Ayah 43:57ابن مریم کون ہے ؟ اس کی مثال سے قریش مکہ نے کیوں چڑکھائی ؟
57 ؎ ابن مریم سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ آپ پیچھے عزوۃ الوثقی جلد پنجم ص 653 سے 679 تک پڑھ چکے ہیں اگر یاد نہ ہو تو وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔ زیر نظر سورة مکی سورة ہے اور جن مکی سورتوں میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر آیا ہے وہ صرف پانچ سورتیں ہیں سورة الانعام ، سورة مریم ، سورة المومنون ، سورة الشوری اور سورة الزخرف جس کی اب تفسیر کی جارہی ہے ان سورتوں میں سے صرف سورة مریم ہے جس میں مسیح (علیہ السلام) کے متعلق چند آیات بیان ہوئی ہیں باقی سورتوں میں صرف دوسرے انبیاء کے ناموں کے ساتھ نام آیا ہے اور سورة المومنون میں آپ کو صرف بطور نشانی بیان کیا گیا ہے آپ کو بھی اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی اس لیے ظاہر ہے کہ ابن مریم کی جس مثال کا ذکر اس جگہ کا گیا ہے وہ سورة مریم ہی کی آیات کریمات ہوسکتی ہیں جن میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف کی گئی ہے اور یہی عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کو عیسائی ابن اللہ کہتے یا اللہ اور اللہ کا تیسرا جزء قرار دیتے تھے لیکن اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان کی تعریف بیان کی لیکن قریش مکہ جو آپ کا اپنا خاندان اور قبیلہ تھا ان کے بتوں کی تنقیص کی تو وہ اس سے بہت جزبز ہوئے کہ عیسائیوں کے معبود کی اتنی تعریف و توصیف اور اپنے خاندان کے معبودوں کی اتنی تنقیص آخر کیوں ؟ اس طرح یہ لوگ چلا اٹھے۔ اس بات کو بہانہ بناکرقریش نے بہت باتیں بنائیں اور آپ ﷺ سے بہت بگڑے اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ محمد ﷺ چاہتا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کرتی ہے۔ (ابن جریز عن مجاہد) اور بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ قریش مکہ میں سے عبداللہ بن الزبعری نے رسول مکرم نبی اعظم وآخر ﷺ کو سورة الانبیاء کی یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا (انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم) تو کہا کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ان کو عبداللہ اور عبد صالح بتاتے ہیں اور اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ جہنم میں جائیں گے تو پھر اگر عیسیٰ بھی آگے میں جائیں گے تو ہم اور ہمارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے اگر آپ کا یہی خیال ہے تو ہم اس پر راضی ہیں
(روح المعانی) اس کی وضاحت ہم پیچھے عزوۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة الانبیاء کی آیت 98 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 43:58قریش مکہ نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ ؟ اس بات کو انہوں نے جھگڑا بنالیا
58 ؎ پیچھے ذکر کیا گیا ہے کہ جب ابن مریم کا ذکر انبیاء کرام کی فہرست میں دیکھتے ہیں اور آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے ہیں تو آپ کی قوم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں اب بتایا جارہا ہے کہ جس بات پر سیخ پا ہوتے اور چیختے ہیں وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ یہی ہے کہ ان کو اعتراض ہے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کیوں ؟ اس لیے کہ وہ دوسری قوم کے معبود ہیں اور ہمارے معبود محمد ﷺ بھی اپنی قوم کے معبود ہیں حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنالیا ہے تو اس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی رضا شامل نہیں ہے وہ تو اپنے آپ کو خود (انی عبداللہ) میں اللہ کا بندہ ہوں کہتے رہے اور پھر یہ کہ عیسائیوں نے آپ کی بت اور شبیہیں بناکران کی پرستش نہیں کی اگر وہ ایسا کرتے تو بلاشبہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بت کو بھی جہنم میں جھونک دیا جاتا جسے لات ، منوۃ ، عزیٰ اور دوسرے بتوں کو جہنم میں پھینکا جائے گا۔ رہے صاحب بت تو ان کے جہنم جانے کا سوال تو اسی وقت ہوسکتا ہے جب انہوں نے خود اپنی عبادت کیے جانے کا بلاشبہ ان کے جہنم جانے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہے۔ رہے ان کے بت تو ان کو محض دوزخ میں اس لیے ڈالا جائے گا کہ ان کی پرستش کرنے والوں کو ان کی مجبوری کا علم ہوجائے اور وہ سمجھ لیں کہ یہ بت فی الحقیقت کوئی چیز نہیں تھے محض گھڑے ہوئے پتھر تھے اور عین ممکن ہے کہ ان ان گھڑے پتھروں کے ڈھیروں کو جن کی لوگ پرستش کرتے ہیں دوزخ میں ڈال کر قبر پرستوں کو دکھایا جائے کہ یہ ہیں وہ مٹی جن کی تم پرستش کیا کرتے تھے کیونکہ اس سے مقصود صاحب بت یا صاحب قبر کی تحقیقر نہیں بلکہ صاحب پرستش کی تحقیر ہے ۔ فافھم فتدبر۔
فرمایا یہ بات وہ محض کج بحثی کے لیے کرتے ہیں کہ ان کی سرشت میں کج بحثی کرنا ہے ورنہ جو بات انہوں نے اٹھائی ہے اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے نہ مسیح (علیہ السلام) نے نصاریٰ کو عبادت کرنے کا کہا ہے اور نہ ہی اپنے بندہ ہونے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے جو یہ کہا کہ ” ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟ “ تب صحیح ہوتی جب مسیح نے اپنے معبود ہونے کا اعلان کیا ہوتا جب اس نے کبھی بھی اپنے معبود ہونے کا اعلان نہیں کیا بلکہ جب بھی کہا یہی کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اللہ ہی کی بندگی کرنے کا حکم دیتا ہوں اس طریقہ سے پیدا کیا گیا ہوں جس طرح سے ساری دنیا کے انسان پیدا ہوتے ہیں اسی طرح غذاکھاتا ہوں جس طرح دنیا کے دوسرے لوگ غذا کھاتے ہیں میں نے وہی پیغام دیا جو دوسرے نبی دیتے رہے ہی اور اسی طرح مروں گا جس طرح ساری دنیا کے لوگ مرتے ہیں اور دوبارہ اسی طرح زندہ کیا جائوں گا جس طرح دوسرے لوگ زندہ کیے جائیں گے اور میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا بھیجا ہوا نبی ورسول۔ اب تم ہی بتائو کہ ان باتوں میں سے کون سی وہ بات ہے جو مسیح نے اپنے معبود ہونے کا متعلق کہی تھی جس کو تم لوگ باعث نزاع بنا رہے ہو۔
Ayah 43:59مسیح کیا تھا ؟ اللہ کا بندہ اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیے مثال بنایا
59 ؎ ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ ایک بندہ تھا “ نہ اللہ تھا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا کوئی جزو اور اقنوم اور نہ ہی اللہ کا بیٹا کیونکہ جو اللہ کا بندہ ہو وہ نہ تو اللہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کا کوئی جزء ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور مسحک مخلوق پھر مخلوق یا خالق کا جزء کیوں اور کیسے ؟ ہاں ! وہ ایک ایسا بندہ تھا کہ ” جن بندوں پر ہم نے انعام کیا ہے وہ انہیں میں سے ایک تھا “ جس کا مطلب زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ وہ عام بندوں میں سے نہیں بلکہ خاص بندوں میں سے ایک بندہ تھا یعنی جن بندوں کو ہم نے نبی ورسول بنایا ہے انہی بندوں میں سے ایک بندہ اور نبی ورسول تھا اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بناکر بھیجا تھا جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے قبل بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بناکر بھیجا گیا تھا اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو ہم نے تم لوگوں کے لیے نمونہ بنایا ہے جو ہمارے خاص بندوں میں سے ایک بندہ اور نبی ورسول ہے بلکہ اس سب سے بڑھ کر ان کا یہ اعزاز ہے کہ اس پر نبوت و رسالت جیسی نعمت کو ہم نے ختم کردیا ہے کہ اس کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی پرانا۔ تعجب ہے کہ ان آیتوں سے بھی ہمارے مفسرین نے مسیح (علیہ السلام) کے بےپدری پیدائش اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے پر استدلال کیا ہے حالانکہ ان دونوں ہاتھوں کا ذکر تو الگ اشارہ تک یہاں موجود نہیں ہے اور اس طرح جس جھگڑے سے قرآن کریم نے مکہ کے مشرکوں کو منع کیا ہے کہ یہ جھگڑے کی کوئی بات نہیں ہے اس لیے خواہ مخواہ ایک جھگڑا مت کھڑا کرو جن باتوں کا اس جگہ اشاہ تک موجود نہیں تھا ان باتوں کو بیان کرکے ایک نیا جھگڑا کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم اس کا ذکر اس لیے نہیں کر رہے کہ اس جگہ اس طرح کا کوئی اشارہ تک موجود نہیں تو ہم اس سے بحث کیوں کریں ؟ آپ ان باتوں کا مطالعہ چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران کی آیات 1 تا 64 جلد پنجم سورة مریم کی آیات 16 تا 36 اور سید نامسیح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کا مطالعہ کریں۔
Ayah 43:6060 ؎ خلافت ارضی کے لیے فقط انسان قانون قدرت میں طے کیا گیا تھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ انسان ہی خیروشردونوں کا مجموعہ ہے اور دونوں چیزوں کے مجموعہ ہی کو زمین میں بسایا جانا منظور تھا اس لیے ان کی راہنمائی کے لیے بھی ان ہی جیسا انسان یعنی جس میں دونوں چیزیں خیروشر موجود ہوتیں مناسب تھا اور یہی کچھ کیا کہ ہر نبی ورسول کا تعلق انسانوں سے تھا اور اس میں دونوں قسم کی چیزیں یعنی خیروشر موجود تھے اس نے دنیا میں بسنے والے انسانوں میں رہ کر بطور نمونہ اپنے آپ کو پیش کیا اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے تو وہ دنیا والوں کے لیے نمونہ نہیں ہوسکتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں میں سے صرف انہی لوگوں کو خلیفہ نہیں بنایا گیا جو فرشتوں کی طرح معصوم تھے بلکہ خلافت اراضی کے لیے خلافت کی صلاحیت رکھنے والوں کو یہ فریضہ سپرد کیا اور نمونہ کے لیے نبیوں اور رسولوں کو چنا گیا جو معصوم عن الخطاء تھے لنکت اس کے باوجود وہ فرشتے نہیں تھے بلکہ انسان تھے اور ان کا تعلق جنس انسانی ہی سے تھا۔ (جعلنا منکم ملائکۃ) کا مفہوم ومطلب جو ہم نے سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ انسانوں ہی میں سے ملائکہ صفت انسان مراد ہیں اور ملائکہ صفت سے مراد معصوم عن الخطا ہی ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں ہر نبی ورسول کو ہر فرشتہ سے افضل واعلیٰ تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ نبی ورسول بشر ہونے کے باوجود بطور نمونہ ” کلمہ خیر “ ثابت کرتا ہے اور فرشتہ میں شرکاء مادہ موجود ہی نہیں ہوتا اس لیے کمال اس کا ہے جس نے شرکا مادہ موجود ہونے کے باوجود اس کا اظہار نہ ہونے دیا اور خیر کو اس پر غالب کردیا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ مشیت ایزدی کا بیان ہے کہ اگر ہم چاہتے تو نہ آدم کو پیدا کرتے ، نہ اولاد آدم کو اور پھر ظاہر ہے کہ جب انسان پیدا ہی نہ ہوتے تو یہ اندھیر نگری کیونکر ہوتی جو انسان ہی سے ہورہی ہے پھر انسانوں کی جگہ فرشتے بسائے جاتے یا جس مخلوق کو اللہ چاہتا بسادیتا لیکن پہلی بات زیادہ واضح اور صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 43:61قیامت کے بارے شک میں نہ پڑو قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بالکل سچ ہے
61 ؎ (انہ) کی ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ سید مودودی (رح) فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں ہیں بلکہ ” عیسیٰ (علیہ السلام) کے بےپدری پیدائش ہے اور ان کا مٹی سے پرند بنانا اور مردے جلانے کو قیامت کے امکان کی ایک دلیل قرار دیا گیا ہے اور ارشاد خداوندی کا منشاء یہ ہے کہ جو خدا باپ کے بغیر بچہ پیدا کرسکتا ہے اور جس خدا کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں جان ڈال سکتا ہے اور مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اس کے لیے آخر اس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اور تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ “ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ” ہ “ کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے۔ جن مفسرین نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اگرچہ ہمارا اتفاق ان سے نہیں ہے تاہم ان کی بات سمجھ میں ضرورآتی ہے کہ انہوں نے ہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں قراردیا۔ لیکن سید مودودی (رح) کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ ہ ضمیر کا مرجع اگر عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں تو ان کے بےپدری پیدائش اور دوسرے افعال کس طرح ہوگئے یہ تو وہی بات ہے کہ دو اور دو کتنے ہوئے کسی نے جواب دیا چار روٹیاں۔ جس طرح چار پر بات ختم ہوتی تھی لیکن نہیں کی گئی بلکہ ساتھ روٹیوں کا لاحقہ لگایا گیا جس نے ساتھ روٹیوں کا لاحقہ استعمال کیا اس کی اصل وجہ ظاہر ہے کہ وہ بھوک تھی اگر مودودی صاحب اپنی بےپدری کی بات کرتے تو ہم یقینا مان لتیے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ایسی بات خاکم بدہن کہ ہم کہیں کیونکہ یہ بات آدم زادوں کے لیے گالی سے کم نہیں ہے اور نہ یہ بات اللہ نے فرمائی نہ اللہ کے رسول محمد رسول ﷺ نے اور نہ خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور نہ آپ کی والدہ مریم (علیہ السلام) نے اس لیے ہم نے کہا ہے کہ سید صاحب اپنی بات کرتے تو ہم مان لیتے کیونکہ وہ اپنے آپ کو گالی دینا چاہتے تو ہم مان سکتے تھے کیونکہ وہ ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ یہ بھی کہ اگر اللہ کی قدرت کا اظہار اس طرح ممکن ہے تو ظاہر ہے کہ اللہ اب بھی قادر ہے کیا وہ مودودی صاحب (رح) کو بےپدر پیدا نہیں کرسکتا تھا کہ اس طرح ماننے میں ہم کو کوئی دشواری لاحق ہوتی۔ بہرحال سید صاحب نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اگر اس طرح کا نظریہ رکھنا پسند کیا ہے تو سو بار رکھیں لیکن اس آٰیت سے اس کا سلسلہ نہ جوڑیں کہ اس طرح بات بالکل بےجوڑ بن جاتی ہے رہی یہ بات کہ ہم نے جو قرآن کریم کو مرجع قرار دیتے ہیں ان کی رائے کو کیوں پسند کیا ہے تو وہ محض اس لیے کہ اس وقت جب یہ کہا گیا ابھی قرآن کریم کا نزول ہورہا تھا کچھ ہوچکا تھا اور کچھ باقی تھا اور آپ ﷺ کی وفات کے وقت قرآن کریم کا نزول مکمل ہوچکا تھا اس لیے جو چیز قیامت کی دلیل ہو سکتی تھی وہ یہی تھی کہ قرآن کریم نے اس کی پوری پوری وضاحت کردی تھی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ابھی ہونا تھا اس وقت بھی اور اب بھی اگر بقول بعض اس کو صحیح مان بھی لیا جائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بےپدری پیدائش کا قرآن کریم نے کہیں ذکر ہی نہیں کیا اور نزول ثانی کو اگر ہوگا بھی تو قیامت کے علم کا ذریعہ صرف ان لوگوں کے لیے بن سکتا ہے جو اس زمانہ میں موجود ہوں یا اس کے بعد پیدا ہوں۔ نزول قرآن کے وقت کے کفار کے لیے اور اس سے پہلے کفار کے لیے وہ کیسے ذریعہ علم قرار پاسکتا تھا کہ ان کو خطاب کرکے یہ کہنا صحیح ہوتا کہ ” پس تم اس میں شک نہ کرو “ لہٰذا ہمارے نزدیک صحیح تفسیر وہی ہے جس میں ہ کا مرجع قرآن کریم قرار دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ اس جگہ قرآن کریم کا ذکر پہلے نہیں کیا گیا لیکن ان کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیوں ؟ اس لیے کہ بہت سے موقعوں پر اس طرح ضمیر قرآن بغیر اس کے پہلے ذکر کرنے کی آتی ہے جیسے ارشاد الٰہی ہے کہ (لاتحرک بعہ لسانک لتعجل بہ) (القیمہ 75 : 16) اور (انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (القدر 97 : 1) اور اس طرح کی دوسری آیات میں بھی صرف ضمائر کا مرجع قرآن کریم قراردیا گیا ہے حالانکہ اس سے پہلے قرآن کریم کا ذکر موجود نہیں ہے اس طرح اس جگہ بھی قرآن کریم ہی کو مرجع رار دیا جاسکتا ہے اور ہم نے اس کو صحیح سمجھا ہے۔ رہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بےپدری ، مردوں کو زندہ کرنا ، کوڑھیوں کا درست کرنا ، نابینائوں کو بینا بنانا اور اسی طرح کے دوسرے افعال تو اس کی وضاحت ہم عزوۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران کی آیات 45 تا 51 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 43:62شیطان تم کو روک نہ دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
62 ؎ روز قیامت کے تسلیم کرنے سے تم کو شیطان روک نہ دے کیونکہ قیامت کا تسلیم کرنا عقائد اسلام میں سے بنیادی عقیدہ ہے جس شخص نے قیامت کا انکار کیا گویا اس نے اللہ ، رسول اور اس کی کتابوں سے انکار کی۔ شیطان جو انسان کا ابدی دشمن ہے وہ اس معاملہ میں انسان کو شک وشبہ میں مبتلا کرتا آیا ہے ، کررہا ہے اور کرتا رہے گا یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ شیطان کے بہلاوے میں آئے ہوئے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ پیچھے آپ آیت 57 میں لفظ (یصدون) پڑھ چکے ہیں اور زیرنظر آیت میں (یصدنکم) آیا ہے اس لیے اس فرق کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے معنوں میں کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کا مادہ ص دو ہے اور صد کا مضارع یصد بھی آتا ہے اور یصد بھی اگر مضارع یصد ہو تو اس کے معنی اعراض کرنے کے آتے ہیں یا روکنے کے اور اگر مضارع یصد ہو تو اس کے معنی ضج یعنی فریاد کرنا یا چلانا کے آتے ہیں۔ (لسان العرب) اوپر آیت 57 میں (یصدون) کا لفظ استعمال ہوا اس لیے وہاں چلا اٹھنے کے کیے گئے اور زیر نظر آیت میں (یصدنکم) کا لفظ ہے اس لیے معنی روکنے کے کیے گئے ہیں۔
Ayah 43:63عیسیٰ (علیہ السلام) جب رسول بن کر آئے تھے انہوں نے قوم سے کیا کہا تھا ؟
63 ؎ مسیح (علیہ السلام) کی آمد سے قبل یہود مختلف گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے اور ہر ایک گروہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور ان کے عقائد میں بہت فرق اور اختلاف رونما ہوچکا تھا۔ مثلاً :
1 ایک جماعت صدوقی تھی اس کا یہ عقیدہ تھا کہ انسان کے اعمال نیک وبد کی سزا اس دنیا میں مل جاتی ہے۔ قیامت ، آخرت میں جزا وسزا ، حشر نشر سب باتیں غلط اور بےبنیاد ہیں۔
2 دوسری جماعت فریسی کہلاتی تھی اس جماعت کے لوگ قیامت ، آخرت میں جزا وسزا ، حشر ونشر وغیرہ کو حق سمجھتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے یہ ضروری سمجھتے تھے کہ دنیا کی لذات سے کنارہ کشی اختیار کی جائے چناچہ وہ آبادیوں سے الگ خانقاہوں اور جھونپڑوں میں زندگی بسر کرتے تھے ایک وقت ایسا آیا جب کہ خانقاہیں اور جھونپڑیاں بدکاری کا اڈا بن گئیں اور وہاں ہر قسم کی بدکاری کا ارتکاب کیا جانے لگا۔
3 تیسری جماعت کا ہن کے نام سے موسوم تھی یہ لوگ مذہبی رسوم اور خدمت ہیکل بجا لاتے تھے لیکن ان کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ انہوں نے مذہبی رسوم اور خدمت ہیکل کو تجارتی کاروباربنالیا تھا جب تک ہر ایک رسم اور خدمت ہیکل پر نذرانے وغیرہ نہ لے لیتے تھے وہ کوئی قدم نہیں و اٹھاتے تھے۔ تورات کے احکام میں اغراض نفسانی کی تکمیل کے لیے تحریف کرتے تھے ، اپنی تصنیفات اور اجتہادات کو کتاب الٰیا کا درجہ دیتے تھے ، اس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ (یحرفون الکلم عن مواضعہ) (المائدہ 5 : 13) ” وہ لوگ مفہوم کلام کو اپنی جگہ سے ہٹادیتے تھے “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا یا کہ (فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشترو بہ ثمنا قلیلاً فویل لھم مما کتب ایدیھم وویل لھم مما یکسبون) (البقرہ 2 : 79) ” افسوس ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی قیمت لے لیں پس ان کے لیے افسوس ہے اس کی وجہ سے جوان کے ہاتھوں نے لکھا اور ان کے لیے افسوس ہے اس وجہ سے جو وہ کماتے ہیں “۔
4 چوتھی جماعت احبار اور فقیہوں کی تھی اور یہ لوگ مذہب کے اجارہ دار سمجھے جاتے تھے اور عوام میں سب سے زیادہ مقبول تھے۔ یہ جنت کے پروانے لکھ دیتے اور لوگوں سے اس کے معاوضہ میں بڑی بھاری رقوم وصول کرتے تھے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرار قرار دیتے تھے اور عوام میں یہ عقیدہ پیدا کردیا تھا کہ حرام اور حلال کچھ نہیں مگر وہی جس کو وہ حلال یا حرام قرار دے دیں۔ قرآن کریم کی سورة التوبہ کی آیت 31 میں ان لوگوں کو (اربابامن دون اللہ) کہا گیا ہے۔
زیر نظر آیت میں یہود کی انہیں بیماریوں اور اختلافوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تو اس نے کہا کہ ” میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہوں اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان مذہبی پیشوائوں کے متعلق یہ فرمایا کہ ” تم خدا کے حکموں کو ترک کرکے آدمیوں کی روایت کو قائم رکھتے ہو۔ “ اور مزید ان کو کہا کہ ” تم اپنی روایت کو ماننے کے لیے خدا کے حکم کو کیا خوب باطل کرتے ہو۔ “ (مرقس 7 ، 8 ، 9) ” تم اپنی روایت سے خدا کے حکم کو کیوں ٹال دیتے ہو “ مزید فرمایا کہ ” تم اپنی روایت سے خدا کا کلام باطل کردیا ہے۔ “ (متی 15 : 3 ، 7)
” مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے یہود کے عقائد اور اعمال کا یہ حال تھا کہ وہ مشرکانہ رسوم و عقائد کو جزو مذہب بناچکے تھے اور جھوٹ ، فریب ، بغض وحسد جیسی بداخلاقیوں کو عملاً اخلاق کریمانہ کی حیثیت دے رکھی تھی اور بجائے شرمسار ہونے کے وہ ان پر فخر کا اظہار کرتے تھے اور ان کے علماء و احبار نے تو دنیا کے لالچ اور حرص میں کتاب اللہ تک کو تحریف کیے بغیر نہ چھوڑا اور درہم و دینار پر خدا کی آیات کو فروخت کرڈالا اور عوام سے نذریں اور بھینٹ حاصل کرنے کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اس طرح قانون الٰہی کو مسخ کرڈالا۔ “
(انسائیکلوپیڈیا برنانیکا)
مسیح (علیہ السلام) نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ :
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ “ ( متی 23 : 13)
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ تم بیوائوں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو ، تمہیں زیادہ سزا ہوگی۔ “ (متی 23 : 14)
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوسٖ ! کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہوچکتا ہے تو اس کے لیے اپنے سے دونا جہنم کافرزند بنادیتے ہو۔ “ (متی 23 : 15)
” اے اندھے راہ بتانے والو ! تم پر افسوس جو تم کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ “ (متی 23 : 16)
” اے احمقوں اور اندھوں کون بڑا ہے سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا ہے۔ “ (متی 23 : 17)
” اے ریاکار فقیہو اور فریسیو ! تم پر افسوس کہ تم سفیدی بھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری پڑی ہیں۔ اس طرح تم بھی ظاہر میں راست باز دکھائی دیت ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بےدینی سے بھرے ہوئے ہو۔ “ (متی 23 : 28) افسوس کہ مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے جو اودھم یہود نے مچا رکھی تھا اس کا ذکر آپ نے مختصر سے مختصر الفاظ میں پڑھ لیا لیکن آج جو اودھم قوم مسلم کے ان سیاسی لیڈروں ، حکمرانوں ، مذہی راہنمائوں اور پیشوائوں نے مچارکھا ہے وہ اس سے بھی سوا ہے اور انہوں نے یہودیوں کو بھدی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ الاماشاء اللہ۔
Ayah 43:64اللہ تعالیٰ ہی میرا رب ہے اور تمہارا بھی ، عبادت اسی کی ہے اور یہی سیدھی راہ ہے
64 ؎ عیسیٰ (علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح دوسرے نبیوں اور رسولوں کی عمروں کے مقابلہ میں بہت پہلے ہی نبوت و رسالت سے سرفراز فرمادیا گیا تھا اور وہ لوگوں تک بچپنے ہی سے نبوت و رسالت کا پیغام پہنچانے لگے تھے اور ان کا سب سے پہلا اعلان و فرمان یہی تھا کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی میرا رب ہے اور تمہارا بھی میں بھی اسی کی عبادت کرتا ہوں اور تم بھی اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ اچھی طرح سن لو کہ میں نہ تو خدا ہوں اور نہ ہی خدا کا بیٹا اور نہ ہی میں نے یہ کہا ہے کہ تم میری عبادت کرو بلکہ میری دعوت تو وہی ہے جو دوسرے تمام نبیوں اور رسولوں کی تھی۔ وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران آیت 28 ، سوہ النساء آیت 112 ، سورة المائدہ آیت 15 جلد پنجم سورة مریم کی آیت 30 ، 31 کی تفسیر کو ملاحظہ کریں۔
Ayah 43:65عیسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل نے آپس میں اختلاف کیا
65 ؎ بنی اسرائیل مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے ہی بہت سے گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے جیسا کہ پیچھے آیت 63 میں ذکر کیا گیا ہے تاہم ایک عقیدہ ان سب کے ہاں مشترک چلا آرہا تھا اور وہ مسیح (علیہ السلام) کی بعثت کا ہے لیکن جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور وہ ان کی موہوم امیدوں کو پورا نہ کرسکے بلکہ ان سارے فرقوں کو مخاطب کرکے ان کے عقائد پر بحث شروع کردی اور ان کی بنائی ہوئی باتوں کے ساتھ اتفاق نہ کیا تو یہودیوں کے سارے فرقے مخالف ہوگئے اور صرف چند حواری رہ گئے جنہوں نے آپ کی سچے دل سے تصدیق کی اور اس طرح بظاہر دو بڑے گروہ پیدا ہوگئے جو ایک دوسرے کے مخالف تھے ایک بنی اسرائیل کا وہ گروہ جس نے نہ صرف یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی تسلیم نہ کیا بلکہ بہت برے لفظوں سے یاد بھی کیا اور دوسرا وہ گروہ جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کیا اور آپ کی وفات کے ساتھ ہی اس قدر افراط سے کام لیا کہ آپ کو اللہ ! اللہ کا جزو اور بیٹا اور اللہ کے تین اقنوم میں سے ایک اقنوم قرار دے دیا اور اس طرح یہ دونوں بڑے گروہ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوگئے اور اس طرح یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں نہایت تفریط سے کام لیا تو ان کے مقابلہ میں نصاریٰ نے اتنی افراط کردی جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کو ظالم قرار دیا اور ان کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی اور اب ان دونوں گروہوں کے مزید بیسیوں گروہ بن چکے ہی جن کی تفصیلات بہت طویل ہیں اور ان کی تاریخ کو دہرانے کا کوئی فائدہ بھی نہیں اس لیے کہ اب ہم خود کئی گروہوں میں بٹ چکے ہیں اور انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
Ayah 43:66سب گروہ اس انتظار میں ہیں کہ قیامت آئے اور ان کا کام تمام کردے
66 ؎ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے انکار ہی نے ان کو اس حالت تک پہنچایا ہے اور آپ ﷺ کی تذکیر ونصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہورہا کیونکہ آپ ﷺ ان کو قیامت سے ڈراتے ہیں اور اس کو یہ سارے گروہ حقیقت میں نہیں مانتے اور اگر اقرار کرتے بھی ہیں تو وہ صرف رسمی اقرار ہے ورنہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی ایسی کیوں ہوتی بلکہ یہ تو آخرت کے لیے کچھ کمائی کرتے اور اس دنیا کی زندگی میں اس قدر نہ ریجھ جاتے لیکن یہ بات اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ قیام قیامت تو یقینی ہے اگر کوئی اس کو تسلیم کرے گا تو بھی وہ آئے گی اور اگر کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا تب بھی وہ آئے گی اس لیے یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ یہ لوگ اختلافات میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب ان کے ختم ہونے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اب ان کے اختلاف خود بخود ہی ختم ہوجائیں گے جب قبر کی مٹی ان کے منہ میں پڑے گی کیونکہ یہی ایک وہ چزت ہے جو ہر طرح کی خواہش اور ہر طرح کے جھگڑے کو ختم کردینے والی ہے اور بلاشبہ جب وہ دن آئے گا تو اچانک ہی ان پر آجائے گا کیونکہ وہ کسی انسان کے ساتھ مشورہ کرکے نہیں آتا بلکہ اچانک ہی آدھکتا ہے اور آواز نکل پڑتی ہے کہ آج فلاں کوچ کرگیا۔
بانگ برآید کہ فلاں نہ ماند
اس طرح گویا نبی اعظم وآخر ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کے بعد کے سارے داعیوں کے لیے تنبیہ کی جارہی ہے کہ زیادہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ان کے اختلافات ختم ہونے کی مدت کوئی زیادہ بھی نہیں ہے اور ان کی داستان طولائی ختم ہوتے زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ ان کا حقیقی ساتھی ہر وقت ان کی تاک میں ہے اور امر الٰہی ہونے کی دیر ہے بلاشبہ ان کا سارا نشہ چند منٹ میں ہوا ہوجائے گا۔
Ayah 43:67اس روز تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے متقین کے
67 ؎ آج اس دنیا میں جن آسروں اور وسیلوں پر ان لوگوں کا انحصار ہے اور جس بل بوتے پر یہ سب کچھ کرتے چلے جا رہے ہیں کہ ہمارے پیر ، بزرگ اور دوست و احباب ہماری سفارش کرکے ہم کو آنکھ جھپکتے آزاد کرادیں گے جب وہ وقت آئے گا تو وہ اس طرح آنکھیں پھیرجائیں گے گویا کہ وہ ان کو جانتے ہی نہیں اور سارے تعلقات ختم ہو کر رہ جائیں گے اور یہ بات فطری ہے کہ جس سے جس قدر پیار و محبت زیادہ ہوتا ہے اس سے اگر خدا نہ کرے دشمنی ہوجائے تو بھی اتنی ہی شدت اختیار کرجاتی ہے جتنی کہ دوستی تھی اور اس جگہ اس فطری حقیقت کا بیان ہے کہ جن لوگوں کے آسرے اور سہارے پر وہ دنیا میں یہ سب کچھ کرتے رہے جب قیامت کے روز ان کا ایک دوسرے سے واسطہ پڑے گا تو ظاہر ہے کہ مرید اپنے پیروں سے بیزاری کا اظہارکریں گے اور طالب مطلوب سے منہ پھیر جائیں گے اور وہی دوست دوست کو دیکھ کر خوش ہوسکتا ہے جو خود بھی متقی اور پرہیز گار ہوگا اور اس کا دوست بھی باقی سب کے سب ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے۔ اس کی تفصیل پیچھے ہم عزوۃ الوثقی جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 165 تا 167 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 43:68اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی تم غم زدہ ہوگے
68 ؎ جہاں دوسروں کے سہاروں پر بداعتدالیاں کرنے والوں کے سارے بھائی چاروں اور دوستیوں کے ختم ہونے کا ذکر کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ پیر مریدوں سے اور مرید پیروں سے بیزار ہوں گے اور ان کے آپس کے سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے وہاں وہ لوگ جو صرف اور صرف اللہ کے بندے بن کر رہے اور دوسروں کے سہارے بداعتدالیاں کرتے رہے اور نہ ہی انہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا جو خود بداعتدالیاں کرتے تھے اور دوسروں کو بداعتدالیاں کرنے کا حکم دیتے یا شہ دلاتے تھے بلکہ وہ براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ڈرتے رہے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنائی جائے گی کہ اے میرے بندو ! تم پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی آج کے دن غم زدہ ہونے کی کوئی ضرورت ہے۔ تم نے صرف اور صرف مجھے ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا اور میرے احکام کی پیروی کی اور تمہاری آپس کی محبت تھی تو میری رضا کے لیے آج میں تم کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سائے کے بغیر کوئی سایہ نظر نہیں آئے گا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (ان اللہ یقول یوم القیامۃ این المتحابون بجلالی الیوم ظلھم فی ظلی یوم الاظل الاظلی) (رواہ مسلم)
Ayah 43:69وہ بندے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار رہے
69 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اس طرح کی خوشخبری سنائے جانے والی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کی جائے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور آپ ﷺ کی محبت میں اللہ کی محبت مسرک آسکتی ہے اور یہ بھی کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ومانبرداری کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے میسر آسکتی ہے اور جو شخص ایمان میں جتنا کامل ہے بلاشبہ اس پر اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ یاد رہے کہ عشق اور محبت کا تعلق صرف خالی دعوئوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی پابندی ، پیروی اور فرمانبرداری کے ساتھ خاص ہے۔ صرف خالی دعوی جب کہ پیروی اور فرمانبرداری کے لیے قدم نہ اٹھائے جائیں نفاق ہے جو کفر سے بھی برا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اللہ اور اس کے رسول کی سچی محبت اور فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے روز نبی اعظم وآخر ﷺ کے لواء الحمد کے سایء میں جگہ دے دے تاکہ کوئی خوف وخزن باقی نہ رہے۔
مجھے تو پسند اور مجنوں کو لیلیٰ
نگاہ اپنی اپنی پسند اپنی اپنی
Ayah 43:70تم سب اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش خوش جنت میں داخل ہوجائو
70 ؎ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کے استقبال کے لیے فرشتے حاضر ہوں گے وہ بندے جو دنیا میں اچھی سنگت کے ساتھ برائیوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں مصروف رہے ان خوش بختوں کا استقبال اللہ تعالیٰ کے فرشتے کریں گے اور ان کو جنت میں داخل کیے جانے کی خوشخبری سنائیں گے اور بلاشبہ وہ اس خوشخبری کو سنتے ہی وہ خوشی محسوس کریں گے جس کو اس دنیا کی کسی چیز کے ساتھ تشبہیہ نہیں دی جاسکتی۔ (انتم وازواجکم) تم اور تمہاری سنگت میں رہنے والے مراد لیے جائیں تو مضمون میں زیادہ وسعت سما جاتی ہے۔ (ازواج) کا ترجمہ ہم نے اوپر تحت متن بیویاں ہی کیا ہے لیکن اس سے مراد ساری سنگت بھی لی جاسکتی ہے کیونکہ روج کے معنی ہیں پورے گروہ اور پوری سنگت کا آجانا قرآن کریم کی زبان میں عام ہے اور میاں بیوی کو ازواج بھی اسی مفہوم کے تحت کہا جاتا ہے کیونکہ اس رشتہ میں ایک دوسرے کے لیے ساتھی ہوجانا سب پر واضح ہے۔ قرآن کریم میں ہے (وکنتم ازواجا ثلثۃ) (الواقعہ : 7) ” اور اس روز تم تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ “ المصباح المنیر میں ہے زوج وہ شکل ہے جس کی کوئی نظیر ہو جیسے کہ اصناف و الوان یعنی مختلف قسمیں اور رنگ یا یہ کہ اس کی کوئی تقیض ہو جیسے خشک وتر ، نرومادہ ، شب وروز تلخ و شیریں ، زوج ہر دو کو کہتے ہیں اور یہ فرد کی ضد ہے۔ (ابن ورید) ان دو کو جو جفت ہوں زوجان کہا جاتا ہے اور زوج بھی جیسے عندی زوج نعال کہو گے تو دو جوتے مراد ہوں گے۔ (جوہری) اور ازہری کا قول ہے کہ نحویوں نے دو کے زوج ہونے سے انکار کیا ہے زوج ان کے نزدیک ایک فرد ہے بلاشبہ یہی درست ہے۔ عوام خطا کرتے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ زوج دو ہیں حالانکہ یہ عرب کا کلام نہیں ہے کیونکہ وہ زوج حمام (کبوتر کا جوڑا) سمجھنے کے لیے زوج کو واحد نہیں بولیں گے بلکہ وہ کہیں گے زوجان من حمام (کبوتر کا ایک جوڑا) زوجن من خفاف (موزوں کا ایک جوڑا) اور پرند میں سے ایک کو زوج نہیں بولتے یہ جاہلوں کا کلام ہے لیکن ہر دو زوجان ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں (فجعل منہ الزوجین الذکر والانثٰی) (القیمہ؍39) اس نے بنایا جوڑا نر اور مادہ اگر زوج دو کے لیے آتا تو (زوجین) نہ لایا جاتا۔ سجستانی) (زوجان) قسم قسم وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کی نظیر ہو یا نقیض ہو۔ زیر نظر آیت میں جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اگر (ازواجکم) تمہارے ہم مشرب ، تمہارے ساتھی ، تمہاری سنگت مراد لی جائے تو معنوں میں وسعت آجائے گی اور میاں بیوی کا ساتھ بھی اس میں شامل ہوجائے گا۔ (فاخر جنا بہ ازواجا من تبات شتی) (طٰہ : 53) ” پس ہم نے اس سے اگائیں مختلف نباتات کی نوع بنوع قسمیں۔ “ اور (یحبرون) کا مادہ ح ب ر ہے اور حبر کے معنی زینت کرنے اور خوشی ومسرت کے آثار ظاہرہونے کے ہیں۔ تحبرون تمہاری عزت کرائی جائے گی۔ تم خوش حال کر دئیے جائو گے۔ تمہارا بنائو سنگھار کرایا جائے گا مضارع مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ پیچھے آیت 67 میں کافروں ، منافقوں اور مشرکوں کے ہم مشربوں کا ذکر کیا گیا تھا اور زیرنظر آیت میں اس جہان والوں کے ہم مشربوں ، ساتھیوں اور دوست و احباب کا ذکر کیا جائے گا جو دین اسلام کے ساتھ مخلص ہوں گے۔
Ayah 43:71جنت میں جو انعامات ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے ان کی ایک جھلک
71 ؎ یہ بات اس سے قبل کی بار عرض کی جاچکی ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ جنت میں پیش کیا جائے گا اس کے وہی نام رکھے گئے ہیں جن سے اس وقت ہم معروف ہیں اور فطری طور پر ہر ایک انسان کی خواہش ہے کہ وہ چیزیں ہم کو ملیں خواہ وہ انسان کتنے ہی نیک اور پاکیزہ اخلاق و اعمال کے ہوں ہی شقی المزاج اور بدکار ہوں۔ ہاں نیکوکار ان چیزوں کو جائز اور درست طریقوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ان کو میسر آئیں تو وہ ان سے مستفید ہوتے ہیں اور اگر میسر نہ آئیں تو ناجائز اور حرام طریقوں سے ان کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے امیدوار ہیں کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے گا اور ان سارے انعامات سے بھی نوازے گا رہی یہ بات کہ جنت میں جانے کے وقت انسان کی خواہشات کیا ہوں گی ؟ کوئی فرد اس کی وضاحت نہیں کرسکتا اس لیے یہ ہمارا ایمان ہے کہ جو اہل جنت کی اس وقت خواہشات ہوں گی ان کو پورا کیا جائے گا لیکن اس وقت کی خواہش کے مطابق ہم ان کے وہی نام لے سکتے ہیں جن چیزوں سے ہم لذت حاصل کرتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں اس لیے قرآن کریم میں جگہ جگہ اہل جنت کو پیش کی جانے والی ان چیزوں کے نام گنوائے ہیں جن چیزوں کی اس وقت ہم انسان خواہش کرتے ہیں کہ یہ ہم کو میسر آئیں۔ سونے کے برتنوں میں کھانا کھانا اور ان کو بطور برتن استعمال کرنا اسلام نے منع فرمایا ہے لکین اس کے باوجود ہر ایک انسان کی فطری خواہش ہے کہ وہ سونے کو پسند کرتا ہے اور اس پسندیدگی کے باعث اگر اس کو سونے کے برتن میسر آئیں تو باقی کسی چیز کی اس کے ہاں کمی رہ گئی ؟ چونکہ انسان کی خواہش میں یہ چیز موجود ہے اس لیے اہل جنت کو سونے کے برتن پیش کیے جانے کا ذکر کیا گیا کہ اہل جنت کو سونے کے برتنوں میں اشیاء خورنی پیش کی جائیں گی اور یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ جب برتن سونے کے ہوں گے تو ان میں جو کچھ پیش کیا جائے گا وہ کیا ہی مرغوب غذائیں ہوں گی اور ان کو کن کن طریقوں سے تیار کیا گیا ہوگا لیکن اس تیاری میں اہل جنت کو کوئی محنت ومشقت نہیں کرنا ہوگی اور نہ ان غذائوں میں کثافت وفضلات نام کی کوئی چیز ہوگی۔ وہ دیکھنے میں خوش رنگ ہوں گی کہ دیکھتے ہی دیکھنے والوں کی اشتہاء وطلب بڑھ جائے اور مزے میں اس سے بھی سوا ہوں گی اور اس کے ساتھ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان باغوں اور ان غذائوں میں رہیں گے نہ زندگی کے ختم ہونے کا امکان ہوگا اور نہ ہی ان چیزوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ ۔ آگے آنے والی سورتوں اور ان انعامات جنت کا بار بار ذکر آئے گا اور ہر بار ان چیزوں کے نام دئیے گئے جن کو نزول قرآن کریم کے وقت بھی لوگ پسند کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں اور رہتی دنیا تک جب تک انسان کو یہ زندگی میسر ہے ان ہی غذائوں کو پسند کیا جائے گا اور جن چیزوں کا روز بروز اضافہ ہوا جارہا ہے یہ بھی خود بخود ان میں داخل ہوتی جائیں گی کیونکہ یہ بات واضح کردی گئی کہ ہر وہ چیز وہاں میسر آئے گی جس کی اہل جنت کو خواہش ہوگی یہ جو فرمایا ہے کہ (فیھا ماتشتھیۃ الانفس وتلذ الاعین) تو ظاہر ہے کہ یہ اہل جنت ہی کی خواہشات کے احترام میں کہا جارہا ہے اور ظاہر ہے کہ نیک لوگوں کی بری خواہشات نہیں ہوسکتیں اس لیے شرارتیوں کے حصے کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 43:72یہ جنت اہل جنت کو فقط انعام کے طور پر نہیں بلکہ بطور حق دی جائے گی
72 ؎ مستعارلی ہوئی چیز سے بھی انسان فائدہ حاصل کرتا ہے اور انعام واکرام میں ملی ہوئی چیز سے بھی اور اس سے بھی جو انسان کی اپنی ملکیت ہوتی ہے لیکن اس بات کو ہر انسان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جو چیز ذاتی ملکیت میں آجاتی ہے اس میں ایک طرح سے وہ کسی کا احسان نہیں سمجھتا بلکہ بطور حق اس کو استعمال کرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو دئیے گئے ہو اور تم کو اس میں رہنے اور اس کی ساری چیزوں کے استعمال کرنے کا مکمل طور پر حق ہے لہٰذا تم اس کو بطور حق استعمال کرو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ مستعار ہے اور کسی وقت بھی تم سے واپس لی جاسکتی ہے بلکہ اس بات پر عزم وجزم رکھو کہ اب یہ حصہ جو تم کو دیا گیا ہے یہ تمہاری ملکیت ہے اور تم ہمیشہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے رہو نہ تمہاری زندگی ختم ہوگی اور نہ دی گئی چیز تم سے واپس لی جائے گی۔
Ayah 43:73اس میں تمہارے لیے ہر طرح کے پھل ہیں جو تم کھاسکتے ہو
73 ؎ جس جنت کا ایمان والوں کو وارث بنایا گیا ہے اس کے ماکولات ومشربات کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہاں اس کے پھلوں کا بیان بھی دیا جارہا ہے کہ کھانے کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے گا ان میں تمہارے لیے ہر قسم کے میوے اور پھل بھی موجود ہوں گے جو تم کو کثرت سے پیش کیے جائیں گے اور نہایت اعلیٰ قسم کے ہوں گے جن کو دیکھ کر آنکھیں لطف اندوز ہوں گی اور دل خوش ہوجائیں گے اور کھانے میں وہ بہت ہی لذیذ ہوں گے اور اس وقت کی جو چاہت ہوگی عین اس کے مطابق ہوں گے نہ محنت سے کمائی کرکے خریدنے پڑیں گے اور نہ ہی ہمت خرچ کرکے درختوں سے اتارنے پڑیں گے بلکہ خواہش پیدا ہوگی تو پیش کردئیے جائیں گے۔ یہ اس عیش و عشرت کی زندگی کا بیان ہے جو انسان کے دل کی گہرائیوں میں فطری طور پر موجود ہے دنیا میں جب یہ بعض کو میسر آتی ہے تو اس کو دیکھ کر دوسروں کو بھی خواہش ہوتیے اور اس خواہش کے پورا کیے جانے کا یہ بیان ہے اور بلاشبہ اس دنیا کی زندگی کا انحصار ہی امید پر قائم ہے اور اس امید کے لیے انسان بڑے بڑے کٹھن کام کر گزرتا ہے۔ اللہ کرے کہ کسی کی امید یاس میں نہ بدل جائے۔
Ayah 43:74مجرم دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل کیے جائیں گے
74 ؎ اوپر اہل ایمان ویقین کی بات ہورہی تھی کہ ان کو کیا کیا پیش کیا جائے گا اور کس طرح ان کو وافر رزق دیا جائے گا اور کیا کیا نعمتیں ان کو عطا کی جائیں گی اب مجرمین کا ذکر کیا جارہا ہے کہ وہ دوزخ کے عذاب میں پابند کیے جائیں گے اور وہاں سے جب وہ نکلنا چاہیں گے تو ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی کیونکہ جس طرح اہل جنت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہنا ہے اسی طرح بعض اہل دوزخ کو بھی ہمیشہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنا ہے اور ان کو اس سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے کہ دوزخ میں جانے کے لیے نہ تو کوئی تیار ہے اور نہ ہی کوئی امید رکھتا ہے کوئی اس کے باوجود کثرت سے لوگ اس میں جائیں گے اور بلاشبہ ناامیدی ان کے حصے میں آئے گی اور وہ کبھی اس سے رہائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 43:75یہ عذاب ان پر اس طرح مسلط ہوگا کہ کبھی اس سے رہائی نہیں پائیں گے
75 ؎ (یفتر) کا اصل مادہت ر ہے اور (یفتر) واحد مذکر مضارع مجہول منفی (تفتیر) مصدر (وز تفعیل ) کم نہیں کیا جائے گا ۔ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ یہ عذاب اہل دوزخ پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ اس سے نجات پانا تو درکنا اس میں کمی بھی نہیں کی جائے گی اور ان سے نالا بھی نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ اس میں بالکل مایوس پڑے رہیں گے اور کسی طرح کی کوئی امید کی کرن بھی نہیں رہے گی کہ شاید کسی طرح یا کبھی اس سے نجات حاصل کرلیں اور دنیا میں جتنے سہارے انہوں نے اس وقت کے لیے بنارکھے تھے وہ بھی ایک ایک کرکے ختم کردئیے جائیں گے۔ جس کی وضاحت عزوۃ الوثقی جلد 1 سورة القبرہ کی آیت 165 ، 166 میں کردی گئی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 43:76ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔
76 ؎ دوزخ میں وہ لوگ جس صورت حال سے دوچار ہوں گے وہ صورتحال خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کی ہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں کیا گیا کیونکہ جنت اور دوزخ انسان کے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوگی۔ ان کو بار بار سمجھایا گیا تھا کہ تمہارے اعمال جانوروں کے سے اعمال نہیں ہیں اس لیے کہ تم کو صاحب شعور پیدا کیا گیا ہے اور نیک وبد دونوں کی تمیز تم کو دی گئی ہے اور یہ محض اس لیے ہے کہ تم اپنے ارادہ سے برائیوں سے بچو اور نیکیوں کو اختیار کرو کیونہ اس عقل وفکر کے باعث تم مکلف قرار دئے و گئے اور تمہارے کیے کے مطابق تم سے سوال کیا جائے گا گویا اس طرح ان کو نیک وبد سمجھایا اور اس میں تمیز کے لیے عقل وفکر بھی دی لیکن ان لوگوں نے عقل وفکر سے کام لینے کی بجائے ظلم و زیادتی اور دھونس ودھاندلی سے کام لیا اور اب جبکہ ان کے کیے کا نتیجہ ان کے سامنے آیا تو اب چیختے اور چلاتے ہیں لیکن ان کے اس چیخنے اور چلانے سے کیا نتائج ان کو چھوڑ دیں گے ؟ ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ لوگ دارالعمل میں نہیں ہیں بلکہ اس وقت دارالجزاء میں کھڑے ہیں اور اپنے کیے ہوئے اعمال کے نتائج ان کے سامنے ہیں اور ان کے ظلم کا صلہ جنت کی صورت میں نہیں دیا جاسکتا یہ ہمارا قانون ہے جس کے لیے بدلنا نہیں ہے خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو۔
Ayah 43:77اہل جہنم ، جہنم کے داروغہ کے سامنے فریاد کریں گے اور وہ کہے گا کہ بس اس میں رہنا ہے
77 ؎ (یملک) سے جنت کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ کو بھی مراد لیا جاسکتا تھا لیکن آگے (ربک) کا لفظ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مالک کے لفظ سے اللہ تعالیٰ مراد نہیں لیا جاسکتا یہ کسی کا نام ہوسکتا ہے اور حدیث کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے داروغہ کا نام مالک ہے اور ظاہر کہ یہ کوئی فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔ اہل جہنم جب مکمل طور پر مایوس ہوچکیں گے اور دوزخ میں جھونک دئیے جائیں گے تو وہ دربار دوزخ سے کہیں گے کہ اگر ہماری معافی اور بخشش کی کوئی سبیل نہیں اور کوئی پروانہ آپ کے پاس اس طرح کا موجود نہیں ہے تو پھر اپنے رب سے گزارش کرکے ہمیں موت ہی دلا دو کہ اس زندگی تو موت ہی بہتر ہے لیکن وہ ان کو جواب دے گا کہ (انکم ماکثون) تم انتظار کرتے ہوئے اس جگہ ٹھہرے رہو۔ مکث کے معنی انتظار کرتے ہوئے ٹھہرے رہنے کے ہیں اور غالباً یہ اس لیے کہا جائے گا کہ انہی لوگوں میں ایسے بھی ہوں گے جن کو کچھ وقت تک خواہ وہ کتنے ہی سال ہوں یہاں رکھ کر نکال لینا بھی اس کے علم میں ہوگا اور یہ بات ہم صرف اس کے اس جواب دینے کے باعث کہہ رہے ہیں کیونکہ جو اس نے جواب دیا ہے اس میں یہ توجیہہ پائی جاتی ہے اور ساتھ ہی وہ اہل دوزخ پر ایک طرح یک گزری ہوئی زندگی کی وضاحت بھی کردے گا۔
Ayah 43:78ہماری طرف سے تم پر حق نازل کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ تم لوگ حق کو ناخوش سمجھتے تھے
78 ؎ داروغہ جہنم ان کو ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد مزید اپنی طرف سے یہ بات بھی کہے گا کہ اب تم اس طرح کی معذرت پیش کرتے ہو حالانکہ وہ وقت بھی تھا جب تمہار سامنے حقیقت کو کھول کھول کر رکھا جارہا تھا لیکن تم اس حقیقت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے جو تمہارے دلوں میں پہلے ہی جم چکی تھیں اور جن کو تم باپ دادوں سے سنتے چلے آرہے تھے تو ان پر تم سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے اور عملی زندگی کو درست کرنے کی بجائے موہوم آسروں اور سہاروں پر زندگی گزارنا پسند کرتے تھے یہ جواب ان کو اس فرشتہ کی طرف سے دیا جارہا ہے یا براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں صورتوں میں ایسا کہا جانا ممکن ہے کیونکہ جو اب اگر فرشتہ کی طرف سے دیا جا رہا ہے تو بھی بات اصل میں احکم الحاکمین ہی کی ہے اور بلاشبہ جو کچھ انسان کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی یہ مخلوق اس سے پوری طرح آگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ طاقتیں اور قوتیں اس کے حکم سے احکامات کو پھیلا اور سمیٹ رہی ہیں اور انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اس کا محفوظ ہوتا چلا جارہا ہے خواہ اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ ہے اور خواہ ہاتھ سے کیا ہوا کوئی عمل۔ اس کی وضاحت انشاء اللہ العزیز سورة ق میں آرہی ہے اور زیر نظر آیت کے بعد مضمون اچانک قریش مکہ کی طرف منتقل کردیا گیا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
Ayah 43:79اگر قریش نے کوئی قطعی فیصلہ کرلیا ہے تو ہم بھی اپنا فیصلہ کرنے ہی والے ہیں
79 ؎ اب مضمون کو نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخاطبین اول یعنی قریش مکہ اور اس وقت کے دوسرے لوگوں کی طرف پھیرا جارہا ہے کہ اگر ان سب لوگوں نے متفقہ فیصلہ کرلیا ہے کہ محمد ﷺ کو ٹھکانے لگادیا جائے اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا حل موجود نہیں ہے تو ہماری طرف سے بھی فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہ لوگ ہمارے رسول کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے اور وہ وقت عنقریب آنے ہی والا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کا منہ ہی دیکھتے رہیں گے اور ان کی ساری اسکیمیں ہم فیل کردیں گے۔ (ابرموا) اور (مبرمون) دونوں کا اصل ماہ ب ر م ہے اور اس کا استعمال صرف اسی جگہ ہوا ہے اور کہیں یہ لفظ یا اس کے مادہ کا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا۔ (ابرموا) انہوں نے مضبوط ارادہ کیا ابرام سے جس کے معنی مضبوط کردینے کے ہیں۔ اگر انہوں نے اس کا مضبوط ارادہ کرلیا ہے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ان کی اسکیم سے غافل ہیں ہم بھی ان کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ تم کو تمہاری اسکیم میں فیل کردیں گے اور تم کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکو گے اور اس اسکیم میں تم مکمل طور پر ناکام ہو کر رہو گے۔ تم نے جو کچھ کیا ہے خفیہ رکھنے کی کوشش کی ہے اور ہم تم پر اس بات کو قبل ازوقت واضح کر رہے ہیں تاکہ دنیا والے دیکھ لیں کہ اللہ کی اسکیم ہی کامیاب ہونے والی ہے۔
Ayah 43:80کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی سرگوشیوں سے ناواقف ہیں ؟
80 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخالفین ومعاندین کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ کیا تم لوگ یہ خیال کر بیٹھے ہو کہ جو باتیں تم چھپ چھپ کر کر رہے ہو ان کا ہمیں علم نہیں ہے اس لیے جو پروگرام تم بنا رہے ہو اس میں تم کامیاب ہوجائو گے ، نہیں اور ہرگز نہیں یہ تمہاری بھول ہے۔ تمہاری ہر حرکت ہمارے پاس نوٹ کی جارہی ہے اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے تمہاری ساری اسکیموں کو محفوظ کر رہے ہیں اور یہ کہ تمہاری ہر بات کا ریکارڈ ہمارے ہاں محفوظ ہے اور عین ممکن ہے کہ تم ایک بات یا کام کرکے بھول جائو لیکن ریکارڈ سے وہ حذف نہیں کیا جاسکتا اور یہ بھی کہ ہم تمہارے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہیں اس لیے تمہارا کوئی راز ہم سے پوشیدہ نہیں ہے پھر اس سے بڑھ کر جب ہم تمہارے خالق ہیں تو جو کچھ تمہاری تخلیق میں ہم نے داخل کیا ہے کیا وہ ہم سے پوشیدہ ہے ؟ پھر تم ہی بتائو کہ جب تمہاری کوئی حرکت بھی ہم سے پوشددہ نہیں ہے پھر اس سے بڑھ کر جب ہم تمہارے خالق ہیں تو جو کچھ تمہاری تخلیق میں ہم نے داخل کیا ہے کیا وہ ہم سے پوشیدہ ہے ؟ پھر تم ہی بتائو کہ جب تمہاری کوئی حرکت بھی ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور نہ ہی تم اس کو پوشیدہ رکھ سکتے ہو تو پھر تمہاری ان حرکتوں کا نقصن کس کو پہنچے گا۔ ظاہر ہے کہ تم ہی ہو کہ تم اپنا اعمال نامہ خواہ مخواہ سیاہ کر رہے ہو۔