Ayah 25:67وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں :
67۔ اسراف کیا ہے ؟ فضول خرچی کا دوسرا نام ہے یا اس طرح کہیں کہ جس چیز کو اردو میں فضول خرچی کہا جاتا ہے عربی میں اس کو ” اسراف “ کہتے ہیں ۔ اور فضول خرچی یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت اور موقع کی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے چونکہ اسلام عرب میں آیا اور عربوں کی فیاضی ‘ فضول خرچی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے اسلام نے فضول خرچی کو روکا اور انسان کو اپنی حد میں رہ کر خرچ کرنے کا حکم دیا کیونکہ فضول خرچی کی عادت سے قومی سرمایہ بہت بری طرح برباد ہو کر فنا ہوتا ہے اور فضول خرچی عموما فخر و غرور اور نمائش کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے اور ان بداخلاقیوں کی برائی کسی سے چھپی نہیں ہے ۔ ہم نے اس کی پوری وضاحت سورة بنی اسرائیل کی آیت 26 کے تحت کردی ہے جہاں اس اسراف کو دوسرے نام ” تبذیر “ سے یاد کیا گیا ہے ۔
خرچ کرنے میں دوسری بڑی بیماری کا نام ” بخل “ ہے اور بخل کو اردو زبان میں کنجوسی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ، بخل یعنی کنجوسی بھی اساسی بداخلاقیوں میں سے ایک ہے یعنی ایسی بداخلاقی جو بہت سی بداخلاقیوں کی جڑ ہے ۔ خیانت ‘ بددیانتی ‘ بےمروتی ‘ بےرحمی ‘ بدسلوکی اور دناءت بھی اسی سے پیدا ہوتی ہیں اور حرص ‘ طمع ‘ لالچ تنگ نظری ‘ کم ہمتی ‘ پست طبعی اور اس طرح کی بہت سی برائیاں اس کی اولاد در اولاد ہیں بخیل اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ مال و دولت مقصود بالذات چیزیں نہیں بلکہ وہ صرف حصول اشیاء کا ایک ذریعہ ہے ، بخیل اس حقیقت کو بھی تسلیم نہیں کرتا کہ یہ سونا چاندی فرد کی نہیں بلکہ جماعت کی دولت ہے اس کو چلتا پھرتا ہی رہنا چاہئے اس کو ایک جگہ روک رکھنا اللہ تعالیٰ کی مصلحت کے خلاف ہے ۔ بخیل دنیا میں بھی طرح طرح کی مصیبتوں اور مشکلوں میں گرفتار رہتا ہے کہ سب کچھ پاس ہونے کے باوجود بھی اس کو اچھا کھانا ‘ اچھا پہننا کبھی نصیب نہیں ہوا ۔ بخیل اور بخل کی تفصیل ہم پیچھے سورة آل عمران کی آیت 180 ‘ سورة النساء کی آیت 37 ‘ سورة التوبہ کی آیت 76 میں وضاحت سے کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اس جگہ (یقتروا) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کی اصل (قتر) ہے جو اسم فعل اور مصدر ہے جس کے معنی ہیں کہ خرچ بہت ہی کم کرنا ‘ کنجوسی ‘ بخل ‘ اسراف کی ضد ہے (قتورا) کے معنی اہل و عیال کو خرچ کم دینے کے ہیں اور یہ بخل کا دوسرا نام ہے ۔
Ayah 25:68وہ لوگ شرک ‘ ناحق قتل اور زنا جیسی برائی کے قریب بھی نہیں جاتے :
68۔ گزشتہ آیات میں عبادالرحمن کی چار صفات بیان کی گئی تھیں اور تین زیر نظر آیت میں مزید بتا دی ہیں کہ وہ ان تینوں چیزوں سے ہمیشہ بچتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں گویا پہلے تین انکی صفات حمیدہ بیان کی گئیں جن سے اللہ کے بندے ہمیشہ متصف ہوتے ہیں اور اسراف وبخل کے ساتھ صفات ذمیمہ کا ذکر ہو رہا ہے جن کی آلائش سے اللہ کے بندوں کا دامن ہمیشہ پاک ہوتا ہے ، ان میں سرفہرست شرک ہے اور قتل ناحق کا دوسرا درجہ ہے اور اس کے بعد زنا ہے ، دور جاہلیت میں یہی چیزیں عز وافتخار کا سبب سمجھی جاتی تھیں وہ اپنی فلاح ونجات شرک میں سمجھتے تھے ، قتل و غارت کو شجاعت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا تھا اور زنا کا رواج اس قدر عام تھا کہ ہمیشہ ایسی عورتیں اپنے اپنے کوٹھوں پر جھنڈے لہرا کر دعوت عام دیا کرتی تھیں اور بےحسی کا یہ عالم تھا کہ اس کھلی بےحیائی کو دیکھ کر بھی کسی کی جبین غیرت پر پسینہ نہیں ٹپکتا تھا اس ماحول میں ان رذائل سے نہایت سختی سے معنی کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ عبادالرحمن ان رذائل کے قریب بھی نہیں بھٹکتے ، اگر آپ شرک کے متعلق وضاحت چاہتے ہوں تو سورة یوسف کی آیت 38 تا 40 ‘ سورة الانعام کی آیت 88 ‘ 151 ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیت 22 ‘ سورة النحل کی آیت 36 ‘ سورة الاعراف کی آیت 188 اور سورة یونس کی آیت 105 کا مطالعہ کریں ‘ مومن کو قتل ناحق کرنے کے باعث ابدی دوزخ کی خبر کے لئے سورة النساء کی آیت 93 کی تفسیر دیکھیں اور (زنی) کے لئے سورة الاسراء کی آیت 32 کا مطالعہ کریں تفصیل ان جگہوں پر مل جائے گی ، یہ تینوں کبائر میں بھی داخل ہیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں بھی آتے ہیں ۔
Ayah 25:69جو شخص بھی ان کا مرتکب ہوگا وہ ذلیل و خوار ہوگا اور اس کو دوگنا عذاب دیا جائے گا :
69۔ جو شخص بھی ان جرائم کا مرتکب ہوگا وہ دنیا میں عذاب دیاجائے گا یا نہیں ؟ دونوں باتوں کا احتمال ہے لیکن اگر وہ بغیر توبہ کئے مر گیا تو آخرت میں وہ ضرور عذاب دیا جائے گا اور سزا بھی اس کو اس طرح دی جائے گی کہ آہستہ آہستہ اس کی سزا میں اضافہ در اضافہ ہوتا جائے گا اور دوسرے عذابوں سے زیادہ جو بات اس عذاب میں لازم کی گئی وہ ذلت کی مار ہے فرمایا اس کو عذاب کے ساتھ ساتھ ذلت کی مار بھی پڑے گی ۔ قرآن کریم نے جہاں زنی کی لعنت سے روکا ہے وہاں زنی کی مبادیات سے بھی منع فرمایا ہے لیکن اس وقت قوم مسلم بھی اس برائی میں دوسری اقوام کے پیچھے نہیں رہی بلکہ ان تینوں کبائر میں ان کی کثرت آج بھی مبتلا ہے اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے پھر تعجب یہ ہے کہ اس وقت کے وڈیروں کی طرح آج بھی زیادہ تر یہ بیماری قوم کے وڈیروں ہی میں پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا علاج ممکن نہیں رہا ۔
Ayah 25:70مگر ہاں ! سچے دل سے توبہ کرنے والے اس سزا سے اپنے آپ کو بچا لیں گے :
70۔ توبہ کیا ہے ؟ توبہ کے اصل معنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں خواہ ایسا رجوع کسی بدی کے ارتکاب کے بعد ہو۔ اس کی پوری وضاحت ہم سورة النساء کی آیت 17 ‘ 18 میں کر آئے ہیں جہاں بیان ہوا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا صرف انہی لوگوں کے لئے ہے جو جہالت سے بدی کرتے ہیں اور پھر فرمایا کہ قریب ہی سے توبہ یا رجوع بھی کرلیتے ہیں۔ جہالت کا لفظ اس لئے اختیار فرمایا کہ انسان جو بدی کرتا ہے وہ جہالت سے کرتا ہے اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ اس جہالت سے نکل جائے اور اس کو سمجھ آجائے کہ یہ اچھا کام نہ تھا جو اس نے کیا ۔ جب توبہ کے یہ معنی ہیں کہ اس جہالت سے نکل جائے اور اس کو سمجھ آجائے کہ یہ اچھا کام نہ تھا جو اس نے کیا ، جب تک انسان کے قلب پر یہ کیفیت وارد نہ ہو کہ وہ برائی کو برائی سمجھے اور اس سے منتنفر ہو اس وقت تک رجوع بھی نہیں ہو سکتا ، زیر نظر آیت میں بھی فرمایا کہ گناہ کے بعد جس نے توبہ کرلی اور ایمان لایا یعنی مان لیا کہ مجھ سے برائی ہوئی اور اس برائی سے وہ متنفر ہوگیا اور اس کے بعد اس نے وہ برائی کا کام نہ کیا بلکہ اس کے بدلے اچھے کام کرنے شروع کردیئے اور بلاشبہ اس طرح اس کی برائیوں کے بدلے میں اللہ نے نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرما دی اور اس طرح اس کی برائیاں نیکیوں میں بدل گئیں کہ جہاں وہ پہلے برائیاں کرتا تھا اب ان کی جگہ اس نے نیکیاں شروع کردیں اور اپنی کی ہوئی برائیوں پر اس نے معافی مانگ کر ربڑ پھروا لیا اگر اس نے کفر وشرک سے توبہ کی تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا اور عمل صالح سے اس نے اپنی توبہ کی تصدیق اور اپنے ایمان کی توثیق کردی اور پھر کبھی شرک وکفر کی کام کی طرف آمادہ نہ ہوا تو بلاشبہ رحمت الہی کا مینہ برسے گا اور اس کی سیرت کے تمام بدنما داغوں کو دھو کر پاک وصاف کر دے گا ، اس طرح اس کے لئے گناہوں کی جو سزا اس کو ملنا تھی وہ یقینا ٹل گئی اور اس کے سارے گناہ محو ہوگئے ۔
Ayah 25:71اس کی توبہ یقینا توبۃ النصوح ہوئی اور اس کا اجر عنداللہ محفوظ ہوگیا :
71۔ زیر نظر آیت میں توبہ کرنے والوں کے لئے جو بشارت دی گئی تھی اس کی مزید وضاحت کردی کہ توبہ کے باعث انہوں نے گناہ آج تک یعنی توبہ کرنے سے پہلے پہلے کئے تھے وہ تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے معاف کردیئے اور اس طرح گویا ان کے بیاض عمل ایک بار بالکل صاف ہوگئی کیونکہ گزشتہ سب معاف ہوگیا اور ظاہر ہے کہ اب جو کچھ بھی ان کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا وہ نیک عمل کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ اب ان کی نافرمانی اور سرتابی کی قوت کی اطاعت وانقیاد کی قوت سے بدل دیا جائے گا پہلے وہ ارتکاب گناہ پر اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے اور اب اطاعت الہی کے بغیر ان کو چین نصیب نہیں ہوتا ، کہاں وہ وقت کہ انکی بدبختی ان پرچھائی ہوئی تھی اور کہاں یہ وقت کہ اب ان کی نیک بختی ان پر سایہ فگن ہے ، اس میں توبہ کرنے والوں کے لئے حوصلہ افزائی کا یہ پہلو بھی ہے کہ بسا اوقات آدمی گناہ کی زندگی چھوڑنے سے اس وجہ سے گھبراتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے یہ زندگی چھوڑ دی تو اسے اپنے لئے ایک نیا ماحول تلاش کرنا پڑے گا جو ایک نہایت ہی مشکل کام ہے یہ آیت بلاشبہ ایسے لوگوں کو تسلی دیتی ہے کہ وہ لوگ جو برائی اور برے ماحول کو چھوڑتے ہیں ان کو اللہ کی معیت اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور ان کے لئے نیا ماحول باعث عزت وفخر ہوتا ہے آخرت میں تو یقینا ہوگا لیکن اس دنیا میں بھی ان کے لئے نیا ماحول آنکھیں بچھا دیتا ہے اور ان کی وہ پذیرائی ہوتی ہے کہ ان کا سارا خطرہ ہوا ہوجاتا ہے ، اے رب کریم ورحیم میں تیری بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے تو دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے میں زیاں کار بندہوں تو قادر وقدیر ‘ مالک وملیک اور قدوس رب تجھے اپنی قدوسیت کا واسطہ مجھے ‘ میرے والدین اور اساتذہ کرام پر بھی اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے اور اپنی مغفرت کی چادر ہم پر ڈال دے ۔ ” رب اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب ۔ آمین ثم آمین یا رب العلمین ۔
Ayah 25:72وہ لوگ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور لغویات سے باوقار گزر جاتے ہیں :
72۔ عبادالرحمن کی آٹھویں نشانی اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی جھوٹی باتوں میں حاضر نہیں ہوتے اور دوسرا مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے لیکن پہلے ترجمہ اور اس کے مفہوم میں وسعت زیادہ ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نظریں نیچے کئے ہوئے سلامت روی کے ساتھ ان بیہودگیوں سے گزر جاتے ہیں نہ ان لا یعنی اور فضول مشاغل میں کبھی مشغول ہوتے ہیں اور نہ ہی گنہگاروں کی تحقیر کر کے اپنا کبر ظاہر کرتے ہیں ۔ الزور زور کے معنی کذب اور میلان عن الحق کے ہیں یہی وجہ ہے کہ الزور سے مراد مفسرین نے ناجائز مجمع میں حاضری اور ایسی محفلیں جہاں لہو ولعب ہو اور عشقیہ اور شرکیہ شعر پڑھے جاتے ہوں کھیل اور تماشے کے اجتماعات ہوں ‘ مداریوں کی ڈگڈگی بج رہی ہو۔ مشرکوں کے جشن اور فاسقوں کے جلسے وجلوس ہوں ‘ میلاد کے نام پر خرافات کئے جاتے ہیں ہوں یا ماتم حسین کی مجلسیں ہوں یا شام غریباں کے اجتماعات یا مخلوط کلبوں کی لغویات وہ ان میں سے کسی جگہ بھی حاضری نہیں دیتے اس طرح اس میں ہمارے زمانے کے سب میلے ٹھیلے ‘ پتنگ بازیاں ‘ مرغ بازیاں ‘ بٹیربازیاں ‘ کبوتربازیاں ‘ ناچ رنگ کی محفلیں ‘ تھیٹر ‘ سینما ٹی وی اور وی سی آر کے واہیات پروگرام ‘ ہیر رانجھا ‘ سوہنی مہینوال ‘ لیلی مجنوں ‘ مرزا صاحباں کی قصہ خوانیاں اور مختلف سو ان سب اس کے تحت آجاتے ہیں اور دوسرے معنی جھوٹی گواہی کے بھی کئے گئے ہیں اس کی تفصیل پیچھے ہم بہت تفصیل سے کر آئے ہیں ملاحظہ ہو سورة البقرہ کی آیت 282 ‘ سورة النساء آیت 135 ‘ عروۃ الوثقی جلد اول ودوم۔
حدیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ایک روز صبح کی نماز پڑھائی تو نماز سے فارغ ہوتے ہیں کھڑے ہوگئے اور ارشاد فرمایا کہ جھوٹی گواہی اشراک باللہ کے برابر ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا پھر آپ ﷺ نے سورة الحج کی 30 ‘ 31 آیت تلاوت کی ، (ترمذی ‘ ابوداؤد عن خریم بن فاتک)
نویں نشانی عبادالرحمن کی اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ لغو اور لا یعنی باتوں سے بچتے ہیں یعنی ان کے قریب نہیں جاتے ‘ لغویات کیا ہیں ؟ لغویات کی فہرست بھی بہت لبی ہے اور مختصر یہ کہ ہر بات جو رذائل میں داخل ہے بلاشبہ لغو ہے مثلا جھوٹ ‘ جھوٹی قسمیں کھانا ‘ وعدہ خلافی ‘ خیانت اور بددیانتی ‘ غداری اور دغا بازی ‘ بہتان چغل خوری ‘ غیبت اور بدگوئی ‘ دو رخا پن ‘ بدگمانی ‘ مداحی اور خوشامد ‘ بخل ‘ حرص وطمع ‘ بےایمانی ‘ چوری ‘ ناپ تول میں کمی بیشی ‘ رشوت ‘ سود خوری ‘ شراب خوری ‘ غیظ وغضب ‘ بغض وکینہ ‘ ظلم فخر و غرور ‘ ریا ‘ خودبینی وخودنمائی ‘ فضول خرچی ‘ حسد ‘ فحش گوئی وغیرہ سب کے سب رذائل ہیں اور سب کے سب ہی لغو بھی ہیں اور یہی وہ لغویات ہیں جن سے سوہرالمومنون کی آیت 3 میں ایمان والوں کو منع کیا گیا ہے اور یہی وہ رذائل ولغویات ہیں جو قوم مسلم اور خصوصا اس ملک عزیز کے مسلمانوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں اور تو اور جن لوگوں کو مذہبی پیشوا اور مذہبی راہنما کہا جاتا ہے ان میں سے اکثر وبیشتر اس میں مبتلا ہیں لیکن ان میں ایک بھی نہیں جو اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جن باتوں کا اوپر بیان کیا گیا ان میں سے ایک ایک کو پڑھو اور کسی ایک مذہبی پیشوا اور راہنما کو لے لو اور ایمانداری سے غور کرو کہ کیا اس میں یہ ایک ایک بات موجود نہیں ہے پھر سیاسی لیڈروں اور راہنماؤں کو لے لو اور تجزیہ کرتے چلے جاؤ تم کو کثرت سے ایسے لوگ ملیں گے جن میں یہ سب اوصاف موجود ہوں یہی وجہ ہے کہ ہماری مذہبی تقسیم اور سیاسی تقسیم روز بروز ترقی پذیر ہے جتنی جماعتیں ہیں وہ بھی اپنی مجبوریوں کے باعث ایک دوسرے کے ساتھ ملتی ہیں حالانکہ اسلام میں تفرقہ بازی کا وجود ہی کب ہے ؟ کیا قرآن کریم نے تفرقہ کو شرک قرار نہیں دیا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پورے عالم اسلام کے مسلمان ایک جماعت ہیں لیکن سیاسی وملکی تقسیم اگر ناگزیز ہے تو ایک ملک کے رہنے والوں کے پاس مختلف جماعتوں میں تقسیم ہونے کا جواز کیا ہے ؟ اگر کسی صاحب علم کے پاس کوئی دلیل موجود ہو تو وہ خدا کے لئے میری راہنمائی کرے اور اگر میں اس گمراہی میں مبتلا ہوں تو اس کا فرض ہے کہ وہ مجھے اس سے نکالنے کی کوشش کرے ورنہ وہ عنداللہ مجرم ٹھہرے گا ، بہرحال لغویات اور مسلم کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں اور ہر مسلمان کے لئے لغویات سے اعراض ضروری اور لازم قرار دیا گیا ہے ، اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ان لغویات سے بچنے کی توفیق دے ۔ آمین ۔
Ayah 25:73یہ لوگ اللہ کی آیتوں پر اندھے ‘ بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ عقل وفکر سے کام لیتے ہیں :
73۔ اللہ کی آیتوں سے کیا مراد ہے ؟ قرآن کریم کی آیات وواقعات ‘ احکامات اور منہات بھی مراد ہو سکتی ہیں اور آسمان و زمین کی نشانیاں بھی مراد لی جاسکتی ہیں اور وہ کھنڈرات ‘ اجاڑ بستیاں ‘ بنجر زمینیں ‘ بےکار اور ناکارہ کنوئیں وغیرہ سب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نشانیاں ہیں اور سب کی سب اس سے مراد لی جاسکتی ہیں کہ اللہ کے بندے جب ان پر سے گزرتے ہیں تو اندھے ‘ بہرے ہو کر نہیں گزر جاتے بلکہ اس سے سبق حاصل کرتے ہیں اور انکے پیش کردہ درس کو بگوش ہوش سنتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں کیا پکار پکار کر کہہ رہی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جب قرآن کریم کی آیتوں کو پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ اندھوں اور بہروں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کا سنا ان سنا اور دیکھا ان دیکھا کردیا بلکہ ان آیات کو گوش ہوش سے کان کھول کر سنتے ہیں اور غور وفکر کی خداداد قوتوں کو کام لا کر اسرار وفعارف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو سمجھ کر ان کے مطابق عمل کرتے ہیں جن باتوں کا ان آیات میں حکم دیا گیا ہے ان کو کرتے ہیں جن کاموں سے روکا گیا ہے ان سے رک جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سمجھ کر کرتے ہیں اور عقل وفکر سے ان آیات کے مضمون پر غور کرتے ہیں ۔ اندھا ملا ٹوٹی مسجد والا معاملہ ان سے نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کی دسویں نشانی تھی جو ساری نشانیوں میں سے نہایت اہم نشانی ہے ۔
Ayah 25:74یہ لوگ اللہ سے اہل واولاد کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کی درخواست کرتے ہیں :
74۔ ان عبادالرحمن کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ایسی بیویاں اور ایسی اولاد عطا فرما جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور دل کو سرور آئے اور سکون حاصل ہو اور کوئی پریشانی باقی نہ رہے اور ظاہر ہے کہ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب بیوی شکل و صورت ‘ عقل وفکر اور اخلاق وکردار کی اچھی ہو اور یہ حال اولاد کا ہے کہ وہ ہر طرف سے درست اور صحیح ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نہایت باادب اور فرمانبردار بھی ہوتا کہ طرفین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دل سرور حاصل کرے اور ان کو دیکھتے ہی ساری تھکاوٹ دور ہوجائے اور ظاہر ہے کہ جب وہ کود عبادالرحمن ہیں تو ان کی خواہش بھی یہی ہوگی کہ ہماری اولاد اور اہل و عیال سب عبادالرحمن ہی میں داخل ہوں کیونکہ جب تک عقل وفکر سمجھ سوچ اور نیت و ارادہ یکساں نہ ہوں آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سرور آہی نہیں سکتا ، ان کی دعا کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ انکو اس قابل بنا دیا جائے کہ اہل تقوی انکو دیکھ کر اپنا پیشوا اور راہنما بنائیں جس کا مقصد وحصہ یہ بھی ہے کہ ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ اہل تقوی ان کو دیکھ کر اپنا پیشوا اور راہنما بنائیں جس کا مقصد ومطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر کامل بنا دے کہ دوسرے ان کو بطور مثال پیش کریں تاکہ ان کا نام دین و دنیا میں روشن ہو اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ماں باپ ‘ اہل واولاد اور دنیوی رشتہ داریوں کا ہونا انسانی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے اور ان میں سے کسی کا صحیح درست نہ ہونا یا اولاد وبیوی کا بالکل ہی نہ ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ کسی کمزوری کی نشانی ہے اور کوئی کمزوری بھی خوبی نہیں ہو سکتی جیسا کہ اکثر لوگ سمجھ بیٹھے ہیں مثلا بیوی ہی کو لے لیجئے کہ ہمارے ہاں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ان لوگوں کو بہت متبرک خیال کرتے ہیں جو تارک نکاح ہوں حالانکہ یہ کوئی خوبی نہیں بلکہ ایک انسانی کمزوری ہے اگر صنف نازک کی ضرورت کا احساس نہیں تو بھی کمزوری ہے اور اگر ضرورت ہونے کے باوجود اس سے پرہیز کی ہے تو بھی کمزوری ہے بلکہ اس دوسری کمزور کا نتیجہ بھی کبھی درست نہیں ہوسکتا ، اور جو لوگ نکاح کو تقوی وپرہیزگاری کے خلاف سمجھتے ہیں اور بلاشبہ عقل کے اندھے اور فکر کے بہرے ہیں ، بہرحال اس جگہ عبادالرحمن کی گیارہ نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اگر یاروں نے انکو گیارہویں شریف کا جواز نہ سمجھ لیا تو بلاشبہ ان کا مطالعہ اور ان پر فردا فردا غور وفکر ان کے لئے بیحد مفید ثابت ہوگا ۔ اے اللہ ! تیری بندوں کی مانگی گئی دعا کو ہم بھی نہایت عاجزی کے ساتھ ورد زبان بناتے ہیں ۔ اے اللہ ! ہمارے رب ہمیں بھی اس سے پورا پورا مستفید فرما دے ۔ ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما۔ امین یا رب العلمین “۔
Ayah 25:75یہی وہ خوش نصیب ہیں جنکو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی ۔
75۔ اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے جو مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہیں بلاشبہ اپنے اعمال کے صلہ مین جنت الفردوس میں بالاخانوں کے مستحق قرار پائیں گے اور ظاہر ہے کہ جن کے اخلاق اتنے بلند اور امنگیں اتنی پاکیزہ ہوں گی اور چہرے اس قدر حسین ہوں گے جب وہ جنت الفردوس میں داخل ہوں گے تو ان کو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اہلا وسھلا مرحبا کہتے ہوئے استقبال کریں گے اور سب کو معلوم ہوجائے گا کہ آج انہوں نے اپنے صبر و استقلال کا صلہ حاصل کرلیا حالانکہ یہ کام اتنا سہل نہیں تھا لیکن آج جب انکو اپنی سچی تواضح اور انکساری کا بدلہ مل گیا اور وہ ہر لحاظ سے کامیاب قرار پائے تو انکو وہ ساری مشکلات بھول گئیں اور وہ مبارکبادیوں کے مستحق ٹھہرے اور اب وہ اس مقام میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور یہاں سے نکلنے یا نکالے جانے کے سارے خطرات ٹل جائیں گے اور خصوصا جب ان کی آنکھوں کے سامنے موت کو بھی موت دی جائے گی تو ان کے جذبات و احساسات کا کیا ہی رنگ ہوگا ۔
Ayah 25:76کیا ہی اچھا ان کا مستقر ہے جس میں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا :
76۔ (مستقر) ایک مستقل قیام گاہ کے معنوں میں آتا ہے مقام کا لفظ ہر طرح کے ٹھکانے پر بولا جاتا ہے وہ عارضی ہو یا مستقل لیکن مستقل کا لفظ مستقل قیام گاہ ہی کے لئے مستعمل ہے خواہ خواہ کہاں ہو یعنی جنت میں ہو یا دوزخ میں ۔ کیونکہ اوپر دوزخیوں کے متعلق بھی اس لفظ کا استعمال ہوا ہے وہاں (ساءت مستقرا) کے لفظ میں یعنی بہت بری قیام گاہ ان کو ملے گی اور یہاں (حسنت مستقرا) یعنی بہت اچھی قیام گاہ ان کے حصے میں آئے گی ، گویا جنت والوں کے لئے وہ مستقر ہونے سے بھی خوب ہوگی اور مقام ہونے کے اعتبار سے بھی خوب ہی ہوگی ۔۔۔۔۔ اور دونوں جگہ (مستقرا و مقاما) ہی کے الفاظ آئے ہیں یعنی دوزخیوں کو بھی اب دوزخ میں ہی رہنا ہے کہیں بھاگ نکلنے کا کوئی تصور نہیں اور جنتیوں کو بھی اب جنت میں ہمیشہ ہمیشہ ہی رہنا ہے یہاں سے یہ لوگ نہ نکلیں گے اور نہ ہی نکالے جائیں گے اور یہ بات واضح ہے کہ دوزخیوں کے لئے وہ باعث ذم ہے اور جنتیوں کے لئے باعث فخر ۔ اللہ تعالیٰ سارے خوباں کو یہ مقام عطا فرمائے ، آمین ثم آمین۔
Ayah 25:77مخالفین کے لئے ایک دھمکی جو بلاشبہ حقیقت ہے اور تمہارے لازم حال ہے :
77۔ (مایعبؤا) واحد مذکر غائب مضارع منفی عب مصدر (فتح) پرواہ نہیں کرے گا ۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ ” میرا پروردگار تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا اگر تم (اس کی) عبادت نہیں کرو گے پس تم خوب جھٹلا چکے پس عنقریب (اس کی سزا) جو تمہارے لازم حال ہوگی “ اس آخری آیت میں گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کردی کہ انسان جس قدر اپنا تعلق اللہ سے پیدا کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عزت ہوتی ہے ۔ ورنہ مخلوق کی تو کوئی کمی نہیں وہ تو انسان کے سوا بھی بیشمار ہے لیکن وہ مکلف نہیں اس لئے ان کو تعلق باللہ کی طرف نہیں بلایا گیا فقط انسانوں کو بلایا گیا پھر جنہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ اس کی تکذیب کی تو بلاشبہ وہ خود ہی عزت کے مقام کی طرف نہیں آئے اس لئے وہ انعام کے نہیں بلکہ عذاب کے مستحق ٹھہرے اور اب عذاب بھی یقینا آکر رہے گا اس لئے کہ اس سے حق و باطل میں فرق ظاہر ہوگا کہ نیکوں کو بلند مقام پر پہنچایا جائے اور بدوں کو بدی کی سزا دی جائے تاکہ دونوں میں کھلا کھلا فرق نظر آجائے اس لئے اوپر عبادالرحمن کا ذکر کرکے اور یہ بتا کر کہ وہ کس ذلیل حالت سے نکل کر بلند مقام پر پہنچ گئے ہیں اب مکذبین کا ذکر بھی کردیا کہ ان کے لئے سز بھی لازم ہے گویا ان کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے جو ظاہر ہوئی کہ بس ہوئی کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے جو کبھی نہیں بدلے گی اور اسی مضمون پر سورة الفرقان کو ختم کیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو (عباد الرحمن) اپنے مخصوص بندے بننے کی توفیق دے اور مخالفین کے زمرہ میں نہ بنائے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔
عبدالکریم اثری :
ٹھٹہ عالیہ