28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

غرض (یہ سن کر) موسیٰ نے ان کے لیے (ریوڑ کو) پانی پلا دیا پھر ہٹ کر سایہ میں آگیا اور عرض کی اے میرے پروردگار ! تو نے جو نعمت مجھے عطا فرمائی (کہ ایسا نیک کام کرنے کا موقع فراہم کردیا) میں اس کا محتاج ہوں

موسیٰ (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر ان لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلا دیا : 24۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں لڑکیوں کی بات سنی تو آپ کا خون کھول گیا اور جوش آیا ‘ آگے بڑھ کر تمام بھیڑ کو چیرتے ہوئے کنویں پر جا پہنچے اور کنوئیں کا بڑا ڈول اٹھایا اور تنہا کھینچ کر لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلا دیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے تو بلاشبہ لوگوں کو ناگوار گزرا مگر آپ کی پر جلالی صورت اور جسمانی طاقت قوت سے مرعوب ہوگئے اور ڈول کو تنہا کھینچتے دیکھ کر آپ کی قوت و طاقت کے سامنے ہار مان گئے اور کچھ نہ بول سکے اور نہ ہی کچھ کہہ سکے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مظالم کی داستانیں سنیں اور دیکھی تھی اور اس کے مقابلہ میں کھڑے ہونا چاہا تھا لیکن حالات نے اجازت نہ دی اور آپ کی زندگی کا رخ ایک وقت تک مصر کو موڑ دیا لیکن جب مدین پہنچے تو وہاں بھی ان دو لڑکیوں کو دیکھ کر وہی حالت پائی جو مصر میں چھوڑ گئے تھے کہ یہاں بھی وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو دنیا کی ظالم قوموں نے اختیار کررکھا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے قانون کو توڑ کر قوموں کا سارا نظام ظلم کی بنیادوں پر قائم کردیا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیاں کمزور اور ضعیف گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں تب ہی تو اس انتظار میں ہیں کہ قومی اور سرکش جب اپنے اپنے جانوروں کو سیراب کر چکیں اور ہر واردصادر پانی پر سے چلا جائے تو بچا کچھا پانی ان کے جانوروں کا حصہ بنے ، گویا ہر قوی نے ضعیف کے لئے یہی تجویذ کردیا ہے کہ فائدے میں وہ مقدم ہے اور ضعیف مؤخر اور قومی کا ” اولش خور “ جہاں جاؤ اور جدھر جاؤ ، موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت کے حالات دیکھ کر اس قدر غصہ آیا اور پھر غصہ کو پی گئے ؟ نہیں بلکہ آگے بڑھ کر اس غصہ سے وہ کام کردکھایا جو چار پانچ آدمی بھی ملکر نہیں کرسکتے تھے ۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اگر اس وقت اس ملک عزیز میں آجائیں جہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے اور بےلوگ چھوٹوں کو اپنے پاس کھڑے ہونا بھی برداشت نہیں کر رہے ۔ بڑے پیدا ہوتے ہیں ان منہ میں سونے کی چمچیاں ہوتی ہیں جن کے اندر ہی خوراک بھر دی گئی ہے اور غریبوں کے بچوں کی پرورش کے سارے انتظامات الگ ‘ تعلیمات کا بندوبست الگ ‘ خوردونوش اور پوشاک کا بندوبست الگ ان کی رہائش گاہوں اور سونے کے کمروں اور بستروں کا بندوبست الگ ‘ انکے آنے اور جانے کا بندوبست الگ ‘ ان کے بول وبراز کے طریقے اور جگہوں کا انتظام الگ ، گویا ان میں صرف ایک لفظ انسان یا بشر کے سوال کوئی چیز بھی آپس میں نہیں ملتی اور ان ظالموں کے ظلم کی داستان اتنی لمبی ہے کہ وہ بیان ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ہم میں سے تو کسی کا خوان بھی نہیں کھولتا اور کسی کو بھی غصہ نہیں آتا اور ان ظالموں کی موجودگی میں اس پانی والے کنوئیں تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا ، مگر ہاں ! وہی جو اپنی ذات کے لئے کوشش کرتا ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہم میں بھی کوئی موسیٰ پیدا فرما دے ہاں ! وہی موسیٰ جو نبوت سے پہلے والا موسیٰ تھا اور ہم میں سے بھی اس موسیٰ کا خون کھول جائے کہ اس ملک عزیز میں جو ان ظالموں نے ظلم مچا رکھا ہے ان کی موجودگی میں اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ قوم کی خاطر اس پانی والے کنوئیں تک پہنچ جائے ، آج یہ لوگ عرب کے مشہور شاعر عمروبن کلثوم کا یہ شعر پڑھتے ہیں تو جھوم جاتے ہیں ۔ ونشرب ان وردنا الماء صفوا ویشرب غیرنا کدراوطینا : ” اور ہم جب کسی پانی پر آتے ہیں تو عمدہ اور صاف پانی ہمارے حصہ میں آتا ہے اور ہمارے غیروں کے (جو ہم سے کمزور ہیں) حصہ میں گدلا پانی اور مٹی ہے ۔ “ ” غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کس جذبہ کے تحت ان لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلایا لیکن اپنی ذاتی باتوں میں سے ایک کا اشارہ تک بھی نہیں کیا حالانکہ آپ ایک نو وارد مسافر تھے اور اس طرح ان لڑکیوں میں سے بھی کسی نے کوئی بات ان سے نہیں کی آپ ناواقف اور نا آشنا ہیں آخر آپ کہاں سے آئے ہیں اور ہمارے ساتھ یہ کس ہمدردی کا عمل کر رہے ہیں ۔ لڑکیاں جب واپس چلی گئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) پھر کر اس اس کنوئیں کے قریب ہی کسی درخت کے سایہ کے نیچے کھڑے ہوگئے اور اپنے دل ہی دل میں ایک آہ بھر کر کہنے لگے ” اے میرے پروردگار ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں “ گویا اپنے دل میں جو کچھ تھا اور جس چیز کی ضرورت اور طلب تھی اس کو براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی خدمت میں پیش کیا کسی انسان سے اس کا اظہار نہیں کیا ۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پس (اتنے میں) ان میں سے ایک (لڑکی) بڑے شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہا میرے باپ تم کو بلاتے ہیں تاکہ تم نے جو ہماری خاطر (ریوڑ کو) پانی پلایا ، تم کو اس کا کچھ بدلہ دیں ، پھر جب موسیٰ اس (لڑکی کے والد) کے پاس پہنچا اور اس نے اپنا سارا حال بیان کیا تو اس نے کہا کہ خوف مت کر ، تو نے ظالم لوگوں سے نجات حاصل کر لی

ان دو بہنوں میں سے ایک نہایت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور گھر لے جانے کی دعوت دی : 25۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر اوپر کیا گیا کہ پانی پلانے کے بعد قریب ہی ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ کر سستانے لگے ‘ مسافرت اور غربت پھر بھوک اور پیاس لیکن اظہار کس کے سامنے ؟ رب کریم کو مخاطب کیا کہ ” اے پروردگار ! اس وقت جو بھی بہتر سامان میرے لئے تو اپنی قدرت سے نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں “ ادھر ان لڑکیوں نے جب گھر جا کر والد ماجد سے ذکر کیا کہ اس طرح ایک نوجوان نے ان کی مدد کی تو باپ نے کہا کہ عجلت سے جاؤ اور اس کو میرے پاس لے کر آؤ ‘ لڑکی تیزی کے ساتھ نہایت شرم وحیا کے ساتھ بولی کہ ” آپ ہمارے گھر چلئے ‘ میرے والد بلاتے ہیں وہ آپکے اس احسان کا بدلہ دیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لڑکی کی بات سنی تو خیال ہوا کہ شاید اللہ تعالیٰ اس سے کوئی بہتر صورت پیدا فرما دے یہ سوچ کر اس کی دعوت کو قبول کیا اور لڑکے ساتھ ہو لئے موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت موجود نہیں ورنہ پھر پوچھ لیتے کہ یہ الفاظ (آیت) ” لیجزیک اجر ما سقیت لنا “۔ ” آپ نے ہمارے جانوروں کو جو پانی پلایا اس کا اجر آپ کو دیں “ کتنے بھاری اور شاق گزرے تھے آپ کی فطری غیرت اور عزت نفس کیا کہتی ہوگی لیکن مسافرت و غربت میں کیا کچھ برداشت نہیں کرنا پڑتا اور وقت انسان سے کیا کچھ نہیں کراتا ‘ کہاں شہزادگی کی وہ حالت اور کہاں مزدوری کا یہ مقام ‘ بہرحال آپ چلے گئے جب موسیٰ (علیہ السلام) اس بزرگ صورت و سیرت انسان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شرف ملاقات حاصل ہوا تو بزرگ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سنت کے مطابق پہلے کھانا کھلایا اور پھر آرام کے ساتھ بٹھا کر ان کے حالات سنے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ولادت سے شروع کرکے فرعون کے بنی اسرائیل پر مظالم تک کی ساری داستان سنا دی بزرگ نے بھی سب کچھ سننے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرو کہ اب تم کو ظالموں کے پنچہ سے نجات مل گئی اور اب کوئی خوف کا مقام نہیں رہا ۔ یہ بزرگ کون تھے ؟ ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ وہ سیدنا شعیب (علیہ السلام) تھے لیکن قرآن کریم نے کہیں اس کی وضاحت تو درکنار اشارہ تک بھی نہیں کیا جس سے یہ بات سمجھ لی جائے ، شعیب (علیہ السلام) قرآن کریم میں ایک معروف شخصیت ہیں اگر ان لڑکیوں کے والد ہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کردی جاتی بہرحال بہرحال ہم اس معاملہ میں وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ شعیب (علیہ السلام) ہی تھے بہرحال اس معاملہ میں بحث کی بھی کوئی ضرورت نہیں اگر شعیب (علیہ السلام) ہی ہوں تو بھی ممکن ہے لیکن کوئی دوسرے شخص ہوں تو بھی ان کی نیکی اور بزرگی میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور خصوصا ان کے ان بیان سے جو عزم وجزم جھلک رہا ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ نہایت پختہ عقیدہ اور بہت سچے انسان تھے اور ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی اور جس طرح انہوں نے بیٹی کے نکاح کی آفر کردی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ساری باتیں ایک ہی نشست میں نہیں ہوگئیں بلکہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے چند دنوں کے لئے مہمان ٹھہرایا ہوگا اور بعد میں اس طرح کی گفتگو چل نکلی ہوگی اور بلاشبہ طرفین میں ضرورت بہرحال تھی اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

اور دونوں میں سے ایک نے کہا ، اے باپ ! ان کو ملازم رکھ لیجئے کہ بلاشبہ اچھا نوکر وہی ہے جو طاقتور اور امانتدار ہو

دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے والد سے کہا کہ یہ اجر کے مستحق ہیں تو قوی وامین بھی ہیں : 26۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس لڑکی نے اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ہی یہ بات کہہ دی تھی اگرچہ اس میں بھی کوئی قباحت نہیں تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ لڑکی نے والد سے یہ بات کی ہوگی اور اس طرح جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ٹھہرا ہی لیا گیا اور وہ بھی ٹھہر گئے تھے تو اس طرح کے صلاح ومشورے گھر میں بہر حال ایک فطری چیز ہے اس سے زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ والدین کو اولاد کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم اٹھانا درست نہیں اس کے غلط نتائج بھی نکل سکتے ہیں خصوصا ان بچوں کے متعلق جس کے عقد مسنونہ کا مسئلہ درپیش ہو اور یہ بھی کہ لڑکی نے جو والد سے بات کہی ہے تو اس کے جواب میں کہی ہے اگرچہ قرآن کریم نے والد کے استفسار کرنے کا ذکر نہیں کیا اور قرآن کریم کے کلام میں یہ بات عام طور پر پائی جاتی ہے کہ وہ خود بخود پر ہوجانے والے خلاؤں کو اکثر چھوڑ دیتا ہے تاکہ کلام زیادہ لمبا نہ ہو لیکن طریق بیان ایسا اختیار کرتا ہے کہ کتنے سوال خود بخود ختم ہو کر رہ جاتے ہیں اور کتنی باتیں ہوتی ہیں جن کا جواب بغیر سوال کئے مل جاتا ہے مثلا اوپر ابھی ذکر گزر چکا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تو خوموشی کے ساتھ وہاں سے واپس آکر سایہ میں ٹک گئے اس طرح صرف (تولی الی الظل) کے الفاظ بول کر یہ بتادیا کہ یہ موسم گرما کا تھا جس موسم میں موسیٰ مدین پہنچے تھے نہ سوال ایسا اٹھایا اور نہ ہی جواب کی ضرورت پیش آئی لیکن ایک پتہ اور ضرورت کی بات چلتے چلتے ایسی کردی کہ اس میں کتنے ہی سوالوں کا خودبخود جواب آگیا جب کہ نہ سوالوں کا ذکر ہوا اور نہ جوابوں کا ، اسی طرح زیر نظر آیت میں والد کے بات کرنے اور مشورہ کرنے کا نام تک بھی نہیں لیا لیکن عبارت اس طرح بیان کی کہ یہ معلوم ہوگیا کہ ایسے حالات میں کون کون سی باتیں کرنا ضروری ہوتی ہیں اور ان کا تصفیہ گھروں میں کتنا ضروری ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اولاد سے اگر والدین مشورہ طلب کریں تو ان کو بےجھجھک اپنا عندیہ ظاہر کردینا چاہئے یہ بات اولاد کی فرمانبرداری کی نشانی ہے نہ کہ اولاد کی بےلگامی کی بلاشبہ وہ اولاد کبھی سعادت مند نہیں ہوتی جو وقت پر اپنی بات کھل کر نہ کرے ۔ ہاں ! اگر ایک بات مشورہ سے طے ہوجائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس کو نباہنا اور پایہ تکمیل تک پہنچنا فرض ہوجاتا ہے حالات خواہ کچھ بھی ہوں معاشرتی زندگی میں اتار چڑھاؤ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا سارا انحصار اللہ رب العزت پر ہے اور اس سے دعا کرنیچاہئے کہ وہ حالات کو ساز گار بنائے اور کسی پریشانی سے دو چار نہ کرے اور یہاں تو حالات کی نزاکت سب کچھ خود بول رہی ہے کسی کے بولنے کی کوئی حاجت ہی نہیں ۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے کہا ، میں چاہتا ہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تمہارے نکاح میں دے دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری اپنی خواہش پر ہے اور میں تم پر کوئی سختی کرنا نہیں چاہتا ، ان شاء اللہ تم مجھ کو خوش معاملہ پاؤ گے

دونوں لڑکیوں کے باپ کا سوال موسیٰ (علیہ السلام) سے : 27۔ کچھ دن مہمان رکھ لینے کے بعد اور موسیٰ کو انسان فطرت آزمائش کرلینے کے بعد ان لڑکیوں کے ماں باپ کو خیال آیا کہ ایک نوجوان آدمی کا گھر میں رکھ لینا جو خوبرو اور خوش اخلاق بھی ہے فریقین کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے خیال پیدا ہوا کہ اس کا نکاح اگر میں اپنی کسی بچی سے کر دوں جب کہ وہ ایک نیک سیرت اور نیک کردار شخص بھی ہے تو اسی میں بھلائی ہے بلاشبہ آپ نے اپنی بیٹیوں سے بھی واضح طور پر مشورہ کیا اور مشورہ کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ ایک نہایت ہی بہترین ‘ شستہ اور اعلی درجہ کی عقلمندی اور فکری صلاحیت پر مبنی تھا لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین کی سمجھ میں نہ آیا اس لئے انہوں نے اس کو بالکل گول مول بیان کیا اور اس سے عجیب عجیب توجہیات نکالیں ، باپ نے اولاد کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی مناسب وقت پر مخاطب کیا اور پوچھا کی میری دو بیٹیاں ہیں ان میں سے ایک کا نکاح میں آپ سے کرسکتا ہوں لیکن کچھ میری شرطیں ہیں ، میری معذوری سے آپ مطلع ہوچکے ‘ حالات سے آپ کی واقفیت ہوگئی اب میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ میری اس شرط کو منظور کرلیں کہ آٹھ سال تک آپ میرے ہاں رہ جائیں ہاں ! اگر دس رہ جائیں تو اور بھی زیادہ اچھا ہے لیکن میں آپ پر زیادہ مشقت نہیں ڈالنا چاہتا اگر آپ کو ان دونوں مدتوں سے ایک منظور ہے تو اس کی وضاحت کردیں اور اس کے لئے آپ تیار ہوں تو آج ہی آپ کا نکاح کردیا جائے ، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا موسیٰ چند روز یا کچھ روز رہ چکے ہیں یہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوچکے ‘ لڑکیوں نے اور ان کے والد نے خوب جائز لے لیا ہے اب جس نوجوان کو اپنے گھر میں رکھنا اور داماد بنانا ہے اس سے یہ پوچھنے میں کیا حکمت ہے کہ ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کو کرکے دے سکتا ہوں ؟ اس لئے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے موسیٰ کی مرضی سے شادی کرنے کی اور میں ب سے کر دوں پھر ” ا “ اور ” ب “ دونوں یہاں موجود رہیں تو صحیح نہیں لہذا ایک صاحب اولاد اور اس طرح حالات کے سامنے معذور باپ ہی اس بات کو سمجھ سکتا ہے ہر آدمی کے اختیار کا یہ مسئلہ نہیں ۔ اس طرح نہایت ہی دانش مندی سے آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا عندیہ معلوم کرلیا ۔ ہم اپنوں سے بھی اور غیروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت عقل وفکر کو حاضر رکھ کر تلاوت کیا کریں اور اس فرق کو سمجھنے کی پوری کوشش کیا کریں جو قرآن کریم اور دوسری کتب آسمانی میں پایا جاتا ہے اس جگہ پر جہاں اس وقت ہم پہنچے ہیں تورات کا بیان اس طرح ہے کہ ” موسیٰ رعویل کے ہاں رہنے لگے اور وہ اپنے میزبان کی بیٹی صفورہ پر نظر عنایت رکھتے تھے یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے اس سے بیاہ کرلیا ۔ “ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تیرو کو جب اپنا سارا ماجرا سنایا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت تباہ ہونے کی پیش گوئیاں کی گئی تھیں اس لئے اس نے فورا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قید کرلیا تاکہ انہیں فرعون کے حوالہ کرکے انعام حاصل کرے ، سات یا دس سال تک وہ اس کی قید میں رہے ، ایک تاریخ تہ خانہ تھا جس میں وہ بند تھے مگر تیرو کی بیٹی زفورا (یا صفورا) جس سے کنویں پر اس کی ملاقات ہوئی تھی چپکے چپکے ان سے قید خانہ میں ملتی رہی اور انہوں کھانا پانی بھی پہنچاتی رہی ، ان دونوں میں شادی کی خفیہ قرار داد ہوچکی تھی سات یا دس سال کے بعد زفوار نے اپنے باپ سے کہا کہ اتنی مدت ہوئی آپ نے ایک شخص کو قید میں ڈال دیا تھا اور پھر اس کی خبر تک نہ لی ۔ اب تک اسے مر جانا چاہئے تھا لیکن اگر وہ اب بھی زندہ ہے تو ضرور کوئی خدا رسیدہ آدمی ہے ، تیرو اس کی یہ بات سن کر جب قید خانے میں گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ دیکھ کر اسے یقین آگیا کہ وہ معجزے سے زندہ ہیں تب اس نے زفورا سے ان کی شادی کردی “ (جیوش انسائیکلوپیڈیا) دونوں روایتیں یہودیوں کی ہیں اور جن کے متعلق ہیں ان کو وہ نبی ورسول مانتے ہیں ایسی روایات تورات وانجیل میں بھی موجود ہیں جن میں سے اکثر کو علمائے اسلام نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکار میں نقل کردیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے انکا ذکر تک نہیں کیا کیونکہ قرآن کریم دوسروں پر اس طرح کی تنقید کے بھی خلاف ہے کہ وہ کوئی بات کسی کو طعنا کہے جبکہ وہ خاموش رہ کر بتا دیتا ہے کہ ان روایتوں کو اسلام کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہاں قرآنی قصص کو دیکھنا ہے تو صرف قرآن کریم کی تصریف آیات میں دیکھو ‘ علاوہ ازیں کوئی شخص جو کچھ بیان کرے گا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے قرآن کریم نہ ان کو تصدیقا ذکر کرتا ہے اور نہ ہی روایتا ان کو نقل کر کرکے رد کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ انکا ذکر نہ کر کے ثابت کرتا ہے کہ میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا اچھا ! میرے اور آپ کے درمیان یہ عہد ہوگیا میں ان دو میں سے جو بھی مدت پوری کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور ہم جو معاہدہ کر رہے ہیں اللہ اس کا کارساز ہے

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے میزبان کی بات سنی اور اس کو اس طرح جواب دیا : 28۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے میزبان کی یہ بات سنی جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے تو اس سے مخاطب ہو کر کہا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ان دونوں مدتوں میں سے یعنی آٹھ سال یا دس سال میں جو بھی پوری کر دوں یہ وقت خود بتادے گا اس کے بعد پھر کوئی مطالبہ مجھ پر نہ ہو اور جو کچھ قول وقرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے ، گویا ایک بات تھی جو ان دونوں لڑکیوں کے باپ نے اپنے مہمان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کردی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو منظور کرلیا اور ازیں بعد حسب وعدہ باپ نے ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح جس کا رشتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لڑکیوں کے باپ کے درمیان طے ہوا تھا جس میں اس لڑکی کی بھی رضا شامل تھی جس کا نکاح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہونا پایا تھا نکاح کردیا تعجب ہے کہ اس صاف اور سیدھی بات کو مفسرین نے بحث کر کے کیا سے کیا بنا دیا حالانکہ اس کے ساتھ نہ کوئی نکاح کا تعلق ہے نہ ایجاب و قبول کا نہ تقریب نکاح کا نہ حق مہر کا اور نہ گواہوں کا یہ تو وہ ابتدائی بات تھی جو دونوں یعنی مہر وداماد کے درمیان طے ہوئی تھی جس کو زیادہ سے زیادہ منگنی کی شرائط کہا جاسکتا ہے اس کے بعد نکاح ہونا طے پایا اور وہ اسلامی روایات کے مطابق من وعن وجود میں آیا جس کے ذکر کی چنداں ضرورت نہ تھی اس لئے قرآن کریم نے اس کا علیحدہ ذکر نہیں کیا۔ لیکن ہمارے مفسرین جہاں بولنے کی ضرورت ہوتی ہے کم ہی بولتے ہیں اور جہاں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہاں بحث شروع کردیتے ہیں اور پھر بحث کرتے کرتے اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ انکو اصل مضمون یاد ہی نہیں رہتا کہ ہم نے کیا بیان کرنے کے لئے قلم اٹھایا تھا اور کہاں تک پہنچے تھے بلکہ وہ داستان گوؤں کی طرح ایک قصہ کو شروع کرتے ہیں اور اس کو پھر بڑھانا شروع کردیتے ہیں اور پھر بات سے بات نکالتے ہیں پنجابی کے اس محاورہ کا مصداق ہو کر رہ جاتے ہیں کہ ” چڑھی پیپل لتھی وان “۔ اس جگہ ایک بات مزید عرض کرنے کے قابل تھی جو رہ گئی ہے وہ یہ کہ لڑکیوں کے باپ نے اپنے مہمان سے جس کو داماد بنانے خیال ہوچکا تھا دونوں میں سے ایک کا ذکر کرکے یہ بات بھی واضح کردی کہ اس وقت بھی شریعت میں دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد سے نہیں بیاہا جاسکتا تھا اگر اس کی کوئی گنجائش ہوتی تو کیا ساری بیٹیوں کو ایسی آدمی سے وہ بیاہ کر دے سکتا تھا اور یہ بات اس لئے ضروری ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے مفسرین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے پہلے دو بہنوں کو ایک ہی وقت میں ایک مرد سے بیاہ کردیا جاسکتا تھا اور اس کے ثبوت میں وہ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مثال بھی پیش کرتے ہیں جو کتاب وسنت کے بالکل خلاف ہے یہودیوں کی روایات کی پیروی میں اہل اسلام علمائے کرام نے بھی یہ بات اس طرح تحریر کردی ہے جو آج بچہ بچہ کی زبان زد ہے حالانکہ اسلام نے کہیں بھی اس کی تائید نہیں کی بلکہ اسلام نے اشارتا بھی اور وضاحتا بھی بیان کیا ہے کہ یہ بات کسی بھی نبی کے دور میں جائز نہیں سمجھی گئی تھی ہاں ! لوگوں نے اپنی طرف سے اس طرح کے اضافے ضرور کئے ہیں جن کی اسلام نے تردید کی ہے ۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) وہ مدت پوری کرچکے اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا آگ کا انگارہ ہی لے آؤں تاکہ تم تاپ سکو

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ مدت کو پورا کرکے مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے : 29۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں ایک عرصہ قیام کیا اور اس پوری مدت میں اپنے خسر کے ریوڑ کی گلہ بانی کرتے رہے تورات کے بیان کے مطابق اس قیام میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے ” جیرسون “ رکھا عبرانی میں اس کے معنی غربت ومسافرت کے ہیں گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کے نام میں اپنی مسافرت کو بطور یادگار قائم رکھا تاکہ خاندان والوں کو یاد رہے کہ اس بچہ کی ولادت سے غربت ومسافرت میں ہوئی تھی چناچہ تحریر ہے کہ ” اور اس نے اپنی بیٹی صفورہ موسیٰ کو دی ‘ وہ بیٹا جنی اس نے اس کا نام ” جیرسون “ رکھا کیونکہ اس نے کہا کہ میں اجنبی ملک میں مسافر ہوں “ (خروج باب 2 : 21 ‘ 22) موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں کتنی دیر رہے ظاہر ہے کہ دو مدتوں میں سے ایک تو پورا کرنا ان کے فرض منصبی میں شامل تھا لیکن چونکہ وہ دو مدتیں تھیں آٹھ سال کم از کم اور دس سال زیادہ سے زیادہ مفسرین نے کے کہنے کے مطابق دس سال کی مدت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری کی اور اس دوران یقینا مصر میں انہوں نے اپنی خاندان سے روابط رکھے اور مصر کے حالات سے باخبر رہے اور جب مدت پوری ہوگئی تو اپنے بال بچوں سمیت مدین سے مصر کی طرف مراجعت کی اس عرصہ میں یقینا فرعون کا اقتدار بھی بدل چکا ہوگا اور حالات بھی کروٹیں بدل چکے ہوں گے بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بیوی بچوں سمیت مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے اور اس عرصہ میں آپ کے خسر کا یقینا کوئی اور شخص بھی داماد بن چکا ہوگا اور اس طرح کوئی صورت ان کے اموال کو سنبھالنے کی بھی پیدا ہوچکی ہوگی چونکہ اس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی اس لئے قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا ، جن لوگوں نے مدین سے موسیٰ (علیہ السلام) کا کسی نامعلوم منزل کی طرف نکلنے کا ذکر کیا ہے ان کا موقف صحیح نہیں ہے اور جس آیت سے انہوں نے استدلال کیا ہے وہ استدلال بھی ان لوگوں کا صحیح نہیں ، بلاشبہ آپ وہاں سے مصر آنے ہی کے لئے نکلے اور یہ موسیم بھی یقینا سرما کا تھا اور رات دن سفر جاری رکھا ایک رات کو آپ نے کوہ طور کے قریب میں سے گزرتے وقت آگ دیکھی چونکہ رات تھی اور سردی بھی تھی آپ نے بال بچوں کو ایک جگہ بٹھوایا اور آپ آگ لینے کی غرض سے اس آگ کی طرف بڑھے اور بچوں کو کہہ گئے کہ تم یہاں ٹھہرو میں جہاں آگ نظر آرہی ہے وہاں سے آگ لاتا ہوں اور راستہ بھی معلوم کرتا ہوں کہ ہم صحیح سمت چل رہے ہیں یا کسی دوسری طرف چل نکلے ہیں ، چونکہ آگ لانے کا مقصد آپ نے آگ کا تاپنا بتایا ہے اس لئے یہ اس طرف کھلا اشارہ ہے کہ وہ موسم سرما کا تھا کہ رات کے وقت سردی کے باعث مسافروں کو آگ تاپنا پڑتی تھی اور مدین سے واپسی پر آپ کو مصر چھوڑنے کے لئے ممکن ہے کچھ لوگ بھی ساتھ آئے ہوں بلکہ یقینا کچھ اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے کیونکہ رات کے وقت صرف اکیلی عورت اس کے ایک بچہ کو چھوڑ جانا قرین قیاس نہیں ہے اور حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب اس کے قریب پہنچے تو میدان کی دائیں جانب ایک مبارک مقام پر ایک درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں سب جہانوں کا پالنے والا

موسیٰ جب آگ کے قریب پہنچ گئے تو آپ کو وہاں ایک آواز سنائی دی : 30۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس آگ کے قریب پہنچنا کیا تھا کہ آپ کو ایک درخت پر ایک روشنی نظر آئی تھی آپ اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روشنی دور سے دور ہی ہوتی چلی جا رہی تھی اور پھر وہاں آگ کی بجائے ایک آواز آپ کو سنائی دی وہ آگ کیا تھی ؟ اور آواز کیسی تھی ؟ آواز میں کیا بات آپ کو بتائی گئی ؟ آواز کس کی تھی ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی آواز میں قول ولحن بھی ہوتا ہے اور اس طرح کے سوالات کا جواب قبل ازیں ہم عروۃ الوثقی جلد پنچم میں سورة طہ کی آیت 10 تا 14 میں ذکر کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور (اے موسیٰ ) اپنا عصا پھینک دو پھر جب اس کو پتلے اور تیز سانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا اور (پیچھے) مڑ کر بھی نہ دیکھا ، اے موسیٰ ! آگے بڑھو اور مت ڈرو ، تم تو امن پائے ہوئے ہو

موسیٰ کی لاٹھی پھینکنے کا حکم اور سانپ کو دیکھ کر نہ ڈرنے کا حکم : 31۔ لاٹھی کے سانپ بنانے جانے اور سانپ کے لاٹھی ہوجانے کے استعارات کیوں استعمال کئے گئے ان میں کیا حکمت تھی ؟ اس کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کیسے ڈرے اور آپ کا ڈر کیسے دور ہوگیا ؟ اس طرح کے سارے سوالات کے جوابات سورة طہ کی آیات 19 تا 23 میں تفصیل سے دیئے جا چکے ہیں وہاں سے ایک نظر دیکھ لیں اور حقیقت حال کو یاد رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ وہ استعارات ہیں جو اکثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں پائے جاتے ہیں ایک بار بات سمجھ لی جائے تو سب جگہوں پر وہ کام دے سکتی ہے مطلب سمجھ میں آچکا ہے تو ان استعارات کے پڑھنے اور ادا کرنے میں جو لطافت ہے وہ لمبے لمبے قصوں اور کہانیوں میں کہاں میسر آتی ہے ، ان پر ایک بار نظر پڑتے ہی پورے کا پورا مضمون انسان کے دل پر اترنا شروع ہوجاتا ہے جس سے انسان کی عملی قوت کو وہ طاقت حاصل ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہے ۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر ڈالو ، وہ بلا کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف کے واسطے اپنے بازو پہلو سے ملا لیا کرو ، پس یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بلاشبہ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالنے کا حکم خاص : 32۔ لاٹھی اور سانپ کے استعارہ کے ساتھ ” یدبیضا “ کے استعارہ کا استعمال ایک اور ایک گیارہ کا مصداق ٹھہرا ۔ ان دونوں معجزات سے وہ تقویت آپ کو پہنچائی گئی کہ ایک مردہ قوم کو زندہ کردینے کے لئے جتنی قوت درکار ہوتی ہے وہ ان دونوں کے اندر سما گئی اور جب بھی اور جہاں بھی اس وقت کے اظہار کا وقت آیا اور اظہار ان سے کرایا گیا جس کے نتیجہ میں فرعون اور اس کا لشکر اپنی ساری طاقت وقوت کو بروئے کار لانے کے باوجود ناکام ٹھہرا اس لاٹھی کے نشان اور یدبیضا کے سہارے نے انجام کار اس داستان کا خاتمہ فرعون کی مکمل ناکامی اور موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی کمزور ترین قوم کی مکمل کامیابی سے ہم کنار کردیا ۔ اس کی تفصیل سورة طہ کی آیت 22 تا 24 میں ملاحظہ کریں ۔ سورة طہ عروۃ الوثقی کی پانچویں جلد کی آخری سورت ہے اور یہی وہ اہم نشانات ہیں جنہوں نے فرعون کی فرعونیت کو ختم کر کے رکھ دیا جب کہ موسیٰ ان دونوں کو لے کر اس کے دربار میں پہنچے اور ضرورت کے وقت ان دلائل کو بھری مجلس میں پیش کیا ۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا اے میرے رب ! میں نے ان میں سے ایک کو مار ڈالا ہے پس ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو مار نہ ڈالیں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے دربار میں حاضر ہونے کا عذر اور اس کا جواب : 33۔ یہی وہ آیت ہے جس سے مفسرین نے یہ استدلال کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے جب نکلے تھے تو مصر جانے کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اگر مصر جانے کا ارادہ ہوتا تو جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس پیغام لے جانے کا کہا تھا آپ یہ بیان کیوں دیتے کہ ” میرے اللہ ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے جانے کا جو ارادہ تھا اس میں اپنے خاندان میں رہنے کے لئے جانے کا تھا فرعون کو کوئی راہ دکھانے کا ارادہ نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ اگر فرعون کو چھیڑا ہی نہ جاتا تو خوف کس بات کا تھا کیونکہ قتل کا فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا تھا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے بھی اس قتل خطا کی معافی کا اعلان ہوچکا تھا کیونکہ آپ کا ضمیر مطمئن تھا اس وقت جو آپ نے قتل کرنے نہیں بلکہ قتل ہوجانے کا عذر پیش کیا تو اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اگر میں مصر پہنچ کر سیدھا فرعون کے دربار میں اس کو پیغام پہنچانے کے لئے گیا تو ظاہر ہے کہ وہ اور اس کے اہل دربار تو یہی کہیں گے کہ موسیٰ دوبارہ چھیڑ خانی کے لئے آگیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرور کوئی نہ کوئی فتور ڈالے گا اور جب انہوں نے میرے پیغام کو ایک فتور یا فتنہ کہا تو اس فتنہ اور فتور کو مٹانے کے لئے ایک بہانہ مجھ سے قتل ہوجانے کا تو ان کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے اگرچہ اس میں کوئی جان نہیں لیکن اگر حکومت کسی معاملہ میں متحرک ہوجائے تو اس کو مقدمہ کھڑا کرتے آخر دیر ہی کیا لگتی ہے جب کہ مقدمہ کے لئے ایک عذر وبہانہ بھی ان کے پاس موجود ہو۔ آپ اپنے ملک کے حالات کو دیکھ لیں تو آپ پر بات روشن ہوجائے گی کہ کتنے مقدمات تھے جن میں فی الواقعہ کوئی جان نہیں تھی لیکن حکومت نے ان میں مداخلت کرکے انکو ایسا تازہ زندہ وجاوید بنایا کہ اس بنا پر لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اور ایسے بھی مقدمات تھے کہ فی الواقعہ لوگوں نے قتل کئے اور ملک کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ ان کا قاتل کون ہے لیکن قاتلوں کو فرشتے ثابت کرکے دکھا گیا اور مقتولین کے قتل کا کچھ بھی نہ بنا یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ ایسے ہی کہ حکومت وقت نے چاہا کہ ایسا ہوجائے تو بس ایسا ہوگیا یہی ظالم قوموں اور ظالم بادشاہوں کی تاریخ اس وقت کہتی تھی اور یہی آج کہہ رہی ہے اور اس خطرہ کا ذکر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں عرض کیا تھا ، خیال رہے کہ ہمارا ملک پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اس وقت سے آج تک زمام حکومت اس ملک کے باشندوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ ہاتھ اس ملک کے لئے بہت فاصلہ پر ہیں اس ملک عزیز کے چند غداروں کو انہوں نے مہروں کے طور پر استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں حکومت کو بدل کر رکھ دیتے ہیں عوام کو نہیں تو ان مہروں کو یقینا علم ہے لیکن اگر وہ اس طرح استعمال نہ ہوں تو وہ یقینا اس ملک کے اندر رہ ہی نہ سکیں اور اگر رہیں تو حکومت کی کرسیوں پر وہ کبھی نہ بیٹھ سکیں اس لئے انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے طے کرلیا ہے کہ یہ ملک جب تک چلتا ہے اس طرح چلتا رہے تمہاری باری آئے گی تو ہم چشم پوشی کریں گے اور اگر ہماری باری آئی تو تم کو چشم پوشی کرنا ہوگی بس یہ معاہدہ ان کے سیاسی ایمان کا حصہ ہے باقی سب ہاتھی کے دانتوں کا معاملہ ہے اور ظاہر ہے کہ وہ کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں دراصل زمان حکومت ہے تو ان کے ساتھ یہاں کے مہروں کا اس طرح معاہدہ ہے کہ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون بہت فصیح اللسان ہے اس لیے اس کو میری مدد کے لیے میرے ساتھ رسالت دے دے تاکہ وہ میری تصدیق کرے ، مجھے شبہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں

موسیٰ (علیہ السلام) کی عرضداشت بدگارہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام : 34۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ! میرے ہاتھ سے ایک مصری قتل ہوگیا تھا اگرچہ اس کا تصفیہ ہوچکا لیکن فرعون حکمران ہے وہ اس معاملہ کو میرے لئے پریشانی کا باعث بنا سکتا ہے اور اگر وہ چاہے گا کہ میں موسیٰ کو قتل کرا دوں تو وہ اس کا بہانہ بنا سکتا ہے اور پھر اور کچھ نہیں تو اس کو مجھے جھٹلاتے ہوئے تو کچھ دیر نہیں لگے گی اور بلاشبہ یہ قتل خطا کی ایک ایسی خطا ہے جو میرے گلے میں اٹکتی ہے اور مجھے صاف بات نہیں کرنے دیتی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی فطری کمزوری واضح طور پر اپنے پروردگار کے سامنے بیان کی اس لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کے سینے ‘ دل اور دماغ ہر قسم کے داغ دھبوں اور میل کچیل سے پاک ہوتے ہیں انکو اپنی معمولی سے معمولی بات بھی کھٹکتی ہے اور دوسروں کا وہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنے اوپر میل کی ایک چھینٹ بھی سخت شاق گزرتی ہے اور اس طرح کی باتیں ہیں جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کو دوسرے انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ہمارا آپ کا حال یہ ہے کہ اپنی ساری زندگی داغ داغ ہو تو ہمیں کبھی خیال تک بھی نہیں آتا بلکہ کوئی ہمارے کسی داغ کا نام لے لے تو ہم اس کے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں لیکن دوسروں کی صاف اور ستھری زندگیاں بھی ہمیں گندی نظر آتی ہیں اور ان کو بات بات پر نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ قتل خطا کی بات بار بار کھٹکتی ہے اور جب نبوت و رسالت جیسا پاک منصب اللہ رب العزت نے عطا کردیا تو آپ کا یہ کھٹکا مزید بڑھ گیا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے اے میرے پروردگار ! مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں اور یہ بھی کہ وہ میری تکذیب کریں گے اور مجھ کو جھٹلائیں گے ، یہ منصب عالی جب تو نے مجھے عطا فرمایا ہے تو میرے سینہ کو فراخ کر دے اور اس اہم خدمت کو میرے لئے آسان فرما دے اور میری زبان میں یہ پڑی ہوئی گرہ کھول دے تاکہ میں واضح طور پر مکمل کر ان سے بات کرسکوں اس دعا کی تفصیل پیچھے سورة طہ میں گزر چکی ہے اور اے میرے پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ہارون میرا بھائی مجھ سے زیادہ فصیح ہے کہ اس کو اس طرح کا کوئی کھٹکا نہیں ہے بلکہ وہی تو ہے جس نے میرے اس قتل خطاء کے معاملہ کو بھی صاف کرایا تھا کہ وہ میرا بھائی ہے ‘ بڑا ہے ‘ برداشت رکھتا ہے اگر تو اس کو بھی اس منصب میں میرے ساتھ ملا دے اور یہ منصب تو اس کو بھی عطا فرما دے تو ہم ایک ایک اور دو گیارہ ہوجائیں گے ۔ بات تو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی وہ بالکل صاف اور واضح تھی لیکن جن کی اپنی کالی ہنڈیاں ہیں ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ بات سمجھ میں نہ آئی اور انہوں نے زبان کی گرہ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے غیر فصیح ہونے کے لئے بیشمار دلائل گھڑے اور پھر اس کی وجوہ بیان کیں اور طرح طرح سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بیان کردہ کمزوری کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی کوشش کی کہ فی الحقیقت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی آپ کو غصہ بھی جلد آجاتا تھا اور برداشت کی بہت کمی تھی نعوذ باللہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں اس طرح کی کوئی کمزوری ہو اگر کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر ‘ ناچیز ‘ لاشی ‘ ناکارہ ‘ خادم اور اسی طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو وہ لوگ حضرت العلام ‘ علامہ ‘ پروفیسر ‘ ایم اے اور فاضل السنہ ‘ صدر الافاضل ‘ صدر المدرسین ‘ شیخ القرآن ‘ شیخ الحدیث ‘ بقیۃ السلف وغیرہ کے نام تحریر کرنے کے عادی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے ناموں کے ساتھ حقیر اور خادم لکھنے والے واقعی حقیر ‘ ناچیز اور خادم ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس بیان کو بھی اس طرح کا سمجھیں گے اور پھر جب ان کو یہودیوں کی روایات بھی سہارا دیں گی تو وہ ان روایات کو بیان کرکے اپنی کہی ہوئی بات کو کیوں نہ سچ کر دکھائیں گے ؟ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت و رسالت کے بار کو بہت بھاری سمجھے ہوئے عرض کی میرے بھائی کو میرا معاون و مددگار بنا دیا جائے کہ وہ میرے پیچھے میری تصدیق کرنے والا تو ہوگا اور مجھے جھٹلانے والوں کو کچھ تو جواب دے گا کہ دوسرے شخص کی صفائی اپنی صفائی کی بنسبت زیادہ آسان ہوتی ہے پھر قرآن کریم نے ثابت کیا ہے کہ بلاشبہ ہارون (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پشت پناہی کے لئے یہی کام سرانجام بھی دیا کہ وہ تصدیق کرنے والوں میں پیش پیش رہے اور کبھی موسیٰ (علیہ السلام) سے آگے بڑھ کر کوئی بات اور کوئی کام نہیں کیا حالانکہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے تھے ۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ہم تیرے بھائی کو تیرا قوّتِ بازو بنا دیتے ہیں اور تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے ہماری نشانیوں کے باعث (اس لیے) تم دونوں اور تمہارے پیروکار غالب رہیں گے

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال کے تکمیل کا اعلان کردیا : 35۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا سوال کیا تھا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے تین باتیں عرض کی تھیں ایک یہ کہ اے پروردگار ! قبطیوں کا اتفاقی قتل مجھ سے ہوگیا تھا اگرچہ اس کا تصفیہ ہوچکا لیکن مجھے خوف ہے کہ کہیں فرعون کو جب میں رسالت کا پیغام پہنچاؤں تو وہ مجھے قتل کردینے کی کوئی سکیم کرے دوسرے بات یہ تھی کہ وہ مجھے جھٹلا ہی دے کہ بات نہ مانے تیسری بات یہ تھی کہ میرے بھائی ہارون کو اس بار رسالت میں میرا شریک کار بنا دے کہ وہ میری تائید کرنے والا ہو اور ایک ایک دو گیارہ کے تحت میری ہمت و طاقت بڑھ جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ ! تیرے بھائی ہارون کو تیرا مددگار ومعاون بنا دینے کا ہمارا پروگرام پہلے ہی طے ہے تو جس مصر پہنچے گا تو اس کو تیار پائے گا کہ ہم نے جو بات تجھ سے کی ہے اس سے بھی کردی ہے ، رہی یہ بات کہ وہ لوگ تجھے قتل ہی کردینے کی کوئی سکیم نہ کریں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے جو سکیمیں بھی پاس کیں وہ تھے قتل نہیں کر پائیں گے اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر وہ تجھے جھٹلائیں گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی ہاں ! ہم انجام تجھ کو بتائے دیتے ہیں کہ انجام کار تم دونوں بھائی ہی کامیاب ہو گے فرعون اور اس کے ساتھی یقینا ناکامی کی موت مریں گے آپ اس بات کی فکر مت کریں جب میں خود تمہارا معاون و مددگار ہوں تو فرعون کی کیا مجال ہے کہ وہ تجھے قتل کر دے گا جب کہ ہماری مشیت میں فرعون کے ہاتھوں تیرا قتل ہونے طے نہیں کیا گیا ہاں ! اگر ہماری طرف سے کوئی ایسی بات طے ہوچکی ہوتی تو ہم اس کے متعلق تجھے ضرور آگاہ کردیتے لیکن ہم تو اعلان کر رہے ہیں کہ تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب ہونے والے ہو۔ پھر زمانہ نے دیکھا کہ وہی کچھ ہوا جو اللہ رب کریم نے فرمایا تھا ۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر پہنچا تو وہ بولے ، کچھ نہیں یہ تو ایک بنایا ہوا جادو ہے اور اس کا تذکرہ ہم نے اس سے پہلے اپنے باپ دادوں میں (کبھی) نہیں سنا تھا

موسیٰ جب فرعون کے پاس آئے ‘ اس نے موسیٰ پر ساحر ہونے کا الزام لگایا : 36۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے رسالت ونبوت کا پیغام لے کر خوشی خوشی اپنے لوگوں کے پاس گئے اور ان کو اس آگ کے متعلق بتلایا کہ وہ آگ نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشنی دکھائی گئی تھی اور جب میں وہاں پہنچا تو یہ پیغام میں دیا گیا اور اس پیغام میں میرا بھائی ہارون بھی میرے ساتھ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہارون کو بھی اپنی نبوت و رسالت کے لئے چن لیا ہے اور اب میں نے تم کو مصر پہنچا کر سیدھا فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کی توحید کا پیغام پہنچانے کے لئے جانا ہے اور وہاں چل کر مصر آئے اپنے خاندان میں رہائش اختیار کی اور بھائی کے ساتھ مل کر فرعون کے دربار میں گئے اور اس کو توحید کا درس دیا اور اس کو اس کی ربوبیت سے منع کیا کہ فرعون تو الہ نہیں ہے بلکہ الہ تو وہ ہے جس نے ہم کو اپنا پیغام دے کر تیری طرف روانہ کیا کہ تم جا کر فرعون کو کہہ دو کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے اور اگر نہیں تو قوم بنی اسرائیل کے ان کے آبائی وطن کی طرف منتقل ہونے کی اجازت دے دے تاکہ وہ اپنا قومی تشخص قائم رکھ سکیں اور تجھے قوم بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنانے اور ان سے بیگار لینے کا کوئی حق نہیں ۔ ان پیغامات کا ذکر پیچھے سورة طہ اور سورة الشعراء میں گزر چکا ہے ، یہ پیغامات پہنچانے کے بعد ان کے دلائل وبراہین پیش کئے جن دلائل میں عصا اور یدبیضا کے دونوں نشانات سرفہرست تھے ۔ فرعون اور اس کے درباریوں نے جب دلائل سنے اور عصا ویدبیضا کے دو بڑے نشانات بھی دیکھے تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جادوگر ہونے کا الزام عائد کیا اور ان دلائل وبراہین کا کوئی جواب پیش نہ کرنے کے باوجود آپ کو جادو گر ہی کہتا رہا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ ہم نے آج تک ایسی باتیں اپنے آباء و اجداد سے تو نہیں سنیں تھیں جو تو ہم کو بتا رہا ہے ، ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ ہم نے تجھے دریا میں اٹھایا اور تیری نہایت اچھے طریقہ سے پرورش کی اور پھر جب تو نے ہوش سنبھالا تو تو نے وہ کچھ کیا جو تیرے جیسا طوطا چشم آدمی ہی کرسکتا تھا کہ ہمارے ایک ناحق آدمی کو قتل کردیا اور پھر اس ملک سے تو بھاگ گیا اور اب تو جب واپس آیا ہے تو اللہ کے نبی اور رسول ہونے کا دعوی لے کر آیا ہے اور پھر دعوی پر دلیلیں وہی ہیں جو اس طرح چالاکی کے ساتھ گھڑی ہوئی ہیں کہ ان کو سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں کہا جاسکتا حالانکہ تیرے جیسے انسان پر اس طرح کی کاموں کی امید نہیں کی جاسکتی تھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ تیرے بگاڑ کا اصل سبب کیا ہے ؟ یہ ساری باتیں تفصیل کے ساتھ پیچھے سورة طہ اور سورة الشعراء میں عرض کردی گئی ہیں ۔ سورة طہ عروۃ الوثقی جلد پنجم اور سورة الشعرا عروۃ الوثقی جلد ششم میں ہے ۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ میرا رب ہی خوب جانتا ہے کہ اسکے پاس کون ہدایت لے کر آیا اور کس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا ، بلاشبہ ظالم کبھی مراد کو نہیں پہنچ سکتے

فرعون کی باتوں کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حوصلہ اور صفائی سے جواب دیا : 37۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تو مجھے ساحر اور افتراء پرداز قرار دیتا ہے لیکن میرا پروردگار میرے حال سے خوب واقف ہے کہ اس نے جس آدمی کو رسول مقرر کیا ہے وہ کیسا آدمی ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخر انجام کس کا اچھا ہے یعنی جو نیک عمل کرے گا اس کا انجام بہتر ہوگا اور جو شخص اللہ کا مقرر کیا ہوا رسول نہ ہو محض رسول کا روپ دھار لے تو وہ ظالم ہے اور ظالموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوگی ۔ تفصیل اس کی سورة الحاقہ کی آیات 43 تا 47 میں ہوگی ۔ انشاء اللہ ۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے سردارو ! مجھ کو اپنے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ معلوم نہیں (تمسخر کے طور پر کہا) اے ہامان ! میرے لیے گارے کو آگ میں پکا پھر میرے لیے ایک (بلند) محل بنا تاکہ میں موسیٰ کے اِلٰہ کو جھانک کر دیکھ آؤں اور بلاشبہ ! میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں

فرعون نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ کیا تم میرے سوا اپنا کوئی الہ جانتے ہو ؟ : 38۔ خناس لوگوں کی فطرت بھی بڑی عجیب واقع ہوئی ہے کہ جب کسی بات کا جواب بھی بن نہ آئے اور اس کی بات کی تصدیق بھی کرنے کو جی نہ چاہے تو ایسے وقت میں یہ خرانٹ اور خناس قسم کے لوگ کیا کرتے ہیں کہ جس سے مخاطب ہو کر بات کی جا رہی ہو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو مخاطب کرلیتے ہیں ‘ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا جواب خود سوچ لو تمہارا تعلق جس طبقہ سے بھی ہے فطرت انشاء اللہ جواب صحیح دے گی ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے بھرے دربار میں رب العالمین کا ذکر کیا تو اسے سخت ناگوار گزرا اس نے اپنے وزراء اور رؤساء مملکت کی طرف ایک تجسانہ نظر سے دیکھا اور پھر نہایت تکبر اور غرور بھرے لہجے میں اس نے کہا کہ موسیٰ کی بات کی طرف التفات نہ کرنا میں نے خوب تحقیق کرلی ہے کہ میرے سوا تمہارا اور کوئی معبود والہ نہیں میں ہی تمہارا الہ ہوں ۔ رک جاؤ اس کے خطاب پر ایک نظر ڈالو کہ اس نے اپنے اعوان وانصار کو مخاطب کرکے کیا کہا اس کے سوال کا انداز کیا ہے ؟ (آیت) ” یایھا الملاء ما علمت لکم من الہ غیری “۔ ” اے سردارو ! مجھ کو تو اپنے سوا تمہارا کوئی معبود والہ معلوم نہیں “ حالانکہ سیدھا سوال تو یہ تھا کہ اے سردارو ! کیا تم میرے سوا اپنا کوئی الہ و معبود سمجھتے ہو ؟ ممکن تھا کہ اس سیدھے سوال کا کوئی سیدھا جواب بھی دے دیتا اس لئے میں نے اس کو خرانٹ اور خناس کہا ہے کہ ان لوگوں کے سوال و جواب کی نوعیت عام لوگوں سے بہت مختلف ہوتی ہے بلاشبہ یہ ان لوگوں کا خاص فن ہے اور آج کل کے یہ خرانٹ اور خناس تو بہت آگے نکل چکے ہیں وہ دیہات میں ہوں تو خدایان وہ ہیں اگر قصبات اور شہروں میں ہوں تو بلاشبہ آج بھی وہ معبود والہ ہی ہیں اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں ہے جس کے ساتھ ان کی مثال دی جاسکے ۔ بہرحال اس کے بعد فرعون نے اپنے مشیر خصوصی ہامان کو حکم دیا کہ موسیٰ جس خدا کا ذکر کر رہا ہے وہ زمین میں تو کہیں کسی کو نظر نہیں آیا ہوسکتا ہے کہ آسمان پر ہو اس لئے اے ہامان ! تم ایک نہایت بلند محل یا مینار تعمیر کرو تاکہ میں ان پر چڑھ کر آسمان پر جھانکوں اگر موسیٰ کا خدا وہاں ہوا تو مجھے نظر آجائے گا اور اگر وہاں بھی بھی نظر نہ آیا تو پھر تو تم سب کو یقینا آجائے گا کہ میرے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں ۔ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لئے اس آیت میں دو چیزیں سمجھنے کی ہیں ایک یہ کہ فرعون اپنے آپ کو الہ کہتا تھا اس سے اس کا مقصد کیا تھا ؟ دوسرے یہ کہ فرعون نے ہامان کو بلند مینار بنانے کا حکم دیا تھا اس سے اس کا مقصد کیا تھا ؟ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا اپنے آپ کو الہ کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے بلکہ زمین و آسمان کا خالق تو وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو سمجھتا تھا ، اس دنیا میں آئے ہوئے اس کو کتنی مدت گزری تھی یقینا اس سے بڑے لوگ بھی موجود تھے جن کے سامنے اس کی پیدائش ہوئی وہ بڑا ہوا اور بادشاہ بنا یہ زمین و آسمان اور دوسرے مظاہر فطرت تو اس سے لاکھوں سال پہلے کے ہیں اور وہ اتنا نادان بھی ہرگز نہیں تھا کہ ایسی بات کا دعوی کرتا جو سراسر ناقابل تسلیم ہوتی بلاشبہ الہ کے دعوی سے اس کا مفہوم یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو ساری رعایا کا ایسا حکم دینے والا سمجھتا تھا جس کے بعد کوئی دوسرا حکم نہیں دے سکتا اور جو وہ حکم دے وہ آخری اور قطعی ہو اس میں کمی بیشی اور ادھر ادھر ہونے کو کوئی سوال نہیں یا یوں کہئے کہ وہ اپنی حیثیت یہ سمجھتا تھا کہ میرے حکم پر کوئی شخص تنقید کا حق نہیں رکھتا گویا میری زبان ہی اصل قانون ہے اور میرے ملک مصر میں صرف اور صرف میرا ہی حکم چلے گا موسیٰ یا ہارون کو کوئی حق نہیں کہ ایک بات میں کہوں اور وہ اس سے سر پھیر کر تسلیم کرنے سے انکار کردیں اور برملا یہ بات کہیں کہ میرا یہ کام یا حکم رب العالمین کے مرضی کے خلاف ہے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ جو میں کہتا ہوں وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی مرضی ورضا ہے ۔ رہی دوسری بات ہامان کے ساتھ جو اس نے مینار تعمیر کرنے کی کی تھی تو یہ ایک معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اس نے کو کچھ کہا از راہ تمسخر و مذاق کہا نہ اس کا ارادہ کسی مینار کے تعمیر کرنے کا تھا اور نہ ہی اس نے اس مقصد کے لئے کوئی محل تعمیر کیا بلکہ اس نے تو اپنی رعایا کو دھوکا دینے کے لئے یہ بات کہی تاکہ لوگوں کی توجہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کی طرف نہ ہوجائے اور لوگ حقیقت کے متعلق کچھ سوچنا ہی نہ شروع کردیں بلکہ لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ لوگ یہاں موجود ہیں وہ سمجھ لیں کہ موسیٰ نے جو کچھ کہا اس کی تحقیق کی جارہی ہے اور بادشاہ سلامت بنفس نفیس اس کام میں مصروف ومشغول ہیں کچھ عرصہ کے بعد حقیقت کا پتہ چلے گا اگر آپ غور کریں تو آج بھی اگر حکومت کے سامنے کوئی ایسا مطالبہ پیش ہوجائے جس کے رد کردینے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو تو حکومت ٹال مٹول کے لئے ایک کمیشن مقرر کردیتی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ کو وقتی طور پر منتشر کردیا جائے اور لوگ یہ سمجھ جائیں کہ ابھی تحقیق ہو رہی ہے بس ابھی کچھ دیر توقف کریں اور اس توقف ہی توقف میں معاملہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے جب کا یہ ملک تقسیم ہوا کتنی حکومتیں بدلیں اور بیسیوں سے متجاوز زبانوں اور کاموں کی تحقیق کے لئے کمیشن مقرر ہوئے کیا کسی ایک کا فیصلہ ہوتے بھی آج تک آپ نے دیکھا ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہ آج کے سارے فرعون اور اسی فرعون کے شاگرد رشید ہیں اور گرو چیلہ ہمیشہ زیادہ طاق ہوتا ہے ، لیکن ہمارے مفسرین نے بلاشبہ فرعون کی اس بات کو لاریب صحیح سمجھا اور وہ اس مینار کی لمبائی اور چوڑائی کی ناپتے نظر آتے ہیں اس لئے تقریبا بہت سے مفسرین نے اس کے طرل مینارہ کی داستانیں نقل کی ہیں اور اس کو عجائبت دنیا میں سے ایک عجوبہ شمار کیا ہے شاید انہوں نے سلیمانی ٹوپی پہن کر اسکو کہیں دیکھ لیا ہو لیکن ہمارے ہاں وہ ٹوپی موجود نہیں اس لئے ہمیں نظر نہیں آیا یا ہم دیکھنے سے قاصر رہے ۔ اگر آپ کو دیکھنے کا شوق ہو تو متداول تفسیروں کا مطالعہ کریں یا کسی بڑے حضرت العلام سے ملاقات کرکے بالمشافہ گفتگو کرلیں شاید وہ آپ کو کوئی اس کا محل وقوع بتا سکیں ۔ ہاں ! قادیان میں بھی ایک طرل مینارہ بنایا گیا تھا لیکن اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے یہ بات ذرا لمبی ہے اس لئے کسی مناسب وقت پر ہوگی ۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور (اس طرح) فرعون اور اس کے لشکر ناحق زمین میں مغرور ہو رہے تھے اور سمجھ رکھا تھا کہ ان کو ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آنا ہے

فرعون اور اس کے لشکر نے بغیر حق کے تکبر کیا اور وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے : 39۔ فرعون اور اس کے لشکر نے تکبر و غرور کی راہ اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں پر دھیان کرنے کی زحمت گوارار ہی نہ کی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت عقل وفکر کی دعوت تھی لیکن بڑے لوگوں کی باتوں پر کوئی عقل سے کام لے تو آخر کیوں لے ان کا حکم تو صرف ماننے کیلئے ہوتا ہے سمجھنے کے لئے نہیں اور ہماری مذہبی پیشوا ان کی اس حرکت سے اتنے متاثر ہوچکے ہیں کہ ہو جو بات چاہیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نام سے کہہ دیتے ہیں اور پھر جب کوئی شخص عقل سے کام لے کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا ایسا حکم اللہ تعالیٰ کی ذات دے بھی سکتی ہے یا نہیں تو یہ لوگ جھٹ کفر کا فتوی جڑ دیتے ہیں کہ دیکھو اللہ کی کہی ہوئی بات کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ بڑوں کی باتوں کو عقل سے نہیں پرکھا جاسکتا بلاشبہ یہ تفہیم فرعون اور اس کے لشکر کی طرف سے آئی ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے نہیں اور انہوں نے یعنی فرعون اور اس کے درباریوں نے ایسی باتیں اس لئے کی اور کہی تھیں کہ وہ حقیقت میں آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ اپنے آپ کو کسی ضابطے کا پابند بھی نہیں سمجھتے تھے اور ان کے خیال میں قانون کی پابندی کرنا کمزوری کی علامت خیال کی جاتی تھی اور ہمارے مذہبی پیشواؤں نے بھی اس کی تقلید میں اس کو کمزوری قرار دیا ہے حالانکہ اگر غور کیا جائے تو وعدہ خلافی نہ کرنا اور نہ ہونے دینا طاقت وقوت کی ایک بہت بڑی اہم دلیل ہے ۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اور اس کے تمام لشکروں کو پکڑ لیا اور پھر ان کو دریا میں پھینک دیا ، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا

وہ وقت بھی آیا کہ فرعون اور اس کے سارے لشکر کو پانی میں بھسم کردیا گیا : 40۔ فرعون اور اس کے لشکر کے لوگ تو ” ہم چوما دیگرے نیست “ کا نعرہ بلند کرتے تھے اور بلاشبہ وہ اس نعرہ کو بلند کرتے رہے جب تک ان کو پکر نہیں لیا گیا لیکن جونہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پکڑ کا وقت آیا اور دریائے نیل یا بحرقلزم کے پانی کے دو گھونٹ سیدھے اندر چلے گئے تو اسی وقت فرعون پکار اٹھا ” میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور ا میں بھی اس کے فرمانبرداروں میں ہوں ‘ (یونس 10 : 9) لیکن اس کی اس بےوقت بات کو فورا رد کردیا گیا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے حکم آیا جو مشیت ایزدی نے ہو چھوٹے بڑے کو سنوا دیا کہ ” ہاں ! اب تو ایمان لایا حالانکہ پہلے برابر نافرمانی کرتا رہا اور تو دنیا کے مفسد انسانوں میں سے ایک بڑا ہی مفسد انسان تھا ۔ “ (یونس 10 : 9) یہی بات زیر نظر آیت میں کہی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ کر گہرے سمندر میں پھینک دیا اور ان کی بڑائی کچھ کام نہ آئی غور کرو کہ ان ظالموں کا کیا حشر ہوا اور وہ کس انجام سے دو چار ہوئے “ تفصیل اس کی پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف آیت 137 ‘ عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة طہ کی آیت 78 ‘ 79 میں بیان کردی گئی ہے ۔
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا ، وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے روز ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا

فرعون اور اس کے دریاری ایسے لیڈر تھے جو قوم کو آگ کی طرف لے گئے : 41۔ (وجعلنھم) اور ہم نے ان کو یعنی فرعون اور اس کے اعوان وانصار کو ایسے لوگ بنایا تھا (ائمۃ یدعون الی النار) جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا ، قانون مشیت کے خلاف نہیں ہے اس لئے ان کی اس برائی کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ کوئی شخص جو کچھ بننا چاہتا ہے تو ہم اسکو اپنے قانون کے مطابق وہی کچھ بنا دیتے ہیں ہمارے قانون میں طے شدہ بات ہے کہ ہم نے جب انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے تو اب جو کچھ بھی وہ ہمارے دیئے ہوئے اختیار کے باعث بنا اس کو ہم ہی نے وہ کچھ بنایا اور بلاشبہ فرعون کو بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا تھا اور اس کے اعوان وانصار کو بھی اور اس وقت جو فرعونیت سے کام لے کر فرعون بنے ہوئے ہیں وہ بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے اختیار سے بنے ہوئے ہیں ۔ اگر یہ اختیار انسان سے واپس لے لیا جائے تو پھر وہ مجبور محض ہوگیا اور مجبور محض کبھی مکلف نہیں ہوسکتا اور پھر جو مکلف ہی نہ رہا اس پر کسی طرح کی آخر گرفت ہوگی تو کیوں ؟ اور اگر اس کو کوئی کام کرنے پر انعام ملے گا تو کیوں ؟ یہی وہ راز ہے جس کو نہ سمجھنے کے باعث لوگوں نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں ، فرمایا فرعون اور اس کے درباری جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی قیامت کے روز کسی طرح کی مدد نہیں دیئے جائیں گے اور اس طرح وہ سب لوگ جو اپنے اپنے وقت میں فرعون بنے رہے اور جو اس وقت بنے ہوئے ہیں سب ہی اس کے مستحق ہیں کہ قیامت کے روز انکی مدد نہ کی جائے ۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے دن بدحال لوگوں میں ہوں گے

اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی اور آخرت میں بھی وہی مردود ہوں گے : 42۔ اس دنیا میں جو ان کو مہلت دی گئی تھی اس سے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور جو قدم انہوں نے اٹھایا وہ پہلے سے زیادہ غلط تھا اس لئے ان کا انجام اس دنیا میں دریائے نیل یابحرقلزم میں غرق ہونا رکھا گیا تھا لہذا وہ غرق ہوگئے اس طرح ان کے پیچھے لعنت خداوندی لگی کہ آج تک لوگ ان کو ملعون کہتے ہیں اور رہتی دنیا تک کہتے رہیں گے اور ازیں بعد آخرت اور قیامت کا روز جب آئے گا تو بلاشبہ ان کا شمار انہیں لوگوں میں ہوگا جو مردود ومطرود ہوں گے گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردیئے جائیں گے دنیا کے سارے نیک اور صالح لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی بری گت بنے گی اور بلاشبہ سزا کے طور پر انکے چہرے بھی بگاڑ دیئے جائیں گے اور ان کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ۔