43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمن اگر چاہتا تو ہم ان کی پرستش نہ کرتے اس بات پر ان کے پاس کوئی سند نہیں وہ تو اٹکل سے بات کہہ رہے ہیں

انہوں نے ایک اور شوشہ بھی چھوڑا کہ اگر رحمن نہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت کیوں کرتے ؟ 20 ؎ زیرنظر آیت میں بیان کیا گیا تخیل بہت پرانا ہے اور جس طرح یہ پہلے لوگوں میں پایا جاتا تھا آج بھی پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے سوال کرنے والے نادان اپنے آپ کو دانایانِ زمانہ کہلاتے ہیں اور خود سمجھتے ہیں کہ ہم چوما دیگرے نیست وہ جب کسی سے مخاطب ہوں گے تو یہی کہیں گے صاحب دیکھو تم خود ہی تو یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا ایک پتہ بھی نہیں ہلتاتو پھر جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ عین اس کی رضا ہے اور اگر اس کی رضا نہ ہوتی تو ہم ایسا کبھی نہ کرسکتے۔ بلاشبہ وہ جاہل ہیں خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے ہوں کیونکہ خواندہ ہونا اور بات ہے اور جہالت اور چیز ہے ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں کہ ہر خواندہ عالم اور ہر ناخواندہ جاہل نہیں ہوتا بلکہ بہت سے خواندہ جاہل اور بہت سے ناخواندہ ایسے ہیں جو جاہل نہیں ہوتے۔ اس طرح کا کوئی جاہل اپنی جہالت کو جب علم و فضل خیال کرنے لگتا ہے تو اس کو یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے اور وہ کبھی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے اور یہ پڑھے لکھے جاہل اس فرق کو سمجھ نہیں سکتے اس لیے اس طرح کی باتیں بنانے لگتے ہیں حالانکہ ان کی پیش کردہ بات کو اگر فی الحقیقت مان لیا جائے اور اس حقیقت کو ان ہی لوگوں پر آزمایا جائے تو ان کو چھٹی کا دودھ یاد آئے گا۔ ذرا غور کرو کہ اگر یہ اصول تسلیم کرلیا جائے جو ان پڑھے لکھے جاہل و نادان حضرات نے پیش کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو پھر فسق و فور کی محفلیں جو ہر شب کو سجتی ہیں اور وہ ظلم و ستم کی مشق جو مظلوموں اور کمزوروں پر ہوتا ہے اور اسی طرح قتل ، ڈاکہ ، چوری ، زنا ، شراب خوری ، جوا بازی اور ملک و قوم سے غداری کی جو واردتیں ہوتی رہتی ہیں یہ سب کی سب عین صواب ہیں اور نہ تو کسی کو اعتراض کا حق ہے اور نہ ہی ان کا ارتکاب کرنے والوں کو کوئی سزا دینے کا جواز ہے کیا وہ اپنی پیش کردہ دلیل کے مطابق ان سب خرافات کو جائز اور درست قرار دینے کی جرأت رکھتے ہیں اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کا یہ بنایا ہوا اصول کیسے درست ثابت ہوا یہ تو محض ایک شوشہ ہے جو ان صاحب نے چھوڑ دیا اور سمجھے کہ ہم نے وہ دلیل بیان کردی کہ اب اس کے سامنے کوئی ہل ہی نہیں سکتا۔ یہی بات مشرکین مکہ کہتے تھے کہ ہم لوگ جن کی عبادت کر رہے ہیں ایک تو صرف ہم نہیں کرتے بلکہ ہمارے آباؤ اجدادایسا ہی کرتے آئے ہیں کیا وہ سب کے سب غلط تھے اور صرف یہ ایک صاحب ہی صحیح کہہ رہے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر اللہ کو ہماری یہ بات پسند نہ ہوتی تو آخر وہ ہم کو ایسا کرنے ہی کیوں دیتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جبرواکراہ سے روکنا ہی تو ممنوع قراردیا ہے کہ میں کسی انسان کو مجبور کر کے نیکی کی طرف لانا نہیں چاہتا بلکہ میری مشیت کا یہ فیصلہ ہے کہ میں نے انسان کو جو اختیار دیا ہے اس تک وہ آزادی سے جو کرنا چاہے کرے اس کو مجبور نہیں کرنا چاہتا ہاں ! میری رضا یہ ہے کہ وہ خود اپنی خواہش اور چاہت سے ہر برے کام سے باز آئے اور ہر اچھے کام کو کرے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرنا چاہے اور میرے دیئے ہوئے اختیار سے میرے احکام کی خلاف ورزی کرنا پسند کرے تو بلاحیل و حجت کرے کیونکہ انجام کار اس کو اپنے کیے ہی سے ایک روز دوچار ہونا ہے اور برے کا انجام اچھا اور اچھے کا انجام برا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر آج نہیں سمجھتے اور کٹ حجتیاں کرتے ہیں تو آنے والے روز ان کٹ حجتیوں کا مزہ بھی انہیں کو چکھنا ہوگا۔ بلاشبہ اس طرح کی بحثیں کرنے والے بالکل اکھڑ اور جاہل ہیں علم و فہم کی ان کو ہوا بھی نہیں لگی اور اس طرح کی بیکار قیاس آرائیوں کو انہوں نے بہت بڑی دلیل سمجھ رکھا ہے حالانکہ اس کی حیثیت تار عنکبوت سے کچھ بھی زیادہ نہیں ہے۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے اس سے قبل ان کو کوئی کتاب دی تھی جس سے یہ استدلال کر رہے ہیں تو (وہ پیش کیوں نہیں کرتے ؟ )

کیا ان کے پاس کوئی ہماری لکھت آئی ہے جس سے وہ یہ دلیل پکڑ رہے ہیں 21 ؎ اب واضح کیا جا رہا ہے کہ دلیل کس کو کہتے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی بات پیش کی ہے لیکن اس کے پیش کرنے کا انداز صحیح نہیں ہے تو اس کے مقابلہ میں اللہ اور اس کے رسول ہی کی بات سے ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کا انداز درست نہیں ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص تو اللہ تعالیٰ کی بات پیش کرے اور دوسرا اس کے مقابلہ میں اپنی طرف سے گھڑ کر کوئی دلیل پیش کر دے جیسا کہ ان صاحب نے کیا جنہوں نے یہ کہا کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ان لوگوں کی عبادت کیوں کرتے جن کی ہم عبادت کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ہوتا تو وہ ہے جو وہ چاہتا ہے پر جب ہم غیر اللہ کی عبادت کر رہے ہیں اور وہ ہم کو دیکھ بھی رہا ہے اور ہمیں روکتا بھی نہیں تو یہ صاف اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو ہمارا یہ فعل پسند ہے حالانکہ اس کا یہ استدلال قطعاً غلط ہے کیونکہ اللہ کی چاہت اور اللہ کی مشیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہاں ! ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے کہ مشیت الٰہی اور رضائے الٰہی دونوں ایک ہی ہیں تو اس کو اپنی دلیل پیش کرنا چاہئے اس لیے ایسی من گھڑت دلیل دینے والوں کو کہا جا رہا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف کوئی ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہم نے ان کو شرک کرنے کی اجازت دی ہے یا ان کے آباؤ اجداد کے رسم و رواج کی پابندی کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ سب لوگوں کے سامنے پیش کردیں تاکہ یہ روز روز کی خرخش ختم ہوجائے اور سب لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل رکھتے ہیں حالانکہ ان کو چیلنج کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس نہ اس کی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی دلیل وہ پیش کرسکتے ہیں۔ اپنی کٹ حجتیوں سے باز آئیں یا نہ آئیں یہ ان کی مرضی کی بات ہے اور آج کل ہمارے ہاں یہی کٹ حجتیاں زیادہ چلتی ہیں کیونکہ ان کو آباؤ اجداد کی سند میسر آ چکی ہے اور لاریب انہی کٹ حجتیوں پر ہماری فرقہ بندیوں کا سارا انحصار ہے اور ہمارے عوام و خواص ایسی بےدلیل بحثوں میں مبتلا ہیں خواہ وہ کون ہیں اور کہاں ہیں اور کیسے ہیں۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اس راہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

22 ؎ ان کے سامنے ایک دو نہیں آپ بیسیوں اور سینکڑوں دلیلیں پیش کریں ، کتاب و سنت کو کھول کھول کر رکھیں ان کو انگلی رکھ کر بتائیں کہ قرآن کریم میں یہ لکھا ہے کہ میں اللہ کا کلام ہوں اور میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میری عبارت میں کہیں بھی تضاد نہیں ہے ان کی ان ساری دلیلوں کے سامنے ایک ہی دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جس راہ پر چل رہے ہیں اسی راہ پر ہم نے اپنے بزرگوں کو چلتے پایا ہے اور ہمارے باپ دادا کبھی غلط نہیں ہو سکتے علاوہ ازیں ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ ہی نقلی دلیل موجود ہے بس وہی ایک آباؤ اجداد اور بزرگوں کا طریقہ ہے جس کو وہ بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور اس راہ کو وہ راہ ہدایت سمجھتے ہیں { اُمۃ } کا لفظ اس جگہ طریقہ اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور ان کے اس نظریہ کی وضاحت قبل ازیں عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 104 ، سورة الاعراف کی آیت 28 ، جلد پنجم سورة الانبیاء کی آیت 53 ، جلدششم سورة الشعراء کی آیت 74 ، سورة لقمن کی آیت 23 , 22 میں کی جا چکی ہے محولہ آیات کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح جب بھی آپ ﷺ سے قبل ہم نے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگ یہی کہتے رہے کہ ہم نے اپنے باپ داداوں کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم تو انہیں کے قدم بہ قدم چلنے والے ہیں

جب بھی کسی بستی میں ہمارا کوئی ڈرانے والا پہنچا تو اس بستی کے وڈیروں نے مخالفت کی 23 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو بطور تسلی بتایا جا رہا ہے کہ اہل مکہ کی مخالفت اور خصوصاً اس بستی کے وڈیروں نے جو مخالفت شروع کر رکھی ہے اور جس طرح کی مکاریاں وہ دن رات کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ان سے پہلے جو اہل باطل اور اہل زیغ گزرے ہیں سب نے اپنے اپنے دور کے نبی و رسول کے ساتھ یہی کچھ کیا ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ یہ بات گویا ہمیشہ سے برابر چلی آرہی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جب اپنے موقف کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل دستیاب نہیں ہوتی تو ہمیشہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی آڑ لے کر میدان میں آتے ہیں اور اپنا دفاع اس دلیل کے سہارے کرتے رہے ہیں اور یہ بھی کہ سارے نبیوں اور رسولوں کی سرگزشتوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لو جب بھی کوئی نبی و رسول کسی قوم کی طرف ہم نے روانہ کیا تو اس قوم کے کھاتے پیتے اور باپ دادا والے لوگوں نے ہمیشہ مخالفت میں پہل کی اور نبیوں اور رسولوں کی اصلاحی تحریکوں کے مقابلہ میں اترے اور ہر طریقہ سے مزاحمت کی۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی کیوں ہوا کہ خوش حال طبقہ کے عیش پرست لوگوں نے ہی مخالفت کی ہو حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ جب یہ لوگ فکر معاش سے آزاد ہیں ، معاشرہ میں ہر شخص ان کا احترام کرتا ہے اور انہیں اپنی رائے کے اظہار میں ہر طرح کی آزادی میسر ہے لہٰذا ان کا حق تھا کہ یہ لوگ آگے بڑھ کر حق کا جھنڈا تھام لیتے اور سابقین الاولین میں ان کا نام سرفہرست ہوتا اور ان کی دیکھا دیکھی لوگ ذرا دیر نہ لگاتے اور اس راستہ کی دعوت کو فوراً قبول کرلیتے۔ ان کے اثر و رسوخ کی اور سعی و کوشش سے سارا معاشرہ گمراہی و ضلالت کی گھمبیر ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجاتا لیکن انہوں نے اس کی بجائے ہمیشہ اہل حق کی مخالفت کی اور ان سے محاذ آرائی شروع کردی اور اپنے چیلوں چانٹوں کو ان کے خلاف ابھارا اور ان کا مذاق اڑایا ان کو ساحر ، سحرزدہ ، شاعر اور مجنون جیسے خطاب دیئے آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ان لوگوں کے پاس دولت و ثروت کی فراوانی ہوتی ہے ، لوگ ان کے نام کو سلام کرتے ہیں اور ان کے اردگرد حاشیہ نشینوں کا ہر وقت جمگٹھا رہتا ہے اور وہ اس کے نشہ میں سرشار ہوتے ہیں ان کو کسی کا مطیع و فرمانبردار بن کر اور آزاد زندگی ترک کر کے قید کے بندھنوں میں اپنے آپ کو پابند کرنا نہیں آتا اور کوئی نبی و رسول بھی اپنے ماننے والوں اور ایمان لانے والوں کو اس طرح کی بےلگام زندگی گزارنے نہیں دیتا اور نہ وہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے بلکہ وہ ان کو ہر معاملہ اور ہر بات میں محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے اور ان کی زندگی پر خاص طرح کی قیود لگاتا ہے ، ان کو حکم دیتا ہے کہ تم کو یہ کام کرنا ہیں اور ان ان کاموں کے قریب نہیں جانا ہے اور اس طرح کی تنقید وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتے اس لیے وہ اس طرح کی باتیں کرنے والوں کے درپے ہوجاتے ہیں اور مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ بلاشبہ وہ بےلگام ہوتے ہیں اور بےلگام رہنا چاہتے ہیں اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اس وقت جتنے بڑے بڑے توحید کے ٹھیکہ اور رسول کے شیدائی ہیں اور اپنے گروہ کے مذہبی راہنما کہلاتے ہیں ان کے قریب ہو کر ذرا دیکھ لو کہ ان کے حواریوں کی کیا حالت ہے وہ توحید کے علم بردار ہیں اور اپنی من مانیوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ ظلم و زیادتی کرنا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے ، ڈکیتی اور راہزنی کی عادت ان میں راسخ ہے ، کلاشنکوف ان کے گلے میں ہے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے فرقے کے بڑے راہنما کی سند ان کو حاصل ہے کہ چاہے وہ کیا کریں جب وہ ان کی مسند کے نگہبان ہیں تو دونوں جہانوں میں ان کا بیڑا پار ہے ان کو اپنی حالت کے بدلنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اس فکر کے ساتھ وابستہ رہنے کی ضرورت ہے اس طرح ان کے سارے گناہوں کی میل بالکل پاک اور صاف ہوجائے گی بس جہاں ان کے مذہبی لیڈر کو ان کی ضرورت پیش آئے گی ان کو وہاں حاضر ہونا ہوگا۔ آپ بغیر کسی استثناء کے جتنے مذہبی راہنما ہیں ان کے حواریوں کو اچھی طرح دیکھیں تو یہی کچھ پائیں گے اور اسی طرح دونوں طرف کا کام چل رہا ہے ورنہ آج بھی کوئی حق کی تبلیغ وتعلیم دے کر دیکھ لے کیا ہوتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ واعظ جب کھڑا ہوگا تو فرعونِ موسیٰ کی بات کرے گا لیکن کبھی اپنے وقت کے فرعون کی نشاندہی نہیں کرے گا۔ کفار مکہ کو گالیاں دے گا لیکن اپنے وقت کے کافروں کی بات کرنے کے لیے نہیں اٹھے گا بلکہ اگر ہوسکا تو ان کے نام کو ، ان کے کام کو ، ان کے کلام کو سرا ہے گا اور ان کی ہاں میں ہاں ملائے گا اور ان کی آنکھ کی طرف دیکھ کر بات کرے گا لیکن کسی نبی و رسول نے ایسا نہ کیا پھر وہ لوگ اس کی مخالفت نہ کرتے تو اور کیا کرتے جب کہ وہ اپنی عیش و عشرت کی زندگی بھی ترک نہ کرنا چاہتے ہوں۔ ان وڈیروں کی مخالفت کے انداز کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں تو ان کے پاس بھی مخالفت کا اصل ہتھیار وہی ہے جس کا اوپر کی آیت میں ھکر کردیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کے نبی و رسول کو مخاطب کر کے کہا تو یہی کہا اور یہیں سے بات شروع کی کہ ہم نے جس راہ پر اپنے باپ دادوں ، پیروں ، مرشدوں اور مذہبی پیشواؤں کو پایا ہے اسی راہ پر ہم چل رہے ہیں یہ نئی راہ جو تم لوگ بیان کرتے ہو اس کی ہم پیروی نہیں کرسکتے اور باپ دادا کے نام کو بٹہ ہم نہیں لگا سکتے ہم تو اسی نشان راہ پر چلیں گے جس نشان راہ پر اپنے بزرگوں کو پایا ہے لاریب وہ درباروں ، خانقاہوں ، گدی نشینوں ، سجادہ نشینوں ، پیرزادوں اور سید زادوں کے کتے بن لیں گے لیکن ان کے لیے انسان بننا بہت ہی مشکل اور دشوار گزرے گا اس لیے وہ انسانیت کے قریب نہیں آئیں گے اور دوسروں کو بھی انسانیت کے قریب دیکنای کبھی پسند نہیں کریں گے اور وہ کبھی اہل حق کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیں گے لیکن اگر اہل حق حق پر قائم رہیں تو دیر یا سویر بہرحال ان کا ناکام ہونا یقینی ہے کیونکہ سنت اللہ یہی چل آرہی ہے اور لاریب سنت اللہ کبھی نہیں بدلی اور نہ ہی کبھی سنت اللہ کو بدلتا دیکھیں گے۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

(ہر نبی نے یہی) کہا کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر راہ ہدایت لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ، وہ بولے کہ ہم تو تمہارا لایا ہوا (دین) نہ مانیں گے

نبی و رسول نے ان سے کہا کہ جو تمہارے پاس ہے اگر میں اس سے بہتر بات لے آؤں تو پھر ؟ 24 ؎ یہ سوال ہر نبی کی طرف سے اپنی امت کے مخالفین پر کیا گیا تھا کہ تم جو میری مخلفت کرتے ہو اور اپنے آباؤ اجداد کے ڈھکوسلوں کو پسند کرتے ہو اور اس کو دین سمجھتے ہو اگر میں تم پر یہ بات واضح کر دوں کہ جو کچھ میں پیش کر رہا ہوں وہ وہی دین ہے جو میرے سے پہلے رسولوں نے بھی اپنی اپنی امت کے سامنے پیش کیا اور یہ بھی کہ تمہارے آباؤ و اجداد کا طریقہ گمراہ کن ہے اور خصوصاً یہ کہ وہ تمہاری ذہنی ، مادی اور روحانی ترقیوں میں سنگ گراں کی حیثیت رکھتا ہے اور زندگی کا جو پروگرام میں پیش کر رہا ہوں وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے باعث تمہارے لیے بہت مفید ہے جو تمہاری اس دنیا کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا ضامن ہے اور تمہاری آخری زندگی کو بھی روشن کردینے والا ہے تو وہ یہ سن کر برداشت بھی نہیں کر پاتے اور انکار کی روش اختیار کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ تم ایک نہیں لاکھ دلیلیں پیش کرو ہم تمہاری بات کو مان کر اپنے باپ دادا کے نام کو بٹہ نہیں لگا سکتے اور نہ ہی ان کے طریقہ کو چھوڑ سکتے ہیں۔ ہم یہ کیسے مان لیں کہ ساری دنیا کے لوگ غلط اور تم ہی ایک صحیح ہو حالانکہ ہمارے بزرگوں میں بڑے بڑے نامور لوگ گزرے ہیں اور انہوں نے جو خدمتیں کی ہیں انہیں کے مرہون منت ہم زندہ ہیں اور اپنے مسلک پر قائم ہیں اور برملا تمہارا اور جو کچھ تم پیش کرتے ہو اس کا انکار کرتے ہیں۔ آپ پیچھے شعیب (علیہ السلام) کی دعوت میں پڑھ چکے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے قوم کے سرداروں نے کہا ” اے شعیب ہم تجھ کو اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں ضرور اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہوگا ، نوح (علیہ السلام) نے کہا ، کیا اس حال میں بھی کہ میں تمہارے اس دین سے بیزار ہوں۔ (اگر ہم نے ایسا کیا) تو یقینا ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمہارے مذہب میں لوٹ آئیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی اور ہمیں ہرگز شایان شان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ آئیں مگر ہاں جو اللہ ہمارا رب چاہے ، ہمارے رب کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے کہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور اس کی قوم کے سرداران نے جو کافر تھے شعیب کے پیروؤں کو کہا کہ اگر تم نیش عیب کی پیروی کی تو تم یقینا نقصان اٹھانے والوں میں ہو گے۔ “ ( سورة الاعراف 88:7 تا 90) یہی کچھ ہر نبی و رسول کے ساتھ ہوا اور ان کے ماننے والوں کو اسی طرح کی دھمکیاں دی گئیں اور اگر تم غور کرو گے تو آج بھی اسی روش پر تم اکثریت کو پاؤ گے اور مذہبی راہنماؤں کی اکثریت بھی تم کو یہی کچھ کہتی نظر آئے گی اور حق کی آواز اٹھانے والوں کے سامنے بالکل وہی دشواریاں پیش آئیں گی جو پہلوں کو پیش آچکیں اور آج بھی دعوت حق کے مقابلہ میں کوئی دلیل پیش نہیں کرے گا بلکہ یہی ثابت کرے گا کہ یہ ایک بالکل نئی بات ہے ہم نے گزشتہ لوگوں سے ایسا بالکل نہیں سنا بلکہ ہمارے ہاں دشواری اب پہلے سے زیادہ اس لیے بڑھ گئی ہے کہ ہمارے سامنے گزشتہ لوگوں کی تحریریں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ دیکھو فلاں کو اتنے سال گزر گئے اور فلاں کو اتنا عرصہ گزر چکا اور اپنی فلاں کتاب میں یہ لکھ کر گیا ہے اور تم جو کچھ کہتے ہو وہ بالکل اس کے نظریہ کے خلاف ہے کیا وہ غل تھا اور آپ صحیح ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور پھر سو بار ان کو قرآن کریم اور احادیث رسول سے دلیلیں دو لکین یہ وہ کہہ کر ٹھکرا دیں گے کہ کیا وہ لوگ یہی قرآن نہیں پڑھتے تھے اور ان کے سامنے ذخیرئہ حدیث موجود نہیں تھا پھر جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی تھی تمہاری سمجھ میں کیسے آگئی بہرحال کچھ بھی ہو ہم تمہاری بات ان کے مقابلہ میں نہیں مان سکتے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید قرآن و حدیث پر براہ راست کسی انسان کو حق ہی نہیں کہ وہ غور و فکر کرسکے حالانکہ یہ بین نہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف لگایا گیا اور نہ ہی نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف سے بلکہ دور اسلام میں ہر انسان کو یہ حق دیا گیا تھا کہ ہر آدمی براہ راست کتاب اللہ اور فرمانِ رسول اللہ ﷺ پر غور کرے اور عین ممکن ہے کہ وہ اس وقت کے سامعین سے بھی کسی بات کو زیادہ سمجھ سکے اور تاریخ اور احادیث میں ایسی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں کہ بڑے بڑے لوگوں نے ادنیٰ سے ادنیٰ لوگوں کے استدلال قرآن کو تسلیم کیا اور اپنی سمجھ کو بالکل چھوڑ دیا اور پھر برملا اعلان بھی کیا کہ جو بات فلاں نے سمجھی وہ بالکل حق اور صواب ہے اور اس کے مقابلہ میں میری رائے کی کوئی وقعت نہیں لہٰذا میں اپنی رائے کو واپس لیتا ہوں۔ امیر المومنین عمر فاروق ؓ کی سیرت کو اٹھاؤ اور دیکھو کہ وہ خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ آج کل عورتوں کے حق مہر میں لوگ بہت تجاوز کر رہے ہیں ، ان کے لیے ایک حد مقرر کر دینی چاہئے۔ ابھی یہ ارشاد فرما ہی رہے تھے کہ ایک عورت نے جو خطبہ سن رہی تھی قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کردی { واتیتم احدہن قنطار افلاتاخذوا منہ شیئًا } (النساء 20:4) ” اور تم ان کو سونے کا ایک ڈھیر دے چکے ہو تو بھی اس سے کچھ نہ لو “ اگرچہ عورتوں کو سونے کا ڈھیر حق مہر میں دینے کا حکم نہیں ہے تو اتنا سونا دینے سے روکا بھی نہیں گیا اور خود دینے ولاے کو واپس لینے کا بھی حق نہیں دیا گیا اس لیے جس معاملہ میں اللہ نے کوئی قید نہیں لگائی خلیفہ وقت اس میں اپنی طرف سے قید کیسے لگا دے گا۔ یہ بات سننا تھی کہ اسی خطبہ کے دوران عمر فاروق ؓ نے اپنی کی ہوئی بات کو واپس لے لیا اور اس عورت کی بھی تعریف کی۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے کبھی اس کا اول اچھا ہوتا ہے کبھی آخر۔ اس لیے اگر پہلوں کو یہ اختیار تھا کہ وہ براہ راست قرآن کریم اور احادیث رسول کو سمجھیں تو پچھلوں کا یہ حق ختم کردینا سرا سر زیادتی ہوگی اس لیے یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتی کہ فلاں آیت کا ترجمہ و مفہوم آج سے ایک ہزار سال قبل ” ا “ نے یہ سمجھا تھا لہٰذا آج اس کے ایک ہزار سال بعد ” ب “ کو کوئی حق نہیں کہ وہ ” ا “ کے سمجھے ہوئے مطلب کے خلاف بیان کرے کیونکہ جس طرح ” ا “ صاحب وحی نہیں تمہاری طرح ” ب “ بھی صاحب وحی نہیں ہے ہاں اگر ” ا “ یہ بیان کرے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فلاں آیت کا یہ مفہوم بیان کیا تو ” ب “ کا حق یہ ہوگا کہ وہ اس مفہوم کے متعلق غورو فکر کرے کہ یہ مفہوم قرآن کریم کی کسی دوسری آیت کے خلاف تو بیان نہیں کیا گیا اگر وہ قرآن کریم کی کسی ایک آیت کے خلاف نہ ہو تو ” ب “ کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اس مفہوم کے خلاف اپنی طرف سے کچھ بیان کرے بلکہ اس کو یقین کرنا ہوگا کہ جو ” ا “ نے کہا وہ بالکل صحیح اور سچ ہے کیونکہ نبی کا کوئی ول و فعل قرآن کریم کے کسی ایک حکم کے بھی خلاف نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قرآن کریم کا بیان کسی اپنے دوسرے بیان کے خلاف ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اصول کا مسئلہ ہے اور اصول طے شدہ باتوں کو کہا جاتا ہے اور اس معاملہ میں طے شدہ بات یہی ہے جو اوپر بیان کی گئی کہ رسول ﷺ کا بیان قرآن کریم کے خلاف نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قرآن کریم کا بیان اپنے کسی بیان کے خلاف ہو سکتا ہے۔ اگر یہ بات آپ نے اچھی طرح یاد رکھی تو ان شاء اللہ بہت سارے بکھیڑوں سے بچ جائیں گے اور ایک سیدھی بات کو سیدھی طرح سمجھ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے (ان کے کیے کا) بدلہ لیا پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا

وہ جب کفر سے باز نہ آئے تو ہم نے بھی ان سے انتقام لیا اور جھٹلانے والوں کا انجام اچھا نہ ہوا 25 ؎ گزشتہ قوموں کی سرگزشتوں میں سے ایک ایک کی سرگزشت پڑھ جاؤ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جب ہر قوم نے اپنی من مانیاں کیں اور نبی ورسول کی باتوں پر کان نہ دھیرا تو ہم نے ان کو ایک مدت تک مہلت دی لیکن جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو ہر ایک قوم کو ہم نے پل بھر میں ختم کر کے رکھ دیا اور ان سے عبرتناک انتقام لیا اگر تم کو دیدئہ بینا اور گوش ہوش میسر ہے تو ان اجڑے ہوئے کھنڈروں سے پوچھ دیکھو کہ وہ تم کو کیا بتاتے ہیں بلاشبہ وہ تم کو یہی بتلائیں گے کہ کبھی وہ لوگ بھی پوری آن بان اور خوب ٹھاٹھ باٹھ سے رہا کرتے تھے کیونکہ کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی۔ یہ تو ان کی دنیوی زندگی کا انجام تھا اور آخرت کا خسارہ وہ اس سے بھی سوا ہے کیونکہ اس زندگی کا تو ختم تھا اور وہ آگیا لیکن آخرت کی زندگی اگر برباد ہوگئی تو ایسی بربادی ہے جس کا ازالہ موت بھی نہیں کرسکے گی کیونکہ موت کو تو اس وقت موت دے دی گئی ہوگی۔
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو

ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرو جب اس نے قوم اور باپ سے بیزاری کا اظہار کیا 26 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو سات آٹھ سال ہو رہے تھے کہ آپ ﷺ نے نبوت و رسالت کا پیغام ان لوگوں کو پہنچانا شروع کیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا قریش مکہ اور دوسرے مخالفت میں بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے قرآن کریم کی دلوں کو ہلا دینے والی روشن آیات ان کے سامنے تلاوت کی جا رہی تھیں ان کو سن کر وہ خود اور ان کی عورتیں اور بچے بھی ان سے سوال کرتے تھے کہ یہ کلام جو محمد بن عبداللہ ﷺ پڑھتے ہیں یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا لیکن ان کی باتوں کا وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ شرک و کفر پر نہایت مضبوطی کے ساتھ ڈٹے ہوئے تھے اور اپنے باپ دادا کی پیروی چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو اندھی تقلید کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور عقل و دانش کو وہ مکمل طور پر خیرباد کہہ چکے تھے چونکہ وہ بار بار آباؤ اجداد کی بات کرتے تھے اس لیے ان کے سامنے ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ پڑھا جا رہا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے اسلاف کو اور اپنی پوری قوم کو راہ حق سے بھٹکا ہوا پایا تو ان کو ہر ممکن راہ ہدایت کی طرف بلایا اور جب وہ ان کی بات کو نہ مانے اور اپنی ضد پر اڑے رہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے قطع تعلق کرلیا۔ تم لوگ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا جد امجد مانتے ہو اور ان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور بلاشبہ تمہارا یہ دعویٰ صحیح بھی ہے اور ان کے بتائے ہوئے کعبہ کے متولی اور خدمت گزار بھی ہو اور اسی نسبت کے باعث تم کو ملک میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا بھی جاتا ہے پھر جب انہوں نے اپنے گمراہ آباؤ اجداد کی روش کو اعلانیہ چھوڑ دیا تو تم بھی آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گمراہ آباؤ اجداد سے برأت کا اعلان کر دو اور دیکھو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں تم پر آسمان نہیں گر پڑے گا کیونکہ تم برملا کہہ سکتے ہو کہ ہم اپنے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے پیروکار ہیں اور انہیں کی سنت پر عمل کرتے ہیں اس طرح تمہاری بات کہ ہم اپنے آباؤ اجداد میں سے ہیں اور تم بھی لوگوں کے سامنے اپنا یہ موقف کھل کر بیان کرو کہ ہم ان بتوں سے بیزار ہو کر اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت کو زندہ کر رہے ہیں جیسا کہ خود ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت زور دار الفاظ سے اپنے والد بزرگوار اور قوم کو مخاطب کر کے کہہ دیا تھا کہ میں تمہارے ان بتوں سے مکمل طور پر بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کی تم پرستش کر رہے ہو اور یہ بات ہم پیچھے واضح کرچکے ہیں کہ بتوں اور قبروں میں نظرئیے کا کوئی فرق نہیں صرف شکل و صورت کا فرق ہے کہ انہوں نے اپنے نیک لوگوں ، نبیوں ، ولیوں اور رسولوں کے مجسمے تیار کرر کھے تھے جن سے وہ عقیدت رکھتے تھے اور آج کل مسلمان کہلانے والوں نے ان گھڑے پتھر جو ایک ڈھیر کی صورت میں ہوتے ہیں ان کے ساتھ وہی عقیدت جم رکھی ہے جو وہ بتوں سے جماتے ہوتے تھے اور یہ فرق حقیقت کا فرق نہیں بلکہ صرف شکل و صورت کا فرق ہے۔ وہ لوگ جن کی پرستش کرتے تھے ان کے مجسمے بنا کر سامنے رکھتے تھے اور آج کل کے مشرک جن کی پرستش کرتے ہیں ان کی قبریں پکی بنا کر ان پر عمارتیں تعمیر کرتے ہیں گویا وہ صاحب بت کی پرستش کرتے تھے اور یہ صاحب قبر کی۔
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر ہاں ! (میں تو) اس کی (عبادت کرتا ہوں) جس نے مجھے پیدا کیا پس وہی مجھے سیدھی راہ دکھاتا ہے

مگر ہاں وہ ذات جس نے مجھے پیدا کیا اور میری راہنمائی کرتا ہے 27 ؎ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا استثنائیہ کلمہ ہے کہ جب آپ نے اپنے والد بزرگوار اور قوم کے معبودوں کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کیا تو چونکہ ان ہی معبودوں میں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کو بھی وہ شامل سمجھتے تھے اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے اس ذات الٰہ کو جو حقیقی طور پر الٰہ اور معبود ہے اس کی استثناء کردی کہ میں سب سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں مگر ہاں ! اس ذات کو میں بھی اپنا معبود و الٰہ مانتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور میری ہر طرح کی راہنمائی بھی کر رہا ہے اور جس کی توحید کے وہ والد اور قوم کے سامنے گیت گاتے رہے اور قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی اپنے والد بزرگوار اور قوم کے معبودوں کے خلاف بات کی وہاں اسی ذات کریمی کو ان میں استثناء کردیا چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : (الشعراء 26: 75 تا 58) ” ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تم دیکھتے ہو کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ تم اور تمہارے باپ دادا تو وہ میرے لیے دشمن ہیں مگر تمام جہانوں کا پروردگار۔ جس نے مجھے پیدا کیا پھر مجھے ہدایت دی۔ اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب بھی میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفادیتا ہے۔ اور جو مجھے مارے گا اور پھر مجھے زندہ کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے روز میری خطائیں معاف فرمائے گا۔ اے میرے رب مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے اور میرے لیے پچھلوں میں ذکر خیر جاری رکھ اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں بنا دے۔ “ غور کرو کہ کس طرح ابراہیم علیہالسلام نے جب والد بزرگوار اور اپنی قوم کے معبودوں سے بیزاری کا اظہار کیا تو اس سے پروردگارِ عالم کو مستثنیٰ کردیا۔ کیونکہ قوم اور باپ جہاں دوسرے لوگوں کی پرستش کرتے تھے وہاں اللہ رب العزت کی بھی پرستش کرتے تھے اس لیے آپ نے سب کا رد کردیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس میں سے مستثنیٰ قرار دے دیا اور پھر صرف مستثنیٰ کرنے ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کی توحید کے گیت گانے لگے اور وہ اس طرح گائے کہ ان کے معبودوں کی ساتھ ہی ساتھ خود بخود نفی بھی ہوتی چلی گئی جب آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے ہدایت دی چونکہ آپ کی قوم دوسروں کو خالق سمجھتی تھی اور ہدایت دینے والے مانتی تھی ان کی خود بخودنفی ہوگئی اس طرح آپ کے ایک ایک جملے پر غور کرتے جاؤ تو تم کو ہر جملے سے یہ معلوم ہوگا کہ اس جملے نے کس کس چیز کی نفی کردی ہے اور کس خوبصورت انداز میں کی کہ کسی کو کچھ کہا بھی نہیں اور وہ سب کچھ کہہ بھی دیا ہے جو کہنا چاہئے تھا یا اس جگہ کہا جاسکتا تھا۔ مزید تفصیل دیکھنا چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 124 تا 132 جلد سوم سورة الانعام کی آیت 74 تا 84 جلد چہارم سورة ابراہیم کی آیت 35 تا 41 ، جلد پنجم سورة مریم کی آیت 42 تا 50 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 51 تا 70 ، سورة الشعراء کی آیت 75 تا 85 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت 61 تا 18 ، سورة الصافات کی آیت 83 تا 111 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اسی (توحید) کو وہ (ابراہیم ) اپنی اولاد میں ایک باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا تاکہ لوگ شرک سے باز رہیں

ابراہیم (علیہ السلام) یہی کلمات اپنی اولاد کے لیے چھوڑ گیا ہے 28 ؎ قریش مکہ اپنے آپ کو اولاد ابراہیم بھی سمجھتے تھے اور دین ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے تھے اس لیے ان ہی کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے یہی کچھ چھوڑا تھا جس کا ذکر ہم نے پیچھے کردیا ہے پھر تم یہ تعجب ہے کہ تم ابراہیم کو اپنا جد امجد بھی مانتے ہو اور اپنے باپ دادا کے دین کا دعویٰ بھی کرتے ہو اور ان باتوں اور کاموں سے انحراف بھی کرتے ہو جو تمہارے دادا ابراہیم (علیہ السلام) کرتے رہے اور اپنی اولاد کو اس کا حکم دیتے رہے اس طرح گویا قرآن کریم نے قریش مکہ کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا اور ان کے ساتھ وہی کام کیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ” جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا کر سب کو دکھاکر چھوڑا گیا “۔ زیر نظر آیت کو ذرا آرام کے ساتھ ، ٹھنڈے دل اور چشم وا کر کے دیکھیں تم کو بہت کچھ نظر آنے لگے بلاشبہ اگر ان میں کچھ بھی شعور ہوتا تو وہ پانی پانی ہو کر رہ جاتے کیونکہ انہوں نے باپ دادا کی تقلید کا دعویٰ کیا تھا اور ان کو ان کے باپ دادا ہی کی نشاندہی کردی گئی کہ تف ہے تم پر کہ تم نے اپنے بہترین آباؤ اجداد کو چھوڑ کر ان کی جگہ بدترین آباؤ اجداد کی تقلید شروع کردی اور اس کے باوجود وہم مشیخیت جو تم کو عربوں میں حاصل ہے اس کا اصل باعث بھی تمہارے وہی بہترین آباؤ اجداد ہیں نہ کہ یہ بدترین آباؤ و اجداد اس لیے تم کو اگر باپ دادوں ہی کی پیروی کرنی ہے تو ان بہترین آباؤ و اجداد کی کیوں نہیں کرتے پھر یہ بھی کہ میرا اور تم سب کا باپ دادا تو ایک ہی ہے اس لحاظ سے میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ باپ دادا کی سچی پیروی تو میں کر رہا ہوں نہ کہ تم لوگ اور یہ بھی کہ اگر باپ دادے عقائد کی وجہ سے اچھے نہ رہے ہوں تو اس کے لیے جو اسوئہ حسنہ ابراہیم (علیہ السلام) نے چھوڑا ہے وہ ہماری راہنمائی کے لیے کفایت کرتا ہے دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آباؤ اجداد کی کس طرح مخالفت کی جو آباؤ اجداد سیدھی راہ سے بہک گئے تھے۔ اس طرح قرآن کریم کی زبان میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے قریش مکہ کو نہایت سخت شرم دلائی کہ شاید وہ اس طرح ہی اصل حقیقت کی طرف لوٹ آئیں لیکن شرم و حیا سے عاری لوگ کم ہی ان باتوں پر دھیان دیتے ہیں۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو ہر قسم کے سامان سے بہرہ مند رکھا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا رسول آگیا

میں نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو فائدہ دیا یہاں تک کہ آخری رسول ان میں بھیج دیا 29 ؎ اللہ تعالیٰ اپنا احسان جتاتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی بداعتدالیوں کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے آباؤ اجداد کو فراوانی کے ساتھ رزق دیا اور ہر طرح کا فائدہ ان کو پہنچایا اور ایک مدت مدید تک میرا یہ سلسلہ چلتا رہا ان کی نافرمانیوں اور شرک و کفر کی وجہ سے کوئی انعام ان سے انہیں روکا بلکہ ان کو مزید بڑھا چڑھاکر دیا کہ شاید ان کو ہوش آجائے یہاں تک کہ دنیا جہان کے سارے واقعات میں سے بڑا انعام بھی انہی لوگوں میں رہ کر زندگی گزاری وہ لوگ اسکے بچپنے اور جوانی کے سارے حالات سے اچھی طرح باخبر تھے کہ اسنے تو کسی انسان کے سامنے تہ زانو کیے ، نہ لکھنا پڑھنا سیکھا اور چالیس سال کی مسلسل زندگی گزارنے کے بعد اچانک وہ ان کی آنکھوں کے سامنے پڑھنے بھی لگا اور ضرورت کی چیز لکھنے بھی لگا اور ان میں ایک دو نہیں بہ تیرے ایسے لوگ اور بھی تھے جو نہ لکھنا جانتے تھے اور نہ پڑھنا لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جس کو اچانک اس طرح لکھنا اور پڑھنا آگیا ہو پھر ان سارے حالات کو دیکھ کر بھی کسی طرح کا کوئی شک و شبہ رہ جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول بنا دیا گیا ہے تب ہی اس کو یہ خصوصیت حاصل ہوگئی ہے اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی تھی اگر وہ کسی شہادت کو شہادت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتے جس نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہو اس کو آخر کون منوا سکتا ہے اور اس سے بڑی شہادت اور کیا ہو سکتی ہے اگر کوئی شہادت کو قبول کرنا چاہے۔
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (قرآن) آیا تو کہنے لگے یہ (تو) جادو ہے اور ہم تو اس کو نہیں مانتے

لیکن انہوں نے حق کو حق کہنے کی بجائے جادو کہہ دیا اور اس سے انکار کر گئے 30 ؎ اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ قریش مکہ جب اپنی مخصوص مجلسیں قائم کرتے جن میں قوم کے و ڈیرے اور زیرک لوگ مل کر بیٹھتے تھے اور اس موضوع پر غورو فکر کرتے تھے کہ محمد ﷺ جو کچھ پیش کرتا ہے اس کے متعلق کیا کہا جاسکتا ہے وہ بلاشبہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ہم اس کو کس طرح نبی و رسول تسلیم کرلیں جب کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہمارے ہی جیسا ایک انسان ہے ، کھاتا پیتا ہے ، بیوی بچے اس کے ہاں موجود ہے ، بازاروں میں آتا جاتا ہے اور سودا سلف بھی خریدتا نظر آتا ہے اس لیے یہ دعویٰ تو اس کا صحیح نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی و رسول ہو کیونکہ ایسی بات آج تک ہم نے نہیں سنی اور نہ دیکھی ہے اور انجام کار وہ اپنی ہر مجلس میں یہ طے کر کے اپنے مجلس کو برخاست کردیتے کہ اس کی بات مت سنو اور اس کا ذکر عام لوگوں کے سامنے مت کرو اگر کوئی دوسرا شخص اس کا ذکر خیر کرے تو اس کو خاموش کرنے کے لیے یہ کہہ دو کہ چھوڑو یار کوئی اور بات کرو اس پر تو کسی نے جادو کردیا ہے اس لیے وہ اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے چونکہ وہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے اس لیے ہم اس کی باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیتے کہ یہ ہماری مجبوری ہے۔ جن وجوہ کی بنا پر وہ نبی اعظم و آخر پر ” سحر “ کا الزام لگاتے تھے اس کی چند مثالیں رسول اللہ ﷺ کے سب سے پہلے ایک سیرۃ نگار محمد بن اسحاق (متوفی 152 ھ) نے بیان کی ہے وہ لکھتا ہے کہ ایک وفد عبہ بن ربیعہ (ابو سفیان کے خسر) نے سردارانِ قریش سے کہا اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں محمد ﷺ سے جا کر ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کرو ، لوگوں نے کہا کہ اے ابو الولید آپ پر بھروسہ ہے کہ اگر آپ اس سے بات کریں تو شاید اس کا کوئی نتیجہ نکلے اس لیے آپ اس کے پاس ضرور جائیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور کہنے لگا کہ بھتیجے ہمارے ہاں جو آپ کو عزت حاصل تھی تم خود جانتے ہو اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں اور نسب بھی ہمارا تمہارا ایک ہے تم اپنیق وم پر کیا مصیبت لے آئے ہو ؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے ساری قوم کو بیوقوف ٹھہرا دیا۔ قوم کے بزرگوں کی برائی کی ، باپ دادا جو مر چکے ہیں ان سب کو تو نے گمراہ اور کفار بنایا حالانکہ اس سے تم کو کوئی فائدہ بھی حاصل نہ ہوا تم نے اپنا سرا سر نقصان کیا یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں اس نے کیں کہا تم دولت چاہتے ہو۔ حکومت قائم کرنا چاہتے ہو یا کوئی بیماری آپ کو لاحق ہوگئی ہے آپ ﷺ خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے اور آخر میں بولے اور فرمایا کہ اے ابو الولید ! جو کچھ آپ نے کہنا تھا کہہ لیا یا کچھ مزید کہنا چاہتیہو اس نے جواب دیا کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا کہہ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اب میری بات سنو آپ ﷺ نے اس کو متوجہ کیا اور بسم اللہ پڑھ کر سورة حم السجدہ پڑھنی شروع کی اور مسلسل آیت 38 تک پڑھتے چلے گئے۔ آیت 38 کے بعد سجدہ کیا اور سجدہ سے سر اٹھا کر عتبہ سے فرمایا کہ میں نے بھی جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ لیا اب تم کچھ مزید کہنا چاہتے ہو تو کہو عتبہ اٹھا اور سردارانِ قریش کے پاس واپس آگیا قریش کے سرداروں نے دیکھتے ہی کہا کہ خدا کی قسم ابوالولید ! آپ کا چہرہ پہلے والا نہیں رہا ایسا لگتا ہے کہ آپ پر بھی محمد ﷺ کا جادو چل گیا ہے۔ ابوالوید کہنے لگا کہ مجھ پر تو کوئی جادو نیں چلا البتہ میں نے جو کلام آج سنا ہے وہ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ شعر نہیں ، سحر نہیں ، کہانت نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی بھی انسان کا کلام نہیں۔ اے معشر قریش میں تو آپ کو یہی کہوں گا کہ تم میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو اگر اس پر عرب غالب آگئے تو ایک بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہیں ہوگا اور اگر وہ غالب آگیا تو حکومت تمہاری قریش ہی کی ہوگی اور پھر اس طرح کی تین چار باتیں مزید ان کو کہہ دیں (ابن ہشام جلد اول ص 213 ، 214) اگر آپ غورو فکر کریں گے تو آج بھی حق کے مقابلہ میں آپ کو یہی باتیں سننے میں آئیں گی فرق ہوگا تو صرف ناموں کا ہوگا اور ناموں ہی کے فرق سے تم یہ بات نہیں سمجھ سکو گے تو یہ قریش کے سرداروں ہی کی سی بات ہے کیونکہ ہمارے علامہ حضرات قرآن کریم کی ایک آیت پڑھیں گے اور پھر اس کا ترجمہ کریں گے چونکہ ہماری زبان عربی ہے ہم ان کو اس آیت کا ترجمہ کرکے بتائیں گے کہ آپ کا ترجمہ صحیح نہیں بلکہ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے تو فوراً بولیں گے کہ اچھا آج تک تو جتنے لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا وہ یہی کرتے رہے تم نے یہ نیا ترجمہ کیسے کردیا یہ ” جتنے لوگوں نے ترجمہ کیا “ کے لفظوں پر غور کرو کہ یہ جتنے لوگ ترجمہ کرنے والے تھے سب کے سب انسان ہی نہیں تھے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے نبی و رسول تھے ؟ کیا ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی کسی بات سے یہ مفہوم سمجھا ؟ اگر ان سارے سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو آپ نے ان لوگوں کو کیا سمجھا جس پر تم سیخ پا ہوگئے آخر وہ بھی انسان تھے اور انسانوں سے خطا ممکن ہے آپ براہ راست قرآن کریم کے اس ترجمہ پر غور کرو تم پر کوئی آفت نہیں گرے گی۔ یہ تمہارا حق ہے جیسا کہ ان گزرے ہوئے بزرگوں کا حق تھا۔ آپ ان بزرگوں کو کچھ نہ کہئے ان کا احترام کیجئے ان کو بزرگ سمجھئے اور ان کی اس تفہیم کے خلاف اپنا موقف بیان کیجئے اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ خائف کیوں ہیں آپ نے ان بزرگوں کو بزرگ مانا ہے کیوں ؟ اس لیے کہ وہ فی الواقع بزرگ تھے اور انہوں نے آپ سے بہت پہلے نامساعد حالات میں دین کی خدمت کی ، دین کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا اور وہ یقینا اپنا حصہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے پائیں گے لیکن وہ معصوم عن الخطاء نہیں تھے۔ کوئی نبی و رسول نہیں تھے ایک بات ان کی سمجھ میں نہ آئی عین ممکن ہے آپ اس کو سمجھ گئے اور کتنی باتیں ہیں جو آپ نے نہ سمجھیں اور شاید بعد میں آنے والے آپ سے بھی زیادہ سمجھ جائیں لیکن اس سے نہ تو کوئی پہلے لوگوں پر الزام ہے اور نہ ہی آپ پر آئے گا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے اور جس پر وہ چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق کردیتا ہے۔ ہاں ! جس طرح گزشتہ بزرگوں کی کہی ہوئی بات حرف آخر نہیں ہے آپ کی بھی نہیں ہے اگر آپ کی بات سے کسی نے زیادہ بہتر بات کردی اور یہ معاملہ آپ کی زندگی میں ہوگیا تو آپ بلا ریب اس کو درست سمجھئے اور اپنی بات کو اسی وقت چھوڑ دیجئے یہ نہایت شجاعت اور اولوالعزمی کی بات ہے کہ آدمی محض ضد کی بنا پر ڈٹا نہ رہے بلکہ وسعت قلبی کے ساتھ حق کو حق ماننے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا ؟ (کہ ان کی بات مانی جاتی)

سردارانِ قریش کا ایک اور اعتراض جو انہوں نے اپنی جہالت کے باعث کیا تھا 31 ؎ معترضین کسی ایک مجلس میں ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر اعتراض نہیں کرتے رہے بلکہ وقتاً فوقتاً جو اعتراض ان کو سوجھتا وہ کردیتے اور یہی کچھ اب بھی کیا جاتا ہے اس لیے اعتراضات کی صورتیں الگ الگ اٹھائی گئی ہیں کبھی تو وہ یہ اعتراض کرتے کہ کوئی انسان بھی بھلا نبی و رسول ہو سکتا ہے جب ان کے اعتراض کا جواب ان کو دیا گیا اور ان کے سلیم شدہ نبیوں اور رسولوں کی نشاندہی کی گئی کہ فلاں فلاں کو تم نبی و رسول مانتے ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ فلاں نبی کا فلاں بیٹا ہے تو کیا وہ صاحب اولاد نہیں تھے اس طرح ان کو باور کرایا گیا کہ گزشتہ سارے انبیاء کرام اور رسل عظام بھی انسان ہی تھے اس طرح جب ان کو لاجواب ہونا پڑا اور یہ اعتراض اٹھانا بند کیا تو ایک دوسرا کھڑا کردیا کہ اچھا اگر انسان رسول ہو سکتا ہے تو کیا عرب کے ان دو بڑے شہروں یعنی مکہ اور طائف میں کیا یہی ایک ایسا انسان تھا جس کی طرف وحی کی جانا تھی حالانکہ مکہ اور طائف میں بڑے بڑے لوگ موجود تھے جن کے ناموں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور لوگ ان کی بات پر ان رکھتے تھے اور اگر کوئی ان کی بات کو تسلیم کرے تو ان کے پاس اتنی طاقت و قوت بھی تھی کہ وہ منوا سکتے تھے اگر کسی انسان کو نبی و رسول بنایا جاسکتا ہے اور یہی اللہ کو منظور تھا تو وہ ان بڑے لوگوں میں سے کسی کو اپنا نبی و رسول بناتا تاکہ لوگ اس کی باتوں کو سنتے کیا اللہ میاں کو یہ ایک یتیم آدمی ہی نبوت کے لیے پسند آیا ، مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ اور عمر بن ہشام جیسے لوگ موجود نہیں تھے اور اسی طرح طائف میں عروہ بن مسعود ، حبیب بن عمرو ، کنانہ بن عبد عمرو اور ابن عبدیالیل جیسے زؤسا موجود نہیں تھے ؟ اس منصب کے لیے اگر کسی انسان کو چنا جانا اللہ کے ہاں طے تھا تو پھر ان لوگوں میں سے کوئی شخص منتخب کیا جاتا جو اثر و رسوخ کا مالک ہوتا اور اپنی قوم کا سردار ہوتا اور لوگ اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات کو فوراً قبول کرلیتے اور اس کے احکام کے سامنے گردن خم کردیتے۔ یہ تو بہت تعجب کی بات ہوئی کہ اللہ میاں کو نبوت و رسالت کا منصب سپرد کرنے کے لیے مکہ میں ایک درِ یتیم ہی نظر آیا جس کی باتوں پر کوئی بھی معقول آدمی کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جس طرح آج کل یہ باپ دادا والے لوگ جو جاگیردار اور سرمایہ دار جیسے ناموں سے معروف ہیں ، نوابزادے ، پیرزادے اور صاحبزادے جیسے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حکومت ہمارا خاندانی حق ہے اور عوام ان کی ہاں میں ہاں ملانے ہی میں خیر سمجھتے ہیں اسی کو کہتے ہیں کہ ” ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں “۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ آپ ﷺ کے رب کی رحمت (خاص) کو بانٹنا چاہتے ہیں (حالانکہ) ان کی دنیوی زندگی کی روزی بھی ہم (خود) تقسیم کرتے ہیں ؟ اور بعض کے درجے بعض پر بلند کرتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے سب چیزوں سے (جو وہ سمیٹتے ہیں)

کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کنندگان ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں 32 ؎ پیغمبر اسلام ! ﷺ کے ذریعہ سے ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے ذرا اتنی بات پوچھ لیں کہ جب نبوت و رسالت ایک وہبی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے کہ کون نبوت و رسالت کے قابل ہے کہ اس کو یہ عہدہ عطا کردیا جائے تو کیا اپنی اس رحمت کو تقسیم کرنے کے لیے اللہ نے ان لوگوں کو مقرر کرر کھا ہے جو اس طرح کے اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ اگر نبوت و رسالت کا عہدہ انسان کو دیا جاسکتا ہے تو اس عہدہ کے مستحق یہ باپ دادا والے لوگ ہی ہو سکتے ہیں جو مال و دولت کے ڈھیر تو رکھتے ہیں لیکن اچھے اخلاق و کردار نام کی چیز کو یہ جانتے اور پہچانتے تک نہیں کہ وہ کیا چیز ہے حالانکہ نبوت و رسالت کا تعلق مال و دولت کے ڈھیروں سے نہیں ، اچھے اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ عطا الٰہی سے ہے۔ بلاشبہ یہ بات صحیح اور سو فی صد درست ہے کہ بار نبوت کے اٹھانے کا حوصلہ ہر کہ و مہ میں نہیں کوئی عظیم انسان ہی اس امانت عظمیٰ کو اٹھا سکتا ہے اور اس منصب جلیل کی نازک ذمہ داریوں سے عہدہ برآہو سکتا ہے لیکن عظمت کا جو معیار تم نے مقرر کر رکھا ہے وہ معیار نبوت و رسالت نہیں بلکہ ظلم و زیادتی کا ہے اس کا صحیح معیار یہ ہے کہ دل ہر قسم کی آلائشوں سے صاف ہو ، اخلاق پاکیزہ ہوں ، سیرت نیک اور بےداغ ہو اور دل غیر اللہ کی محبت سے پاک ہو ، امانت و دیانت آفتاب سے تابندہ تر ہو اور صدق و صفا میں بےمثل ہو ، عزم و حوصلہ کا یہ عالم ہو کہ مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو وہ ہرگز ہرگز نہ گھبرائے نہ پسپائی اختیار کرے بلکہ نہایت سکون و وقار کے ساتھ اپنی منزل پر برابر رواں دواں ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت و رسالت کے لیے اللہ تعالیٰ اس کو اختیار کرنا چاہے۔ بلاشبہ جب تک نبوت و رسالت کا منصب جاری تھا یہی اس کے لیے معیار مقرر تھا اور جب نبوت و رسالت کا دروازہ ہی بند ہوگیا تو اب یہ بحث ویسے ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ اس جگہ قریش مکہ کے معترضین مخاطب ہیں اور ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ نبوت و رسالت تو اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص رحمت ہے یہ مال و دولت اور جاہ و حشم جس پر تم لوگ پھولے نہیں سما رہے ہو اور جس کو تم نے معیار نبوت قرار دے رکھا ہے یہ بھی تو ہم نے تم کو دے رکھا ہے اور اس طرح ان کو رزق کی فراوانی عطا کرنے میں ہماری گوناگوں حکمتیں پنہاں ہیں اور اس میں ہم نے بہت سی مصلحتیں رکھی ہیں۔ تم لوگ نہیں سمجھتے کہ ہمارا قانون مشیت کیا چیز ہے جس کے تحت ہم نے کسی کو فقیر بنا دیا اور کسی کو غنی ، کسی کو جسمانی صحت و توانائی بخشی ہے اور کسی کو فنی مہارت سے مالا مال کردیا ، کسی کو ہنرمندی سکھائی ہے اور کسی کو اقلیم ادب و سخن کا سلطان بنایا ہے ، کسی کو اقلیدس بخشی ہے تو کسی کو اصول ارشمیدس سمجھائے ہیں۔ اگر سارے ہی سائنس دان ہوتے تو کھیتوں میں ہل کون چلاتا اور کارخانوں میں کام کون کرتا اگر سارے لوگ فیکٹریاں لگا سکتے تو آخر مزدوری کون کرتا اگر سارے لوگوں میں حکومت کرنے کی صلاحیت رکھ دی جاتی تو حکمران حکومت کس پر کرتے اگر سارے ہی مفتی وعالم ہوتے تو فتویٰ کون پوچھتا اور علم کس کو سکھایا جاتا اس دنیا کا نظام مکمل طور پر اس طرح علت معلول پر چل رہا ہے اور ہر ایک کو خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ، دوسرے کا محتاج بنایا گیا اور بلاشبہ یہ احتیاج ہی ہے کہ سب کے کام چلا رہی ہے اور اس طرح بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہے لیکن بڑی بڑی فضیلت رکھنے والا بھی دوسرے کی احتیاج سے بےنیاز نہیں ہے اس لیے جس کو احتیاج نہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات والا صفات ہے اور انسان میں سے تو ہر ایک دوسرے کو اپنی مصلحت کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہے باوجود اس کے کہ ہر ایک پیشہ کی صلاحیت ہر ایک انسان میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایک پیشہ اختیار کرنے والا دوسرے کے پیشہ کی احتیاج رکھتا ہے اور دوسرے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور مختلف کاموں پر ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے اگر کوئی بہت ہی زیادہ دولت مند ہے تو وہ ایک نہایت ہی غریب اور فقیر آدمی کی ضرورت کو بھی محسوس کرتا ہے اگر یہ چوہڑے چمار اور شودر نہ ہوں تو برہمن اور چوہدری کی ناک میں دم آجائے اور ٹھیک تین چار روز کے بعد وہ زندگی جیسی عزیز نعمت سے بیزار ہوجائیں اور زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگیں۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر ! تیرے رب کی یہ رحمت جس کا نام نبوت و رسالت ہے اس کے سامنے کس یدنیا کے قارون کی دولت اور کسی سکندر و پورس کی حکومت کی کیا حقیقت ہے پھر جب معیشت دنیا کا نظام بھی مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا تو نبوت و رسالت جیسی بےپایاں نعمت ان کے ہاتھ میں کیسے دی جاسکتی تھی اور جب دنیا کی اس معیشت کے نظام میں ان سے مشورہ نہیں طلب کیا گیا تو آخر نبوت و رسالت جیسے اہم ترین منصب کے لیے ان کے مشورہ کی کیا وقعت ہے جو یہ لوگ اس طرح کی باتیں بنا رہے ہیں۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی طریق پر ہوجائیں گے تو جو اللہ سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کا بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھا کرتے

33 ؎ جس طرح انسان دنیوی مال و متاع پر نازاں ہوتا اور اترانے لگتا ہے اسی طرح اگر اس پر کوئی آزمائش آتی ہے تو وہ اللہ کی یاد کی طرف بھی متوجہ ہونے لگتا ہے اور یہ ایک فطری امر ہے کوئی شخص کتنا ہی پرہیزگار اور متقی کیوں نہ ہو اگر اس کے پاس دولت کی فراوانی ہوگی تو اس کا متقی اور پرہیزگار ہونا اور طریقہ کا ہوگا اور اگر مال و متاع کی فراوانی نہیں بلکہ اس کی قلت ہے تو اس کے متقی اور پرہیزگار ہونے کی اور صورت ہوگی اور یہی صورت دوسری طرف ہے کہ اگر ایسے متقی اور پرہیزگار پر جس کے پاس دولت کی فراوانی تھی اللہ نہ کرے اگر کوئی مال و دولت کی آزمائش آجائے تو اس کی جو حالت ہوگی اس کی صورت کچھ اور ہی ہوگی پھر اگر اس کا عکس نظر آئے کہ جو متقی و پرہیزگار تھا لیکن دولت کی قلت بھی تھی اس کو دولت کی کثرت مل جائے تو اس کے متقی ہونے کی صورت بھی یقینا بدلے گی کیونکہ یہ فطری تقاضے ہیں جن کا انکار ممکن نہیں اس جگہ بتایا جارہا ہے کہ بعض اوقات مال کی قلت و کثرت سے فائدہ بھی حاصل کیا جاتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اس لیے زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ اگر اس فائدہ کے ختم ہوجانے کا امکان نہ ہوتا تو ہم ان لوگوں کے لیے جو کفر کی زندگی اختیار کرچکے ہیں اور اسلام کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کے لیے تیار نہیں ان کے گھر تو گھر ان کے گھروں کی سیڑھیاں ، چھتیں اور اسی طرح دوسری ساری کی ساری چیزیں سونے ہی سونے کی بنا دیتے تاکہ ان کی کوئی خواہش باقی نہ رہے اور جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں خوب دل کھول کر کرلیں کیونکہ ہمارے ہاں یہ اصول مقرر ہی نہیں کیا گیا کہ مال و دولت صرف مسلمانوں کو دیا جائے گا اور منکرین سے اس کو روک لیا جائے گا اس لیے کہ ہمارے ہاں اس دنیوی مال ومتاع کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے جن لوگوں نے اس کو بہت کچھ سمجھا ہے وہ نہایت سخت غلطی پر ہیں تم نے ایک آزمائش کو کیسے نعمت سمجھ لیا پھر خاص کر کفر اور اسلام کا معیار ایسی گھٹیا چیز کو قرار دینا تو عقل کا جنازہ نکال دینے کے مترادف ہے۔ اگر تم لوگوں نے گزشتہ قوموں کے مالک الملوکوں ، فرعونوں ، شدادوں اور نمرودوں کی سرگزشتیں پڑھی ہوتیں یا ان کو یاد رکھا ہوتا تو تم لوگ کبھی ایسا بیان نہ دیتے یہ ساری قوم کے لوگ وہ لوگ تھے جن کے مال و دولت کو وہ خود بھی گن نہ سکے تھے اور نہ کوئی دوسرا ہی اس کا اندازہ لگا سکا تھا لیکن ان سب میں سے ایک ایک کے حالات کو تم دیکھو تو معلوم ہوگا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی متعفن زندگیوں کی سٹراند آج تک محسوس ہو رہی ہے اور رہتی دنیا تک ان کی بدبو لوگوں کے دماغوں کو خراب کرتی رہے گی اور ان کا نام آتے ہی ان پر لعنت کی پھٹکار پڑنا شروع ہوجایا کرے گی اور دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی اولاد کہلانا پسند کرتا ہو۔ کسی قوم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو ان کا نام کس حیثیت سے لیا جاتا ہے حالانکہ ان کے ہاں کیا چیز ہوگی جو سونے اور چاندی کی نہ بنی ہوگی اور اس وقت ان کی صفات سے متصف جو لوگ آپ کو نظر آتے ہیں یعنی زندہ وجاوید فرعون ، شداد ، نمرود اور قارون وغیرہ تو ان کی بھی سیم (Same) یہی پوزیشن ہے خواہ ملکوں کے صدور ہیں اور خواہ وزیراعظم اور ان سے بھی کوئی اعلیٰ وارفع چیز کہ ان کی یہ حیثیت محض ان کے لیے ان عہدوں تک محدود ہے۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں

ہاں ہاں ! ان کے گھروں کے دروازے اور کرسیاں بھی سونے کی ہوتیں 34 ؎ گزشتہ مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ دنیا کے اس مال و متاع اور سیم و زر کو کوئی اتنی بڑی اہم چیز نہ سمجھ لو کہ آخرت کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں کبھی روشنی اور وہ بھی تیز قسم کی روشنی میں آنکھیں کھول کر بیٹھو اور محو کام ہوجاؤ اور پھر اچانک اٹھو اور اندھیرے میں ذرا جا کر دیکھو کہ کیا حال ہوتا ہے اور اسی طرح کہیں گھپ اندھیرے میں کچھ دیر کے لیے بند رہو اور پھر اچانک نکل کر روشنی کی طرف چلو اور کسی بہترین روشنی میں ذرا داخل ہوجاؤ اور دونوں صورتوں کا اب اندازہ لگاؤ کہ کیا صورت ہوتی ہے ؟ وہ حالت کیا ہے جو تیز روشنی سے اندھیرے میں منتقل ہونے سے ہوتی ہے اور اس کی کیا جو اندھیرے سے نکل کر روشنی میں منتقل ہونے کی ہے ؟ بس اس سے سمجھ لو کہ جو شخص تیز قسم کی بہترین روشنی سے اٹھایا گیا اور گھپ اندھیرے میں داخل کیا گیا وہ وہی ہے جو دنیوی زندگی کی ساری عیش و عشرت سے نکال کر دوزخ کی طرف لے جایا گیا اور دوسری صورت وہ ہے جس کو دنیوی اندھیروں سے اٹھا کر اچانک باغات اور روشنیوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں داخل کردیا گیا۔ بلاشبہ ان دنیا داروں کو جتنی مال و دولت کی فراوانیاں زیادہ حاصل ہوں گی اتنی ہی یہ فراوانیاں ان کو سیدھی راہ سے ہٹا کر غلط راستوں میں لے جانے والی ہوں گی جب اچانک یہ فراوانیاں ان سے چھن جائیں گی اور موت کا نقارہ بج جائے گا اور یہ لوگ گھپ اندھیرے میں داخل کردیئے جائیں گے تو یہی مال و دولت اور ہر طرح کی عیش و عشرت ان کے لیے وبال جان بن کر رہ جائے گی جیسا کہ اوپر کی مثال سے تم کو تفہیم کرایا گیا۔ اس وقت نہ ان کے کام یہ چاندی کے محلات ، جن کے دروازے ، کھڑکیاں اور روشندان سب کے سب سونے کے ہوں گے ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ ہی نشست و برخواست کی کرسیاں اور گدے اور بلاشبہ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی۔