Ayah 28:59ہم نے جب بھی کسی قوم کو ہلاک کیا تو ان کے ظلم ہی کے باعث کیا ہے :
59۔ یہ اس سنت اللہ کا بیان ہے جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری وساری رہی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کیا یہاں تک کہ پہلے اس بستی میں اپنا کوئی نہ کوئی رسول مبعوث فرمایا اور اس رسول نے آکر اپنی قوم کو اپنی قوم کو ان کے برے اعمال کے باعث ڈرایا اور اللہ تعالیٰ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائیں لیکن جب انہوں نے رسول کی مخالفت کی اور پھر مخالفت میں ساری حدود کو انہوں نے توڑ دیا اور ظلم کرنے میں اتنے آگے نکل گئے کہ گزشتہ قوموں کو وہ بہت پیچھے چھوڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اسی نبی ورسول کے ذریعہ ان کی مہلت کا وقت متعین کردیا پھر جب انہوں نے اس وقت تک بھی توبہ نہ کی اور باز نہ آئے تو ان کو ایک بار پھر ہلاکت کی اطلاع دے کر ان کے لئے توبہ کا دروازہ بند کردیا اور نتیجۃ نبی اور اس کے متبعین کو وہاں سے نکال کر باقی لوگوں کا بھوسی اور چورا بنا دیا یہ سلسلہ بدستور عیسیٰ (علیہ السلام) تک چلتا رہا کیونکہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک قوم ‘ ایک بستی اور ایک مقررہ حدود کے لئے بنی ورسول مبعوث ہوتے رہے لیکن یہ سلسلہ محمد رسول اللہ ﷺ پر لا کر ختم کردیا گیا اور ابن نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت ورسالت تمام عالمین کے لئے دی گئی اور آپ ﷺ کی بعثت سے لے کرتا اختتام نظام دنیا اس کا وقت مقر کردیا گیا اس لئے ظاہر ہے کہ اب پہلے کی طرح صورت حال ممکن نہیں رہی اس کے لئے ایک نئے اصول کا اعلان کردیا گیا ‘ وہ اعلان کیا ہے ؟ فرمایا :
(آیت) ” وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ (21) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْہَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنتَقِمُونَ (السجدہ 32 : 21 ‘ 22)
اور اب ہم اس بڑے عذاب سے پہلے اس دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کی سزا نہیں چکھاتے رہیں گے شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیرلے بلاشبہ ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے ۔ “
گزشتہ قوموں کے دنیوی عذاب کی صورت پیچھے ذکر کئی گئی ہے اور بلاشبہ وہ صورت حال نبی اعظم وآخر ﷺ تک جاری رہی لیکن جب نبی رحمت کی نبوت و رسالت رہتی دنیا تک کے لئے ضروری ٹھہری تو اب پوری کائنات کے خاتمہ کے لئے تو وہی ایک دن مقرر ہے جو سارے نبی ورسول بتاتے آئے اب اس قومی اور علاقائی عذاب کی صورت اس طرح بیان کی گئی کہ اس ” عذاب اکبر “ کے مقابلہ میں ” عذاب ادنی “ کی صورت نافذ کردی گئی جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو اس دنیا میں انسانوں کو انفرادی طور پر پہنچتی رہتی ہیں مثلا سخت بیماریاں ‘ عزیز و اقارب کی موت ‘ المناک حادثات ‘ مختلف طرح کے نقصانات ‘ ناکامیاں وغیرہ اور اجتماعی زندگی کے لئے طوفان زلزلے ‘ سیلاب ‘ وبائیں ‘ قحط ‘ فسادات ‘ لڑائیاں اور بڑی بڑی عظیم جنگیں اور آسمانی بلیات جو ہزاروں ‘ لاکھوں بلکہ کروڑوں اور اربوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ، ان آفات کے نازل کرنے کی مصلحت یہ بیان کی گئی ہے کہ عذاب اکبر میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی لوگ ہوش میں آجائیں اور اس طرز عمل وفکر کو چھوڑ کر جس کی پاداش میں ان کو مقررہ دن میں وہ بڑا عذاب بھگتنا پڑے گا سیدھی راہ پر چل نکلیں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انکی یہ دنیا بھی یقینا ایک دن تاریک ہوگا اور آخرت بھی ان کی یقینا برباد ہو کر رہ جائے گی ، آج زمانہ ترقی کرتے کرتے کہاں کا کہاں پہنچ گیا لیکن کیا ان آسمانی اور زمین بلیات کا خاتمہ ہوگیا ؟ کیا اب ایسا نہیں ہوتا کہ ایک اچھا بھلا طاقتور ملک آن کی آن میں تہ وبالا کردیا گیا ہو ؟ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کو اپنی بےبسی اور اپنے سے بالاتر ایک ہمہ گیر سلطنت کی فرمانروائی کا احساس پیدا ہو اور یہ آفات ایک ایک شخص کو اور ایک ایک گروہ بلکہ ایک ایک قوم کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ تمہاری قسمتوں کو تم نہیں بلکہ تمہارے سوا کوئی اور ہے جو کنڑول کر رہا ہے اور سب کچھ تمہارے کنڑول میں نہیں دے دیا گیا اصل طاقت اس کار فرمائے اقتدار کے ہاتھ میں ہے اسی کی طرف سے جب کوئی آفت تمہارے اوپر نازل کردی جائے تو نہ تمہاری کوئی تدبیر اسے رفع کرسکتی ہے اور نہ کسی جن یا روح یا دیوی و دیوتا نبی ورسول سے مدد مانگ کر تم اس کو روک سکتے ہو ۔ اس لحاظ سے یہ آفت محض آفت نہیں ہے بلکہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے تنبیہات ہیں جو انسانوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے اور اس کی غلط فہمیاں رفع کرنے کے لئے بھیجی جاتی ہیں ان سے سبق حاصل کرکے دنیا ہی میں اگر کوئی شخص اپنا عقیدہ وعمل درست کرلے تو آخرت کے عذاب سے یقینا وہ بچ سکتا ہے ۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے انسانوں کی بھلائی کے لئے قرآن کریم میں ایک طرح کی نہیں مختلف طریقوں کی کھلی اور واضح نشانیاں بھی بیان کی ہیں جن کا ذکر یہاں کیا گیا ہے فرمایا ” اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیرے “۔ ان نشانیوں پر بھی ذرا غور کرو تاکہ بات مزید واضح ہوجائے ‘ نشانیاں تو اس قدر ہیں کہ اگر ان کی وضاحت شروع کردی جائے تو اس کے لئے ایک دفتر درکار ہے مختصر یہ کہ :
1۔ وہ نشانیاں ہیں جو زمین سے لے کر آسمان تک بلکہ اس سے اوپر تک ہرچیز اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں ۔
2۔ وہ نشانیاں ہیں جو انسان کی پیدائش اور اس کی ساخت اور اس کے جسم وجان میں پائی جاتی ہیں۔
3۔ وہ نشانیاں ہیں جو انسان کے وجدان میں اس کے لاشعور اور تحت الشعور میں اور اس کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں ۔
4۔ وہ نشانیاں ہیں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں ۔
5۔ وہ نشانیاں ہیں جو انسان پر آفات ارضی وسماوی کے نزول میں پائی جاتی ہیں ۔
6۔ وہ نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل کے ذرعیہ سے بھیجی ہیں تاکہ معقول طریقہ سے انسان کو انہی حقائق سے آگاہ کیا جائے جن کی طرف اوپر کی تمام نشانیاں اشارہ کر رہی ہیں۔
بلاشبہ ساری نشانیاں پوری ہم آہنگی اور بلند آہنگی کے ساتھ انسان کو یہ بتا رہی ہیں کہ تو خود بخود نہیں آیا بلکہ تیرا بھیجنے والا بھی ہے اور یہ بھی کہ وہ صرف اور صرف ایک اللہ ہے جو پوری کائنات کا رب ہے اور یہ بھی کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ رب اور الہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہے اور تو اس کا بندہ ہے اگر بندہ بن کر ہی رہے گا تو تیرے لئے بہتر ہوگا ۔
Ayah 28:60اس دنیا میں تم کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ سب عارضی ہے ‘ ہمیشگی نہیں ہے :
60۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ ایک عارضی فائدہ ہی تو ہے کیونکہ اس کی کسی چیز کو بھی ہمیشگی نہیں ہے سب سے زیادہ اہمیت اس دنیا میں انسان کی ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے لیکن کیا اس کے لئے ہمیشگی ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہی اشرف المخلوقات باقی ساری کائنات میں سے بےاعتباری اور عارضی چیز ہے جس کے لئے کوئی معین وقت اس کو نہیں بتایا گیا بلکہ اس کی ” اجل مسمی “ سے کوئی بھی انسان واقف نہیں ہے پھر ” اجل مسمی “ تو وہی ہے جس کو موت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن انسان کی زندگی کے جو نشیب و فراز ہیں ان سے کوئی آگاہ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ہر معاملہ میں بیخبر رکھا گیا ہے ، دنیا جہان کے بارے میں اتنی بڑی بحثیں اٹھانے والا انسان اپنی کسی حرکت سے بھی آگاہ نہیں ہے کہ اس میں ایک لحظہ میں کیا تبدیلی آسکتی ہے اور وہ کیا سے کیا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ آج شاہ ہے تو کل گدا ہوسکتا ہے اور اسی طرح آج گدا ہے تو کل شاہ ہو سکتا ہے ، آج صحت مند ہے تو زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ بیمار پڑجاتا ہے ‘ ابھی خوش نظر آرہا تھا اور ہنسی و مذاق میں مشغول تھا کہ اچانک رونا اور پیٹنا شروع کردیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی اس موجودہ حالت کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا کرے ۔ پھر اتنی بےبس چیز جس کی کسی چیز کو بھی ثبات لیکن اس کے مقابلہ میں اس پروردگار حقیقی کے پاس جو کچھ ہے اس کے لئے کبھی فنا اور ختم ہونا نہیں ہے ، غور کرلو کہ پھر عقل کا تقاضا کیا ہے اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے ہر وقت دوڑ دھوپ جس کے لئے فنا ہی فنا ہے یا اس چیز کے لئے جس کو کبھی فنا نہیں ؟ پھر یہ بھی کہ عقل وکفر کیا کہتی ہے اور انسان کیا کرتا ہے اور بلاشبہ عقل مند وہی ہے جو عقل وفکر کے تقاضا کے مطابق عمل پیرا ہے ۔
Ayah 28:61دنیا حاصل کرنے والا فائدے میں رہا یا آخرت کا متلاشی فیصلہ خود کرلو :
61۔ ہمارے ہاں اصول یہ طے ہے کہ جو متلاشی ہوتا ہے وہ پالیتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا اس کو کبھی بھی نہیں دیا جاتا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ جس کی اس کو تلاش ہوتی ہے وہی اس کو ملتا ہے ایسا کبھی نہی ہوسکتا کہ کوئی شخص دنیا کی طلب رکھے اور اس کے ہاتھ میں آخرت تھما دی جائے اور ایک آخرت کی طلب رکھتا ہو اور اس کو دنیا دے کر ٹرخا دیا جائے ، ہاں ! یہ دوسری بات ہے کہ مسلمان کی طلب کیا ہے ؟ فرمایا ملتا تو وہی ہے جو جس کی طلب ہوتی ہے اور اگر طلب صادق ہے تو جب تک اس کو وہ دیا نہ جائے گا وہ آخر مطمئن ہی کیوں ہوگا لہذا صرف دنیا طلب کرنے والے کو دنیا دی جاتی ہے اور بلاشبہ بعض اوقات اتنی وافر دی جاتی ہے کہ اس کی طلب سے بھی بہت زیادہ کیونکہ یہ دینے والے کی مرضی ہے لیکن ہاں ! جو کچھ اس کو دیا جائے گا بلاشبہ وہ دنیا کی زندگی ہی کے لئے ہوگا آخرت میں اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہوگا جو اس کو کچھ فائدہ دے ۔ غور کرو کہ یہ فرعون ‘ شداد ‘ ہامان اور قارون کے ناموں سے تمہار بچہ بچہ واقف ہے کیا دولت کی ان کے پاس کوئی کمی تھی اور دنیا کی کونسی وہ چیز ہے جو ان کو نہیں دی گئی تھی لیکن ان کی آخرت کا کیا بنا ؟ خود نبی اعظم وآخر ﷺ کے رؤسا مکہ کے پاس کس چیز کی کمی تھی ہاں ! یہ ابوجہل ہے ‘ ابولہب ہے ‘ عتبہ ہے ‘ شیبہ ہے ‘ کیا ان کے پاس دنیا کے مال کی کوئی کمی تھی ؟ ان کا انجام کیا ہوا اور ان کے مقابلہ میں یہ بلال ؓ ہے ‘ عمار ؓ ہے ‘ یاسر ؓ ہے ‘ صہیب ؓ رومی ہے ‘ ابوذر ؓ غفاری ہے جو سارے کے سارے دنیوی اعتبار سے غریب ونادار ہیں جن کے نام سے بھی رؤسائے مکہ اس طرح بھاگتے تھے کہ کہیں ان کا نام لینے سے ان کو کوئی نحوست ہی آکر نہ پکڑ لے اور وہ ان ہی کی طرح کہیں افلاس کے شکنجہ میں نہ کس دیئے جائیں ۔ حالانکہ ان کا یہ تصور سراسر فریب نفس تھا کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا اس کو ختم ہوتے آخر کتنی دیر لگی اور جن کے پاس کچھ نہیں تھا ان کا نام تو آج تک زندہ وجاوید ہے اور ان شاء اللہ العزیز رہتی دنیا تک زندہ وجاوید رہے گا اور آخرت میں ان کے لئے جو انعامات رکھے گئے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں پھر غور کرو کہ فائدے میں کون رہا اور خسارہ کس نے اٹھایا ؟
Ayah 28:62وہ دن کہ ان کو کہا جائے گا کہ لاؤ میرے شریکوں کو کہ وہ کہاں ہیں ؟
62۔ اس دنیا میں دنیا پرستوں نے جن جن لوگوں کو بھی اپنا معبود بنایا ہے خواہ وہ کون ہوں ان معبود بنانے والوں سے کہا جائے گا کہ جن لوگوں کو تم نے میرے شریک قرار دیا تھا اب بلاؤ انکو کہ وہ کہاں ہیں ؟ بلاشبہ ان میں وہ بھی ہوں گے جو خود گمراہ تھے اور دوسروں کی گمراہی کا باعث ہوئے اور وہ بھی جو خود تو گمراہ نہ تھے بلکہ وہ لوگوں کو توحید کا درس سکھانے کے لئے آئے تھے اور ساری زندگی ان کو یہی درس دیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید سکھائی لیکن ان کی وفات کے بعد لوگوں نے انکو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا ان سب کو بلانے کا حکم ہوگا پھر ان کے بلانے کے ختم ہوجائے وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے تو کبھی تیرے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں تھا لیکن بعض ایسے بھی ہوں گے کہ وہ ان کو بلائیں گے لیکن ان کو کوئی جواب دینے والا ہی نہ ہوگا اور بعض بنائے گئے معبود حاضر ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو کبھی ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا اور پھر بعض ایسے بھی ہوں گے جو اپنے پکارنے والوں کو کہیں گے کہ ہم نے تم پر کوئی سختی تو نہیں کی تھی صرف ایک بات تھی جو تم سے کہی تھی لیکن تم نے اپنی خوشی سے اس کو قبول کرلیا تھا اب جو حال ہمارا وہی تمہارا ‘ صبر کرو یا روؤ چلاؤ ہم تو تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ان سب گروہوں کی تفصیل پیچھے سورة الانعام میں گزر چکی ہے اور وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اگرچہ وہ معبود بنائے گئے تھے لیکن خود بےگناہ اور بےقصور ہوں گے ان کو تو کسی طرح کی سرزنش کے علاوہ باعزت طور پر چھوڑ دیا جائے گا لیکن جن جن کا قصور ثابت ہوگا وہ بھی اپنے قصور کی سزا پائیں گے لیکن رہے مشرک وہ خواہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو حاجت روا اور مشکل کشا اور الہ و معبود بنا کر مشرک ہوئے یا کسی دوسری ہستی کو بہرحال انکے لئے ایک جیسی سزا ہوگی یعنی بت پوجنے والا ہو یا قبر کی پرستش کرنے والا لات ومناۃ اور عزی کو پکارنے والا ہو یا عیسیٰ (علیہ السلام) یا علی ؓ و حسین ؓ کو حاجت روا اور مشکل کشا جاننے ان کی شرک میں کوئی فرق نہیں ہوگا اس لئے ان سب کی سز بھی ایک ہی جیسی ہوگی ۔ زیر نظر آیت میں کہا جارہا ہے کہ ” اے چار روزہ زندگی پر گھمنڈ کرنے والو ! میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے والو ! انکی دعوت کے خلاف انہی کو پکارنے والو ! اس دن کا بھی خیال کرو جب تمہیں کہا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم ہمارا شریک ٹھہرایا کرتے تھے اس وقت تم کف افسوس ملو گے لیکن بےسود اس لئے بہتر ہے کہ آج ہی اصلاح کرلو ۔ “
Ayah 28:63اے ہمارے رب ! ان لوگوں کو ہم نے گمراہ کیا تھا اور اس لئے کیا تھا کہ ہم خود گمراہ تھے :
63۔ مشرکوں کے مزہبی پیشوا ہوں یا سیاسی لیڈر جب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اب معاملہ تھوڑی ہی دیر میں خود بخود کھلنے والا ہے اور ابھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ ہم ہی تھے جو ان مشرکوں کو مشرک بنا کر مطمئن کئے ہوئے تھے تو وہ بڑی چالاکی سے خود ہی کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے پیش ہو کر کہیں گے اے ہمارے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا اور ہم نے ان کو اس لئے گمراہ کیا تھا کہ ہم خود گمراہ ہوچکے تھے یا ہم کو بھی گمراہ کردیا گیا تھا اس لئے ہم نے ان کو بھی گمراہ کردیا گیا تھا اس لئے ہم نے ان کو بھی گمراہ کیا لیکن رہا معاملہ اب کا تو اب ہم ان سے بیزار ہیں اور تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے کیونکہ ہمارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے انہوں نے اپنی آزادئی رائے سے ہم کو اپنا معبود بنا لیا اور ہم جو حکم دیتے رہے یہ بخوشی اس کو مانتے رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے بڑی چالاکی سے اعتراف کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جو گواہ وعدہ معاف ہو اس کو سزا نہی ہوتی لہذا عذاب الہی کے دیکھتے ہی ان کی ساری لیڈری اور پیشوائی ہرن ہوگئی اور انہوں نے کمال ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جرم کا اقرار کرلیا ، اس طرح کے گمراہ پیروں ‘ پیروؤں اور لیڈروں کی خاطر و تواضع کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 38 ‘ 39 ‘ میں تفصیل سے کردیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 28:64مشرکین سے کیا جائے گا کہ بلاؤ اپنے معبودوں کو لیکن ان کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا :
64۔ گزشتہ آیت میں ان کھلنڈرے معبودوں کا ذکر گزر چکا جنہوں نے خود اعلان کیا تھا کجہ ہم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور پھر اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ہم نے ایسا کیوں کیا ؟ پھر وہ اس بات سے انکار بھی کریں گے کہ ہم نے ان کو نہ تو ورغلایا تھا اور نہ بزور ان کو مجبور کیا تھا ہاں ! ہم نے ایک بات کی تھی جو انہوں نے اپنی خوشی اور مرضی سے مان لی تھی ، انہوں نے بڑی چالاکی دکھائی تھی لیکن ان کی یہ چالاکی ان کے کچھ کام نہ آئی اور جو ہونا تھا وہ ہوگیا ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو انہوں نے اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنایا کہ اب تو تم نے عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا بس ابھی تم اس میں گرائے جانے والے ہو اس لئے ذرا ان لوگوں کو جن کو تم نے معبود بنا رکھا تھا ان کو پکارو پھر وہ پکاریں گے لیکن جن کو وہ پکاریں گے ان کی طرف سے ان کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ اب انہوں نے بھی تو صرف یہی کہ کاش ! ہم ہدایت یافتہ ہوتے گویا نہ خود گمراہ ہوتے اور نہ ہی دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ظاہر ہے کہ ان سے مراد وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو خود شریک خداوندی بنے بیٹھے تھے یا کم از کم وہ جن کو لوگوں نے شریک خداوندی بنایا اور انہوں نے جاننے کے باوجود اس سے ان کو منع نہ کیا بلکہ ان کے ایسا کرنے پر خوش ہوئے اور ان کی انا کو تسکین پہنچی ۔
Ayah 28:65ان سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے جو رسول تمہارے پاس بھیجے تھے ان کو تم نے کیا جواب دیا ؟
65۔ اب اتمام حجت کے لئے ان سب کو خواہ وہ شریک کرنے والے تھے یا شریک ہونے والے ‘ پوجنے والے تھے یا پوجے جانے والے سب سے سوال کیا جائے گا کہ ہمارے رسول تمہارے پاس آئے تھے تو تم نے انکو کیا جواب دیا تھا وہ یہ بات سنیں گے تو گویا ان پر سکتہ طاری ہوجائے گا اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کچھ جواب نہ دیں گے اور اس طرح بلاشبہ ان سب کی حالت دیدنی ہوگی اور یہ وہی صورت حال ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا اور وہ اس طرح حواس باختہ ہوگیا کہ بولے تو کیا اور کہے تو کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اب انکار تو کر نہیں سکتا اور اقرار کرنا نہیں چاہتا اس لئے اب اس کے طوطے ایسے اڑ گئے کہ دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا ۔
Ayah 28:66وہ چپ چاپ ہوں گے کہ ” کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے “
66۔ ان کی آنکھیں کھلی ہیں اور ان کا کیا دھرا سب ظاہر ہو رہا ہے کہ گویا وہ رنگے ہاتھوں پکڑ لئے گئے ہیں ان کی حیرت زائیگی اور لاجواب ہونے کی حالت اور کیفیت کوئی بیان کرے تو کیسے لیکن قرآن کریم ان کی اس حالت کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ (فعمیت علیھم الانبآئ) کہ وہ ایسے بدحواس ہوں گے کہ کسی سے کوئی بات بنائے نہیں بنے گی گویا وہ اس وقت ایسی حالت سراسیمگی میں گرفتار ہوں گے کہ نہ تو اس سوال کا جواب دے سکیں گے اور نہ جگہ سے ادھرادھر سرک کر ہی کسی سے کچھ پوچھ سکیں گے اور دلیلوں کے پہاڑ ان پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے کہ ان کی ساری چرب زبانی ہوا ہو کر رہ جائے گی اور اس سراسیمگی میں وہ کچھ بول نہ سکیں گے ۔
Ayah 28:67ان کی اس حالت کا نقشہ ان کے سامنے کیوں پیش کیا گیا ؟
67۔ اوپر کی پانچ آیتوں میں جو مضمون بیان کیا گیا وہ کیوں بیان کیا گیا ؟ فرمایا ایک ہونے والے کام کا مکمل نقشہ ہم نے اس لئے ان کے سامنے بیان کردیا ہے کہ ابھی وقت ہے اگر وہ دنیا میں کسی ایسی حالت میں گرفتار ہیں جس کا نتیجہ اس طرح نکلنے والا ہے جس طرح ہم نے ان کو بتا دیا ہے تو چاہئے کہ وہ ابھی تائب ہوجائیں اور اپنے آپ کو ایسی حالت سے دوچار ہونے سے بچالیں کیونکہ ابھی وقت ان کے ہاتھ سے نکل نہیں گیا توبہ کا وقت باقی اور اعمال کی درستگی کی جاسکتی ہے اور اپنے سارے کئے پر ربڑ پھیرا جاسکتا ہے اس لئے کامیابی سے ان کا دو چار ہونا ممکن ہے اور جب تک سانس ہے یہ امید اپنی جگہ موجود ہے گویا صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا شاید وہ بات سن کر اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کرلیں ۔
Ayah 28:68ان کو بتایا جا رہا ہے کہ ذرا غور کرو کہ تم کو شریک ٹھہرانے کی ضرورت کیا ہے ؟ :
68۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے شرک کے رد کی کیا دلیل بیان فرما دی کہ اگر ذرا بھر بھی یہ لوگ عقل وفکر سے کام لیں تو ان پر ساری حقیقت واضح ہوجائے فرمایا کہ جب ان کو بھی یہ معلوم ہے کہ اللہ رب العزت ان کے سارے رازوں اور بھیدوں سے واقف ہے اور اس سے ان کی کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں پھر آخر ان کو کسی سے سفارش کرانے کی ضرورت کیا ہے ؟ اور جب اس نے ان کو بن مانگے بہت کچھ عطا کردیا ہے تو دوسروں کے واسطوں اور وسیلوں کی آخر ضرورت کیا ؟ اگر ان کو طلب ہے تو کیا وہ ان کے مانگے سے نہیں دے گا جب کہ بن مانگے اس نے ان کو بہت کچھ عطا کیا ہے اور یہ بات ان کے پاس اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ وہ اتنا سخی ہے کہ اس کی سخاوت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ۔ پھر اس پر تعجب یہ ہے کہ اس طرح واسطے اور وسیلے تلاش کرنے والے بھی جب اس کو اعظم معبود تسلیم کرتے ہیں پھر ان شریکوں کے لئے آخر ان کے پاس جواز کیا ہے ؟ اگر کوئی دلیل ہے تو چاہئے کہ وہ پھر جن جن کو انہوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا شریک ٹھہرایا ہے وہ سب کے سب اس کی مخلوق ہیں اور ان کے پاس کوئی اختیار بھی نہیں ہے جب وہ اپنے نفع ونقصان کے مالک نہیں تو آخر دوسروں کو وہ کیا نفع دیں گے ذرا یہ لوگ غور کر کے تو دیکھیں کہ جن کو انہوں نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنایا ہے وہ کن کن حاجتوں اور مشکلوں میں پھنسے رہے ہیں پھر کیا خود مصیبتوں میں پھنسنے والا بھی بھلا دوسروں کی مصیبتیں دور کرسکتا ہے کتنی واضح اور صاف بات ہے جس کو یہ لوگ نہیں سمجھ رہے حالانکہ ان کو چاہئے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کو اتار دیتے اور شرک سے توبہ کرتے ہوئے عقل وفکر کے ساتھ سمجھ کر سوچ کر سچے دل سے اعلان کردیتے کہ سبحان اللہ و تعلی عما یشرکون “۔
Ayah 28:69بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری چھپی باتیں بھی جانتا ہے اور ظاہر باتیں بھی :
69۔ وہ تمہاری ساری باتوں سے واقف ہے جو تم کر کے بھول گئے اور جو تم کر رہے ہو ان سے بھی اور جو تم کرو گے ان سے بھی کیونکہ ان کے لئے ماضی اور مستقبل کوئی چیز نہیں یہ سارے کا سارا چکر تو تم انسانوں کے لئے ہے پھر جو سینے کے رازوں سے بھی واقف ہے اس کے ساتھ کسی کو کوئی شریک ٹھہرائے گا تو اس کی آخر حقیقت کیا ہوگی اور یہ بھی کہ جب وہ وحدہ لاشریک ہے تو پھر اس کے کاموں میں کسی کو دخل دینے کا آخر حق کیا ہے ؟ عقل کے ناخن لو اور سیدھی بات کو سیدھے طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کرو اور آباؤ و اجداد کی اندھی تقلید کو چھوڑ دو اب زمانہ روشنی کا ہے دیکھو نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت کا سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ چمک رہا ہے لیکن تم ابھی روشنی کی تلاش میں ہو تمہاری عقل کا جنازہ کیوں نکل چکا ہے ۔
Ayah 28:70اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ساری ستائشیں ہیں اور الوہیت اسی کو زیبا ہے :
70۔ اجاز قرآنی پر غور کرو کہ اس کا کیا کمال ہے اور وہ بحث مضمون کو کسی طرح سمیٹ کر رکھ دیتا ہے گزشتہ آیتوں کی ساری بحث کو اس ایک ہی آیت میں جمع کر کے اس کا خلاصہ بیان کردیا کہ ” وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام اچھی تعریفیں اسی کی ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اسی کیلئے حکم ہے اور اسی کی طرف تم سب کو واپس لوٹ کر جانا ہے “ اس طرح گویا اس ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید ذاتی اور صفاتی کو بیان کرکے ان کے تمام شکوک و شبہات اور سارے اعتراضات کا جواب چند لفظوی میں بیان کردیا ۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آج تم ایک دوسرے سے ہزاروں بہانے بناسکتے ہو اور اپنی نیت بد کو رنگین پردوں میں چھپا سکتے ہو لیکن کل کیا ہوگا جب اللہ رب العزت کے سامنے تمہارا کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ راز بھی مخفی نہیں رہے گا اور اس وقت تمہاری چرب زبانی اور فریب کاری دھری کی دھری رہ جائے گی اور تم کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا بھی ہوگا ۔
Ayah 28:71اگر وہ رات کو ہمیشہ کے لئے کردے تو کون ہے جو دن کی روشنی لے آئے ؟ :
71۔ شرک کی ساری نسیں کاٹ دینے کے بعد توحید کے دلائل کو عقلی معیار کے مطابق کرکے بیان کیا جارہا ہے کہ صاحب عقل لوگ اپنی عقل پر ذرا زور دے کر سوچیں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ بلاشبہ یہاں اعلان توحید کیا جا رہا ہے لیکن سوال کرنے کے انداز سے اس کو بیان کیا گیا ہے کہ اے صاحب عقل وخرد ! ذرا غور کرو کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جس نے اس کارخانہ ہستی کو بنایا اور چلایا ہے اور آج بھی وہی ناظم اعلی ہے اگر تم پر کسی ایک رات کے آنے کے بعد رات ہی رات کر دے اور دن کبھی نہ آئے تو تمہارا کیا بنے ؟ یہ سوال اس لئے پوچھا جا رہا ہے کہ اس نے ایک ایسا بندھن باندھ دیا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ بندھا چلا گیا ہے اور ممکن ہے کوئی دوسرا نظام لاسکتا ہے اور اس کے ایسا کرنے پر اس کا پہلا نظام ہی خود شہادت کا کام دے رہا ہے کہ جس نے اس کو پہلی بار چلایا ہے وہ اس کے ختم کرنے اور دوسرا نظام لانے پر بلاشبہ قادر ہے اور اس کی اس قدرت کا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس نظام کو ختم کر کے ایک نیا نظام لے آئے جس میں دن رات کی یہ تبدیلی ختم ہو کر رہ جائے اور اس طرح فرض کرلو کہ وہ ایسی رات تم پرلے آئے کہ اس کے بعد دن نہ آئے تو تمہاری زندگی بھی آئے گی اور یہی بات منوانا اصل مقصود ہے جس کے ماننے کے کے لئے منکرین قیامت تیار نہیں ہیں اس لئے ان کے سامنے ایسا سوال کردیا گیا کہ اگر وہ اس کا کوئی جواب بھی دیں گے تو اس میں قیامت کا اثبات خود بخود نکل آئے گا اس طرح گویا ایک طریقہ سے باتوں ہی باتوں میں لگا کر ان سے اس بات کا اقرار کرلیا جا رہا ہے جس کا اقرار کرنے کے لئے وہ کبھی تیار نہ تھے فرمایا کہ تم ہی بتاؤ کہ اگر وہ ایسی رات لے آئے تو تمہارے ان معبودوں میں سے کوئی ہے جو دن کو روشنی لے آئے ؟ ہاں غور کرو اور سوچ کر جواب دو اگر تم کو یہی کہنا ہے کہ نہیں اور بلاشبہ تم ایسا کہنے پر مجبور بھی ہو تو کیا تم بات کو سن کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جب ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تو پھر آخر یہ سب کے سب کس مرض کیدوا ہیں جن کو تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رہے وہ کہ تم پر ایک مشکل بھی آئی اور وہ اس کے ٹالنے کے اہل بھی نہ نکلے تو کیا وہی معبودوں سے بہتر نہ رہا جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک چیز ہے اور پھر تم اس کو تسلیم بھی کرتے ہو ۔
Ayah 28:72اچھا اگر وہ دن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کر دے تو کوئی رات لانے والا ہے ؟
72۔ گزشتہ آیت میں اندھیرا دور کرکے روشنی لانے والے کے متعلق استفسار کیا گیا تھا اور مقصود اصل قیامت کا اثبات تھا جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا ہے اور زیر آیت میں پوچھا جا رہا ہے کہ اچھا بتاؤ اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام تمہارے کسی ایک دن کو دن ہی دن کر دے یعنی تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے سارا کارخانہ بدل دے اور ایک آن کی آن میں پہلا نظام بدل کر اس کی جگہ دوسرے نظام لے آئے اور اس نظام میں ایک دن کو دن ہی دن بنا دے کہ رات بالکل ختم ہو کر رہ جائے تو ظاہر ہے کہ تم بھی ختم ہونے کے بعد دوبارہ ایسے نظام کے دیکھنے کے لئے لائے جاؤ گے اب اس نظام کی اس دن کو بدل کر کوئی رات لانے والا ہے تمہارے معبودوں میں ہے ؟ پھر بلاشبہ جب تمہارا جواب نفی میں ہے تو اس نظام کے بدلنے کے لئے جب تم کو کہا جاتا ہے تو آخر تمہیں کے ماننے میں دقت کیا پیش آتی ہے ذرا سوچ سمجھ کر جواب دے دو اگر دے سکتے ہو ؟ گزشتہ آیت میں چونکہ رات کا ذکر تھا اور رات کو ظاہر ہے کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اس لئے اسی مناسبت سے اس آیت کے آخر پر جملہ لایا گیا تھا کہ (افلاتسمعون) کہ کیا تم سن نہیں رہے یعنی رات ہونے کے باعث اگر تم دیکھ نہیں سکتے تو سن تو سکتے ہو اس کیلئے تو رات دن کی تمیز کی کوئی ضرورت ؟ اور اب زیر نظر آیت میں چونکہ دن کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ (افلا تبصرون) کیا تم دیکھتے نہیں گویا آنکھیں بھی ہوں اور دن کی روشنی بھی تو پھر بھی اگر کسی کو نظر نہ آئے تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا ؟ یہی نہ کہ واندھا ہے پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا تم اندھے ہو کہ کچھ نظر نہیں آتا اگر نہیں تو پھر عقل سے کام لو اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا چھوڑ دو یہی بات تمہارے فائدے میں ہے ۔
Ayah 28:73اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے :
73۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جو تمہارے لئے اس طرح کا نظا بنا دیا ہے کہ ہر رات کے بعد دن اور ہر دن کے بعد رات رکھ دی ہے تو یہ بلاشبہ اس کا بہت بڑا فضل اور رحمت ہے ورنہ نہ تو آپ کی طرف سے کوئی اس طرح کا تقاضا تھا اور نہ ہی آپ کی طرف کوئی حق تھا جس کے عوض میں اس کا ایسا کرنا لازم وضروری ٹھہرا ہو ۔
بلکہ اس نے خود بخود اس طرح کا نظام تشکیل دیا ہے لیکن اب وہ تمہاری زندگی میں اس طرح راسخ ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک نہ ہو جاتو گویا تمہارے لئے جینا دوبھر ہوجائے۔ اس نے رات بنائی ہے تمہارے آرام کے لئے اور دن بنایا ہے تو تمہارے کام کے لئے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی اپنی معیشت کے لئے تگ ودو کرو اور جب پورا دن محنت ومشقت کرکے تھک ہار جاؤ تو وہ رات کو لے آتا ہے تاکہ تم آرام کرو اور پھر اس نے تمہارے لئے نیند بنائی کہ تم ایک بار جب سولو تو سونے کے بعد اٹھو تو پھر تروتازہ ہوجاؤ اور تمہارے جسم میں تھکاوٹ کا نام ونشان بھی موجود نہ ہو ادھر سورج طلوع ہوجائے اور تم پھر دوبارہ اپنی معیشت میں لگ جاؤ ۔ اسی طرح ساری زندگی تم گزارتے رہو تو جس ذات نے تمہارے لئے اس طرح کا نظام بنا کر چلا دیا ہے اس کا تم پر اتنا حق بھی نہیں بنتا کہ تمہارے منہ سے اس کی شکر گزاری کا کوئی لفظ ہی نکل جائے اور تم اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ ۔
Ayah 28:74بلاشبہ مشرکین سے کہا جائے گا کہ میرے شریکوں کو بلاؤ جن کو تم نے شریک بنایا تھا :
74۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو اس سے پہلے 62 کے طور پر گز چکی ہے جہاں سے یہ مضمون چلا تھا اور اس کو دوبارہ اس جگہ بیان کرنا گویا اتمام حجت کے طور پر ہے کہ ایک بات کو بار بار تمہارے سامنے بیان کیا جا رہا ہے لیکن تم ایسے مدہوش انسان ہو کہ تمہارے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی کہ یہ جو بار بار ہم کو کہا جارہا ہے کہ بلاؤ اپنے شریکوں کو جو تم نے اپنے زعم میں میرے لئے بنا لئے تھے اگرچہ یہ پکار تو قیامت کے روز ہوگی لیکن ہمارا حق تو بنتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا تجزیہ کرکے دیکھیں کہ کہیں ہم تو شرک کے مرتکب نہیں ہو رہے اور پھر جب تم اس طرح تجزیہ کر کے اس نتیجہ پر پہنچو کہ انکی یہ بیماری تو ہمارے اندر بھی موجود ہے تو یہ سوچ آنے کے بعد تم ہر وقت اس کا علاج کرلو اور اس مہلک مرض سے اپنے آپ کو بچا لو اس لئے کہ اگر تم زندہ ہو تو بلاشبہ تم کو کوئی زندگی دینے والا بھی ہے اور یہ بھی کہ جس نے تم کو یہ زندگی عطا کی ہے بلاشبہ وہ تم پر موت بھی طاری کرے گا اور جب وہ خود کہہ رہا ہے کہ میں تم کو دوبارہ زندہ کروں گا تو تمہارے لئے اس کا ماننا اور تسلیم کرنا مشکل کیوں ہو رہا ہے ؟ کیا تمہارا پہلی بار اس طرح پیدا کردینا اس بات کی دلیل نہیں کہ جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے وہ تم کو دوسری بار بھی پیدا کرسکتا ہے اور پھر جب وہ دوسری بار پیدا کرسکتا ہے اور یقینا وہ پیدا کرے گا تو ظاہر ہے کہ وہی یہ بات بھی کہہ رہا ہے کہ میں تم سے یہ باتیں پوچھوں گا تو لازما اس کو یہ سوال کرنے میں اتنی بات کو مان لینے اور ان سے پوچھے جانے والے سوالوں کی آج ہی تیاری کرلینے میں تمہارے لئے کتنی آسانی ہے لیکن تم ہو کہ اس آسانی سے ذرا بھی فائدہ حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔
Ayah 28:75ہم ہر ایک امت سے گواہ پیش کردیں گے جو ہم سے تمہارے لئے کی دلیل طلب کریں گے :
75۔ غور کرو کہ جب رسولوں کا آنا تم کو تسلیم ہے اور یہ بھی تم جان گئے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ضرور روانہ کیا ہے اور پھر تم کو یہ بھی معلوم ہوچکی کہ سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ بھی کہ فقط زندہ ہی نہیں ہونا ہے بلکہ اس دنیا میں جو کچھ ہم نے کیا ہے یا کرتے رہے ہیں اس کے متعلق ہم سے سوال بھی ہونا ہے کہ تم نے یہ اور یہ کیا ہے تو آخر کیوں ؟ پھر جب اس پر یہ اور یہ بھی ہمارا شرک بھی ثابت ہوجائے گا تو ہم ہر اس رسول کو بلائیں گے کہ آیا تو نے ان کو اس شرک سے منع نہیں کیا تھا کہ تمہارا حق نہیں کہ تم اللہ رب العزت کے ساتھ اس کے شریک ٹھہراؤ اور وہ گواہی دیں گے بلکہ ثابت کردیں گے کہ ہم نے تو ان کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار کہا تھا کہ باز آجاؤ اور ان کی اس شہادت کے بعد آخر تمہارے بچاؤ کی کوئی صورت باقی رہ جائے گی ؟ ہاں ! یہ کہ اب تم ان کو بلاؤ جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اچھا چلو تم نے ان کو بلایا لیکن انہوں نے تمہاری ایک نہ سنی اور تم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور تمہارا سارا کیا کرایا تارعنکبوت کی طرح ہوا کے ایک ہی جھونکے سے اڑ گیا تو پھر تم کیا کرو گے ؟ مگر ہاں یہ کہ تم کف افسوس ملتے رہ جاؤ جس سے تم کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا تم کو بار بار کہا جا رہا ہے کہ سنبھل جاؤ اور ہوش میں آؤ ذرا دیکھو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ اب مضمون کو ایک بار قوموں کی زندگی اور ہلاکت کی طرف پھیرا جا رہا ہے ۔
Ayah 28:76قارون جس کا تعلق قوم موسیٰ سے تھا لیکن دولت نے اس کو بےراہ کردیا :
76۔ قارون بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا متمول شخص تھا ، قرآن کریم نے اس کا نام قارون بتایا ہے اور تورات نے اس کو قورح کے نام سے یاد کیا ہے اس کے خزانے زردوجواہر سے پر تھے اور قومی ہیکل مزدوروں کی جماعت جن کی تعداد چالیس تک بتائی جاتی ہے جن کو آج کل کی زبان میں منیجر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھاتے تھے گویا اتنے ادارے اس کے چلتے تھے اور ہر ادارہ کا الگ ناظم ومنیجر تھا جو ذمہ دار افسر تھا جس کو آپ چابی بردار کہہ لیجئے ، اس تمول اور سرمایہ داری نے اس کو بیحد مغرور بنا دیا تھا اور وہ دولت کے نشہ میں اس قدر چور تھا کہ اپنے عزیزوں ‘ قرابت داروں اور قوم کے افراد کو حقیر اور ذلیل سمجھتا تھا اور انکے ساتھ حقارت سے پیش آتا تھا تورات کے بیان کے مطابق جس کی تصدیق مسلمان مفسرین قرآن کریم نے بھی ہے کی ہے کہا گیا ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا جس کا نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قارون (قارح) بن یصر بن قاہت اور موسیٰ (علیہ السلام) عمران بن قاہت کے چھوٹے بیٹے تھے گویا یصہر اور عمران حقیقی بھائی تھے ، مورخین کا کہنا یہ ہے کہ قارون قیام مصر کے زمانہ میں فرعون کا درباری ملازم رہا تھا اور اس نے دولت کا یہ بےانتہا انبار وہیں سے جمع کیا تھا اور سامری بھی اسی خاندان کا ایک فرد تھا ۔
موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم نے ایک مرتبہ اس کو نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بہت سی دولت دی ہے اور عزت و حشمت عطا کی ہے لہذا اس مالک حقیقی کا شکر ادا کرو اور مالی حقوق سے اپنی قوم بنی اسرائیل کے غرباوفقراء اور مساکین کی مدد کرکے ان کی دعائیں حاصل کرو ۔ اللہ رب العزت کو بھول جانا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنا اخلاق و شرافت دونوں لحاظ سے سخت ناشکری اور سرکشی کی بات ہے ، اس کی دی ہوئی عزت کا صلہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تم کمزوروں اور ضعیفوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگو اور نخوت وتکبر میں غریب عزیزوں کے ساتھ نفرت سے پیش آؤ ، قارون کا ذکر تورات میں قارح کے نام سے بتفصیل کردیا گیا ہے اگر دیکھنا مطلوب ہو تو گنتی باب 16 : 1 تا 50 کا مطالعہ کریں اور وہیں سے بہت سی باتیں ہمارے مفسرین نے بھی اخذ کرکے اپنی تفسیروں میں بھر دی ہیں۔
Ayah 28:77موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ قارون کی مجلس خاص میں :
77۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی مجلس میں اس کو وعظ کرتے ہوئے بہت سی نصیحتیں کیں اور اس کو ضمیر فروشی اور خصوصا قوم فروشی سے بہت روکا اور ہدایت کی کہ دیکھو تمہارا تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور فرعون بنی اسرائیل پر کس طرح ظلم وستم کر رہا ہے اور تم ہو کہ اس کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہو آخر اس دولت کو کہاں ثبات ہے اور اس نے کس کا ساتھ دیا ہے ۔ آپ فرعون کی حکومت سے اس قدر بےفکر زندگی کیوں بسر کر رہے ہیں جب کہ قوم کے ہاتھوں میں غلامی کی بیڑیاں اور گلے میں غلامی کا طوق باعث ننگ وعار ہے ۔
حالانکہ جو کچھ تم کو دیا گیا ہے اسی قوم فروشی کے باعث دیا گیا ہے تم اگر فرعون کے مقابلہ میں اٹھتے تو آج قوم بنی اسرائیل کی حالت یہ نہ ہوتی ۔ اسی طرح کی باتیں موسیٰ (علیہ السلام) نے قارون کے سامنے بےجھجھک بیان کردیں اور خصوصا اس کو آخرت کی طرف توجہ دلائی کہ یہ جو مال و دولت تجھ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے یہ اس لئے نہیں دیا کہ آپ اکڑ کر قوم کو دکھائیں بلکہ یہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ اپنی آخرت کو سنوار لو اور وہاں کی فلاح وفوز حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ یہ جو کچھ تم کو ملا ہے بلاشبہ یہ تمہارے باپ داد کی میراث نہیں ہے لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ اسکا تعلق آپ کی عقل وفکر سے بھی نہیں بلکہ ہاں ! اس کا تعلق تمہاری آزمائش اور امتحان سے ہے کہ تم اس میں اپنا حصہ کیا رکھتے ہو اور یہ رزق بھیجنے والے رب کریم کی رہ میں خرچ کرکے اس کی کتنی خوشنودی حاصل کرتے ہو اور جو نیکی اور احسان اللہ کی ذات نے تم پر کیا ہے یہ کیوں ہے ؟ محض اس لئے کہ تم دوسروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو اے قارون ! آپ فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں اور فساد فی الارض کا نتیجہ کبھی بھی اچھا نہیں نکل سکتا ، بلاشبہ زمین میں فساد چوری ‘ رہزنی ‘ ڈکیتی اور قتل و غارت کو بھی کہتے ہیں لیکن اصل فساد فی الارض علو و استکبار ہے کیونکہ اس آدمی اپنے حدود بندگی سے تجاوز کرکے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے حدود وحقوق میں مداخلت کرنے لگتا ہے جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہیں وہ دراصل مفسدین فی الارض ہیں خواہ وہ یہ کام کتنی ہی دانش فروشیوں کے ساتھ کریں یہی وہ لوگ ہیں جن کو کبھی اللہ رب پسند نہیں کرتا اور وہ ان کو آخر پسند بھی کیوں کرے گا جو انسانوں کو چھوڑ کر اللہ ہی کے مقابلہ میں اٹھائیں اور اس کے کاموں میں داخل اندازی شروع کردیں ۔ خیال رہے کہ جن ہاتھوں میں دولت ناجائز طریقوں سے آتی ہے اس کا نتیجہ ہمیشہ یہی نکلتا ہے جو قوم بنی اسرائیل کے قارون کا نکلا اور آج بھی ایسے قارونوں کی کوئی کمی نہیں ہے بلاشبہ جو لوگ ایسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ ان حربوں کے نتیجہ مین ایک دن کروڑ پتی ہوتے ہیں تو دوسری روز ارب پتی اس طرح ان کو کچھ موقع میسر آجائے تو وہ سارے پیتوں سے تجاوز کرکے حدود اللہ میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں یہی کچھ اس قارون نے کیا تھا اور یہی کچھ آج کے قارون کر رہے ہیں ۔
Ayah 28:78موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سن کر قارون نے جواب دیا :
78۔ بلاشبہ قارون کے جذبہ انانیت کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ نصیحت پسند نہ آئی اور اس نے مغرورانہ انداز میں کہا کہ موسیٰ ! میری یہ دولت و ثروت تیرے خدا کی عطا کردہ نہیں ہے یہ تو میری عقلی تجربوں اور علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے ، میں تیری نصیحت مان کر اپنی دولت کو اس طرح برباد نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کو اس طرح ضائع کرسکتا ہوں ، موسیٰ (علیہ السلام) نے قارون کی یہ بات بڑے غور سے سنی اور برابر اپنے فرض تبلیغ کو انجام دیتے اور قارون کو راہ ہدایت دکھاتے رہے ۔ قارون کے اس جواب کو سن کر جواب الجواب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا یا موسیٰ (علیہ السلام) ہی کہہ رہے ہیں کہ اس بدقسمت نے یہ لاف زنی کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ اس سے پہلے کتنے ہی اس طرح کے قارون گزر چکے ہیں جو قوت و جمعیت میں اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوئے لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے انکو چشم زدن میں تباہ وبرباد کردیا ۔ اگر قارون ذرا توجہ دیتا تو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تا کہ جس شخص کی وساطت سے اس نے یہ خزانے اکٹھے کئے اس کا نام فرعون تھا جو آن کی آن میں غرق کردیا گیا کیا اس کے غرق ہونے سے قارون نے اتنا بھی سبق حاصل نہ کیا لیکن سبق تو ہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کی اپنی توجہ بھی اس طرف مبذول ہو جو خود توجہ نہیں کرتے ان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہوتا ہے اور وہ دیکھ کر کبھی آہ تک نہیں بھرتے اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے اور ہر سنی ان سنی ان کے اس رویہ ہی سے سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے دن بھی گنے جا چکے ہیں ۔
ادھر اللہ رب العرت کا اعلان یہ ہے کہ ” ایسے گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا ؟ “ کیونکہ جب وہ ایسے گناہگاروں کو پکڑنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو ایک دفعہ ان کو بالکل آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں اس میں کوئی حسرت ان کی باقی نہ رہے وہ ہر طرح کے ظلم شروع کردیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ظلم کی داستانیں زبان زد خاص وعام ہونے لگتی ہیں اور وہ بےلگام گھوڑے کی طرح دوڑنا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح ان کی مہلت جب پوری ہوجاتی ہے تو اچانک اس طرح پکڑ لیا جاتا ہے کہ آج ان کے ظلم کی داستان بیان کرنے والے کل ان کے انجام کی داستان سننے لگتے ہیں ، قارون کو بھی جب آزاد چھوڑ دیا گیا تھا تو اس نے ظلم کرنے کی انتہا کردی اور اپنی قوم کے لوگوں کی ہرچیز بیچ کر کھا گیا اور قوم کو اس پستی میں ڈال کر خود بلندی کی طرف رواں دواں ہوتا رہا خیال رہے کہ جو لوگ قوم فروشی کرکے بڑے بنتے ہیں ان کو بڑے بنتے کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی لیکن سنت اللہ انکو کئی کئی پشتوں تک ڈھیل دیتی چلی جاتی ہے اور یہ اتنی مہلت محض اس لئے دی جاتی ہے کہ نسلا بعد نسلا ظالم جنتے رہی اور آخرت کے روز ان سارے ظالموں کو جو ایک دوسرے کے نہایت ہی گہرے رشتہ دار ہوں سب کو پکڑ کر سارے انسانوں کے سامنے بےبس کردیا جائے تو یہ عذاب ان کیلئے مزید دکھ کا باعث ہو کہ باپ ‘ بیٹا ‘ پوتا سب کے سب عذاب دوزخ میں جل رہے ہیں حالانکہ ان کے دنیوی کروفر سے کون واقف نہیں۔ قوموں کی زندگی میں ایسی مہلت عام دی جاتی ہے جس کو بہت سی آنکھیں دیکھتی ہیں اگر غور کرو گے تو آج جن قارونوں کو مہلت پر مہلت دی جا رہی ہے ان کو اپنی آنکھوں سے آپ دیکھ رہے ہیں لیکن ہمارے دیکھنے والوں کی اکثریت ایسی ہے کہ جب تک اس کا نتیجہ انکی آنکھوں سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دیکھ رہے ہیں اور پھر جب نتیجہ سامنے آتا ہے تو وہ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں اور جب نیا سین شروع ہوتا ہے تو وہ اپنی توجہ اس طرف مبذول کرلیتے ہیں اور گزشتہ کردار کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے کبھی ان کی آنکھوں نے اس کو دیکھا ہی نہ تھا ، آج ہماری قوم کے سارے اخباروں کے قارئین اور ریڈیو ‘ ٹیوی کے سامعین کی یہی حالت ہے کہ وہ ایک دن کا پڑھا اور دیکھا دوسرے دن تک بالکل بھول چکے ہوتے ہیں ۔ اگر یقین نہ آئے تو آزمائش کرکے دیکھ لیں اگر آپ کو تجزیہ کرنا آتا ہے تو کسی مبصر کے دس تبصرے ‘ کسی واعظ کے دس وعظ ‘ کسی مقرر کی دس تقریریں ‘ کسی مدرس کے دس درس مسلسل سن لیں اور اسی طرح کسی صدر اور کسی وزیراعظم ‘ کسی وزیر اعلی ‘ کسی گورنر ‘ کسی وزیر ومشیر کے دس اخباری بیانات اکٹھے کرلیں اور اب ان کو مسلسل پڑھ کر دیکھیں تو آپ پر ساری روشن ہوجائے گی بات تو قارون کی ہو رہی تھی اور ہم کہاں نکل آئے ؟ کہیں بھی نکل کر نہیں گئے بات قارون کی ہو رہی تھی اور اسی سے بات قارونوں کی چھڑ گئی کیوں ؟ اس لئے کہ قارون کی بات قرآن کریم نے بیان کی تاکہ ہم وقت کے قارونوں کو اس قارون کے کردار پر رکھ کر دیکھ لیں اور ہم نے بھی یہی کچھ کیا ہے ذرا حافظہ پر زور دیں بات وہی جاری ہے جو شروع کی تھی ۔
Ayah 28:79قارون کا طمطراق سے نکلنا اور قوم بنی اسرائیل کا اس کو دیکھنا :
79۔ قارون نے جب دیکھا کہ موسیٰ کس طرح بھی پیچھا نہیں چھوڑتا تو اس کو زچ کرنے کے لئے اور پنی دولت و حشمت کے مظاہرے سے مرعوب کرنے کے لئے ایک دن بڑے کروفر کے ساتھ نکلا ، موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے کے ایک بڑے مجمع میں پیغام الہی سنا رہے تھے کہ قارون ایک بڑی جماعت اور خاص شان و شوکت اور پوری نمائش کے ساتھ سامنے سے گزرا بلاشبہ اس کا ارشارہ یہ تھا کہ اے موسیٰ ! اگر تیرے پاس بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت ہے تو میرے پاس بھی ایک جتھا موجود ہے لیکن تیری جماعت اور میرے جتھے میں جو فرق ہے اس کو اپنی آنکھوں سے ذرا دیکھ لے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا ۔ بنی اسرائیل نے جب قارون کی اس دنیوی شان و شوکت و عظمت کو دیکھا تو ان میں سے کچھ آدمیوں کے دلوں میں انسانی کمزوری نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ بےچین ہو کر اپنے دل ہی دل میں یہ دعا کرنے لگے کہ اے کاش ! یہ دولت و ثروت اور عظمت و شوکت کہیں ہم کو بھی نصیب ہوتی ۔ قارون کو تو دنیا کے مال و دولت کا وافر حصہ ملا ہے دیکھو کہ یہ شخص کتنا خوش نصیب و خوش بخت ہے کہ آج اس کا طوطی بولتا ہے ، قارون کے نکلنے کا اظہار اور لوگوں کا اس پر تبصرہ آپ نے سنا اب ایمانداری سے غور کرو کہ ہم بھی جب ان قارونوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے طمطراق کی داستانیں سنتے اور ان کی خاص میٹنگوں میں ان کو دیکھتے ہیں کیا ہمارے دل میں بھی یہ بات نہیں گزرتی اور کیا ہماری زبانیں اس طرح بیان نہیں کرتیں کہ کسی ظالم سے ظالم کی خوشحالی کی بات سنتے ہیں تو یہی نہیں بولتے کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے اور اس کی کیا ہی شان و شوکت ہے اچھا پھر بنی اسرائیل کے ان مبصرین اور ہم میں فرق کیا رہا ؟ بلاشبہ اگر بنی اسرائیل کے فرعون اور آج کے فرعونوں میں کوئی فرق نہیں تو اس وقت کے دیکھنے والوں اور بیان کرنے والوں میں اور ہم جو دیکھنے والے ہیں اور بیان کرنے والے ہیں ان میں بھی کوئی فرق موجود نہیں ۔
Ayah 28:80قوم کے اہل دانش نے ان کے چہروں سے بھانپ لیا اور ان کو مخاطب کرکے کہا :
80۔ بنی اسرائیل کے ارباب بصیرت نے ایک نظر قارون اور اس کے جتھے پر ڈالی اور پھر اپنی قوم کے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو ساری بات سمجھ گئے اور پھر فورا مداخلت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا کہ خبردار ! اد دنیوی زیب وزینت پر نہ جانا اور اس کے لالچ میں کہیں گرفتار نہ ہوجانا تم نے شاید نہ دیکھا ہو یا نہ سنا ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس دولت و ثروت کا انجام بد کیا ہے کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور قوم کو بیچ کر اکٹھا کیا ہوا مال اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو پیچھے ہوتا آیا ہے یقینا اس کا بھی وہی انجام ہوگا کیونکہ جہاں ناچ گانے ہوں اور شہنائیاں بجیں وہاں ایک دن زاغ وزغن اور بوم وام کا بسیرا بھی ہوتا ہے اور ان کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں افسوس ہے تمہارے لئے کہ تم نے جو قارون کے پاس مال و دولت کو دیکھ کر اس طرح کی خواہش کی کہ کاش ہمارے لئے بھی ایسا ہوتا حالانکہ اس ختم ہوجانے والے مال و دولت سے تو وہ اعمال ہزار درجہ بہتر ہیں جو اچھے اعمال ہیں کیونکہ ان کا صلہ انسان کو قیامت کے روز ہی ملے گا اور اس جگہ بھی اس کے عمل کی پذیرائی ہوگی جو شخص نیک اعمال سے محروم ہوگیا اس کے پاس چاہے ساری دنیا کی دولت ہو تو وہ یقینا کنگال کا کنگال ہے کہ جس کے پاس کوئی ایک چیز بھی نہیں یہاں تک کہ تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور پاؤں میں جوتا بھی نہ ہو کیونکہ وہ مکمل طور پر حکمت سے محروم ہوگیا اور بلاشبہ اس کو اس دولت اور ثروت نے اس سے محروم کردیا لیکن یہ حکمت ومؤعظت کن لوگوں کو میسر آتی ہے ، انہی کو جو صبر کرنے والے اور آخرت کی محنت و کوشش میں لگے رہنے والے ہوں اور آخرت کی طلب بھی وہ رکھتے ہوں رہی یہ بات کہ جملہ (آیت) ” ولا یلقھا الا الصابرون “۔ کس کا ہے ؟ ان لوگوں کا جن کو قرآن کریم کی اس آیت میں اولوالعلم کہا گیا ہے یا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا تو بلاشبہ دونوں باتوں کا احتمال ہے اور پھر جن کے متعلق یہ بات کہی گئی ان کی سعادت میں کوئی شک وشبہ کی بات نہیں جملہ انکا ہوگا تو بھی اور اگر یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین بیان ہوا ہے تو بھی ۔ اس جگہ ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں بنی اسرائیل کی حالت کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو تاہم ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ضرور تھے جو صحیح معنوں میں اولو العلم کہلانے والے تھے لیکن آج ہماری حالت اتنی بگڑ چکی ہے کہ ہم میں ایسا صاحب علم شاید ہی کوئی میسر آئے ہمارے ہاں کے علامہ اور حضرت العلام اور ملاناؤں کی حالت بہت مختلف ہوچکی ہے کیونکہ وہ سارے کے سارے خواہ وہ کسی گروہ اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہوں وہ وقت کے قارونوں کے ہی ہم نوالہ وہم پیالہ ہیں وہ کوئی بات اگر ان وقت کے قارونوں کے خلاف کریں گے تو وہی جس میں ان کی ذات کا کوئی نقصان ہورہا ہو یا ان کے مکتب فکر پر کوئی حرف آرہا ہو ان کے ہاں حق اور ناحق وہی ہے جس میں ان کو ذاتی نقصان نظر آئے بلکہ اس وقت اگر آپ غور کریں گے تو نظر آئے گا کہ خود قارون کا کردار ادا کر رہے ہیں کہ اپنے گروہ اور اپنے اپنے مکتب فکر کو فرعونوں کے ہاتھ بیچ رہے ہیں اس لئے ہم ان کو ” اولوالعلم “ نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ جہالت کے داعی ہیں لیکن وہی جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو مگر ان کی جگہ نہ فرعونوں میں نہ قارونوں میں نہ ان مولاناؤں میں ہاں ! اگر کہیں گم سم پڑے ہوں تو وہ دوسری بات ہے ۔