28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ میں نے موسیٰ کو کتاب دی اس کے بعد کہ پہلی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا (وہ کتاب) لوگوں کی آنکھیں کھولنے والی تھی (جس میں) ہدایت اور رحمت تھی تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں

فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تاکہ بنی اسرائیل ہدایت پائیں : 43۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے مدمقابل کو تباہ وبرباد کرنے کے بعد جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تاکہ اب بنی اسرائیل کو آزمایا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں کیونکہ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اپنی آزمائش ہی کے لئے آیا ہے اور جو بھی اس کائنات کے نظام میں ابھری ہے ہم نے اس کو امتحان ہی کے لئے ابھارا ہے کہ یہ لوگ پہلوں کی پیروی کرکے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں گراتے ہیں یا سیدھی راہ اختیار کرکے جنت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ہم تو اپنی طرف سے ہر ایک کو امتحان میں اس لئے داخل کرتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو کر نکلے لیکن جو امتحان کی صحیح تیاری ہی نہ کرے اس کا کیا ہوتا ہے ؟ یہ سب کو معلوم ہے پھر اس دنیا میں تو بداعتدالیاں کرکے بھی انسان بعض اوقات وقتی کامیابی حاصل کرلیتا ہے لیکن آخرت میں اس دھاندلی کا کوئی تصور موجود نہیں اگرچہ ہمارے علمائے کرام نے اس کے لئے بیسیوں پکھنڈ بنارکھے ہیں کہ تم جیسے کیسے بھی ہومر کر دیکھو بخشوا ہم لیں گے حالانکہ ان پیٹ کے پجاریوں کی ایک بات بھی صحیح نہیں بلکہ ایک سے ایک بڑھ کر غلط ہے جو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگیا اس سے کس کو جرات ہے کہ کوئی اس کو چھڑا لے ۔ بلاشبہ اس میں بنی اسرائیل کے لئے بہت بڑی عبرت تھی لیکن انہوں نے بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان میں بھی نصیحت پکڑنے والے بہت کم ہی لوگ نکلے ‘ فرمایا اس کتاب میں کیا تھا جو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی ؟ پھر جوابا ارشاد فرمایا کہ اس میں لوگوں کے لئے بصیرت افروز باتیں اور سراسر ہدایت ہی تھی لیکن بصیرت ہدایت کو کوئی حاصل کرنے کے لئے بھی تیار ہو۔ اندھے پن کے شوقین روشنی ہی کو تو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ مغرب کی جانب تو نہ تھے ، جب موسیٰ کی طرف ہم نے حکم بھیجا اور آپ ﷺ دیکھنے والوں میں بھی نہ تھے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اس وقت پاس نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو فرمان شریعت دیا تھا : 44۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ جو اتنا صحیح ‘ صاف اور واضح واقع موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ اس وقت جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کی مغربی جانب سے یہ کتاب دے رہے تھے آپ کہیں موجود تھے نہیں نہیں بلکہ یہ باتیں آپ ان لوگوں کو اس لئے بتا رہے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے (آیت) ” وما کنت من الشھدین “۔ کے الفاظ سے ہمارے ان بھائیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے ہر جگہ حاضر وناظر کا گمراہ کن عقیدہ رکھتے ہیں جو کھلا شرک ہے کہ ” آپ ﷺ تمام موجودات و مخلوقات اور انکے جمیع احوال کو بتمام و کمال جانتے ہیں ، ماضی حال ‘ مستقبل میں کوئی شے کسی حال میں ہوں ہو حضور ﷺ سے مخفی نہیں “ (تسکین الخواطرص 65) غور کیجئے کہ کس طرح قرآن کریم کی آیت کا کھلا اور واضح انکار کیا جا رہا ہے لیکن اپنے مکتبہ فکر کی حمایت میں ان لوگوں کو سب کچھ کرنا جائز ہے لہذا وہ عیسائیوں کے قدم بہ قدم چلنے سے کبھی گریز نہیں کریں گے ، علم غیب کی نفی میں یہ پہلی آیت نہیں بلکہ اس پہلے متعدد مقامات پر یہ بحث گزر چکی ہے اور خصوصا نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرما کر سورة آل عمران کی آیت 44 ‘ سورة یوسف کی آیت 102 ‘ سورة ہود کی آیت 49 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے اس لئے اس جگہ اشار کردیا گیا ہے اور اس اشارہ پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

اور ہم نے کئی اور بھی امتیں پیدا کیں پھر ان پر بھی ایک مدت گزر گئی اور نہ آپ ﷺ اہل مدین کے ساتھ سکونت پذیر تھے کہ ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں

موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ملنے کے بعد بھی ایک لمبے زمانے تک آپ کا نام ونشان موجود نہ تھا : 45۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دینے کے بعد بھی ہم نے بہت سی قومیں پید اکیں اور بنی اسرائیل کی کئی نسلیں گزر گئیں اور کتنے نبی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پیدا کئے اور مبعوث کئے آپ ﷺ کے پاس ان واقعات کے حصول کا براہ راست تو کوئی ذریعہ نہیں تھا آج جو آپ ﷺ ان لوگوں کو گزشتہ واقعات سنا رہے ہیں اور اس طرح ان کو عزم وجزم کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو یہ سب کچھ کیسے کیا جا رہا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) جو مدت مدین میں رہے ہیں آپ ﷺ ان کے ساتھ تو وہاں موجود نہیں تھے بلکہ اس وقت تو آپ ﷺ کا نام ونشان بھی نہیں موجود تھا ہاں ! ان ساری خبروں کو بتانے والے تو ہم ہیں اور ہم آپ ﷺ پر وحی کر رہے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان لوگوں تک حقیقی اور صحیح واقعات پیش کریں اور یہی واقعات بیان کرنا آپ ﷺ کی رسالت کی کھلی شہادت ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائے گئے واقعات آپ ﷺ ان کو پڑھ کر سنا رہے ہیں اگر ان میں ذرا بھی عقل و شعور سے کام لینے والے موجود ہوتے تو وہ آپ ﷺ کی رسالت ونبوت کا انکار کیوں کرتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ عقل وفکر نام کی کوئی چیز ان کے پاس موجود ہی نہیں ۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ آپ ﷺ کوہ طور کے کنارے اس وقت تھے جب ہم نے آواز دی لیکن یہ آپ ﷺ کے پروردگار کی رحمت ہے (کہ اس نے آپ ! ﷺ کو ان باتوں سے خبردار کردیا) تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہی آیا ، کیا عجب ہے کہ وہ نصیحت قبول کریں

بلاشبہ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا آپ ﷺ اس وقت بھی ان کے ہمراہ نہیں تھے : 46۔ زیر نظر آیت تیسری آیت ہے جن آیات میں بار بار بیان کیا جا رہا ہے کہ انبیائ کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کو علم غیب نہیں ہوتا بلکہ وہ وہی بات جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کو بتا دیتا ہے اور جو بات کسی کی طرف سے بتائی گئی ہو وہ غیب نہیں ہوتی بلکہ غیب کی تعریف میں یہ بات ہے کہ بغیر کسی کے بتائیے اور عطا کئے گئے خود بخود جانا جائے اور یہ صفت بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے خاص ہے ہم جو غیب پر یقین رکھتے ہیں اس کا مطلب ومفہوم بھی یہی ہے کہ ان باتوں کو ہم نہیں جانتے لیکن ان کی نوعیت سے ہم واقف نہیں ہیں یہی بات اس جگہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے کہی جا رہی ہے کہ جس طرح تم موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دیئے جانے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے اس طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں رہ رہے تھے تو آپ ﷺ ان کے ساتھ وہاں موجود نہیں تھے اور پھر جس طرح مدین میں موجود نہیں تھے بالکل اسی طرح طور کے پہلو میں موجود نہیں تھے جب تم نے موسیٰ کو آواز دی تھی اور اس آواز کا ذکر پیچھے اس سورت کی آیت 30 میں ذکر کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ تو تمہارے پروردگار کی رحمت خاص ہے کہ آپ ﷺ کو یہ معلومات دی گئی ہیں تاکہ آپ ﷺ ان لوگوں کو متنبہ کریں جن کے پاس پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں ، بلاشبہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ایک مدت مدید تک ان لوگوں کے پاس کوئی براہ راست ڈرانے والا نہیں آیا تھا اور اسمعیل (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) کو آئے ہوئے ہزاروں سال گزر چکے تھے کہ اس خطہ کو براہ راست نبوت و رسالت کو آئے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا اس لئے اس کی مطلق نفی کردی کہ ” ان لوگوں کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا “ کیونکہ ان لوگوں کی کئی نسلیں ان انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد گزر چکی تھیں معلوم ہوا کہ اس طرح کی نفی خلاف واقع نہیں ہوتی ۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبراسلام ! ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان پر ان کی (بداعمالیوں) کے سبب سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں کوئی مصیبت آپڑے تو یہ لوگ کہنے لگیں کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے

اگر قریش کی ہلاکت ہی ضروری ہوتی تو ہم بغیر آپ ﷺ کی بعثت کے بھی ہلاک کردیتے : 47۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل وفکر اور سمجھ وسوچ کی صلاحیتیں دی ہیں اگر کوئی شخص ان سے کام نہ لے تو اتنی بات بھی اس کو سزا دینے کے لئے کافی تھی لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ایسا نہیں کیا بلکہ ہر قوم کے پاس کوئی نہ کوئی نذیر ضرور بھیجا تاکہ مزید اتمام حجت ہوجائے اور ان کے لئے کوئی عذر وبہانہ نہ رہے پھر ہر نبی ورسول کو اس قوم میں سے بھیجنے کی ضرورت بھی یہی تھی کہ وہ قوم کے سامنے بطور نمونہ پیش ہو اور ان میں رہ کر ان ساری باتوں پر عمل کرکے ان کو دکھا دے کہ ان باتوں اور ان ہدایتوں کے مطابق زندگی گزاری جاسکتی ہے بلکہ اس طرح زندگی گزارنی چاہئے اور جب ان کا کوئی عذر اس طرح کا نہ رہا اور انہوں نے وقت کے نبی ورسول کی مخالفت میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو پھر ان کو اس نبی ورسول کے ذریعہ وارننگ دی گئی کہ وہ ان حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ ان کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا پھر جب انہوں نے نبی ورسول کی آواز پر بھی کان نہ دھرا تو انکو ان کی ہلاکت کا وقت بتا دیا گیا کہ اتنا وقت تمہارا باقی رہ گیا ہے اور پھر عین اس وقت پر ان کو پکڑ لیا گیا خواہ وہ اس وقت کو بغیر رسول بھیجے پکڑنا چاہتے تو پکڑ لیتے لیکن اس وقت تم کہتے کہ اے پروردگار ! تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں شمار کئے جاتے ، اب ہم نے تمہارے اس عذر کو توڑ دیا ہے اور اپنا رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو خاتم النبیین بھی ہیں روانہ کرکے تم کو اطلاع کردی ہے اور اگر اب تم نے بھی گزشتہ قوموں کی طرح وہی کچھ کیا جو گزشتہ قومیں کرتی آئی ہیں تو یقینا تمہارا بھی حشر وہی ہوگا جو ان کا ہوچکا ۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق پہنچا تو کہنے لگے کہ اس کو وہ کیوں نہ ملا جو موسیٰ کو ملا تھا ، کیا جو (حق) موسیٰ کو عطا ہوا تھا اس سے قبل یہ لوگ اس کے منکر نہیں ہوئے ، وہ کہتے رہے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں (اور) ایک دوسرے کے معاون اور کہنے لگے کہ ہم دونوں (ہی کو) نہیں مانتے

جب ہم نے حق نازل کیا تو وہ طرح طرح کے بہانے بنانے لگے : 48۔ جب ہم نے اپنی طرف سے حق ان لوگوں پر نازل کیا یعنی کتاب نازل کی اور اپنا رسول ان کی طرف بھیجا اور بلاشبہ ہماری کتاب بھی حق تھی اور ہمارا رسول بھی حق تھا تو انہوں نے ایک عجیب سوال کھڑ اکر دیا وہ کہنے لگے کیوں نہ دیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا حالانکہ جو کچھ ان پر نازل کیا گیا تھا وہ اتمام حجت کے لئے بہت تھا بلکہ اس سے بہت بڑھ کر تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی غور نہیں کیا تھا اور صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں تو جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور یہ کہ ہم ان کی لائی ہوئی تعلیم اور ان کے پیش کئے گئے کھلے دلائل پر ایمان لانے سے بالکل انکار کرتے ہیں ، غور کرو کہ مکہ والوں کو یہ اعتراض ہے کہ یہ رسول وہی کچھ نہیں لایا جو موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا اور جو موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا اس کی قوم نے جب اس کو ملاحظہ کیا تو فورا وہ پکاڑ اٹھے کہ یہ دونوں تو کھلے کھلے جادوگر ہیں اور جادو کو یہ اللہ کا کلام اور اللہ کا فعل قرار دے رہے ہیں اگر ان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ وہ چیز ہی نہیں دیا گیا جو موسیٰ (علیہ السلام) دیا گیا تو ان لوگوں نے یہ کیوں نہیں سنا کہ موسیٰ کے لائے ہوئے کو بھی اس کی قوم نے ماننے سے انکار کردیا تھا پھر جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی بہتر لایا گیا تو کیا انہوں نے اس کو مان لیا ؟ نہیں بلکہ اس کو بھی ماننے سے انکار کردیا اور جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے کا انکار موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کیا اسی طرح یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ پر اتارے گئے کلام کا انکار کر رہے ہیں گویا دونوں جماعتیں اب عمل میں بھی برابر ہیں اور نظریہ میں بھی تو پھر کیوں نہ ان لوگوں کو بھی وہی کچھ پیش آئے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو پیش آچکا ۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ فرما دیجئے کہ کوئی کتاب اللہ کے پاس سے لے آؤ جو ان دونوں ( قرآن کریم اور توراۃ) سے بہتر ہو تو میں اس کی پیروی کروں ، اگر تم سچے ہو

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر یہ آپ ﷺ کی پیروی نہیں کرتے تو ان سے کہو کہ تم بھی کچھ پیش کر دو : 49۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور طرح طرح کی کٹ حجتیاں پیش کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ تم کوئی ایسی چیز پیش کر دو جو قرآن کریم سے وہ اور تورات سے بھی زیادہ ہدایت دینے والی ہو تو میں اس کو مان لیتا ہوں اور اس کی پیروی کرتا ہوں کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کی پیروی کرنا ہے ضد سے کام لینا قطعا نہیں کہ میں ایک کو مانوں اور دوسری کا انکار کر دوں اگر میں نے اس ہدایت کو گھڑ لیا ہے تو تم بھی گھڑ کرلے آؤ اور اگر مجھ پر اللہ نے یہ اتاری ہے تو تم سمجھتے ہو کہ تم پر بھی اللہ اتار دے گا تو جلدی کرو کہ اس طرح کی ایک کتاب تم بھی پیش کر دو لیکن یہ بات نہ ممکن تھی نہ ہوئی ، محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو نہ ماننے والوں کو ایک بات کرنا تھی وہ انہوں کردی اور صحیح اور غلط سے ان کو بحث ہی کیا ہے ان کو ضد سے کام ہے اور وہ کبھی نہیں چھوڑیں گے اس طرح جب ان کے سوال کو بند کردیا گیا تو وہ بغیر سوچے سمجھے اس طرح بولنے لگے کہ ” ہم نہ اس کتاب کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسری کتاب کو جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہے ، کاش دیکھنے والا انہیں اس حالت میں دیکھے جب وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے کھڑے ہوں گے اور اس وقت ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تردید کر رہا ہوگا کمزور عوام اپنے لیڈروں اور گمراہ پیروں کو جو از خود بڑے بنا پھرا کرتے تھے برملا کہیں گے کہ کم بختوتم نے ہمیں گمراہ کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے اور اس رسوائی کا منہ نہ دیکھتے ۔ “ ( سورة سبائ 34 : 31)
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ ﷺ کا کہنا قبول نہ کریں (جواب نہ دیں) تو جان لیجئے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشوں پر چلے ، بلاشبہ (ظالم) بےانصاف لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا

اگر وہ آپ ﷺ کا مطالبہ پورا نہیں کرتے تو بات خود بخود واضح ہوجاتی کہ وہ کیا چاہتے ہیں : 50۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر یہ لوگ آپ ﷺ کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیتے تو پھر آپ ﷺ کو یقین ہوجانا چاہئے کہ ان لوگوں کا حق سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دلوں میں حق کی کوئی طلب ہے یہ لوگ محض اپنی خواہشات نفسانی کے پیروکار ہیں ، ان کے سامنے ایک دو نہیں بیسیوں دلائل بھی پیش کئے جائیں تو یہ لوگ اسلام قبول نہیں کریں گے اور اسی طرح یہ اپنی خواہشوں کے بندے ہیں اگر آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو نہ مانیں تو آپ ﷺ رنجیدہ خاطر نہ ہوں جو شخص اپنی خواہشات کے ہاتھوں مجبور محض ہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا ؟ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا جو اپنے نفع ونقصان کو بھی نہ سمجھے اسے کوئی سمجھائے گا تو کیا اور وہ سمجھے گا تو آخر کیوں ؟
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم اپنا کلام ( قرآن کریم سے قبل بھی) ان لوگوں کے لیے پے درپے بھیجتے رہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں

ہم نے ان کی تفہیم کے لئے پے درپے ان کو چونکانے کی کوشش کی ہے : 51۔ ہم نے تو اس قرآن کریم میں تصریف آیات کے ذریعہ ان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن سوئے ہوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے جاگتے کو آخر کون جگائے جب کہ وہ خود جاگنا ہی نہ چاہئے یہ بات مکہ کے رہنے والوں کی ہے کہ ہم نے ان کو سمجھانے کے لئے کون سی کوشش ہے جو نہیں کی لیکن جب تک وہ خود سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ان کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے ۔ ہدایت تو اسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑے اور تعصبات سے دل کو پاک کرکے سچائی کو سیدھی طرح قبول کرنے کے لئے تیار ہو کسی شخص کو مجبور کر کے سنانا اسلام کا حصہ کب ہے ؟
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب اس ( قرآن کریم) سے قبل دی تھی وہ اس پر ایمان (بھی) رکھتے ہیں

جن لوگوں نے پہلی کتاب کو دل سے مانا وہ یقینا قرآن کریم کی ہدایت کو بھی قبول کریں گے : 52۔ غور کرو کہ آج ہم سے کون ہے جو دعویدار اسلام نہیں ہے ہر ایک کو اسلام کا دعوی ہے اور ہر ایک کا دعوی دوسرے سے بڑھ کر ہے لیکن اگر صرف دعوی ہی کا نام اسلام نہیں تو پھر دیکھنا ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس دعوی میں سچے ہیں ۔ ایک بچہ کی پیدائش سے لے کر قبر کی دیواروں تک اسلام کی ہدایات کا ایک ایک کرکے مطالعہ کرتے جاؤ اور غور سے دیکھتے بھی جاؤ کہ کیا ہمارا کوئی کام اسلام کی ہدایت کے مطابق بھی ہے سوائے چند ایک رسوم کے جن کو اسلام کا نام دے لیا گیا ہے باقی سب وہی چلتا ہے جو باقی دنیا کی قومیں کر رہی ہیں ہمارے اجتماعی کام ہوں یا انفرادی کام اسلام کی راہ سے صاف صاف ہٹے ہوئے ہیں لیکن ہمارے دعوی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی حال یہود کا تھا جب قرآن کریم نازل ہوا اور یہی حال اس وقت انجیل کا بھی تھا ان کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ جو لوگ سچے دل سے تورات وانجیل کو مانتے ہیں وہ تو یقینا قرآن کریم کے نازل ہوتے ہی اس کو بھی مان گئے اور قرآن کریم کو جن لوگوں نے نہیں مانا بلاشبہ ان کا ایمان پہلی کتابوں پر بھی برائے نام ہی ہے کیونکہ ان کا عمل اس کا ثبوت فراہم نہیں کرتا اور آج یہی حال قرآن کریم پر ایمان رکھنے والوں کا ہے ہم میں بھی بہت ہی کم ہیں جو صحیح معنوں میں اس قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہوں کیونکہ عمل جو کچھ بتاتا ہے وہ تو یہی ہے بلاشبہ قرآن کریم کے نزول کے وقت جن لوگوں کا ایمان تورات وانجیل پر تھا انہوں نے فورا اس کی ہدایت کو قبول کرلیا کیونکہ اس نے ان کی کتابوں کی تصدیق کی تھی اور اس کا نزول اور مبعوث ہونے والے نبی کی ایک ایک علامت ان کی کتب آسمانی میں موجود تھی اس لئے وہ مجبور محض تھے کہ قرآن کریم کو مانیں کیونکہ قرآن کریم کو ماننا ان کی اپنی کتابوں کو ماننے کے مترادف تھا اور قرآن کریم کا انکار ان کی اپنی کتابوں کا انکار تھا ۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان پر یہ ( قرآن کریم) پڑھا جاتا ہے وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بلاشبہ یہ ہمارے رب کی طرف سے ہے (جو بالکل برحق ہے) ہم تو اس سے پہلے ہی فرمانبردار تھے

جن لوگوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ قرآن کریم کو سنتے ہی ایمان لے آتے ہیں : 53۔ زیر نظر آیت میں بعض لوگون نے ایمان لانے کی خبر دی جا رہی ہے جن لوگوں نے قرآن کریم کو سنتے ہی اس کی سچائی کو قبول کرلیا اور بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اس سچائی کو کیوں قبول کیا ؟ اس لئے کہ ان کے دلوں میں پہلے ہی ایمان ویقین کی دولت موجود تھی اور سچائی نے سچائی کو دیکھتے ہی قبول کرلیا بلاشبہ ایسے لوگ عیسائیوں میں بھی موجود تھے اور یہودیوں میں بھی تھے اگرچہ بہت کم تھے یہود کی مثال دینے کے لئے عبداللہ بن سلام ؓ کا نام گرامی لیا جاسکتا ہے اور عیسائیوں کی مثال کے لئے نجران سے آنے والے بعض وفود کا ذکر بھی گزر چکا ہے اس لئے کہ دراصل ان کی اپنی کتابوں میں نبی اعظم وآخر ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں موجود تھیں اس لئے انہوں نے جب نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو انہوں پیش گوئیوں کے پیش نظر قرآن کریم اور خود نبی کریم ﷺ کو اللہ کا سچا رسول مان لیا اور بعد میں انہوں نے دین اسلام کی بہت خدمت کی اور اسلام میں بہت بلند مقام حاصل کیا ، قرآن کریم نے ان کے ایمان کی خبر دیتے ہوئے جو جملہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” انا کنا من قبلہ مسلمین “۔ بلاشبہ ہم تو پہلے ہی فرمانبردار تھے یہ جملہ اس بات کی صاف صراحت کرتا ہے ‘ اسلام صرف اس دین کا نام نہیں ہے جسے نبی اعظم وآخر ﷺ لے آئے ہیں اور اس طرح ” مسلم “ کی اصطلاح کا اطلاق محض رسول اللہ ﷺ کے پیروؤں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء ورسل کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانے میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے لیکن تعجب ہے کہ بعض بڑے بڑے اہل علم بھی اس حقیقت کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں حتی کہ اس صریح آیت کو دیکھ کر بھی ان کو اطمینان نہیں ہوا اور انہوں نے اس مقام پر رک کر قلم رکھ دیا کیونکہ ان کے اپنے بیان کے مطابق اس آیت کو دیکھ ‘ پڑھ اور سمجھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے لیکن ذرا سنبھلے تو پھر دلائل اس رخ پر بیان کرنے سے شروع کردیئے جس رخ پر پہلے چل رہے تھے کہ اکثریت کا خوف دامن گیر ہوگیا ۔ حالانکہ قرآن کریم نے صرف اس جگہ یہ اشارہ نہیں دیا بلکہ اس کی بہت وضاحت کی ہے بلکہ اس کو قرآن کریم کی دعوت کی سب سے پہلی بنیاد بتایا ہے کہ وہ جو کچھ بھی بتلانا چاہتا ہے تمام تر اس اصول پر مبنی ہے اگر اس اصل سے قطع نظر کرلی جائے تو اس کا تمام کارخانہ دعوت درہم برہم ہوجائے ، لیکن تعجب ہے کہ جس درجہ قرآن کریم نے اس اصل پر زور دیا تھا اتنا ہی زیادہ لوگوں کی نگاہوں نے اس سے اعراض کیا اور بلاشبہ آج کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بات بھی دنیا کی نظروں سے اس درجہ پوشیدہ نہیں ہے جس قدر کہ یہ اصل عظیم ، اگر ایک شخص ہر طرح کے خارجی اثرات سے خالی الذہن ہو کر قرآن کریم کا مطالعہ کرے اور اس کی صفات میں جا بجا اس اصل عظیم کے قطعی اور واضح اعلانات پڑھے اور پھر دنیا کی طرف نظر اٹھائے جو قرآن کریم کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں سمجھتی کہ بہت سی مذہبی گروہ بندیوں کی طرح وہ بھی ایک مذہبی گروہ بندی ہے تو یقینا وہ حیران ہو کر پکار اٹھے گا کہ یا تو اس کی نگائیں اسے دھوکا دے رہی ہیں یا دنیا ہمیشہ آنکھیوں کھولے بغیر ہی اپنے فیصلے صادر کردیا کرتی ہے ، اس حقیقت کی توضیح کے لئے ضروری ہے کہ ایک مرتبہ تفصیل کے ساتھ یہ بات واضح کردی جائے کہ جہاں تک وحی ونبوت کا یعنی دین اسلام کا تعلق ہے قرآن کریم کی دعوت کیا ہے اور وہ کس راہ کی طرف نوع انسانی کو لے جانا چاہتی ہے ؟ بلاشبہ قرآن کریم کی دعوت یہ ہے کہ دین صرف اور صرف اسلام (اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی فرمانبرداری ہے) اور اللہ کی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا دین ہی نہیں ہو سکتا اور آغاز آفرنیش سے جو نبی بھی انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے وہ یہی دین لے کر آیا ہے اور یہ کہ انبیاء ورسل (علیہم السلام) خود مسلم تھے اور اپنے پیروؤں کو انہوں نے ہمیشہ مسلم ہی بن کر رہنے کی تاکید کی ہے اور انکے وہ سب ماننے والے جنہوں نے نبوت و رسالت کو تسلیم کیا اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے آگے سرتسلیم خم کیا وہ ہر زمانے میں مسلم ہی تھے اور اس سلسلہ میں ہم پیچھے ہر مقام پر وضاحت کرتے چلے آرہے ہیں اگر وضاحت چاہتے ہوں تو سورة آل عمران کی آیت 19 کی طرف رجوع کریں جہاں اعلان کیا گیا ہے کہ ” بلاشبہ دین اللہ کے نزدیک ” اسلام “ ہی ہے “ اور پھر اس کی مزید وضاحت اسی سورت آل عمران کی آیت 85 میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ ” اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کا خواہش مند ہوگا تو وہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔ “ یہ بات تو سب کو مخاطب کرکے بیان فرمائی گئی اور پھر ہر نبی ورسول (علیہ السلام) سے اس بات کا اعلان کرا دیا گیا کہ میں خود مسلم ہوں اور اسلام کی لے کر آیا ہوں چناچہ نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں : (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ وامرت ان اکون من المسلمین “۔ (یونس : 72) ” میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلموں میں شامل ہو کر رہوں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے متعلق ارشاد ہوتا ہے : (آیت) ” إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (131) وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (132) أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِیْ قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـہَکَ وَإِلَـہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـہاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (البقرہ : 131 تا 133) ” جبکہ اس کے رب نے اس سے کہا کہ مسلم (تابع فرمان) ہوجا ‘ تو اس نے کہا میں مسلم ہوگیا رب العالمین کے لئے اور اسی چیز کی وصیت کی براہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند کیا ہے لہذا تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آیا ؟ جبکہ اس نے اپنی اولاد سے پوچھا کس کی بندگی کرو گے تم میرے بعد ؟ انہوں نے جواب دیا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی اس کو اکیلا معبود مان کر اور ہم اسی کے مسلم ہیں ۔ (آیت) ” ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما “۔ (آل عمران : 67) ” ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلم تھا ۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسمعیل (علیہ السلام) خود دعا مانگتے ہیں : (آیت) ” ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “۔ (البقرہ : 28) ” اے ہمارے رب ! ہم کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک امت پیدا کر جو تیری مسلم ہو۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصے میں ارشاد ہوتا ہے : (آیت) ” فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین “۔ (الذاریات : 36) ” ہم نے قوم لوط کی بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں : (آیت) ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین “۔ (یوسف : 101) ” مجھ کو مسلم ہونے کی حالت میں موت دے اور صالحوں کے ساتھ ملا۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ : (آیت) ” یقوم ان کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین “۔ (یونس 10 : 84) ” اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر تم مسلم ہو ۔ “ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کا اصل دین مذہب یہودیت نہیں بلکہ اسلام تھا ، اس بات کو دوست اور دشمن سب جانتے تھے چناچہ فرعون سمندر میں ڈوبتے وقت آخری کلمہ جو کہتا ہے وہ یہ ہے : (آیت) ” امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بیہ بنوا اسرآئیل وانا من المسلمین “۔ (یونس 10 : 90) ” میں مان گیا کہ کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلموں میں سے ہوں “۔ اس طرح تمام بنی اسرائیل کا دین بھی یہی اسلام تھا : (آیت) ” انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا “۔ (المائدہ 5 : 44) ” ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اس کے مطابق وہ جو مسلم تھے ان لوگوں کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے جو یہودی ہوگئے تھے ۔ “ اور بلاشبہ یہی سلیمان (علیہ السلام) کا دین تھا چناچہ ملکہ سبا ان پر ایمان لاتے ہوئے کہتی ہے : (آیت) ” اسلمت مع سلیمان للہ رب العلیمین “۔ (النمل 27 : 44) ” میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کے ساتھ ایمان لائی ۔ “ اور یہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواریوں کا بھی تھا چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” واذ اوحیت الی الحواریین ان امنوا بی وبرسولی قالوا امنا واشھدباننا مسلمون “۔ (المائدہ 5 : 111) ” اور جب کہ میں نے حواریوں پر وحی کی کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں ۔ “ علاوہ ازیں بھی آیات درج کی جاسکتی ہیں لیکن ہم طوالت کے باعث انہیں آیات پر اکتفا کرتے ہیں یہ صاحب نظر لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی غور وخوض کریں۔ قرآن کریم نے کس طرح وضاحت فرما دی کہ دین پوری انسانیت کے لئے ایک تھا اور ہر نبی ورسول نے آکر اس دین ” الاسلام “ کی طرف دعوت دی تاہم چاہے مختلف نام رکھے گئے ہوں جس طرح مختلف زبانوں میں ایک چیز کے نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اسی مختلف نام لینے سے اس کی حقیقت تو نہیں بدل جاتی جس طرح ایک چیز کے نام بدل جانے سے چیز نہیں بدلتی اسی طرح اگر اس کو نام کے لحاظ سے مختلف نام دیئے گئے ہوں تو اس کو جب عربی زبان میں لائیں گے تو اس کے لئے نام وہی قرار پائے گا یعنی اس کو ” الاسلام “ ہی کہا جائے گا ، دراصل جو بات ان آیات کریمات میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا حقیقی دین یہودیت وموسویت یا مسیحیت یا محدیت نہیں ہے بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعہ سے آئے ہوئے احکام خداوندی کے آگے سراطاعت جھکا دینا ہے اور یہ رویہ جہاں بھی جس بندہ خدا نے بھی جس زمانے میں اختیار کیا ہے وہ ایک ہی عالمگیر ازلی وابدی دین حق کا متبع ہے اس دین کو جن لوگوں نے ٹھیک ٹھیک شعور اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیا ہے ان کے لئے موسیٰ کے بعد مسیح اور مسیح کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کو ماننا تبدیلی مذہب نہیں بلکہ حقیقی دین کے اتباع کا فطری ومنطقی تقاضا ہے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں مسلم ‘ مسیح کیوقت مسلم اور محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت میں بھی مسلم ہی کہلائیں گے اور اس طرح ایک کے بعد دوسرے کی تصدیق کرتے آنے سے حقیقت نہیں بدلتی بلکہ حقیقت ایک ہی رہتی ہے ہاں ! جن لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مانا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے نبی رسول کی رسالت کو تسلیم نہ کیا تو گویا وہ اب مسلم نہ رہے اور اسی طرح جن لوگوں نے مسیح کی نبوت کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ بلاشبہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے مسلم تھے لیکن اب نہ رہے لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ پر نبوت ختم کردی گئی پھر جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کے بعد اور نبوت و رسالت کا اقرار کرلیا تو وہ ” مسلم “ اور ان کا دین ” الاسلام “ نہ رہا اگرچہ اس کو ” الاسلام “ ہی کا نام دیا جائے لیکن اسلام کی اصل حقیقت جو تھی وہ بدل گئی اس لئے اب سو بار اس کو ” الاسلام “ کا نام دیا جائے لیکن وہ حقیقت میں ” الاسلام “ نہیں ہے ، مختصر یہ کہ جب تک رسالت جاری تھی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی توحید اور موجودہ رسول کی بشمول گزشتہ رسالتوں کے تسلیم کرنے کا نام ” الاسلام “ تھا اور اب جب نبوت و رسالت ختم کردی گئی تو اب اللہ تعالیٰ کی توحید اور گزشتہ سارے رسولوں کی رسالت کے اقرار کے ساتھ آئندہ کسی کے نبی ورسول نہ ہونے کو تسلیم کرنے کا نام ” الاسلام “ ہے اس کا خلاف کرنے والے کو ” مسلم “ یا ان کے دین کو ” الاسلام “ کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔ گویا نبوت وسالت کے شروع سے ختم ہونے تک کے درمیان جتنے نبی ورسول آئے سب کے دین کا نام ” الاسلام “ ہی رہا اور یہی قرآن کریم کا مقصود اصلی ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کو بہت ہی کم سمجھنے کی کوشش کی گئی ۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ ان کو دوگنا اجر ملے گا اس لیے کہ انہوں نے صبر سے (رسول کا) انتظار کیا اور وہ بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں

بلاشبہ یہ لوگ ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے : 54۔ وہ لوگ جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں ؟ ایک اجر تو ان کو اس کا ملے گا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار تھے اور اس سچائی کا سچے دل سے اقرار کرتے تھے اور ہر لحاظ سے وہ دین اسلام کے پابند تھے پھر جب نبی اعظم وآخر ﷺ تشریف لائے اور ان کی بعثت کا اعلان ہوا تو انہوں نے بغیر چون وچرا اپنے اس دین اسلام پر قائم رہنے کے باعث آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرلیا اور وہ مسلم کے مسلم ہی رہے چونکہ وہ اپنی قوم کے عام بگاڑ کرے باوجود ثابت قدم رہے اس لئے وہ عنداللہ دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے اور بلاشبہ اس معاملہ میں ان کو دوسرے مسلمانوں پر فضیلت دی گئی جو کفر سے اسلام میں آئے اور یہود میں سے جو اسلام میں داخل ہوئے وہ کفر سے اسلام میں داخل ہونے والوں میں شمار ہوں گے کیونکہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا انکار کرکے کفر کے مرتکب ہوچکے تھے اس لئے یہود اور دوسرے غیر اسلامی مذاہب میں سے جو لوگ بھی مسلمان ہوئے وہ کفر سے اسلام میں داخل ہونے کے مترادف ہیں نہ کہ پہلے ہی سے مسلم چلے آ رہے تھے اور ان کا دین ” الاسلام “ ہی تھا ۔ وہ لوگ جو دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے ان کی خوبی بیان کی جا رہی ہے کہ ایک تو وہ اتنے بلند اخلاق ہیں کہ اپنے اخلاق کے باعث ہی وہ صابر ٹھہرے اور دوسری ان کی علامت یہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرتے ہیں اور تیسری ان کی صفت یہ ہے کہ وہ اس مال کو جو ہم نے ان کو دیا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غیر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اس طرح زیر نظر آیت میں ان کے تین وصف بیان ہوئے ہیں اور تینوں کو ایک بار سمجھنے کی ضرورت ہے دو مرتبہ اجر حاصل کرنے والی کی پہلی نشانی اس جگہ یہ بتائی گئی ہے کہ (بما صبروا) اپنی ثابت قدمی کے باعث جو انہوں نے اختیار کی کہ وہ قومی ونسلی اور وطنی وگروہی تعصبات سے بچ کر اصل دین حق پر ثابت قدم رہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی آمد پر جو سخت امتحان ان کو درپیش آیا اور اس امتحان کو انہوں نے ثابت قدمی سے پاس کرلیا اور ثابت کردیا کہ وہ مسیح برست نہیں بلکہ خدا پرست تھے اور سچے دل سے دین ” الاسلام “ کے متبع تھے اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی ورسول آیا تاکہ مسیحیت کے بگاڑ کو دوست کرے تو انہوں نے فورا لبیک کہا اور اس طرح مسیح (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کی بھی سچے دل سے پیروی کی کیونکہ اس تعلیم میں نبی کریم ﷺ کے متعلق پیش گوئیاں تھیں جب وہ اپنے وقت پر پوری ہوئیں تو انہوں نے نہایت ثابت قدمی سے ان کو قبول کرلیا۔ ان کی دوسری خوبی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ (آیت) ” یدرء ون بالحسنۃ السیئۃ) وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں ، ظاہر ہے کہ اس فقرہ کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ ان سے فی نفس کوئی برائی ہوجائے تو فورا اس سے تائب ہو کر اس کے پیچھے نیکی کو لگا دیتے ہیں ‘ دوسرا یہ کہ اگر کوئی ان سے برائی پیش آئے تو وہ اس کے بدلے میں اس سے برائی نہیں کرتے بلکہ نیکی کرکے اس کی برائی کو روکتے ہیں اور یہ دونوں مفہوم ان میں ثابت ہیں اس لئے بلاشبہ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرنے والے ہیں اور تیسری خوبی ان کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ (آیت) ” مما رزقنھم ینفقون “ جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ ہر طرح کا خرچ کوئی خوبی نہیں بلکہ خوبی یہ ہے کہ جو کچھ خرچ کیا جائے اللہ کی رضا کے لئے خرچ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے کاموں میں بالکل خرچ نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ جو کچھ خرچ کیا جائے وہ غیر اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نہ ہو کیونکہ ایمان باللہ کی نشانی ہی یہ ہے کہ طاغوت کے انکار کرنے کے بعد اسلام کا اقرار کیا جائے اور اس طرح وہ مال جو حق کی تلاش میں خرچ کیا جائے بلاشبہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں متصور ہوتا ہے اور اس سارے مضمون کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ : دو چند اجر انہیں لوگوں کا ہے جو صرف آپ ہی نیکی کی راہ اختیار نہیں کرتے بلکہ دنیا میں بھی بدی کو دور کرکے نیکی پھیلاتے ہیں اور ایمان کی سعادت حاصل کرنے کے بعد نیک اعمال کو بھی کمال تک پہنچاتے ہیں ۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) جب بیہودہ باتیں سنتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، سلامت رہو ہم (جاہل) ناسمجھ لوگوں کے خواستگار نہیں

وہ لوگ بیہودہ باتوں سے ہمیشہ کنارہ کش ہی رہتے ہیں : 55۔ ان لوگوں کی چوتھی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ لغو دراصل چڑیوں اور چڑیوں کی طرح دوسرے پرندوں کی چوں چوں کی آواز کو کہتے ہیں جو بےارادہ وبغیر سوچے منہ سے نکلتی رہتی ہے اس لئے وہ ہر بیہودہ کلام اور فحش گفتگو کو کہا جاتا ہے جو بےمقصد اور خواہ مخواہ کی جائے ، لوگ جب فارخ اوقات گزارنے کے لئے مل کر بیٹھتے ہیں تو اس طرح کی فحش اور بےکار باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اور وقت گزاری کے لئے بےکار کاموں میں انسان مصروف ہوجاتا ہے ، ان لوگوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ بیہودہ باتوں اور بےکار اور فضول بحثوں میں مبتلا نہیں ہوتے اور جب مخالفین اور معترضین ان سے الجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ لوگ ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے زیادہ سے زیادہ جو کہتے ہیں وہ یہی ہوتا ہے کہ ہمارے بھائی ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں تم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو ہمیں ہماری راہ چلنے دو اور تم اپنی راہ چلتے رہو (سلم علیکم) یہ سلام اس مفہوم میں ہے جس مفہوم میں ہمارے ہاں ” سلام “ ہے کا محاورہ عام چلتا ہے یعنی ہم نے چھوڑا ‘ ہم باز آئے ‘ دست بردار ہوئے ‘ خیر باد کہا ۔ گویا یہ سلام سلام مفارقت ہے (سلام علیکم) ہماری طرف سے تم پر سات سلام ہیں (لا نبتغی الجاھلین) ہم ناسمجھ لوگوں کی خواست گار نہیں ۔ ان کے طرز بیان اور طرز عمل کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ دل میں یہ خیال کرکے کہ جاہلوں سے الجھنے سے کچھ فائدہ نہیں ان کو سلام کہہ کر رخصت ہوجاتے ہیں جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے رخصت ہوتے وقت کیا تھا ۔ ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ نے امت کے لوگوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ملاقات کے وقت ” السلام علیکم “ کی دعا سے ملاقات کیا کریں اور ” السلام علیکم “ کے الفاظ کو استعمال نہ کیا کریں لیکن جن لوگوں کو احادیث سے کد ہے انہوں نے ” السلام علیکم “ کو پسند نہیں کیا بلکہ وہ اپنی تحریرات میں ” سلام علیکم “ ہی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ یہ سلام قرآن کریم کی زبان میں کیسے اور کیونکر سلام ہوا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ضد سے ہٹ کر بھی سوچنے اور سمجھنے کی توفیق دے ۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے پیغمبراسلام ! ) بلاشبہ آپ ﷺ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے (کیوں ؟ اس لیے کہ آپ ﷺ تو سب ہی کی ہدایت کے خواہاں ہیں) لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے اور وہ راہ پانے والوں کو خوب جانتا ہے

نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی دی جا رہی ہے اور قریش مکہ کو شرم دلائی جا رہی ہے : 56۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت کا سن کر دور دراز سے لوگ سفر کرکے آتے اور ایمان کی سعادت حاصل کرکے جاتے تھے اس سے نبی کریم ﷺ کے دل میں اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لئے یہ قلق پیدا ہونا ایک فطری امر تھا اس لئے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی دی کہ آپ ﷺ کیوں ہلکان ہوتے ہیں آپ ﷺ کا کام تو فقط پیغام پہنچانا ہے آپ ﷺ کے اختیار میں ہدایت تو دی ہی نہیں گئی کہ جس جس کو آپ ﷺ چاہیں ہدایت دیتے چلے جائیں اور دوسری طرف قریش مکہ کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ چشمہ ہدایت سے سیراب ہونے کے لئے دور دراز سے لوگ آرہے ہیں اور تم لوگ کتنے بدبخت ہو کہ چشمہ ہدایت پر بیٹھنے کے باوجود ہدایت سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہو ۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ اس بات پر حریص تھے کہ سب لوگ اسلام کے اس سرچشمہ فیض سے سیراب ہوں اور اللہ رب العزت کے سارے بندے اس کی بارگاہ میں سرنیاز جھکا دیں اور اپنے اہل شہر ‘ اہل قبیلہ اور اپنے رشتہ داروں کے متعلق آپ ﷺ کی دلی آرزو تھی کہ ان میں سے کوئی بھی نعمت ایمان سے محروم نہ رہے ، اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہدایت بخشنا آپ ﷺ کا کام نہیں ہے کہ جس کو آپ ﷺ چاہیں ہدایت دے دین یہ بات صرف اور صرف ہم ہی سمجھتے ہیں کہ کون اس قابل ہے کہ اس کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں کی جائے کس میں اس نعمت الیہ کو قبول کرنے استعداد ہے اور کس میں نہیں کہ غیب کا علم آپ ﷺ کو نہیں دیا گیا اس لئے آپ ﷺ کسی کے لئے بھی اتنی حرص نہ کریں کہ اپنی جان ہی سے ہاتھ دھو لیں ۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے کئی ایک لوگوں کی ہدایت کی حرص کا نام بھی لیا ہے کہ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ یہ یہ لوگ ہدایت پا جائیں لیکن ان کو ہدایت نصیب نہ ہوئی لیکن جب حکم عام ہے تو ان کو خاص کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے ، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول ﷺ کو یہ اختیار نہیں دیا تو اور کون ہوگا جس کو یہ اختیار دیا گیا ہوگا ؟ بلاشبہ ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے ہدایت یافتہ کر دے اس لئے اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے ہدایت طلب کرنی چاہئے ، (آیت) ” بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر “۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت پر آجائیں تو ہم اپنی سر زمین سے نکال باہر کیے جائیں کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جہاں ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ، یہ رزق تو ہماری طرف سے ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر سمجھ ہی نہیں رکھتے

قریش مکہ ایک اعتراض اور اس کا دندان شکن جواب : 57۔ نبی کریم کے زمانے میں بھی مختلف طرح کے معترضین تھے اور جو کسی کے منہ میں آتا تھا کہہ دیتا تھا ‘ قریش کے بعض سرداروں کو یہ اعتراض تھا کہ باتیں تو آپ کی سچی ہیں اور ان کا جواب بھی ہم سے نہیں بن پڑتا لیکن دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر بھی تو کوئی عقل مندی نہیں ہے ذرا آپ یہ بھی تو سوچیں کہ ہمارے اردگرد بسنے والے سارے قبیلے بھی تو آخر کوئی دین رکھتے ہیں وہ کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ بقول آپ کے اگر ہم مشرک ہیں تو وہ بھی مشرک ہیں کیونکہ ان کا اور ہمارا ایک ہی دین اور ایک ہی مشرب ہے اگر ہم آپ کا دین قبول کرلیں تو وہ اکٹھے ہو کر ہم پر چڑھائی کردیں گے اور ہمیں اس سرزمین سے اس طرح اچک کرلیں جائیں گے جس طرح چیل مرغی کے بچے کو لے اڑتی ہے ہم اپنی بقا اور سلامتی کے لئے مجبور ہیں کہ اپنے پرانی دین و مذہب پر چلتے رہیں اور اتنا بڑا خطرہ مول نہ لیں ۔ اس لئے ہمارے خیال میں آپ کا لایا ہوا دین قبول کرنا ہماری قومی مصلحت کے بھی خلاف ہے اپنے باپ دادا کے دین کے بھی خلاف ہے اور اپنے اردگرد بسنے والی ساری قوموں اور قبیلوں کے بھی خلاف ہے لہذا آپ مہربانی کر کے اس دین کو پرچار بند کردیں اور اپنی قوم کو اتنے بڑے خطرہ سے دوچار نہ کریں ۔ ایسے معترضین کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے جواب سنایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان مصلحین زمانہ پوچھو کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ بیت اللہ جس کو تم کعبہ بھی کہتے ہو کہ اس کا پاسبان تم کو کس نے بنایا ہے ؟ اور کس نے تم کو یہ اتنا بڑا شرف بخشا ہے کہ پوری دنیا سے لوگ اس کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ؟ تم سمجھو یا نہ سمجھو یہ اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا فضل و کرم ہے کیونکہ اسی نے ابراہیم جیسے جلیل القدر رسول کو مبعوث کیا جس نے اس منہدم شدہ بیت اللہ کو تمہارے لئے تعمیر کیا اور اس کی تولیت تم کو بخشی اور اس حرم کے احترام کی وجہ سے کوئی تم پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا اور صرف یہی نہیں بلکہ اگر کسی بدبخت کی نیت خراب بھی ہوجائے تو وہ غیب سے اس طرح کا سامان پید اکر دیتا ہے کہ وہ تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے اس زمین سے بھگا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ اپنے باپ کے قاتل کو بھی اس جگہ دیکھ کر آنکھ پھیر لیتے ہیں اور اس رب کریم نے مجھے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا ہے کسی کی کیا مجال کہ اگر تم اسلام قبول کرلو اور تم پر حملہ کرکے تمہاری تکا بوٹی کردے یہ تمہارا فرضی توہم ہے جس کی کوئی اصلیت نہیں ہے میں تم سے کہتا ہوں کہ دوسرے قبائل جو تمہارے اردگرد بستے ہیں وہ تو اس انتظار میں ہیں کہ تم اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو اگر تم آج اسلام قبول کرلو تو سورج غروب ہونے سے پہلے فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوجائیں بلاشبہ تمہارا یہ کہنا ایک عذر لنگ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، پھر تم کو یہ کس نے پڑھنت پڑھائی ہے ؟ بلاشبہ یہ شیطان کا خدشہ ہے کہ اسلام لانے کی صورت میں تمہارے اردگرد کے قبائل تمہارا اقتصادی بائیکاٹ کردیں گے حالانکہ اس میں ذرا بھر بھی حقیقت نہیں ذرا غور کرو کہ مکہ اور اس کے گردو نواح میں تو ریگستان ہی ریگستان اور پہاڑہی پہاڑ ہیں اس جگہ تو معمولی کھیتی باڑی بھی نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے پھلوں سے تمہارے بازار بھرے پڑے ہیں اور تمہاری منڈیوں میں اجناس کی کوئی کمی موجود نہیں اس حرم کے زیر سایہ جو امن و عافیت تمہیں حاصل ہے اور جس کثرت سے پھل تمہاری طرف کھچے چلے آتے ہیں اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی تم خود سوچو کہ اگر کفر کی حالت میں تم کو اللہ رب العزت نے اپنی عنایات سے محروم نہیں کیا تو اگر تم اسلام لاؤ گے تو کیا اس کی رحمت یہ گوارا کرے گی کہ لوگ تم پر ایک ہی بار چڑھائی کرکے تباہ وبرباد کردیں یا تم پر رزق کے دروازے بند ہو کر رہ جائیں مکہ والے اس وقت کیا تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ کافر تھے پھر اس وقت کے کافروں کو جو خدشہ اسلام لانے کے باعث لاحق تھا کیا آج ساری اسلامی مملکتوں کو وہی خدشہ لاحق نہیں ؟ اگر ہے اور فی الواقع ہے تو ان کے کفر اور ہمارے اسلام میں فرق کیا ہے ؟ کیا ان وقت جہاں ان کا کفر ختم ہوتا تھا آج ہمارا اسلام وہاں سے شروع ہوتا ہے ؟ آج دنیا میں مسلمان کہلانے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جتنی تعداد ساری غیر مسلم قوموں کی ہے ان سے بہرحال زیادہ ہے آج تو ہم مٹتے مٹتے بھی کبھی جا کر مٹیں گے پھر ہم یقینا اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ وہ ہم کو مار کر خود زندہ رہیں گے یا رہ سکیں گے ؟ ہرگز نہیں اور حاشاء وکلا نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جہاں جہاں وہ ہیں وہاں وہاں ہم بھی ہیں اور جہاں ہم ہیں وہ بھی پھر دنیا میں کوئی ایسا اسلحہ نہیں ہے اور نہ ہی یقینا ایسا اسلحہ تیار ہوگا کہ جہاں جہاں ہم ہیں وہ اسلحہ ہم کو مار دے گا اور وہ اس اسلحہ کی زد سے نکل جائیں گے ، پھر اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمارے پاس بلاشبہ وہ طاقت وقوت بھی ہے جس کا مقابلہ آج تک کوئی طاقت وقوت نہ کرسکی اور رہتی دنیا تک کوئی طاقت وقوت بھی نہیں کرسکے گی لیکن ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم اپنا تشخص قائم نہیں کر رہے اور خوف ہمیں کھائے جا رہا ہے جو اس وقت مکہ کے کافروں کو کھائے جا رہا تھا ، کیا آج رزق اللہ کے ہاتھ سے نکل کر غیروں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے ؟ کیا قرآن کریم کا یہ اعلان نعوذ باللہ صحیح نہیں کہ (آیت) ” رزقا من لدنا “۔ رزق ہماری طرف سے ہے ان کافروں کو تو یہ یقین دلایا گیا کہ ہرچیز کی فراوانی میں تمہاری کی تدبیر اور منصوبہ بندی کا کوئی دخل نہیں اگر ابراہیم کو اس جگہ کعبہ بنانے کا حکم ہی نہ دیا جاتا بلکہ کوئی اور جگہ منتخب کی جاتی یا اولاد اسمعیل کو اس کی خدمت پر مقرر نہ کیا جاتا تو کیا یہ مرکزیت ‘ یہ امن و عافیت ‘ یہ معاشی خوش حالی جو آج تم کو نصیب ہے تمہیں میسر ہوتی ؟ ہرگز نہیں یہ سب کچھ ہم نے بہم پہنچایا ہے اور تم پر لازم ہے کہ ہماری بات مانو اور اس دین رشد وہدایت کو کسی مزید تذبذب کے بغیر قبول کرلو اور قرآن کریم نے اس طرح کی جو بات اس وقت ان کفار مکہ کو کہی تھی آج وہ ہم کو کہہ رہا ہے کاش کہ ہمارے حکمران وعوام اور مذہبی پیشوا اور سیاسی راہنم اس بھی کان کھولیں اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں لیکن اکثر لوگ آج بھی اپنے خود ساختہ اندیشوں میں گھلے جا رہے ہیں اور یہ حقیقت انکی آنکھوں سے مستور ہی رہتی ہے کہ عزت و عافیت بخشنے والا ‘ پاکیزہ اور فراخ رزق عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور بلاشبہ وہی ہے واللہ تم تاللہ نہ امریکہ والے ہیں اور نہ لندن وفرانس والے نہ جرمنی والے ہیں اور نہ چین وروس کے بسنے والے ۔ اللہ کرے کہ ہم مسلمانوں کو یہ یقین آجائے اور ہم ان سارے غیر مسلموں پر یہ بات ثابت کردیں کہ ع ” مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا “
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم ایسی کتنی ہی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے والے اپنی خوشحالی پر نازاں تھے ، اب ان کے یہ گھر ہیں جو ان کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت تھوڑے اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے

اس دنیا میں کتنی قومیں تھیں جن کو اپنی خوشحالی پر ناز تھا لیکن ان کو مٹتے کتنی دیر لگی ؟ : 58۔ مثال کے لئے تو ایک ہی قوم کی داستان کفایت کرتی ہے لیکن نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) آئے ہیں ان میں سے جن کا ذکر تمہارے سامنے بیان کیا گیا ان میں سے ایک ایک قوم کی حالت پر غور کرو کہ اس دنیا میں انہوں نے کتنی کتنی ترقی کی ‘ کسی قوم نے تعمیرات میں قدم اٹھایا تو وہ ایسے ایسے محلات تیار کر گئے کہ آج تک ان کا جواب ممکن نہ ہوا ‘ کسی قوم نے پہاڑوں کے اندر رہائش گاہیں تعمیر کیں تو انہوں نے دنیا والوں کو حیران کردیا ‘ کسی قوم نے صنعت وحرفت کے سارے پیشوں کو بیک وقت اٹھایا اور بام عروج تک پہنچا دیا اور آج تک دنیا کی کوئی قوم اس عروج تک نہ پہنچ سکی اور آج اسلحہ کی دوڑنے حیرت زا صورت حال پیدا کردی لیکن جس طرح گزشتہ ترقیوں کے دور کا اختتام ہوا یقینا اس کا دور بھی ختم ہوگا۔ گزشتہ قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں جو تمہیں دکھائی دے رہی ہیں انہیں یونہی ویران نہیں کردیا گیا تھا بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اپنی سنت کے مطابق ان کے مرکزی شہروں میں اپنے رسول بھیجے اور جب وہاں کے باشندوں نے ان کا انکار کیا اور عناد پر اڑے رہے اور پھر جو انتہائی وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس وقت تک وہ اڑے ہی رہے تو انہیں تباہ وبرباد کردیا گیا اس طرح نہ وہ خود باقی رہے اور نہ ہی ان کی بام عروج پر پہنچائی گئی کوئی ترقی باقی رہی اور یکے بعد دیگرے ساری قوموں کے ساتھ یہی کچھ ہوا اگر تم کو ان ساری قوموں کی بسیتوں کی اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا کہ اس دنیا میں جتنا بناؤ ہوا وہ سب بگاڑ کے لئے تھا اور جو بگاڑ ہوا وہ بناؤ کے لئے ہوا تو آج تمہاری یہ آبادیاں بلاشبہ درس عبرت ہیں کہ کل تمہاری باری آنے والی ہے کہ تمہارے اس بناؤ کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا بلکہ ہر طرف اجاڑ ہی اجاڑ ہوگی اور تمہارے یہ اسلحے اس کی کھلی ہوئی دلیل ہیں تمہاری آنکھیں نہ دیکھیں تو یہ دوسری بات ہے لیکن یقین جانو کہ جس طرح تم اپنی معیشت پر نازاں ہوں وہ قومیں بھی نازاں رہ چکی ہیں ‘ ان کی خوشحالی اگر تم کو نظر نہیں آرہی تو تمہاری خوشحالی بھی کل آنے والوں کو نظر نہیں آئے گی اور ان ساری خوش حالیوں کے اصل وارث ہم ہی ہیں کہ ایک کے بعد دوسری قوم کو موقع دیتے چلے آرہے ہیں تم کو کیا معلوم کہ ابھی کتنی قومیں آئیں گی اور وہ کیا کیا ترقیاں کریں گی کہ آج تمہاری ساری ترقیاں ان کے سامنے ہیچ ہوں گی ۔