Ayah 43:81کیا ولدیت الوہیت کے منافی نہیں ہے ؟ بلاشبہ منافی ہے
81 ؎ بلاشبہ ولدیت الوہیت کے منافی ہے یعنی جس کی اولاد ہوگی وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ یہ عیسائیوں کے لیے ایک تحدی اور چیلنج ہے اور اسی طرح قریش مکہ کے لیے بھی کیونکہ قریش مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتے تھے اور انصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ مانتے اور کہتے ہیں اس پر گویا تعجب کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کی کیسی مت ماری گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو بھی مانتے ہیں اور اس کی اولاد بھی قراردیتے ہیں جیسا کہ یہ بات اصولی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے کہ اولاد کا ہونا الوہتے کے منافی ہے جس طرح صاحب اولاد کے لیے بیوی کا ہونا لازم ہے۔ اگر وہ مرد ہے اور اسی طرح صاحب اولاد کے لیے خاوند کا ہونا ضروری ہے اگر وہ عورت ہے جس طرح والد کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اس کا والد ہو اسی طرح ولد کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اس کا والد ہو اس لیے کہ جو چیزیں لازم وملزوم ہیں ان میں اگر ایک کو ہٹا دیا جائے تو دوسری خود بخود معدوم ہوجائے گی۔ مثلاً انسان کو دیکھنے کے لیے لازم ہے کہ اس کے پاس آنکھ ہو اور روشنی بھی اگر ان دونوں میں سے ایک کو ہٹادیا جائے تو دوسری خود بخود معدوم ہوجائے گی اگر کسی انسان کے آنکھ نہیں تو کچھ نظر نہیں آئے گا لیکن آنکھ موجود ہو اور روشنی بالکل موجود نہ ہو تو بھی کچھ نظر نہیں آئے گا۔ اولاد الوہیت کے منافی ہے گویا جس کو آپ الٰہ کہتے ہیں اس کے لیے اولاد قرار دینا اپنے دعویٰ کی خود تردید کرنا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ہمارے جتنے ترجمے اردو میں کیے گئے سب نے ترجمہ یہی کیا ہے کہ ” اگر واقعی رحمن کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا “۔ مثلاً :
” کہ اگر ہوتی واسطے رحمن کے اولاد پس میں پہلا عبادت کرنے والا ہوں “۔ (شاہ رفیع الدین (رح))
” آپ کہہ دیجیے کہ اگر خدائے رحمن کے اولاد ہو تو سب سے اول اس کی عبادت کرنے والا میں ہوں “ مجھ کو تمہاری طرح حق بات کے ماننے سے ابائو و انکار نہیں تم اگر ثابت کردو تو سب سے اول اس کو میں مانوں۔
(شاہ عبدالقادر (رح) )
” کہہ دو کہ اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہو تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا۔ “ میرا کسی کو خدا کی اولاد نہ ماننا اور جنہیں تم اس کی اولاد قرار دے رہے ہو ان کی عبادت سے انکار کرنا کسی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں…… میں تو اس کا وفادار بندہ ہوں اگر بالفرض حقیقت یہی ہوتی تو تم سے پہلے میں بندگی کے لیے سرجھکا دیتا۔ (تفہیم القرآن)
” آپ کہہ دیجئے کہ اگر (خدائے) رحمن کے اولاد ہو تو سب سے اول عبادت کرنے والا تو میں ہوں۔ “ اس لیے کہ خدا زادہ بھی لامحالہ تمام اوصاف اولہیت ومعبودیت ہی سے متصف ہوگا۔ فقہائے یہیں سے مسئلہ نکالا ہے کہ امر محال کا فرض کرنا اور پھر اس پر احکام کا ترتیب دونوں بالکل جائز ہیں۔ (ماجدی)
” تو کہہ اگر ہو رحمن کے واسطے اولاد تو میں سب سے پہلے پوجوں۔ “ اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا جواب ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرورمان لیتا اور جب اس کو خدا کی اولاد مان لوں تو چونکہ خدا کی اولاد بھی خدا ہی ہونی چاہیے اور خدا مستحق عبادت ہے اس لیے میں اس کی عبادت بھی کروں۔ “ (معارف القرآن)
” تو کہہ اگر ہو رحمن کے واسطے اولاد تو میں سب سے پہلے پوجوں “ کہہ دیجئے کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہو تو پہلا شخص میں ہوں جو اس کی اولاد کی پرستش کرے کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا اسی نسبت سے اس کی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے۔ (عثمانی)
” تم فرمائو بفرض محال رحمن کے کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں پوجتا “ لیکن اس کے بچہ نہیں اور اس کے لیے اولاد محال ہے یہ نفی ولد میں مبالغہ ہے۔ (سید محمد نعیم الدین)
” آپ فرمائیے (بفرض محال) اگر رحمن کے کوئی بچہ ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کا پجاری ہوتا۔ “ اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو کیا میں اس کے سامنے بےساختہ طور پر سر بسجود نہ ہوجاتا۔ (ضیاء القرآن)
لیکن ہم نے اوپر ترجمہ کیا ہے ” (اے پیغمبر اسلام ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کے اولاد ہو تو میں سب سے پہلے (اس رحمن) کا انکار کرنے والا ہوں۔ “ (عزوۃ الوثقی آیت زیر نظر) ہم نے یہ اختلاف خواہ مخواہ نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ موجود ہے اور وہ درج ذیل ہے۔
(1) (اول العابدین ای ماکان فانا اول الانفین وھما لغتان رجل عابد وعبدً ویقال اول العابدین الجاہدین من عبد یعبد) یعنی عابدین سے انفین مراد ہے یعنی میں سب سے پہلے اس سے انکار کرتا ہوں اور (ان کان ماکان) کے معنوں میں ہے اور اس طرح عابدین اس جگہ انکار کرنے والا ہوں کے معنوں میں ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ (العابدین) عبد یعبد سے نہیں بلکہ یعبد سے ہے جس کے معنی انکار کرنے کے ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر پارہ 20 سورة حم الزخرف)
(2) اور اس کی شرح میں فتح الباری میں ہے کہ :
(3) (عبد فی انفہ عبدۃ ای انفۃ شدیدۃ) یہ غلام ناک بھوک بہت چڑھاتا اور انکار کرتا ہے۔ (اساس البلاغہ)
(4) عبد فرح کے وزن پر انکار کرنے اور ناک بھوں چڑھانے کے معنوں میں آتا ہے۔ (قاموس)
(5) عبد عبداً مثل غضب وزنا ومعنا والا سم العبدۃ مثل الانفۃ (مصباح المنیر)
(6) عبدمن باب طرب ای غضب وانف والاسم العبدۃ وقولہ تعالیٰ فانا اول العابدین من ھذا (مختار الصحاح)
(7) امام ابن جریر نے اس پر ایک طویل روایت بھی پیش کی ہے جس کا بعض حصہ درج ذیل ہے :
وقد حدتنی یونس بن عبدالاعلیٰ قال اخبرنا ابن وھب ثنی قال : ابن ابی ذئب عن ابی قسیط عن بعجۃ بن زید الجھنی ان امراۃ منھم دخلت علی زوجھا وھورجل منھم ایضاً فولدت لہ فی ستۃ اشھر فذکر ذلک لعثمان بن عفان ؓ فامر بھا ان ترجم فدخل علیہ علی بن ابی طالب ؓ فقال ان اللہ تبارک وتعالیٰ یقول فی کتابۃ (وحملہ فصالحہ ثلاثون شھرا) وقال (وفصالہ عامین) قال فو اللہ ماعبد عثمان ان بعث الیھا ترد۔ قال یونس ، قال ابن وھب : عبداستنکف۔
(8) یہ روایت بھی معروف کتب لغات میں بیان کی گئی ہے جس سے ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
وفی حدیث علی قبل لہ انت امرت بقتل عثمان ؓ اوعنت علی قتلہ نعبد وضمد ای غضب غضبا انفۃ یقال عبد بالکسر یعبد بالفتح عبدبالتحریک فھو عابد ومنہ حدیثہ الاخر عبدت فصحت ای انفت فسکت (فائق ، نہایہ ، مجمع)
(9) فتح الباری میں فرزوق کا ایک شعر بھی اس کی تصدیق میں پیش کیا گیا ہے ؎
اولئک قومی ان ھجونی ھجوتھم
واعبد ان اھجر کلیبا بدارم
اور اسی میں اعبدامتنع کے طور پر وارد ہوا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ؎
الا ھویت ام الولید واصبحت
لما ابصرت فی الر اس منی تعبد وقال الاخر
منی ما یشا ذوالرد یصرم خلیلہ
ویعبد علیہ لا مجالۃ ظالماً
(10) ہم واضح طور پر یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہر ممکن شرط کی جزاء ممکن اور ناممکن کی محال ہوتی ہے اور اس جگہ ظاہر ہے کہ دوسری صورت واقع ہے کہ شرط محال ہے یعنی ولد نہیں لہٰذا اس کی جزاء بھی محال ہے یعنذی اس کی عبادت یا پوجا نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی تصور کال جاسکتا ہے اور ناممکن بات کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا محال ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
پیر کرم شاہ صاحب نے پہلی تفسیر درج کرنے کے بعد آخر میں تسلیم کیا ہے کہ ” اس آیت کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہاں (ان) شرطیہ نہیں بلکہ نافیہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں (عابدین) کا معنی انفین ہے یعنی میں اس کذب وافتراء کو تسلیم کرنے سے سب سے پہلے انکار کرتا ہوں اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہوں قال الجر ھری وقال ابوعمر قولہ فانا اول العابدین من الانف والغضب۔ قال ابن الاعرابی فانا اول العابدین ای الغضاب الانفین (قرطبی) “ (ضیاء القرآن سورة الزخرف)
لیکن اس سے بہت ہپلے 1935 ء میں میرے شیخ حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی مرحوم ومغفور نے ” القول المختار “ میں اس کی تفصیل بیان کردی تھی جیسا کہ ہم نے اوپر تفسیر میں بیان کردیا ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب کو 61 ء میں کچھ کتب بھیرہ روانہ کی گئی تھیں اور ان کتب میں آیات للسائلین ، عیون زمزم ، البیان المختار اور القول المختار بھی موجود تھیں اور کرم شاہ صاحب نے اس تفسیر کی پہلی جلد 1965 ء میں شائع کی۔
اوپر جو تراجم ہم نے درج کیے ہیں ان کو محض اس لیے درج کیا ہے کہ پہلی بار جن صاحب نے ترجمہ کیا جو اس میں ہوگیا اس کو آنکھیں بند کرکے سب کرتے آئے اور کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہاں ! جہاں کسی کی کوئی اپنی ضرورت ہوئی اس میں غوروفکر کرکے اگر کچھ کہا بھی گیا تو صرف اور صرف اپنی ضرورت کو پورا کیا گیا اور پھر جب کوئی جس فکر سے وابستہ ہوا اس فکر کی ترجمانی کرتا رہا اور قرآن کریم کے مفہوم کو ایر پھیر کر اپنی فکر کی طرف لانے کی ساری کوشش کی گئی اور فی زمانہ اس کو فقط مردوں کی بخشش کے لیے خاص کردیا گیا اور اگر کسی کو قسم کی ضرورت پڑی تو اس کو استعمال کرلیا یا برکت حاصل کرنے کی خاطر اس کی چند آیتیں تلاوت کرکے اپنے سینے پر پھونکتے ہوئے ہاتھ منہ پر پھیر لیے اور سمجھے کہ ہم نے اسلام کا ایک بہت بڑا کام کرلیا۔ لاریب قرآن کریم کی تلاوت اسلام کا ایک اہم کام ہے لیکن اس وقت جب اس کو سمجھ کر اس کی تعلیمات کے مطابق عملی زندگی کو درست کیا جائے اور اس کے احکامات کو دل وجان سے قبول کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطام فرمائے اور ہم اللہ کی اس کتاب پر براہ راست اس کی اپنی روشنی میں اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی دی ہوئی راہنمائی میں مطالعہ کریں اور اپنے اس ساڑھے پانچ یا چھ فٹ ڈھانچہ کی اصلاح اس کے احکام کے مطابق کریں۔
Ayah 43:82اللہ تعالیٰ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ اس کے ذمہ لگاتے ہیں
82 ؎ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس کا مکمل نظام چلانے والا ہے اور یہ سب اسی حکیم کل کی حکمت کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ لوگ اس خالق کائنات کے بایر میں کیا کچھ بیان کرتے اور خرافات کہتے رہتے ہیں لیکن وہ کسی کو بھی اس کے کہتے ہی پکڑ نہیں لیتا بلکہ اپنے قانون امہال کے تحت اس کو ایک مدت تک مہلت دیتا رہتا ہے اور جب تک اس کی پکڑ کا متعین وقت آ نہیں جاتا وہ مسلسل ڈھیل دئیے جاتا ہے۔ لاریب اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس فرش سے عرش تک اسی کی حکومت اور شہنشاہی ہے اور ہر ایک انسان کی پیشانی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے نہ اس کا کوئی مثل ہے اور نہ ہی کسی چیز سے اس کی مثال دی جاسکتی ہے۔ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی ، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ، نہ اس کا کوئی باپ ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہر ایک اس کا محتاج ہے ، کوئی نہیں جو اس کی برابری کرسکے بلاشبہ وہ ہر اس عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں اور ہر کمزوری سے وہ مبرا ہے۔ (اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد)
Ayah 43:83اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کفار کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ کھیل کو دلیں
83 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اے میرے رسول آپ ﷺ نے ان کو میرا پیغام سنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن اگر ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی تو آپ ﷺ بھی ان کی فکر چھوڑ دیں یہ خود بخود اپنے کیے کے نتیجہ کو پہنچ جائیں گے۔ یہ دنیا کی زندگی آخر ہے ہی کیا چیز اور کتنی دیر کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔ یہ اس طرح کی بحثیں اٹھاتے ہیں کہ اس کی مخلوق میں سے کبھی انسانوں کو اور کبھی فرشتوں اور کبھی جنوں کے ساتھ اس کی رشتہ داری ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس طرح فضول بحثوں میں مبتلا ہو کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں تو کرتے رہیں عنقریب وہ دن آنے والا ہے جو ان کے لیے وعدہ کا دن مقرر کردیا گیا ہے اور ان کو اس طرح اس دنیا سے اٹھالیا جائے گا جس طرح مکھن سے بال نکالا جاتا ہے اور وہ دن ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے اور اچانک آواز بلند ہوجائے گی کہ آج فلاں کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور وعدہ کے لیے زبان زد خاص وعام ہے کہ وعدہ کہتا ہے تو چل میں آیا۔
Ayah 43:84آسمان و زمین میں عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے
84 ؎ آسمان و زمین میں اللہ رب کریم کی کتنی مخلوق ہے کہ اگر اس کو شمار کرنا چاہیں تو یقینا نہیں کرسکتے اور یہ ساری مخلوق اسی رب ذوالجلال والا کرام کی تسبیح خواں ہے اور اس کے ذکر میں کائنات کی ہر شے معروف ہے اس کی الوہیت کا چار سو ڈنکا بج رہا ہے اور اس کی عبادت میں کائنات کا ذرہ ذرہ مصروف ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے اور انسانوں میں اگر کچھ سر پھر اسے کی عبادت سے غافل ہیں اور اس کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کا شریک وسہیم بنا رہے ہیں اور اس کو پکارتے اور سورتے ہیں اس کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ بیٹھے ہیں تو اس طرح وہ اپنا خود نقصان کر رہے ہیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ رہے اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکتے ہیں وہ اس کا محتاج نہیں کہ یہ لوگ ایسا کر کے کوئی اس کا نقصان کر رہے ہیں بلکہ وہ خود اپنا نقصان کر رہے ہیں اور پھر جس کو اپنا نقصان خود کرتے شرم نہیں آتی آپ ﷺ اس کے لیے اتنے غمگین کیوں ہوتے ہیں ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ کی ذات بلاشبہ سب داناؤں سے زیادہ دانا اور سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے وہ آپ کے حال سے بھی واقف ہے اور ان لوگوں کے حال سے بھی ذرا غافل نہیں۔
Ayah 43:85آسمانوں اور زمینوں کی برکتیں اسی سے ہیں اسی کی طرف سے سب کو لوٹنا ہے
58 ؎ { تبارک } وہ بہت ہی برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے { تبارک } کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اس فعل کی گردان نہیں آئی اور صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے اس لیے بعض نے اس کو اسم فعل بتایا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ 9 بار استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے سورة الاعراف :54 ، سورة المومنون :14 ، سورة الفرقان :61 , 10 , 1 سورة ال مومن : 64 سورة الزخرف :85 ، سورة الرحمن : 78 اور سورة الملک :1 میں۔ رب ذوالجلال والا کرام کی ذات وصفات سب میں برکت ہی برکت ہے اور ساری برکتیں اسی سے ہیں ، اس کی ذات بہت ہی بلند وبالا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی الوہیت اور اس کی ربوبیت میں اس کا شریک ہو ، ساری کائنات پر اس کی بادشاہی ہے ، زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اس کی مخلوق ہے ، انبیاء و رسل ہوں یا فرشتے ، جِن ہوں یا ارواح ، ستارے ہوں یا سیارے ، چاند ہو یا سورج غرض کہ جو چیز ہے اور جہاں بھی ہے سب اس کی فرمانبردار ، اس کی مخلوق ، اس کی غلام اور اسی کی تابع فرمان ہے اور پوری مخلوق میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اس کی ذات میں یا اس کی صفات میں یا اس کی خدائی میں اس کا شریک اور ساجھی ہو اور کوئی نہیں جو قیامت کا علم رکھتا ہو کیونکہ قیامت کا علم مخلوق کے احاطہء علم میں نہ آیا ہے اور نہ ہی آئے گا اور نہ ہی آسکتا ہے۔ اس کا علم اللہ کے لیے خاص ہے نہ اس کو کسی نے جانا اور نہ ہی جانے گا اور نہ ہی جان سکتا ہے جس نے بتایا صرف اس کے نشانات ہی کو بتایا کیونکہ یہی کچھ اس کو بتایا گیا ہے اور یہی کچھ اس کو بتایا جاسکتا تھا۔ کتنے علوم ہیں جن کی کھوج میں انسان نکلا اور اس نے ان کے کھوج میں بہت کچھ پایا لیکن اس کے کھوج میں نہ کچھ وہ پا سکا اور نہ ہی پا سکے گا اور انجام کار تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور تم سب کا حقیقی ملجا و مادی صرف اور صرف اسی کی ذات بابرکات ہے۔
Ayah 43:86کوئی شخص بھی سفارش کا حق نہیں رکھتا جیسا کہ مشرکین عقیدہ رکھتے ہیں
68 ؎ نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انسان کے درجہ سے اٹھا کر رحمن کے درجہ تک بڑھایا اور اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزء قرار دیا۔ قریش مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور جِنّوں سے اس کا حسب و نسب جوڑا۔ بعض نے ستاروں میں بعض نے چاند میں اور بعض نے سورج میں اس کو جھانکا اور کتنے ہیں جن کو آگ میں نظر آیا اور پھر کتنے ہیں جو نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور دوسری کئی ایک مخلوق میں اس کو تاکتے ہیں یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ ان سب کے اذہان میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ یہ سب کے سب کسی نہ کسی رنگ میں ہم انسانوں کی سفارش کریں گے اور کوئی وجہ نہیں کہ جب یہ سفارش کریں تو اللہ ان کی سفارش کو قبول نہ کرے ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان سب کے ذہن میں یہی بات جم چکی ہے کہ جس کے ساتھ وہ اس طرح کی عقیدت رکھتے ہیں اس کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ہماری سفارش کرسکے اور چونکہ یہ اختیار ان کو اللہ ہی نے دیا ہے اس لیے ہمارا یہ نظریہ ثابت ہے لیکن زیر نظر آیت نے ان سب کی تردید کردی خواہ وہ اس کا نظریہ کسی ذات کے ساتھ بھی رکھتے ہوں کہ اللہ نے کسی کو بھی سفارش کرنے کا اختیار نہیں دیا جس نے اس سلسلہ میں کوئی ایسی بات کہی بالکل لغو اور فضول کہی۔ اس سے یہ مراد لینا کہ یہ کفار کے بتوں ہی کے لیے آیت خاص ہے سرا سر زیادتی ہے اور یہ بات بھی قبل ازیں کتنی ہی بار اعادہ کی جا چکی ہے کہ اس دنیا میں کوئی نہیں جو محض کسی بت یا بتوں کی پرستش کرتا ہو ہر ایک نے دراصل صاحب بت کی پرستش کی ہے اور اسی شخصیت کو خدا کے ہاں سفارشی سمجھا ہے اور جس جس کی بھی پرستش کی گئی اس میں پرستش کرنے والوں نے رب کو دیکھنے ، جھانکنے اور تاکنے کی صورت تصور کی نہ کہ فی نفسہٖ اسی کو اللہ اور رب جانا اور یہی بات آج قبر پرست کر رہے ہیں کہ وہ قبروں کو ہرگز ہرگز نہیں پوجتے بلکہ ان کی یہ عقیدت صاحب قبر سے ہے اور اسی صاحب قبر سے ان کو خدا نظر آنے کا دعویٰ ہے اور اسی کو وہ اپنا سفارشی اور ملجا و ماویٰ گردانتے ہیں۔ ان سب کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ تمہارا زعم باطل ہے اور یہ سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کی مخحلوق ہیں اور اللہ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سفارش کا اختیار نہیں دیا کہ تم جس کی سفارش کرو گے وہ ضرور ہی قبول کی جائے گی ہاں ! سب کو ہر ایک کی سفارش کرنے سے ضرور منع فرمایا اور ان سب پر واضح کیا کہ تم کو سکی کی سفارش کرنے کا حق نہیں ہے کہ جس کی چاہو سفارش کرو مگر ہاں جس کی سفارش کرنے کے لیے میں تم کو اجازت دوں کیونکہ علم کامل میرے پاس ہے اور میں ہی جانتا ہوں کہ کون ہے جس کی سفارش کی جاسکتی ہے اور کون ہے جس کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ بارگاہ ربِّ ذوالجلال والا کرام میں شفاعت کرنے کی خود بخود جرأت کرسکے اور نہ ہی ہر شخص اس قابل ہے کہ اس کی شفاعت کی جائے۔ شفاعت کرنے کا وہ مجاز ہوگا جس کو بارگاہ ربِّ ذوالجلال والا کرام سے اجازت ملے گی اور یہ بات بھی خوب ذہن نشین رہے کہ شفاعت کی اجازت بھی صرف ان گناہگاروں کی ہوگی جو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کا خاتمہ کفر اور شرک پر نہ ہوا اور جن کا خاتمہ کفر و شرک پر ہوا ان کی سفارش کی اجازت ملنے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور اس کا اللہ نے اعلان کردیا ہے اور اللہ اپنی کہی ہوئی بات کا کبھی خلاف نہیں کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔
Ayah 43:87اے پیغمبر اسلام ! اگر ان سے آپ ﷺ پوچھیں کہ تم کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہیں گے اللہ نے
87 ؎ ان لوگوں نے کہاں کہاں دھکے کھائے اور کس کس کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اور کتنی بحثیں اٹھائیں اور کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے لیکن اب بھی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ تم کو کس نے پیدا کیا ؟ تو دو ٹوک لفظوں میں بتائیں گے کہ اللہ نے اور اگر یہ پوچھ لیا جائے کہ جن کو تم نے معبود اور الٰہ بنایا ہے ان کو کس نے پدہا کیا ہے ؟ تو کہیں گے اللہ نے۔ پھر آپ ان سے ذرا اتنی بات پوچھ لیں کہ پھر تم ادھر ادھر کہاں دھکے کھا رہے ہو اور یہ ساری بحثیں کیسے کر رہے ہو۔ اسی کو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ” جتھوں دی کھوتی او تھے آ کھلوتی۔ “
یہ آیت اظہار تعجب کے طور پر بیان ہوئی ہے اور بلاریب یہ تعجب آج کل کے نام کے مسلمان مشرکوں پر بھی بدستور اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ جن کو وہ مشکل کشا ، حاجت روا ، بگڑی بنانے والے ، قسمت جگانے والے ، اولاد دینے والے ، دکھ درد دور کرنے والے ، مُردوں کو زندگی بخشنے و الے ، شاہوں کو گدا اور گداؤں کو شاہ کرنے والے ، قحط ، مرض اور بلا کو دور کرنے والے سمجھتے ہیں اگر ان کی یہ ساری باتیں سن لینے کے بعد ان سے صرف یہ دریافت کیا جائے کہ یہ سب لوگ کس نے پیدا کیے تھے اور ان کا خالق کون ہے ؟ تو بےدھڑک جواب دیں گے کہ اللہ ! گویا ان سب کو مخلوق ماننے کے باوجود ان سے اس طرح کی عقیدت رکھتے ہیں جو عقیدت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے وہی اپنی ساری مخلوق کا مشکل کشا ، حاجت روا ، بگڑی بنانے والا ، قسمت جگانے والا ، اولاد دینے والا ، دکھ دور کرنے والا ، مسرت دینے والا ، زندگی بخشنے والا ، شاہوں کو گدا کرنے والا اور گدا ہوں کو شاہ کرنے والا ، مریضوں اور بلاؤں کا دور کرنے والا ہے اور بلاشبہ یہ کام اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کے ہاتھ اور کسی کے اختیار میں نہیں دیئے یہ بات مکہ کے مشرکوں نے کہی تھی وہ احمق تھے اور اگر آج کے ان نام کے مسلمان مشرکوں نے کہا تو یہ بھی احمق ہیں۔ اس لیے کہ جب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر اس کے باوجود اسی مخلوق ہی میں سے بعض مخلوق کو اپنا معبود بناتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس طرح راہ حق سے وہ روگردانی کرتے ہیں خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں۔
Ayah 43:88اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے ، آپ ﷺ کی یہ بات سنی جا رہی ہے
88 ؎ گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ” اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ کس نے انہیں پیدا کیا “ آپ ﷺ سے کون مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد نبی اعظم و آخر ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کی وساطت سے ہر ایک داعی الی اللہ۔ زیر نظر آیت میں { قیلہٖ } کی ضمیر نبی کریم ﷺ ہی کی طرف ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ہر داعی الی اللہ کی طرف کہ رسول اللہ ﷺ کی اس پکار کا علم بھی اللہ کو ہے اور اللہ کو علم ہے کہ ہر داعی الی اللہ کی بھی یہی پکار ہے کہ ” یہ لوگ ایمان نہیں لاتے “ اور ظاہر ہے کہ ان کا ایمان نہ لانا بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور داعی الی الحق کے اندر جو یہ پکار ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے یہ بھی اللہ سے مخفی نہیں ہے۔ پھر جب یہ بات اللہ سے مخفی نہیں ہے تو اللہ اپنے وعدہ کا بھی پابند ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ آپ ﷺ کی مدد بھی کرے گا اور نہ ماننے والے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ زیر نظر آیت کے ترجمہ اور تفسیر میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے علم میں ہے لیکن مہارے خیال میں جو مضمون آیت سے واضح ہوتا ہے وہ یہی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ واو کو قسمیہ کہنے اور جوابِ قسم کو محذوف ماننے سے اور علاوہ ازیں تکلفات اختیار کرنے سے بات پھر بھی یہی رہے گی کہ آپ ﷺ کی اس پکار کی قسم کھا کر اسے بطور شہادت پیش کیا ہے کہ ایسا شخص جس کو اس قدر غم لوگوں کے ایمان نہ لانے کا ہے ضروری ہے کہ اس کو نصرت دی جائے۔ جب ماحصل ایک ہے تو ان تکلفات کی آخر ضرورت اور وہ بھی غیر اللہ کی قسم ثابت کرنے کے لیے ؟ فافہم فتدبر۔
Ayah 43:89آپ ﷺ ان سے درگزر کریں اور سلام کہہ دیں ، انجام کار ان کو پتہ چل جائے گا
98 ؎ باتیں ان کی سن لیں اور حقیقت کو آپ ﷺ نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ احمق ہیں اور حماقت کا مظاہرہ کرر ہے ہیں تو آخر احمق کرے گا بھی کیا ؟ یہی کہ وہ اپنی حماقت کا اظہار کرے گا اور یہ آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ حماقت کا جواب کیا ہے ؟ ان کو ایک نہیں سات سلام کرو اور سلامتی کے ساتھ آگے گزر جاؤ ، ان کے قریب جاؤ گے تو آگے سے دانت کاٹیں گے اور پیچھے سے دولتی لگائیں گے بس ان کو دور ہی سے سلام کرو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ ان کو اپنے کیے کا یقینا علم ہو کر رہے گا کیونکہ ہمارے ہاں اندھیر نگری اور چوپٹ راج والا معاملہ نہیں ہوتا اور ہم پھانسی اسی کے گلے میں ڈالتے ہیں جس کے لیے تیار کی گئی ہو اور اس کو اچھی طرح بتا بھی دیتے ہیں کہ تم نے بہت دانت کاٹے اور بہت دولتیاں لگائیں اب ٹھہرو اور اپنے کیے کا انجام پا لو۔ اس طرح جب ہمارا قانون اس کو روک دیتا ہے تو وہ ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا خواہ وہ کون ہو ، کیسا ہو اور کہاں ہو۔
بحمد اللہ اسی مضمون پر سورة الزخرف کی تفسیر ختم کی جا رہی ہے۔ رب اغفر وارحم و انت خیر الراحمین۔
ناچیز بندہ عبدالکریم اثری
4 جنوری 1998 ء 5 رمضان 1418 ھ بوقت 9 بجے صبح