Ayah 27:41حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت کو نقشہ کے مطابق پایا اور پھر اس میں کچھ ترمیم کا حکم دیا :
41۔ (نکروا) کی اصل ن ک ر ہے اور جمع مذکر حاضر امر معروف اس کے معنی دو طرح ہو سکتے ہیں تم اس کی حالت کو بدل دو تم اس کو ناپسندیدہ کر دو ، اس تخت کو جب آپ نے دیکھا تو بلاشبہ اسی نقشہ کے مطابق پایا جو اس کتاب میں دکھایا گیا تھا لیکن بعض چیزیں چونکہ آپ کو اس میں ایسی نظر آئیں جو اسلامی نقطہ نگاہ سے درست نہ تھیں آپ نے انکو بدل دینے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ اس کو اسی طرح بدل دیا جائے کہ اس کا ظاہری حسن بھی پہلے سے دوبالا ہوجائے اور یہ چیزیں جو غیر شرعی ہیں وہ اس میں نظر نہ آئیں کیونکہ ہم کو تخت درکار ہے ایسا تخت جو اس کے تخت سے بہتر ہو اور یہ درکار نہیں کہ بالکل اس کے نقشہ کے مطابق ہو ۔ دوسرے مفہوم کے مطابق یہ بھی معنی کئے جاسکتے ہیں کہ اس تخت کا اتنا بہتر بناؤ کہ ملکہ سبا کے لئے اس کا وہ تخت جس پر اس کا ناز ہے اس کو دیکھ کر ناپسندیدہ ہوجائے یعنی اس کی کوئی وقعت اس کی نگاہ میں نہ رہے ۔ پھر جب ہم اصلاحا اس کو بدل رہے ہیں تو اگر وہ سمجھدار ہوگی تو اس تخت کو دیکھتے ہی سمجھ جائے گی کہ اس تخت میں اور اس کے اصل تخت میں جو فرق رکھا گیا ہے وہ محض اس لئے ہے کہ دین اسلام میں اس چیزوں کی ممانعت ہے اور ممنوع چیز کے نزدیک ایک سچا مسلمان کبھی نہیں جاتا اور اگر وہ اشارہ سے وہ بات جو ہم سمجھانا چاہتے ہیں نہ سمجھ سکی تو بات خودبخود واضح ہوجائے گی کی کہ وہ کتنے علم اور کتنی صلاحیت کی مالک ہے کیونکہ یہ مثل تو عام ہے کہ ” عاقل را اشارہ کافی است۔ “
Ayah 27:42ملکہ اپنے مقررہ وقت پر پہنچی اور اس کو وہ تخت پیش کردیا گیا اور تخت کی بات شروع ہوگئی :
42۔ ملکہ سبا اپنے پروگرام کے مطابق مقررہ تاریخ کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچ گئی اور آپ نے بھی آنے والوں کا خوب استقبال کیا اور استقبال کرنے ہی میں ان پر ساری بات واضح کردی کہ جس شان و شوکت کے وہ مالک ہیں اس سے کہیں بہت زیادہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) عظمت وبڑائی کے مالک ہیں اگرچہ وہ اس عظمت پر کوئی ناز ونخرہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان چیزوں کا اظہار کرنا وہ پسند کرتے ہیں ۔ استقبال کے بعد جب ان کے بٹھانے اور ٹھہرانے کا وقت آیا تو ملک سبا کو اس طرف لے جایا گیا جس طرف اس کے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا اور جہاں اس کا وہ تخت رکھا گیا تھا جو خصوصا اس کے لئے تیار کرایا گیا تھا جو بلاشبہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور زیادہ قیمتی چیزوں سے مزین تھا جس پر وہ اپنے ملک سبا میں بیٹھا کرتی تھی اور بٹھاتے وقت بٹھانے والوں میں سے کسی نے تلمیحا یہ بھی کہہ دیا کہ محترمہ تشریف رکھیں ” اھکذا عرشک “ کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ وہ بیٹھ گئی اور بیٹھتے ہی مسکرا کر اس نے جواب دیا کہ ” کانہ ھو “ یہ تو گویا بالکل ویسا ہی ہے اس طرح تلمیح کی تلمیح بھی ہوگئی اور ملکہ کو سلطنت سلیمانیہ کی طاقت وقوت کا اندازہ بھی ہوگیا اور اس طرح دونوں طرف سے کچھ کہا بھی نہ گیا اور سب کچھ کہہ بھی دیا گیا اور پھر اس کا جواب بھی وصول ہوگیا اور ایسی ہی باتوں کے لئے قرآن کریم سے ہم کو یہ راہنمائی ملتی ہے کہ (ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآئ)
جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ قرآن کریم کسی نبی ورسول کی سرگزشت کو تاریخ کے طور پر ذکر نہیں کرتا کہ وہ تفصیلات اور ایک ایک واقعہ کی اور ایک ایک بات کی تنقیح پیش کرے وہ چونکہ صرف تذکیر ونصیحت ہے اس لئے وہی باتیں بیان کرتا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لئے کوئی سبق پیش کرتی ہوں اور اس طرح اس نے یہا بھی کیا ہے ورنہ آتے ہی کسی مہمان سے پوچھنا کہ ہم نے جو کھانا آپ کو پیش کیا ہے کیسا ہے ؟ اور ہماری رہائش گاہ تمہاری رہائش گاہ سے بہتر ہے یا نہیں ؟ اور اسی طرح کی اور باتیں کسی کو بھی اچھی معلوم نہیں ہوتیں اور ویسے بھی یہ عقل وفکر سے بہت بعید ہیں ہاں انتظامات ایسے کردینا جس کے انتظامات خود ہی ایک سوال بن جائیں اور بزبان حال آنے والوں سے پوچھیں اور آنے والے بھی اس زبان میں ان کو جواب دے دیں تو بلاشبہ یہ اپنی جگہ کمال ہے اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا ہے قرآن کریم ہم کو صرف یہ بات بتانا چاہتا ہے کہ آنے والے مہمان کے اعزاز کے لئے اپنی حدود میں رہتے ہوئے جو کچھ زیادہ سے زیادہ پیش کیا جاسکے وہ جائز اور درست ہے لیکن جب کسی کے ہاں مہمان بن کر جائیں تو میزبان پر بوجھ بننے کی کوشش نہ کریں اور نہ میزبانوں کی چیزون پر نظر رکھیں کہ یہ ہمیں کھانے کو دے دیں اور یہ لے جانے کو اس جگہ قرآن کریم نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ ملکہ سبا نے جب یہ سارے انتظامات دیکھے تو اس نے برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ ہمیں اس بات کا علم تو وہی ہوگیا تھا کہ سلمان (علیہ السلام) کی طاقت وقوت ہم سے زیادہ ہے اور اسی لئے ہم مطیع وفرمانبردار ہو کر یہاں آئے ہیں ۔
Ayah 27:43ملکہ سبا کی عقل و دانش میں کوئی کمی نہیں تھی اس کو قومی کفر نے روک رکھا تھا :
43۔ قرآن کریم ہم کو بتانا چاہتا ہے کہ ایسی عاقل وصاحب فہم خاتون جو چند روز تک ایمان نہیں لائی تو اس کا اصل باعث اس کا قومی کفر تھا کہ جو کچھ اس نے اپنے خاندان اور اپنی قوم کو کرتے دیکھا وہ بھی کرتی رہی چونکہ قوم اور خاندان کے لوگ غیر اللہ کی عبادت میں مصروف تھے اس نے ہوش سنبھالا تو جو انکو کرتے دیکھا وہ بھی کرتی رہی یہی وجہ ہے کہ جب اس کو صحیح راہ دکھائی دی تو اس نے کوئی بحث نہیں کی کسی طرح کا کوئی جھگڑا کھڑا نہیں کیا اپنے آباؤ اجداد کے رسم رواج کے خلاف ہونے کا شور نہیں مچایابل کہ بغیر کسی حیل وحجت کے اسلام کے سامنے سرتسلیم خم کردیا گویا اس نے حقیقت کو دیکھتے ہی پالیا اس طرح گویا قرآن کریم نے بھی اس کی تعریف کی اور اس کے کفر پر اس کی کوئی سرزنش نہیں کی بلاشبہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر کہا گیا اور اس کے (کنا مسلمین) کہنے کے صلہ میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ ملکہ سبا کو کفر ترک کرتے اور اسلام کو قبول کرتے ذرا بھی دیر نہیں لگی اور ایک صاحب عقل وفہم انسان کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ حق کو دیکھتے اور سنتے ہی قبول کرلیتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس نے صحابہ کرام میں سے ابوبکر صدیق ؓ کو وہ مقام دیا جو کسی دوسرے کو نہیں دیا کہ سچ آپ کے سامنے آیا تو اسی وقت اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا گیا گویا سچ آپ ہی کے لئے ظاہر ہوا تھا یا آپ کو سچ ہی کی قبولیت کے لئے پیدا کیا گیا تھا اور یہ وہ مقام ہے کہ اگر اس کی تشریح شروع کردی جائے تو بیسیوں صفحات اس میں خرچ ہوں لیکن عاقل را اشارہ کافی کے اصول کے تحت اس کو اس جگہ ختم کردیا جا رہا ہے ۔
Ayah 27:44ملکہ سبا کو اس عارضی جگہ سے رہائش گاہ کی طرف منتقل کرنے کا ذکر :
44۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کو عارضی طور پر اس تخت پر ٹھہرایا تھا جو اس کی خاطر بنوایا گیا اور ازیں بعد اسکو وہاں سے مستقل رہائش گاہ کی طرف منتقل کرنے کا حکم دیا ، ظاہر ہے کہ اگر تحت کے لئے وہ کچھ کیا گیا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا تو مستقل رہائش گاہ کے لئے کہاں کوئی کمی رہنے دی گئی ہوگی بلاشبہ اس کو ایک اعلی قسم کی آرام گاہ بنایا گیا تھا جس کی چمک دمک گویا آبگینہ کی چمک دمک تھی قصر اپنی رفعت شان اور عجیب و غریب صنعت کاری کے لحاظ سے بےنظیر تھا اور اس میں داخل ہونے کے لئے سامنے سے جو صحن پڑتا تھا اس کو بھی صاف شفاف آبگینوں اور بلوریں ٹکڑوں سے ایسا نفیس فرش بنایا گیا تھا کہ دیکھنے والے کی نگاہ خیرہ ہوجاتی تھی اور وہ نہ سمجھ سکتا تھا کہ وہ کسی چیز سے کیسے اور کیونکر بنایا گیا ہے کیونکہ اس کی اصل بناوٹ کو وہی لوگ سمجھتے تھے جنہوں نے بنایا یا بنوایا تھا ۔
ملکہ سبا سے جب کہا گیا کہ وہ قصر شاہی میں قیام کرے اور وہ محل کے سامنے گئی تو اس کی حیرت گم ہوگئی کیونکہ اس کو ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ چاندی سے تیار کیا گیا ہے کیا ملک میں اس قدر چاندی کے ذخائر موجود ہیں وہ بغیر توقف کے پوچھ گئی کہ یہ کیونکر اور کیسے بنایا گیا ہے ؟ تخت کو دیکھ کر اس کو کوئی حیرت نہ ہوئی کیوں ؟ اس لئے کہ اسی جیسا تخت اس کے اپنے پاس بھی موجود تھا اور وہ روز اس کو دیکھتی اور اس پر بیٹھتی تھی لیکن ایسی رہائش گاہ اس کے پاس کہاں تھی ؟ اس لئے اس نے بےساختہ پوچھ لیا کہ اس کی بنیادیں کس چیز سے رکھی گئی ہیں ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کو بتلایا گیا کہ یہ محل تو شیشے اور بلوریں پتھر سے تیار کیا گیا ہے چاندی سے نہیں جب اس نے شیشے وبلوریں پتھر کا نام سنا اور اس کی چمک دمک کو بھی دیکھا اور بلاشبہ وہ پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کی شان و شوکت کا سکہ مان چکی تھی جب اس نے اس محل کو دیکھا تو اس کو مزید یقین آگیا کہ ہم حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مقابلہ میں دنیوی لحاظ سے بھی بہت کمزور ہیں اور ہماری دینی پوزیش بھی آج تک کمزور ہی رہی ہے حالانکہ میں تو اپنے آپ کو ایک بہت طاقتور ملکہ سمجھتی تھی اب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کتنے کتنے بڑے لوگ اور کتنی کتنی بڑی حکومتیں بنا دی ہوئی ہیں میری مثال تو کنوئیں کے مینڈک کی سی ہے جو کنوئیں کے گھر ہی کو پوری دنیا سمجھتا ہے ۔
ملکہ سبا اس طرح کے خیالات میں گم ہوگئی اور بلاشبہ کچھ دیر تک گم ہی رہی اور قدرے توقف کے بعد اس کا خیال واپس لوٹا تو اس نے فورا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے واضح اور صاف صاف الفاظ میں اس طرح اقرار کیا کہ اے اللہ ! اے میرے پروردگار ! آج تک تیرے سوا غیروں کی پرستش کرکے میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا مگر اب میں سلیمان کے ساتھ ہو کر صرف تیرے پر یعنی ایک اللہ پر ایمان لاتی ہوں کیونکہ تو ہی تمام کائنات کا پروردگار ہے اور اس طرح اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پہلے پیغام (واتونی مسلمین) کی حقیقی مراد تک پہنچ کر دین اسلام کا واضح الفاظ میں اعتراف کرلیا اور دل سے تو وہ پہلے ہی تسلیم کرچکی تھی اور اس کے اسلام قبول کرنے سے جو خوش حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حاصل ہوئی ہوگی اس کا اندازہ میں اور آپ یقینا نہیں کرسکتے ، ملکہ سبا کے عرش کے متعلق جو کچھ ہمارے مفسرین نے بیان کیا ہے اور محل سلیمان کی جو توجیہہ انہوں نے بیان کی اور اس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دوسرے واقعات کے متعلق جو کچھ انہوں نے بیان کیا ان ساری باتوں کو ہم سمجھتے ہیں لیکن ان میں کوئی صداقت نہ پا کر ان سے انحراف کرتے ہوئے واضح الفاظ میں جو کچھ ہم نے سمجھا ہے اس کو بیان کردیا ہے اور بحث میں ہم نہیں پڑے اس کی تفصیلات چونکہ ہم پیچھے سورة الانبیاء میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں اس لئے بار بار ان کو بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا اگ رتفصیل درکار ہو تو سورة الانبیاء کے محولہ بالا مضمون کی طرف مراجعت کریں انشاء اللہ پوری وضاحت اس جگہ مل جائے گی ، اس مضمون پر اس واقع کو ختم کیا جا رہا ہے ۔
ملکہ سبا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کو جس طرح ہمارے مفسرین نے بیان کیا ہم نے اس میں سے کسی ایک بات کا بھی اس جگہ ذکر نہیں کیا کیوں ؟ اسلئے کہ وہ قرآن کریم میں سے نہیں لیا گیا بلکہ قصہ سلیمان کے متعلق جو کچھ خرافات یہود نے بیان کیے تھے اور تورات میں اور تورات کے شارحین نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں تھا ہمارے مفسرین نے تورات کے باب سلاطین باب 10 ‘ 27 تورایخ باب 9 میں جو کچھ بیان ہوا تھا اس کو وہاں سے اٹھا کر قرآن کریم کی تفسیر میں نقل کردیا اور پھر باوجود اس کے وہ سب خرافات تھے انہوں نے اس کی تردید بھی نہ کی اور یہ بھی نہ بتایا کہ ہم نے اس کو کہاں سے نقل کیا ہے نتیجہ یہ نکلا کہ مکھی پر مکھی مارنے والوں نے اس کو قرآن کریم ہی سمجھا اور بیان کیا ہم نے طوالت سے اس کا ذکر نہیں کیا حوالہ آپ کو دے دیا وہاں سے خود ہی ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 27:45قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) آئے کہ اللہ کی عبادت کرو اور آپس میں مت جھگڑو :
45۔ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجا گیا ۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو توحید کا درس دیا لیکن قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کی ایکنہ سنی اور انجام کار اس کے دو فریق ہوگئے اور آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والا فریق بہت ہی تھوڑا تھا ۔ صالح (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے متعلق سورة الاعراف کی آیت 73 تا 92 ‘ سورة ہود کی آیت 61 تا 68 ‘ سورة الشعراء 141 تا 159 میں بیان کیا چکا ہے اس لئے وہاں سے دیکھ لیں ۔
Ayah 27:46صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ بھلائی سے پہلے برائی کے لئے تم نے جلدی کیوں مچا دی ہے ؟ :
46۔ صالح (علیہ السلام) نے جب قوم کو کفر وشرک سے بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش کی اور عذاب الہی سے ڈرایا کہ اگر تم نے شرک اور کفر پر اسی طرح اصرار کیا اور غیر اللہ کی پرستش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجاؤ گے تو قوم کے سرداروں نے مطالبہ پر مطالبہ شروع کردیا کہ اے صالح ! جلد لے آ عذاب کو جس کا تو ہم کو بار بار وعدہ دے رہا ہے اس کی اس بات کے جواب میں صالح (علیہ السلام) ان کو کہہ رہے ہیں کہ ” اے میری قوم کے لوگو ! بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ‘ کیوں تم اللہ رب العزت سے مغفرت طلب نہیں کرتے شاید وہ تم پر رحم وکرم فرما دے ؟ جیسا کہ سورة الاعراف کی آیت 77 میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔
Ayah 27:47قوم نے صالح اور آپ کی دعوت کو نحس قرار دیا کہ جب سے تم آئے ہو قوم میں امن نہیں :
47۔ جس قوم میں اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر اور رسول کو مبعوث کیا ‘ کیوں کیا ؟ محض اس لئے کہ وہ قوم برائیوں میں غرق ہو رہی تھی کہ اللہ کا نبی ورسول ان کی بھلائی کی دعوت دے کر برائیوں میں غرق ہونے سے بچائے لیکن قوم نے اکثر ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور بجائے اس کے کہ رسول کی دعوت کو قبول کرکے کفر وشرک اور دوسری برائیوں کی دلدل سے نکلے ہمیشہ اپنے رسول کی مخالفت کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی ، پھر سنت الہی کے تحت اس قوم کو آزمایا گیا تاکہ قوم کے اندر انابت و خشیت پیدا ہو اور وہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھے اور ان سے باز آئے لیکن اس ہل چل میں آکر قوم نے ہمیشہ نبی ورسول کو جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے اس قوم کی طرف مبعوث ہوا تھا اس کو منحوس خیال کیا اور ہمیشہ یہی کہا کہ آپ جب سے آئے ہیں پوری قوم بدامنی کا شکار ہے ، بھائی بھائی سے دست و گریبان ہے اور ہر گھر میں تم نے فتور ڈال دیا ہے دیکھو جب سے تو آیا ہماری حالت روز بروز دگرگوں ہوتی چلی جا رہی ہے تو ایسا منحوس آیا ہے کہ جب سے تو آیا ہے کبھی وقت پر بارش نہیں ہوئی ‘ آسمان سے آفتیں اور بلائیں اتر رہی ہیں اس طرح پر ہر قوم ایک سے زیادہ اعتراض کرکے ہر نبی ورسول کو تقریبا منحوس قرار دیا اور نحس گنا۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) کو پیش آئی اور قوم نے آپ کو ملزم ٹھہراتے ہوئے برملا کہا کہا ’ اے صالح ! ہم نے تو تم کو اور تیرے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے ۔ صالح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اے میری قوم ! تمہارے نیک وبدشگون کا تعلق تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے پاس ہے اور حقیقت یہ ہے کہ تم لوگوں کی یہ آزمائش ہو رہی ہے اور اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی ‘ سورة الاعراف کی آیت 130 میں ہم بیان کر آئے ہیں ۔
Ayah 27:48صالح (علیہ السلام) کی قوم کے 9 سردار تھے جو دراصل قوم میں سارے فساد کی اصل جڑ تھے :
48۔ صالح (علیہ السلام) جیسا کہ پیچھے گزر چکا قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر مبعوث کئے گئے تھے اور قوم ثمود اس وقت 9 خاندانوں میں تقسیم ہوچکی تھی جس طرح قوم بنی اسرائیل کے بڑے بڑے قبائل بارہ تھے اس طرح قوم ثمود کے 9 گروہ تھے اور ہر گروہ دوسرے کو شکست دینے میں درپے تھا اور شکست کیا بھی یہی کی ایک خاندان نے دوسرے میں کوئی برائی کی تو انہوں نے اس کے بدلے چار نہیں تو دو ضرور کیں اور یہی طریقہ اس قدر پھیل گیا کہ اس کے سمٹنے کی کوئی شکل نظر نہ آئی تھی آج ایک قوم نے ایک جگہ ایک خانقاہ پر میلا لگوایا تو کل دوسرے خاندان نے چار نہیں دو جگہوں پر ضرور ایسا پکھنڈ شروع کیا ، آج اس بزرگ کی مزار پر چڑھاوا چڑھایا گیا تو کل دوسرے خاندان کی باری میں کئی چڑھاوے شروع ہوگئے مختصر یہ کہ اول سے آخر تک جو کچھ ہوا سب کا سب ان سرداروں کی کارستانیوں کے باعث ہوا ۔ صالح (علیہ السلام) چونکہ کسی ایک خاندان کا ساتھ بھی نہیں دے سکتے تھے اس لئے کہ آپ کی دعوت تو خالصتا کفر وشرک کے خلاف تھی اور کفر وشرک میں وہ ایک دوسرے پر بازی لے جا رہے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ صالح (علیہ السلام) کے خلاف سارے سردار آپس میں متفق ہوگئے چونکہ ان سب کا نظریہ فساد پھیلانا تھا اور اس اصلاح کو دبانے کے لئے ان سب کا اتحاد ضروری تھا بلکہ ان میں سے ہر ایک کی وہ وقتی ضرورت تھی جہاں اور کئی طرح کے اختلاف بڑھے ‘ اس ایک معاملہ میں اتفاق بھی ظاہر ہوا اس لئے ان سب لوگوں نے آپ میں مشورہ کر کے صالح (علیہ السلام) کا کام تمام کرنے کی ٹھان لی ۔
Ayah 27:49صالح (علیہ السلام) کے 9 سرداروں نے اتحاد کیا کہ صالح (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگا دیا جائے :
49۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے آپس میں سرجوڑے اور مشورہ کیا کہ اگر صالح کو کسی ایک قبیلہ کی طرف سے کوئی گزند پہنچی تو صالح (علیہ السلام) کا قبیلہ اس قبیلہ کا دشمن ہوجائے گا آپس میں جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہے اگر صالح کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے تو اس کا نتیجہ بھی پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا ۔ آج بھی بڑے بڑے شہروں ‘ گاؤں اور دیہات میں جو و ڈیرے ہوتے ہیں وہ اپنی مخالفتوں کے باوجود اپنے ذاتی معاملات میں مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں اندر ہی اندر ایسے معاہدے کرلیتے ہیں جن معاہدوں کے باعث وہ اپنے ذاتی نقصانات سے بال بال بچ جاتے ہیں اور یہ صورت حال آج سے نہیں بلکہ شروع سے چلی آرہی ہے ، صالح (علیہ السلام) کی قوم کے و ڈیرے اپنے سارے اختلافات کے باوجود کسی خاص مقام پر اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے مل کر اس تحریک کو ختم کرنے کی ایک سازش سوچی ، قرآن کریم نے اس جگہ اس سازش کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے آپس میں ملے گیا کہ ایک ایسا دن متعین کرلیا جائے جس روز ہم سب سردار اپنی بستی اور علاقے سے کسی نہ کسی طرف اپنے اپنے کاموں کے بہانے نکل جائیں اور رات کو شب خون مروا کر صالح اور اس کے سارے گھروں کا کام تمام کردیا جائے اچھا اگر سب نہیں تو اصل بیماری تو ختم ہوگی جب صالح سے پوری قوم کو نجات مل جائے گی اس طرح جب صالح کو ٹھکانے لگا دیا گیا تو تم سب اپنے اپنے گھروں میں واپس لوٹ جانا ۔ صالح کا خاندان جس میں کم ازکم ان کا اصل لیڈر تو نہیں ہوگا جب اٹھے گا اور تحقیق کرے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ یہ تو سب کے سب اس روز یہاں موجود ہی نہ تھے لہذا اس طرح قوم کے سارے لیڈر اس خون سے بری الذمہ قرار پائیں گے اور اب ہم سب کو تو معلوم ہی ہے کہ اس معاملہ میں ہم کو حرکت کرکے اس کی تفتیش نہیں کرانا ہے بلکہ سب اپنی اپنی جگہ یہی بیان دیں گے کہ صاحب ہم تو گھر پر موجود ہی نہ تھے لیکن اب اس بحث کو زیادہ طول نہ دو اس بیماری سے تو ہم سب کو نجات ملی کہ یہ تو ہم سب کے لئے ایک جیسا خطرہ تھا اس طرح اس بیان میں جب صالح (علیہ السلام) کا اصل خاندان بھی موجود رہے تو یہ بات یقینا یہیں ختم کی جاسکتی ہے اس مشورہ پر وہ سب متفق ہوئے اور آپس میں قسمیں بھی کھائیں کہ ہم سب کا بیان اس میٹنگ کے فیصلہ کے مطابق ہوگا ، دراصل یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے رسول ! محمد رسول اللہ ! اگر آپ ﷺ کے خلاف آپ ﷺ کی قوم نے ایک محاذ قائم کیا ہے اور آپ ﷺ کو راستہ سے ہٹانے کی سوچی ہے تو یہ کوئی نئی سکیم نہیں ایسے سکیمر پہلے بھی تھے اور اس طرح کی سکیمیں بھی پہلے سوچی جا چکی ہیں آپ تسلی رکھیں کہ جب صالح (علیہ السلام) کے خلاف پوری قوم نے ایک فیصلہ کرلیا تھا تو جس ذات نے اس وقت صالح (علیہ السلام) کو بچالیا تھا اور اس کا بال بھی وہ بیکانہ کر پائین تھے اسی طرح وہ ذات آج آپ کو بھی بچائے گی اور یہ لوگ تیرا بال بھی بیکا نہیں کر پائیں گے ‘ آپ اپنا کام جاری رکھیں جب وقت آئے گا تو یقینا وہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے ۔
Ayah 27:50ایک فریب انہوں نے گھڑا اور ہم نے ان کے گھڑے ہوئے فریب کو کامیاب نہ ہونے دیا :
50۔ عربی زبان میں (مکر) دراصل خفیہ تدبیر یا چال کو کہتے ہیں خواہ وہ خفیہ تدبیر وچال اچھی ہو یا بری لیکن اردو زبان میں مکر صرف بری قسم کی چال کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو دھوکا لگتا ہے اور بات سمجھنے کی بجائے وہ الجھ کر رہ جاتے ہیں اور علمائے کرام باوجود سب کچھ جاننے کے خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی خفیہ تدبیریں بھی کرنا ہوتی ہیں جو اچھی نہیں ہوتیں اس لئے وہ اس بات ہی کو مبہم رکھتے ہیں تاکہ اسی عربی کے (مکر) میں ان کا اردو کا مکر بھی چلتا رہے اس کو کہتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنا الو سیدھا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ علمائے کرام کو بھی اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے وہ اس طرح اس کی وضاحت نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے اس کی ایک بار نہیں بلکہ کئی بار وضاحت خود ہی کردی ہے ، بہرحال خیال رہے کہ برے لوگ ہمیشہ برے مکر اور فریب کرتے آئے ہیں اور اچھے لوگ بھی ہمیشہ ان کے برے مکروں اور فریبوں سے اپنا بچاؤ کرتے چلے آئے ہیں ظاہر ہے کہ فریبی اگر اپنے فریب کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے تو دفاع کرنے والا اپنے دفاع کو کیوں خفیہ نہیں رکھے گا بلکہ وہ تو درجہ اتم اپنے دفاع کو خفیہ ہی رکھے گا اور اس حالت کا یہاں بیان ہے ، ارشاد فرمایا کہ اس طرح صالح (علیہ السلام) کی قوم کے ان نو سرداروں نے اپنی مکاری اور اپنی سازش کو خفیہ رکھا تھا لیکن ہم نے بھی اس کا مکمل توڑ کردیا تھا کہ تمہاری اس چال کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پھر زمانہ گواہ ہے کہ وہی ہوا جو ہم نے فیصلہ کیا تھا کیونکہ ہم لوگوں کے فیصلوں کو جب چاہتے ہیں توڑتے رہتے ہیں ، لیکن ہمارے فیصلے کو آج تک نہ کوئی توڑ سکا اور نہ ہی کبھی کوئی توڑ سکے گا کیونکہ ہر ایک انسان کی پیشانی ہمارے ہاتھ میں ہے ۔
Ayah 27:51ہم نے صالح (علیہ السلام) کے ان نوسرداروں اور ان کی ساری قوم کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا :
51۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے یہ فیصلہ کب کیا ؟ یہ ایک سوال ہے جس کا واضح ذکر قرآن کریم نے نہیں فرمایا لیکن جس بات کی وضاحت قرآئن خود کر رہے ہوں قرآن کریم نے کبھی بھی اس چیز کی وضاحت نہیں کی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ہی نازل کیا گیا ہے جو عقل وفکر اور سمجھ سوچ سے کام لیتے ہیں باقی کے لئے جیسا وہ نازل ہوا جیسا نہ ہوا بہرحال قرینہ اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ قوم کے سرداروں نے جب وہ کام کرلیا جس سے صالح (علیہ السلام) نے ان کو منع کیا تھا یعنی اس اونٹنی کو قتل کرلیا اور اونٹنی کے قتل کے بعد صالح (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کے سامنے تین دن کی مہلت کا اعلان کیا تو اس اعلان ہی نے ان سب کو جمع ہو کر اس کام کرنے پر مجبور کیا کہ اب ایک ہی راہ باقی رہ گئی کہ جس طرح اونٹنی کا معاملہ طے ہوا ہے اسی طرح صالح (علیہ السلام) کا کام بھی تمام کردیا جائے گا گویا ایک طرف صالح (علیہ السلام) کو قوم کو تین دن کی مہلت کا اعلان کیا اور دوسری طرف قوم کے سرداروں نے صالح (علیہ السلام) کو اس طرح قتل کردینے کی سازش کی ابتدا کی دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ سے ہجرت کر جانے کا حکم صادر کیا اور اس طرح گویا اتفاق دیکھئے کہ جس رات انہوں نے صالح کو شب خون مار کر قتل کرنا تھا اسی رات کے شب خون مارنے سے قبل ہی صالح (علیہ السلام) کو وہاں سے نکل جانے کا حکم صادر کیا گیا لیکن جب صالح (علیہ السلام) ہجرت کر گئے اور یہ لوگ شب خون مارنے کے لئے اس رات واپس آئے تو صالح (علیہ السلام) کو موجود نہ پایا اور ادھر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا وقت آگیا اور اس رات کو ابھی دن نہیں نکلا تھا کہ ان سب کا کام تمام کردیا گیا گویا ع
” مارن والے موئے محمد قدرت رب دی ہوئی “۔
آپ غور کیجئے کہ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے کتنی گہری سازش کا پروگرام بنایا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گہری سازش کے پروگرام کا توڑ کس طرح کیا کہ سازشیوں کو کچھ پتہ بھی نہ چلا اور وہ خود اس سازش کا شکار ہوگئے ، قرآن کریم نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرما دیا کہ (آیت) ” ومکروا مکرا وم کرنا مکرا وھم لا یشعرون ، فانظرکیف کان عاقبۃ مکرھم انا دمرنا ھم وقوموھم اجمعین “۔ ” اور انہوں ایک خفیہ سازش کی اور ہم نے انکی اس خفیہ سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا اور وہ (اس بات کو) سمجھتے نہیں تھے ، پھر دیکھ لیجئے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہ ان کی سازش کا کیا نتیجہ نکلا کہ ہم نے ان کو اور ان کی ساری قوم کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ۔ “ (27 : 50)
اس لئے یہ سوال کہ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کا یہ فیصلہ کب ہوا ؟ قرینہ نے بالکل واضح کردیا کہ یہ فیصلہ ان کا اسی وقت ہوا جب اونٹنی کو قتل کرچکے تھے اور یہ وہی وقت تھا جب ان پر عذاب مسلط ہونے کا وقت قریب پہنچ چکا تھا یعنی وہی رات ان کے شب خون مارنے کی تھی اور وہی رات ان کی ہلاکت کے لئے مقرر کی جا چکی تھی اور وہی ہوا جو فیصلہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے طے پایا تھا ۔
Ayah 27:52قوم ثمود کے گھروں کو ان کے ظلم وستم کے باعث برباد کردیا گیا ہے :
52۔ جب ان کا وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ اس وقت تھا ، قرآن کریم نے اس ہلاکت آفریں آواز کو کسی مقام پر (صاعقۃ) کڑک دار بجلی اور کسی جگہ (رجفۃ) زلزلہ ڈال دینے والی ایک چیخ اور ایک جگہ (طاغیۃ) دہشت ناک جگہ اور بعض جگہ (صیح) ایک چیخ فرمایا ہے اس لئے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ان عذاب کی ہولناکیاں کیسی گوناگوں تھیں تم ایک کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی اور کڑکتی اور گرجتی ہو اور اس طرح کو ندرہی ہو کہ لرزاتی ہوئی کسی مقام پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اور اس کے نواح کا کیا حال ہوگا ؟ قرآن کریم کی اس آیت نے بیان کیا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے اس ظلم کے باعث ان کو اور ان کے گھروں کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا اور اس طرح بعد میں آنے والوں کے لئے اس میں کتنی ہی نشانیاں ہیں اگر وہ ان کو اپنے لئے نشانیاں سمجھیں ۔
Ayah 27:53ان لوگوں میں صرف وہی لوگ سچے ہیں جو حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے نکل گئے تھے :
53۔ فرمایا ہم نے اپنی سنت کے مطابق صرف ان لوگوں کو اس عذاب سے نجات دی جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور یہ کہ وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھ اس علاقہ سے ہجرت کرکے چلے گئے تھے ان لوگوں کو گویا ایک طرح کی مہلت دے دی اور ان کی نسل درنسل پھر ایسے لوگ پیدا ہونا شروع ہوگئے جنہوں نے بالکل وہی کرتوت شروع کردیئے جو انکے آباؤاجداد کرتے چلے آرہے تھے اور پھر وہی سلسلہ شروع ہوگیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا ۔
Ayah 27:54حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تم نے کیوں بےلذت گناہ شروع کردیئے ہیں ؟ :
54۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے مفصل حالات سورة الاعراف کی آیات 80 تا 84 ‘ سورة ہود کی آیات 74 تا 83 ‘ سورة الحجر کی آیت 57 تا 77 ‘ سورة الانبیاء آیات 71 تا 75 ‘ سورة الشعراء کی آیات 160 تا 174 میں وضاحت سے گز چکے ہیں وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔ زیر نظر آیت سے اس سورت میں بھی ان ہی کی دعوت کا ذکرشروع ہو رہا ہے ، اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تم عجیب لوگ ہو کہ ایسے بدلذت گناہ کرتے ہو جس کا نتیجہ نہ کبھی فاعل کے لئے اچھا نکلا ہے اور نہ ہی مفعول کے لئے اور تم جانتے ہو کہ اس خواہش کا اصل کیا ہے جس سے خواہش کا ازالہ بھی ہوتا ہے صحیح لذت بھی حاصل ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر اس کا نتیجہ مبارکبادیوں کا باعث ہوتا ہے اور ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ تم عورت اور مرد کے فرق کو نہیں سمجھتے حالانکہ یہ فرق بھی تم پر کوئی پوشیدہ نہیں ہے ۔
Ayah 27:55اس جہالت کا مظاہرہ کرکے تم من حیث القوم سارے ہی جاہل ہو رہے ہو :
55۔ قوم لوط کی اس غیر فطری حرکت کو جہالت کا باعث قرار دیا ہے کیا واقعی وہ جہالت کے باعث ایسا کرتے تھے اس کے جواب سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ واضح ہوجائے کہ جہالت کیا چیز ہے ؟ کسی کام کا بغیر اس کے مآل کو سمجھتے ہوئے کرنا جہالت ہے خواہ وہ کام کرنے والا کون ہو گویا اس جگہ یہ لفظ حماقت اور سفاہت کے لئے استعمال ہوا ہے ہم اردو زبان میں بھی ان معنوں میں اسی لفظ کا استعمال کرتے ہیں مثلا جب کوئی شخص گالی گلوچ پر اتر آتا ہے اور اس طرح کی بیہودہ حرکات کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے ، ظاہر ہے کہ جو شخص اس طرح کی حرکت کا مرکتب ہوتا ہے کہ خواہش نفس کے ازالہ کے لئے ایک غیر فطری طریقہ استعمال کرتا ہے جب کہ اس کا ایک فطری طریقہ بھی موجود ہے تو اس کو جاہل نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے اگر اس حرکت کا مرتکب ایم ۔ اے پاس اور کسی اسلامی درسگاہ کا فاضل ہے تو وہ بھی جہالت ہی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے اور جاہل بھی اسی کو کہتے ہیں جو جہالت کا کام کرے لہذا اس وقت اسی کو جاہل کہیں گے بلکہ وہ اجھل ہوگا اور اس لئے وہ زیادہ مستحق عقوبت ہے اور ایسے آدمی کو دوسروں کی نسبت زیادہ سز ملنی چاہئے ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے سارے لوگ خواہ وہ کن عہدوں پر فائز تھے اور کتنے پڑھے لکھے تھے سب کے سب اس بےحیائی اور غیر فطری عمل میں یکساں طور پر ملوث تھے اس لئے ان کا جب بھی ذکر آیا تو انکی یہ بیماری ذکر کی گئی کہ یہ لوگ بےغیرت تھے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کو ازالہ خواہش کے لئے استعمال کرتے تھے گویا ان کی ٹینکیاں جب بھر جاتی تھیں تو ٹوٹیاں بہنے لگتی تھیں جب تک امرد ہوتے مفعول ہوتے اور جب مرد ہوجاتے تو فاعل بن جاتے اس طرح ان میں کا ہر فرد مفعول بھی تھا اور فاعل بھی اور ان کے چہرے صاف بتا دیتے تھے کہ یہ حاجی ‘ نمازی ‘ علامہ فہامہ ‘ داڑھیوں کی لمبائی اور پیشانیوں کی کشادگی کے باوجود اپنی آنکھوں کے حلقوں ‘ گلے کے آوازوں اور است کی بیماریوں سے سب کچھ ظاہر کر رہے ہیں ان کے گھوڑے کتنے تیز دوڑتے تھے اور انہوں نے کہاں کہاں کی خاک چھانی ہے اور کن صفوں کو انہوں نے گندہ کیا ہے قرآن کریم نے تو اس بات کو اس لئے بار بار ذکر کیا ہے کہ آنے والی نسلیں جن کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کچھ شرم کریں اور اس طرح کی ناپاکی سے بچنے کی کوشش کریں لیکن ہم قوم لوط کے اس عمل کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے باوجود اپنی مجلسوں میں اس کی تلاوت کے وقت جھوم جھوم جانے کے باوجود کتنے ہی جو اس مرض کے مریض ہیں اور اپنے اندر خوش ہیں کہ یہ مرض تو قوم لوط کا بیان کیا جا رہا ہے نہ کہ ہمارا کیونکہ بار بار نام تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہی کا لیا جا رہا ہے اور یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے آج ہمیں قرآن کریم سے بالکل بےگانہ کردیا ہے ہم دوسری قوموں کے تذکار پڑھتے ہیں اور اس طرح پڑھتے ہیں کہ شاید ہماری زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور علمائے کرام بیان کرتے وقت بھی ان کو نہیں جھنجھوڑتے ہیں کہ صاحب ! یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ محض تمہاری خاطر بیان کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے ایسا ایسا کیا تھا اور اس ایسے ایسے کا نتیجہ جو اس وقت نکلا تھا وہی ہے جو آج ہمارے اور تمہارے کرنے سے بھی نکلے گا تم کو یہ ایک قصہ نہیں سنایا جا رہا ہے بلکہ ایک نصیحت کی جا رہی ہے اور سب سے بڑھ کر اس وقت اس معاملہ میں جو غلطی کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ آج ہمارے اخبارات ‘ ریڈیو ‘ ٹیوی اور رسل و رسائل کے جتنے اداری ہیں وہ جب اس کا ذکر کرتے ہیں تو اس فعل کو ” لواطت “ کے لفظ سے بولتے ہیں اور یاد کرتے ہیں جو ایک نہایت غلط بات ہے کہ ایسے فعل کی نسبت حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف کی جائے بلکہ اس کا اصل نام سدومیت ہے اور اس کو اسی کے نام سدومیت ہی سے یاد کرنا چاہئے ۔
Ayah 27:56حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے ‘ ان کا یہاں کیا کام ہے ؟ :
56۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی بستی کے لوگوں کو جب اس معروف بےحیائی اور اس قبیل کی دوسری بیماریوں سے منع کیا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کا حل کیا ہونا چاہئے تو اس میں جو زیادہ سمجھدار تھے انہوں نے یہی فیصلہ دیا کہ لوط اور اس کے لوگوں کو اس بستی سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ بڑے پاکباز بنے بیٹھے ہیں گویا ان کے نزدیک ان کے کام ایسے نہیں تھے جن پر کسی کو تنقید کرنے اور ان کو برا بھلا کہنے کا کوئی حق ہو ۔ یہ فیصلہ تو اس دور کا ہے جس دور کو جہالت کا دور کہا جاتا ہے لیکن آج اس علمی دور میں بھی کہا جاتا ہے کہ جو اس وقت کی جاہلی قومیں کہتی تھیں اگر کبھی مغربی قوموں کی موجودہ حالت کو آپ نے پڑھا یا دیکھا ہے تو یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ان کے ہاں اب قانونا ان لوگوں کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے جو اس طرح کی شخصی آزادی پر کسی طرح کی قدغن لگائیں اور اس کو برا بھلا کہیں وہ چاہے انسانوں کو یا دوسرے حیوانوں کو اپنی خواہشات کے ازالہ کے لئے استعمال کریں ان پر کوئی ممانعت نہیں اور مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی اسلامی قوانین کو بربریت اور جہالت سے تعبیر کرنے لگے ہیں اور خصوصا اس وقت ملک پاکستان میں اسلامی قانون کے غلط استعمال نے ان کی باتوں کی تصدیق کردی ہے اور بلاشبہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اسلام کے نام سے بھی بیزار ہوجائیں ۔
Ayah 27:57اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کے اہل کو بچالیا اور باقی سب لوگوں پر عذاب مسلط کردیا :
57۔ حضرت لوط (علیہ السلام) پر سچے دل سے ایمان لانے والوں کو بچالیا گیا اور باقی سب کو تباہ وبرباد کردیا گیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابتداء شب میں ملائکہ کے کہنے پر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے ماننے والوں کو ساتھ لے کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے بھی آپ کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آئی ، آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا اور پتھروں کا مینہ برسانا شروع کردیا اور اس زور سے بارش ہوئی کہ ان سب کو بھسم کرگئی اور ابھی بارش کی تندی وتیزی میں کچھ فرق نہیں پڑا تھا کہ زلزلہ شروع ہوگیا اور پھر اتنا شدید زلزلہ آیا کہ عین اس بستی کی جگہ سے زمین شق ہوئی اور بستی کا وہاں نام ونشان ہی نہ رہا اور وہ پورے کا پورا علاقہ زمین کے اندر ہی اندر کہیں بھسم ہوتا گیا یہاں تک کہ وہاں پر سوائے بحرمیت کے کچھ نظر نہ آیا اور آنے والوں نے اس کا نام بحر لوط رکھا اور اس کی گہرائی آج تک کوئی معلوم نہیں کرسکا کہ وہ کتنی ہے اور اس طرح نتیجہ وہی کچھ رہا جو گزشتہ مغربی قوموں کا نکل چکا ہے ، اور پھر ان میں سے اگر کچھ بچے تو وہ وہی تھے جن کو حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ اس علاقہ سے نکال لیا گیا اس طرح حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی انہی لوگوں میں غرق ہو کر رہ گئی اور حضرت لوط (علیہ السلام) اس کے کچھ بھی کام نہ آئے ۔
Ayah 27:58اس طرح ان لوگوں پر جو بارش برسی وہ بہت بری بارش تھی :
58۔ زیر نظر آیت کا مطلب ی ہے کہ وہی چیز جو انسانی زندگی کا باعث ہوتی ہے وہی قوم لوط کی ہلاکت کا باعث ہوگئی اور ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کو ڈرایا گیا تھا لیکن انہوں نے ڈرنے کی بجائے اکڑنا شروع کردیا اور اس قدر اترائے کے حدود سے باہر ہی ہوتے چلے گئے ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہر بات کو انہوں نے مذاق میں جانا اور انجام کار وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے اور مختصر بات صرف یہ ہے کہ ابھی وقت ہے کہ تم سمجھ جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو قوم لوط کے ساتھ ہوا کیونکہ ہماری کسی قوم کے ساتھ دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ ہی اب ہے پہلے بھی اپنے کئے کے انجام کو پہنچے اور تم بھی یقینا اپنے کئے کو پہنچ کر رہو گے ، جب تک نبوت جاری تھی ایک کے بعد دوسرا نبی ورسول بھیج کر ڈرایا جاتا تھا اور اب جب کہ نبوت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کردیا گئی تو اب انسانوں کو ڈرانے کے لئے ہم نے ایک نیا اصول مقرر کردیا اور پھر اس کا اعلان بھی کردیا کہ اب طریقہ اس کے لئے ایسا مقرر کردیا گیا ہے کہ بڑے عذاب سے پہلے ہم چھوٹے چھوٹے عذاب بھیج کر لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ باز آجاؤ اگر وہ سنبھل نہ سکے تو آج ان سب کے لئے ایک پوری دنیا کے ختم کردینے کا اعلان بھی ہم نے کردیا ہے جو اپنے وقت پر انشاء اللہ پورا کردیا جائے گا ۔
Ayah 27:59اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہہ دیجئے حمد اللہ کیلئے ہے اور سلام اللہ کے نیک بندوں کے لئے :
59۔ زیر نظر آیت سے خطاب براہ راست نبی اعظم وآخر ﷺ کو کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ بھی اس بات کا اعلان کردیں کہ سب اچھی تعریفوں کے لائق صرف اور صرف ذات اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور ہمیشہ سے سلامتی اللہ کے ان نیک بندوں ہی کے حصہ آتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ کیا ہے اور اپنے لئے خاص کرلیا ، مخالفین سے پوچھو کہ تم بھی اپنے موقف کا اظہار کرو کہ کیا ایک ہی اللہ حاجت روا اور مشکل کشا کافی ہے یا جن جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو وہ بہتر ہیں اس سوال کی نوعیت کو سمجھ لو اور پھر آگے بڑھتے ہیں ۔ سوال کیا ہے ؟ یہی کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ بہتر ہے یا معبودان باطل ؟ یہ بات اس لئے پوچھی گئی کہ بعد میں آنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ دنیا میں بھی بھی اللہ کے مقابلہ میں اس کے شریکوں کو اللہ سے بہتر کسی نے نہیں کہا اور نہ سمجھا لیکن اس کے باوجود وہ مشرک تھے اور یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ دنیا میں آج تک جس کسی نے بھی غیر اللہ کو پکارا اس میں کوئی نہ کوئی بھلائی دیکھی یا سمجھی تو ان کو تفہیم تو یہ کرائی گئی تھی کہ جو بھی بھلائی تم ان میں دیکھتے ہو یہ بھلائی اللہ رب ذوالجلال والاکرام میں بدرجہ اتم موجود ہے پھر تم اس بات کو تو سمجھاؤ کہ جس میں وہ بھلائی زیادہ ہے جس کے تم خواہش مند ہو تو کیا جس کے پاس وہ بھلائی زیادہ ہے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس سے طلب کی جائے یا اس سے جس کے پاس تمہارے خیال میں بھی بھلائی کم ہے تو اس کا جواب گزشتہ قوموں میں سے بھی کوئی نہ دے سکا اور آج کے مشرک بھی یقینا نہیں دے سکتے ۔ اس طرح قرآن کریم نے یہ سوال اٹھا کر توحید کا درس شروع کرنے سے پہلے ہی مشرکین کو لاجواب کردیا لیکن ہمیشہ مشرک نہ جواب دے سکے اور نہ ہی کبھی جواب دے سکیں گے اس کے باوجود نہ پہلوں نے شرک کو چھوڑا اور نہ ہی آج کے مشرک چھوڑیں گے زیادہ سے زیادہ اگر وہ کوئی راہ نکالیں گے تو یہی ہوگی کہ ہم ان کو محض اس لئے پکارتے ہیں کہ یہ لوگ ہم کو اللہ کے نزدیک یا قریب کردیتے ہیں لیکن قرآن کریم نے ان کے اس جھوٹ کا جواب بھی ان کو سنا دیا ہوا ہے ۔ زیر نظر آیت پڑھنے والے قاری جب پڑھیں تو قاریوں کو بھی اور سننے والوں کو بھی اس آیت کا جواب اس طرح دینے کی ہدایت کی گئی ہے (بل اللہ خیر وابق واجل واکرم) ” نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے ۔ “ اور توحید کا مستقل درس شروع کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 27:60سوال اور انداز سوال اور (الہ) کے مفہوم کی مکمل وضاحت :
60۔ (الہ) کے مفہوم کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر کرائی جا چکی ہے اس جگہ ان سارے مقامات کی وضاحت پیش کرنے کی بجائے آپ کی سہولت کے لئے صرف چند مقامات کی نشانی کرنا مناسب خیال سمجھا گیا ہے لہذا محولہ حوالہ جات عروۃ الوثقی میں اصل مقامات سے نکال کر وضاحت دیکھ لیں ۔ عروۃ الوثقی جلداول سورة البقرہ 2 : کی آیت 163 ‘ عروۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران 3 : 18 ‘ سورة النساء 4 : 87 ‘ 171 ‘ عروۃ الوثقی جلد سوم سورة المائدہ 5 : 73 ‘ سورة الانعام 6 : 13 ‘ 19 ‘ عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة التوبہ 9 : 129 ‘ سورة الرعد 13 : 15 عروۃ الوثقی جلد پنچم سورة النحل 16 : 15 ‘ سورة بنی اسرائیل 7 : 72 ‘ 43 ‘ سورة الکہف 18 : 110 ‘ سورة طہ 20 : 88 ‘ عروۃ الوثقی جلد ششم سورة الانبیاء 21 : 22 ‘ سورة الحج 22 : 34 وغیرہ اور زیر نظر آیت سے مسلسل آیت 66 تک یہی مضمون چلا گیا ہے اور شرک کی بہت سی صورتوں کی تردید کردی گئی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ غور کرکے بتاؤ کہ تمہارے یہ معبود بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ؟ اور تمہارے لئے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس پانی کے ذریعہ سے بارونق باغات اغائے پھر ان تینوں سوالوں کا خود ہی جواب دے دیا کہ وہ ایک اور صرف ایک اللہ ہی کی ذات تو ہے اس کے سوا نہ کوئی بارش کا دیوتا ہے اور نہ زراعت کا اور نہ ہی آسمان و زمین میں کسی کی کوئی شرکت ہے ۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی ساری دوسری آیتوں سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ ہر جگہ ” الہ “ کے معنی معبود ہی کے صحیح نہیں ہیں بلکہ الہ کے مفہوم میں بہت وسعت ہے ، چناچہ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے الہ ہونے میں آسمان اور زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمانوں سے پانی نازل کرنا اور پھر باغات کا اگانا سب آگیا یعنی بتایا گیا کہ الہ وہی ہے جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے ‘ الہ وہی ہے جو بارش برسانے والا ہے ‘ الہ وہی ہے جو ان باغات اور کھیتی باڑی کا پیدا کرنے والا ہے اور دنیا کے سارے انسانوں کو دعوت دی گئی ہے کہ آپ غور کرکے دیکھ لو کاشتکاری ہو یا باغبانی اس عظیم الشان نظام کے کسی جزء پر بھی اسے قدرت حاصل ہے جس کو تم نے معبود بنایا ہے ؟ کیا زمین میں صلاحیت رکھنا اس کا کام ہے ؟ کیا خاک میں قوت نمو رکھ دینا اس کے بس کی بات ہے ؟ کیا وقت مناسب پر اور مقام مناسب پر بارش برسانا اس کے اختیار میں ہے ؟ کیا بارش کے قطروں میں یہ اثر رکھ دیا کہ وہ نباتات اگائیں اس کے دخل و تصرف کی چیز ہے ؟ درختوں پودوں ‘ سبزیوں کو آفتاب کی گرمی ایک خاص درجہ میں پہنچانا اس کے اختیار میں ہے ؟ غرض کھاد ‘ سورج پانی وغیرہ میں پیداوار کی صلاحیتیں رکھ دینا اور ان ساری استعدادوں کو ایک متعین درجہ میں اور مناسب حد تک قوت سے فعل میں لانا ان میں سے کوئی بھی چیز کیا ایک انسان کے دخل و تصرف میں ہے ؟ (آیت) ” ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا “۔ میں جب ان باتوں میں سے ایک ایک کی نفی ہوگئی کہ اس نظام کی نباتاتی کوئی سی کڑی بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہے تو اب معا جرح یہ کی ہے کہ (ء الہ مع اللہ) اچھا تمہارے اپنے بس میں نہیں تو پھر کیا کوئی اور غیر اللہ خدائی کے ان کاموں میں سے کسی ایک میں کوئی شریک ہے ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں حق سے عدول کرنے والے (یعدلون) عدل سے ہے جس کے معنی ہیں حق سے انحراف اور کجی کرنے والے ، مزید تفصیل دیکھنا ہو تو اوپر محولہ حوالہ کی طرف مراجعت کریں اور اس جگہ بھی ابھی توحید الہی کے دلائل بیان کئے جا رہے ہیں اس لئے آگے مزید پڑھیں گے ، بلکہ (آیت) ” بل ھم قوم یعدلون “۔ میں اس وقت کے مشرکوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو خاص کرکے نبیوں ‘ ولیوں ‘ پیروں ‘ بزرگوں اور اللہ کے نیک بندوں کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مرگئے ہوں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور مسلمان کہلانے کے باوجود شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
Ayah 27:61بےقرار کی دعائیں کون سنتا ہے اور تم کو زمین میں خلیفہ کس نے بنادیا ؟ :
61۔ ذرا تقابل کرکے تو دیکھو کہ وہ لوگ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہے اور وہ بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا ہے اور اس کے درمیان دریا بنائے اور زمین میں بڑے بڑے بھاری پہاڑ گاڑ دیئے اور دو دریاؤں کے درمیان ایک خاص حد فاصل بنا دی کٹنی موٹی اور عام فہم بات ہے لیکن اس کو سمجھنے کی کیوں کوشش نہ کی گئی تعجب ہے کہ اس کو نہ کلدانیہ والے سمجھے ‘ نہ مصر والے ‘ نہ ایران والے اور نہ ہندوستان والے ‘ نہ روم والے اور نہ یونان والے سب نے اپنے کمال اور عروج و تمدن کے زمانہ میں پرستش کی تو دوسروں کی کی اور اب تک لوگ دوسروں کی پرستش میں زیادہ رغبت رکھتے ہیں ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان میں سے کوئی ہے جو زمین کو قرار دینے والا یا زمین کے اندر دریا بہانے اور پیدا کرنے کرنے والا ‘ زمین کے اندر پہاڑ گاڑنے والا ‘ پھر زمین کے اندر اور سمندر کے اندر مختلف پانیوں میں غیر مرئی پردے قائم کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کوئی اور ہے بھی ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اتنی موٹی سی بات بھی آخر تم کیوں نہیں سمجھتے ؟ زیر نظر آیت میں چار سوال اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ گزشتہ آیت میں تین سوالوں کا جواب دریافت کیا گیا تھا اس آیت میں پہلا سوال کیا ہے ؟ وہ ذات جس نے زمین کو جائے قرار بنایا جس میں تم اربوں ‘ کھربوں انسان آباد ہو اور تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں بھی اس میں رکھ دی گئی ہیں اور پھر یہ زمین ہے کہ اپنی ایک خاص حرکت کے باوجود تم کو قرار دے رہی ہے ذرا غور تو کرو کہ تمہارا یہ کرہ ارض کس طرح اس فضا میں معلق ہے اور کسی چیز پر اس کو ٹکایا بھی نہیں گیا لیکن اس کے باوجود اس میں ذرا برابر بھی اضطراب نہیں ذرا پھر غور کرو کہ اگر اس میں اضطراب واہتزاز ہوتا تو ہم کس طرح زندہ رہ سکتے تھے جبیہ ایک ذرہ اس کے کسی ایک خاص حصہ کو اضطراب کو ہم نہیں برداشت کرسکتے اگر اس میں مسلسل اضطراب ہوتا تو کسی جاندار کا زندہ رہنا ممکن تھا اور پھر یہ کرہ کس باقاعدگی کے ساتھ اس سورج کے سامنے آتا اور غائب ہوتا چلا جاتا ہے اگر اس کا ایک رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا ہر وقت اندھیرے میں ہوتا تو اس کے دونوں طرف ہی آبادی ممکن نہ تھی کیونکہ ایک طرف کو تو سورج کی مسلسل کرنیں جلا کر راکھ کر دیتیں اور دوسری طرف مسلسل اندھیرے میں رہنے کے باعث بانجھ ہوجاتی ۔ آج جس سائنس پر تم مفتوں ہو اس کا آخر کمال کیا ہے ؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہ تم کو کچھ ایسی معلومات بہم پہنچائیں ہیں کہ تم پہلے انکو نہیں جانتے تھے لیکن کیا ان معلومات کے جن لینے اور ان کے نہ جاننے میں کوئی فرق ہے ؟ کیا جس وقت انسان یہ سمجھتا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج متحرک ہے تو کیا زندگی اس وقت موجود نہ تھی ؟ جب اس وقت بھی تھی اور آج بھی ہے تو آخر فرق کیا نکلا ؟ پھر کسی چیز کا معلوم کرلینا کہ یہ کام کیسے ہو رہا ہے کیا اس کے برابر ہے کہ ایک اس کام کو کر رہا ہے اور دوسرا دیکھ رہا ہے ؟ کیا کام کرنے والا اور دیکھنے والا دونوں برابر ہوتے ہیں ؟ اگر عقل وفکر سے کام لیا جائے تو اس شخص کا ایمان زیادہ مضبوط ہونا چاہئے جس نے مشاہدہ کرلیا کہ یہ کام اس طریقہ سے ہو رہا ہے اور کرنے والا پر اس کو یقین آنا چاہئے کیونکہ اس کے علم میں ہے کہ یہ کام اس طرح خودبخود نہیں ہوا چلا جارہا بلکہ اس کام کا باقاعدگی کے ساتھ جاری ہونے ہی کا یہ مطلب ہے کہ اس کا باقاعدگی کے ساتھ کوئی چلانے والا ہے اور میں کتنا کو تہ بیں ہوں کہ وہ مجھے دکھائی بھی نہیں دیتا ، پھر اس قادر وقدیر اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اس زمین میں کس طرح دریا بہائے جو فراز سے نشیب کی طرف رواں دواں ہیں اور حیوانی زندگی کے لئے وہ کس قدر ضروری ہیں اگر دریا نہ ہوتے تو تیری آب پاش کا کیا ہوتا ؟ پھر زمین کو اس کے محور پر قائم رکھنے کے لئے اس میں کسی طرح پہاڑ گاڑ کر رکھ دیئے کہ ایک طرف وہ زمین کو ہچکولے لینے سے باز رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف انسان کے فائدے کی کیا کیا چیزیں ان میں رکھ دی گئی ہیں پھر کچھ ایسی ہیں جو نکالی جا رہی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو خودبخود نکل آتی ہیں اور ہمیں اس وقت علم ہوتا ہے جب وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہیں پھر ان سامنے آجانے والی اشیاء کو معلوم کرلینا زیادہ اہم ہے یا ان اشیاء کے ذخائر کا پیدا کرنا ؟ تعجب ہے کہ جن لوگوں نے ان اشیاء کو معلوم کیا ان پر تو آپ لوگ مفتوں ہیں اور جو ان ذخائر کا پیدا کرنے والا ہے اس کی طرف سے بالکل غافل ہیں کتنی ہی عجیب غفلت ہے کہ کبھی بھول کر بھی اس کا خیال نہیں آیا زمین کے اندر میٹھے اور کھاری پانی کے ذخائر موجود ہیں اور لطف یہ ہے کہ میٹھے اور کھاری پانی کو بالکل الگ الگ کر کے رکھا گیا ہے اور وہ کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا ۔ زمین کا اندر تو اندر ہی ہے لیکن باہر بظاہر ہر سمندر کے اندر میٹھے اور کھاری پانی کو الگ الگ چلایا گیا ہے اور اس طرح ٹھنڈے اور گرم پانی کو بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھا گیا ہے تفصیل اس کے پیچھے سورة الفرقان آیت 53 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں ‘ سورة الفرقان عروۃ الوثقی کی اسی جلد میں پیچھے موجود ہے ۔
Ayah 27:62مضطر کی دعائیں سننے والا کون ہے اور کون ہے جو اس کے دکھ کو کھول دینے والا ہے ؟ :
62۔ مضطر کی بےقراری سے کون واقف نہیں اور کون ہے جو کبھی بےقرار نہ ہوا ؟ بلاشبہ کبھی ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ انسان زندگی پر مرنے کو ترجیح دینے لگتا ہے اور اگر اس کے اختیار میں ہو تو وہ فورا مر کر اپنی بےقراری کو ختم کرلے لیکن وہ لوٹ پوٹ ہو کر رہ جاتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی اس بےقراری کو دور کر دے اور مصیبت سے اس کو نکال دے ایسی حالت میں جب وہ ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے تو پھر انجام کار وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے فریاد کرتا ہے اور یقین جانتا ہے کہ اب اس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ خالص اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اللہ چاہتا ہے تو اس کا وہ دکھ کھول دیتا ہے لیکن پھر جب اس کا وہ دکھ دور ہوجاتا ہے تو اس کے بعد وہ پہلے کی طرح دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر ہوچکی ہے مثلا سورة الانعام آیت 41 ‘ 64 ‘ سورة یونس آیت 21 ‘ 22 ‘ سورة النحل آیت 53 ‘ 54 ‘ سورة بنی اسرائیل آیت 67 کو ضرور ملاحظہ کریں ۔ زیر نظر آیت 62 میں دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ مضطر کی دعا کون سنتا ہے اور پھر اس دکھ کو دور کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اگر چاہتا ہے تو اس کا دل کھول بھی دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ کون ہے جو تم کو اس زمین میں خلیفہ بناتا ہے یعنی پہلوں کو اٹھا لیتا ہے اور ان کی جگہ دوسروں کو آباد کردیتا ہے ؟ پھر سوال اٹھایا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ہے جو کسی مضطر کے اضطرار کو دور کر دے یا پہلوں کو ترتیب وار جس کو چاہے اٹھا لے اور ان کی جگہ دوسروں کو لا آباد کرے ؟ گویا الہ ہی ہے جو مضطر کے اضطرار کو دور کرتا ہے اور ایک دوسرے کا خلیفہ بناتا چلا آرہا ہے پھر تم نے جو الہ اور معبود بنا رکھے ہیں ان کا کام کیا ہے ؟ اس کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ ایک ایک بات پر ہاں ہاں کرتے ہیں لیکن ان میں سے نصیحت پکڑنے والے بہت ہی کم ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ عقل سے کام لینے والے ان میں بہت ہی کم ہیں اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے عقل وفکر کی بھی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کی بھی ۔