس یعنی ( سدرۃ المنتہیٰ ) کے پاس وہ جنت ہے جو قیام گاہ یا ٹھہرنے کی جگہ بنے گی۔ اس پر اتنے سوال اٹھائے گئے ہیں کہ آیا جنت الماوی سارے جنتیوں کی جگہ ہے یا کچھ خاص قسم کے جنتیوں کی ؟ پھر اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں کسی نے کہا کہ اس میں نبیوں اور رسولوں کو سکونت ملے گی ‘ کسی نے کہا یہ صرف شہداء کی جگہ ہوگی ‘ کسی نے کہا یہ صرف ارواح کی جگہ ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔ پھر اس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا جنت آسمانوں میں ہے یا زمین میں ہے ؟ پھر اس کے مختلف جواب دیئے گئے کسی نے اس کو وہ جنت مانا جو قیامت کے بعد قائم ہوگی اور کسی نے کہا کہ جنت تو شروع دنیا ہی سے قائم کردی گئی ہے وہ جنت آسمانوں میں ہوگی ‘ نہیں ! وہ جنت تو زمین پر ہوگی۔ یہ جنت جس کا ذکر اس آیت میں ہے یہ آسمانوں پر ہے۔ پہلے کہی گئی باتوں کی دلیل کیا ہے ؟ اس سے پہلے کہی گئی باتوں کی دلیل کیا ؟ گویا پہلوں نے جو کچھ کہا وہ اگرچہ بےدلیل تھا لیکن بعد میں آنے والوں کے لئے وہ دلیل بن گیا اور پھر سارے ہی مکاتب فکر کے پاس اس طرح کے دلائل ہیں جن کا تانا بانا اس طرح بنا گیا ہے کہ پہلے آنے والے بعد میں آنے والوں کے لئے دلیل بنتے رہے ہیں اور اسی طرح بنتے رہیں گے۔ پہلوں کی دلیل کیا تھی ؟ یہ بحث کبھی بھی کسی نے نہیں اٹھائی اس لئے کتاب و سنت کا نام لینے والے جب پہلوں کی باری آتی ہے تو یہ بات بھول جاتے ہیں اور ان کا تقدس سب کو آڑے آتا ہے حالانکہ تقدس کی بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن اس کا مقصود اندھی تقلید کب تھا جو ہم نے بنا لیا۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا جب (سدرۃ المنتہیٰ ) کی بات چلی تو کسی نے کہا کہ یہ جنت کی انتہائی حد پر ہے جس پر اولین اور آخرین کا علم منتہی ہوجاتا ہے۔ اس کی دلیل کیا ہے ؟ تو ہم کو بتایا گیا یہ ابن اثیر نے کہا ہے۔ اسے (سدرۃ المنتہیٰ ) اس لئے کہا گیا ہے کہ اس پر تمام عالموں کا علم ختم ہوجاتا ہے اور جو اس کے آگے ہے وہ غیب ہے۔ ہم کو یہ کسی نے بتایا ؟ یہ جواب ملا کہ یہ امام رازی ؓ نے فرمایا ہے۔ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل ہو سب کا علم اس پر ختم ہوجاتا ہے یہ کس کا ارشاد ہے ؟ یہ کعب احبار کا قول ہے۔ وہ ہر شخص کی انتہا ہے جو سنت رسول پر چلتا ہے۔ ہم کو یہ کس نے بتایا ہے ؟ ہم کو جواب ملتا ہے کہ ابن جریر نے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو بات ہم نے اوپر بیان کی ہے وہ فضول تو نہیں کہی یہ ابن اثیر ‘ ابن کثیر ‘ امام رازی ‘ ابن جریر ‘ در منشور اور کعب احبار ؓ سب کے سب کون لوگ ہیں ؟ ان بزرگوں نے ان اقوال کو کہاں سے حاصل کیا ؟ ان کے پاس اس کی دلیل کیا تھی ؟ ان سوالوں کو رہنے دیں اب ہمارے لئے یہ سب اقوال مدلل ہوگئے ‘ ان ناموں کے باعث جن کا ذکر اوپر کیا گیا اور اب اس مدلل بات کو اگر کوئی تسلیم نہیں کرے گا یا اس دلیل کے خلاف کوئی دلیل پیش کرے گا تو وہ مطعون ہوگا اور اس کو سارے برا کہیں گے اور اس پر تفسیر بالرای کا الزام آئے گا ‘ کو یں ؟ اس لئے کہ اس نے ان دلائل میں سے کسی دلیل کو کیوں تسلیم نہیں کیا۔ ہاں ! ان میں سے کسی ایک قول کی تردید دوسرے کو قول کی تصدیق کرنے سے نہ وہ تفسیر ‘ تفسیر بالرائے رہے گی اور نہ ہی اس کو کوئی مطعون کرے گا اور ساری باتوں میں ہمارا یہی حال ہے اور اس بات کو اگر اس طرح کہا جائے کہ (سدرۃ المنتہیٰ ) ہی کے پاس وہ مقام تھا جہاں آپ ﷺ کو ٹھہرایا گیا اور اس کو اس طرح (جنت الماویٰ ) کہا گیا ہے جس طرح روضۃ من ریاض الجنۃ ہے حالانکہ یہ مقام مسجد نبوی کے اندر ہے اور اس پر کسی طرح کی کوئی بحث نہیں ہے کہ یہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس جگہ کو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اب جو شخص مسجد نبوی کی زیارت کرے گا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور جس مقام کی انتہا تک آپ ﷺ کو لے جایا گیا وہاں تک جانا کسی کے حصہ میں ابھی تک نہ آیا اتنی بات تسلیم کرلینے سے معاملہ صاف اور درست ہوجاتا ہے اور اگر ممکن ہو تو یقینا وہ انسانیت کے صعود کی انتہا ہے اور ایک مسلمان کو اسلام کے ناطے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے دوسرے لوگوں سے بھی زیادہ حق ہے کہ وہ اس کی جستجو کریں اور ان خلائوں اور فضائوں اور سیاروں اور ستاروں کی چھان بین ایمان باللہ کے ساتھ کریں تاکہ ان استعارات و اشارات کی راہنمائی میں دین و دنیا کی ترقیاں قوم مسلم کے حصے میں بھی آئیں جو دراصل ان کے اصل وارث ہیں لیکن علمائے اسلام نے اپنی ٹھیکہ داری کو قائم رکھنے کے باعث اسلام کے شیدائیوں کو ان کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیا اور نہ ہی متوجہ ہونے دیں گے۔ اسی کو کہا جاتا ہے کہ نہ کھلیں گے نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا

اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا 16 ؎ (یغش) واحد مذکر غائب مضارع معروف (غشی) غشیان مصدر۔ وہ چھائی ہوئی تھی ‘ وہ چھا رہی تھی ‘ چھا جائے گا ‘ ڈھانک لے گا۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ اس میں مانگنے اور نہ مانگنے کی حالت کو واضح کیا جا رہا ہے کہ جس نے طلب کی تھی اس نے یہ نہ سمجھا کہ میں کس چیز کی طلب کر رہا ہوں ؟ پھر ہم نے اس کو ایک تجلی کی طرف متوجہ کیا لیکن اس میں تجلی کی برداشت بھی نہ تھی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ غشی کھا کر گر گیا اور جوں ہی ہوش میں آیا تو اس کی طلب ہوا ہوچکی تھی۔ ادھر بغیر طلب کئے ایک پروگرام سپرد کرنے کے لئے خود دعوت دے کر بلایا گیا اور اس مقام تک اس کو بلند کیا گیا جہاں تک انسان کو بلند کیا جاسکتا ہے اور پھر طرح طرح کے مناظر اس کو دکھائے گئے۔ نزول قرآن کا منظر بھی اس کو دکھایا گیا اور اس طرح کے بہت سے مناظر اس نے دیکھے لیکن اس کو ان سے کسی طرح کی کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اس قرب پر لایا گیا جس قرب پر قبل ازیں کوئی نبی و رسول نہیں لایا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو برداشت کیا اور پھر کیا ہوا کہ اچانک اس مقام کو ڈھانپ لیا گیا جس طرح بھی ڈھانپ لیا گیا اس ڈھانپ لینے کی جو کیفیت بھی ہو سکتی تھی وہ ہوئی اور آپ ﷺ پر اس طرح بھی کوئی گھبراہٹ اور غشی طاری نہ ہوئی۔ غشی طاری ہونا تو درکنار اللہ کے فضل و کرم سے آپ ﷺ کی آنکھوں تک میں بھی کوئی چکا چوند نہ ہوئی اور جو مشاہدہ ہوا وہ اس طرح ہوا کہ اس کا حرف حرف یاد رہا جو اس بات کو ثبوت ہے۔ کہ آپ ﷺ کے دل نے اس کو من و عن قبول کیا گویا ظرف سے کوئی بوند بھی باہر نہ ٹپکی۔ غور کرو کہ بےہوش ہونے والے اور غشی کھا کر گرنے والے بھی اللہ کے نبی اور رسول ہی تھے لیکن (تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعضم) کے مطابق جو فضیلت اللہ نے نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا کی وہ کس قدر واضح اور ظاہر ہے۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نہ (اس کی) نگاہ چندھیائی نہ حد سے (آگے) بڑھی

نہ آپ ﷺ کی نگاہ چندھیائی اور نہ ہی حد سے آگے بڑھی 17 ؎ (راغ) وہ بہکا ‘ وہ کج ہوا (زیغ) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (البصر) بصر آنکھ کو کہتے ہیں اور دیکھنے کی قوت کو بھی اور دل میں جو قوت مدرکہ ہے اس کو بصیرہ بھی کہتے ہیں اور بصر بھی (غ) اور البصیر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اشیاء کو دیکھنا ہے ‘ ظاہر کو بھی اور مخفی کو بھی اور بغیر کسی آلہ کے اور بصر اس کے حق میں وہ صفت ہے جس سے تمام اشیاء کے کمال اوصاف کا انکشاف ہوتا ہے۔ لیکن اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جن باتوں کا اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے وہ بصیرت ہی سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے اس جگہ بہرحال مراد بصیرت ہی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو مناظر آپ کو دکھائے گئے آپ ﷺ نے ان کو محض ایک تماشائی کی طرح نہیں دیکھا بلکہ نہایت غور و فکر کے ساتھ دیکھا۔ آپ ﷺ کو نہ تو کسی طرح کی گھبراہٹ ہوئی اور نہ ہی آپ ﷺ کی آنکھیں چندھائیں ۔ نہ کسی طرح کا تعجب ہوا بلکہ جو دیکھا اس کو دل میں نقش کرلیا اور جس طرح جس چیز کا نقش ہونا ضروری تھا اسی طرح نقش کیا گیا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کو انسان دیکھتا ہے تو اس کے نتیجہ پر غور کرنا شروع کردیتا ہے اور اس میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ اس کے بعد جو اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں وہ اس کو یاد ہی نہیں رہتا بلکہ صرف وہ ایک بات جو اس کے ذہن و دماغ میں اترتی ہے اس میں مصروف ہو کر رہ جاتا ہے اور اس سے کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ اس ایک بات کے بعد دوسری باتوں سے وہ غفلت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ فرمایا اس جگہ کوئی اییا بات نہیں ہوئی کہ میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی نہ تو نظر ادھر ادھر بھٹکی اور نہ آپ ﷺ کی نگاہ آزاد ہوئی بلکہ وہ پورے شوق اور ذوق سے دیکھتی رہی۔