Ayah 27:18سلیمان (علیہ السلام) کا وادی نمل سے گزرنا اور ایک نملہ کی بات سن کر مسکرانا :
18۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی تینوں افواج کا ذکر اوپر گزر چکا جو جنوں ‘ انسانوں اور طیر پر مشتمل تھی اور آپ کے سامنے ان تینوں افواج کی تفصیل اور ان کی کارکردگی پیش کی گئی اور یقینا ان کی پریڈ بھی آپ نے دیکھی ہوگی اور ان کی طاقت وقوت بھی مثالی تھی آپ کا گزر مع افواج کے وادی نمل سے ہوا جس کا تذکرہ زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے ۔ وادی نمل کیا ہے اور وہ کہاں ہے ؟ نملہ سے کیا مراد ہے ؟ اس کا تفصیلی بیان چونکہ ہم ایک بار سورة الانبیاء کی آیت 81 ‘ 82 کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان میں عرض کرچکے ہیں اس لئے بار بار اس کے ذکر کی ضرورت نہیں اس کی تفسیر وہیں سے دیکھ لی جائے ، اس جگہ جو ارشاد فرمایا گیا وہ یہ ہے کہ ” جب آپ وادی نمل پر سے گزرے تو ایک نملہ نے کہا اے نملو ! اپنے اپنے مکانوں میں داخل ہوجاؤ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر تم کو کچل نہ دے اور وہ حقیقت حال سے واقف نہ ہوں نملہ چونکہ چیونٹی کو بھی کہا جاتا ہے اور ایک قوم کو بھی ہمارے زیادہ تر مفسرین نے اس سے مراد چیونٹیوں کی وادی لیا ہے ہمیں نہ تو چیونٹیوں کی وادی سے انکار ہے اور نہ چیونٹی کے اس بیان پر کوئی تعجب سے تعجب جو ہے وہ تو سارا اس بات پر ہے کہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جہاں سے سینکڑوں اور ہزاروں انسانوں کا گزر ہوتا ہے وہاں چیونٹیاں اور چیونٹے بھی موجود ہوتے ہیں لیکن کبھی وہ پاؤں تلے روند کر مسلے نہیں جاتے اور اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے خیال میں قرآن کریم صرف اور صرف انہیں واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں ہماری زندگی کے لئے کوئی نہ کوئی سبق موجود ہو جہاں ہماری زندگی کا کوئی سبق موجود نہ ہو بلکہ اس کی حیثیت صرف ایک قصہ اور کہانی کی ہو تو قرآن کریم اس کو مطلق بیان نہیں کرتا لیکن اس کو قرآن کریم نے ایک سے زیادہ بار بیان کیا ہے اور تفصیل سے کیا ہے پھر آخر ہماری زندگی کے لئے اس میں سبق کیا ہوا ؟ کیونکہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے یہ تلقین اپنی قوم کو نہ کی ہو کہ حشرات الارض میں سے جو تم کو تکلیف دینے والے ہیں ان کو تم ہر حال میں مار سکتے ہو یہاں تک کہ محرم ہونے کی صورت میں بھی بعض کو مارا جاسکتا ہے اور جو تکلیف نہیں دیتے ان کو خواہ مخواہ مت چھیڑو بہرحال مفسرین نے اس سے مراد چیونٹیاں ہی لیں ہیں اور ہمارا ذہن اس قوم کی طرف منتقل ہوتا ہے جن کی وادی سے گزرنا ضروری تھا اور ملکہ نملہ نے اپنی قوم کو ایک ایسا حکم دے کر ان کو بھی محفوظ کردیا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) اور آپ کے لشکر کے لئے بھی یہ اطلاع کردی ہے کہ ہم آپ لوگوں کی مزاحمت نہیں کرتے بلکہ ہماری کمک تمہارے ساتھ ہے اس لئے ہمارے آدمیوں کو تم بھی کسی طرح کی کوئی گزند نہ پہنچانا بلکہ خیروعافیت کے ساتھ یہاں سے گزر جانا اور بلاشبہ کسی قوم کی مزاحمت نہ کرنا بلکہ گزرنے والوں کو خوش آمدید کہنا اخلاقیات کا ایک حصہ ہے جس میں ہماری زندگی کے لئے بھی سبق موجود ہے ۔
رہا چیونٹوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور ان کے اندر عسکری نظم وضبط کا پایا جانا اور ایک فوج کی طرح مارچ کرنا اور ڈسپلن قائم رکھتے ہوئے اپنے قائدین کی قیادت میں کام کرنا ‘ خوراک کے لئے ذخائر جمع کرنا ‘ اپنی نسل وذریت کی حفاظت کرنا ‘ پیغام رسانی کا کام سرانجام دینا ‘ خوراک کے ذخائر معلوم کرنا اور پھر سب کا مل کر باقاعدہ اس پر ٹوٹ پڑنا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈھیروں کا صفایا کردینا ‘ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنا وغیرہ نہ ان باتوں میں کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اچنبہ ہے بلکہ روز مرہ یہ باتیں ہمارے مشاہدے میں آتی رہیں ہیں لیکن یہ ساری باتیں معہ اپنی دوسری باتوں کے انسانوں کی طرح ان کو مکلف قرار نہیں دیتیں اور نہ ہی انسانوں کے ساتھ رشتے ناطے جوڑتی ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے ہاں ! جن لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے وہ کرتے رہیں ہم تو ایک بات سمجھ چکے ہیں جو اسلام نے ہم کو بتائی ہے کہ انسانوں کے سوال کوئی مخلوق بھی مکلف نہیں اس کو تکلیف کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ ہاں ! خیالی باتیں اسی طرح ہوتی رہتی ہیں جیسے طوطے اور فاختہ کی کہانیاں لیکن ایسے قصے اور اس طرح کی باتیں قرآن کریم کے شایان شان نہیں اگر سیاق وسباق کوئی اس طرح کا سبق دے سکتا ہو تو بطور تمثیل کوئی بات بیان کی جاسکتی ہے اور پھر سب کو معلوم ہے کہ تمثیل کا تعلق حقیقت سے کیا ہوتا ہے ؟ اس جگہ کوئی بات بھی ایسی موجود نہیں جہاں کوئی تمثیل کی ضرورت پیش آئی ہو تاہم چیونٹی کی ایک کہانی رہبر وکن کی زبانی ہم آپ کو سنوا دیتے ہیں اگر آپ چیونٹوں ہی سے سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم ہار مان جاتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصود تو تفہیم کرانا ہے ضد بازی قائم کرنا نہیں ۔
” چیونٹی بظاہر بڑی حقیر اور بڑی غیر اہم معلوم ہوتی ہے لیکن محنت اور ذہانت کے لحاظ سے وہ ایک ایسا نادر نمونہ ہے جس کی مثال ملنا دشوار ہے ، یہ کبھی نہ نچلی بیٹھتی ہے نہ کبھی بیکار رہتی ہے ، ہر وقت مصروف ‘ ہر وقت مشغول اس کی زندگی کی مختلف ادوار اور اس کے رہنے سہنے کے طریقوں کا حال سنایا جائے تو آپ ششدر رہ جائیں ، تنظیم اور تقسیم کار کے لحاظ سے ہو یا ذہانت اور ذکاوت کی بنا پر چیونٹی کی زندگی ہر طرح مکمل اور مربوط ہوتی ہے کیا آپ اتفاق رکھتے ہیں کہ کبھی حقیقت افسانہ سے زیادہ تعجب خیز ہوتی ہے ، چیونٹی کسی طرح اشرف المخلوقات حضرت انسان سے کمتر نہیں ہے ، یہ جانور پالتی ہے ‘ ان کو اپنے فائدے کے لئے کرتی ہے ‘ فوج رکھتی ہے ‘ دشمن پر حملہ کرتی ہے ‘ اسے کھیتی باڑی کا سلیقہ بھی آتا ہے ‘ کھیتوں میں ن اگر ہے ‘ بیج بوتی ہے ‘ کاشت تیار ہوتی ہے تو اسے دور کرتی اور احتیاط کے ساتھ تہ خانوں میں محفوظ اور منتقل کردیتی ہے ہاں ! مدارج کا فرق اس میں بھی بلاشبہ پایا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ اس قوم میں بھی گویا پاکستان کا نظام جاگیرداری پایا جاتا ہے اور انکے جاگیردار ہمارے جاگیرداروں کی طرح آرام پسند ‘ قومی فرائض سے غافل ‘ خود پسند اور تن آسان ہوتے ہیں ، ان کو کسی کام سے کوئی غرض نہیں ہوتی ‘ دن بھر کھاتے اور پڑے رہتے ہیں ، اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ اپنی نوع سے ہٹ کر دوسری نوع کے جانوروں کو پالنا ‘ ان سے فائدہ اٹھانا صرف اشرف المخلوقات بشر ہی کا حصہ ہے لیکن تجربات نے اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ چیونٹی جیسی حقیر خلقت بھی اس خصوصیت میں انسان کی رقیب ہے ، چیونٹی کی گائے بھینس ایک قسم کے کیڑے ہوتے ہیں جن کو افائیڈس کہا جاتا ہے ، ان کے شکم میں شہد بھرا رہتا ہے ‘ چیونٹیاں اپنے چھوٹے چھوٹے ڈنگوں کی مدد سے ان کیڑوں سے شہد حاصل کرلیتی ہیں ، بعض مرتبہ چیونٹیاں ان دودھیلے جانوروں کو اپنے چھتوں میں اٹھا لاتی ہیں اور ان کے انڈوں بچوں کی بڑی سخت نگہداشت کی جاتی ہے ، چیونٹی کی ایک قسم وہ بھی ہے جو خود دودھ دیتی ہے یہ میکسیکو اور آسٹریلیا کے بعض حصوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے ، ان کی زندگی کا مقصد اپنے دیگر ہم قوموں کو آرام اور غذا پہنچانا ہوتا ہے ، ابتداء میں قومی مزدور اور رضاکار انکو گائے بھینسوں کی طرح اچھی اچھی غذاہ مہیا کرتے ہیں یعنی خوب چارہ ڈال کر ان کو دودھ حاصل کرنے کی غرض سے پالا جاتا ہے اور پرورش کی جاتی ہے اور جس طرح کبوتر اپنے بچوں کو غذا بھراتا ہے رضا کار چیونٹیاں ان گائے بھینسوں کو شہد بھرایا کرتی ہیں ۔ جوں جوں یہ عمل جاری رہے گا گائے بھینسوں کا جسم بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کے لئے چلنا پھرنا بلکہ بعض اوقات سرکنا بھی دوبھر ہوجاتا ہے اور یوں بھی ان کو چلنے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی اور یہ اپنے بنے ہوئے مخصوص خانوں کی دیواروں سے چمٹ جاتی ہیں ، یہ خاص کمرے دراصل چوپال کا کام دیتے ہیں جہاں گائیں ‘ بھینسیں باندھی جاتی ہیں یہ خاص کمرہ تقریبا تین انچ لمبا اور ایک انچ چوڑا ہوتا ہے اور اس کی شکل کروی یعنی گول ہوتی ہے یہ کمرے دراصل چوپال کا کام دیتے ہیں جہاں کا ئے بھینس باندھی جاتی ہیں ان کی دیواروں سے شہد بھری چیونٹیاں اس طرح لٹکتی رہتی ہیں جیسے انگور کے خوشے لٹک رہے ہوں ، مزدوروں اور رضاکاروں کو جب بھی بھوک ستائے وہ ان زندہ مرتبانوں کے پاس آکر اپنی غذا لیتے اور پھر کام میں مشغول ہوجاتے ہیں یوں تو عموما چیونٹیوں کی یہ گائیں چل پھر سکنے سے معذور ہوتی ہیں لیکن اگر ان کے شکم میں بھرا ہوا شہد کم ہوجائے تو انکو چلتے پھرتے بھی دیکھا گیا ہے ۔
آئیے اب چیونٹیوں کے جاگیرداروں اور نوابیں کا حال بھی سن لیجئے یہ دراصل مفت خورے ہوتے ہیں اور اپنی زندگی میں ایک آدھ مرتبہ مزدوروں ‘ رضاکاروں کے محلوں پر دھاوا بول کر ان کے انڈھے اپنے پاس اٹھا لاتے ہیں اور جب ان سے بچے نکلتے ہیں تو ان سے ملا ازمین کا سا کام لیتے ہیں ، گھر بار کی نگہداشت ‘ صفائی تعمیر و ترمیم بچوں کی نگرانی ‘ غذا کی فراہمی یہ سب انہی رضا کاروں کے ذمہ ہوتی ہے مشہور فرانسیسی سائنس دان ہیوبر نے اس خصوصیت میں ایک بڑا دلچسپ تجربہ دہرایا ہے اس نے تقریبا تیس جاگیردار چیونٹیوں کو ان کے رضاکاروں سے علیحدہ کرکے ایک ڈبہ میں علیحدہ بند کردیا ۔ ہاتھ پیر ہلانے کی توفیق تو اللہ نے ان کو دی ہی نہ تھی دو دن کے اندر نصف سے زیادہ جاگیردار دوسری دنیا کو سدھار چکے تھے اور جو باقی تھے وہ بھی لب گور تھے اور ان کی سکت جواب دے چکی تھی ‘ چہرے زرد ‘ موت آنکھوں کے سامنے کھیل رہی تھی ، ہیوبر کو ان کی حالت پر رحم آگیا اس نے صندوق میں ایک رضاکار کو بھی منتقل کردیا اس رضاکار نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے کی مدد کے رہنے کے لئے زمین میں ایک گھر بنا لیا اور پھر سب کو ان میں منتقل کیا ‘ غذا مہیا کی ‘ بیماروں کی تیمارداری کی ‘ ان کو صحت مند بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹی سی جگہ میں زندگی کی ہماہمی پھر سے پیدا ہوگئی ۔
شہد کی مکھیوں کی طرح چیونٹوں کو بھی تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے نر مادہ اور غیر نمو یافتہ مادہ یا رضا کار۔ یہ امر تو ہمیں بہت قدیم سے معلوم ہے کہ چیونٹیاں کفایت شعار اور گرہستی بھی ہوتی ہیں ، غذائی دانے محفوظ کرلینا ان کا ایک عام وطیرہ ہے لیکن یہ حالیہ انکشاف بیحد تعجب خیز ہے کہ چیونٹوں کی بعض انواع نہ صرف یہ کہ آئندہ کے استعمال کے لئے اپنی غذا محفوظ کرتی ہیں بلکہ انکو باضابطہ طریقہ سے اور سیلقہ شعاری سے کاشت کرنا بھی آتا ہے ان کسان چیونٹیوں کا رنگ بھورا ہوتا ہے ‘ یہ جسامت میں بھی دوسری چیونٹوں کے مقابلہ میں بڑی ہوتی ہیں اور مناسب موسم آنے پر بالکل کسانوں کی طرح بیج بونے کی تیاریاں شروع کردیتی ہیں کھیت کے لئے زمین کے انتخاب اور مناسب موسم کے انتخاب کے بعد وہ ایک مٹی کا پھٹا بنا لیتی ہیں یہ چار تا چھ انچ اونچا ہوا ہے پوری چوڑائی تین تا چار فیٹ ہوتی ہے ، اس چھتہ کے اطراف تین چار فیٹ تک کی زمین بالکل صاف کردی جاتی ہے جیسے کسی پائیں باغ کی تیاری ہو اس صاف شدہ اراضی پر کسی قسم کی نباتات اگنے نہیں دی جاتی البتہ صرف ایک خاص گھاس کو چیونٹیاں فورا علیحدہ کردیتی ہیں یہ بیج دار گھاس جو اہتمام سے اگائی جاتی ہے چاول سے بھی کچھ ملتی جلتی ہے ‘ فصل کے تیار ہونے پر چیونٹیاں بڑی احتیاط سے اس کو گودام میں منتقل کردیتی ہیں ، گودام میں منتقل کرنے کے بعد انکی صفائی کی جاتی ہے اور بھوسہ دوبارہ باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔
اگر گودام میں غلہ نمی اور رطوبیت کی وجہ سے خراب ہونے لگے تو کبھی کبھی باہر نکال کر دھوپ کھلا لیا جاتا ہے یہ تمام تحقیق سب سے پہلے ڈاکٹر لنکم نے کی تھی اور پھر میک کک نے 1877 ء میں اس کی تصدیق کی اس کے بعد متواتر تجربات نے رہے سہے شبہ کو بھی بالکل دور کردیا ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بڑا اختلاف ہے لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ سائنس دراصل اپنے ان تجربات سے اور معلومات سے ایک ان دیکھے خدا کی عظمت اور قدرت کے تصور میں غیر معمول اضافہ کردیتی ہے ۔
اسی طرح ” ایوری ڈے تھنک “ کے مصنف نے دنیا کے اندر جتنے حشرات الارض ہیں ان کی تھیوری ‘ انکی عمریں اور ان کے حالات پر مفصل بحث کی ہے اور اس وقت شاید ہی کوئی ارضی کیڑا مکوڑا ایسا ہوگا جس کو زیر بحث نہ لایا گیا ہو اور اب اس اشرف المخلوقات انسان کی باری ہے اس کے متعلق سرجری کے جتنے تجربات ہوچکے ہیں آج کسی سے پوشیدہ نہیں اور اب اس کی تخلیق کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے اور خصوصا دو مادہ جانوروں کے تجربات نے ایک تیسری مخلوق پیدا کرکے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے اور اس کا نتیجہ تخلیق انسانی کے خاتمہ پر متنج ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی وہ مخلوق جو ایک جنس کے دو جانوروں سے یا ایک جنس کے دو مختلف جرثوموں سے پیدا ہوگی وہ یقینا مزید پیدائش کے قابل نہیں رہے گی نہ ایک جنس کے دو جانداروں سے اور نہ ہی ایک جنس کے دو مختلف جرثوموں سے اور نہ ہی دوسری مخلوق کے اپنے جوڑے سے اور اس طرح انسان کی پیدائش کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا ہاں اگر اس کے ساتھ ان پیدا شدہ انسانوں کی زندگی ہی ایسا بنا دی جائے کہ اس میں موت کا دخل نہ رہے یہ دوسری بات ہے بہرحال تجربات جاری ہیں اور یہ فیصلہ آنے والی نسلوں پر ہی چھوڑا جاسکتا ہے کہ وہ اس کو کس طرف لے جاتی ہیں بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا فیصلہ اٹل ہے اور جو اس کو کرنا ہے بہرحال اس کو ہو کر ہی رہنا ہے ۔ لیکن ان تجربات سے جو کچھ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لئے اصول خداوندی نے وضاحت کردی ہے کہ ولد بغیر زوجین کے نہیں اور رہی فی نفسہ مخلوق تو اس سے قرآن کریم نے کہیں انکار نہیں کیا بلکہ پہلے ہی روز سے وہ اس کا اقراری چلا آرہا ہے کوتاہ عقلوں اور کور چشموں کو نظر نہ آئے تو ان کا کیا کیا جاسکتا ہے ۔
Ayah 27:19سلیمان (علیہ السلام) نملہ کی بات سن کر مسکرائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا :
19۔ (ضاحکا) ہنستے ہوئے (ضحک) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ، واضح رہے کہ (ضحک) کے اصل معنی تو ہنسنے کے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ہنسنے کے مختلف اسباب ہوتے ہیں انسان کبھی مذاق اڑانے کے لئے ہنستا ہے کبھی محض خوشی ہنسی کا باعث ہوتی ہے کبھی کسی چیز پر اچنبھا ہوتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے اس لئے بطور استعارہ (ضحک) کا استعمال تمسخر اور مسرت اور تعجب کے لئے بھی ہوتا ہے اور قرآن کریم میں بھی یہ تینوں معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” فلما جآء ھم بایتنا اذا ھم منھا یضحکون “۔ (الزخرف 43 : 47) ” پھر جب اس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ہنسنے لگے “ ظاہر ہے کہ یہ ان کا ہنسنا مذاق طور پر نہیں تھا بلکہ مسرت اور خوشی کے باعث تھا کہ آپ کو نہایت خوشی ہوئی کہ جس راستہ سے ہمارا گزر ہونے والا ہے راستہ کی اقوام کی طرف سے خوش آمدید کی اطلاعات شروع ہوگئی ہیں تو اس کو کیا کہا جائے گا یہی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہماری افواج کی دھاک دوسری قوموں کے دلوں میں بٹھا دی ہے کہ بجائے اس کے ہماری طرف سے یہ اپیل ہوتی کہ ہم اس راستے سے گزر رہے ہیں آپ لوگوں پر چڑھائی کرنا ہمارا مقصد نہیں کہ آپ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کجا ان لوگوں کا خبر پاکر خود ہمیں خوش آمدید کہنا دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ واضح رہے کہ ” تبسم “ مسکرانے کو کہتے ہیں (ضحک) ہنسنے کو اور ” قھقھۃ “ کھل کھلا کر ہنسنے کو کہا جاتا ہے گویا تبسم میں آواز بالکل نہیں آتی چہرہ اور ہونٹوں تک محدود ہوتا ہے اور ہنسنے میں معمولی آواز بھی پیدا ہوتی ہے اور منہ بھی کھلتا ہے اور قہقہ میں اچھی خاصی آواز ہوتی ہے جس کا کچھ فاصلہ تک پتہ چل جاتا ہے اور بلاشبہ آپ کا ہنسنا ایسا تھا کہ اس سے خفیف سی آواز پیدا ہوئی ہوگی تاکہ مجلس کے دوسرے لوگوں تک خبر پہنچ جائے اس طرح آپ کے ہنسنے سے بات مزید واضح ہوگئی گویا ملکہ نملہ نے جب اپنے لشکروں کو حکم دیا کہ تم سب لوگ اپنے اپنے مسکن میں چلے جاؤ تاکہ سلیمان (علیہ السلام) اور آپ کے لشکر کو راستہ صاف ملے اور ادھر سلیمان (علیہ السلام) کو بھی اس کی اطلاع دی گئی تو آپ خوشی ومسرت سے مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے اے میرے پروردگار ! مجھے اس پر مداومت دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا کی ہیں اور اس پر بھی کہ میں نیک کام کیا کروں یعنی میری حکومت کے کسی افسر سے بھی کوئی ایسا کام نہ ہونے پائے جو تیری ناراضگی کا باعث ہو بلکہ ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جو تیری رضا کے عین مطابق ہوں اور اے میرے پروردگار ! مجھے اپنی خاص رحمت میں داخل رکھ اور اپنے نیک بندوں میں داخل فرما گویا اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر جو انعامات کئے تھے وہ انکو فی الواقعہ احسانات الہی گردانتے تھے اور دنیوی بادشاہوں کی طرح اپنے آپ سے باہر نہیں نکلتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کا شکریہ ادا کرتے تھے ، اس طرح ایک کردار قرآن کریم نے فرعون کا بیان کیا جس کو اللہ تعالیٰ نے ملک عظیم دیا تھا اور اپنے خاص انعامات کی اس پر بارش کی تھی لیکن اس نے کفر وجمود کو عام کیا ‘ تکبر کیا اور اپنے آپ کو معبود والہ بنا لیا اور دوسری طرف سلیمان (علیہ السلام) ہیں آپ کو حکومت وسطوت عطا فرمائی تو آپ اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندے بن گئے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کیا اور برملا کیا پھر غور کرو کہ دونوں بادشاہوں کا انجام کیا ہوا کہ ایک کو ینی فرعون کو ذلیل وخور کرکے دریا میں غرق کردیا اور دوسرے کو یعنی سلیمان (علیہ السلام) کو اس عجز ونیاز کی حالت میں جنت میں داخل فرما دیا ۔
Ayah 27:20حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے ایک لشکری کو غیر حاضر پایا تو اس سے باز پرس کی :
20۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے تمام لشکروں کی دیکھ بھال اور کبھی کبھی حاضری خود بھی چیک کیا کرتے تھے اس طرح ایک بار جو آپ نے اپنے ” لشکر طیر “ کی حاضری چیک کی اور ان کی پریڈ کو دیکھا تو ایک لشکری کو غیر حاضر پایا ‘ نہ چھٹی کی درخواست اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی اطلاع آپ نے اس پر بہت تعجب بھی کیا اور غصہ بھی کہ ایسی غفلت اور وہ بھی اتنے بڑے ذمہ دار کی طرف سے آخر کیوں ؟ آپ نے باقاعدہ لکھا کہ آج کی حاضری میں میں نے ہدہد کو غیر حاضر پایا اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوئی کہ وہ کیوں غیر حاضر ہے اس لئے وہ جس وقت بھی اپنے لشکر میں واپس آئے سب سے پہلے وہ اپنی غیر حاضری کا جواب دے کہ اس نے ایسی غفلت کیوں کی ؟
Ayah 27:21حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یا تو وہ کوئی معقول وجہ بتلائے یا ہم اس کو سخت مار دیں گے :
21۔ (اذبحنہ) ذبح سے ہے جس کے معنی ہیں کہ میں اس کو ذبح کر ڈالوں گا (اذبحن ذبح) سے مضارع یا نون تاکید کا صیغہ واحد متکلم ، ضمیر ‘ واحد مذکر غائب ، اردو زبان میں یہ لفظ محض پرندوں اور جانوروں یعنی حیوانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن عربی زبان میں جب کسی انسان کو سزا کے طور پر یا بغیر کسی مقصد کے قتل کیا جائے اس کے قتل کی خواہ کوئی صورت اختیار کی جائے اس پر ذبح کا لفظ استعمال ہوتا ہے مثلا فرعون نے بطور سزا بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرانا شروع کیا تو قرآن کریم نے اس کے اس فعل کو ذبح سے تعبیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” یذبحون ابنآء کم “۔ ” وہ ذبح کر ڈالتے تھے ان کے بیٹوں کو “ یہ گویا سزاء قتل کرنا ہے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ (اذبحک) میں تجھ کو ذبح کر رہا ہوں ۔ گویا کہ بغیر کسی مقصد کے کیونکہ اسمعیل کوئی کھانے کی چیز نہیں تھے اور نہ ہی کسی سزا کے مستحق سمجھے گئے تھے اور جانوروں پر خواہ پرندے ہوں یا الانعام ہوں اس کا استعمال عام ہے کیونکہ ان سب کو کھایا جاتا ہے یعنی ان کے ذبح کرنے کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے ۔ اس جگہ زیر نظر آیت میں چونکہ سزا کے طور پر ارشاد فرمایا تھا اس لئے ذبح کا لفظ استعمال کیا اور اسی طرح اس لفظ نے خود وضاحت کردی کہ یہ کسی پرندے کے کھانے کا مقصد نہیں بلکہ کسی انسان کو سزا دینا مراد ہے ۔ زیر نظر آیت میں سلیمان (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ لشکر طیر کا جو جوان غیر حاضر ہے اس کو سخت ترین سزا دی جائے گی اور اگر وہ اس سزا کے لائق ہوا کہ اس کو قتل کردیا جائے تو بھی دریغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہم ڈسپلن خراب کرنا نہیں چاہتے ، ہاں ! اگر وہ کوئی معقول وجہ بیان کر دے گا کہ وہ سزا کا مستحق ہی نہ ٹھہرا تو یہ دوسری بات ہے لیکن اس کے لئے اسے کوئی ٹھوس دلیل پیش کرنا ہوگی آئیں بائیں شائیں سے کام نہیں چلے گا ۔ اگر اس نے کوئی ٹھوس دلیل پیش کردی تو ہم کسی فرد پر ظلم و زیادتی کرنا نہیں چاہتے کہ کسی کو سزا دینے سے ہمیں کچھ فائدہ پہنچ جائے گا ؟ ہرگز نہیں ہمارے ہاں جو کچھ ہوتا ہے انشاء اللہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بعد ہوتا ہے یہ بیداد نگری نہیں ہے اور نہ ہی حکمران کوئی اندھا یا بہرا ہے ۔
Ayah 27:22تھوڑی دیر کے بعد ہدہد آگیا اور اپنی غیر حاضری کی وجہ اس نے عرض کردی :
22۔ ہد ہد کے بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ جوان فوج کے اندر سراغ رسانی کے محکمہ کا کوئی فرد تھا جو یقینا ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا ۔ پس تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ہدہد واپس آگیا اور جوابدہی کے لئے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوگیا اور اس نے اپنی غیر حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے عرض کیا کہ میں ایک ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو اس سے پہلے آپ کو معلوم نہیں تھی یعنی ہماری حکومت میں یہ ایک نئی خبر ہے جس کی خبر آج تک ہم کو نہ تھی اور وہ خبر یہ ہے کہ ہمارے پڑوس ہی میں ایک ملکہ رہتی ہے جس کے ملک کو ملک سبا کہا جاتا ہے وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لئے میں رک گیا اور جب تک وہاں کے حالات کی تحقیق نہیں کرلی میں وہاں سے نہیں نکلا گویا میں نے اپنے فرضی منصبی میں کوئی کوتاہی نہیں کی بلکہ اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجھے تھوڑی دیر وہاں رکنا پڑا بلاشبہ ابھی اس کی بات کی تکمیل نہیں ہوئی لیکن بات شروع کرتے ہی یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ جو اس نے بیان کیا یہ کوئی عذر یا بہانہ نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی بات کو سنتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا سارا غصہ کافور ہوگیا اور ہماری زندگی کے لئے کتنی ہدایات ہم کو مل گئیں کہ ۔ 1 صحیح معنوں میں حکومت کا سربراہ وہی شخص ہونا چاہئے جو حکومت کے سارے شعبوں میں براہ راست دل چپسی رکھتا ہو ۔ 2۔ رعایا کا ہر شخص اس کے سامنے اپنی بات پیش کرسکے اور اس کو کوئی جھجھک محسوس نہ ہو۔ 3۔ ہر فرد کو یقین ہونا چاہئے کہ میں نے اپنی ذمہ داری کا خیال رکھا تو میرے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ۔ 4۔ عدلیہ کا کام یہ ہے کہ جو فیصلہ کرے وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کرے نہ کہ حاکم اعلی کی مرضی کے مطابق کہ وہ جو چاہے وہی فیصلہ ہو ۔ بہرحال ابھی ہدہد کا بیان جاری ہے آگے شروع کریں بات انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی ۔
Ayah 27:23ہدہد نے بتایا کہ میں نے ملک سبا میں ایک ملکہ دیکھی جس کو اپنے عرش پر بہت ناز ہے :
23۔ ہدہد نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے عرض کیا کہ جناب عالی ! میں نے ملک سبا میں ایک عورت کو دیکھا جو ان پر حکومت کر رہی ہے اور اس کے ملک کے اندر ماشاء اللہ ہرچیز کی فراوانی ہے اور رعایا نہایت ہی امن و سکون کے ساتھ رہ رہی ہے اور ملک سبا نے اپنی نشست کے لئے ایک خاص طرح کا تخت بنوا رکھا ہے تخت بھی بلاشبہ ایک نادر چیز ہے اور ملکہ کو بھی اس پر بہت ناز ہے اور اس کا یہ تخت ملک کی خوشحالی کی علامت بھی گردانا جاتا ہے اور بلاشبہ اس کا تخت ہے بھی اس دنیا کی نادر چیزوں میں سے ایک لیکن اس ملک کی خوشحالی کے باوجود ایک بات مجھے بہت کھٹکی ہے اور جس کو دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔
Ayah 27:24اس ملک کے باشندے مع ملک کے سورج کی پرستش کرتے ہیں :
24۔ ہدہد نے اپنی بات جاری رکھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بیان کرتے ہوئے کہا کہ جناب عالی ! میں نے اس ملکہ کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ سورج کی پرستش کرتے ہیں گویا ان کا معبود اعظم سورج دیوتا ہے جو دنیا کی بہت سی اور قوموں کا بھی معبوداعظم رہ چکا ہے اور اس طرح کی عبادت شیطان نے انکی نظر میں خوش نما کر دکھائی ہے اور ان لوگوں کو اس نے راہ راست سے بالکل ہٹا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ عقائد کا معاملہ ہی ایک ایسا معاملہ ہے کہ بگڑے ہوئے عقائد اتنی آسانی سے درست نہیں ہوتے اور قومیں جان دے دیتی ہیں لیکن اپنے نظریات سے باز نہیں آتیں کیونہ ہر جاہل اور خدا فراموش اور آخرت فراموش قوم اپنی دنیوی اور مادی ترقیوں میں مست اور مگن رہا کرتی ہے غور کیجئے کہ اس ہدہد کو ہماری مفسرین نے ایک پرندہ قرار دے کر سارے مضمون کی حقیقت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے تاکہ ہماری قوم کے افراد کو یہ خیال تک بھی نہ آئے کہ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کس طرح ہونا چاہئے اور ایک اسلامی حکومت کے ہر عہدہ دار کو کس طرح کا کردار ادا کرنا چاہئے اور اس کے علم کی وسعت اور معیار کیا ہونا ضروری ہے ؟ یہ اس طرح کے کتنے سوالات ہیں جو اس بیان سے پید اہوتے ہیں اور ہدہد کے اس بیان ہی میں ان کا جواب بھی موجود ہے ۔
Ayah 27:25ہدہد نے توحید الہی کا بیان دے کر ثابت کردیا کہ وہ اس عہدہ کا اہل ہے جس پر وہ تعین ہے :
25۔ توحید کا مضمون بڑا عجیب ہے اور موحد کا حال بھی کچھ عجیب ہی قسم کا ہے کہ جب توحید الہی کا بیان آتا ہے تو وہ بےساختہ ہوجاتا ہے اور توحید کے مضمون کو آگے سے آگے ہی بڑھاتا چلا جاتا ہے ، یہی حال ہدہد کا ہوا کہ اس نے بات تو ملکہ سبا کی اور اس ملک کے حالات کی شروع کی تھی لیکن جونہی توحید کی بات آئی تو وہ توحید الہی کے دریا میں اس طرح مستغرق ہوگیا کہ اس کو یاد ہی نہ رہا کہ وہ بات کیا کرنے کے لئے حاضر ہوا ہے ‘ اس کو کس مقصد کے لئے بلایا گیا تھا اور اس نے وہ مقصد بیان کرنے کے ساتھ ہی گویا دربار سلیمان میں وعظ شروع کردیا اور جب وہ اس دریا میں غرق ہو رہا تو کسی نے بھی اس کی توجہ اس طرح نہیں ملتفت کرائی کہ صاحب تم بیان کیا کرنے آئے تھے اور ایک غیر متعلق بات کیسے شروع کردی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ مضمون ہی اس قسم کا ہے کہ اس کے بیان کرتے ہیں انسان گویا بےخود سا ہوجاتا ہے کچھ اس طرح کی حالت ہدہد کی بھی وہاں ہوئی ، ہمارے مفسرین نے آیت 25 ‘ 26 کو ہدہد کا بیان قرار نہیں دیا بلکہ کہا ہے کہ یہ ایک تضمین ہے کہ توحید الہی کی یہ دونوں آیات ہدہد کے بیان کے ساتھ ملا دی گئی ہیں ۔ بلاشبہ اس طرح کی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں کہ ایک مضمون بیان کرتے کرتے درمیان میں کوئی خاص ہدایت دی جاتی ہے جو اس کے متعلق ہوتی ہے ، مفسرین کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ تو ایک پرندہ ہے اور تقریر اس طرح شروع کردی کہ ہم اگر باوجود مفسر قرآن ہونے کے بھی کچھ کہیں یا تحریر کریں تو اس طرح آزادی کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے اور اس طرح فی البدیہ نہیں بول سکتے تو انہوں نے ان آیا ہی کو اس کے بیان سے خارج کردیا بلاشبہ یہ مضمون ان کے اصل بیان کے متعلق نہیں لیکن اس کے عہدے کے عین مطابق ہے کہ اگر اس کے ذمہ کوئی مزید ڈیوٹی لگا دی گئی تو وہ انشاء اللہ اس کو بدرجہ اتم نباھنے کے قابل ہے پھر بادشاہ کے سامنے کچھ عرض کرنے کا وقت روز روز میسر بھی نہیں آسکتا اس لئے دراصل اس نے وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اپنے علمی بصیرت کا بھرپور مظاہرہ بھی کردیا ہے کیونکہ ایسا موقعہ ہر روز میسر نہیں آسکتا اور یہ بھی کہ جب تک کوئی شخص بولتا نہیں تو اس کے عیب وہنر واضح نہیں ہوتے ۔
Ayah 27:26ہدہدنے کس خوبصورتی سے جہاں سے بیان شروع کیا وہی لا کر ختم کردیا :
26۔ ہمارے مفسرین میں سے نہایت مدبر اور علقمند جن کو کہا گیا ہے انہوں نے یہ بیان ہدہد کا قرار نہیں دیا بلکہ اس کو تضمین بنا دیا ہے یہ تو ان کی عقل مندی اور تدبر فی القرآن ہے اور ادھر اس ہدہد کی ذہانت وفطانت اور عقل مندی اور سمجھداری دیکھئے کہ اس نے اپنے مضمون کو جہاں سے شروع کا تھا وہیں لا کر ختم کر دکھایا ہے بات اس نے مکہ کے عرش سے شروع کی تھی اور سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے بیان دینے لئے کھڑے ہوتے ہی اس نے کہا تھا کہ اے بادشاہ سلامت ! میں نے ملک سبا میں ایک ملکہ کو حکمران پایا جس کے ملک میں ہر طرح کی فراوانی اور ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے اور ملکہ کے لئے ایک عرش عظیم بھی جس پر اس کو بہت ناز ہے اور پھر اپنے بیان کے مضمون کو توحید الہی کی طرف پھیر دیا اور اس میں دلیل یہ پیش کی کہ اصل عرش تو وہ عرش ہے جس عرش کا مالک رب ذوالجلال والاکرام ہے باقی عرشوں کی حیثیت اس مالک الملک کے عرش کے سامنے کیا ہے اور کیا ہو سکتی ہے ؟ اور یہ بھی کہ جو شخص اس مالک حقیقی کے عرش پر نگاہ رکھتا ہو اس کو انسانوں کے عرشوں کی کیا پرواہ ہے اور اس کی نگاہ میں وہ کب جچتے ہیں اور ان کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اس طرح اس نے یعنی ہدہد نے ملکہ سبا کو توحید الہی کا سبق سنانے کی خواہش کا اظہار کردیا اور اپنا عندیہ حکومت وقت کے سامنے نہایت سلجھے ہوئے انداز میں پیش کردیا کہ اگر اس کے پاس سب کچھ ہے تو اے سلیمان ! اللہ تعالیٰ کے دیئے کی آپ کے ہاں بھی کوئی کمی نہیں اس لئے ملکہ کو توحید الہی کا سبق سکھانا آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ہی اس وقت دنیا میں توحید الہی کے اصل داعی ہیں تو پھر یہ دعوت وہاں بھی پہنچنا چاہئے ۔
Ayah 27:27سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ میں پہلے آپ ہی کا امتحان لینا چاہتا ہوں :
27۔ سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کی باتیں بڑے غور کے ساتھ سنیں اور بڑے وقار کے ساتھ فرمایا کہ اچھا یہ بات ہے تو بلاشبہ معقول بات ہے اور ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ آپ کی بات میں کتنا سچ ہے اور کہاں تک اس میں صداقت پائی جاتی ہے یا تم بات کہنے میں سچے نہیں ؟ گویا یہ بات کہہ کر سلیمان (علیہ السلام) نے ہم کو سبق دے دیا کہ بات کرنے والا کتنا ہی معقول ہو اور وہ کتنی اچھی بات کرے اس کی تصدیق وتکذیب کے لئے جلدی سے حکم نہ لگا دو ، بلاشبہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے حکمرانوں نے جلدی میں فیصلے کرکے اپنی موت کو خود دعوت دی اور جلدی میں ایسے فیصلے کرگئے جو ان کے لئے باعث خفت ثابت ہوئے اس لئے کہ اگر کچھ لوگ خوشامدی ہوتے ہیں تو کچھ خوشامد پسند بھی اور یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصدی صحیح ہے کہ خوشمادی کا منہ کالا ہوتا ہے خواہ وہ کون ہو۔ غور کرو گے تو اس میں بہت کچھ حاصل کرلو گے ۔
Ayah 27:28سلیمان (علیہ السلام) نے کہا جاؤ میرا یہ خط لے جاؤ اور ملک کو پیش کرو پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے :
28۔ ہم نے اوپر بیان کیا تھا کہ یہ شخص فوج میں سراغ رسانی کے محکمہ کا فرد معلوم ہوتا ہے اور سراغ رسانی اور پیغام رسانی دونوں لازم وملزوم ہیں اور بلاشبہ پیغام ہی سے سراغ نکل سکتا ہے کہ حالات کیا ہیں اور کیسے ہیں ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا طریقہ اختیار کیا اور بلاشبہ یہ خدادا و ذہانت ہے اور اس سلسلہ مین سلیمان (علیہ السلام) کا مقام بلاشبہ بہت بلند ہے بلکہ قرآن کریم نے آپ کی اس ذہانت کا ذکر خصوصا فرمایا ہے جہاں داؤد (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں ایک بات کا فیصلہ آپ نے والد ماجد کے سامنے دیا تھا بہرحال سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا خط جو ایک ملک کا سربراہ ہی دوسرے ملک کے سربراہ کو لکھ سکتا ہے لکھ کر دے دیا اور فرمایا کہ تم میرا یہ خط لے جاؤ اور ان لوگوں تک پہنچا کر چلے آؤ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں اس طرح گویا آپ کی کی گئی بات کی حقیقت بھی کھل جائے گی اور ملکہ سبا کا حال بھی واضح ہوجائے گا ، ایسی ہی باتوں کے لئے ہم ایک مثل کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج ۔
Ayah 27:29ملکہ نے خط دیکھا ‘ پڑھا اور اپنے اعوان وانصار کے سامنے ذکر کیا :
29۔ ملکہ سبا نے خط موصول ہونے پر اس کو پڑھا اور بلاشبہ سمجھ کر پڑھا اور پھر اپنے اعوان وانصار کو بتایا کہ میری طرف ایک نہایت ہی اہم خط آیا ہے اور بلاشبہ وہ ایک معزز آدمی کی طرف سے معزز تحریر ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سیاست میں منجھی ہوئی تھی اگرچہ وہ سورج پرست تھی اور بلاشبہ ذہانت بھی ایک خداداد چیز ہے ملکہ نے اس خط کو جو سلیمان (علیہ السلام) کی طرف اس کو پہنچایا گیا تھا اس پر کریم کا لفظ بول کر اپنی ذہانت کا ثبوت پیش کردیا اور اس ذہانت سے ہماری مراد فطانت اور عقل مندی ہے ۔ زیر نظر آیت کے لفظ (القی) پر بھی ہمارے مفسرین نے بہت بحث کی ہے اور ہم نے بھی اس کی وضاحت عروۃ الوثقی میں سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے مضمون میں کردی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 27:30یہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے جو اللہ رحمن ورحیم کے نام سے شروع ہوتا ہے :
30۔ ملکہ نے اپنے درباریوں کے سامنے جو اس خط کی تعریف کی اس کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کو بتایا کہ یہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے لکھا گیا ہے اور اس کے سرنامہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی تحریر ہے گویا یہ اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو بہت مہربان اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے اور اس کا مضمون کچھ اس طرح اور مضمون کا ذکر آئندہ آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 27:31تحریر ہے کہ تم لوگ میرے مقابلہ میں بڑائی نہ کرو اور فرمانبرداری کے ساتھ میرے پاس آؤ :
31۔ گویا خط تو ملکہ کی طرف ہی لکھا گیا ہے لیکن اس میں مخاطب صرف ملکہ کو نہیں کیا گیا بلکہ حکومت کے لوگوں کو کیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ خط لکھنے والا طاقت وقوت کا مالک ہے اور اس کا مقصد ملک گیری کی ہوس نہیں بلکہ کوئی خاص پروگرام ہے جو وہ پیش کرنا چاہتا ہے اس لئے اس نے حکومت کو مخاطب کرکے بات کرنا چاہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ خط اس مضمون عربی میں انہیں الفاظ میں تحریر تھا نہیں ! بلکہ مقصود ہمیشہ مضمون ہوتا ہے الفاظ کی قید مراد نہیں ہوتی اور اگر یہ بات ہمارے علمائے کرام کے پیش نظر رہے تو وہ احادیث کے الفاظ کی بحث میں کبھی ملوث نہ ہوں کیونکہ یہ اعجاز صرف اور صرف قرآن کریم ہی کو حاصل ہے کہ اس کے الفاظ وحروف من وعن محفوظ ہیں وہ جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے قلب مبارک پر ڈالے گئے تھے وہ گزشتہ کن کن زبانوں میں کس کس طرح ادا ہوتے تھے اور یہ کہ فی نفسہ اس وقت کونسی زبان بولی جاتی تھی اس بحث کو قطعا نہیں چھیڑا گیا اور نہ ہی اس طریقہ سے چھیڑنے سے کچھ فائدہ ہوتا ہے بلکہ یہ بات مزید الجھ کر رہ جاتی ہے مطلب یہ ہے کہ ملکہ تک جو مضمون پہنچا وہ کس زبان کا تھا اور کن الفاظ میں ؟ بہرحال وہ اس مضمون پر مشتمل تھا جو قرآن کریم نے اپنی زبان میں ہمارے سامنے پیش کیا خط کا ذکر کرنا اور پھر خط کا سرنامہ بیان کرنا اور بعد میں فی نفسہ وہ مضمون پیش کرنا ساری باتوں میں ہماری زندگی کے لئے اسباق موجود ہیں جو عقل وفکر سے کام لینے والوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔
Ayah 27:32ملکہ سبا نے اب اپنے درباریوں سے دریافت کیا کہ بتاؤ اس کا کیا جواب دیں ؟ ۔
32۔ ملکہ سبا کی یہ بات گزشتہ باتوں سے بھی زیادہ گہری اور زیادہ سمجھداری کی ہے ، اس نے اپنے درباریوں کو خط کا مضمون بتانے کے بعد ان سے پوچھا کہ اے سردارو ! اب تم بتاؤ کہ اس کا جواب میری طرف سے کیا ہونا چاہئے کیونکہ میں فی نفسہ آپ لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ کے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کرتی اس وقت تک ملکہ کی جتنی باتیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان میں ایک بات بھی ایسی نہیں جس کو قرآن کریم نے ناقص کہا ہو بلکہ اس نے ایک سے ایک بڑھ کر کامل ومکمل بات کی ہے اور بلاشبہ اس کی بات میں بہت وزن ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا آئین شورائی طرز کا تھا اگرچہ اس کی باغ ڈور شاہی خاندان کے ہاتھ میں تھی ۔
Ayah 27:33ملکہ کو اپنے اعوان وانصار سے جو جواب دیا گیا وہ بھی قابل تعریف ہے :
33۔ ملکہ سبا نے جن لوگوں کو مخاطب کرکے ایک بات پوچھی تھی انہوں نے بھی بات سنتے ہی اس کو واضح الفاظ میں نہایت ہی سلجھا ہوا جواب دیا وہ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم بڑے طاقتور اور نہایت جنگجو قوم کے لوگ ہیں کہ آج تک ہم نے میدان میں پیٹھ نہیں دکھائی لیکن اختیار تو آپ کے پاس ہے اور یہ بات بھی آپ کو معلوم ہے کہ جو حکم آپ دیں گے ہم اس کو بسر وچشم قبول کریں گے اور اس کی تصدیق میدان کار ہی میں ہو سکے گی ، آپ بےفکر ہو کر حکم دیں ہم تعمیل حکم کرکے دکھادیں گے ۔
Ayah 27:34ملکہ سبا نے اپنی رائے کا اظہار اپنی مجلس شوری میں اس طرح کیا :
34۔ ملکہ سبا نے اپنی مجلس شوری میں جو بیان دیا اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی طاقت وقوت اور سطوت سے کسی حد تک وقف تھی خواہ اس نے اس دوران پتہ لگا لیا تھا اور چاہے ہدہد ہی سے اس نے معلومات حاصل کرلی تھیں ، ملکہ کے فوجیوں کی طرف سے اس کو بہت حوصلہ افزا بیان وصول ہوا تھا اب جب اس نے اپنی مجلس مشاورت سے مشورہ کیا تو اس نے ان کو صاف صاف لفظوں میں بتا دیا کہ مسلمان کی طاقت وسطوت ہمارے سے بہت زیادہ ہے اور بادشاہوں کا اصول بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ وہ جب کسی چھوٹے ملک پر حملہ کرتے ہیں تو وہاں کے عوام پر نہیں بلکہ امراء پر سب سے پہلے ہاتھ ڈالتے ہیں اور انکو تہ وبالا کرکے رکھ دیتے ہیں اس لئے سلیمان (علیہ السلام) کو دھمکی آمیز جواب تو مناسب نہیں کہ کہیں اچانک حملہ کر کے ہمارے برسراقتدار طبقہ کو تہس نہس کر دے کیونکہ اتنے بڑے ملک کے ساتھ ٹکر اور وہ بھی اچانک کسی حال بھی مناسب معلوم نہیں ہوتی اور ان لوگوں کو غصہ دلا کر ہم کو خواہ مخواہ وہ کام نہیں کرنا چاہئے جس کے ہم متحمل نہیں ہیں اس لئے اگر وہ اچانک حملہ آور ہوئے اور ہم ان کا دفاع نہ کرسکے تو ہمارا وہی حال ہوگا جو شکست خوردہ قوموں کا ہوا کرتا ہے اور وہ اہی کچھ کریں گے جو فاتحین کیا کرتے ہیں ۔ اس لئے لڑائی چھیڑ لینے سے حکمت عملی سے کام لینا زیادہ صحیح ہے ہاں حکم کا جو تقاضا ہوگا وہ ضرور پورا کریں گے اس طرح اس نے اپنے اعوان وانصار کا مکمل اعتماد حاصل کرنے کے بعد ان کو اپنی رائے بتائی کہ میں کیا کرنا چاہتی ہوں ۔
Ayah 27:35میں ان کی طرف ہدایا وغیرہ بھیج رہی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ کیا اشارہ وہاں ملتا ہے :
35۔ ملکہ نے اپنی مجلس شوری کو بتایا کہ سردست تو میں اپنی طرف سے صلح ودوستی کی طرح ڈالنے کے لئے تحفہ وتحائف دے کر ایک سفارت کو بھیجتی ہوں اور اس کا جواب آنے پر مکرر غور وخوض کریں گے ۔ روایات یہود کے مطابق ملکہ بلقیس نے یہ سفارت بحری سے روانہ کی اور ان کے ساتھ زروجواہر کے علاوہ چھ ہزار ہم عمرلڑکے اور لڑکیاں تھیں جن کی عمریں برابر ‘ قدوقامت برابر ان سب کا لباس بھی ایک جیسا تھا اور یہ سب بطور غلام اور کنیزوں کے تھے ، حقیقت حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن اگر یہ حقیقت ہے تو اس کے اندر بڑی ہی گہری سازش تھی اور پھر جس شخص نے اس سازش کو سمجھ کر ان ساری چیزوں کو واپس کردیا اور کس کمال کا انسان تھا اور اس کی نگاہ کتنی عمیق تھی ۔ (آیت) ” فضل اللہ یؤتیہ من یشآئ “۔
Ayah 27:36یہ سفارت جب سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی تو اس نے کہا اچھا تم مجھے مدد دینا چاہتے ہو :
36۔ جب وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی تو انہوں نے ان لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے تو ان کو دعوت اطاعت واسلام کی دی تھی اور وہ لوگ بغیراطاعت قبول کئے اور بغیر دین اسلام تسلیم کیے میری مددومال و دولت کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح کی دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں کہ میرا ملک بھی ایسے گندے خیالات سے بھر جائے جیسے ان لوگوں کے ہیں اور پھر جب میرے پاس اللہ کے فضل و کرم سے دنیوی مال و منال بھی بہت ہے اور میرے ملک کے عقائد بھی ان سے زیادہ بہتر ہیں تو آخر میں ان چیزوں کو کیوں قبول کروں گا کیا ان کے خیال میں ‘ میں دنیا کا طالب ہوں اور اس طرح کا پیغام بھیج کر میں ان سے دنیا حاصل کرنا چاہتا ہوں ، ان لوگوں کا اندازہ اگر اس طرح کا ہے تو وہ یقینا صحیح نہیں ہے اور میں ان کے اس طرح کے ہدیہ سے نہ تو خوش ہوں اور نہ ہی ایسا ہدیہ اور تحفہ میں قبول کرنے کے لئے تیار ہوں بلکہ یہ سب کچھ اسی طرح واپس جائے گا اور میری طرف یہی اعزاز ہے کہ میں ان لوگوں کی ہرچیز کو بطور امانت واپس کروں اور ان کو اطلاع دے دوں کہ جو کچھ تم نے اندازہ لگایا ہے وہ صحیح نہیں ہے اور میرے نزدیک ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں نہ تو میں حسن پرست ہوں اور نہ دولت پرست ہوں اور میرا پیغام ان تک پہنچا دو جب تم واپس جاؤ گے ، ہاں ان لوگوں کو دربار میں ٹھہرایا اور چند دن ان کو مہمان رکھا ان کی عزت و تکریم کی اور ان کے سامنے اپنی مہمانی کا خوب مظاہرہ کیا اور جو کیا سب کچھ دائرہ اور حدود کے اندر رہ کر کیا کوئی ایسا شو نہیں دکھایا جس سے اپنی روایات متاثر ہوں ۔
Ayah 27:37حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کے سب ہدایا من وعن واپس کردیئے اور جو کہنا تھا وہ دو ٹوک کہہ دیا :
37۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سفارت کو جب واپس کیا تو اپنے دربار میں ایک بار دوبارہ انکو طلب کیا اور ان سے کہا کہ تم سب لوگ واپس تشریف لے جاؤ اور اپنی حکومت کو جا کر واضح کر دو کہ ہم انشاء اللہ العزیز عنقریب تم پر فوج کشی کرنے والے ہیں اور تم کو تمہارے کئے کی سزا دینے والے ہیں ہمارا مقصد یہ نہیں تھا جو تم لوگوں نے سمجھا ہم نے ان کو اپنے پہلے ہی خط میں اصل حقیقت واضح کردی تھی اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ تم لوگوں کو اطاعت اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے اس کو قبول کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوجاؤ ورنہ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ کیونکہ ہمارا مطمع نظر مال و دولت اور حکومت بالکل نہیں ہمارا ارادہ حکومت الہیہ کا قیام ہے وہ ہوجائے تو اس کے بعد انتظام ملک چاہے جن ہاتھوں میں بھی رہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں اور اب بھی ہمارا وہی پیغام ہے تم واپس جاؤ ان کو اطلاع کر دو اس لئے کہ ہم اچانک حملہ کرکے ملک کو تہس نہس نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارے ارادے میں فقط نظام حکومت کی تبدیلی ہے اور وہ ہم پہلے بھی چاہتے تھے ‘ اب بھی چاہتے ہیں اور اس بات کی وضاحت پیش کرنے کے بعد چاہتے ہیں تاکہ وہ لوگ عقل وفکر کے سات اپنی جگہ سوچ لیں اور سوچ سمجھ کر اگر ان کو ہمارا مقابلہ ہی کرنا ہے تو سو بسم اللہ ہم آرہے ہیں ان کو کہو کہ وہ ہمارا انتظار کریں اور فیصلہ وقت خود کر دے گا کہ ذلیل و خوار کون ہوتا ہے اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کون ہوتا ہے ؟ بہرحال اس طرح سلیمان (علیہ السلام) نے اس سفارت کو اعزاز واکرام کے ساتھ رخصت کیا اور جو بات تھی وہ پورے عزم وجزم کے ساتھ دوبارہ ان تک پہنچا دی اور یہ بات دونوں مملکتوں کو اب معلوم تھی کہ اس سے اگلاقدم کیا ہوگا ۔ ملکہ سبا اگرچہ عورت تھی لیکن آخر حکمران تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) تو ویسے ہی اللہ کے نبی اور رسول تھے اس لئے وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ملکہ سبا کی طرف سے اب کیا پیغام آئے گا اس لئے دونوں فرمانرواؤں کو اب اپنی اپنی جگہ کیا کرنا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا بات بالکل واضح اور روشن تھی ، قرآن کریم نے اس جگہ ان درمیانی حالات کا تذکرہ بالکل حذف کردیا ہے کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور تاریخ بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ ان حقائق کو بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ ان حقائق کو بیان کرنا مقصود ہے جن سے ہدایات و راہنمائی کے دریا نکل کر بہتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کی شمع روشن کر کے دکھایا جائے کہ ہدایت نے اپنی جگہ جو کچھ کرنا تھا وہ اس میں متحرک ہوگئے جس کا مختصر ذکر اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پختہ یقین تھا کہ اس سفارت کی واپسی کے بعد ملکہ اب یقینا خود آئے گی اس لئے اس کی آمد پر اس کی پوزیشن کے مطابق اس کا انتظام ہونا چاہئے تاکہ وہ یہاں کے حالات دیکھ کر متاثر ہو اور بغیر کسی مزید تحریک کے وہ خود بخود مسلمان ہوجائے اور اس طرح وہ ملکہ سبا بھی ہماری سلطنت کے زیر اثر آجائے اور ظاہر ہے کہ ملکہ کے مسلمان ہونے سے سارے ملک کا نظام ہی یکسر بدل سکتا ہے اس لئے آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ ملکہ سبا کو زیادہ ناز اس اپنے تخت پر ہے جس کی تعریف ہدہد نے کی تھی اس لئے اس کی آمد سے پہلے اس کے تخت کے معیار کے مطابق بلکہ اس سے بھی بہتر تخت یہاں موجود ہونا چاہئے اور اس طرح اس کی رہائش گاہ سے بہتر اس کو رہائش گاہ ملنی چاہئے اگر ایسا ہوگیا تو وہ یقینا ہماری طاقت کا اندازہ لگا لے گی اور ہمیں بغیر کسی طرح کا اٹیک کئے وہ ملک حاصل ہوجائے گا اور دونوں ملکوں کا نظام ایک ہوگیا تو یہی ہماری اصل مراد ہے اس کے پیش نظر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی آمد سے پہلے تخت اور اس کی رہائش گاہ کا انتظام ضروری ہے لہذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان دونوں چیزوں کے انتظامات مکمل کردینے چاہئے لہذا آگے آنے والی آیت میں اس جگہ سے اس دعوت کی دوبارہ ابتدا ہو رہی ہے ۔
Ayah 27:38حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں کو جمع کیا اور کہا تم میں سے کون ملکہ کیلئے تخت تیار کرے گا :
38۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں کو جمع کیا اور خصوصا ان میں وہ لوگ ہوں گے جو ملک سبا ‘ ملکہ سبا اور اس کے تخت کو اچھی طرح دیکھ چکے ہوں گے بہرحال ان سب کو جمع کرکے اس کو کہا کہ اب ملکہ سبا کا مع اپنے اعوان وانصار کے آنا تو لازم وضروری ہے تو یہ بتاؤ کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ سبا کے لئے ایسا تخت تیار کر دے جو اس کے تخت سے بہتر ہو یعنی کم از کم اس جیسا تاکہ وہ یہاں پہنچ کر متاثر ہوجائے کہ جس عرش پر اس کو ناز ہے اس سے بہتر تو یہاں ہماری مہمان نوازی کے لئے موجود ہے تو صاحب ملک کیلئے کیا کچھ ہوگا ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ شرط یہ ہے کہ ان لوگوں کے یہاں آنے سے پہلے اس تخت کو تیار ہونا چاہئے اور رہا یہ کہ وہ کب آرہے ہیں تو سمجھو کہ اس سفارت کے واپس جاتے ہی وہ آنے کے لئے تیار ہوں گے اور ہمیں انکے آنے کی مزید خبر بھی یقینا پہنچ جائے گی ۔
Ayah 27:39ایک شخص نے جو لشکر جن کا آدمی تھا پہل کی اور کہا کہ میں اس خدمت کیلئے تیار ہوں :
39۔ یہ بات پیچھے بڑی وضاحت سے گزر چکی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عسکری طاقت وقوت کو تین لشکروں میں تقسیم کیا تھا ایک لشکر کو لشکر جن ‘ دوسرے کو لشکر انس اور تیسرے کو لشکر طیر کا نام دیا گیا تھا اور یہ بات بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ جس شخص نے ملک سبا کی خبر حضرت سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچائی تھی وہ لشکر طیر کا جوان تھا بہرحال اس وقت جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت کے بنانے کا کہا تو سب سے پہلے جو شخص اس خدمت کے لئے کھڑا ہوا وہ لشکر جن کا آدمی ہے جس کا نام عفریت تھا یا اس کو شیر ہونے کے باعث ایسا کہا گیا ہے بہرحال اس نے کہا کہ میں اس کے لئے تیار کرا سکتا ہوں اس سے پہلے کہ آپ کو اس کے استقبال کے لئے یہاں سے کھڑا ہونا ہوگا اور بلاشبہ مجھ میں ایسی صلاحیت ہے کہ میں اس جیسا یا اس سے بہتر عرش پیش کروں گا اور اس معاملہ میں طاقت وقوت کے ساتھ ساتھ میں امانت دار بھی ہوں کہ جو خرچ ہوگا اس میں دیانت داری سے کام کروں گا ۔
Ayah 27:40عفریت کی جگہ ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا جس نے مزید جلد تخت پیش کرنے کا کہا :
40۔ اس نے جب اپنی بات مکمل کرلی تو اس کی جگہ ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا لیکن یہ آدمی وہ تھا جس کے پاس اس ملک اور اس ملکہ کے اس تخت کا مکمل علم موجود تھا کہ سراغ رسانی اور پیغام رسانی کی خدمت وہ انجام دے چکا تھا اور ظاہر ہے کہ اس محکمہ کے پاس دوسرے ممالک اور دوسرے ممالک کے سارے حالات کی تحریرات محفوظ ہوتی ہیں اور وہاں کے حالات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور کھڑا ہوا اور اس نے کہا جناب والا ! اب جب دو بار آپکی نظر اس معاملہ کی طرف لوٹے گی تو اس سے پہلے پہلے انشاء اللہ یہ تخت آپ کے موجود پائیں گے ، اور اب تو آپ کو اس معاملہ میں کوئی شک وشبہ کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ بالکل درست ہے کیونکہ پہلے آپ ایک بار آزما چکے ہیں اور میرا یہ کہنا بھی بلاشبہ صحیح ہے کہ میرے پاس ایسی کتاب ہے جس میں اس تخت کا مکمل نقشہ موجود ہے کہ وہ کیسا ہے ‘ کہاں رکھا ہے اور کیسے رکھا ہے اور اس میں کیا کیا استعمال ہوا ہے ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی بات سنی تو یقینا اس کو اس تخت کے بنانے اور پیش کرنے کا آرڈر دے دیا ادھر محل بھی تیار ہو رہا تھا جب سارے حالات درست ہوگئے اور انتظامات مکمل ہوچکے تو وہاں سے ان کے آنے کی اطلاع بھی حکومت کو موصول ہوئی اور اس کے لئے جو وقت طے تھا اس کی وضاحت بھی ہوگئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی اپنی مملکت کے کاموں سے فراغت حاصل کرکے اس طے شدہ وقت سے پہلے اس طرف متوجہ ہوئے تو آپ کے ملاحظہ کے لئے وہ تخت موجود تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جب اس تخت کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ واقعی ایک نہایت خوش کن چیز تھی اگرچہ آپ نے براہ راست تو ملکہ کا تخت نہیں دیکھا تھا لیکن اس تخت کو دیکھ کر آپ کو مزید یقین آگیا کہ جس تخت کی ہدہد نے تعریف کی تھی واقعی وہ اس تعریف کے قابل ہے تو آپ اس کو دیکھتے ہی سجدہ شکر میں گر گئے کہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل اور کتنا کرم ہے کہ اس نے مجھے ایسی نعمتوں سے نوازا ہے اور اس طرح کی چیزیں میرے لئے مسخر کردی ہیں ۔ اتنے خدمت گار مہیا کئے ہیں اور ایسے ایسے کاریگر میری حکومت میں موجود ہیں اور اللہ نے اتنے وسائل دیئے ہیں کہ ان پر میں جنتا بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں کم ہے اور ہاں ! بلاشبہ دولت ‘ مال ‘ عزت ‘ اولاد ‘ حکومت اور اعوان و انصار میں سے ایک ایک چیز میرے لئے اللہ تعالیٰ کی ایک آزمائش ہے کہ آیا میں ان انعامت کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور بلاشبہ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جو شخص اتنے بڑے احسانات کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس کا دین و دنیا میں یہاں اور وہاں ہر جگہ فائدہ ہے اور جو شخص ناشکری کرتا ہے وہ بھی بلاشبہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے میرے پروردگار کا تو اس میں کوئی نفع ونقصان نہیں اور رہا میرا معاملہ تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہوں اس لئے اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور اسی کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ مختصر یہ کہ آپ نے اس تخت کو دیکھ کر اپنی بندگی کا اعتراف کیا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا شکریہ ادا کیا اور کارندوں کو حکم دیا کہ وہ باقی انتظامات کو بھی جلد از جلد مکمل کریں ۔