27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ بتاتا ہے ؟ اور کون ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دے کر بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (جو ایسا کرسکتا ہے ؟ ) حقیقت یہ ہے کہ ان کے شرک سے بہت ہی بلندو برتر ہے

خشکی اور ترکی کی تاریکیوں میں راستہ بتانے والا کون ہے ؟ : 63۔ دو باتوں کے متعلق ہی اس آیت میں سوال کیا گیا ہے فرمایا وہ کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تم کو راستہ بتاتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری دے کر بھیجتا ہے ؟ راستہ بنانے کا مقصود ومطلب یہ ہے کہ اس نے ستاروں کا نظام اس طرح قائم کردیا ہے کہ رات کے وقت بھی وہ ستارے اپنے وجود سے لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور ان کو رخ بتاتے ہیں کہ تم کدھر جا رہے ہو ؟ اور تم کو کدھر جانا چاہئے ؟ گویا ستاروں کا نظام اتنا واضح اور پختہ ہے کہ ان کو دیکھ کر اپنی سمت اور رخ معلوم کیا جا سکتاے اللہ تعالیٰ نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی راہنمائی کے لئے وہ ذرائع پیدا کردیئے ہیں جن سے وہ اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کرتا ہے دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور راتوں میں تارے اس کی راہنمائی کرتے ہیں اس کی مزدی تشریح کے لئے سورة النحل کی آیت 16 کی تفسیر دیکھیں اور ہوائیں کس طرح بارش کی خوشخبری پیش کرتی ہیں ہر وقت مشاہدہ میں آنے کی چیز ہے جس کا مشاہدہ ہر عالم و جاہل یکساں طور پر کرسکتا ہے ان دو سوالوں کے بعد بھی استفسار کیا گیا ہے کہ کیا گیا ہے کہ کیا اللہ کے سوا تمہارے معبودں میں کوئی ایسا ہے جو یہ کام کرسکتا ہے ؟ جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو پھر تم لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے باز کیوں نہیں آتے ؟
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے جس نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا اور پھر دوبارہ پیدا کرے گا ؟ اور کون تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (جو ایسا کرسکے ؟ ! اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کہہ دیجئے اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو

اچھا بتاؤ کیا پیدائش اول یا دوم یا رزق دینے والا کوئی اللہ کے سوا ہے ؟ 64۔ اس آیت میں استفسار کیا جا رہا ہے کہ وہ کون ہے جس نے خلق کی ابتدا کی اور پھر اس کا اعادہ کرتا رہتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق عطا کرتا ہے ؟ سائنس ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ابھی تک اس ابتدائی تخلیق کا راز بدستور تشنہ ہے اور پھر تخلیق کے لئے جو ضابطہ مقرر کردیا گیا اس ضابطہ الہی کے آگئی ‘ یہ جرثومے جن کی پہچان میں تم نے بیسیوں سال خرچ کئے کیا ان میں زندگی موجود نہیں اگر ہے تو وہ کہاں سے آئی کیا یہ جرثومے ڈیڈ بھی ہوتے ہیں یا نہیں اگر ہوتے ہیں تو ان کو ڈیڈ کس نے کردیا ہے ؟ پھر تم فقط انکی شناخت کرکے پھولے نہیں سمائے تو جس نے اپنے کلمہ کن سے ان کو پیدا کردیا ہے ؟ تم ان دو جرثوموں کو مصنوعی طریقہ سے ملانے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے ہو ذرا غور تو کرو لیکن جس نے انکو ملانے کے لئے ایک فطری طریقہ تم کو القا کردیا اور پھر تم ہی کا ہر ایک خواہ وہ صاحب عقل وفکر ہے یا کوتاہ اندیش دونوں کو ایک ہی طرح کا ایسا فطری طریقہ ودیعت کیا گیا کہ کسی تعلیم وتربیت کی اس میں کوئی ضرورت نہیں ہے پھر تم کو پیدا کر کے اس نے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا بلکہ پوری زندگی کے لئے خاص انتظامات کے مطابق تم کو رزق بہم پہنچایا اور عین عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے اس رزق کا بندوبست کیا جبھی تم نے ماں کے پیٹ سے باہر کو جھانکا تو تمہاری غذا اپنے مکمل اقوام کے ساتھ تیار تھی ‘ نہ فیڈر میں ڈالنے کی زحمت اور نہ فیڈر کو صاف کرنے اور گرم پانی سے ابالنے کی کوئی ضرورت پھر غور کرو کہ تمہاری عمر کے ساتھ ساتھ تمہاری غذا بھی بدلتی چلی گئی ‘ تمہارے دانت نکل آئے اور معدہ نے تقویت حاصل کرلی تو آسمان و زمین کو جو تمہاری پرورش کے لئے لگایا گیا تو تمہاری غذا انہوں نے مہیا کردی کہ آسمان سے بارش اتری اور زمین کو اس نے ہرا بھرا کردیا پھر تم نے دیکھا تو تمہاری چوطرفہ تمہاری غذا کے ذخائر موجود ہیں جن سے جتنا تم چاہتے ہو حاصل کرتے رہتے ہو کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو پہلی پیدائش کا دعوی کرے یا یہ موجودہ باضابطہ تخلیق اس کے اختیار میں ہو اچھا مرنے کے بعد کی زندگی اس کے قبضہ واختیار میں دی گئی ہو پھر تم کو معلوم ہے کہ اس زندگی کی بیشمار متنوع صورتیں پائی جاتی ہیں کسی ایک نوع میں کوئی دعوی کرے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو آخر اللہ کے ساتھ جو تم نے اس کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں اور کیا وجہ ہے کہ تم ان سب کو مخلوق سمجھ کر صرف اپنے خالق کی طرف کیوں متوجہ نہیں ہوتے ؟ اس مضمون کے اندر اتنا پھیلاؤ ہے کہ اگر اس کو پھیلایا جائے اور توحید الہی کے نشانات اس میں تلاش کئے جائیں تو اس قدر یہ مضمون پھیلاتا چلا جائے کہ اس کے لئے سینکڑوں صفحات کی ضرورت ہو۔ قرآن کریم نے اشارات کئے ہیں اور انہی اشارات سے حقیقت کو پایا جاسکتا ہے اس وقت تک ان آیات کریمات میں یعنی آیت 60 تا 64 پانچ آیات میں بارہ سوالات کئے گئے ہیں اور ہر ایک سوال کے متعلق یہ پوچھا گیا ہے کیا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی شخصیت ایسی ہے جو ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب رکھتی ہو کہ وہ اس کو کر دے گی اگر نہیں اور یقینا نہیں تو جو دلیل نہ رکھتا ہو اس کی صداقت تام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہوتی پھر تعجب ہے کہ تم دلیل بھی پیش نہیں کرتے اور شرک کے باز بھی نہیں آتے اور پھر اس کے باوجود تم جھوٹے بھی نہیں ہو تو جھوٹ پھر کس بلا کا نام ہے ؟ ایک بار ان بارہ سوالوں کو پھر دہراؤ تاکہ بات کی مزید وضاحت ہوجائے فرمایا گیا ہے کہ : 1۔ وہ کون ہے جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ؟ ۔ 2۔ وہ کون ہے جو آسمانوں سے پانی برسانے والا ہے ؟ ۔ 3۔ وہ کون ہے جو اس پانی سے تمہارے لئے خوش نماباغات اگانے والا ہے ؟ ۔ 4۔ وہ کون ہے جس نے تمہارے لئے اس زمین کو جائے قرار بنایا ہے ؟ ۔ 5۔ وہ کون ہے جس نے زمین کے اندر دریا بہائے اور پہاڑوں کو میخوںٗ کی طرح گاڑ دیا ؟ ۔ 6۔ وہ کون ہے جس نے دو پانیوں میٹھے اور کھاری ‘ ٹھنڈے اور گرم کے درمیان پردہ حائل کردیا ہے کہ وہ دونوں آپس میں مل ہی نہیں رہے ؟ ۔ 7۔ وہ کون ہے جو مضطر کے اضطرار کو دور کرنے والا ہے جب وہ اپنے اضطرار کے دور کرنے کی اپیل پیش کرتا ہے ؟ ۔ 8۔ وہ کون ہے جس نے تم کو پہلووں کی جگہ لا کر آباد کردیا ہے اور اس طرح آرام سے کیا ہے کہ نہ جانے والوں نے انکار کیا اور نہ آنے والوں نے کوئی اصرار کیا ہے ؟ ۔ 9۔ وہ کون ہے جس نے بری اور بحری اندھیروں میں تمہیں راہ دکھانے کا ایسا بندوبست کردیا ہے جس میں کبھی سرمو بھی فرق نہیں آیا ؟ ۔ 10۔ وہ کون ہے جو ہواؤں کے ذریعہ سے تم کو بارش کی خوشخبریاں سناتا ہے اور پھر بارش کو برسانا شروع کردیتا ہے ؟ ۔ 11۔ وہ کون ہے جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اور پھر تم کو دوبارہ لوٹائے گا ؟ ۔ 12۔ وہ کون ہے جس نے تمہارے رزق کا مکمل طور پر بندوبست کردیا ہے کہ آسمان و زمین دونوں کو اس خدمت پر لگا دیا ہے ؟ ۔ فرمایا کوئی ہے جو ہاتھ کھڑا کردے کہ میں ہوں ، نہیں اور یقینا نہیں تو کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو کسی کی نشاندہی کردے ؟ اگر یہ بھی نہیں تو پھر یہ سارے کام کرنے والا آخر ہے کون ؟ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ذوالجلال والاکرام ہے پھر تم نے جو حاجت روا اور مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں ان کے کام کی کوئی تو تشریح کرو کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟ اچھا اگر نہیں کرسکتے تو پھر شرک سے باز کیوں نہیں آتے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مشکل کشا اور حاجت روا کیوں نہیں سمجھتے ؟ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ صرف تم انسان ہی ایک مخلوق ہو ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں بلکہ تمہارے جیسی لاکھوں سے بھی متجاوز انواع مخلوق کی گئی ہیں کہ اگر تم ان کو شمار کرنے بیٹھ جاؤ تو کبھی شمار نہیں کر ستے پھر تعجب ہے کہ ان لاکھوں مخلوقات میں سے تم ہی ہو جو شرک کے مرتکب ہوتے ہو باقی مخلوقات میں سے تو کسی ایک کا بھی نام نہیں لیا جاسکتا جس نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا ہو کیا باقی سب کی ضروریات وہ اکیلا پوری کر رہا ہے اور تم ہی ایسے ہو کہ تمہاری ضروریات وحاجات کے لئے اس کو دوسروں کی ڈیوٹیاں لگانا پڑی ہیں ؟ کچھ تو بولو آخر خاموش کیوں ہو ؟ ان لاکھوں سے متجاوز مخلوقات میں سے کسی ایک کو ان بتوں کے سامنے ‘ ان قبروں کے سامنے ‘ ان درختوں کے سامنے ‘ ان پیروں اور بزرگوں کے سامنے جا کر سلامیاں پیش کرنے کی ‘ منتیں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کی کبھی کوئی ضرورت پیش آئی ہو ۔ ان لاکھوں مخلوقات میں سے کوئی ایک ہی ایسا دکھا دو جس نے غیر اللہ کے نام کے ورد کئے ہوں ‘ وظیفے پڑھے ہوں ‘ کسی کے سامنے سجدہ کیا ہو ؟ کیا تم ہی ایسے ناکارہ ہو کہ تمہارے بڑے بڑے وزیر مشیر ‘ وزیر اعلی اور وزیر اعظم تمہارے بڑے بڑے سیاسی لیڈر اور تمہارے مذہبی پیشواؤں کی اکثریت اس شرک کی نجاست میں پھنسی ہوئی ہے ‘ کوئی قبروں پر پھول چڑھا رہا ہے ‘ کوئی قبروں پر چادریں چڑھانے میں مصروف ہیں ‘ کوئی کسی قبر کو عرق گلاب سے غسل دے رہا ہے ‘ کوئی قبروں پر سجدہ ریز ہے اور کوئی نیازیں چڑھا رہا ہے ؟ کیا تم ہی اشرف المخلوقات ہو ‘ کیا تم ہی شاہکار اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہو ؟ کیا تم ہی کو قرآن کریم میں (احسن تقویم) کا خطاب دیا گیا ہے ؟ ہاں ! ہاں ! تم ہی ہو لیکن تم نے انسانیت کو نہیں سمجھا ہاں ! بلاشبہ تم وزیراعظم اور ملک کے صدر تو بن گئے اور وزیر اعلی تو تم کو بنادیا گیا اور وزارتوں میں کوئی ایک وزارت تو تم کو مل گئی ‘ تم اپنی قوم میں سیاسی مقام حاصل کرکے سیاسی لیڈر بن گئے ‘ تم شمس العلماء کا خطاب حاصل کر کے مذہبی پیشواؤں میں شامل تو ہوگئے لیکن ابھی تم نے انسانیت کے صحیح راز کو نہیں پایا اس لئے کہ تم کو تمہارے کرتوتوں کے باعث (احسن تقویم) پیدا کرنے والے نے الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچا کردیا تم (احسن تقویم) سے نکل کر (اسفل سافلین) میں داخل ہوگئے تم ملک کے صدر بنے ‘ وزیر اعظم بنے ‘ وزیر اعلی بنے ‘ سیاسی لیڈر بنے ‘ مذہبی پیشوا بنے سب صحیح اور درست لیکن (احسن تقویم) میں رہ کر نہیں بلکہ (اسفل سافلین) میں داخل ہو کر کیونکہ تم نے جو عہدہ حاصل کیا اور جس عہدہ پر تم فائز ہوئے اس پر تم محض اس لئے فائز ہوگئے اور اس لئے تم نے اس کو حاصل کیا کہ تم (احسن تقویم) سے نکل کر (اسفل سافلین) میں داخل ہوئے تھے اس داخلہ کے باعث تم کو وہ عہدہ حاصل ہوا اگر تم (احسن تقویم) ہی رہتے اور وہیں رہ کر یہ عہدہ حاصل کرلیتے یا یہ عہدہ آپ کو عطا کیا جاتا تو آپ کے اعمال واقوال احسن التقویم جیسے ہوتے اور تم کو معلوم ہو یا نہ ہو حقیقت یہ ہے کہ جنس انسان کو اوصاف کے لحاظ سے دو اقسام میں رکھا گیا ہے جو عہدہ تم نے حاصل کیا وہ دونوں اقسام کو مل سکتا تھا اس لئے تم کو بھی مل گیا یا یوں کہہ لو کہ اس عہدہ کو دونوں اقسام حاصل کرسکتی ہیں اس لئے تم نے اس کو حاصل کرلیا اور تمہارے اعمال اس بات کی وضاحت پکار پکار کر کر رہے ہیں کہ حقیقت میں تم (اسفل سافلین) میں ہو یہی وجہ ہے کہ تمہارے اعمال دنیا کی لاکھوں مخلوق میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی میل نہیں کھاتے ، دوسری ساری مخلوقات وہ کچھ کر رہی ہیں جس کے لئے وہ پیدا ہوئی ہیں لیکن ایک حضرت انسان ہی ہے جو سب کچھ کرتا ہے لیکن وہ نہیں کرتا جس کے کرنے کے لئے اللہ رب العزت نے اس کو (احسن تقویم) کہا تھا کیونکہ دنای کی ساری مخلوقات سے الگ اختیار کا کوئی حصہ ملا تو صرف اور صرف اس (احسن تقویم) ہی پیدا ہونے والے کو ملا اور اسی اختیار کے باعث وہ (اسفل سافلین) میں داخل ہوگیا اور اب وہ جدھر جاتا ہے دھکے کھاتا جاتا ہے اور حیوان ناطق ہونے کے باوجود ‘ انسانوں جیسا ڈھانچا رکھنے کے باوجود وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوگیا ہے کہ وہ (احسن تقویم) میں ہے یا (اسفل سافلین) میں ؟ اللہ کرے کہ ہمارے ان صدوروزراء ‘ سیاسی لیڈروں اور مذہبی پیشواؤں کی سمجھ میں یہ بات بھی آجائے تو ممکن ہے کہ اس ملک عزیز کی حالت بھی سنبھل جائے لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ اگر ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہے اور بلاشبہ یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ اصلاح اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب کوئی یہ تسلیم کرلے کہ میرے اندر افساد موجود ہے لیکن جس صورت حال سے ہم دوچار ہیں اس میں ہوتا یہی ہے کہ سارے و ڈیرے فساد کرتے ہیں اور اس کا نام اصلاح رکھتے ہیں اور ہمارے ملک میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے اس لئے فی الوقت اس کے چانسز بہت ہی کم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرما دے ۔ آمین۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جو کوئی بھی آسمان و زمین میں ہیں وہ غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اعلان کیجئے کہ آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب جاننے والا نہیں ہے : 65۔ گزشتہ آیات میں توحید الہی کے لئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تخلیق ‘ تدبیر اور رزاقی کی صفات سے استدلال کیا گیا تھا اور اب زیر نظر آیت میں توحید الہی کے لئے علم سے استدلال کیا گیا ہے کہ علم کے معاملہ میں بھی اللہ رب العزت کا کوئی شریک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب کا جاننے والا نہیں خواہ وہ کوئی ہو اور کہاں ہو ؟ یعنی آسمان و زمین کے کسی حصہ میں ہو یا کوئی کتنی اہم شخصیت کیوں نہ ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ورسول ‘ کوئی فرشتہ یا جن ‘ اولیائے کرام یا بزرگان دین میں سے کوئی ہی کیوں نہ ہو گویا انسان ‘ جن اور فرشتوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جو علم غیب رکھتا ہو اور نہ ہی ان میں سے کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ خود کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ، اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام اشیاء کا علم صرف ذات اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے خاص ہے ، عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے ، انبیاء کرام کو بھی کسی شے کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ ان پر وحی نازل نہ ہوجائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق علم غیب کا عقیدہ رکھنا ‘ اعتراف عظمت نہیں بلکہ انتہائی گمراہی اور ضلالت ہے ، سیرت کی مخالفت ہے بلکہ یہ عقیدہ اسلامی روح کے خلاف ہے جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہو کہ انبیاء واولیاء کو ہر اس واقعہ کا علم ہے جو ہوچکا ہے یا ہونے والا ہے ‘ ان کی نظر سے کوئی چیز مخفی نہیں ‘ سارا علم ان کی نظروں کے سامنے ہے ‘ وہ دلوں کے حالات کو جاننے والے ‘ ہر راز سے باخبر اور تمام مخلوقات سے واقف ہیں ‘ انہیں قیامت کا علم ہے ‘ مادر رحم میں جو کچھ ہے اس سے وہ آشنا ہوتے ہیں ‘ ہر حاضر وغیب پر ان کی نظر ہوتی ہے غرض کہ دنیا میں جو کچھ ہوچکا ہے ‘ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اولیاء کرام سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے ، بلاشبہ ایسا عقیدہ اسلام کا عقیدہ نہیں کیونکہ علم غیب اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے ، مخلوق کا کوئی فرد بھی اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں اس کا شریک و ساجھی نہیں ہے ، اس عقیدہ کی اصل جڑ اس سورت نمل کی زیر نظر آیت ہے کہ (آیت) ” قل لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ وما یشعرون ایان یبعثون “۔ ” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتے اور وہ نہیں جانتے کہ وہ دوبارہ کب اٹھائے جائیں گے اس کی وضاحت پیچھے سورة الانعام کی آیت 59 ‘ سورة یونس کی آیت 2 ‘ سورة ہود کی آیت 123 کی تفسیر میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قریش مکہ اور دنیا کی دوسری قوموں کی طرح بعض مسلمانوں کے فرقے بھی اس شرک میں ان کے برابر کے شریک ہیں بلکہ بعض حالات میں موجودہ لوگوں کا شرک گزشتہ لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ سخت اور زیادہ برا ہے جو اسلام کے عقیدہ کے کھلا خلاف ہے مثلا تحریر ہے کہ ” انبیاء پیدائش کے وقت ہی علم غیب رکھتے ہیں ۔ “ (مواعظہ نعیمیہ 192) نبی کریم ﷺ کو تمام جزئی وکلی علم حاصل تھے اور آپ ﷺ نے سب کا احاطہ فرما لیا (الدولۃ المکیہ ص 230) ” لوح قلم کا علم جس میں تمام ماکنان وما یکون ہے حضور ﷺ کے علوم سے ایک ٹکڑا ہے ۔ “ (خالص الاعتقاد والبریلوی ص 38) ” نبی کریم ﷺ سے عالم کی کوئی شے پردہ میں نہیں یہ روح پاک عرش اور اس کی بلندی و پستی ‘ دنیاو آخرت ‘ جنت و دوزخ سب پر مطلع ہے کیونکہ یہ سب اسی ذات جامع کمالات کے لئے پیدا کی گئی ہیں “ (الکلمۃ العلیا نعیم الدین مراد آبادی 14) ” حضور ﷺ اللہ کو بھی جانتے اور تمام موجودات ‘ مخلوقات ان کے جمیع احوال کو بتام و کمال جانتے ہیں ، ماضی ‘ حال ، اور مستقبل میں کوئی شے کسی حال میں ہو حضور ﷺ سے مخفی نہیں “ (تسکین الخواطر احمد سعید کا ظمی ص 65) ” صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کا علم ہے “ (خالص الاعتقاد ص 28) ” جس جانور پر سرکار قدم رکھیں اس کی آنکھوں سے حجاب اٹھا دیئے جاتے ہیں ‘ جس دل کے سر پر حضور ﷺ کا ہاتھ ہو اس پر سب غیب و حاضر کیوں نہ ظاہر ہوجائیں ۔ “ (مواعظ نعیمیہ ص 192) یہ مشتے از خروارے نہیں بلکہ حبہ از خرواے سے ہے اور یہ اس لئے پیش خدمت ہے کہ مشرکین مکہ کے شرک اور امت محمدیہ میں شمار ہونے والے لوگوں کے شرک میں آپ موازنہ کرکے خود ہی فیصلہ کرلیں کہ دونوں میں فرق کیا ہے اور دونوں میں سخت کونسا شرک ہے ؟ پھر یہ کہ مکہ والوں کے شرک کو تو شرک سمجھا اور کہا جائے لیکن اس امت میں وابستہ ہونے والوں کے شرک کو شرک کہنا بھی ممنوع قرار دیا جائے کیا سراسر تحکم نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے معاملہ میں ان کا علم تھک کر رہ گیا ہے بلکہ وہ اس کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس کی طرف سے اندھے ہو کر رہ گئے ہیں

آخرت کے علم کے متعلق تو وہ ہمیشہ ہی شک میں ہیں گویا وہ بالکل اندھے ہیں : 66۔ (درک) اور (درج) دونوں ایک ہی خیال کا اظہار کرتے ہیں فرق یہ ہے کہ درک نیچے سے نیچے چلے جانے پر استعمال ہوتا ہے اور درج اوپر سے اوپر جانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، فرمایا گیا ہے کہ ” آخرت کے پانے سے ان کا علم پیچھے رہ گیا “ علم کی انتہا کو پہنچ کر رہ جانے سے مراد کیا ہے ؟ یہی کہ وہ جاہل رہ گئے اور ان کے علم کی رسائی وہاں تک نہ پہنچ سکتی (آیت) ” بل ھم فی شک منھا “ یعنی ان کا اپنا علم تو وہاں تک نہ پہنچ سکا لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ علم دیا تو وہ شک میں پڑگئے اور پھر اس شک میں وہ ترقی کرتے کرتے بالکل اندھے ہوگئے گویا اس کے قبول کرنے سے انہوں نے قطعی انکار کردیا ۔ مختصر یہ کہ ان کی حالت کو بیان کرتے ہوئے الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنہ کرنے کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جوان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ غور وفکر کرنے کے بعد کسی دلیل وبرہان سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ الوہیت میں دراصل کچھ دوسری ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر ہی نہیں کیا ہے چونکہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں یا اس کی طرف سے شک میں ہیں یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں اس لئے فکر عقبی سے بےنیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیدا کردیا ہے اس لئے اس کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے آباؤاجداد خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر نکالے جائیں گے ؟

یہ لا بجھکڑ کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد دوبارہ ہم کو کون نکالے گا ؟ 67۔ فرمایا منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم اور ہمارے باپ دادا جب مٹی ہوچکے ہوں گے تو کیا انہیں واقعہ قبروں سے نکالا جائے گا ؟ انہوں نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ وہ سرے سے یہ جانتے ہی نہیں کہ آخرت کبھی ہوگی بھی یا نہیں ؟ ان کے خیال میں یہ بات پیوست ہوچکی ہے کہ ہم خود پیدا ہوئے ہیں اور خود مرجائیں گے نہ تو کوئی ہمیں پیدا کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہمیں مارنے والا ہے اور یہ ان کا کہنا کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ یہ جہالت کے باعث ہے اور جہالت جو کہتی ہے اس کا عقل وفکر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ اگر عقل وفکر کی بات وہ کرتے تو جاہل کیوں کہلاتے جہالت کا کام صرف اپنی بات کہے جانا ہوتا ہے اور اس کی دلیل صرف اور صرف طاقت ہوتی اور اس کے بعد رسم کہنا ہی ان کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے ، یہ آج سے نہیں بلکہ پیچھے سے رسم اسی طرح چلی آرہی ہے ، پہلوں کے پاس بھی یہی طاقت کا ہتھیار تھا اور اب موجودہ دور کے جاہلوں کے پاس بھی یہی ہتھیار ہے اور طاقت کو کبھی عقل وفکر کی ضرورت پیش نہیں آتی اس کا کام طاقت کے بل پر چلتا ہے جب تک چلتا ہے اس لئے ہم نے طاقت سے کام نکالنے والوں کو ” لال بجھکڑ “ کہا ہے کہ ان کی حماقت ہی دراصل سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے اور وہ سینہ ۔۔۔۔۔ سے ایک بات بس کہے جاتے ہیں اور اسی کو وہ دلیل جانتے اور سمجھتے ہیں اس کے متعلق ہماری زبان میں استعمال ہوتا ہے کہ ” خدا نیڑے کے مکا “
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا وعدہ تو ہم سے اور ہمارے آباو اجداد سے پہلے سے ہوتا آیا ہے ، کچھ نہیں ہے یہ مگر سب پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ، (جن کی کوئی اصل نہیں)

یہ وعدہ صرف ہم میں نہیں ہمارے آباؤاجداد کو بھی دیا گیا تھا پھر کیا وہ پورا ہوگیا ؟ 68۔ یہ ان لابجھکڑوں کی سب سے بڑی اور وزنی دلیل کہ یہ وعدہ جو آج ہم کو دیا جارہا ہے صرف ہم کو نہیں ہمارے باپ دادوں کو بھی دیا جاتا رہا ہے پھر کیا ان کے ساتھ یہ کیا گیا وعدہ پورا ہوگیا کہ اب ہم سے یہ کیا جا رہا ہے نہ ان کو کہی گئی بات کی کوئی حقیقت تھی اور نہ ہی ہمارے ساتھ اس طرح کی کی گئی باتوں کی کوئی حقیقت ہے اس لئے ہم اس پر کیوں یقین کریں اور کیسے یقین کریں ؟ کوئی بات ہو تو آدمی اس پر یقین کرے جس بات کا کوئی سرپیر بھی نہیں اس پر یقین کیا خاک کریں گے ؟ ہاں ! یہ صرف اور صرف کہانیاں ہیں جو پہلوں سے بھی کہی گئیں اور ہم کو بھی کہی جا رہی ہیں ۔ وہ دلائل جو قیامت کے اثابت پر پیش کئے گئے اور قرآن کریم نے انکو بڑی شرع وبسط کے ساتھ کھول کھول کر بیان کیا وہ سب کے سب صاحب عقل وفکر لوگوں کے لئے ہیں اور یہ لوگ عقل وفکر کی بات کو کبھی قبول نہیں کرتے اب اس کا علاج تو یہ ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی ان کے سامنے لاکھڑی کی جائے اچھا اگر اس کو لایا جائے تو یہ اس وقت ماننے کے کب رہیں گے ان کو تو یہاں سے کوچ ہوچکا ہوگا اور پھر یہ سوال کن سے کیا جائے گا اور کیوں کیا جائے گا ؟ ان کو تو بار بار یہ بتایا گیا تھا کہ (من مات قد قامت قیامت ہ) کہ جو شخص مر گیا گویا اس کی قیامت آگئی اس میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ یہ ایک فرد کی قیامت ہے وہ تمام دنیا کی قیامت ہوگی ۔ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے کیا افراد کی قیامت نہیں آئی ؟ اگر آئی ہے تو اسی طرح تمام مخلوق کی قیامت ہوگی یا تو وہ اس قیامت سے جو ان کی آنکھوں کے سامنے آئی ہے روک کر دکھا دیں اور کسی فرد پر طاری نہ ہونے دیں اگر اس کو وہ روک بھی نہیں سکتے تو اس طرح جب وہ مجموعی قیامت آئے گی تو یہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے کہ ان سے یہ سوال پوچھ لیا جائے کہ کیا اب تم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے یا نہیں ؟ اس کے لئے تو بس انتظار ہے اور چاہئے کہ وہ کریں اور ایک دن وہ وقت آجائے گا کہ یہ اس سے دو چار ہوجائیں گے ہاں ! پھر بعد از قیامت سے ملاقات ہوگی تو ان سے یہ سوال بھی ہوگا لیکن بےفائدہ کہ وقت ان کا نکل چکا ہوگا ۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کہہ دیجئے ذرا زمین کی سیر کرو پھر دیکھو کہ (ایسے) گناہگاروں کا کیا انجام ہوا ؟

اٹھو زمین میں چلو پھرو اور مجرموں کے انجام کی تصویر اپنی آنکھوں سے ذرا دیکھ لو : 69۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا اور تم نے کبھی غور وخوض کرکے ان دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں کئے گئے بلکہ ان کی طرف سے اندھے بن کر ہی رہنے کو تم نے ترجیح دی فرمایا ذرا اٹھو اور اللہ کی زمین میں چلو پھرو اور اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ جن لوگوں نے آخرت کا انکار کیا تھا ان کا کیا بنا قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم مدین ‘ قوم لوط سب کے آثار آج تک موجود ہیں ان کے تذکار تم نے قرآن کریم میں پڑھے ہیں ان کا انجام ذرا اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ وہ اس طرح کے فسق وفجور کی پاداش میں کس طرح غرق کردی گئیں اور اخلاق کی تباہی نے انجام کار ان کو برباد کرکے چھوڑا ، بس اس پر استدلال کرکے تم سمجھ سکتے ہو اگر سمجھنا چاہتے ہو اور اگر تمہاری بس وہی ڈگر جاری رہے گی جو ان کی تھی تو تمہارا بھی انجام یقینا ویسا ہی ہوگا جیسا کہ انکا ہوچکا ، مرنے کو تو دونوں ہی مرے قیامت کو ماننے والے بھی اور نہ ماننے والے بھی لیکن دونوں کی موت کا فرق آج بھی روز روشن کی طرح واضح دکھائی دے رہا ہے کہ یہ ان منکرین کی موت کے نشان ہیں جو قیامت کو جھٹلانے والے تھے ۔ غور کرو کہ حادثہ یا اتفاق اس کو کہتے ہیں جو ایک بار ہو یا کبھی ایک طرح ہو اور کبھی دوسری طرح لیکن تاریخ کے ایک طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بےشعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے اب جس میں کسی قوم کو بدکرداریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پا جانے کے بعد وہ ابد لآباد تک داد عیش لیتی رہے اور ظلم وستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے نہیں بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبردست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو بام عروج سے گرا کر قعرمذلت میں پھینک دیتا ہے اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہیں کرسکتا کہ یہی قانون مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں پوری نوع انسانی کا انصاف چکایا جائے کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے کبھی پورے نہیں ہوتے ۔ اس سے ان مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوتی جن کی لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنایا تھا ، اس سے ان ظالموں کو تو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوا جو پشت در پشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لئے گمراہیوں اور بداخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے ، دنیا میں عذاب نازل کر کے تو صرف ان کی آخری نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑا گیا تھا ابھی عدالت کا اصل کام کب ہوا ہے ؟ اصل عدالت تو یہ ہے کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے اور یقینا اس کے لئے وہی دن مقرر ہے جس کو روز قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے بہرحال اس کو آنا ہے اور اس انصاف کو ہونا ہے اور ہر مجرم کو اپنا انجام ضرور دیکھنا ہے ۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان پر غم نہ کھائیں اور نہ ہی ان کے مکر و فریب سے تنگ دل ہوں

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ ان لوگوں کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اتنے دل تنگ ہو : 70۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کے ذمہ کیا تھا ؟ صرف پیغام پہنچانا وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور ان کو سمجھانے کا حق ادا کردیا ۔ آپ ﷺ ان پر زیادہ غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں اس سے تنگ نہ ہوں بلکہ اس بات کا خیال رکھیں کہ دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی برابر یہی معاملہ ہوتا رہا ہے ، مشرکین ومعاندین کی مسلسل وشدید مخالفتوں کے باعث دو ہی اثرات رسول اللہ ﷺ کے دل پر پڑ سکتے تھے ایک آپ ﷺ کا فرط شفقت سے ان کے حق میں غم کھانا تو اس پر آپ ﷺ کو (لا تحزن علیھم) کہہ کر روک دیا گیا دوسرا آپ ﷺ کے دل کا اس خیال سے کڑھنا کہ اس سے کہیں اسلام کی ترقی کی رفتار رک نہ جائے تو اس کے لئے آپ ﷺ کو اس طرح تسلی دی گئی کہ (آیت) ” ولا تکن فی ضیق مما یمکرون “ آپ ﷺ ان کی ان چالوں پر تنگ نہ ہوں کہ تمہاری پشت پر اللہ کا ہاتھ ہے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی بات نہ مانیں گے تو یقینا اپنا ہی نقصان کریں گے ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی تسلیاں آپ ﷺ کو بار بار دیں لیکن آپ ﷺ کی طبیعت کے طبعی تقاضا کو کیونکر روکا جاسکتا تھا کیونکہ آپ ﷺ کو تو قلق ہی تھا کہ کاش یہ لوگ اپنے نقصان سے باز آجائیں ۔ آپ ﷺ کو اپنے نقصان کی کوئی فکر تو اس غم پر مغموم نہیں کر رہی تھی ، فکر تو سراسر قوم ہی کی تھی جس پر ارشاد باری اس طرح ہے اور اکبر الہ آبادی نے کہا ہے کہ : ” آگ انکی خود ہی دے گی ان کو بھون ولا تکن فی ضیق مما یمکرون :
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ (منکرین قیامت) کہتے ہیں کہ وہ وعدہ (کا دن) کب آئے گا ؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ

منکرین نے کہا تو یہی کہ جس چیز کا تم وعدہ دیتے رہے ہو وہ کب پورا ہوگا ؟ 71۔ ادھر یہ حالت ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا اور ادھر تقاضا ہو رہا ہے کہ اے رسول ! جس چیز کا تو ہم کو بار بار وعدہ دے رہا ہے اس کو تو لے کیوں نہیں آتا ؟ ہاں ! ہاں ! جلد لا اس کو اگر تو سچوں سے ہے ، ذرا غور کیجئے کہ جہالت کیا چیز ہے اور علم کا تقاضا کیا ہے ؟ اگر جہالت اپنے جہل سے باز نہیں آسکتی تو علم اپنے تقاضے سے کیسے رک سکتا ہے ۔ جاہل قوم سراسر اپنا نقصان کر رہی ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ ہیں کہ انکے نقصان پر ہلکان ہوتے جا رہے ہیں اور قوم اپنی جہالت کے باعث رسول اللہ ﷺ سے استہزاء اور مذاقا اس عذاب کا تقاضا کر رہی ہے کہ ہم نے تو آپ ﷺ کی بات کو روک دیا ہے اور آپ ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی تدبیروں میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی پھر بھی ہم پر کوئی عذاب وذاب تو نہیں آیا مگر آپ سچے ہیں تو پھر اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ کیا عجب ہے کہ وہ قریب ہی آپہنچا ہو جس کی تم جلدی مچا رہے ہو

تقاضا نہ کرو شاید کہ وہ قریب ہی ہو جس کی تم کو طلب ہے : 72۔ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا آیا ہے اور وقت پر ہی ہوگا لیکن جس طرح تم شور مچا رہے ہو ذرا غور تو کرو کہ تمہاری یہ چاہت کسی بھلائی اور خیر کے لئے ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کتنے بیوقوف اور بےعقل ہو تم کو عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہو اور پھر یہ بھی کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تم کو کیا معلوم کہ وہ تمہارا پیچھا ہی کر رہا ہے اور تمہاری بات وہ سن رہا ہو اور اس طرح تم کو اچانک وہ پکڑ لے کہ ابھی مذاق و استہزاء کو سن کر کس طرح برداشت کیا جا رہا ہے یہ حوصلہ ہے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا کہ فرمایا تو صرف یہ کہ لوگو ! تمہارا برا وقت کچھ دور نہیں اتنے بےخوف نہ ہوجاؤ جتنے تم ہو رہے ہو ۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بلاشبہ تیرا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر (ایسے ہی ہیں کہ) شکر ادا نہیں کرتے

اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ تم کو مہلت دی جا رہی ہے لیکن کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں : 73۔ ذرا غور کرو کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفظوں میں انہیں تعبیر کرنا چاہو تو صرف فطرت کے فضل و رحمت ہی سے تعبیر کرسکتے ہو تمہیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی ، مثلا اس کے قوانین کا عمل فوری اور اچانک نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت کم ، ہو جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرز عمل نے دنیا کے لئے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے اور اس کا کام قانون تقاضوں پر فرصتیں دینا ہے اور اس کا ہر فعل عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رکھتا ہے بلاشبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل ہیں اور ان میں ردوبدل میں امکان بھی نہیں اس لئے یہ تو اس کی سراسر عنایت ہے کہ وہ لوگوں سے قصور سرزد ہوتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے لیکن افسوس کہ اس پر اکثر لوگ شکر گزار ہو کر اس مہلت کو اپنی اصلاح کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ مواخذہ میں دیر ہونے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ یہاں شاید کوئی گرفت کرنے والا ہی نہیں ہے لہذا جو جی میں آئے کرتے اور کہتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہ کرو اور اس طرح گویا یہ بات ان کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتی لیکن جہاں اس ڈھیل سے فائدہ حاصل کرنے والے بہت ہی کم ہیں وہاں کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا بھی جاتے ہیں اگرچہ وہ تعداد میں کتنے ہی کم ہوں ۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ ﷺ کا پروردگار جانتا ہے جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

ان کے سینوں میں جو کچھ چھپا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی خوف واقف ہے : 74۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جو کچھ یہ لوگ اپنی زبانوں سے اظہار کر رہے ہیں وہ تو کر ہی رہے ہیں لیکن جو ان کے سینوں کے اندر پوشیدہ ہے ہم اس کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ یہ ہماری ہی مخلوق ہیں اور ہم اپنی مخلوق کے متعلق اتنی بات تو جانتے ہیں کہ اس کے اندر کیا کیا خیال پیدا ہوسکتے ہیں اس لئے ہم اپنے علم کی بنا پر آپ کو بتاتے ہیں کہ جو کچھ ان کی زبانیں کہہ رہی ہیں وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو ان کے سینوں میں چھپا ہے لہذا ہمارا اعلان ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے جب بھی ہوگا ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا اور وہ ان کے ہر فتنہ کے تدراک کا سامان فرما دے گا آپ ان کی باتوں پر کان نہ دھریں اس لئے کہ انکی باتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان کو سنا جائے اور اپنا کام کئے چلے جاؤ اور انجام اللہ پر چھوڑ دو اللہ جو کرے گا وہ یقینا تمہارے حق میں بہتر ہی ہوگا ۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں (ایسی) کوئی پوشیدہ بات نہیں ؟ جو اس کی روشن کتاب (لوح محفوظ) میں (تحریر) نہ ہو

اللہ کے علم سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں وہ آسمانوں میں ہو یا زمین پر : 75۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تسلی دینے کے بعد زیر نظر آیت میں منکرین ومعاندین کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لیں اللہ تعالیٰ پر آسمانوں و زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو پوشیدہ ہو کہ وہ چھپی سے چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے اور ہرچیز اللہ تعالیٰ کی کتاب میں گویا تحریر ہے اس لئے وہ کوئی راز اس سے نہیں چھپا سکتے اور جب وقت آئے گا تو وہ ان کی حکمت ان کے ہاتھ میں تھما دے گا کہ یہ تمہارے کیے کی تحریر ہے اور ادھر بٹن پر ہاتھ رکھو یہ تمہارے کیے کی ساری تصویر ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ یہ کارستانیاں تمہاری ہیں یا نہیں ؟
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن کریم بنی اسرائیل سے اکثر ان باتوں کو بیان کردیتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں

قرآن کریم نے اہل یہود کی ہر حرکت کو نوٹ کیے جانے کی انکو اطلاع دی ہے : 76۔ براہ راست جو سوال کہنے والے تھے وہ تو بلاشبہ قریش ہی تھے اور قریش ہی کو جواب بھی سنایا جا رہا ہے مگر یہود نے ازراہ شرارت قریش ہی کو آگے لگایا ہے لیکن انکی پشت پر جو ہاتھ ہے وہ یہود ہی کا ہے اس لئے قرآن کریم نے انکی طرف بھی اشارہ کردیا کہ ان کو بھی معلوم ہوجائے کہ تمہاری یہ خفیہ سازشیں بھی ہماری نظر میں اور تم پیچھے رہ کر جس طرح قریش کے کان بھر رہے ہیں وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہم ان سے اچھی طرح واقف ہیں جو انہوں نے کہا ہے وہ بھی ہماری نظر میں ہے اور جو انہوں نے کرنا ہے وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے آج جن باتوں پر وہ قریش کو آمادہ کر رہے ہیں کل یہ ساری وہ خود آزما چکے ہیں اور اس کا رزلٹ بھی ان کے آباواجداد نے آنکھوں سے دیکھا تھا اس لئے یہ بھی سب کچھ دیکھ لیں گے ۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے

یہ قرآن کریم ایمان لانے والوں کے لئے سراسر ہدایت اور رحمت ہے : 77۔ وہ یہود ہوں یا عیسائی اور اسی طرح قریش مکہ ہوں یا مکہ کے صابی جو لوگ بھی قرآن کریم کی دعوت کو قبول کریں گے اور اس ہدایت کو مان لیں گے جو ہدایت قرآن کریم کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی وہ مہربانی ہوں گی جن کا وہ تصور بھی نہیں رکھتے ، غور کرو کہ اس اعلان کو کتنا عرصہ گزرا تھا کہ دنیا کے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریک زار عرب کے ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد یکایک دنیا کے پیشوا ‘ قوموں کے امام ‘ تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے حصہ پر وہ فرمانروا بن گئے ۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ آپ کا رب اپنے حکم کے مطابق ان میں فیصلہ کر دے گا اور وہ غلبہ والا علم والا ہے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ ان کا فیصلہ تیرے رب کے ذمہ ہے اور وہ یقینا فیصلہ کر دے گا : 78۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ جس طرح کی باتیں بناتے ہیں انکو بنانے دو ‘ ان کو بار بار اس دنیا میں نہیں بھیجا جانا ہے اور جو جو کچھ وہ کرنا اور کہنا چاہتے ہیں دل کھول کر کہہ اور کرلیں تیرے رب کو فیصلہ کرتے کوئی دیر نہیں لگتی ، بات صرف یہ ہے کہ انکے آخری فیصلہ کے لئے ہم اعلان کرچکے ہیں کہ وہ قیامت کو ہوگا اور ہمارا فیصلہ کبھی بدلا نہیں کرتا کہ انکی ضد کے لئے ابھی ابھی ان کے سامنے لا کھڑا کریں اور یہ بھی کہ ان کو جو چیز اس قدر بعید اور دور نظر آرہی ہے ہم تو اس کو بالکل قریب دیکھ رہے ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے اس دنیا سے اٹھا لینے کے بعد ان کے لئے تو کوئی دیر نہیں لگے گی کیونکہ ان کو کونسا بار بار اس دنیا میں آنا ہے یہ تو یہاں سے اوجھل ہوئے تو پھر ان کی آنکھ اسی وقت کھلے گی کہ وہ قیامت ان کے سامنے ہوگی ۔ مزید وضاحت کے لئے سورة یونس کی آیت 93 ‘ سورة ہود کی آیت 11 پر بھی ایک نظر ڈال لیں وضاحت وہاں مل جائے گی ۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس آپ (اے پیغمبر اسلام ! ) اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں بلاشبہ آپ واضح طور سے حق پر ہیں

آپ ﷺ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں آپ ﷺ تو بلاشبہ حق پر ہیں : 79۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بار بار تسلی دی جا رہی ہے اس لئے کہ یہ زمانہ نہایت ہی پر آشوب تھا اور ہر طرف سے آپ ﷺ پر یلغار جاری تھی ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کے ایمان نہ لانے کے باعث آپ ﷺ ان کے غم میں ہلکان ہوئے جا رہے تھے ۔ آپ ﷺ کو بار بار کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کے حال پر غم نہ کریں اور نہ ہی انکی چالوں سے پریشان ہوں یہ سلسلہ مسلسل آیت 69 سے چلا ہے اور سورت کے آخر تک برابر چلتا رہے گا ۔ آپ ﷺ اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھیں اور یقین جانیں کہ واضح حق پر آپ ﷺ ہی ہیں اور یقینا حق کا بول بولا ہو کر رہے گا اور تمہارے مخالفین تمہارا مقابلہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکیں گے ۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ آپ ﷺ (دِل کے) مردوں کو نہیں سنوا سکتے اور نہ ہی (دِلوں کے) بہروں کو پکار سنوا سکتے ہیں (اور خصوصاً ) جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ آپ ﷺ ان مردوں دلوں اور عقل وفکر کے بہروں کو نہیں سنا سکتے : 80۔ موت کی بہت سی اقسام ہیں اور قرآن کریم نے ساری موتوں کا ذکر کیا ہے اور جو موت مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہو اسی موت کے ساتھ ترجمہ کیا جاسکتا ہے ہاں اگر ضرورت ہو تو دلیل ضرور مہیا کرنی چاہئے خصوصا اس وقت جب کسی دوسرے سے اختلاف واقع ہوجائے اور جس موت کو مراد لیا جائے اس کی وضاحت کردینا ضروری ہے تاکہ دیکھنے اور پڑھنے والے کو کوئی شبہ اور مغالطہ نہ لگے ، ان موقعوں میں سے چند ایک کے نام اس جگہ ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ وہ ذہن نشین رہیں مثلا موت نباتاتی ‘ موت حیوانی ‘ موت انسانی ‘ موت ارضی ‘ موت حسی ‘ موت علمی ‘ موت قلبی وغیرہ ‘ موت نباتاتی کیا ہے ؟ کسی سبزہ کا خشک ہوجانا قوت نمو کا زائل ہوجانا ہے ، موت حیوانی کیا ہے ؟ موت نمو کے ساتھ حس و شعور بھی مفقود ہوجانا یا صرف حس و شعور کا باطل ہوجانا اور قوت نامیہ کا باقی رہنا جیسا خواب وغیرہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لئے نیند کو بھی موت خفیف کہا گیا ہے ، موت انسانی کیا ہے ؟ قوت نامیہ کے زوال اور قوت حیوانیہ کے فقدان سے بھی آگے کی چیز ہے یعنی علم اور ادراک کا باطل ہوجانا یا نور رشد وہدایت کا بجھ جانا اور عرفان وروحانیت کے بطلان کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ کافر باوجودیکہ طاقتور ‘ چلتا پھرتا ‘ کھاتا پیتا ‘ دنیوی معاملات کا ماہر اور حیات حیوانی سے تعلق رکھنے والی ہرچیز سے واقف ہوتا ہے لیکن عرف اسلام میں اور قرآن کریم کی زبان میں وہ مردود ہے اس کی قوت معرفت الہی مردہ ہے ‘ اس کا دل مردہ ہے ‘ اس کی روحانیت مردہ ‘ اس کا وجدان مردہ ہے اور اس جگہ زیر نظر آیت میں یہی موت مراد ہے ۔ موت ارض اگر زمین میں روئیدگی نہ ہو ‘ سرسبزی اور شادابی مفقور ہو تو یہ زمین کی موت ہے ، موت حسی احساس کا جاتا رہتا ہے ۔ زیاں کو کون نہیں جانتا وہ شخصی ہو یا قومی لیکن بعض اوقات احساس زیاں بھی نہیں رہتا تو وہ گویا موت حسی ہے ، حضرت العلام ‘ علامہ اور اس طرح کے بہت سے خطابات کے باوجود وہ وہی کرے جو ایک عام اور جاہل آدمی کرتا ہے تو بلاشبہ وہ موت علمی ہے ، برائی برائی ہے ایک آدمی سے برائی ہوگئی لیکن ساتھ ہی وہ پشیمان بھی ہے معلوم ہوا کہ ابھی اس کی موت قلبی نہیں ہوئی اگر باوجود برائی کرنے کے برائی پر پشیمان بھی نہیں ہوا تو گویا اس کی قلبی موت واقع ہوگئی ، اللہ تعالیٰ ان ساری موتوں سے بچائے ان میں سے ایک موت کے سوا باقی کوئی موت بھی ایسی نہیں خصوصا انسانی زندگی کے لئے لیکن سب سے بری موت وہ ہے جو کسی انسان کی انسانی موت واقع ہوجائے جس موت کا ذکر اس جگہ کیا جارہا ہے یہ انسانی موت ہے جس کا نتیجہ کفر ہے ۔ وہ موت جو اچھی ہے وہ کونسی موت ہے ؟ یہ وہی موت ہے جس کو حیوانی موت سے تعبیر کیا گیا ہے کہ کوئی انسان جب حیوانی موت مر جائے اور اس دنیا سے اس کا تعلق منقطع ہوجائے کیونکہ اس کی یہ موت ہوگی تب ہی تو وہ جنت کا مستحق ہوگا ۔ زیر نظر آیت میں کیا کہا گیا ہے ؟ یہی کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ایسے لوگوں کو جن کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور جن میں ضد اور ہٹ دھرمی اور رسم و رواج پرستی نے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی کوئی صلاحیت ہی باقی نہیں چھوڑی اور آپ ﷺ کی باتوں کو سننے سے انہوں نے صرف اپنے کان بند کرلینے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس جگہ سے بھی بھاگ کر نکل چکے ہیں جہاں تک تیری آواز ان تک پہنچتی ہے تاکہ آپ ﷺ کی بات انکے کان میں نہ پڑجائے اور وہ اس طرح بھاگ نکلے ہیں کہ وہ کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔
Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ ہی آپ (دِل کے) اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت (کی راہ) دکھا سکتے ہیں ، نہیں سنوا سکتے آپ مگر ان ہی لوگوں کو جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں ، پس وہی فرمانبردار ہیں

گمراہی کے اندھوں کو آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے ‘ دل کے مومن ہی کو آپ ﷺ سنا سکتے ہیں : 81۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اگر سنوا سکتے ہیں تو صرف اور صرف انہیں لوگوں کو جو خود ہماری آیتوں پر ایمان لانا چاہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ رکھا ہے اور پھر سنت الہی اس طرح وا اقع ہوئی ہے کہ جو لوگ اس داعیہ کی خود کوشش کرتے ہیں اور تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں وہ یقینا ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اور جو لوگ خود کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی طلب میں نکلتے ہیں گویا ان کا وہ داعیہ مر جاتا ہے اور جس کا داعیہ مر گیا وہ کیا خاک سنیں گا اور جو کچھ قرآن کریم نے بیان کی وہ قرآن کریم سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا چناچہ انجیل میں ہے کہ : ” شاگردوں نے پاس آکر اس سے کہا کہ تو ان تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے ؟ اس نے جواب میں ان سے کہا اس لئے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر ان کو نہیں دی گئی کیونکہ جس کے پاس ہے اسے دیا جائے گا اور اس کے پاس زیادہ ہوجائے گا اور جس کے پاس نہیں ہے اس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اس کے پاس ہے میں ان سے تمثیلوں میں اس لئے باتیں کرتا ہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے اور ان کے حق میں یعیاہ کی پیش گوئی پوری ہوئی ہے کہ تم کانوں سے سنو گے پر ہرگز معلوم نہ کرو گے ، کیونکہ اس امت کے دلوں میں جو چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کرلیں اور کانوں سے سنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لائیں ۔ “ (متی باب 13 : 10 تا 16) ہم اس کی پوری وضاحت سورة الحج کی آیت 46 میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور یہی مضمون سورة المائدہ کی آیت 71 ‘ سورة الانعام کی آیت 50 اور سورة یونس کی آیت 43 میں بھی گزر چکا ہے ۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان پر وعدہ پورا ہونے کو ہوگا ہم ان کے لیے { دابۃ الارض } کو نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا بلاشبہ (کچھ) لوگ ہماری آیتیوں پر یقین نہیں رکھتے

جب ان کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم دابۃ الارض کو ظاہر کریں گے : 82۔ (دآبۃ) کا لفظ قرآن کریم میں 14 بار اور (الدواب) کا چار بار آیا ہے اس سے مراد ہر چلنے پھرنے والا ‘ پاؤں دھرنے والا ‘ رینگنے والا کے ہیں جس میں حشرات الارض میں سے ہر ایک جن گنتی لاکھوں میں نہیں کی جاسکتی بشمول انسان ‘ حیوان سب کے بولا جاتا ہے اگرچہ عرف میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور بلاشبہ اسمیں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ زیر نظر آیت میں اسی (دآبۃ الارض) کا ذکر ہے جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور ظاہر ہے کہ لوگوں سے باتیں کرنے والا تو کوئی انسان ہی ہو سکتا ہے اور انسان پر بھی جب (دآبۃ الارض) کا لفظ بول سکتے ہیں تو اس سے جنس انسان یا کوئی ایک مخصوص انسان بھی مراد لیا جاسکتا ہے ہاں اگر انسان کے لئے اس کا استعمال نہ ہوتا تو یقینا (تکلمھم) سے ہم سمجھ سکتے تھے کہ وہ کوئی جانور ہوگا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور جب (دآبۃ) کا لفظ انسان پر بولا جاتا ہے تو اس سے اس جگہ کوئی جانور ہی مراد لینا آخر کیوں ضروری ہے ؟ اور یہ بھی کہ اس سے انسان مراد لینے میں آخر مانع کیا ہے ؟ لیکن ان سوالوں کا جواب ان ہی لوگوں ‘ دوستوں اور بزرگوں کے ذمہ ضروری ہے جو اس سے مراد انسان نہیں لیتے ہاں ! اگر یہ انسان ہی ہے تو آخر اس پر انسان کا لفظ چھوڑ کر (دآبۃ الارض) کا الطلاق کیوں کیا گیا ؟ بلاشبہ یہ بات قابل غور ہے اور یہ سوال بھی معقول سوال ہے لیکن ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ (دآبۃ الارض) کا لفظ انسان پر محض اس لئے بولا گیا ہے کہ وہ انسان باوجود انسان ہونے انسانوں کی سی صفات سے عاری ہے اور حیوانوں کی صفات سے متصف ہے جیسا کہ پیچھے اندھوں ‘ بہروں کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے حالانکہ بظاہر ان کے پاس دیدے بھی موجود ہیں اور کانوں سے بھی وہ لوگ بہرے نہیں بلکہ بات صرف اسی قدر ہے کہ وہ کان رکھنے کے باوجود سنی ان سنی کردیتے ہیں اور دیکھی ان دیکھی اس طرح گویا انکا سننا اور نہ سننا ‘ دیکھنا اور نہ دیکھنا چونکہ برابر ہے اس لئے ان کو باوجود زندگی رکھنے کے مردہ قرار دیا گیا ہے اور باوجود دیکھنے کا اندھے کہا گیا ۔ بالکل اسی طرح اس جگہ اس کا انسانیت سے عاری سمجھتے ہوئے (دآبۃ الارض) کہا گیا ۔ اس سورت میں پیچھے گزر چکا ہے کہ شرف انسانی کے خلاف حرکتیں کرنے والوں کو (احسن تقویم) سے نکال کر (اسفل سافلین) میں بیان کیا گیا حالانکہ وہ ملک کا برسراقتدار طبقہ کے لوگ ہیں جو اپنے ملک کے اندر بڑے بڑے عہدوں پر فائز المرام ہیں اس طرح اس شخص کو (دآبۃ الارض) قرار دیا گیا ہے کہ بلاشبہ وہ انسانی اوصاف سے عاری ہوگا چناچہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ دآبۃ ایسا دابۃ نہ ہوگا جس کی دم ہو بلکہ وہ داڑھی والا ہوگا ۔ (مظہری) ظاہر ہے کہ آپ کے اس ارشاد کا مطلب ومقصد بھی یہی ہے کہ وہ ایک انسان ہوگا کوئی چوپایہ وغیرہ نہیں ہوگا ۔ تاہم اس کی شکل و صورت کے متعلق اس قدر مبالغہ آمیزی کی گئی ہے کہ جی نہیں چاہتا کہ اس کو ایک خواہ مخواہ کا موضوع بنا لیا جائے اور گزشتہ بحثوں کی طرح آوراہ بحث شروع کردی جائے ، ہمارے لئے اتنی بات ہی کفایت کرتی ہے کہ وہ ایک انسان ہوگا جو انسان اوصاف سے یقینا محروم ہوچکا ہوگا پھر ایسا انسان انسانی اوصاف سے محروم ہو کر جو کچھ وہ کرتا ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور مختصر یہ کہ احادیث سے جو مجموعی چیز ہم کو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کے بعد کفر واسلام میں واضح فرق ہوجائے گا اس کی جو بھی صورت ہوگی اور وہ جس طرح بھی ہوگا عین ممکن ہے کہ اس کا ساتھ دینے والے وہی ہوں گے جو کھلے طور پر کفر کریں گے اور اس کے مقابلہ پر وہی آئیں گے جو سچے مومن ہوں گے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جب اس طرح کا کوئی نشان ظاہر ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہونے والا ہوتا ہے اور اس حادثہ میں ہمیشہ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے جن کا کفر واضح ہوجاتا ہے اور ان سے اس علاقہ کو پاک کردیا جاتا ہے ، یہ علامات قیامت میں سے ہے تو یقینا اس کے اظہار کے بعد یہی ہوگا اور یہ گویا اس طرح کی ایک نشانی قرار دیا جاسکتا ہے جیسے گزشتہ انبیاء کرام کی امتوں کی ہلاکت کے لئے ایک نشان مقرر کیا جاتا رہا ہے اگر فرق ہے تو یہی ہے کہ ان کی علامت ایک علاقہ ‘ قوم اور بستی کے لئے ہوتی تھی اور یہ علامت پوری دنیا کے انسانوں کے لئے ہوگی یہی وجہ ہے اس کو ایک فرد نہیں مانا گیا بلکہ ہر بستی ‘ گاؤں اور شہر کے لئے اس کا ایک فرد کا اظہار ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم اس کا تعلق اخبار غیب سے ہے جن کی اصل حقیقت اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی جانتا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس پر مجمل طور پر ایمان رکھیں ‘ اس کا ظہور یقینا ہوگا لیکن کس طرح ہوگا یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اس کی تصدیق کرنے کے پابند ہیں حقیقت معلوم کرنے کے لئے نہیں اور یہی بات زیر نظر آیت میں بتائی گئی ہے کہ بہت سے لوگ ہماری ان نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے حالانکہ غیب کی باتوں پر بحث نہیں ہوتی فقط ایمان ضروری ہوتا ہے اور یہی اس جگہ تعلیم دی گئی ہے ۔ بعض لوگوں نے اس کی تعبیر یہ بھی بتائی ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے قریش مکہ جو بار بار نشان طلب کرتے تھے ان کے جواب میں یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ کو بتائی گئی ہے کہ ابھی تو ان کو ہم نے اپنے قانون امہال کے تحت ڈھیل دے ریکھی ہے بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی قوموں کو ایک مقررہ وقت تک دی جاتی رہی ہے اور آپ ﷺ ان کو اپنی کتاب قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور تذکیر کے ساتھ ساتھ انذار وتبشیر بھی کئے جا رہے ہیں آپ اپنا طریقہ سے جاری رکھیں اگر یہ مان گئے تو ٹھیک اور اگر ان کے حق میں عذاب ہی کا فیصلہ ہوگیا تو کوئی نشانی اس زمین سے ان کے لئے ظاہر کردی جائے گی اور ہماری سنت کے مطابق ان کے لئے عذاب ہی کا فیصلہ ہوجائے گا لیکن ہمارے خیال میں ان جدید مفسرین کے بیان میں شک کا معاملہ ختم کردیا جانا ضروری ہی اور اس کے لئے کوئی قرینہ ضرور ہونا چاہئے جو یہاں موجود نہیں اور اللہ تعالیٰ کی باتیں اس طرح شک کے ساتھ نہیں ہوتیں اس لئے اگر ایک بات کو ہم سمجھ نہیں سکے تو پہلے لوگوں کی سمجھی ہوئی بات ہی ہمارے لئے کفایت کرتی ہے ہاں ! اگر اس کا مفہوم کسی وقت اس سے زیادہ واضح ہوجائے تو اس کو حقیقت پر مبنی سمجھ لیا جائے گا اور ہم اس کے لئے فی الوقت معذرت کرتے ہوئے مجمل طور ایمان لاتے ہیں اور حقیقت حال اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی جانتا ہے ۔ اس مضمون کی ابتداء اس جگہ اس طرح کیوں ضرور قرار پائی ، ہاں ! یہ بات اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ زیر نظر آیت سے مضمون کو قیامت کے حالات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے اور آنے والی آیات کریمات میں چونکہ قیامت کا مضمون ہے اس لئے اس کی تمہید میں اس مضمون کو اسی طرح پھیر دیا گیا جیسا کہ آنے والی آیات کریمات سے روز روشن کی طرح واضح ہے اس لئے ہم اس فرضی بات کے بیان کی ضرورت نہیں چاہتے وہ نئے مفسرین کی ہے بلکہ بات وہی زیادہ صحیح ہے جو سابق مفسرین نے سمجھی ہے اگرچہ وہ (دآبۃ الارض) کی تفسیر وتشریح میں حسب عادت بہت دور نکل گئے ہیں اور اس طرح حقیقت کو ایک اچنبھا بنا کر رکھ دیا ہے اور یہ بات مفسرین کے لئے کوئی نئی نہیں ہے بلکہ ایسا ہوتا ہی چلا آیا ہے اور ہم اس بات کو اختصار کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہ اس ارشاد پر ختم کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” قیامت کی اولین علامتوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت دابۃ کا نکلنا ہے ان دو میں سے جو بھی پہلے واقعہ ہوا دوسرا اس کے فورا بعد ہوگا “ (صحیح مسلم) اور علاوہ ازیں روایات کی ضمنی باتوں سے ہم بحث نہیں کرتے کیونکہ ان میں رطب ویابس سب کچھ آگیا ہے ۔