Ayah 43:35دنیوی زندگی کے سارے سروسامان عارضی اور ناپائیدار ہیں
35 ؎ انسان سمجھے یا نہ سمجھے بہرحال یہ دنیوی زندگی کے سارے سروسامان عارضی اور ناپائیدار ہیں ان کی مثال بالکل اس طرح سمجھ لو جس طرح حباب آب ہے کہ دیکھنے میں وہ کتنا ہی خوبصورت اور بہت بڑا نظر آتا ہے لیکن حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں ہے کہ ابھی وہ ایک خوبصورت چیز نظر آ رہا تھا اور ابھی غائب ہوگیا اور پھر ایسا غائب ہوا کہ جیسے اس کا وجود کبھی قائم نہ ہوا تھا اور اب ایک لحظہ میں دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگیا۔ ہاں ! آخرت جو ربِّ ذوالجلال والا کرام نے مقرر فرما دی ہے اور موت کو موت دینے کے بعد زندگی کو ہمیشہ کے لیے قائم کر دیاجائے اور اس طرح جو حالت بھی کسی کو میسر آئے گی وہ پائیدار ہوگی اور ویسے بھی سختی کے بعد اگر آسانی میسر آجائے تو گزری ہوئی سختی اور تکلیف یاد بھی نہیں رہتی اور اگر عیش و عشرت کے بعد سختی کی حالت پیش آجائے تو یہ اتنا بڑا عذاب ہے کہ اپنے عذاب ہونے کو دوبالا سہ بالا کردیتا ہے اور یوں سمجھو کہ گویا انسان زندہ درگور ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ اس ناگفتہ بہ حالت میں کسی کو مبتلا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ { وللاخرۃ خیرٌ لک من الاولی } (الضحیٰ 4:93) ” اور یقینا آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔ “ اس طرح بتایا گیا ہے کہ اے رسول ! ﷺ آپ ﷺ اپنے حالات سے پریشان نہ ہوں کہ آپ ﷺ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا اور اس طرح ہوتے ہوتے آخری دور جوں جوں آخر ہوتا چلا جائے گا بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا اور اس طرح آپ ﷺ کی ہمت کو بہت تقویت دی گئی اور بحمد اللہ آپ ﷺ بہت ہی طاقتور ہوئے جس کی مثال دنیا کے کسی انسان سے بھی نہیں دی جاسکتی پھر یہ وعدہ صرف دنیاوی زندگی تک محدود نہ ہے اس میں وہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپ ﷺ کو ملے گا وہ ہر اس مرتبہ سے بڑھ کر ہوگا جو دنیا میں آپ ﷺ کو حاصل ہوا۔ یہی بات زیر نظر آیت میں سارے دنیا کے متقین کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے اور ان کو یہ خوشخبری سنائی جا رہی ہے خواہ وہ کہیں ہیں اور کتنے ہیں۔
Ayah 43:36رحمن کے ذکر سے جو غفلت برتتا ہے اس کے لیے شیطان مسلط کردیا جاتا ہے
36 ؎ { یعش } کی اصل ع ش ا ہے اور عشا نظر کی کمی پر بولا جاتا ہے وہ رات کو کم نظر آنے پر بھی بولا جاتا ہے اور دن کو کم نظر آنے پر بھی اور دونوں میں کم نظر آنے پر ہی ، وہ اندھا پن نہیں ہے بلکہ نظر آتا ہے لکین بہت کم کیونکہ نظر کی کمزوری کے لیے اس کا استعمال عام ہے { نقیض } کی اصل ق ی ض ہے اور قیض کے معنی مقرر ہونے یا مسلط ہونے کے ہیں اور قرین کے معنی ساتھی کے ہیں۔ اب آیت کا مطلب واضح ہوجائے گا کہ انسان جب اندھا بہرا ہو کر رہ جاتا ہے اور ہر سنی اَن سنی کردیتا اور ہر دیکھی اَن دیکھی سمجھنے لگتا ہے تو اس کی اس حالت کا بیان فرمایا یوں سمجھو کہ گویا وہ انسان ایسا ہے جس پر شیطان مسلط ہوچکا ہے اور اس کا پکا ساتھی ہو کر رہ گیا ہے اور پھر ظاہر ہی ہے کہ جس کا ساتھی شیطان ہوگیا اس کی ہدایت کا سوال کم ہی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا ساتھی اس کو راہ سے اس طرح بھٹکا دے گا کہ وہ کبھی سیدھی راہ کی طرف رغبت ہی نہ کر پائے اور جس قدر اس سے دور رکھا جاسکتا ہے اس کو رکھا جائے۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ بلاشبہ شیطان وسوسہ اندازی تو سب کو کرتا ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو لیکن سارے انسان اس کی وسوسہ اندازی کو قبول نہیں کرتے کچھ ایسے بھی ہیں جو مکمل طور پر اس کی وسوسہ اندازی سے محفوظ رہتے ہیں اور کچھ پر اس کا داؤ وقتی طور پر چل جاتا ہے لیکن جن لوگوں کا وہ پکا ساتھی ہوگیا گویا وہ اس کے وسوسوں کے نیچے دب کر رہ گئے اس لیے اس کی وسوسہ اندازی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی وسوسہ اندازی کو جھٹلا کر رکھ دیا جائے اور اس کو اپنے اوپر مسلط نہ ہونے دیا جائے شیطان کا کام ہر کار خیر سے منع کرنا اور روکنا ہے اور اس کے لیے اس کے پاس بہت سے ہتھکنڈے ہیں اور وہ ان ہتھکنڈوں کے استعمال کو بھی خوب سمجھتا ہے اگر اس کی وضاحت آپ دیکھنا چاہتے ہوں تو ” تلبیس ابلیس “ کا مطالعہ کریں اور عزوۃ الوثقی جلد اول میں ابلیس و آدم کا قصہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں ے
Ayah 43:37اس کا سب سے بڑا داؤ یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے روکتا ہے اور انسان رُک جاتا ہے
37 ؎ انسان خواہ کتنا ہی برا کیوں نہہو جب تک اس کو اس کا دل برائی کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ ابھی اس کے اندر یقینا موجود ہے خواہ وہ کتنے ہی ادنیٰ درجہ کا کیوں نہ ہو لیکن جب وہ برائی پر اس طرح لگ جائے کہ اس کو یہ احساس ہی نہ رہے کہ وہ برائی کر رہا ہے تو ایسے انسان پر یقینا شیطان کا تسلط ہوچکا ہے خواہ وہ ابھی کتنے ہی کمزور درجے میں کیوں نہ ہو۔ لیکن خدا نہ کرے اگر اس کی حالت یہ ہوگئی کہ شیطان نے اس کو سیدھی راہ سے بالکل روک دیا اور اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ ابھی وہ سیدھی ہی راہ پر گامزن ہے اور ہدایت اس چیز کا نام ہے جو میں کر رہا ہوں تو گویا اب اس کی اصلاح ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعت کا مرتکب کبھی راہ ہدایت پر نہیں آسکتا یا یہ کہ بہت ہی کم راہ راس ت کی طرف آئے گا کیونکہ وہ جس راہ پر چل نکلتا ہے اس راہ کو صحیح اور درست سمجھتا ہے اس لیے جب تک کوئی انسان کسی برائی کو برائی سمجھتا اور برائی کہتا ہے اس وقت تک ابھی اس میں سیدھی راہ چل نکلنے کی امید باقی ہے خواہ وہ کفر میں کتناہی پکا کیوں نہ ہو اور عصیان میں کتنا ہی مبتلا نظر آتا ہو کیونکہ ابھی وہ کفر کی باتوں کو کفر سمجھتا ہے اور نافرمانی کی حالت کو نافرمانی کی حالت گردانتا ہے اس لیے گویا وہ سویا ہوا ہے اور شاید کسی کے جگانے سے جاگ جائے لیکن جو شخص کفر و شرک کرتا ہے اور پھر اس کو کفرو شرک بھی نہیں سمجھتا تو گویا وہ جاگتا ہوا سو گیا ہے اور جاگتے کو جو سویا ہوا نظر آتا ہے کوئی نہیں جگا سکتا۔ اللہ کرے کہ کسی کی یہ حالت نہ ہوجائے لیکن جس کی ایسی حالت ہوگئی اس نے اپنی ہدایت کا راستہ یقینا بند کردیا۔ خیال رہے کہ سب انسان برائی میں بہت ہی زیادہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اس برائی کو وہ برائی نہیں سمجھتا بلکہ سچائی اور اچھائی سمجھنے لگتا ہے اس لیے کہ اس کا نور فطرت بالکل دب جاتا ہے اور اس کو اس سے تعبیر کیا گیا کہ اب شیطان اس کا دائمی ساتھی ہوچکا ہے اور اس نے اپنے ساتھی کو باور کرا دیا ہے کہ جو برائی وہ کر رہا ہے وہ برائی نہیں بلکہ ایک نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال سے بچائے ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ “
Ayah 43:38ایسا انسان اس وقت سے پہلے درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ موت سے دوچار نہ ہو جائے
38 ؎ فرمایا ان لوگوں کا بگاڑ ایسا نہیں جو دنیوی زندگی ہی میں درست ہوجائے کیونکہ جس جوان کو انہوں نے اپنا ساتھی بنایا ہے وہ ان کو موت سے قبل ہرگز نہیں چھوڑے گا کیونکہ اس کی گرفت بہت مضبوط ہے اس کو جو قریب نہ بھٹکنے دے وہ اس کا بھی پیچھا اتنی جلدی نہیں چھوڑتا اور جس نے خود اس کو دعوت دے کر بلایا ہو اور اس کو اپنا ساتھی چن لیا ہو بھلا اس کو وہ کیونکر چھوڑ دے گا۔ ہاں ! جب ہمارا فیصلہ آجائے گا اور روح اور جسم کو الگ الگ کرکے رکھ دیا جائے گا ، جسم تو فنا فی الارض ہوجائے گا لیکن اس کی روح ہمارے اس مقام کی طرف لوٹ آئے گی جو ہم نے ارواح کے لیے مقرر کر رکھا ہے اس وقت روح کو جسم سے الگ ہوتے ہی سب کچھ روشن ہوجائے گا لیکن جونہی اس کو دوسرا قالب میسر آئے گا یعنی قیامت کے روز تو وہ حالات کے دیکھتے ہی پکار اٹھے گا کہ اے کاش میرے اور میرے اس ساتھی کے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوجائے یہ تو کتنا ہی برا ساتھی نکلا کہ مجھے کس مقام کی طرف کھینچ لایا کیوں ؟ اس لیے کہ یہ وہی مقام ہے جس مقام کو وہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ { بعد المشرقین } سے مراد مشرق و مغرب ہی ہو سکتا ہے اور یہ عربوں کا قاعدہ ہے کہ وہ ایک چیز کو تثنیہ کی صورت میں بول کر دونوں شخصیتیں مراد لیتے ہیں اور یہ قاعدہ زبان میں عام جیسے ” ابوین “ سے مراد ماں اور باپ ہیں اس طرح { مشرقین } سے مراد مشرق اور مغرب ہیں۔
Ayah 43:39مشرکوں کو اس روز یہ بات فائدہ نہیں گی بلکہ دونوں عذاب میں مبتلا ہوں گے
39 ؎ { اذ ظلمتم } ” جب کہ تم ظالم ہو “ یعنی مشرک کیونکہ ظلم اور مشرک دونوں ایک ہی قبیل سے ہیں اور شرک سارے ظلموں سے بڑا ظلم ہے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ قیامت کے روز جب انسان اپنے ساتھی سے بیزاری کا اظہار کرے گا تو اس بیزاری کے اظہار سے اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ دن دارالعمل کا دن نہیں ہوگا بلکہ دارالآخرت کا دن ہوگا جو نتیجہ کا دن ہے اور ظاہر ہے کہ نتیجہ اس کا ہوتا ہے جو اس دن سے قبل ہوچکا۔ اس لیے دنیا میں اس کو بہت کچھ سمجھایا بجھایا گیا لیکن اس زندگی میں وہ اس کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہو اور اب جب ان پیار کی پینگوں کے نتیجہ کا دن ہے تو آج اس سے بیزاری کا اظہار کیا جا رہا ہے ” اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت “ فرمایا اب کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ جب واضح ہوگا تو دونوں ساتھیوں کو ایک ہی جیسے عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا کیونکہ دونوں برابر کے شریک تھے اور کسی ایک کو دوسرے پر رعایت نہیں دی جائے گی دنیا میں دونوں کا اشتراک تھا اور آخرت میں دونوں کے عذاب کا اشتراک بھی برابر برابر ہی رہے گا اور بلاشبہ اب دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سارے عذابوں سے بڑا عذاب ہے کیونکہ اب پیار نفرت میں بدل چکا ہے اور نفرت ہونے کے بعد جس سے نفرت ہوجائے اس کے ساتھ رہنا کسی عذاب سے بھی کم نہیں ہے اور اس کی مثالیں دنیا میں بھی موجود ہیں کہ جن دو فریقوں کے درمیان بہت زیادہ پیار ہو اور پیار کسی بھی سبب کے باعث نفرت میں بدل جائے تو فرت بھی اتنی ہی شدید ہوتی ہے جتنا کہ پیار سخت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نفرت ہونے کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے سے بہت مجبوریوں کے باوجود صحیح طریقہ سے نہیں رہ سکتے جس کی مثالیں حقیقی بھائیوں ، باپ بیٹوں ، ماں بیٹی ، میاں بیوی اور دوست و احباب میں روزمرہ زندگی میں اکثر دیکھی جاسکتی ہیں اور ویسے بھی پیارو محبت ، نفرت کی ضد ہے جب ایک ضد بنتی ہے تو دوسری اس کی جگہ لے لیتی ہے جیسے رات اور دن ، اندھیرا اور روشنی ، رات کے جانے کا نام دن ہے ، اندھیرے کے جانے کا نام روشنی بالکل اسی طرح پیار و محبت کے جاتے رہنے کا نام نفرت ہے۔
Ayah 43:40آپ ﷺ نہ بہروں کو سنوا سکتے ہیں اور نہ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں
40 ؎ قرآن کریم میں اکثر جگہ پر جہاں اندھوں ، بہروں اور گونگوں کا ذکر آتا ہے اس سے مراد دیکھی اَن دیکھی ، سنی اَن سنی اور سمجھی اَن سمجھی کرنے والے لوگ ہی لیتے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو جان بوجھ کر اندھا ، بہرہ اور گونگا بن چکا ہو اس کو راہ ہدایت کون دے سکتا ہے۔ قرآن کریم کا نزول انہی لوگوں کے لیے ہوا ہے تاکہ وہ جان لیں اور اچھی طرح سمجھ جائیں کہ ہماری حالت اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے مخفی نہیں ہے اور جو چالاکیاں وہ کر رہے ہیں ان میں سے ایک ایک کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں اور ہماری کوئی چیز چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے پوشیدہ نہیں ہے اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کی ساری سکیموں سے آگاہ کردیا ہے اور رسول ﷺ نے ایمان والوں کو بتا دیا ہے اور یہ بھی کہ اس طرح کے لوگ اگر خود راہ ہدایت اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ان کی گمراہی سب پر عیاں ہے اور اللہ کا رسول ﷺ ایسوں کو بزور ہدایت دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ صرف بات کا ان کے کانوں تک پہنچانا اس کا کام ہے اور یہی کام ہر داعی الی اللہ کا ہے اور یہی کام باحسن و خوبی آپ ﷺ نے سرانجام دیا ہے پھر اللہ کی کتاب اور نبی کریم ﷺ اپنا واضح طریقہ لوگوں کے لیے چھوڑ گئے ہیں جو چاہے اختیار کرے اور جو چاہے اختیار نہ کرے داعی الی اللہ سے یہ استفسار نہیں ہوگا کہ جس نے نہیں مانا آخر اس نے کیوں ہیں مانا ؟ بھلا یہ بات نہ ماننے والوں ہی سے پوچھی جائے گی اور وہی اس کا جواب دیں گے جو کچھ دیں گے۔
Ayah 43:41آپ ﷺ کی موجودگی میں یا آپ ﷺ کے بعد ان کی جو سزا طے ہے وہ ان کو یقینا ملے گی
41 ؎ جس طرح ہر انسان کے لیے مرنا ہے نبی و رسول کے لیے بھی بہرحال مرنا ہے موت سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ ہوگا پیغمبر کا کام پیغام پہنچانا ہے وہ پہنچا دیا گیا اور پہنچایا جا رہا ہے اور پہنچایا جاتا رہے گا منکرین و معاندین کے لیے سزا کا دن مقرر ہے جب وہ روز آئے گا تو ان کو یقینا سزاملے گی۔ اس دنیا میں جو انہوں نے پیغام سنانے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتیاں کیں ان کا بدلہ بھی ان میں سے ہر ایک سے لیا جانے والا ہے وہ آپ کی موجودگی میں لے لیا جائے یا آپ کی وفات کے بعد بہرحال ان کو ان کے کیے کی سزا مل کر رہے گی اور ہم کو ان سے انتقام ضرور لینا ہے۔ یہ بات حتمی طور پر اس لیے بیان نہ کی گئی کہ علم الٰہی میں جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ بھی انہی کے اندر موجود تھے اور نہ ایمان لانے والے بھی اور وہ بھی کہ ایک مدت کے بعد ایمان لانے والے تھے جب کہ وہ خود بھی اس وقت نہیں جانتے تھے کہ آج جس طرح ہم مخالفت کر رہے ہیں آنے والے کل کو ہم ہی نے ان ساری باتوں کی تصدیق کرنا ہے۔
Ayah 43:42ہم چاہیں تو جو وعدہ ان سے کیا گیا ہے وہ آپ ﷺ کی موجودگی میں پورا کر دیں
42 ؎ یہ آیت پہلی آیت کی مزید وضاحت کر رہی ہے کہ ہر بدکار کو سزا ملے گی لیکن اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے اور اس نے ہر کام کے لیے ایک وقت متعین کردیا ہے اور یہ بھی کہ ہر شخص کے انفرادی حال سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہے لوگوں کے جلدی مچانے سے وہ اپنے فیصلے کو بروئے کار لانے میں تقدیم و تاخیر نہیں کرتا۔ وہ جلد بازی کرے گا تو آخر کیوں جب کہ ہر ایک کو جب چاہے وہ اس کو پکڑ سکتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی گرفت سے بچ سکے یہ اندیشہ تو اس کو لاحق ہو جس کو یہ خیال ہو کہ کہیں یرا حریف میرے ہاتھ سے نکل ہی نہ جائے جب یہاں ایسا تصور ہی موجود نہیں ہے بلاشبہ ان ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو آپ ﷺ کی موجودگی میں کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے بہرحال ہونا وہی ہے جو ہمارے علم میں طے ہے اور جو ہم نے طے کیا ہے وہ مکمل عزم و جزم کے ساتھ طے کیا ہے اس میں ردو بدل کا کوئی امکان موجود نہیں اور یہ بھی کہ ہم اپنے طے شدہ کاموں پر کامل و مکمل قدرت رکھتے ہیں کوئی چیز ہماری قدرت سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 43:43اے رسول ! آپ ﷺ کا کام وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ تھام رکھنا ہے
43 ؎ یعنی جو پروگرام ہم نے آپ ﷺ کو دیا ہے اس پروگرام کے مطابق آپ ﷺ کو اپنا کام جاری رکھنا ہے اور راستے کے روڑوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت آپ ﷺ کو اس لیے نہیں ہے کہ ان روٹوں کو کس طرح ہم نے راستہ سے ہٹا دینا ہے یہ ہمارے علم میں ہے ، آپ ﷺ اپنا کام کرتے جائیے اور ہماری ہدایت خاص کے مطابق کرتے رہئے آپ ﷺ کا راستہ خود بخود صاف ہوتا چلا جائے گا کیونکہ آپ ﷺ نے یہ راہ خود اختیار نہیں کی بلکہ آپ ﷺ سے کرائی گئی ہے اور وحی الٰہی آپ ﷺ کی برابر راہنمائی کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی آپ ﷺ اس وحی کے مطابق عمل جاری رکھیں نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ اس اللہ نے آپ ﷺ کو اس سیدھی راہ پر لگایا ہے اس لیے اس راہ کی ساری کامیابیاں آپ ﷺ کے حصے میں آئیں گی اور ساری محرومیاں اور ناکامیاں آپ ﷺ کے معاندین و مخالفین کے حصے میں آئیں گی جو بات یقینی ہے وہ ہم نے آپ ﷺ سے کہہ دی ہے۔
Ayah 43:44یہ کتاب آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے
44 ؎ یہ کتاب یعنی قرآن کریم آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے عزت و شرف کا باعث ہے جو لوگ اس نعمت عظمیٰ کو ٹھکرا رہے ہیں وہ خود اپنے لیے محرومیاں اور ناکامیاں اکٹھی کر رہے ہیں۔ ایک کتاب کا کسی بندے پر نازل کیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور پھر جس قوم سے اس بندے کا تعلق ہے یہ چیز لاشبہ اس کے لیے بھی قابل فخر ہے لیکن ان باتوں کو اکثر لوگ نظر انداز کردیتے ہیں اور کر رہے ہیں خوش نصیب ہیں وہ جو حقیقت کو حقیقت تسلیمکر گئے اور نبی اعظم و آخر ﷺ پر ایمان لے آئے اور وہ عظمت و شرف کے اس مقام کو حاصل کر گئے اور جن لوگوں نے اس کی ناقدری کی بلاریب ہم ان سے اس ناقدری کرنے پر سوال کریں گے ان کو یہ بات کان کھول کر سن لینی چاہئے کہ آنے والے کل کو وہ یہ اعتراض نہ کریں کہ ہم نے اس بات کو اچھی طرح سمجھا ہی نہ تھا۔ اس فرضِ منصبی کو آپ ﷺ نے کس طرح پورا کا اس کی پوری دنیا گواہ ہے لیکن جو معاملہ آپ ﷺ کی قوم کے ذمہ لگایا گیا تھا اس کو قوم نے کس طرح پورا کیا اور کر رہی ہے اس کی داستان کسی سے پوشیدہ نہیں ہے حالانکہ یہ بات ان کو پہلے بتائی جا چکی ہے کہ ہم نے اس کے متعلق آپ لوگوں سے بھی سوال کرنا ہے۔ وائے حسرتا ! آج ہم مسلمانوں کی حالت یہ ہے جو امت محمدیہ کہلانے والے ہیں کہ وہیں سب سے زیادہ اندھیرا ہے جہاں جہاں یہ آباد ہیں۔ معاشی بدحالی ، اخلاقی انحطاط کے جس مقام پر آج ہم ہیں شاید ہی کوء یدوسری قوم ہو لیکن افسوس کہ ہم نے اس قرآن کریم کو زندوں کی بجائے مُردوں کی بخشش کیل یے مختص کردیا ہے اور اس کے ذریعہ مذہبی ٹھیکہ داروں کی وساطت سے ہم اپنے مرے ہوؤں کو بخشوا رہے ہیں اور جب ہم مرجائیں گے تو ہماری اولادیں ہماری بخشش کی فکر کریں گی اور آج کے ملاؤں کا پیٹ ہم بھر رہے ہیں اور آنے والے ملاؤں کے پیٹ بھرنے کے لیے ہماری اولادیں کمائیں گی۔ ستیاناس اس ملائیت کا جس نے قرآن کریم جیسی کتاب کو زندوں کے ہاتھوں سے چھین کر اپنے پیٹ کی خاطر مردوں کے لیے مخصوص کردیا اور گلچھرے اڑانے کے لیے مختلف تہوار بھی مقرر کردیئے تاکہ ملاں فکر معاش سے مکمل طور پر آزاد ہوجائے اور اس کے لیے من وسلویٰ ہر وقت اترتا ہی رہے گا بلاشبہ آج کل جتنا پنجہ یہودیت کا مضبوط ہے اتنا ملائیت کا بھی اور اسلام کا جتنا بڑا دشمن وہ ہے اتنا بڑا دشمن ملاں بھی لیکن بدقسمتی سے مسلمان قوم دونوں ہی غافل ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں نہ ہماری دنیا رہی ہے اور نہ ہی دین۔ اس کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو عزوۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 7 , 6 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 43:4545 ؎ مشرکین کا ایک اعتراض تھا کہ اگر ہم کو اللہ نے ان کی عبادت کا حکم نہ دیا ہوتا تو آخر ہم ان کی عبادت کیوں کرتے ؟ ان کی اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اللہ رب کریم کے احکام اوامرو نواہی کے لائے ہوئے رسول ہی ہوتے ہیں رسولوں کے علاوہ دوسرے سارے انسانوں کے پاس تو اللہ نہیں آیا کہ براہ راست کچھ ان کے کان میں کہہ گیا ہو پھر جتنے رسول آئے ان سب کی تعلیمات ان کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں جو ان پر اتاری گئیں اور قرآن کریم نے بھی ان باتوں کی نشاندہی کی ہے آپ کسی رسول و نبی کا پیغام بھی پڑھ کر دیکھ لیں کہ کہیں کسی ایک جگہ بھی اللہ نے ان سب میں سے کسی ایک کو بھی کوئی ایسا حکم دیا ہے کہ رحمن کے سوا بھی کوئی بندگی کے لائق ہے اور اس کی عبادت کرنے کی بھی اجازت ہے آپ کسی ایک نبی و رسول کے پیغام میں بھی یہ بات نہیں دکھا سکتے بلکہ اس کے برعکس ہر ایک نبی و رسول نے آ کر یہی پیغام قوم تک پہنچایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ مشرکین کی شروع سے یہ عادت چلی آرہی ہے کہ جو ان کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں اور اللہ کے ذمہ خواہ مخواہ لگا دیتے ہیں کہ اس کا حکم ہم کو اللہ نے دیا ہے اور جب ان سے پوچھا جائے کہ ایسا حکم اللہ نے کہاں دیا ہے تو بجائے اس کا جواب دینے کے لڑائی اور جھگڑے پر اتر آتے ہیں حالانکہ حالانکہ ہر نبی و رسول کا پہلا اعلان ہی یہی تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، غیر اللہ کی عبادت سے باز آ جائو کہ یہی وہ شرک ہے جو قابل معافی نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ جملہ پہلے مشرکین پر بھی بہت بھاری تھا اور آج کے مشرک بھی اس فقرے سے زبردست الرجک ہیں بہرحال جس کو الرجی ہوتی ہے ہوا کرے جو حق بات ہے وہ کہی گئی ہے اور کہی جائے گی۔
Ayah 43:46موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف روانہ کیا
46 ؎ قریش مکہ اور مشرکین عرب کو طرح طرح سے سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے تحت کئی بار اس سے قبل بھی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی داستان ان کے سامنے رکھی گئی اور اس جگہ بھی اس داستان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ آج تم لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہو یہی کچھ فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی روا رکھا تھا اور پھر جو انجام فرعون اور اس کی قوم کا ہوا اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو اور یاد رکھو کہ یہ ہماری سنت ہے کہ جو لوگ ہمارے کسی بھی نبی کے ساتھ اس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں ان کا انجام ہر حال میں ہلاکت ہوتا ہے خواہ ان کے ہلاک ہونے کی کوئی صورت بھی ہو۔ فرعون کی طاقت و قوت اور اس کی مخفی تدبیریں اور مکاریاں جو اس نے بنی اسرائیل کو دبانے کے لیے اختیار کر رکھی تھیں آج تک زبان زد عام و خواص ہیں ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا کہ وہ جاکر فرعون کو مطلع کردیں کہ وہ ان ظلموں اور زیادتیوں سے باز آجائے اور اپنے آپ کو رب اور الٰہ کہلانا ترک کرے وہ ایک انسان ہے اور اس کے لیے بہتر ہے کہ انسانوں ہی کی طرح رہے ورنہ اس کا انجام اچھا نہیں نکلے گا اور انجام کار اس کو ہمارا عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ فرعون کو یہ باتیں باور کرانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) روشن نشانیاں لے کر اس کے پاس گئے اور فرعون اور اس کے سرداروں کو بتایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول بن کر تمہارے پاس آیا ہوں وہ اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ یہ بات فرعون اور اس کے اعوان و انصار کے لیے ایک اچنبھا بن گئی کیونکہ فرعون خود کو رب کہلاتا تھا اور اس کے تمام اعوان و انصار اسی کو رب مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور ان کے قانون میں یہ بل پاس تھا کہ جو مصر کے تخت پر بیٹھے گا اس کو فرعون کہا جائے گا اور وہی اس حکومت کا الٰہ اور رب کہلائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے عروۃ الوثقی ، جلد اول کی سورة البقرہ میں ہم نے ان تمام واقعات کو جمع کردیا ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش آئے ملاحظہ ہو ص 347 سے 369 تک اس کے بعد جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 103 سے 158 تک ، جلد پنجم سورة طہٰ کی آیت 9 سے 104 تک ، جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 19 سے 68 تک ، سورة النحل آیت 7 سے 14 تک ، سورة القصص کی آیت 3 سے 50 تک ، علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر مختصر ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 43:47موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کے سامنے نشانیاں پیش کیں تو وہ مذاق اڑانے لگے
47 ؎ ان نشانات میں سے دو نشانات کا ذکر تقریباً ہر جگہ بہت شرح و بسط سے کیا گینا ہے ایک کو ” عصا “ اور دوسرے کو ” ید بیضا “ کا نام دیا گیا ہے اور یہ دونوں نشانات ایسے نشانات تھے جنہوں نے فرعون اور اس کی پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور انجام کار وہ اپنی ہلاکت کو پہنچ گیا اور بلاشبہ ان دونوں نشانات نے روز روشن کی طرح واضح کردیا کہ فرعون جو کچھ ظلم و زیادتیاں قوم بنی اسرائیل کے ساتھ کر رہا ہے اس کا اس کو کوئی حق نہیں ہے۔ فرعون نے اپنی حکومت میں سے بڑے بڑے ماہرین مناظرین وساحرین اکٹھے کیے تاکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ان دونوں نشانیوں کا وضاحت سے جواب دیں اس کے لیے باقاعدہ دن مقرر کرکے فریقین میدان میں اترے لیکن زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ فرعون کے لائے ہوئے تمام مناظرین و ساحرین اپنی بار تسلیم کرگئے اور فرعون کی جگہ انہوں نے اللہ رب العالمین کو رب مان لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل و نشانات کی تصدیق کردی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس کی وضاحت گزشتہ مقامات پر دیکھی جاسکتی ہے جن مقامات کی طرف ہم نے اوپر اشارہ دے دیا ہے اور علاوہ ازیں سات مزید نشانات کا ذکر عزوۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 130 سے 133 تک مل جائے گا وہاں سے ملاحظہ کریں۔
حق تو یہ تاکہ جب انہوں نے یکے بعد دیگرے بہت سے نشانات دیکھ لیے تھے اور خصوصاً اپنے مناظرین وساحرین کی شکست کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا تو وہ اس حقیقت کو حقیقت تسلیم کرلیتے لیکن ستیاناس اس دولت و ثروت کا کہ اس کا نشہ بھی جس کو چڑھ جاتا ہے اتنی جلدی اترنے کا نام نہیں لیتا انہوں نے ان نشانات کو ہنسی اور مذاق میں ڈال دیا اور کہ تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا کہ واقعی موسیٰ ایک بہت بڑا مناظروجادوگر ہے اور واقعی ہتھیلی پر سوسوں جما سکتا ہے۔ کسی قوم میں جب بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو وہ بگڑتے بگڑے بہت بگڑ جاتی ہے جیسے آج کل مجموعی طور پر قوم مسلم کا حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب پر عذاب آتا چلا جارہا ہے لیکن ہمارا بگاڑ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اس وقت اسلامی ممالک کو گنتی کے لحاظ سے گن لو ، رقبہ کے لحاظ سے اکٹھا کرلو اور آبادی کے لحاظ ان کی آبادی پر غور کر دیکھو ہر لحاظ سے دوسری ساری اقوام کے مقابلہ میں یہ قوم زیادہ ہے اور ایک ایک کے مقابلہ میں بہرحال کئی گناہ زیادہ ہے اور اگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے اس کا تجزیہ کیا جائے تو وہ بھی مسلمانوں کے پاس زیادہ ہیں لیکن غیر مسلموں کی ریشہ دوانیوں نے ہمارے حکمرانوں کو مت ایسی ما ردی ہے کہ وہ اس عذاب الٰہی کو ہنسی اور مذاق میں ٹالتے چلے جا رہے ہیں لیکن یہ ہنسی اور مذاق کسی کو نظر آرہا ہے ؟ کوئی ہے جو اس معاملہ میں متفکر ہے کہ آنے والے کل میں ہم مسلمانوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور پھر تعجب پر تعجب یہ ہے کہ جوں جوں عذاب قریب سے قریب تر ہوتا چلا جارہا ہے ہم مسلسل یہ نعرہ بلند کیے جا رہے ہیں کہ ” ہنوز دلی دور است “ یاد رہے کہ قوموں کے بگاڑ اور سنوارنے کے لیے سالوں اور برسوں نہیں صدیاں درکار ہوتی ہیں اور ان صدیوں میں کئی کئی نسلیں گزر جاتی ہیں اور ہر نسل کے لوگ اپنے گزشتہ لوگوں کے حالات کی طرف دیکھتے چلے آئے ہیں آنے والے حالات کی طرف بہت کم لوگوں کا دھیان جاتا ہے۔ اس وقت ہم قوم مسلم ایک طرح کے عذاب میں نہیں کئی ایک طرح کے عذابوں میں گھرچکے ہیں اور ہر ایک عذاب اپنے پہلے عذاب سے شدید تر ہے اور کسی وقت بھی یہ عذاب ہم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ہم کو قوم فرعون پر تعجب ہے کہ انہوں نے ان نشانات الٰہی کا کیونکر اور کیسے مذاق اڑایا تھا تو ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ جب کوئی قوم کسی عذاب الٰہی کی پروانہ کرے اور اس کو عذاب نہ سمجھے بلکہ اس فقرہ میں ٹال دے کہ ” ایسا ہوتا ہی آیا ہے یہ کام ، یہ بات کوئی نئی نہیں ہے “ تو اس کو مذاق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کا بیان اس طرح کیا ہے کہ ہم بگڑنے والوں پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان کو دیکھ کر سنبھل جائیں اور اپنی اصلاح کرلیں لیکن جب وہ ان کو ٹالنے لگ جاتے ہیں اور مسلسل ٹالتے ہی چلے جاتے ہیں تو انجام کار ایک روزہ وہ بڑا عذاب بھی آجاتا ہے جو مکمل طور پر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے پھر اس وقت وہ روتے اور چیختے چلاتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے اس چیخنے کا وقت نکل چکا ہوتا ہے اس لیے ان کو اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ گولی لگ جانے کے بعد یہ فقرہ کہ اللہ خیرکرے یا یہ کہ خدا کرے جھوٹ ہی ہو کیا حیثیت رکھتا ہے ؟
Ayah 43:48ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھائی گئیں کہ شاید وہ سنبھل جائیں
48 ؎ ان نشانیوں سے مراد وہی نشانیاں ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور جن کی تفصیل سورة الاعراف میں بیان کی گئی ہے کہ حالات نے پورے ملک کو اس طرح لپیٹ میں لے لیا کہ سارے ملک کے اندر پھلوں کو نقصان پہنچ گیا اور لوگ چیخنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی کہ درخواستیں پیش کرنے گے کہ تم تو اللہ کے رسول ہو اللہ سے دعا کرو کہ ہماری مصیبت ٹل جائے اور ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ظاہر ہے کہ جب کسی علاقہ کو اس طرح کی آسمانی بلیات اپنے نرغہ میں لیتی ہیں تو سب کے سب لوگ اس کے نرغہ میں آجاتے ہیں جہاں فرعون اور اس کے لوگوں کو تکیف کا سامنا ہوا وہاں بنی اسرائیل قوم بھی برابر کی اس میں شریک تھی بہرحال اللہ نے اپنا فضل کیا ملک کے حالات درست ہوگئے اور ان دعائوں کی درخواست کرنے والوں کی ڈگر بدستور وہی رہی جو پہلے تھی اور لوگوں نے اس کو اسی بات میں ٹال دیا کہ ایسا ہوتا ہی آیا ہے اور ہوتا ہی رہے گا اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو خبردار کیا کہ اگر تم نے اپنی حالت کو درست کرنے کی کوشش نہ کی تو تمہارے ملک میں اب ایسا ٹڈی دل آئے گا کہ پورا ملک اس کے گھیرے میں آجائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ وقت آپہنچا اور ٹڈی دل نے وہ تباہی مچادی کہ ہر طرف سے شور اٹھنے لگا کہ یہ بلا ہم سے ٹل جائے تو ہم توبہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے پھر فضل فرمایا اور ملک کے حالات درست ہوئے ، وہ سختی دور ہوگئی اور لوگوں کی پھر وہی ڈگر جس پر وہ جا رہے تھے اور کسی کو یاد نہ رہا کہ کل ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا اپیلیں کر رہے تھے ، کیا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں تھا کہ یہ لوگ جھوٹی اپیلیں کر رہے ہیں اور وقت گزنے کے بعد وہ پھر وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے آرہے تھے ؟ بلاشبہ علم تھا لیکن کیا اللہ تعالیٰ کے جاننے سے اتمام حجت ہوجاتی تھی ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اصل مقصد تو اتمام حجت ہی کا تھا تاکہ کل کوئی فرد یا قوم یہ اعتراض نہ کرپائے کہ ہم کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اگر معلوم ہوجاتا تو ہم راہ راست اختیار کرلیتے۔ (لعلھم یرجعون) تاکہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں کے الفاظ عدم علم کی وجہ سے ہی نہیں کہ گئے بلکہ نتیجہ کے لیے بولے گئے ہیں کہ ان کو بار بار مہلت اور ڈھیل اس لیے دی گئی تاکہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں اگرچہ علم الٰہی میں موجود تھا کہ یہ لوگ باز آنے والے نہیں لیکن سنت اللہ کے مطابق ان کو ڈھیل دیا جانا ضروری تھا۔
Ayah 43:49جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتے
49 ؎ مشرک افراد ہوں یا قومیں ان کا رویہ یہی رہا ہے اور آج بھی یہی ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں گے تو ہر ایک سے دعا کی درخواست کریں گے اور اپنی مصیبت کو ٹالنے کے لیے وہ کبھی ایک اللہ پر انحصار کرتے ہوئے اس سے درخواست نہیں کریں گے بلکہ ہر ایک سے اس کا ذکر کریں گے اور ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے اور اس مصبت کے دور کرنے کی اپیل کریں گے ان کو ان کی قوت وہمہ کسی حال بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے گی اور وہ ہر ایک کے سامنے واویلا کریں گے۔ خانقاہوں پر جائیں گے ، قبروں پر سجدے کریں گے ، منتیں مانیں گے ، ایک درگاہ سے نکلیں گے تو دوسری کی طرف بڑھیں گے ، مسجد میں جائیں گے ، سجدے میں گڑ گڑا کر دعائیں کریں گے ، مسجد سے نکلیں گے تو سیدھے کسی دربار اور آستانے کی طرف منہ کرلیں گے اور قبر پر گریں گے اور وہی سجدہ شروع کردیں گے۔ اسی عادت کے مطابق مشرکین مصر بھی جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو ہر ایک جگہ کی طرف دوڑنے لگتے اور اسی طرح وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی درخواست کرتے اور ساحر جو ان کا قومی لقب قرار پایا تھا کہ جس کو وہ مذہبی راہنما سمجھتے تھی اس نام سے اس کو موسوم کرتے تھے اور یہی طریقہ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بھی اختیار کرتے تھے یہ لفظ ان کے ہاں کوئی ٹھٹھے اور مذاق کا لفظ نہیں تھا بلکہ مذہبی راہنمائوں کے خطاب کے لیے عام تھا جیسے ہمارے ہاں میاں صاحب ، صوفی صاحب ، علامہ صاحب اور مولانا کے الفاظ گشت کرتے نظر آتے ہیں جن لوگوں نے اس کو استہزاء اور مذاق کے طور پر استعمال کرنے کا لکھا ہے انہوں نے ایک مقصد کے تحت یہ طریقہ استعمال کیا ہے۔ بات ان کی صحیح نہیں ہے۔ بہرحال حکومت مصر کے لوگ جن میں فرعونی بھی تھے اور بنی اسرائیل کے لوگ بھی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہر بار اس کو التجا کرتے کہ اے ساحر ! اپنے رب کو ہمارے لیے پکار کہ وہ ہماری سختی دور فرمادے بلاشبہ ہم اپنی روش سے باز آئیں گے لیکن جونہی عذاب رفع ہوا وہ ایسے غائب ہوئے کہ پھر کبھی ان کو خیال بھی نہ آیا کہ وہ ہم ہی تھے جو اس طرح کی اپیلیں کرتے تھے۔ اگر ذرا نظر عمیق سے غور کرو گے تو آج بھی اکثر وبیشتر انسانوں کی حالت ایسی ہی نظر آئے گی۔ ہمارے ملک کے اس حصہ میں جس کو پنجاب کا نام دیا گیا ہے آج کل بادلوں اور بارشوں کی زد میں ہے اور ہم جس جگہ رہتے ہیں یہ جگہ نسبتاً نشیب ہے اور زمین پانی کو اتناجلد جذب نہیں کرسکتی مسلسل دو موسم گزرچکے ہیں کہ بادلوں کی بہتات ہے اور خصوصاً فصل کی بیجائی اور کٹائی دونوں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور جس کو دیکھو توبہ توبہ کرتا نظر آتا ہے لیکن جونہی ذرا حالت بدلی تو ساتھ ہی بدل گئے اور بلاشبہ پوری قوم کی یہی حالت ہوتی ہے جو عذاب الٰہی کی زد میں ہو اور یہ بات بھی اس کی دلیل ہے کہ ہم اس وقت عذاب الٰہی کی زد میں ہیں سمجھیں یا نہ سمجھیں لیکن گزشتہ قوموں نے کب اس طرح سمجھا ہے کہ اب ہم اس طرح سمجھ جائیں گے بلاریب یہ جس تباہی کا پیش خیمہ ہے وہ آئے گی اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ قرآن کریم کے یہ واقعات بیان کرنے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ اپنی حالت کا ساتھ ساتھ جائزہ لیتے رہیں صرف قصہ اور کہانی کے طور پر ان قصص کو نہ پڑھیں بلکہ اپنی حالت کا جائزہ لے کر اصلاح کی کوشش کریں تاکہ ان کی حالت درست ہوجائے اور وہ قیامت کے روز عذاب الٰہی سے بچ جائیں لیکن افسوس کہ ہم ان قصص کو بیان کرتے وقت ، پڑھتے پڑھاتے وقت محض ایک گزشتہ قصہ کے طور پر ہی پڑھتے پڑھاتے ہیں اپنی حالت کو اس پر منطبق نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہماری حالت روز بروز بگڑتی چلی جارہی ہے اور ہم جب قدرے اپنی قوم کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ مذہبی راہنما جو ہمارے دور سے متعلق ہیں اس سے جز بز ہوتے ہیں اور ہمیں برا بھلا کہتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن کریم کے اصل منشاء کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہم اس قرآن کریم سے اپنی اصلاح کرسکیں اور مرنے والوں کی بجائے زندوں کی فکر کریں اور اپنے عہد کو توڑتے اور باندھتے ہی نہ رہیں۔
Ayah 43:50فرعونیوں سے جونہی عذاب ہٹتا تو وہ عہد کو توڑنے لگتے
50 ؎ جیسا کہ ہم نے گزشتہ آیت میں ذکر کیا ہے کہ یہ ایک ایسی بھول ہے جو ہر اس قوم سے ہوئی جو عذاب الٰہی کی زد میں تھی کہ بار بار عہد باندھا اور ذرا گرفت آئی تو توبہ توبہ شروع کردی اور ذرا گرہ ڈھیلی ہوئی تو اس طرح بھول گئے گویا کبھی ایسی حالت سے دوچار ہوئے ہی نہیں تھے دراصل اس وقت جب قرآن کریم کا نزول ہورہا تھا یہ بات مکہ والوں کو باور کرائی گئی جو سیم (Same) اسی ڈگر پر چل رہے تھے لیکن انہوں نے اپنی حالت کو بدلا ؟ ہرگز نہیں بدلا تو پھر کیا وہ عذاب الٰہی کی زد میں نہیں تھے ؟ بلاشبہ تھے اور ان پر عذاب آیا خصوصاً اس وقت اس وقت وہ عذاب میں مبتلا ہوگئے جب نبی کریم ﷺ کو انہوں نے مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا اور آپ ﷺ مکہ جیسی بستی سے نکل کر مدینۃ الرسول میں داخل ہوئے کہ ہجرت کے معا بعد وہ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے اور مدینۃ الرسول میں سفارت روانہ کی کہ ہم قحط سالی سے مر رہے ہیں ہمارے لیے رسول دعا کریں کہ یہ قحط سالی کا عذاب ہم سے اٹھالیا جائے اور مزید یہ بھی کعہ آپ ہماری غلہ میں معاونت بھی کریں۔ آپ ﷺ نے غلہ بھی بھجوایا اور اپنے مخالفین ومعاندین سے عذاب اٹھالینے کی دعا بھی فرمائی اور سچ کر دکھا کہ ع
آنچہ خوباں ہمہ دار ند تو تنہا داری
مکہ والوں سے بھی جونہی عذاب ٹل گیا پھر وہی کارستانیاں شروع کردیں جو پہلے وہ کر رہے تھے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ عذاب الٰہی کی زد میں تھے اور پھر جو معاملہ اس کے ساتھ میدان بدر میں ہوا اس کی صدائے بازگشت بھی آج تک سنی جارہی ہے کہ نہتوں نے ہتھوں والوں کو میدان بدر میں تہس نہس کرکے رکھ دیا اور مکہ فتح ہونے تک یہ عذاب مسلسل جاری وساری رہا یہاں تک کہ عہد باندھنے اور توڑنے والے خود ہی ختم ہو کر رہ گئے اور باقی بچے وہ چار و ناچار اس تحریک اسلام کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔
Ayah 43:51فرعون جب موسیٰ (علیہ السلام) کے جوابات سے تنگ آگیا تو ایک روز بول اٹھا
51 ؎
فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کا معاملہ ایک مدت تک برابرچلتا رہا۔ فرعون نے خصوصاً رب العالمنم کے متعلق بہت سوال و جواب کیے اور انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) کے جوابات سے بہت تنگ آگیا اور جب ایک صاف سیدھی اور صحیح بات کا کوئی جواب نہ دے سکا تو بوکھلا کر مخاطب کیا اور کہا اے میری قوم کے لوگو ! کیا یہ مصر کی فرمانروائی میری نہیں ہے ؟ اور میں نے دریائے نیل سے پورے ملک میں نہروں کا جال نہیں بچھا دیا اور پورے ملک میں آبپاشی کا انتظام میں نے نہیں کیا گویا جو کام اس نے حکومت کے لیے اور اس کے دور میں جو اصطلاحات کی گئیں اس نے قوم کی ان کی طرف توجہ دلانا چاہی تاکہ لوگ اس کے احسانات سے متاثر ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جو رغبت ان کی ہوئی ہے وہ قائم نہ رہے۔ ہر آمر (Dictator) کی یہ نیچر ہے کہ وہ اگر کوئی کام ایسا کردے جس سے کچھ بھی عوام کو فائدہ پہنچتا ہو تو وہ اس کی بہت تشہیر کرے گا اور اپنے احسانات کو یاد کرائے گا لیکن کبھی اپنے ظلم و زیادتی کی بات کو یاد نہیں و رکھے گا اسی طرح فرعون نے بھی اپنے احسانات قوم کو یاد دلائے اور اس تکیہ کلام سے اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ میری تعریف کریں اور موسیٰ کی تنقیص شروع کردیں کو ن کہ خوشامدی طبع لوگ جس طرح اپنی اچھائی دوسروں کی زبان سے سن کر خوش ہوتے ہیں بالکل اسی طرح اگر دوسروں کی زبان سے اپنے مخالف کی تنقیص سنیں تو بھی ان کو بہت خوشی محسوس ہوتی ہے اور اپنے مخالف کی تعریف و توصیف تو وہ کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ مکہ میں مسلسل مصیبتوں اور آسمانی بلیات کے آنے سے لوگ بہت تنگ آچکے تھے اور بار موسیٰ (علیہ السلام) سے دعائوں کی اپیل کرنے کی وجہ سے آپ کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ اور یہ توجہ اس کو کسی حال میں بھی اچھی محسوس نہ ہوئی ہوگی یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے اپنی طرف ان کی توجہ مبذول کرانا چاہی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے توجہ ہٹانے کی اس نے بھرپور کوشش کی اس کے تخاطب کے انداز کی آیات کو بار بار پڑھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس ذہنیت کا انسان تھا اور اپنے دور کے ان جمہوریت کے داعیوں کے حالات کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھو اور کانوں سے سنو پھر دونوں کا موازنہ کرو کہ اس دور کے ایک آمر (Dictator) اور اس دور کے جمہوریت پر ست میں کیا فرق ہے اور خصوصاً اپنے ملک کے جمور پر ستوں کی ذہنیت کیا ہے ؟ اگر دونوں اس طرح منطبق ہوجائیں جس طرح دو زاویوں کی مثلث منطبق ہوتی ہے تو اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے اس کو خود ہی بیان کرو یا کم ازکم خود ہی سمجھ لو کہ یہ جمہوریت کیا جمہوریت ہے ؟ (افلا تبصرون) کے الفاظ پر خوب غور کرو اور سمجھ لو کہ یہ کہنے والا کون ہے اور اس کا مقصد کیا ہے ؟ اگر کچھ سجھ میں نہ آئے تو میں اتنامزید کہہ دیتا ہوں کہ یہ الفاظ فرعون کے ہیں اور آنے والی آیت ان الفاظ کی مزید وضاحت کررہی ہے۔
Ayah 43:52کیا میں بہتر ہوں یا وہ شخص جس کی بات ہی واضح نہیں ہے کہ وہ کیا کہتا ہے
52 ؎ غور کرو کہ فرعون اپنا مقابلہ کس شخصیت سے کررہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو الفاظ اس نے استعمال کیے ہیں ان پر غور کرو کہ وہ ان کی ذات پر صادق آتے ہیں ؟ لاریب یہ الفاظ خود اس کی ذات پر صادق آتے ہیں لیکن جس کو آمر (Dictator) کہتے ہیں اس کو اس لیے آمر (Dictator) کہتے ہیں کہ اس کی مرضی میں جو آتا ہے وہ کہتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ وہی کچھ کہیں جو میں کہہ رہا ہوں اور اگر کوئی اس طرح نہ کہے تو اس کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ اہل مصر کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی میری مقابلہ میں کیا حیثیت ہے جس کو نہ تو کوئی عزت کا مقام حاصل ہے اور نہ ہی اس کی ہمارے سامنے کوئی اہمیت ہے اور اس کے باوجود وہ ہماری حکومت کے خلاف باتیں کرتا ہے جو اس قدر مبہم ہیں کہ کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں اب موزانہ تم خود ہی کرلو کہ میرے جیسا کرلو کہ میرے جیسا صاحب عظمت وجبروت جو وسیع اختیارات کا مالک ہے اس کی فرمانبرداری کا حق ہے یا اس کی فرمانبرداری کا جس کی قوم ہماری غلام ہے اور ایک مدت سے غلام چلی آرہی ہے (ولا یکادیبین) اور اپنی بات کو کھول کر نہیں بیان کرسکتا۔ ان الفاظ کی تفسیر میں مفسرین نے وہ قصہ نقل کیا ہے جس سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی اور ہم اس کی وضاحت سورة طٰہ کی آیت 27 ، 28 میں کرچکے ہیں۔ حالانکہ اس جگہ کوئی ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کے مطالبہ کو غیر اہم مطالبہ سمجھ کر ایسی بات کررہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے جو کچھ ہماری حکومت کررہی ہے ان کو کوئی اعتراض نہیں اگر ان کو کوئی اعتراض ہوتا تو قارون ہمارے پروگرام میں کیوں شامل ہوتا جب کہ اس کا تعلق بھی بنی اسرائیل سے ہے اور آپ کے مطالبہ کو الجھا ہوا مطالبہ وہ اس لیے کہتا ہے کہ موسیٰ ایک طرف تو میری ربوبیت سے انکار کرتا ہے اور جس کے رب ہونے کا ہم کو پتہ بتاتا ہے اس کو ہمارے سامنے بھی نہیں لاتا اور پھر جب اس کا وہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو وہ کہتا ہے کہ بنی اسرائیل کو میرے حوالے کردو یہ بات موسیٰ کس ورطے پر کرتا ہے اس کے پاس ہے ہی کیا جہاں وہ بنی اسرائیل کو لے جائے گا کیا ہم اپنی قوم کے ایک اہم حصہ کو جو ہمارے کام آرہا ہے اور ہمارے زیر حکمرانی خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے ایک سفید پوش کی معیت میں کردیں جوان کو بھوکوں ماردے یہ کس طرح ممکن ہے اور پھر یہ کہ میری ربوبیت سے انکار اور رب العالمین کی ربوبیت کے ضبط کا تعلق آخر اس کے دوسرے مطالبہ کے ساتھ کیا ہے ؟ کہاں رب العالمین کی ربوبیت کا اقرار اور کہاں بنی اسرائیل کا مصر سے لے جانے کا مطالبہ ؟ حالانکہ ان دونوں باتوں کا جو تعلق ہے وہ بہت گہرا ہے جس کو اس کا سطحی ذہن یا تو سمجھ نہیں سکا یا وہ دوسروں کو الجھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
Ayah 43:5353 ؎ فرعون وقت کا حکمران بھی تھا اور اقتدار اعلیٰ پر قابض ہونے کے باعث قانون مصر کے مطابق رب اور الٰہ بھی کہلاتا تھا اور اس وقت کے رواج کے مطابق جب کوئی بادشاہ کسی کو کوئی بڑا عہدہ پیش کرتا تھا جیسے کسی علاقہ کا گورنر بنادینا تو اس آدمی کو خلعت فاخرہ بھی پہنائی جاتی تھی اور خلعت فاخرہ میں اس کو سونے کے کنگن بھی پہنائے جاتے تھے تاہک سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ شخص حکمران اعلیٰ کے مقربین میں سے ایک ہے۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی ربوبیت اور الوہیت سے انکار کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں اللہ رب العلمین کا تصور پیش کیا تھا اور یہ بھی وضاحت کردی تھی کہ اللہ جسمانی نہیں ہے کہ اس کی پہنچان کے لیے اس کو دوسروں کے سامنے لایا جائے کہ یہ ” اللہ میاں “ ہیں فرعون نے بطور مذاق اور استہزاء یہ کہا کہ جب موسیٰ کا دعویٰ ہے کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا رسول بن کر آیا ہوں تو چاہیے تھا کہ اگر ہم دو کنگن پہناتے ہیں تو اس کو چار پہنائے جاتے ، ہم چار خدام اپنے گورنروں کو دیتے ہیں تو اس کو آٹھ محافظ ونگہبان دئیے جانے چاہیے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے کے باعث فرشتے ہی ہوتے لیکن ہم نے تو موسیٰ کے پاس کچھ بھی نہیں دیکھا وہ اسی طرح بھوکا اور قلاش انسان ہے جس طرح ہمارے ملک کے دوسرے غریب عوام ہیں دعویٰ اتنا بڑا اور خستہ حالی کا یہ عالم پھر اس کو پاگل نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے لیکن اس کو کون سمجھاتا کہ موسیٰ نے تجھے مخاطب کیا اور اس طرح مخاطب کیا جس طرح کسی عام آدمی کو مخاطب نہیں کیا جاسکتا پھر تیری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کیں اور کوئی اس کے پاس خادم ومحافظ بھی نہیں ہے اور ان ساری باتوں کے باوجود تیری ہمت نے آج تک یہ کام نہیں کیا کہ تو اس ایک نہتے آدمی کو خود ہی ایک وار کرکے ختم کردیتا اور تیری یہ پریشانی خود بخود ختم ہوجاتی جو اس قدر سیخ پا ہے آخر کوئی بات اور کوئی وجہ تو ہے کہ تو موسیٰ پر ہاتھ نہیں اٹھا رہا اگر تجھ سے کوئی پوچھ لے تو آخر تیرے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ یقینا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی ایسی بات کہہ سکتا تھا جو اس کا جواب ہوتی۔ رہی دوسروں کو اکسانے کی بات تو اس میں اس نے کوئی کمی نہیں کی لیکن جب قانون الٰہی میں طے تھا کہ موسیٰ کا کوئی شخص بھی بال بیکا نہیں کرسکتا اور اس قانون کا اعلان بھی ہوچکا تھا اور خصوصاً موسیٰ کو فرعون کے پاس بھیجنے سے پہلے اس کی وضاحت کردی تھی جب کہ موسیٰ علہک السلام نے خود اس خطرہ کو محسوس کرکے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ مجھے خیال ہے کہ شاید وہ میرے قتل کے درپے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ اس فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہم تیرے ساتھ تیری حفاظت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس ضمانت کے بعد کسی نبی ورسول کو اس طرح کا وہم ہو تو آخر کیوں اور کیسے ؟
Ayah 43:54اس نے اپنی قوم کو وبے وزن سمجھا اور بلاشبہ وہ ایسے ہی لوگ تھے
54 ؎ فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف اور احمق بنانے کی کوشش کی اور بلاشبہ اس کی قوم ایسی ہی ثابت ہوئی کیونکہ جو کچھ اس نے بنایا وہ ویسی ہی بن گئی اور پھر بنتی ہی چلی گئی اور اب اس کی حالت یہ تھی کہ وہ دن کو رات کہہ دے تو وہ بھی رات کہہ دیتے اور اگر وہ رات کو دن کہہ دیتا تو وہ بھی ہاں میں ہاں ملادیتے۔ غورکیجئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون نے خود مناظرہ طے کیا اور اس کے لیے ایک دن مقرر کیا ، منادی کرائی ، لوگوں کو اکٹھا کیا ، اپنے مناظرین کو مقابلے میں لایا ، مناظرین نے اپنے دلائل پیش کیے ، لوگوں کو ان کی جیت کا یقین ہونے گا ایسے حالات میں پہنچ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی دلیل کو پیش کیا آپ کی دلیل بحمد اللہ اتنی وزنی تھی کہ سب کے سامنے وہ ان کی ساری دلیلوں کو بھسم کرگئی مناظرین نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اللہ نے ان کی ہمت بندھائی انہوں نے اپنے دلائل کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کو وزنی پاکر حق کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے فرعون نے دھمکی سنادی اور پھر اس پر عمل کرکے بھی دکھادیا ان کے دل میں حق جاگزیں ہوچکا تھا وہ اپنی جانوں پر کھیل کر حق کی خاطر قربان ہوگئے لیکن فرعون کی ساری قوم نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور ٹس سے مس بھی نہ ہوئے اور اسی طرح فرعون کی ہاں میں ہلاں ملاتے رہے ایساکیوں ہوا ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ قوم حق سے تجاوز کرنے والی تھی ، وہ حق کو کیونکر قبول کرتی جو حق کو قبول کرتا ہے اس کو حق کے مطابق عمل پیرا ہونا پڑتا ہے اپنی عادات اور اخلاق واطوار کو بدلنا پڑتا ہے۔ بداخلاقیوں اور ظلم وزیادتیوں سے باز آنا پڑتا ہے حق کی پیروی کے لیے جو دشواریاں ان کو پیش آئیں ان کو خوشی سے قبول کرنا پڑتا ہے۔ لوہے کے چنے چبانے پڑتے ہیں اور بعض اوقات جان عزیز سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کام ہر کہ ومہ کا نہیں اس لیے چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو کی سیاست اختیار کرکے وہ جی ہاں اور ہاں جی کی آسان پٹی کو پڑھتے رہتے ہیں جب حاکم ظلم و فساد کا بازار گرم کرتے ہیں تو وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور اپنا وہی ہاں جی اور جی ہاں والا فقرہ بولتے رہتے ہیں یہی کچھ فرعون کی قوم نے کیا اور آج بدقسمتی سے قوم مسلم کے حکمران باوجود حکمران ہونے کے غیر مسلم بادشاہوں اور حاکموں کے سامنے وہی ہاں جی والا فقرہ بولتے رہتے ہیں اور اپنی قوم کو دھوکے میں رکھ کر اپنے اقتدار کے نشہ کو بحال رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح جو حالت فرعون کی قوم کی تھی وہ حالت آج قوم مسلم کے حاکموں کی ہوکررہ گئی ہے اب یہ فیصلہ تم کرلو کہ اگر فرعون کی قوم بیوقوف اور کم عقل تھی اس لیے وہ فرعون کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی تو یہ ہمارے حکمران کیا ہیں جو غیر مسلم حکمرانوں کے سامنے ہاں میں ہاں ملاکر اپنا اقتدار قائم رکھے ہوئے ہیں اگر یہ بات آپ صحیح نہیں سمجھتے تو ہم سے بات کرلیں اور اگر صحیح سمجھتے ہیں تو اپنا فیصلہ دے دیں کہ ان حکمرانوں کو کیا کہیں ؟ یہ ہمارے حکمرانوں کی حالت ہے اور رہے ہمارے مذہبی لیڈر اور راہنما تو ان حاکموں کی ہاں میں ہاں ملاکر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں ان کا نام کیا ہونا چاہیے۔ اگر ہم کہیں گے تو ان کو شکوہ ہوگا ان کا کوئی نام بھی آپ ہی تجویز کرلیں یا اپنے مردوں کو بخشوانے کے لیے ان کا نام رکھنے کی بجائے ہمیں صلٰواتیں سنالیں۔ حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہی رہے گی ان کا نام رکھیں یا ہمیں صلٰوتیں سنائیں۔
Ayah 43:55فرعون کی یہ حالت بدستور قائم رہی یہاں تک کہ وہ ہمارے انتقام کی نذر ہوگیا
55 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) برس ہا برس فرعون کی اصلاح کرنے کی کوشش میں مصروف رہے لیکن اس کی اصلاح نہ ہونا تھی نہ ہوئی اور وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔ انجام کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل چلیں اور ہمارے انتقام لینے کی حالت کا نظارہ خود بھی کریں اور اپنی قوم کو بھی کرائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل میں سے جو آپ کے ساتھ نکلنے پر تیار ہوئے لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ فرعون نے اپنی افواج اور انصار کو ساتھ لے کر ان کا تعاقب کیا ، رات گزر گئی بنی اسرائیل دریا کو عبور کر ہی رہے تھے کہ فرعون اور اس کے لشکر نے ان کو للکارا کہ خبردار ! ہم تمہاری تکا بوٹی کرنے کے لیے تمہارے پیچھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھی دریا کو عبور کرنے کے لیے چھلانگیں لگادیں جب سب کے سب پانی میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کی ساری قوم کو ڈبو کر رکھ دیا اور ان میں سے ایک بھی ایسانہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کی گرفت سے بچ کر نکل سکا۔ اس طرح ظلم وستم کی داستان کا خاتمہ کردیا گیا اور اب بنی اسرائیل کی آزمائش کا وقت شروع ہوگیا۔
Ayah 43:56فرعون اور اس کی قوم کو بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیا گیا
56 ؎ یہ بات اس وقت مکہ والوں کو بتائی گئی اور اس کے بعد آج تک بدستور بتائی جاتی رہی اور سب آنے والوں کے لیے وہ باعث عبرت تھی کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح مخالفت کی اور اس کا انجام اس طرح ہوا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا اگرچہ کسی نے بھی اس عبرت سے عبرت حاصل کرنے کی سعی و کوشش نہ کی آج ہمارے لیے اور ہماریقوم کے لیے یہ واقعات درس عبرت ہیں اور اسی طرح قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے درس عبرت رہیں گے۔ اگر کوئی عبرت حاصل کرکے اپنی اصلاح کرلے گا تو اس کا اپنا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو سن کریاد رکھنے والوں کا نقصان بھی اپنا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ان واقعات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حالت درست فرمادے۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔