Ayah 27:83ہم ہر امت سے ایک گروہ اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلانے والوں پر مشتمل ہوگا :
83۔ پیچھے ذکر محمد رسول اللہ ﷺ کا چلا آرہا تھا اور آپ ﷺ کو ہدایات اور تسلی دی جا رہی تھی کہ مضمون کو قیامت کے روز کی طرف منتقل کردیا گیا اور قیامت سے جس طرح کا تعلق نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کا ہے بالکل اسی طرح دوسرے انبیائیکرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) اور انکی امتوں کا بھی ہے چونکہ آپ ﷺ کی امت کا ذکر جاری تھا اس لئے وضاحت فرما دی کہ یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ کی امت ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے سارے نبیوں اور رسولوں کی امتوں کا مسئلہ ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اس دن یاد رکھو جب ہم ہر امت میں سے اپنی آیات کی تکذیب کرنے والوں کے گروہوں کو اکٹھا کرلیں گے اور ان سب کی درجہ بندی کردی جائے گی خواہ وہ زمانہ اور وقت کے لحاظ سے ہوگی اور خواہ نوعیت جرم کے لحاظ سے اور پھر جو پارٹی جس سزا کی مستحق قرار پائے گی ان سب کو ایک جیسی سزا سنا دی جائے گی اور اس طرح ان سب کو دوزخ کے الگ الگ درکات میں رکھا جائے گا اور یہ بات پہلے واضح کی جا چکی ہے کہ جس طرح جنت کے لئے درجات کا لفظ بولا جاتا ہے کہ اس کے درجات اوپر سے اوپر کی طرف ہوں گے اس طرح دوزخ کے لئے درکات کا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ دوزخ کے درکات نیچے سے نیچے کی طرف چلیں گے اور پھر یہ بھی کہ زیر نظر آیت میں فرجا کا لفظ بول کر وضاحت کردی کہ ہر امت اور ہر قوم میں ان کی تعداد بہت ہوگی لیکن کثرت کے جمع کرنے کے لئے ہمیں کوئی زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ایک ہی آرڈر جس طرح ایک کے لئے ہوتا ہے سب کے لئے ہوتا ہے اس لئے اس طرح ان سب کے جمع کرنے میں کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی ، بات تو بالکل صاف تھی لیکن مثل ہے کہ ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے ، فرقہ بندی تو پہلے شرک ہے لیکن اسلامی گروہوں میں جو ناپاکی شیعوں میں ہے شاید ہی کسی دوسرے فرقہ میں ہوگی بلکہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کسی اور میں اس قدر نہیں ہوگی ، یہ بات اس لئے یہاں عرض کرنا پڑی کہ اس زیر نظر آیت سے شعیوں نے رجعت کا عقیدہ اخذ کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت ان لوگوں کو جنہوں نے ان کے خیال میں آئمہ اہل تشیع کے ساتھ زیادتی کی ہے دوبارہ اس دنیا میں لایاجائے گا اور اس وقت کے مومنوں کو بھی تاکہ ان کی سزا ملے تو مومن خوش ہوں ، غور کیجئے کہ انسان اپنے مذہب و عقیدہ کی اپچ میں کیا کچھ ہے جو نہیں کہہ گزرتا اس سے بڑھ کر کیا کوئی تحریف ہو سکتی ہے کہ اگر لفظوں میں ممکن نہیں تو مفہوم پر تو کوئی قید نہیں چاہے وہ فرقہ کے مذہبی رہنما کسی طرح قرار دے لیں فرقہ والوں کو اب اسے تسلیم کرنا ہے حالانکہ قرآن کریم میں ایک یا دو نہیں بیسیوں آیات کریمات واضح دلائل پیش کر رہی ہیں کہ مردوں کو دوبارہ اس دنیا میں واپس آنے کو منع کردیا گیا ہے اور یہ قانون خداوندی کے بالکل خلاف ہے لیکن چونکہ اہل سنت کا بھی جب جی چاہے اور جس کے متعلق جی چاہے وہ واپس دنیا میں زندہ کر کے لے آتے ہیں اس لئے دوسروں کے لئے بھی پھر کیا پابندی ہوگی لہذا انہوں نے ان کے مقابلہ میں اپنے سارے گروہ کو لاکھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے حالانکہ ان کا سارا عقیدہ ہی نار عنکبوت ہے جس کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں لیکن ان کے ساتھ اہل سنت کے اس عقیدہ کا بھی وہی حال ہے جو اہل تشیع کا ہے رہی اہل تشیع کے عقیدہ کی گندگی کی بات تو وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے نہ اس کے کفر میں کوئی شک کی بات ہے اور نہ عقیدہ کی گندگی میں ۔
Ayah 27:84سب گروہوں کے سرغنوں کو اکٹھا کرکے ان سے سوال کیا جائے گا :
84۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے کہیں کہ قیامت کا روز وہ روز ہوگا جس روز ہم ہر امت سے ایک گروہ اکٹھا کریں گے اور یہ گروہ ان ہی لوگوں پر مشتمل ہوگا جنہوں نے اپنے دور کے نبی کی تکذیب کی ہوگی اور ان سب کو ان کی اپنی اپنی جگہ کھڑا کردیا جائے گا اور کسی میں جرات نہیں ہوگی کہ وہ اپنی جگہ سے ادھر ادھر سرکے یا دیکھ ہی سکے پھر ان سے دریافت کیا جائے گا کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے حالانکہ تم نے ان کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی تھی گویا تم اتنے مغرور تھے کہ ہماری آیتوں میں غوروفکر کرنا بھی کسر شان سمجھتے تھے اور غور وفکر کے بغیر ہی ان کو جھٹلا دیا کرتے تھے ہاں ! اگر ایسی بات نہیں تو پھر تم اس کے علاوہ کیا کچھ کرتے رہے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے میری آیتوں کی تکذیب نہیں کی تو بتاؤ تم نے کیا کیا ؟ اس الزام کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو لیکن وہ بولیں گے تو کیا اور کریں گے تو کیا ؟
Ayah 27:85جب حقیقت ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگی گو اس وقت کیا بولیں گے :
85۔ یہ بات جب ان سے پوچھی جائے گی تو وہ کچھ جواب نہیں دے سکیں گے کیونکہ جس ظلم وعدوان کا ارتکاب وہ عمر بھر کرتے رہے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی وہ اس سے باز نہ آئے اس کی وجہ سے ان کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور اس وقت وہ اپنی صفائی پیش کرنے سے بھی قاصر رہیں گے اور کوئی کسی طرح کا عذر بھی پیش نہ کرسکیں گے ، چپ کھڑے رہیں گے گویا ان کے لبوں پر کسی نے مہر لگا دی ہے یا اور کچھ نہیں تو ان کی قوت گویائی کسی نے سلب کرلی ہے ، ایسا کیوں ہوگا ؟ اس لئے کہ جس چیز کو وہ دنیا میں بڑے زور وشور سے جھٹلاتے رہے تھے اور بار بار اس کے آنے کا تقاضا کرتے رہے تھے آج وہ ان کو واضح طور پر دکھائی دے رہی ہوگی اس لئے اب وہ بولیں گے تو کیا او بھاگ کر جائیں گے تو کہاں ؟
Ayah 27:86جن نشانیوں میں وہ رہا کرتے تھے اب ان کی توجہ ان کی طرف مبذول کرائی جائے گی :
86۔ اب ان سے پوچھا جائے گا کہ صاحب یہ بتاؤ کہ وہ راتیں جو تم دنیا میں گزارا کرتے تھے اور ان میں آرام کیا کرتے تھے اور وہ دین جو تمہارے کام کاج کے لئے اور دیکھ کر چلنے پھرنے کے لئے بنائے گئے تھے اور ہر روز تم ایک بار رات سے اور ایک بار دن سے دو چار ہوتے تھے اگر تم کو یقین لانا ہی ہوتا تو وہ کوئی کم نشانیاں تھیں لیکن تم وہ لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں رہتے ہوئے مزید نشانیاں طلب کرتے رہے اور ان پر کبھی تم نے غور نہ کیا وہ رب العالمین جو اس طرح باقاعدگی کے ساتھ ہم پر ہر دن کے بعد رات اور ہر رات کے بعد دن لا رہا ہے اس کی ان نشانیوں کو چھوڑ کر دوسری نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر ایمان لانا مقصود ہو تو اس کے لئے تو صرف یہ دو نشانیاں ہی اتنی بڑی نشانیاں ہیں کہ مزید کسی نشانی کی طلب بیکار ہوجاتی ہے ۔
Ayah 27:87جس صور سے ان کو اٹھایا جائے گا اس کی آواز ہی انکے حواس باختہ کردے گی :
87۔ اس وقت کی حقیقت حال بیان کی جارہی ہے کہ جب صورت پھونکا جائے گا جس کی آواز کو سن کر ان کو موت سے اٹھنا ہے اور جو صرف اور صرف اس مقصد کے لئے پھونکا جا رہا ہے ہوگا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں سے اٹھکر کھڑے ہوجائیں فرمایا اس وقت ان کی حالت بھی دیدنی ہوگی کہ جب وہ اٹھیں گے تو ان پر اس بھیانک آواز کے باعث گھبراہٹ طاری نہ ہوگی اور ہر ایک اس روز یا اس وقت عاجز و درماندہ ہوگا ۔ قرآن کریم میں (الصور) کا ذکردس بار آیا ہے اور سے پہلے سورة الانعام کی آیت 73 ‘ سورة الکہف کی آیت 99 ‘ سورة طہ کی آیت 103 ‘ سورة المومنون کی آیت 101 ‘ پانچویں بار زیر نظر آیت میں اس کا ذکرآیا ہے۔ (صور) کے لفظی معنی نرسنگھا کے ہیں اور اس کی اصل یہ ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ‘ کنعانیوں ‘ آرایوں اور عبرانیوں وغیرہ میں شاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ کے موقع پر نرسنگھا پھونکا جاتا تھا ۔ اس نرسنگھا پھونکنے کے معنی شاہی جلال کا اظہار یا غیر معمولی خطرہ کا اعلان ہے اور تورات میں بھی اس کا ذکر بار بار کیا گیا ہے آج کل ہماری زبان میں اس کو ” سائرن “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس دن ندا آئے گی (آیت) ” لمن الملک الیوم “ آج کس کی بادشاہی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کا جواب دیا جائے گا کہ (آیت) ” للہ الواحد القھار “۔ اس ایک سب پر غالب آنے والی کی ۔ مختصر یہ کہ وہ دن آسمان و زمین میں بہت سخت ہوگا احادیث میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ یہ نرسنگھا دو بار پھونکا جائے گا ایک بار پوری دنیا کائنات کے لئے جو کچھ اس وقت موجود ہوگا وہ ایک بار فنا ہوجائے گا اور پھر دوسری بار ہر اول وآخر انسان کے اٹھانے کے لئے صور میں پھونکا جائے گا ، زیر نظر آیت میں پہلے نرسنگھا کا ذکر ہے یا دوسرے کا مفسرین نے دونوں کا الگ الگ ذکر کیا ہے کسی نے پہلا قرار دیا ہے جو ہر ایک چیز کے فنا ہونے کے لئے پھونکا جائے گا اور بعض نے دوسرے کا ذکر کیا ہے اور اکثر نے کسی کی تخصیص نہیں کی بلکہ مجمل ذکر کیا ہے اور ہم اس میں بحث نہیں کرتے بلکہ صرف اس قدر کہتے ہیں کہ پہلے صور پر سارا نظام کائنات درہم برہم ہوگا اور دوسرے صور پر ایک دوسرے نظام نئی صورت اور نئے قوانین اور نئے آسمان و زمین کے ساتھ قائم کیا جائے گا اور آیت کے آخر میں جو الفاظ بیان کئے گئے ہیں کہ (آیت) ” وکل اتوہ داخرین “۔ کہ ہر ایک عاجز و درماندہ حاضر ہوگا تو اس سے اشارہ دوسرے صور ہی کی طرف ہوتا نظر آتا ہے اور اصل حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے نیز آگے آنے والی آیت میں نظام کے درہم برہم ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔
Ayah 27:88ہول قیامت اور نظام اول کا درہم برہم ہونا اور نئے نظام کا قیام :
88۔ نفخ صور کا اثر جس طرح جانداروں پر ہوگا بےجان اور جاندار چیزوں پر بھی ہوگا اس وقت آپ پہاڑوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح جامد اور ٹھوس نظر آرہے ہیں لیکن جب اس نظام کے درہم برہم ہونے کا وقت آئے گا تو وہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے نظرآئیں گے ، اس نظام کائنات کی مثال کو سمجھنے کے لئے یوں سمجھ لیں کہ جس طرح تسبیح کے دانوں کو ایک دھاگے کے ذریعہ اکٹھا کردیا گیا ہے اسی طرح اس نظام کائنات کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ ربط اور ترتیب کے طور پر باندھ دیا گیا ہے اور ہر ایک کی حرکت دوسرے کیلئے ٹھہراؤ کا کام دے رہی ہے اور اس طرح ان سب کا نظام گویا ایک بندھن میں باندھ دیا گیا ہے اور جس طرح تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جانے سے سارے دانے بکھر کر رہ جاتے ہیں اسی طرح اس نظام میں سے کسی ایک کے سرکنے کا انجام بھی یہی ہوگا کہ سب کے سب جھڑنے شروع ہوجائیں گے اور پھر کوئی ایک بھی دوسرے کو سہار نہیں سکے گا اور اس نظام کے تہس نہس کا نام قیامت رکھا گیا ہے پھر اس کی ہولناکی کا اندازہ خود لگا لو اور ان سب کے ٹکرانے کی جو کیفیت پیدا ہوگی ذرا اس کا تصور کرکے تو دیکھو فرمایا اس وقت جب کہ یہ سارا نظام ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ نظر آرہا ہے نظر آرہا ہے کس طرح اپنے بنانے والے اور اس بندھن میں باندھ دینے والے کاریگر کی کاریگری کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ہر شے کی مضبوطی اس کے مناسب حال ہے جب تک ان پہاڑوں کا قیام وبقا اس کو منظور ہے اپنی جگہ پر وہ کس طرح جمے ہوئے نظر آ رہے جب حکمت الہی کو ان کا انہدام منظور ہوگا تو گویا وہ پانی پانی ہوجائیں گے اور پھر اس کو دھنی ہوئی روئی کی طرح دھنک دیا جائے گا اور وہ اڑتے ہوئے دکھائی دیں گے جس کے نتیجہ میں زمین کی اونچاں نیچاں کو ہموار کرکے رکھ دیا جائے گا اور دوسری جگہ اس کو (آیت) ” فیذرھا قاعا صفصفا “۔ (طہ : 106) کہا گیا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ اس زمین کے سب نشیب و فراز ختم کردیئے جائیں فرمایا جس ذات نے اس بندھن کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا ہے وہ تم انسانوں کے اعمال سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور وہ تمہارے ہر کئے سے اچھی طرح واقف ہے ۔
Ayah 27:89نیکی کمانے والوں کا استقبال اچھی طرح کیا جائے گا اور وہ نہیں گھبرائیں گے :
89۔ جو شخص نیکی کما کر لائے گا اس کو اس کام کا بدلہ اس کی نیکی سے دس گنا زیادہ دیا جائے گا بعض کے لئے ستر یا سات سو تک بھی اس کو بڑھایا جاسکتا ہے اور ان کو اس روز یقینا کسی طرح کی گھبراہٹ نہیں ہوگی بلکہ وہ ہر طرح سے مطمئن نظر آئیں گے اور ان کے چہرے بھی تروتازہ ہوں گے اور ان پر کسی طرح کی پریشانی اور گھبراہٹ نظر نہیں آئے گی کیونکہ ان کے میں کسی طرح کا کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ، انسان کے دل کا چور ہی دراصل اس کی گھبراہٹ کا باعث ہوتا ہے اور جب دل پاک اور صاف اس قدر اطمینان ہوتا ہے کہ گھبراہٹ نام کی کوئی شے انسان کے قریب بھی نہیں آتی ، بیماری کوئی بھی اچھی نہیں لیکن جس شخص کے دل میں اطمینان نہ ہو اس کی پریشانی کا کیا عالم ہوتا ہے کچھ نہ پوچھئے بلکہ اللہ کی پناہ طلب کیجئے کہ کسی کروٹ بھی انسان کو چین نہیں آتا اور وہ اس دنیا میں (آیت) ” لا یموت فیھا ولا یحی ) کا مصداق ہوتا ہے اور آخرت کی پریشانی تو ویسے بھی دنیا کی پریشانی کے مقابلہ میں بہت سخت ہوگی ۔ زیر نظر آیت میں قیامت کے ہولناک مناظر اور روح فرسا واقعات کا ذکر کرکے فرمایا اس روز میرے وہ بندے جو میری رضا کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں قربان کرکے حاضر ہوں گے وہ پریشان اور ہراساں نہیں ہوں گے بلکہ آج کا دن تو ان کے لئے بڑی ہی شادمانیوں اور مسرتوں کا دن ہوگا اس لئے کہ اس دن تو ان کو ان کے نیک اعمال کا اجر ملے گا اور پھر اجر دینے والا بھی خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی ہوگا جس سے بڑا کوئی غنی اور جس بڑا کوئی کریم نہیں بلاشبہ جب وہ دیتا ہے تو انسان اس کو گن بھی نہیں سکتا اور سمجھ بھی نہیں سکتا کہ میرے لئے یہ کہاں سے اور کیسے محفوظ کیا گیا تھا ۔
Ayah 27:90برائیاں کما کر لانے والوں کے لئے آگ کا عذاب ہوگا جو ان کے کئے کا بدلہ ہوگا :
90۔ گزشتہ آیت میں نیکیاں کمانے والوں کا ذکر تھا اب زیر نظر آیت میں بدکاریاں کمانے والوں کا بیان ہے فرمایا گیا کہ جہاں نیکیاں کمانے والے ہوں گے وہاں برائیاں کما کر لانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہوگی لیکن برائیوں کما کر لانے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا جائے گا ذرا اس کو بھی اپنے ذہن میں رکھیں فرمایا ان لوگوں کو منہ کے بل اوندھا کرکے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور ان کو اس طرح پھینکتے ہوئے پھینکنے والے ہی کہیں گے کہ یہ جو تم کو اس طرح کی سزا مل رہی ہے تو یہ تمہارے ہی کرتوتوں کی مل رہی ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے ، اس طرح زیر نظر آیت میں نافرمانوں اور بدکاروں کا جو حال ہوگا اس کو بھی بیان کردیا تاکہ جو اپنے لئے اس مال کو پسند نہیں کرتے وہ بروقت اپنی اصلاح کرلیں تاکہ اس روز خفت سے وہ بچ جائیں جس روز کو روز جزا یا یوم الدین کا نام دیا گیا ہے ۔
Ayah 27:91نبی اعظم وآخر ﷺ کے پروگرام کی مکمل وضاحت فرمائی جا رہی ہے :
91۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اس بات کا حکم دیا گیا ہوں کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔ ہاں ! اس خاص شہر مکہ مکرمہ کے رب کی عبادت کروں ، اندازہ کیجئے کہ یہ اس شہر میں بسنے والوں سے خطاب اول ہے اور اس کے لئے کیا پیارا انداز اختیار کیا گیا ہے اور اگر اب بھی وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ان سے زیادہ کون بدبخت ہوگا کس انداز سے توحید الہی کو قریش مکہ تک پہنچایا جا رہا ہے کہ تم نے جو اس شہر مین ایک سے زیادہ رب اور الہ بنا رکھے ہیں ان کوئی حقیقت نہیں نہ یہاں لات ومنواۃ کے لئے کچھ رکھا ہے اور نہ ہی ہبل کا یہاں کوئی مقام ہے یہ سب کے سب تمہارے اختراعی نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں اور تمہارے باپ دادوں نے ان کا کوئی تعلق اس شہر کے اندر جو بیت اللہ ہے اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں یہ شہر اور یہ بیت اللہ تو خالصتا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے خاص ہے فرمایا غور سے سن لو کہ میری عبادتین ‘ میری نیازمندیاں اور میری عاجزیاں تو صرف اد ذات یکتا وبے ہمتا کے لئے ہیں جو اس بلدہ مبارکہ کا اس شہر مقدس کا رب ہے اور جس نے اس شہر کو لازوال سعادتوں کا سرچشمہ بنا دیا ہے اور اس کے لئے دنیا کے شہروں میں سے خاص عزت و حرمت والا بنایا ہے اگرچہ وہ فقط اس شہر کا رب نہیں بلکہ اس کائنات کی ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا مالک ہے اور عرش سے فرش تک جو کچھ ہے سب اس کا ہے اور اس کے سوا کسی کی عبادت کروں اور نہ ہی کسی کی عبادت کا حکم دوں بلکہ خاص اس کا بندہ ہو کر رہوں اور اس کا بندہ بننے کی تلقین کروں تاکہ میں فرمانبرداروں کے زمرہ میں داخل ہوجاؤں اور بلاشبہ جو مجھے حکم دیا گیا ہے وہی میں کر رہا ہوں ۔
Ayah 27:92میرا کام تم کو قرآن کریم سنانا ہے ہدایت دینا نہیں اور جو یندہ ہی یا بندہ ہوتا ہے :
92۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنی قوم کے لوگوں کو مخاطب کرکے فرما رہے ہیں کہ میرا کام یہ ہے کہ میں تم کو قرآن کریم کی تلاوت سناؤں کیونکہ وہ تمہاری اپنی ہی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس نے براہ راست تم کو مخاطب کیا ہے ہدایت دینا میرے اختیار میں نہیں ہاں ! تم میں سے جو شخص ہدایت حاصل کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جس نے اس سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش نہ کی اور اپنی گمراہی پر جما رہا تو اس کا نقصان اس کو پہنچے گا میرا کام تو بس ڈرانا ہے اور میں اپنا کام کر رہا ہوں اور جب تک ہوں کرتا رہوں گا ۔ سبحان اللہ ! کس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ کو تعلیم دی گئی ہے کہ اپنی قوم کے لوگوں کو بتا دو جو تم سے کہتے ہیں کہ آپ نے خود یہ کتاب تصنیف کی ہے یا تم کسی سے سیکھ کر آئے ہو اور پھر لوگوں کو سنا دیتے ہو تاکہ لوگ تم کو اپنا پیشوا مان لیں اور ہر طرف تمہاری عزت و تکریم ہونے لگے نادانو ! ایسی بات نہیں جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو مجھے تو اپنے مالک و خالق نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کا کلام پڑھ کر تم کو سناؤں تاکہ تم لوگ گمراہی سے بچ جاؤ اور جب تم قیامت کے روز رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی رفاقت نصیب ہو اور جنت کی ابدی نعمتوں سے تمہیں سرفراز کردیا جائے ، غور سے سن لو کہ یہ نبوت میرا کوئی کاروبار نہیں کہ میں تم سے کوئی دولت حاصل کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی کوئی جماعت بنا کر مسند اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہوں جیسا کہ تم کو خیال ہے دراصل شیشہ میں تم اپنا منہ دیکھتے ہو اور تم کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو کچھ تم ہو ۔ میں تو تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ‘ تمہیں بروقت فسق وفجور اور گمراہی کے انجام سے خبردار کر رہا ہوں ، اگر تم نے میری بات مان لی تو اس کا فائدہ تم ہی کو ہوگا اور اگر انکار ہی کرتے رہے تو اس کا وبال بھی تم ہی کو اٹھانا پڑے گا ، میں کیا ہوں ؟ نذیر ہوں اور تم کو برے انجام سے ڈرانا میرا کام ہے اور وہ مجھ سے جہاں تک ہوسکا تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے :
Ayah 27:93آپ ﷺ اپنی صدا کا اعلان کر دیجئے کہ تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے :
93۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ خالص اللہ تعالیٰ کی تعریف کا نعرہ بلند کیجئے کہ ساری تعریفوں اور ساری حمدوں کا مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مجھ کو قرآن کریم جیسی نعمت سے نوازا ہے اگر تم اس قرآن کریم کی قدر نہیں کر رہے اور مجھے سے بار بار نشانیاں ہی طلب کر رہے ہو اور اس قرآن کریم کو جو دنیا جہان کی ساری نشانیوں سے بڑی نشانی ہے تو یاد رکھو کہ جس طرح کی نشانی تم طلب کر رہے ہو وہ عنقریب تم کو بھی دکھائے گا اور اس طرح دکھائے گا کہ تم کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہاں یہ وہی نشانی ہے جس کی ہم کو طلب تھی اور تم یقینا اس نشانی کو پہچان لو گے ہاں ہاں ! اس نشانی کو بھی جس کی تم کو طلب تھی اور تم اپنے اس انجام کو پہچان جاؤ گے جس کی طرف میں تم کو بار بار توجہ دلا رہا ہوں اور ایک بار بھی کان کھول کر سن لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کئے جا رہے ہو ۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کو شرارتوں کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا اور پھر یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ شرارتیں کون کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ شرارتی اور شرارتیوں کا جو انجام ہونے والا ہے اور جو انجام ہوگا وہ اس وقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور یقینا کل بھی وہی ہوگا جو آج نظر آرہا ہے کیونکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے کسی بات کو مبہم نہیں رہنے دیابل کہ ہر بات کی پوری وضاحت کردی ہے ۔
اور اسی مضمون پر ہم (سورۃ النمل) کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب “۔
عبدالکریم اثری :
ٹھٹہ عالیہ
2۔ مئی 1997 ء