25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے جس دن ان کو اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا وہ خود ہی راہ سے بھٹک گئے

وہ دن آنے والا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے اور پکارے جانے والوں کو طلب کرلیا جائے گا : 17۔ تمام مشرکین کو آگاہ کیا جا رہا ہے خواہ وہ غیر اللہ میں سے کسی کو پکار کر مشرک ہوئے ہوں کہ جن جن کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا تھا اور ہر وقت انکو پکارنے اور سورنے میں لگے رہتے تھے جن جن کے نام کی بھی جے پکارتے تھے اور جن جن کو بھی تم اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے قیامت کے روز ان سب کو اللہ تعالیٰ اپنی جناب میں طلب کرلے گا اور تم بھی ان کے ساتھ ہو گے اس وقت ان تمہارے بنائے ہوئے معبودوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے انہیں کہا تھا کہ ہمیں خدا بناؤ اور ہماری عبادت کرو۔ اے مشرکین کے سارے گروہوں اچھی طرح سن لو کہ اس وقت تمہارے یہ سارے معبود پکار پکار کر کہیں گے کہ اے اللہ رب ذوالجلال والاکرام تو ہر قسم کے شرک سے پاک اور منزہ ہے ہم یہ جرات کیونکر کرسکتے تھے کہ لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم دیں ‘ اے ہمارے پروردگار ان لوگوں کی گمراہی کی وجہ یہ نہیں کہ ہم نے انہیں ایسا کہا تھا اور ہم کس طرح ایسی بات کہہ سکتے تھے بلکہ دراصل انکی دولت وعزت کی فراونی اور تیری دی ہوئی مہلت کی طوالت نے انہیں بدمست بنادیا اور وہ تیری یاد سے غافل ہوگئے اور اللہ کے بندوں کی انہوں نے ایک نہ سنی ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون معبود ہیں جن کو قیامت کے روز طلب کیا جائے گا قرآن کریم اس کی پوری وضاحت کرتا ہے اور ہم کو بتاتا ہے کہ وہ انبیاء کرام اور رسل عظام بھی ہوں گے جن کو مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے معبود بنائے رکھا اور بلاشبہ ان میں وہ فرشتے اور جن بھی ہوں گے جن کی مختلف طریقوں سے عبادت کی گئی اور ان میں وہ نیک لوگ بھی ہوں گے جن کے لوگوں نے بت بنا کر پوجے تھے اور قبریں اور خانقاہیں بنا کر ان پر منتیں مانا کرتے تھے اور ان کے ناموں کے وظیفے پڑھتے تھے اور بلاشبہ ان میں اجرام فلکی چاند ‘ سورج اور ستاروں سے بھی بزبان حال دریافت کیا جائے گا اوروں میں وہ بھی شامل ہوں گے جنہوں نے اپنی خدائی کا دعوی کیا ہوگا لیکن ان بےحیاؤں کے سوا جنہوں نے دنیا میں اپنے آپ کو معبود بنایا تھا باقی سب کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے گواہی لے لی جائے گی اور ان کو پکارنے والوں کو بلاشک وشبہ مشرک قرار دے کر واصل جہنم کیا جائے گا خواہ نبیوں اور رسولوں کو معبود بنا کر مشرک ٹھہریں گے اور خواہ جنوں اور فرشتوں کو معبود بنا کر پکارتے رہے تھے اور خواہ اجرام فلکی وسماوی یا ارضی کو انہوں نے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا ہوا تھا اور خواہ وہ قبروں ‘ خانقاہوں اور مزاروں پر سجدہ کیا کرتے تھے بلاشبہ ان کے شرک کی اقسام الگ ہوں گی لیکن ان سب کے لئے جزا ایک جیسی ملتی جلتی ہی ہوگی کسی قسم کے مشرکوں کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی جس طرح کسی بت کی پرستش کرکے کوئی مشرک ہے بالکل اسی طرح دوسرا کسی قبر کی پرستش کرکے بھی مشرک ہے اور تیسرا بالکل اسی طرح کا مشرک ہے اگرچہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) یا محمد رسول اللہ ﷺ کی پرستش کی ہو بلکہ بت کی پرستش کرنے والے سے کسی نبی کی پرستش کرنے والا زیادہ مستوجب سزا ہونا چاہئے کیونکہ اس نے دہرا جرم کیا ہے غیر اللہ کی پرستش بھی اور رسول کی کھلی مخالفت بھی ، چناچہ قرآن کریم میں سیدنا مسیح (علیہ السلام) سے قیامت کے دن پرستش ہونے کا باقاعدہ ذکر سورة المائدہ آیت 116 میں بڑی وضاحت سے کیا ہے تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد سوم میں مذکورہ آیت کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا کہ ہم قیامت کے روز ان سب کو اکٹھا کرکے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی گمراہ ہوگئے تھے ؟ اس سوال کا جواب آنے والی آیت میں دیا گیا ہے ۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہماری مجال نہ تھی کہ ہم کسی کو تیرے سوا دوست بناتے لیکن تو نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو فائدے سے مالا مال کردیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد ہی بھلا بیٹھے اور یہ لوگ تھے ہی تباہ و برباد ہونے والے

سوال کئے جانے والوں کی طرف سے جو جواب دیا جائے گا وہ درج ذیل ہے : 18۔ جن اللہ کے بندوں کی پرستش کی جاتی تھی ان میں سے وہ جنہوں نے لوگوں کو اپنی پرستش کے لئے نہیں کہا ہوگا وہ جواب دین گے کہ اللہ کی پناہ ہم یہ بات اس کو کیسے کہہ سکتے تھے کہ تم ہماری عبادت کرو اور ہمیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو اور ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنیا ولی و کارساز کیونکر بناتے ہمیں یہ بات کیونکر زیب دیتی تھی ؟ گویا وہ صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انکو اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی اصل بات یہ ہے کہ اے ہمارے رب تو نے انکو معیشت دنیا کی جو فراوانی دی تھی ان کو بھی اور ان کے آباء و اجداد کو بھی اور اس طرح پشت ہا پشت جو تیرے احسانات ان پر ہوئے انہوں نے ان کی مت مار دی اور یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم مادر پدر آزاد ہیں اور شیطان نے انکی رہنمائی کی اور ان لوگوں نے اس فریبی کو اپنا پیشوا تسلیم کیا اور پھر کیا تھا کہ جو حکم اس نے چاہا ان سے منواتا رہا اور ان کو سمجھایا کہ دیکھو اگر تم اللہ کے لاڈلے اور چہیتے نہ ہوتے تو تم پر یہ انعامات کی بوچھاڑ کیونکر ہوتی اس طرح اس نے ان کو گمراہ کیا اور یہ لوگ اس کی چال پر لگ کر حقیقت سے دور ہی ہوتے چلے گئے اور دراصل یہ قوم ہی ہلاکت خوردہ تھی اس جواب سے بات کس طرح واضح ہو رہی ہے کہ یہ جواب وسوال جن لوگوں سے ہوگا وہ یقینا انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء قوم اور اولیائے کرام ہی ہوں گے جو اس طرح جواب دیں گے لیکن کچھ دھوکا بازوں نے قوم کو آج بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس آیت میں بتوں کا ذکر کیا گیا ہے نہ کہ اولیاء کرام اور صلحائے قوم کا کیونکہ یہ سب لوگ تو من دون اللہ کی فہرست میں نہیں آتے بلکہ انہوں نے نبیوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا بنانے کی تلقین کی ہے حالانکہ یہ بات سراسر قرانی تعلیمات کے خلاف ہے اور وضاحت اس کی پیچھے عروۃ الوثقی میں سورة المائدہ ‘ الانعام اور الاعراف میں گزر چکی ہے بلاشبہ یہ قوم ہی ہلاک ہونے والی تھی ۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(اے مشرکو ! ) انہوں نے تمہاری باتوں کی تکذیب کردی سو تم نہ عذاب کو ٹال سکتے ہو نہ مدد دے سکتے ہو اور جو شخص تم میں ظلم (شرک) کرے گا اس کو ہم بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

کفار سے کہا جا رہا ہے کہ لو سن لو تمہارے معبودوں نے تم کو جھٹلا دیا ۔ 19۔ اب کفار مکہ اور مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ اے گروہ کفار اور مشرکین لو اب اپنے کانوں سن لو کہ ان لوگوں نے تو تمہاری اس بات کو جھٹلا دیا جو تم کہتے تھے اس لئے کہ تم تو کہتے تھے کہ انہوں نے تم کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور تم جو کچھ کرتے اور کہتے ہو انہیں کی تعلیم اور انہیں کا یاد دلایا ہوا سبق ہے لیکن انہوں نے اس کا صاف صاف انکار کردیا اور کہہ دیا کہ ہم نے تو ان کو اپنی عبادت کا کبھی حکم نہیں دیا حکم دینا تو درکنار ہم نے انکو اس طرح کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا اور اب تمہاری پوزیشن کیا ہوئی ؟ تم نہ تو عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ ہی ان سے مدد لے سکتے ہو مطلب یہ ہے کہ ان کے اس بیان کے بعد اب تمہارے پاس کونسا عذر باقی رہ گیا اب تم میں سے جو بھی شرک کے مرتکب ہوئے ہیں ان سب کو ہم عذاب عظیم چکھائیں گے اور بلاشبہ شرک کی سزا معمولی قسم کا عذاب نہیں کیونکہ یہ جرم بھی بہت بڑا مہلک ہے اور چاہئے کہ اس کی سزا بھی اتنی ہی مہلک ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کا اعلان کردیا ہو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک کی حیثیت ظلم عظیم ہے لہذا بہتر ہے کہ جو کچھ ہوا سو ہوا اب اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرلو اور آئندہ شرک کی لعنت سے مکمل طور پر اجتناب کرو اگر تم نے شرک پر جان دے دی تو سمجھ لو کہ تم سیدھے جہنم رسید ہوگئے جہاں سے اب نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی اور اب اس عذاب ہی کے مزہ کو چکھنا ہوگا اور اب تمہارے چین کی کوئی صورت باقی نہیں رہی اور اب تمہارے پچھتاوے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنایا ہے کہ آیا تم ثابت قدم رہتے ہو یا نہیں اور بلاشبہ آپ ﷺ کا رب سب کچھ دیکھتا ہے

کفار کے سوال کا جواب کہ ہم نے جس کو بھی رسول بنایا وہ بشر ہی تھا : 20۔ زیر نظر آیت کے پہلے حصہ میں جواب ہے ان لوگوں کا جنہوں نے اعتراض کیا تھا کہ ” یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے تاکہ سودا سلف خریدے “ ان کا یہ اعتراض اسی سورة کی آیت 7 میں پیچھے گزر چکا ۔ ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا تم نے اعتراض کرتے وقت غور کرلیا تھا کہ کیا تم کسی رسول کا نام لے سکتے ہو جس کو ہم نے رسول بنا کر بھیجا ہو اور وہ کھانا نہ کھاتا ہو ؟ کیونکہ جن رسولوں کو ہم نے اس رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھیجا تھا وہ تو سب کے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آیا جایا کرتے تھے تاکہ اپنی ضرورت کی اشیاء کی خریدوفروخت کریں تم نے یہ کہاں سے سنا ہے کہ کھانا کھانا اور اشیاء صرف کی خریدو فروخت کرنا مقام رسالت اور شان نبوت کے منافی ہے ؟ تعجب ہے کہ آج بھی لوگوں کی اکثریت انبیاء کرام کے متعلق اسی طرح کے فرضی عقائد رکھتی ہے جن کا اسلام میں کوئی سرپیر موجود نہیں اور نہ ہی ان عقائد کا کوئی اسلامی عقائد کے ساتھ تعلق ہے بلکہ یہ سب فرضی باتیں ہیں جو ان لوگوں نے خود گھڑلی ہیں یا ان کے باپ دادوں نے مثلا بعض حضرات مصر ہیں کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے فضلات جیسے پیشاب وپاخانہ اور خون وغیرہ سب پاک ہیں اور یہ کہ زمین آپ ﷺ کے ان فضلات کو فورا نگل جاتی تھی اور یہ کہ انکی خوشبو مشک وکستوری سے بھی سوا تھی ، پھر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ صحابہ ان کو استعمال کرتے تھے لیکن اس سلسلہ میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ سب کا سب واہی ہے اور ان باتوں کی کوئی اصل نہیں اگرچہ اس بحث میں بڑے بڑے متبحر علماء وفضلاء کا نام پیش کیا جاتا ہے ، ہم اس بحث کو اس جگہ بحثیں اسی قبیل سے ہیں جس طرح کی بحث کفار مکہ نے کھڑی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عجیب رسول ہیں جو کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں جب ان کو خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جواب دے دیا کہ تم نے کس رسول کو دیکھا کہ وہ کھانا نہیں کھاتا تھا اور بازاروں میں ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لئے نہیں جاتا تھا ؟ ہم نے تو جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا کھاتے تھے اور ساری انسانی حاجات و ضروریات رکھتے تھے اور یہی جواب ان علماء کی خدمت میں ہم پیش کرتے ہیں کہ اے گروہ علماء تم نے کونسا رسول دیکھا جس کے یہ فضلات پاک تھے اور تم ان سب کو استعمال کرتے رہے ہو اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو ان بحثوں سے فائدہ ؟ جب کہ انسانی فضلات کے ناپاک ہونے میں کسی کو بھی کلام نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کے قضائے حاجات کے آداب اور پاکیزگی و طہارت کے طریقے سب محفوظ ہیں اور آپ ﷺ کا اس گندگی کو دور کرنے کا طریقہ اور بیت الخلاء میں جانے اور آنے کے آداب سب محفوظ ہیں ۔ ” ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے “ گویا رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے منکرین ایک آزمائش ہیں اور منکرین کے لئے اہل ایمان اور خود رسول مکرم ﷺ آزمائش ہیں ، کیوں اور کیسے ؟ ظاہر ہے کہ منکرین نے جو ظلم وستم کی بھٹی گرم کر رکھی ہے وہی ذریعہ ہے جس سے ثابت ہوگا کہ رسول اور اس کے صادق ال ایمان پیرکھرا سونا ہیں اور کھوٹ جس میں بھی ہوگا وہ اس بھٹی سے بخیریت نہیں گزرے گا اس لئے اہل ایمان کا ایک منتخب شدہ گروہ چھٹ کر نکل آئے گا جس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی طاقت بھی نہیں ٹھہر سکے گی اگر یہ بھٹی گرم نہ ہوتی تو نبی کریم ﷺ کے اردگرد یہ سب لوگ جمع ہوجاتے اور معلوم نہیں پھر اس دین کا کیا ہوتا ؟ دوسری طرف منکرین کے لئے رسول اللہ ﷺ کے اردگرد یہ سب لوگ جمع ہوجاتے اور معلوم نہیں پھر اس دین کا کیا ہوتا ؟ دوسری طرف منکرین کے لئے رسول اللہ ﷺ اور اصحاب رسول ایک سخت آزمائش ہیں کیونکہ ان کے پاس کلام الہی اور پاکیزہ سیرت کے سوا کوئی اور چیز ہی نہ تھی جس کا دیکھ کر منکرین کی توجہ آپ ﷺ کی طرف جاتی اور آپ ﷺ کے ابتدائی پیرو وں میں کون تھے ؟ وہی غریب لوگ جن میں غلام اور چند نوعمر نوجوان تھے جن پر ہر طرف سے ظلم ڈھائے جا رہے تھے اس لئے ان کا حال دیکھ کر سب لوگ انگشت بدنداں تھے اور کوئی اس سختی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ” کیا تم صبر کرتے ہو ؟ “ آزمائش بلاشبہ آزمائش ہی ہوتی ہے اور پھر اس وقت رسول اور اہل ایمان کی آزمائش بھی بہت ہی سخت تھی فرمایا اب تم نے آزمائش کی مصلحت کو سمجھ لیا کہ یہ کیوں ضروری ہے اب تو تم کو یقینی طور پر صبر آ ہی جانا چاہئے کہ یہ آزمائش مقصد خیر کے لئے نہایت ضروری ہے خصوصا جس کے لئے تم کام کر رہے ہو کیا اب تم ایسی چوٹیں کھانے کے لئے تیار ہو ؟ ہاں ! یہ آزمائش کے دور میں بلاشبہ لگنا ضروری ہوتی ہیں ورنہ آزمائش ‘ آزمائش ہی کیوں ہو ؟ تم یقینا اس آزمائش کے دور سے گزر جاؤ گے اور بخیر و خوبی گزر جاؤ گے صبر کرنے والوں کا بیڑا یقینا پار ہوتا ہے ۔ ” تمہارا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے “ تمہارے ساتھ جو کچھ پیش آیا ہے یا آئندہ آئے گا وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے پوشیدہ نہیں ‘ اس کی نگاہ دوربین سب کچھ ملاحظہ کررہی ہے تمہاری مساعی خیر کا مقابلہ جن زیادتیوں اور ظلم سے کیا جا رہا ہے وہ بھی اس سے چھپا ہوا نہیں لیکن دراصل یہ سب کچھ تم کو کندن بنانے کے لئے ضروری ہے آج کی سختیاں ہی کل کا آرام و سکون لائیں گی تم کو معلوم ہے کہ یہ زندگی ایک عارضی زندگی ہے اس لئے یہاں کی سختیاں بھی عارضی اور عیش و آرام بھی عارضی لہذا ان عارضی سختیوں کے بدلے میں تم کو ہمیشہ کا آرام و سکون میسر آجائے تو بلاشبہ یہ تمہارے لئے نفع کا سودا ہے اور صبر کا پھل میٹھا ہونا عام محاورہ ہے جو سب کو معلوم ہے ۔ اس عبارت پر قرآن کریم کا اٹھارواں پارہ ختم ہو رہا ہے ۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے ؟ بلاشبہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور بڑے ہی سرکش ہو رہے ہیں

آخرت کے منکرین طرح طرح کے اعتراض پیش کرتے ہیں : 21۔ زیر نظر آیت میں اب منکرین آخرت کی قلابازیوں کا ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ عجیب عجیب شرطیں عائد کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ فرشتے اتر کر ہمارے پاس آئیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بےحجاب ہو کر ہمارے سامنے آئے تاکہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں ۔ ان متکبرین ومعاندین کے اس طرح کے اعتراضات پیچھے سورة الانعام کی آیت 124 میں گزر چکے ہیں تفصیل وہاں سے ملاحظہ کریں ، فرمایا ” ان لوگوں نے اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھ لیا ہے “ اسی لئے وہ اپنے آپ سے باہر ہو رہے ہیں کیا انہوں نے خیال کیا ہے کہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے ایمان لانے کی بڑی ضرورت ہے اس لئے وہ جو کچھ بھی منوانا چاہیں گے منوالیں گے ، ان سے کہو کہ عقل کے ناخن لو اور ایسی غلط فہمی کو اپنے دل سے نکال دو مان لو گے تو تمہارا فائدہ ہے اگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہو گے تو اپنا نقصان کرو گے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا اس سے کیا بگڑے گا ؟
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی کا دن نہ ہوگا اور وہ کہیں گے (اے اللہ ! ) ہمارے ، ان کے درمیان کوئی مضبوط آڑ کر دے

جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ روز ان کے لئے خوشی کا نہیں ہوگا : 22۔ ان کو معلوم نہیں انہوں نے صرف فرشتوں کا نام سن رکھا ہے لیکن جہاں فرشتے خوشخبریاں سنانے والے ہوتے ہیں وہاں فرشتے کڑیاں لگانے کے لئے بھی اتارے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ ان معاندین نے کوئی کام ایسا تو کیا نہیں کہ فرشتے انکو خوشخبری سنانے کے لئے آئیں جب یہ ساری زندگی اکڑتے اور اترتے ہی رہے تو ان کے پاس جب بھی فرشتے آئیں گے تو انکو جکڑنے کے لئے آئیں گے اور وہ آتے ہی ان کی پیٹھوں اور مونہوں پر تابڑ توڑ برسائیں گے اس لئے وہ دن یقینا اس کے لئے خوشی کا نہیں بلکہ نہایت مصیبت ہی کا دن ہوگا اور وہ اس وقت ان سے پناہ طلب کریں گے۔ حجرا کے معنی منع یا روک کے ہیں اور محجورا کے معنی ہیں روکا گیا ، مفردات میں ہے کہ جب ایک شخص ایسے آدمی کے سامنے آتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے تو اس وقت یہ لفظ بولتا ہے اور اس جگہ بیان ہو رہا ہے کہ کافر فرشتوں کو دیکھ کر ایسا کہیں گے تاکہ وہ اس وقت سزا سے بچ جائیں حالانکہ وہ تو فرشتوں کے انتظار میں تھے لیکن جب ان کو نظر آیا تو اب ان کے نظر آتے ہیں انہوں نے ڈرنا شروع کردیا اور ان سے پناہ طلب کرنے لگے ‘ دور دور اور پرے پرے کی صدائیں بلند ہونے لگیں یہ تو وہی ہیں جن کی تم کو طلب تھی اب انکو دیکھتے ہی تم کیوں گھبرا گئے اور کیوں بھاگنے لگے ؟ ۔
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم ان کے کاموں پر جن کو وہ کیا کرتے تھے آپہنچے ، پھر ہم ان کو خاک کے ذروں کی طرح اڑا دیں گے

جن اعمال پر ان کو بڑا بھروسہ تھا وہ سب خاک بن کر اڑ جائیں گے : 23۔ یہ کون ہیں ؟ وہی قوم کے مذہبی اور سیاسی راہنما ، مذہبی اس لئے کہ ان کو اپنے حسب ونسب پر بڑا ناز تھا کہ ہم فلاں برزگ کی اولاد ہیں اس وقت ہماری وقعت اللہ کے ہاں بہت ہے اور یہ بھی کہ ان کو اپنی چلہ کشیوں پر بہت ناز ہے فرمایا ان کے وہ اعمال جن پر ان کو بڑا بھروسہ تھا وہ سب کے سب خاک کے ذروں کی طرح منتشر کرکے اڑا دیئے جائیں گے کیونکہ عامل میں ایمان اور عمل میں اخلاص مفقود تھا ، روشن دان سے جب دھوپ اندر آرہی ہو اس میں جو باریک باریک ڈرے اس روشنی کے بھی نظر آتے ہیں ان کو ھباء کہا جاتا ہے فرمایا ان کے ان اعمال اور ان کی رشتہ داریوں کا حال یہی ہے جو ان ذروں کا ہے کہ وہ ہوا میں اڑ جائیں گے اور ایک جہت سے دیکھنے کے سوا ان کا نظر آنا بھی محال ہوگا ۔ منثور نثر سے ہے یعنی ایک چیز کو پھیلا دینا یا پراگندہ کر کے اڑا دینا ۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اہل جنت کا اس دن (یعنی فیصلے کے دن فیصلہ کے بعد) ٹھکانا بھی اچھا ہوگا اور آرام گاہ بھی خوب ہو گی

اگر کوئی وقعت ہوگی تو وہ صرف اہل جنت ہی کی ہوگی کہ انکی جگہ آرام دہ ہوگی : 24۔ زیر نظر آیت میں میدان حشر کے روز کا ذکر کیا جارہا ہے کہ وہاں جنتیوں کے ساتھ جو سلوک ہوگا وہ بلاشبہ قابل رشک ہوگا اس لئے کہ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا جائے گا اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لئے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی اور اس دن کی ساری سختیاں تو مجرموں ہی کے لئے ہوں گی اہل جنت کی وہ پذیرائی ہوگی کہ ان کو وہی دنیا کی ساری سختیاں جو ان کے ساتھ معاندین ومنکرین کی تھیں کافور ہوجائیں گی اور ان کے قیلولہ کا وقت بھی نہایت شان و شوکت سے گزرے گا اگرچہ وہ نہایت مختصر ہوتا ہے ۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان بادلوں سے پھٹ جائے گا اور فرشتے جوق در جوق اتارے جائیں گے

جملہ معترضہ کے طور پر مضمون کو پھر پیچھے لے جایا گیا ہے تاکہ مزید وضاحت ہوجائے : 25۔ مضمون کو پیچھے کی طرف پیچھے کی طرف واپس پھیرتے ہوئے ان لوگوں کو پھر جواب دیا جا رہا ہے جو فرشتوں کے اترنے کا مطالبہ کرتے تھے فرمایا ان لوگوں کو چاہئے کہ ذرا اس دن کا تصور کریں جس روز آسمان پھٹ جائیں گے اور ایک بادل سا نمودار ہوگا اور اس سے فرشتوں کے پرے کے پرے نکلنے شروع ہوجائیں گے جن میں وہ فرشتے بھی ہوں گے جو نیک لوگوں کے استقبال کے لئے آئیں گے اور وہ بھی جو بدکاروں کو گھیرے لیں گے اور ان کا ادھر ادھر نہیں ہونے دیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی ہی میں ان فرشتوں کے دیکھنے اور ان کے اترنے کا تقاضا کرتے تھے لیکن اب جب وہ ان کو دیکھ لیں گے تو غش پر غش کھائیں گے اور ان کو اپنا سارا کیا کرایا نظر آنے لگے گا ۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمن ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہو گا

یہ دن جتنا مومنوں کے لئے آسان ہوگا اتنا ہی کافروں کے لئے مشکل ہوگا ۔ 26۔ جس طرح دنیا میں ایک ہی دن بعض کے لئے شادی اور خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن بعض کے لئے مرگ وماتم کا جس میں آہ وزاریوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، یہی حال وہاں ہوگا کہ ایک ہی روز ہے لیکن مومنوں کے لئے خوشیوں اور شادمانیوں کا دن ہوگا اور کافروں پر اتنا بھاری کہ ان کی جان جاتی ہوگی اور اس دن کو اختیار اور بادشاہی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی نظر آئے گی اور کسی ہیکڑی والے کی ہیکڑی نہیں چلے گی دنیا میں جو جو ان لوگوں نے سہارا سمجھ رکھا تھا وہ سب کافور ہوجائے گا اور ہر ایک شخص پر اصل حقیقت واضح ہوجائے گی کیونکہ یقینا وہ دن نتیجہ کا دن ہوگا اور سب کی بھول جاتی رہے گی نتیجہ اسی کے مطابق ہوگا جو کچھ دنیا میں انہوں کیا اور جس نیت و ارادہ سے کیا ، دنیا میں جتنے اختیار والے تھے وہ سب کے سب بےاختیار ہوجائیں گے اور سب کو پتہ چل جائے گا کہ آج اختیار صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لئے ہے اور وہی آج کے دن کا مالک ومختار ہے ۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا ، کہے گا اے کاش میں نے رسول کے ساتھ راہ اختیار کی ہوتی

ظالم اپنے ہاتھ کاٹیں گے کہ کاش انہوں نے رسول کا ساتھ اختیار کیا ہوتا : 27۔ غصہ اور ندامت کے وقت کی حالت کا بیان ہے کہ انسان ایسی حالت میں اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹتا ہے فرمایا وہ وقت ایسا ہوگا کہ مشرکین ومعاندین اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی یہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اس طرح کی سوال اٹھائے اور رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کی استہزاء کا نشانہ بنایا اور کٹ حجتیان کرتے ہوئے فرشتوں کے اترنے اور اللہ رب العزت کے بنفس نفیس ظاہر ہونے کے مطالبات کئے اس جگہ مفسرین نے کچھ خاص خاص لوگوں کے واقعات بھی بیان کئے ہیں اور تحریر کیا ہے کہ انہی واقعات کے پیش نظریہ آیت اتاری گئی ہے بہرحال حکم آیت کا عام ہے اور اس روز بلاشبہ ہر ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور جس کو اس نے دنیا میں سہارا پکڑا تھا اور آسرا تلاش کیا تھا اس پر افسوس کرتے ہوئے اور ہاتھ ملتے ہوئے کہے گا کہ اے کاش ! میں نے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی ہوتی اور اس راستہ کو اپنے لئے پسند کیا ہوتا ، قرآن کریم کی یہ آیت اس مضمون کی دوسری آیات کے ساتھ ہم کو بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا راستہ ہر لحاظ سے مکمل اور اکمل ہے اور وہ بالکل اسی طرح محفوظ بھی ہے اور تا قیامت رہے گا اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مختصر خاکہ پر نظر ڈال لی جائے تاکہ بات واضح ہوجائے ۔ رسول اعظم وآخر ﷺ کی سیرت طیبہ دائمی نمونہ عمل ہے : ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں ۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا کمال یہ ہے کہ وہ بیک وقت زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی راہنمائی کرتی ہے ، ہاں ! جس کی حیات طیبہ تمام انسانوں کی رہبری کرے وہی سارے عالم کے لئے رسول ہے ۔ ہمارے رسول ﷺ سارے عالم کے لئے رحمت بن کر آئے اور تمام عالموں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجے گئے ، ساری کائنات کے لئے رؤف ورحیم ٹھہرائے گئے ، آپ ﷺ کا طرہ امتیاز خلق عظیم ہے چونکہ آپ ﷺ سارے عالموں کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس لئے آپ ﷺ کی زندگی کو بھی تمام عالم کے لئے اسوہ حسنہ ٹھہرایا گیا ، بلاشبہ انسان جب کسی شعبہ حیات میں قدم رکھتا ہے تو اس کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس نے زندگی کے جس شعبے کو اختیار کیا ہے اس کے سامنے اس میں کوئی اچھا نمونہ ہوتا کہ وہ اسے دیکھ کر بہتر ہے بہتر بنا سکے ، سرور عالم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا کمال یہ ہے کہ دنیا کا ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق آپ ﷺ کی زندگی کی روشنی میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اس لئے کہ ادب واخلاق کا کوئی سبق ایسا نہیں ہے جو ہمیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں نہ ملتا ہو۔ آپ ﷺ کی زندگی کے تمام پہلو ہم گنانا چاہیں تو نہیں گنا سکتے ہاں ! آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے بیشمار پہلوؤں میں چند اجمالی طور پر پیش کرتے ہیں جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کی سیرت طیبہ میں جامعیت اور عمل کے جو درس ہم کو ملتے ہیں دنیا کی تاریخ ان کو پیش کرنے سے یقینا قاصر ہے ، مثلا : پہلے تجارت ہی کو لیجئے ایک تاجر اور کاروباری انسان کی زندگی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ حسن معاملہ کا خوگر اور ایفائے عہد کا پابند ہو ۔ اگر کسی تاجر کی زندگی میں یہ دو وصف مفقود ہوں تو وہ کبھی اچھا تاجر نہیں بن سکتا ۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبوت سے پہلے میں نے رسول اکرم ﷺ سے کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا ابھی وہ معاملہ پورے طور پر طے نہیں ہوا تھا کہ میں کسی ضرورت سے یہ وعدہ کرکے چلا آیا کہ میں ابھی آتا ہوں اتفاقا تین دن تک مجھے اپنا وعدہ یاد نہ آیا ، تیسرے روز جب مجھے اپنا وعدہ یاد آیا تو میں اس جگہ پہنچا جہاں میں نے آپ ﷺ کو اپنا منتظر بنایا تھا میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ میرا اس طرح انتظار کر رہے ہیں اور میری اس پیمان شکنی اور نقص عہد پر بغیر کسی ناراضگی کے ارشاد فرمایا تم نے مجھے یہ زحمت دی میں اس جگہ پر تین دن سے (اس وقت سے اس وقت تک) منتظر ہوں ۔ یعنی اتنا وقت جتنے وقت میں میرا آنا اس جگہ ممکن تھا ۔۔۔۔۔۔۔ حسن معاملہ اور ایفائے عہد کی یہ وہ مثال ہے جو دنیا کے سارے تاجروں اور اہل معاملہ کے لئے ایک بہترین مثال ہے ۔ ایک حاکم اور عہدے دار کی زندگی میں سب سے بڑا جو ہر انصاف ہے جو اس کے اور اس کے ماتحتوں کے تعلقات کو شگفتہ بنا سکتا ہے انصاف فی نفسہ ایک مشکل امر ہے خصوصا اپنے محسنوں ‘ دولت مندوں اور خود اپنے مقابلے میں تو بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے انصاف کے ان نازک ترین مرحلوں سے گزر کر تمام دنیا کے حاکموں ‘ عہدہ داروں کے لئے بہترین شاہراہ قائم فرما دی۔ مکہ فتح ہونے کے بعد عرب میں صرف طائف باقی رہ گیا تھا جو فتح نہیں ہوا تھا مسلمان بیس روز تک طائف کا محاصرہ کئے ہوئے پڑے رہے مگر طائف فتح نہ ہوا اور مسلمانوں کو محاصرہ اٹھا لینا پڑا۔ صخر ایک رئیس تھا اس کو معلوم ہوا تو اس نے طائف کا محاصرہ کیا اور طائف کا محاصرہ کیا اور طائف والوں کو اتنا مجبور کیا کہ وہ صلح پر آمادہ ہوگئے صخر نے اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو اطلاع دی اور جب طائف اسلام کے ماتحت آگیا تو مغیرہ بن شعبہ جو طائف کے رہنے والے تھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ ﷺ سے انصاف چاہتا ہوں سخر نے میری پھوپھی پر زبردستی قبضہ کرلیا ہے میری پھوپھی صخر سے واپس دلائی جائے اس کے بعد بنو سلیم آئے اور انہوں نے کہا کہ صخر نے ہمارے چشموں پر قبضہ کر رکھا ہے ہمارے چشموں کو واپس دلایا جائے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگرچہ صخر نے ہم پر احسان کیا ہے لیکن احسان کے مقابلے میں انصاف کا دامن کبھی نہیں چھوٹ سکتا اسی وقت آپ ﷺ صخر کو حکم دیا کہ مغیرہ کی پھوپھی کو ان کے گھر پہنچا دو اور بنو سلیم کے پانی کے چشمے واپس کر دو ۔ یہ وہ عدل و انصاف تھا جو آپ ﷺ نے اپنے محسنوں کے مقابلے میں چھوڑا ۔ خاندان مخزوم کی ایک دولت مند خاتون نے ایک مرتبہ چوری کی ‘ چور کی سزا اسلام میں ہاتھ کاٹ ڈالنا ہے ، اس خاتون کی خاندانی وجاہت کے لحاظ سے لوگ چاہتے تھے کہ یہ خاتون سزا سے بچ جائے ، لوگوں نے اسامہ بن زید ؓ کو جو ایک لحاظ سے آپ ﷺ کا پوتا تھا اور آپ ﷺ ہی نے پرورش کی تھی اور ان سے آپ ﷺ کو بیحد محبت تھی اس پر مجبور کیا کہ وہ ان کی سفارش نبی کریم ﷺ سے کریں ۔ اسامہ ؓ نے معافی کی درخواست کی تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور فرمایا اے اسامہ ! کیا تم حدود الہی میں سفارش کرتے ہو العیاذ باللہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو میں ان کو بھی سزا دیتا ، بنی اسرائیل صرف اسی وجہ سے تباہ ہوگئے کہ وہ غریبوں پر حد جاری کرتے تھے اور امیروں سے درگزر کرتے تھے ، یہ ہے وہ انصاف جو آپ ﷺ نے دولت مندوں اور صاحبان وجاہت کے مقابلے میں چھوڑا ۔ انصاف کا نازک ترین مرحلہ یہ ہے کہ اپنے مقالبہ میں بھی عدل انصاف کا دامن چھوٹنے نہ پائے یہ انصاف کا وہ نازک ترین مرحلہ ہے جہاں بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے انصاف کے اس نازک ترین مرحلے سے گزر کر بھی تمام دنیا کے حاکموں کے لئے قابل تقلید نمونہ چھوڑا ہے ۔ رسول اکرم ﷺ ایک مرتبہ مال غنیمت تقسیم فرما رہتے تھے ‘ لوگوں کی بہت بھیڑ تھی ایک آدمی آکر منہ کے بل آپ ﷺ پر لد گیا ۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ‘ آپ ﷺ نے اس سے اسے ٹھوکا دیا ‘ جس کی وجہ سے اتفاقا اس کے خراش آگئی ‘ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میاں ! تم مجھ سے بدلہ لے لو ، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے معاف کردیا ۔ دوستی وتعلقات کی دنیا پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دوستی اور محبت کی بنیادی خلوص باہمی ارتباع اور ایک دوسرے کی ہمدردی سے مستحکم ہوتی ہیں ، دیکھئے کہ آپ بحیثیت ایک دوست اور ساتھی ہونے کے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ کس طرح پیش آتے تھے ۔ ایک سفر میں صحابہ کرام نے کھانا پکانے کا انتظام کیا اور ہر ایک نے ایک ایک کام اپنے ذمے لے لیا ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں جنگل سے لکڑیاں لاؤں گا ، صحابہ نے کہا کہ ہمارے ماں باپ قربان آپ ﷺ کو زحمت فرمانے کی ضرورت نہیں ۔ ہم سب کام خود انجام دے لیں گے ، ارشاد فرمایا : یہ صحیح ہے لیکن اللہ اس بندے کو پسند نہیں کرتا جو دوسروں سے اپنے آپ کو نمایاں کرتا ہو۔ دشمنوں کے مقابلے میں آپ ﷺ نے اخلاق وکردار کا وہ اعلی نمونہ پیش کیا کہ اگر آپ اس کو پیش نظر رکھا جائے تو آپ کا بڑے سے بڑا دشمن دوست ہو سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اس کا ضمیر بالکل تاریک نہ ہوگیا ہو ۔ آپ ﷺ نے مکہ کے ان ہزاروں دشمنوں کو معاف کردیا جنہوں نے آپ ﷺ کو سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی تھیں آپ ﷺ نے اپنے چچا کے قاتل کو معاف کردیا ‘ آپ ﷺ نے ہندہ کو معاف کردیا جس نے آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کی لاش کے ساتھ گستاخیاں کی تھیں ‘ آپ ﷺ نے عمیر بن وہب کو معاف کردیا جو اپنی تلوار میں زہر بجھا کر آپ ﷺ کے قتل کے ارادے سے آیا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس یہودیہ کو معاف کردیا جس نے خیبر میں آپ ﷺ کو زہر دیا تھا ۔ مالدار ہونے کی حیثیت سے اگر دنیا کسی صالح نظام تمدن کو برسر عمل لانا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنے لئے نمونہ بنائے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں آپ ﷺ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی ‘ تمام عمر آپ ﷺ نے کسی کا سوال رد نہیں کیا ۔ ایک روز حضرت ابوذر ؓ سے ارشاد فرمایا ابوذر ؓ ! اگر یہ احد کا پہاڑ میرے لئے سونا ہوجائے تو میں کبھی اس کو گوارا نہیں کروں گا کہ تین روز گزر جائیں اور ایک دینار بھی میرے پاس رکھا رہ جائے ، مگر وہ کہ جس کو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ چھوڑوں ۔ آج دنیا کے ہر حصے میں مزدور اور سرمایہ دار کی جنگ جاری ہے ۔ یہ عالمگیر جنگ صرف ان کے مقابلے میں مجبور و لاچار ہو کر رہ گئی ہے لیکن رسول اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جو جو اصول پیش کئے ہیں اگر ان پر عمل کیا جاتا تو دنیا آج جس محرومی وبدنصیبی سے دوچار ہے آپ دنیا کے ہر فرد کو اپنی حیثیت کے مطابق خوش حال وخوش نصیب پاتے ، سرمایہ داری کی بنیاد روپے کی جمع کرنے اور اس نظریہ پر قائم ہے کہ انسان وسائل ثروت پر جب کبھی قبضہ پائے تو وہ ان کو روکے رکھے ‘ یہاں تک کہ ان سے اپنی ذات کے لئے فائدہ نہ اٹھا لے ، اس خود غرضانہ نظرئیے غیر منصفانہ نظام معیشت نے تباہی مچا کر رکھ دی ‘ اسی نظام معیشت کی کو کھ سے ہزاروں فاقہ کش ‘ مزدور ‘ قرض دار پیدا ہوئے جو ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ نے سب سے پہلے انسانی ضمیر پر اس حقیقت کو واضح کیا کہ دولت جمع کرنے سے نہیں بلکہ اچھے کاموں میں خرچ کرنے سے بڑھتی ہے ۔ آپ ﷺ نے سود کو حرام قرار دیا اور سود کے روکنے کی انتہائی کوشش کی ۔ آپ ﷺ ہی نے حصول معیشت کے ذریع میں سے بعض کو جائز اور بعض کو ناجائز قرار دیا ، ۔ آپ ﷺ ہی نے مزدوروں کی مشکلات حل کرتے ہوئے فرمایا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدور ادا کی جائے ، آپ ﷺ ہی نے سرمایہ دارانہ اخلاق اور سرمایہ دارانہ نظام کا قلع قمع کرکے دنیا پر خوش حالی ‘ امن اور بلند اخلاقی کے دروازے وا کئے ۔ خود غرض اور نفس پرست سرمایہ داروں نے جن مصیبتوں کو انسانوں پر مسلط کیا ہے وہ بلیک مارکٹنگ اور چور بازاری ہے جو غریبوں کے لئے عذاب الیم سے کم نہیں ۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں پر جو غذائی اجناس اور دوسری اشیاء کو محض نفع اندوزی کی خاطر روک کر رکھے ہیں ‘ بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ غذائی اجناس اور دوسری اشیاء کو ذخیرہ کو لیتے ہیں تاکہ بازار میں مصنوعی طور پر ان کی مقدار گھٹ جائے اور قیمت بڑھ جائے تو وہ بڑے گنہگار ہیں ۔ آپ ﷺ نے تجارت میں بھی خوش اخلاقی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : اللہ اس آدمی پر رحم کرتا ہے جو خریدنے بیچنے اور تقاضا کرنے میں نرمی اختیار کرتے ہیں ۔ خرید وفروخت کے آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ خریدوفروخت کرتے وقت جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ ، اپنے مال کا عیب اور خوبی دونوں باتیں خریدار کے سامنے بیان کرو اور مال بیچنے کے لئے چکنی چپڑی ‘ پھسلادینے والی باتیں نہ کرو ‘ مال کو تخمینے سے نہیں بلکہ پوری طرح ناپ تول کر بیچو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے مال کے عیب کو چھپاتا ہے اور خریدار پر ظاہر نہیں کرتا وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہتا ہے ۔ تفوق و برتری کا وہ خیال جو ہزارہا سال سے انسان کی فطرت میں جاگزیں تھا ‘ آپ ﷺ نے اس کو مٹا کر دنیا کو احترام انسانیت کے درس اور مساوات کی نعمت سے سرفراز فرمایا ، آپ ﷺ ہی نے دنیا پر اس حقیقت کو واضح کیا کہ غلام وآقا ، شاہ وگدا ‘ شودر وبرہمن خدا کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ اسلام میں معیار شرافت تو تقوی اور صرف تقوی ہے ۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میرے شمار میں نہیں آسکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کتنی بار یہ الفاظ فرمائے تھے کہ اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ ۔ خطبہ حجۃ الوداع میں بنی نوع انسان کو مساوات کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ‘ نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے ، تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے ۔ انسان کی سب سے بڑی خوبی کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم میں بہترین آدمی وہ ہے جس سے لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچے ۔ رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان رحمت کی عمومیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تم زمین والوں پر رحم کرو ‘ آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔ اس مختصر سی تحریر میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے یہ چند پہلو میں نے آپ ﷺ کے سامنے پیش کئے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تمام عمر لکھنے والے لکھتے رہیں اور بیان کرنے والے بیان کرتے رہیں تب بھی حضور ﷺ کا اول وصف بیان نہیں ہو سکتا ۔ دفتر تمام گشت وبہ پایاں رسید عمر ماہمچناں دراول وصف تو ماندہ ایم :
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے ہائے بدنصیبی ! افسوس میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا

افسوس مجھ پر ! کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا : 28۔ گویا یہ اس غصہ سے ہاتھ کانٹے کی اصل وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ جہاں آخرت میں انسان کو یہ قلق ہوگا کہ کاش ! میں نے رسول اللہ ﷺ کا راستہ اپنایا ہوتا وہاں اس کو اس کا قلق بھی ہوگا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے راستہ سے ہٹ کر فلاں کا راستہ کیوں اختیار کیا ۔ جلدی نہ کرو ذرا ٹھہر جاؤ ‘ ذرا رک جاؤ آج مسلمانوں میں جتنے مکاتب ہائے فکر موجود ہیں یہ اس لفظ فلاں میں آتے ہیں یا نہیں غور کرو کہ یہ چار چار پانچ پانچ اور بارہ بارہ کی تقسیم کہاں سے آئی ؟ کیا یہ سب نام ہی نام نہیں ہیں ؟ ذرا مزید نیچے اتر کر دیکھو کہ ہر خاندان اور برادری کی یہ نسبتیں جو دین کے نام پر بنائی جا چکی ہیں کیا ہیں ؟ یہ سجادہ نشین اور گدی نشین اور صاحب زادگیاں ناموں ہی کے ساتھ معروف نہیں ہیں یہ جتنے سلسلے ہم میں پائے جاتے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں اور ان کا شرعی جواز آخر کیا ہے ؟ یہ جو رسول اللہ ﷺ نے ایک خط مستقم اپنے ہاتھ سے کھینچ کر اس خط کے دائیں بائیں خط کھینچے تھے یہ کیا درس دیتے ہیں ۔ ہاں ! ہاں ! غور کرو کہیں یہ وہی بات تو نہیں جس کا خطرہ آپ ﷺ نے محسوس کیا تھا ۔ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے اور آپ ﷺ کی فراست نبوت نے جس کام سے ہم کو روکا تھا ہم کہیں وہی کام تو نہیں کر رہے ہیں ؟ کیا اسلام کے اندر یہ کوئی ایسی سازش تو نہیں جو ہمیں اندر ہی اندر تباہ وبرباد کئے جا رہی ہو ؟ کیا ایسا تو نہیں کہ آج ہماری اس سازش کے تحت آنکھیں بند کرکے رکھ دی گئی ہوں اور ہمیں کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے باعث ہماری قومی زندگی زندہ قوموں کی سی ہے یا مردہ قوموں کی سی ؟ اچھا غور کر کے آپ جس نتیجہ پر پہنچیں ہم کو بھی مطلع کردیں اور اس سلسلہ میں جو قدم آپ نے اٹھایا ہے وہ بھی بتا دیں ۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

بلاشبہ اس نے میرے پاس نصیحت آنے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان آدمی کو وقت پر دھوکا دینے والا ہے

نصیحت آنے کے بعد پھر شیطان نے مجھے کیسے بہکا دیا ؟ 29۔ نصیحت سے مراد کیا ہے ؟ لاریب اس سے مراد قرآن کریم ہی ہے جس میں رسول کا راستہ بتایا بھی گیا اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا بار بار کہا بھی گیا اور ہم نے اس کو حفظ کرکے ہر مجلس میں پڑھا لیکن سالہا سال گزر گئے کہ کبھی اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اگر کسی نے کی بھی تو اپنے فکر کے اندر رہ کر اور ان نظریات کے تابع رہ کر جو ہم نے آباواجداد کی میراث میں پائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں ہمارے دائرے بڑھتے گئے توں توں قرآن بھی بڑھتے چلے گئے کیوں ؟ اس لئے کہ ہم نے اپنے اپنے دائرہ کے اندر رہ کر اس کی سمجھنے کی کوشش کی اور آج ہماری مثال اس کنوئیں کے مینڈک کی سی ہو کر رہ گئی ۔ نام کے لحاظ سے تو قرآن کریم ایک ہی ہے لیکن کام کے لحاظ سے ہر فکر کا اپنا اپنا قرآن ہوگیا ۔ اچھا غور کرو کہ یہ کام کس نے کیا ؟ قرآن کریم ہی ہم کو بتاتا ہے کہ یہ کام تمہارے سب انسانوں کے ابدی دشمن شیطان نے کیا اور اس نے تم کو دھوکا دے کر بڑی چالاکی کے ساتھ الگ الگ کردیا تاکہ تم گروہوں میں تقسیم ہو کر آپس میں الجھتے رہو اور اپنے دشمن کی طرف سے تمہاری آنکھ بالکل بند رہے تاکہ وہ اپنی من مانیاں کرتا رہے اور تمہاری آنکھ اس وقت کھلے جب وقت گزر چکا ہو۔ شیطان کیا ہے ؟ یہ بات ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ ہم سب کے اندر موجود ہے اور ہمارے اندر وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح جسم کے اندر خون چلتا ہے لیکن ہماری اکثریت اس کو اپنے سے باہر ہی تلاش کرتی ہے گویا اندر اندھیرا ہے اور ہم روشنی میں تلاش کرنے کے عادی ہیں اس لئے ہم اس کو باہر ہی تلاش کرتے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں تو جس کو جی چاہتا ہے شیطان قرار دے کر اس کا سر کوٹنا شروع کردیتے ہیں لیکن اس طرح مرنے والا شیطان کب ہوتا ہے جو اس سے چھٹکارا ہو ۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول فرمائے گا ، اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن (کریم) کو چھوڑ رکھا تھا

قیامت کے روز نبی اعظم وآخر ﷺ کا اپنے رب سے شکوہ : 30۔ اس دنیوی زندگی کو ثبات کب ہے ؟ ایک ایک دن کرکے جب وہ کٹ جاتی ہے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ شاید ابھی کل دنیا میں بھیجے گئے تھے اور آج واپس بھی بلا لئے گئے ہیں اور پھر کیا ہے فرمایا وہ دن جس کا یقین ہی نہیں آتا تھا وہ آجائے گا تو معلوم ہوگا کہ ہم دنیا میں کیا کرتے رہے ؟ اس وقت اپنی بدبختی پر اپنا اپنا سرپیٹیں گے کیوں ؟ اس لئے کہ سب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ جس کو ہم باہر سے تلاش کرتے رہے تھے وہ تو ہمارے ہی اندر تھا اور دوسری طرف آنکھ اٹھائیں گے تو رسول اللہ ﷺ کی یہ صدا سنائی دے گی کہ اے رب ! میں نے تیری کتاب پوری دل سوزی اور نہایت کوشش کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنی چاہئے تھی اس کو تو یہ لوگ مردوں پر پڑھتے رہے اور مذہبی ٹھیکہ داروں نے ان کو یہ سمجھایا کہ اس سے اپنے مرے ہوؤں کو بخشوا لو اور صبح وشام چوملیا کرو اور غلاف میں بند کر کے رکھو اور دیکھو اس کو اپنے سروں سے اونچا رکھو اس لئے یہ لوگ اس کی اصل قدر کی طرف آتے ہی نہیں یا ان کو آنے ہی نہیں دیا گیا اے میرے رب ! یہ لوگ تو اس کی تفہیم سے ہمیشہ دور ہی رہے اور رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان کے بعد ان بدبختوں کو اٹھا کر ان کی اصل آرام گاہ میں پھینک دیا جائے گا اور اس میں ان کو رہنا ہوگا چاہے وہ اس میں بےآرام رہیں اور یہی حال دوسری امتوں اور ان کے رسولوں کی شہادت کا ہوگا ۔ تفصیل اس کی سورة المائدہ کی آیت 109 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے ہر نبی کے لیے گنہگاروں میں سے دشمن بنا دیئے اور آپ ﷺ کا رب ہدایت کرنے اور مدد فرمانے کے لیے کافی ہے

دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کرکے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی : 31۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے جو شکوہ بدرگاہ قاضی الحاجات پیش کیا تو آپ کو یوں تسلی دی گئی کہ اس معاملہ میں آپ اکیلے نہیں ہیں کہ آپ ہی سے آپ کی امت نے یہ سلوک کیا بلکہ دوسرے انبیاء کرام اور رسل عظام کا بھی یہی حال ہے اور ان کی اقوام نے بھی ان کے ساتھ یہی سلوک کیا لیکن ان سارے بدبختوں سے نمٹ لیں گے مجرمین کو جو ڈھیل دی گئی تھی وہ بلاشبہ ان کے فائدہ کے لئے دی گئی تھی اور ہم نے اپنے قانون کے مطابق دی تھی جب وہ مہلت پوری ہوگئی تو ان کا فیصلہ کرنے میں بھی کوئی زیادہ دیر نہیں لگے گی جن مجرموں نے آپ لوگوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا نہ خود سیدھی راہ کی طرف آئے تھے اور نہ دوسروں کی آنے دیا تھا وہ صرف آپ لوگوں یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام ہی کے دشمن نہیں تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھی دشمن ٹھہرے ایک حد تک ان کو مہلت دی گئی اور اب ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا اور ان کی ایک نہیں سنی جائے گی ، اللہ رب العزت نے تمہاری مدد دنیا میں فرمائی اور اب بھی وہی تمہارا مددگار ہے پھر اللہ جس کا حامی و مددگار ہو اس کو کون شکست دے سکتا ہے مجرمین نے آپ کی مخالفت کرکے آپ کا تو کچھ نہیں بگاڑا اپنا ہی ستیاناس کرلیا ہے ۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن (کریم) ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کیا گیا ، اس طرح اس لیے (نازل ہوا) تاکہ ہم اس سے آپ ﷺ کے دل کو قوی رکھیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے

کفار کا اعتراض کہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نہیں اتار دیا گیا ؟ ، 32۔ کفر کے اس اعتراض کو قرآن کریم نے کئی بار نقل کیا ہے چناچہ پیچھے سورة النحل کی آیت 103 سورة بنی اسرائیل کی آیت 106 میں تفصیل سے گزر چکا ہے کفار نے اس کو کیوں بار بار دھرایا ؟ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اس اعتراض کا جواب ممکن نہیں یا کم ازکم مشکل ضرور ہے اور پھر یہ کہ عوام اس کو جلدی سمجھ نہیں سکیں گے مطلب ان کا یہ تھا کہ اگر یہ شخص خود اس طرح سوچ سوچ کر اور لوگوں سے سن سن کر بیان نہیں کر رہا اور واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے تو ایک ہی بار یہ کیوں ناز نہیں کی گئی جب کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اگر اس کو کچھ نازل کرنا ہوتا تو وہ اپنے علم کامل کے باعث یکبارگی بھی اتار سکتا تھا معلوم ہوتا ہے اور پھر اس کے متعلق سوچتا رہتا ہے اس کو جواب دیا جا رہا ہے کہ اس کی حکمت کیا ہے کہ یہ ایک ہی بار کیوں نازل نہیں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ جب آپ کو کفار کی طرف سے زیادہ تنگ کرلیا جاتا ہے تو ہم اس قرآن کریم سے تمہارے دل کو اچھی طرح مضبوط کردیتے ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے کہ جب وہ ہر طرف سے تنگ کیا جائے اس کے لئے کوئی نہ کوئی ضرور تسلی دینے والا ہونا چاہئے اس سے اس کی ساری تھکاوٹ اور پریشانی دور ہوجاتی ہے اس لئے اس کو فطرت انسانی کے مطابق اتارا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ جتنا قرآن کریم اترتا ہے آپ ﷺ کے لوح قلب پر اچھی طرح نقش ہوجاتا ہے اور اس مقصد کے لئے بھی اس کو نجا نجا اتارنا لازم وضروری تھا ، پھر کسی چیز کا مفہوم سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کے لئے بھی ضروری تھا کہ اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا جائے اور یہ بھی کہ جب ضرورت کے مطابق اس کا نزول ہوگا تو ان لوگوں کو اس پر ایمان لانے میں بھی سہولت ہوگی کہ جو سوال انہوں نے اٹھایا اس کا جواب ان کو دے دیا گیا ۔ اور اس طرح خالق اور مخلوق کا رابطہ قائم رہے گا جو رسول کی بعثت کا اصل مقصد ہے ، پھر یہ لوگ کتنے پوچ اور سطحی ذہن کے ہیں یہ ایسا کیوں نہیں کرتے جتنی خوراک ان کو ایک سال میں کھانی چاہئے وہ ایک روز کیوں نہیں کھالیتے تاکہ ایک سال تو اس جھنجھٹ سے نجات ہوجائے یہ ہر صبح وشام تھوڑی تھوڑی غذا کیوں کھاتے ہیں ؟ جس طرح غذا کی جسم کو ضرورت ہے اسی طرح کسی جماعت زندگی کی اصل روح کے لئے غذا کا دیا جانا ضروری ہے آپ اکیلے نہیں بلکہ ضرورت ہے اسی طرح کسی جماعتی زندگی کی اصل روح کے لئے بھی غذا کا دیاجانا ضروری ہے آپ اکیلے نہیں بلکہ ان ہی لوگوں میں سے آپ کو ایک جماعت تیار کرنا ہے اور وہ جماعت بھی ایسی ہوگی جس کو رہتی دنیا تک کام جاری رکھنا ہے کیونکہ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم کیا جا رہا ہے لہذا ضروری ہے کہ جماعتی تکمیل کے لئے اس کی غذا کا صحیح بندوبست بھی کیا جائے اور وہ کیا جارہا ہے اور جماعت کی تکمیل اس طرح کردی گئی ہے کہ اب کسی نئی جماعت بندی کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہی کتاب زمانہ کے سارے حالات کا ساتھ دیتی چلی جائے گی گویا اس کی ہدایت ایسی ہدایت نہیں جو صرف ایک زمانہ کے لوگوں کے لئے ہو بلکہ یہ رہتی دنیا تک باقی رکھی جائے گی اور قرآن کریم ہر زمانہ کے حالات کے ساتھ خود بخود فٹ ہوتا چلا جائے گا جس چیز کا نام ہدایت ہے وہ اس سے باہر یقینا نہیں ہوگی ۔ چونکہ یہ قرآن کریم ایک دستور حیات ہے اس لئے اس کو تدریجا نافذ کرنا ہی مناسب ہے تاکہ اس کو اپنانے میں آسانی ہو اور پھر یہ بھی کہ اس کو جس قدر نافذ کیا جائے حالات کا جائز لیتے جانا بھی ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ جس چیز کا حالات تقاضا کرتے ہیں اس کی وضاحت کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کو ایک کام اور اکمل قانون بنا دیا جائے گا جو آپ کی زندگی کے ساتھ ہی مکمل ہونا ضروری ہے پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ زندہ ہوں اور قرآن کریم کا نزول ختم کردیا جائے جس طرح ہر جسم کے ساتھ جان کا تعلق ہے بالکل اسی طرح آپ کے ساتھ قرآن کریم کا نزول بھی تعلق رکھتا ہے اس عقل کے اندھوں کی سمجھ میں نہ آئے تو اس کا علاج صرف ایک ہی ہے وہ عنقریب کردیا جائے گا لیکن ہمارے ہاں ہر کام کے لئے ایک وقت مقررہ ہے اور ہم اس وقت مقررہ تک ڈھیل دیتے آرہے ہیں ہمارے ہاں اصول کبھی بدلا نہیں کرتے جو انکے لئے بدل دیں گے ۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور لوگ آپ کے پاس جو بھی مثال لاتے ہیں اس کا جواب ٹھیک ٹھیک اور وضاحت کے ساتھ ہم بھیج دیتے ہیں

غور کرو کہ کس طرح ہم ان کی ہر مثال کا ٹھیک ٹھیک جواب ان کو دے رہے ہیں : 33۔ کفار کا اعتراض تھا کہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا ‘ ان کو جواب دیا گیا جو اوپر مذکور ہوا اور اب مزید اس کی وضاحت کی جارہی ہے فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آپ پر جب بھی کوئی اعتراض کرتے ہیں تو ہم ان کے اوٹ پٹانگ اعتراض کو بھی سنتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ایسے اعتراضات کا جواب ضروری نہیں ہوتا تاہم ہم ان کو معقول جواب دے دیتے ہیں ان ہی سے دریافت کرنے کی بات ہے کہ کیا تم کو سوال کرنے سے پہلے ہی جواب دے دینا چاہئے یا ہر سوال کرنے والے کو سوال کرنے کے بعد ہی جواب دیا جاسکتا ہے اور بعد میں جواب دینا چاہئے جب تک آپ موجود ہیں یہ وحی کا سلسلہ بھی موجود ہے لہذا جب بھی کوئی اعتراض کریں گے ہم ان کو جواب دیں گے اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کی زبان بندی کردی جائے اور یہ لوگ کوئی اعتراض کر ہی نہ سکیں۔ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ سوال کرتے جائیں اور ہماری طرف سے ان کو جواب نہ دیا جائے ؟ اگر ایسا ہوگا تو وہ یہ شور مچائیں گے کہ دیکھو ہم نے ایک سوال کیا لیکن وہ جواب نہیں دیتا اگر اس کے پاس کوئی جواب ہوتا تو وہ یقینا جواب دیتا ۔ اس لئے ان کے سوالات کا سلسلہ اسی وقت تک جاری رہے گا جب تک آپ بنفس نفیس موجود ہیں اور ہماری طرف سے بھی ان کی ہر مثال کا جواب نقد بنقد ان کو سنایا جائے گا اور ایسا اسی وقت تک ممکن ہے جب تک قرآن کریم کا نزول جاری ہے اور لوگ جو بھی اور جس طرح کا بھی عجیب و غریب سوال کریں ہم ان کو سلجھا ہوا جواب دے دیں تاکہ انہیں مجال شک نہ رہے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے ہم ان کو ماننے پر مجبور نہیں کریں گے کیونکہ اس کے اختیار کا اعلان ہم نے اپنے اختیار سے کیا ہے اور ہم جو اعلان کرتے ہیں اس کا ویسا ہی ہونا لازمی وضروری ہوتا ہے کیونکہ اعلان اور وعدہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور وعدہ خلاف ہم نہیں کرتے ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم ان کو اختیار دینے کا اعلان کریں اور دوسری طرف ہم انکو مجبور محض کردیں اگر ہم سے وہ ایسی توقع رکھتے ہیں تو بلاشبہ ان کی یہ توقع عبث وبیکار ہے ۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لائے جائیں گے ، ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور یہ راہ سے بہکے ہوئے ہیں

ہاں ! ان کی جب یہ زندگی ختم ہوجائے گی تو ہم ان کو دوزخ کی طرف ہانک لائیں گے : 34۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہم نے ان کو اختیار دیا ہے اس کا تعلق انکی اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہے تاکہ یہ لوگ اپنے مکمل اختیار سے عمل کریں جو بھی کریں اور جب ان کو اس دنیوی زندگی کا باب بند ہوجائے گا تو ہم انکو دوزخ کی طرف ہانک لائیں گے کیوں ؟ اس لئے کہ جو اختیار ہم نے ان کو دیا اس سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا اور وہ ہر معاملہ میں الٹی راہ چلے اور جب ہم ان کو الٹے کر کے منہ کے بل دوزخ کی طرف گھسیٹ لائیں گے تو یہ گویا ان کے کئے کی پوری پوری جزا ہوگی ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز بعض لوگ سوار ہوں گے اور بعض پیدل چل رہے ہوں گے اور بعض ایسے بھی ہوں گے جن کو منہ کے بل گھسیٹ کر لایا جائے گا اور یہ وہی صورت ہے جب کسی کو ایک ٹانگ سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے کسی جگہ لا کر پھینک دیا جائے اور اسی صورت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے ، (ترمذی) فرمایا ایسا کیوں ہوگا ؟ اس لئے کہ جہنم ایک ایسا مقام ہے جس میں بھلائی اور آرام کی کوئی چیز نہیں اور وہ ایسے ہی راہ گم کردہ لوگوں کا ٹھکانہ ہوگا ۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کے بھائی ہارون کو اس کا معاون بنایا

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بھائی ہارون کو اس کا مددگار بنایا : 35۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بطور تسلی یہ بات بتانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کی قوم کے لوگ جو اس طرح کے اوٹ پٹانگ سوال کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کے ان لا یعنی سوالوں سے تنگ نہ ہوں ‘ جاہل قوموں کا مزاج ہی ایسا ہے دیکھو آپ ﷺ سے قبل جو ہم نے رسول ونبی بھیجے تھے انکے ساتھ بھی انکی قوموں نے ایسے ہی اوٹ پٹانگ سوال کئے اور پھر اسی سلسلہ کی شہادت کے لئے سب سے پہلے یہود کے تسلیم کردہ رسول موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا مختصر ذکر شروع کیا موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے ساتھ ہی ہارون (علیہ السلام) کا ذکر اکثر قرآن کریم نے کیا ہے جس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک کے بیان کرنے کی دوسرا تصدیق کردے تو بات کرنے والے کو کتنی تقویت ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک عرصہ تک مصر میں غیر متعارف رہے تھے جب کہ ہارون (علیہ السلام) مصر میں موجود رہے تیسرے یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جو اتفاقی قتل ہوا تھا اس کا عوض بھی آپ کے خاندان کے لوگوں میں سے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) نے چکایا یعنی دیت بھی انہوں نے ادا کی اور چوتھے یہ کہ قوم بنی اسرائیل میں سرکردہ شخصیت بھی ہارون (علیہ السلام) ہی تھے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش تو فرعونی محلات میں ہوئی تھی اگرچہ یہ راز بعد میں کھل گیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے اور پانچویں یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس جانے سے جھجھک محسوس کرتے تھے اور یہ جھجھک محض اسی قتل ہی کے باعث تھی کہ فرعون کہیں جاتے ہی گزشتہ مقدمہ قائم نہ کر دے کیونکہ سیاسی انتقام میں ایسے خطرات بعض اوقات بالکل صحیح ثابت ہونے لگتے ہیں اور مخالفین اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں ، چھٹی یہ بات بھی تھی کہ فرعون اور اس کی قوم کچھ زیادہ ہی منہ زور ہوچکی تھی اس کو سیدھا کرنے کے لئے دو رسولوں کو روانہ کیا گیا جنہوں نے مل کر ان کو دعوت دی تاہم انہوں نے دونوں نبیوں اور رسولوں کو کوئی خاص اہمیت نہ تھی
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ان دونوں سے کہا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری باتوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کو نیست و نابود کر ڈالا

فرعونیوں نے دونوں رسولوں کی ایک نہ مانی اور ہم نے ان کو نیست ونابود کردیا : 36۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مقابل فرعون اور اس کے گروہ کی تفصیل پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی اس جگہ بالکل مختصر ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ فرعون اور اس کے گروہ نے ہمارے دونوں نبیوں اور رسولوں کی کوئی بات نہ مانی اور ایک مدت تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا پھر انکو مختلف نشانیاں دی گئیں لیکن انہوں نے نشانی کو جھٹلایا اور انکو ایک جادو اور سحر قرار دیا انجام کار وہ وقت بھی آیا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لے کر یہاں سے نکل چلو اور تمہارے پیچھے ہم فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو بھی تمہارے پیچھے لگا دیں گے خیال رہے کہ تم کو گھبرانا نہیں ہے بلکہ ہمارے حکم کے مطابق تم کو جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) دریا عبور کرنے کا حکم دیں وہاں سے دریا کو عبور کرنا بنی اسرائیل نے اس طرح کیا تو ہم نے ان کو دکھاتے ہوئے فرعون اور اس کے سارے لاؤ لشکر میں ڈبو کر رکھ دیا اور اس طرح وہ اس دنیا سے نیست ونابود کردیئے گئے اور اس مختصر ذکر سے قریش مکہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کرنے والوں کا حشر ہوا کل تمہارا بھی وہی ہوگا اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کرلیا اس لئے تم بھی اچھی طرح سوچ سمجھ لو تاکہ تم کو یہ افسوس نہ ہو کہ بات ہماری سمجھ میں نہ آئی اور ہم کو مخاطب کرکے کچھ بتایا ہی نہیں گیا ۔ جب انہوں نے ہماری دعوت کو ٹھکریا تو ہم نے ان کو نیست ونابود کردیا اور اکھاڑ کر کہیں سے کہیں پھینک دیا تو تم نے وہی ضد کی تو تمہارا بھی وہی حال ہوگا ۔