Ayah 28:81قارون نے اپنا حصہ حاصل کرلیا اور اس کے بعد وہ اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا :
81۔ آخر کار جب قارون نے کبر ونخوت کے بڑھ چڑھ کر خوب مظاہرے کر لئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے دوسرے مسلمانوں کی تحقیر وتذلیل میں کافی زیادہ زور صرف کرلیا اور اپنے مال و دولت کے ڈھیروں سے آخرت کے لئے بہت سارا عذاب تیار کرلیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا ستا لیا کہ جتنا شاید ان کو فرعون بھی نہ ستا سکا تو اب غیرت حق حرکت میں آئی اور اس کو دی گئی مہلت اپنے اختتام کو پہنچ گئی تو انجام کار اس کو پاداش عمل کے فطری قانون نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور قارون اور اس کی دولت اور گھر بار پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ اٹل اور ناطق فیصلہ کردیا گیا کہ (آیت) ” فخسفنا بہ وبدارہ الارض “ ” ہم نے اس کو اور اس کے سارے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “ یعنی تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا اور بنی اسرائیل کی آنکھوں دیکھتے ہی دیکھتے نہ اس کا غرور باقی رہا اور نہ سامان غرور سب کو زمین نے نگل لیا اور وہ لوگوں کے لئے سامان عبرت بن گیا ، قرآن کریم نے تین جگہوں پر اس کا ذکر کیا ہے سورة المومنون کی آیت 24 ‘ سورة العنکبوت کی آیت 29 اور زیر نظر سورت القصص کی آیت 76 تا 82 میں ذکر کیا گیا ہے ۔ ہمارے مفسرین نے اس کے وجہ دھنسنے اور طریقہ دھنسنے کی داستانیں بہت لمبی لمبی کرکے لکھی ہیں اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لئے نیا سے نیا مواد فراہم کیا ہے جن میں موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام زنا اور اس کے خزانوں کو اس کے سر پر رکھنے اور پورے گھر کے سروسامان جن میں انسان ‘ حیوان سب موجود تھے پھر ان کی گنتی اور اقسام اور ان سب کو زمین کے نگل جانے کے بعد زمین کا آپس میں مل جانے کا ذکر بھی کیا ہے لیکن اتنی بات تو سب لوگ جانتے ‘ مانتے اور کہتے ہیں کہ ایسے ایسے کتنے لوگ تھے جن کو زمین نگل گئی اور کتنے ہی تھے جن کو آسمان اٹھا کرلے گیا ۔ پھر زمین کے نگلنے اور آسمان کے اٹھا لے جانے یا کھا جانے کو جب ہر جگہ ہر زبان میں ہر انسان استعمال کرتا ہے تو اس کے لئے کسی اچنبھے کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ اگر یہ داستانیں دیکھنے کا شوق ہو تو علمائے کرام کے وعظ ودرس اور متداول تفاسیر کے مطالعہ سے شوق پورا کرلیں لیکن اگر عبرت ہی حاصل کرنا مقصود ہے جب کہ یہی حاصل کرنا چاہئے تو اس کے لئے اتنی بات ہی کفایت کرتی ہے کہ اس کی ہلاکت سے اس کو اس کی دولت و ثروت ہرگز نہ بچا سکی اور بلاشبہ اس کی ہلاکت معذبین کی ہلاکت تھی ۔
Ayah 28:82کل قارون کے کروفر کو دیکھ کر کچھ کہنے والے آج کیا کہہ رہے ہیں ؟ :
82۔ اس کے انجام کے بعد کیا ہوا ؟ اب وہ لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے آج کہنے لگے افسوس ہم تو بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے ، گویا قارون کتنا ہی برا کیوں نہ سہی لیکن بندہ تو وہ بہرحال اللہ ہی کا تھا کیونکہ اس نے اس کو پیدا کیا تھا اور وہی اس کو رزق دینے والا تھا اور ظاہر ہوگیا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس قانون مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہیں اور اسے انعام دے رہا ہے اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اللہ کا نہایت ہی مغضوب ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو دولت کے انبار دے دیتا ہے اور پھر دیتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر کار یہی دولت اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا باعث ٹھہرتی ہے اور اس طرح اگر کسی شخص کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دینا چاہتا ہے اکثر اللہ کے نیک بندوں پر رزق کی تنگی رہتی ہے حالانکہ وہ فی الواقعہ نیک اور صالح انسان ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے نارض ہے اور اسے یہ سزا مل رہی ہے اس میں ایک بہت بڑی آزمائش پنہاں ہے اس ان لوگوں کے لئے بھی جو نیک اور صالح انسان ہونے کے باوجود رزق کی تنگی پاتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جو ان کے ساتھ بسے اور رہنے والے ہوتے ہیں ۔
بہرحال ان لوگوں نے جب قارون کے عذاب کا معاملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اتنی بڑی دولت و ثروت اس کے کچھ کام نہ آئی تو وہ کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں اس طرح دھنسا دیا گیا ہوتا افسوس ہم کو یاد ہی نہ رہا کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے اگرچہ وہ مال و دولت کی کتنی فراوانی رکھتے ہوں اور پیدا ہوتے ہی ان کے منہ میں سونے کی چمچ کیوں نہ ہو گویا وہ اس طرح کہہ رہے ہیں کہ بلاشبہ ہماری یہ غلط فہمی تھی کہ دنیوی خوشحالی اور دولت مندی ہی فلاح و کامرانی ہے اس وجہ سے ہم سمجھے بیٹھے تھے کہ قارون بڑی فلاح پا رہا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ، ہاں ! اب معلوم ہوگیا کہ حقیقی فلاح جس چیز کا نام ہے وہ کافروں کے حصہ کی چیز نہیں ہے کیونکہ لا عیش الا العیش الاخرہ ۔
Ayah 28:83حقیقی فلاح صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جو زمین پر بڑا نہیں بننا چاہتے :
83۔ بلاشبہ آخرت کا گھر اور سرفرازی ان کے حصے میں ہی آئے گی جو اس دنیا میں (علو) کے خواہش مند نہیں کیونکہ ان کی آنکھوں میں انسانیت کی قدروقیمت ہے اور انسانیت علو کو بھی پسند نہیں کرتی اور بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ انانیت انسانیت کے لئے کبھی خوبی نہیں ہوتی کیونکہ اس کو شیطان خوبی سمجھتا ہے اور خیال رہے کہ اس دنیا میں جو بھی بڑا بننے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں کے حقوق پامال کرکے انکے اموال کو غصب کرکے ہی سردار بن سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سرداری اللہ کے ہاں کب پسندیدہ چیز ہو سکتی ہے اور اس وقت آپ کی قوم میں جتنے سردار بنے ہیں وہ اسی طرح بنے ہیں کہ قوم کا مال کھا گئے اور اس قدر کھا گئے اور اس طریقہ سے کھا گئے کہ اب وہ کبھی اس کو اگل نہیں سکتے اور نہ ہی ان سے اگلوایا جاسکتا ہے بظاہر وہ اتنے بڑے ہیں کہ کوئی ان میں ملک کا صدر ہے اور کوئی وزیر اعظم کوئی وزیر اعلی ہے تو کوئی گورنر اور کتنے ہیں جو ان کے وزیر ومشیر ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھے منصب پر فائز ہونا ‘ زمام اقتدار سنبھال لینا معاشرہ میں کوئی معزز ومحترم مقام حاصل کرلینا ہی شاید اعزاز واکرام ہے اور اسی میں رزق اور آسائش و آرام کی فروانی ہے حالانکہ اس وقت فی زماننا یہ جتنے و ڈیرے اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ ہیں سب قوم کے غدار ہیں کیونکہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایک ہو جو قوم کا مقروض نہیں اور پھر قرض کھا کر اس طرح ڈکار مار گئے ہیں کہ گویا وہ انکا حق تھا جو انہوں نے ہضم کرلیا ۔
فرمایا کامیابی ان لوگوں کا حصہ نہیں بلکہ کامیاب وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس زمین میں کسی طرح کا فساد بیا نہیں کرتے نہ عقیدہ کا فساد اور نہ عمل کا فساد ہاں ! یہ لوگ جن پر اللہ کا فضل عنایات ہے وہ حال مست ہوتے ہیں قوت لایموت کو حق سمجھتے ہیں اور جو ان کو جائز طریقہ سے ملتا ہے وہ اپنا حصہ سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اگر ان کو مال دیا ہے تو وہ بےدریغ راہ خدا میں صرف کرتے ہیں اگر ان کے پاس اتنا نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئیں تو کسی طرح کا کوئی شکوہ ان کی زبان پر نہیں آتا وہ ہر حال میں امن ‘ صلح اور آشتی کے خواہش مند ہوتے ہیں اور بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کا گھر مقرر کردیا گیا ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اسلام کی زبان میں متقین کہا جاتا ہے اور بلاشبہ یہ لوگ جنت کے وارث قرار دیئے گئے ہیں ۔
Ayah 28:84قانون الہی میں نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور برائی کا بدلہ اتنا ہی جتنی اس نے برائی کی :
84۔ نیکی اور بدی کے بدلہ کا اصول جو عند اللہ مقرر کیا جا چکا ہے جس کے مطابق انسان کو آخرت میں بدلہ ملے گا اور اس دنیا میں بھی بلاشبہ نیکی وبدی کا بدلہ اس اصول کے تحت ملتا ہے لیکن یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ہے اس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نیکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ فضل کا ہوگا اور بدوں کے ساتھ بلاشبہ عدل ہوگا اور ظاہر ہے کہ عدل برابر بربر ہی کو کہا جاسکتا ہے برابر سے زیادہ ہوگا تو وہ احسان کہلائے گا ، برابر سے زیادہ دینا بھی جب عدل نہیں تو کم دینا تو بہرحال عدل نہیں ہوسکتا ۔ زیر نظر آیت میں اس اصول خداوندی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ برائی کے بدلہ میں عدل ہوگا اور نیکی کے بدلے میں احسان اور پھر احسان کی وضاحت یہ ہے کہ وہ کم از کم دس گنا دیا جائے گا اور زیادہ کے متعلق کوئی قید نہیں اور برائی کے بدلہ میں عدل سے تجاوز ممکن نہیں ہے اور عدل برابر ہی کا نام ہے ، اس کی وضاحت ہم نے سورة الانعام کی آیت 160 میں کردی ہے اس لئے بار بار اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں اگر وضاحت دیکھنا مطلوب ہو تو محولہ بالا آیت کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 28:85نبی اعظم وآخر ﷺ کو شاندار کامیابی کی بشارت الہی :
85۔ (معاد) کی اصل ع و د ہے اور عود کے اصل معنی ہیں ایک چیز سے پھرجانا یا اس کی طرف رجوع کرنا خواہ اپنی ذات سے ہو یا قول سے محض عزیمت سے (غ) اور معاد کے معنی لوٹنا بھی ہیں اور لوٹنے کا زمانہ ہے کہ آپ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان مخالفوں کی مخالفت کی پروانہ کریں جس اللہ نے آپ ﷺ پر اس قرآن کریم کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ اس کے فرائض کی ادائیگی کی راہ میں ہر قدم پر آپ ﷺ کی مدد فرمائے گا گویا (الرآدک) کے اندر ایک فیصلہ حتمی وقطعی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے اور پھر قبل از وقت کیا جا رہا ہے اور اس لئے کیا جا رہا کہ اس سے قبل بیشمار نبی ورسول آ چکے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو ہمیشہ کامیاب وکامران کیا ہے اس لئے آپ ﷺ کو بھی کامیاب کرنا اس کے قانون میں طے ہے ۔ اس اعلان کے بعد کہا گیا کہ اسے رسول ! ﷺ اب آپ ﷺ کو مخالفین سے مزید بحث کی ضرورت نہیں ان کی تحدی اور چیلنج کے طور پر آخری بات کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ہوا ہے ، راز ونیاز کی بات اس کو کہا جاتا ہے کہ راز میں کہنے والاکہہ دیتا ہے جو کچھ کہ کہہ دیتا ہے اور سمجھنے والا بلاشبہ وہی سمجھتا ہے جو کہنے والا کہہ رہا ہوتا ہے لیکن پاس بیٹھنے والوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کہنے والے کیا کہا ہے اور جس سے کہا گیا ہے اس نے کیسے سمجھ لیا ہے لیکن ذرا ذہن پر زور دے کردیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ فطری باتیں ساری اس رنگ میں ہوتی ہیں اور ان فطری باتوں کو ہر ایک انجام دیتا ہے کہنے والا کچھ کہتا ہے اور سمجھنے والا بھی بالکل وہی سمجھتا ہے اور اس میں کبھی خطا نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ بارہا دفع بیان کیا ہے کہ نبوت و رسالت ایک فطری چیز تھی اور علم الہی میں جس کو نبی ورسول بنانا منظور ہوتا تھا وہ یہ بات اس کی فطرت ہی میں رکھ دیتا تھا اور اس جگہ بھی اس جبلت کا بیان ہے کہ نبی ورسول کی جبلت ہی میں وہ ہدایت رکھ دی جاتی تھی جس کو ہدایت نبوت یا ہدایت رسالت کا نام دیا جاتا ہے اور اب وہ نبوت و رسالت کی طاقت وقوت نہ سہی لیکن انسانی ہدایت کا جہاں تک تعلق ہے وہ بعض انسانوں کی جبلت میں یقینا موجود ہوتی ہے بہرحال زیر نظر ؤیت میں راز کی بات جو کہی گئی وہ یہی ہے کہ آپ کو ہجرت کی پیشگی اطلاع دی گئی ہے اور پھر صرف ہجرت کی اطلا ہی نہیں دی گئی بلکہ ہجرت کے بعد فاتحانہ طور پر آپ کے اس جنم بھوم کی طرف واپس لانے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے جو بلاشبہ حرف بہ حرف پوری ہوئی ۔
Ayah 28:86جس بات کی امید نہ ہو وہ عطا کردی جائے تو یہ رحمت الہی نہیں تو اور کیا ہے ؟ :
86۔ یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت بیان کی جا رہی ہے کہ بلاشبہ ہر انسان میں اس کی جبلی چیزوں کو ودیعت کردیا جاتا ہے لیکن کیا ان کا اظہار روز اول ہی سے شروع ہوجاتا ہے ؟ ہرگز نہیں ہر بیج میں اس کا پورا درخت پنہاں ہوتا ہے لیکن وہ بیج ایسا لطیف و باریک بھی ہوتا ہے کہ ہر آنکھ اس کو دیکھ بھی نہیں سکتی ہو پھر جب وہ بیج ہی نظر نہیں آتا تو وہ پورا درخت وپودا کیا نظر آئے گا لیکن کیا حقیقت میں اس کے اندر وہ موجود بھی نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے تو اس کا اظہار کب ہوتا ہے جب اس کو وہ ماحول ملتا ہے اور اس ماحول میں وہ اکتا اور بڑھتا ہے اور پھر جوں جوں وہ بڑھتا ہے سب اس کو دیکھتے ہیں لیکن جب وہ پنہاں ہوتا ہے تو کسی کو بھی نظر نہیں آتا یہی فطری بیان اس جگہ کیا جا رہا ہے کہ جس نعمت نبوت و رسالت سے اب چالیس سال کی زندگی کے بعد آپ ﷺ کو نوازا جا رہا ہے اس کے متعلق آپ ﷺ جانتے ہی نہیں تھے کہ آپ ﷺ کو نبوت و رسالت سے سرفراز کیا جائے گا اور چونکہ نبوت و رسالت کوئی کسبی چیز نہیں ہے اس لئے کبھی آپ ﷺ نے اس کو طلب بھی نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس منصب کو حاصل کرنے لئے کبھی آپ ﷺ نے کوئی کوشش اور خواہش نہیں کی تھی اور نہ ہی یہ داعیہ کبھی آپ ﷺ میں پیدا ہوا لیکن چونکہ اللہ رب کریم نے اس کو آپ ﷺ کی جبلت میں رکھ دیا تھا اس لئے جب اس کا وقت آیا اور اس کو وہ ماحول میسر ہوا تو اس کا اظہار ہوگیا اب اس کو آپ کیا کہیں گے یہی کہ یہ خاص رحمت خداوندی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی طرف آپ ﷺ کو کھینچ لیا اور تم بھی ایسے تھے کہ اس کی طرف کھچے ہی چلے گئے اس طرح آپ ﷺ کو جو کچھ علاوہ ازیں ملا وہ بلاشبہ بن مانگے اور بن حاصل کئے مل گیا اور اس لئے کہ یہ عہدہ کسبی اور اختراعی نہیں ہے اب اس کا حق آپ پر کیا ہے ؟ یہی کہ آپ ﷺ کی ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر صرف ہوں ظاہر ہے کہ یہ ایک اتنا بڑا منصب ہے جو آپ ﷺ کو عطا کیا گیا ہے کہ جب مخالفین ومعاندین کو پتہ چلے گا تو دو ایک دفعہ آپ ﷺ کو ہلا دینے کیلئے اپنا پورا زور صرف کریں گے کہ یا تو اس پیغام سے آپ ﷺ کو باز رکھیں یا یہ کریں کہ آپ ﷺ کو مجبور کرکے مداہنت سے کام لینے کا کہیں تاکہ قدرے بات نرم ہوجائے کیونکہ ایسا ہوتا آیا ہے اس لئے آپ ﷺ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگ اپنے رسولوں میں ایسی کوئی امید لگائے بیٹھے ہوں ان کی ساری امیدوں پر اس طرح پانی پھیر دیتا ہے کہ وہ پھر کبھی اس طرح کی حرکت تو حرکت اپنے دل و دماغ میں بھی اس کا خیال نہ لاسکیں اور انجام کار تنبیہہ کہا جا رہا ہے کہ خبردار آپ کبھی ایسے منکروں کے مددگار نہ بنیں اور دل میں اس کا پختہ یقین رکھیں کہ جو عہدہ اللہ تعالیٰ بغیر طلب کے کسی کو عطا کردیتا ہے تو اس سے وہ اس کی مدد بھی ضرور کرتا ہے اور پھر جب یہ سنت اللہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اللہ وقت آنے پر آپ ﷺ کی مدد نہیں کرے گا ، بلاشبہ وہ آپ ﷺ کی ضرور مدد کرے گا لیکن یہ مدد بلاشبہ مشروط ہے اور یہ شرط محض تنبیہہ کے طور پر ہے وہ شرط کیا ہے ؟ یہی کہ قرآن کریم کے معاملہ میں مداہنت سے کام لینے والا ہمیشہ مجرموں کا ساتھ ہوتا ہے ، آپ ﷺ کو مخاطب کر کے یہ بات کیوں کی گئی ہے ؟ اس لئے کہ قرآن کریم آپ ﷺ کے دل اقدس پر نازل کیا گیا تھا لیکن دراصل یہ بات تو دنیا کے سارے لوگوں کو سنائی جا رہی ہے جو اس پر ایمان لانے کے دعویدار ہیں لیکن آج ہم کیا کر رہے ہیں ؟ ہمارے سارے کے مذہبی پیشوا قرآن کریم ہی کے بارے میں مداہنت سے کام لے رہے ہیں یا نہیں ۔ اس جگہ واضح طور پر سمجھ لو کہ مداہنت کیا ہے ؟ مداہنت خوشامد ‘ چرب زبانی ‘ جھوٹ ‘ جو دل میں ہو اس کے خلاف ظاہر کرنا اور سستی کو کہا جاتا ہے اور اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ العزیز سورة القمر میں ہوگی وہاں سے ملا حظہ کرلینا :
Ayah 28:87اللہ کی آیات سے آپ ﷺ کو کوئی روک نہ دے آپ ﷺ دعوت کو جاری رکھیں :
87۔ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی طرح پہلی آیت کی مزید وضاحت کے لئے ارشاد فرمائی گئی ہے کہ آپ کے مخالفین اے پیغمبر اسلام ! ﷺ خواہ کتنا ہی زور لگا دیکھیں لیکن یہ لوگ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں جن باتوں سے یہ لوگ چڑتے ہیں وہ آپ ﷺ احسن طریقہ کے ساتھ ان کے کانوں تک پہنچاتے رہیں آپ ﷺ سے یہ خوش نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے تو آپ ﷺ سے دست تعاون نہیں بڑھائیں گے تو آپ ﷺ کو ان کے دست تعاون کی آخر ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ آپ ﷺ کا یہ نجی اور تجارتی کام تو ہے نہیں کہ آپ ﷺ کا نقصان ہوگا ۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری فقط ابلاغ کی ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے آپ ﷺ کو اپنا کام کرتے جانا چاہئے بلاشبہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ان لوگوں کو راہ راست پر لگا دینا نہیں ہے کیونکہ لگا دینے کے معنی یہ ہوئے کہ کسی کو مجبور کر دیاجائے کہ وہ ضرور اور ضرور ایک کام کرے نہیں اور ہرگز نہیں آپ ﷺ کی ذمہ داری حق پہنچانے تک محدود ہے اور وہ ہر حال میں آپ ﷺ کو پہنچانا ہوگا ۔ جس طرح اوپر ذکر کیا گیا کہ یہ خطاب بلاریب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے لیکن دراصل یہ آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ ذمہ داری جو آپ ﷺ کو بتائی جا رہی ہے اور آپ ﷺ کے ذمہ لگائی جا رہی ہے وہ ہر اس شخص کے ذمہ عائد ہوتی ہے جو قرآن کریم کی تعلیم دیتا ہے اور اس ذمہ داری کو اپنے سرلینے کے لئے قبول کرتا ہے اور یہ تاکید بار بار اس لئے کہ جا رہی ہے کہ قرآن کریم کو بیان کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا بلاشبہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ آپ ذرا غور کریں تو بات ابھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے اس دنیا نے کوئی شخص اچھے اخلاق کا نہیں دیکھا ، آپ ﷺ سے زیادہ سچا اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا پھر جو حکمت وموعظت آپ ﷺ کو سکھائی گئی وہ اس دھرتی کے منہ پر کسی اور کو نہیں ودیعت کی گئی پھر صرف یہ باتیں کہنے ہی تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ ہی وہ انسان ہیں کہ اس دعوی سے قبل مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے ناموں سے موسوم کیا کرتے تھے لیکن جب آپ ﷺ پر یہ پیغام نازل ہوا اور آپ ﷺ بطور نبوت و رسالت کھڑے ہوئے تو پھر کیا ہوا انہوں نے آپ ﷺ کو مجنون کہا ، ساحر کے لقب سے ملقب کیا ‘ سحر زدہ بیان کیا ‘ شاعر ہونے کا الزام دیا اور آپ ﷺ کو جھوٹا اور مفتری بھی کہا گیا اور پھر صرف کہا ہی نہیں کیا بلکہ آپ ﷺ کو مجبور کیا گیا کہ آپ ﷺ اس کے بیان سے باز آجائیں ۔ اس کلام کو لوگوں کے سامنے مت پیش کریں ‘ ہمارے بزرگوں اور دوستوں کی توہین کے آپ ﷺ مرتکب ہو رہے ہیں اس ارتکاب سے باز آجائیں پھر جب آپ ﷺ ان باتوں سے باز نہ آئے تو آپ ﷺ سے مقابلہ کیا گیا ۔ مکہ سے نکال کر شعب ابی طالب میں بند کردیا گیا۔ آپ ﷺ کے مقابلہ میں کھڑے ہو کر عام قریش کی مجلسوں میں ” رجل مجنون “ کے نعرے بلند کئے گئے ، طرح طرح سے آپ ﷺ کو ستایا گیا ۔ آپ ﷺ کے راستہ میں کانٹے بچھائے گئے ‘ آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا ۔ آپ ﷺ کے دروازہ پر پلیدی اور ناپاکی کے ڈھیر پھینکے گئے آپ ﷺ کو بیت اللہ سے دھکے دے کر نکالا گیا لیکن آپ ﷺ نے قرآن کریم کا درس دینے میں ‘ اس پیغام کو ان تک پہنچانے میں ایک دن بھی سستی نہ دکھائی لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کو مخاطب کرکے پھر اس طرح ہدایت کی گئی جس کا ذکر آپ پڑھ چکے تو اس کا مطلب کیا نکلا ؟ یہی کہ دراصل یہ آپ ﷺ کی امت کے سارے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور تم نے اس کو کس طرح پورا کرنا ہے ۔ ایمانداری سے کہئے کہ اس پیغام کو بغیر مداہنت کے آج کا ملا لوگوں تک پہنچا رہا ہے ؟ کیا قرآن کریم کے پیغام پہنچانے پر بھی بھلا تنخواہ مل سکتی ہے اور اس کو بھی کسی طرح کا کاروبار بنایا جاسکتا ہے ؟ جس چیز کو کوئی شخص مفت حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو کیا اس کو کوئی پیسے دے کر خرید سکتا ہے ؟ کیا آج ملاں کی اذان وہی ہے جو بلال ؓ نے دی تھی ؟ کیا ملاں کا سجدہ وہی ہے رسول اور رسول کے سچے پیروکاروں نے ادا کیا تھا ؟ کیا آج اماموں کی قراءت وہی ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ سے کی تھی ؟ کیا قرآن کریم کی دعوت یہی ہے جو آج ملاں ہم کو دے رہا ہے ؟ کیا قرآن کریم مردوں پر پڑھنے کے لے آیا تھا ؟ کیا اس میں مردوں کو زندہ کرنے کا کوئی نسخہ تحریر ہے ؟ کیا قرآن کریم ہماری قسموں اور اس پر ہاتھ پھیر کر برکتیں حاصل کرنے کیلئے زندہ کرنے کا کوئی نسخہ تحریر ہے ؟ کیا قرآن کریم ہماری قسموں اور اس پر ہاتھ پھیر کر برکتیں حاصل کرنے کے لئے آیا تھا ؟ کیا اس قرآن کریم کو کبھی رسول اور اصحاب رسول نے بھی ان کاموں کے لئے استعمال کیا تھا جس پر آج ہم کر رہے ہیں ؟ کیا جس کام سے قرآن کریم نے ہم کو روکا تھا آج اس کام کو ہم نہیں کر رہے ؟
Ayah 28:88اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہرچیز کو فنا ہے مگر اللہ ہی کی ذات اس سے مستثنی ہے :
88۔ اب گزشتہ مضمون کی ساری آیتوں کا ایک بار پھر خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے تاکہ ایک بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ، ایک بات کو کم از کم تین بار دہرانا تو آپ ﷺ کا معمول زندگی تھا ۔ آپ ﷺ کی مجلس میں پہنچ کر اہل مجلس کو سلام بھی پیش کرتے تو تین بار کرتے تاکہ سارے لوگ اس سلام میں شریک ہوجائیں اس لئے اس بات کو جو پہلے کہی گئی پھر دہرائی گئی اور اب تیسری بار کہی جارہی ہے اور اس کا پیرایہ انداز پہلے سے زیادہ مختصر اور زیادہ ذو معنی اور بہت گہرائی میں اتر کر بیان کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے ساتھ کسی اور معبو کو مت پکاریں گویا یہی وہ بات ہے جس سے مشرکین کو اس وقت بھی چڑتھی اور بدقسمتی سے آج کے مشرکوں کو بہت زیادہ چڑ ہے اور یہی بات ہے جس کو اختیار کے طور پر پہلے نمبر پر دہرایا گیا فرمایا جا رہا ہے کہ ” اللہ کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارو کیونکہ اس کے سوا بلاشبہ اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا ہرچیز کے لئے فنا ہے اور اس کا حکم کار فرما ہے اور وہی ہے جس کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے ‘ ‘ خواہ کوئی امیر ہے یا غریب ہے ‘ بڑا ہے یا چھوٹا ہے عالم ہے یا جاہل ہے اور پھر فیصلہ کے تمام اختیارات بھی صرف اور صرف اسی کے پاس ہیں اور قیامت کے روز سب کی واپسی بھی اس ذات کی طرف ہے ‘ وہی سب کا مولا و مرجع ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا اہل ہو اب اس مضمون پر (سورۃ القصص) کو ختم کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ العزیز اسی سورة پر عروۃ الوثقی کی جلد ششم ختم ہو رہی ہے ۔ فالحمد للہ علی ذلک فنعم المولی ونعم النصیر :
عبدالکریم اثری :
ٹھٹہ عالیہ
جون 1997 ء :