25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہ (اللہ ہی) تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا ہوا بہایا ، ایک کا پانی شیریں پیاس بجھانے ولا دوسرے کا کھاری اور کڑوا اور دونوں کے درمیان ایک حجاب رکھ دیا اور ایک مضبوط آڑ بنا دی (کہ دونوں پانیوں کو ملنے نہیں دیتی)

اضداد کائنات کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے : 53۔ (مرج) کا لفظ پہلی بار اس جگہ استعمال ہوا ہے اور دوسری بار سورة الرحمن کی آیت 19 میں اور اس اصل کا ایک لفط (مریج) سورة ق کی آیت 5 میں استعمال ہوا ہے مارج کا لفظ سورة الرحمن کی آیت 15 میں آیا ہے ۔ مرج ای خلط کے معنی ملا دینے کے ہیں ۔ مرج الدابہ کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ میں چھوڑ دیا جہاں اور جانور بھی چرتے ہیں تاکہ وہ بھی چرے اور مرج کے معنی اجرا کے بھی ہیں یعنی جاری کردینا اور اس جگہ دونوں معنی کئے گئے ہیں یعنی ملا دیا اور جاری کیا یا چلایا ، (السان العرب) فرات بہت میٹھے پانی کو کہتے ہیں جس طرح اجاج نہایت ہی کھاری پانی کو کہا جاتا ہے ، قدرت کی کرشمہ سازیوں میں سے اس جگہ اس کرشمہ کا ذکر کیا جارہا ہے کہ پانی دو قسم کے بیان کئے گئے ہیں میٹھے خوش ذائقہ اور تلخ ونمکین لیکن ہر پانی اپنی جگہ قائم ہے ان کو الگ الگ رکھنے کے لئے قدرت نے ایسی غیر محسوس رکاوٹیں قائم کردی ہیں تاکہ یہ باہم مل نہ سکیں ، اس کرشمہ کا مشاہدہ ہر اس جگہ کیا جاسکتا ہے جہاں شیریں پانی کی ندیاں اور دریا بہتے بہتے سمندر میں جا گرتے ہیں اور ان مقامات پر دونوں پانیوں کی سطح یکساں نظر آتی ہے لیکن قدرت خداوندی سے ان میں ایک ایسی حد فاصل قائم ہے کہ ملتقی کی ایک جانب سے پانی لیا جائے تو شیریں ہے اور دوسری طرف سے لیا جائے تو نہایت کھاری اور تلخ ہے ۔ آج پھر ان دونوں طرح کے پانیوں کو دیکھا جاسکتا ہے مثلا ہندوستان کی مشرقی سرحد پر اراکان علاقہ برہما اور چٹاگام کے درمیان اور اسی طرح ضلع باریال بنگلہ دیش میں بھی دو ندیاں ایک دوسرے کے بالکل متصل اسی قسم کی پائی جاتی ہیں ایک صاحب رقم طراز ہیں کہ ” بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ” اراکان “ سے ” چٹاگام “ تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانب بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں ایک کا پانی سفید ہے ایک کا سیاہ ‘ سیاہ سمندر کی طرح طوفانی تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے ۔ کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں ملتقی ہے لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا اور مجھ سے ” بارسیال “ کے بعض طلبہ نے بیان کیا کہ ضلع ” بارسیال “ میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلتی ہیں لیکن ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا ہے اور ایک نہایت شیریں اور لذیذ ہے ۔ یہاں گجرات (کاٹھیاواڑ) میں رقم الحروف جس جگہ آج کل مقیم ہے (ڈاہبیل ضلع سورت) سمندر تقریبا دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے ادھر کی ندیوں میں برابر مدرجزر ہوتا رہتا ہے ، بکثرت ثقات نے بیان کیا ہے کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے اوپر کھاری رہتا ہے اور نیچے میٹھا ، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں باقی رہتا ہے ، ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے۔ “ (تفسیر عثمانی ص 486 مجمع الملک فھد لطباعہ مصحف الشریف) قدرت الہی کی یہ کرشمہ سازی اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ دریاؤں کا پانی میٹھا ہوتا ہے لیکن سمندر کا پانی کھاری ‘ پس دو دریا ایک میٹھا اور ایک کھاری جو باہم ملتے بھی ہیں اور ان کے درمیان روک بھی ہے اسی طرح پر ہیں کہ دریاؤں کا پانی سمندر میں جا ملتا ہے باایں ہمہ وہ کھاری ہے اور یہ شیریں پھر اسی سمندر سے پانی اڑک کر خشکی پر برستا ہے اور اسی سے دریا بنتے ہیں مگر سمندر کا کھاری پن ان میں نہیں آتا یہ گویا ان کے درمیان برزخ اور حجر ہے اور مزید غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دراصل روحانی زندگی اور جسمانی زندگی کے سرچشموں کی طرف ہے جو دنیا پر گر جاتا ہے اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسی کھاری پانی پینے والوں کی کہ وہ پیاس کو اور بڑھاتا جاتا ہے ور جو روحانیت کے چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کرتا ہے تو اس کی شیرینی تسکین پیدا کرتی ہے اس کو اطمینان قلب میسر آجاتا ہے مگر طالب دنیا کو کبھی اطمینان قلب حاصل نہیں ہوتا ۔ روحانیت کا چشمہ کیا ہے ؟ روحانیت سے مراد یہ صوفیوں کے خرافات اور پیری مریدی کا ڈھونگ نہیں بلکہ ہر حال میں کتاب وسنت کے مطابق زندگی گزارنا روحانیت کو تقویت دیتا ہے ‘ احکامات الہی کو بجا لانا اور منیہات کو بالکل ترک کردینا اور پھر اسی طرح جو حال بھی میسر آئے اس پر قانع رہنا ۔ یہ بات بھی بارہا مشاہدہ میں آچکی ہے کہ زمین کے اندر کے پانی کی بھی روئیں الگ الگ ہیں جو بالکل معمولی فرق سے بدل جاتی ہیں ‘ کوئی پانی کی رومیٹھی ہے اور کوئی کھاری ‘ کوئی گرم ہے اور کوئی نہایت ٹھنڈی ‘ کوئی بدمزہ اور پھیکی ہے تو کوئی مزہ دار اور میٹھی ‘ کسی کا پانی کافی حد تک بھاری ہے اور کسی کا پانی بہت ہلکا اور فی الواقعہ یہ فرق پانی کے وزن پر بھی ہوتا ہے ، جن علاقوں میں بکثرت کھاری پانی ہے انہیں علاقوں میں کہیں میٹھا پانی بھی دسیتاب ہوجاتا ہے اور جن علاقوں کا پانی میٹھا ہے انہیں علاقوں میں کہیں کہیں کھاری پانی بھی مل جاتا ہے بلاشبہ یہ بھی اسی قدرت کی کرشمہ سازی ہے اور یہ جو کچھ ہے باقاعدہ ایک نظام کے تحت ہے اور جہاں بھی کوئی انتظام موجود ہو بہرحال وہاں منتظم بھی ضرور ہوتا ہے قرآن کریم بار بار مطالبہ کرتا ہے بتاؤ یہ نظام کس نے چلایا ہے اور کس کے قبضہ قدرت میں ہے ؟ پھر خد ہی جواب دیتا ہے کہ اس منتظم کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے نام سے موسوم کیا جاتا جو صرف اپنی صفات ہی سے پہچانا جاتا ہے ۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی (کی ایک بوند) سے پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنا دیا اور تیرا رب بڑا قدرت والا ہے

آفاق دلائل کے بعد توحید الہی کے انفسی دلائل اور نئے خدشات کا ازالہ : 54۔ نسب کیا ہے اور صہر کیا ؟ نسب بھی قرابت ہے اور صہر بھی قرابت ہے لیکن ” نسب “ آباء یعنی مرد کی طرف سے ہے اور ” صھر “ عورت کی طرف سے ہے ۔ زیر نظر آیت میں گویا دلائل آفاقی سے دلائل انفس کی طرف مضمون کو منتقل کیا گیا ہے تاکہ توحید الہی کو مختلف دلائل سے ذہن نشین کرایا جائے ، اسی طرح اب انفسی دلائل کی طرف توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے جو انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں فرمایا جا رہا ہے کہ اسے انسان ! اپنی چال ڈھال ‘ اپنی نخوت وتکبر ‘ اپنے اکڑنے اور اترانے والے ‘ ذرا دیکھو کہ ہم نے کس حقیر پانی سے تیری پیدائش کردی کہاں وہ قطرہ ناپاک اور کہاں یہ تیرا حسین و جمیل چہرہ اور خوبصورت جسمانی ساخت ذرا غور کرو کہ یہ تیری تبدیلی اور یہ تدریجی ارتقاء کس کی حکمت کاملہ کی شہادت دے رہا ہے ، پھر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو صرف ایک صنف میں پیدا نہیں کیا بلکہ دو صنفوں میں پیدا کیا اور دونوں کے ظاہری اعضاء میں کتنا واضح اختلاف ہے پھر جس طرح ان ظاہری اعضاء میں فرق ہے بالکل اسی طرح ان کے ذہنی رجحانات اور قلبی احساسات وجذبات میں بھی فرق رکھا گیا ہے لیکن اس واضح اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لئے جزولاینفک ہیں گویا ہر ایک کی انسانیت کی تکمیل دوسرے کے بغیر ادھوری ہے ۔ مرد اپنی ساری قوتوں کے باوجود نامکمل ہے اور عورت بھی اپنی ساری لطافت ونزاکت کے باوجود غیر مکمل ہے دونوں مل کر ایک مکمل انسان بنتے ہیں ہاں ! بلاشبہ دونوں مل کر ہی مکمل ہوتے ہیں اور اسی طرح دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مکمل ہوجاتے ہیں پھر اس تکمیل انسانیت کے بعد نسل انسانی کی نعمت کو اللہ تعالیٰ نے رکھ دیا ہے اور اسی طرح نسب وصہر کا ایک غیر مبہم سلسلہ جاری کردیا ہے کہ ہر مرد کی طرف سے نسب ہے اور ہر عورت کی طرف سے صہر ہے اور اسی طرح یہ رشتہ داریوں کا سلسلہ قائم ہے اور قائم رہے گا جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے ، خیال رہے کہ ان دونوں صنفوں کے اندر دونوں طرح کے جرثومے موجود ہیں جن سے نوع انسانی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے لیکن ان دونوں کے فطری ملاپ ہی سے ان کا جوڑ جڑتا ہے ۔ اگر اس جوڑ کے لئے کوئی مصنوعی طریقہ ایجاد کرلیا گیا یعنی ایک صنف کے دونوں جرثوموں کو آپس میں جوڑ دیا گیا تو وہ بھی بہرحال جوڑ لگانا ہی کہلائے گا جوڑ لگنا نہیں پھر یہ بھی کہ اس طرح کے مصنوع جوڑ سے جوڑی گئی پیدائش کا نیا جوڑ ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی اس جوڑ میں وہ تسکین میسر آئے گی جو قدرت نے اس جوڑ میں رکھ دی ہے ، اس سلسلہ میں انسان جو کوشش بھی کرے گا اس کے لئے بجائے نفع کے نقصان دہ ہی ثابت ہوگی ، اس سلسلہ میں جو تجربات کئے جا رہے ہیں ان کی کامیابی کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوں گے اور بلاشبہ اس سے انسان کمال کو نہیں بلکہ زوال کی طرف منتقل ہوگا کیونکہ نسب وصہر کے علاوہ نسل انسانی کا سلسلہ مکمل طور پر رک جائے گا لیکن اس بات کو اللہ جانتا ہے کہ شاید اس سلسلہ کا اختتام وہ اس طرح کرنا چاہتا ہو کیونکہ جو سلسلہ شروع ہوا ہے بہرحال اس کو ختم بھی ہونا ہے پھر نئے سلسلہ کا اعلان آج نہیں جب سے اس نظام کو شروع کیا گیا تھا اسی وقت کردیا گیا تھا کہ آج اس نظام کو شروع کیا جارہا ہے تو کل اس کا اختتام بھی ہوگا کیونکہ یہ دار فانی ہے لیکن اس کے بعد نقشہ ثانیہ کا دور ابدی دور ہوگا اس لئے اس سارے نظام کو بدل دیا جائے گا ، خیال رہے کہ قرآن کریم کے نزدیک اتحاد وتناسل کا طریقہ ایک اور صرف ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گا کیونکہ یہی طریقہ اسلام میں جائز طریقہ متعارف ہے اور بلاشبہ وہ ازدواج کا طریقہ ہے علاوہ ازیں جو طریقہ بھی اختیار کیا جائے گا وہ ناجائز اور حرام ہوگا خواہ کسی شکل اور کسی نوعت کا ہو ۔ آج کل فی زماننا مختلف طریقوں سے کوششیں جاری ہیں کہ پیدائش کا کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے اور کسی حد تک نباتات اور غیر ناطق حیوانات میں ان تجربات نے حیرت انگیز ترقی بھی کی ہے جس کے نتیجہ اجناس کی نئی نئی قسمیں معرض وجود میں آچکی ہیں جس کے باعث اجناس کی پیداوار میں خاصہ اضافہ بھی ہوا ہے گویا فصلوں کا جھاڑ کافی حد تک پہلے کی نسبت بڑھ گیا ہے جس میں بیج کا بھی حصہ ہے اور اس کے ماحول کا بھی یعنی بیج کے علاوہ زمین کو کھاد وغیرہ ڈال کر اس کی قوت نمو میں اضافہ کردینا بھی شامل ہے اور ابھی مزید ترقی کے امکان بھی موجود ہیں لیکن جہاں اس کے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی لیکن یہ بحث ایک الگ بحث ہے اور اسی طرح غیر ناطق حیوانوں میں بھی ان تجربات سے مفید نتائج سامنے آئے ہیں کہ فطری طریقہ پیدائش سے ہٹ کر جب غیر فطری طریقہ اپنایا گیا تو اس کی افزائش میں بہت حد تک اضافہ ہوا جس کی مثال ان پولٹری فارموں سے دی جاسکتی ہے اور اس طریقہ سے اب حیوانات کی دوسری اقسام میں بھی روز بروز ان تجربات سے فوائد حاصل کئے جا رہے ہیں اور ان کی مقدار بھی یقینا بڑھی ہے اور ابھی مزید امکان بھی موجود ہیں چونکہ انسان بھی بہرحال ایک حیوان ہے اور اس پر بھی اس طرح کے تجربات اب جاری ہیں جس سے ایک نیاباب کھلتا نظر آتا ہے جو آج نہیں تو کل بہرحال مکمل طور پر کھلے گا لیکن طریق تخلیق کے ان مصنوعی طریقوں میں اصولی تخلیق سے آج تک انحراف ممکن نہیں ہو سکتا اور جب تک اس کائنات کا یہ انتظام موجود ہے ممکن بھی نہیں۔ بحث جتنی ہوگی وہ سب کی سب حرام و حلال کی ہوگی مثلا فطری طریقہ میں فحل کے میلان نے صنف نازک میں ایک تہیج پیدا کی اور صنف نازک کی فطری طلب کو فحل نے پورا کردیا جو ایک فطری طریقہ ہے کہ اس میں کسی مصنوعی کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ خالصتا ایک فطری طلب کو پورا کیا جاتا ہے ، اسلام نے اس کے لئے ایک خاص طریقہ نکاح ‘ خاص رشتوں کی قید کے ساتھ جائز رکھا اور باقی طریقوں کو حرام قرار دے دیا اور یہ بات صرف مکلفین کی حد تک تھی یعنی انسانوں تک ان کے باہر اس طرح کی کوئی بحث نہ تھی یہی وجہ ہے کہ سائنس نے جب ترقی کی تو اس نے بھی ان تجربات کو نباتات اور نباتات کے بعد زیادہ تر غیر ناطق حیوانات تک محدود رکھا لیکن انسان کی طلب جستجو اس کو اس جگہ کب رکھنے دے گی وہ یقینا اس سے آگے بڑھے گا اور حیوان ناطق یعنی انسانوں کو بھی ان تجربات میں شامل کرے گا اور ماحول میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں یقینا ان کا مکمل طور پر رجحان اس طرف بڑھ رہا ہے اگر آج یورپ کے لوگ ہی یورپ تک محدود ہوتے غیر یورپین وہاں داخل نہ ہوتے تو یقینا اب تک دنیا کا وہ حصہ خاص حد تک اسی مصنوعی طریقہ کے انسانوں سے آباد ہوتا ۔ اس وقت جب کہ نئے طریقہ ایجاد کئے گئے تو اس میں بھی اصول رہی رہا کہ تہیج کا ایک مصنوعی طریقہ اپنایا گیا اور پھر جب مصنوعی تہیج پیدا ہوئی تو اس کی طلب کو پورا کرنے لئے مصنوعی طریقہ سے حاصل شدہ بیج مصنوعی طریقہ سے اس میں رکھ دیا گیا ۔ ذرا غور کرو کہ نتیجہ کیا رہا ؟ وہی جو پہلے تھا فرق صرف یہ رہا کہ وہ فطری طلب کو فطری طریقہ سے پورا کرنا تھا یہ مصنوع طلب کو مصنوع طریقہ سے پورا کیا گیا گویا بات وہی رہی صرف اس کے لئے طریقہ کار بدل دیا گیا اور اس وقت تک جو ہیجان اجسام میں سمجھا گیا تھا اور جو طلب اجسام میں بیان کی جاتی تھی اس لئے متعلق یہ اضافہ ہوا کہ بلاشبہ اجسام کی تسکین اس میں ضرور ہے لیکن اصل طلب اجسام کی نہیں تھی بلکہ اس بیج کی تھی جو اجسام کے اندر پایا جاتا تھا اور جب اس بیج اور تخم کو جسم سے الگ کر کے دیکھا گیا تو بات واضح ہوگئی کہ اصل طلب اس بیج اور تخم کی تھی جیسا کہ نباتات کے بیج میں بھی شروع سے موجود چلی آرہی ہے گویا اس طرح انسان نے جو دریافت کیا جس نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا وہ صرف انسانی سوچ کی کمزوری تھی جو کچھ اس نے دریافت کیا وہ کوئی گم شدہ چیز نہیں تھی بلکہ اس کی اپنی حالت ہی یہ تھی کہ ” لڑکا بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں “ جو کچھ ہے وہ تو اس کے اپنے ہاتھوں میں موجود ہے جس کو ہر وقت وہ دیکھتا ہے اور ہر وقت اس پر عمل پیرا ہے واہ رہے انسان کیا تو اور کیا تیر دریافت ‘ سبحان اللہ ۔ اس طرح وہ پردہ جو دراصل اس کی آنکھوں اور ہاتھوں کے درمیان حائل تھا اس ہوا کے جھونکے سے ذرا سرکا تو اس کو حقیقت حال معلوم ہوئی کہ ابھی تو ا میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں سے میں چلا تھا تو اس نے مزید کوشش کردی اور بلاشبہ یہ وہی چیز ہے جو اس کے جسم کے اندر داخل ہے اور جس کو ہم جسم کہہ رہے ہیں بلاشبہ وہ اس کے جسم کے ایک حصہ دماغ کے پردوں میں سے کوئی خاص پردہ ہی ہو جس کو کوئی انسانی آنکھ دیکھ بھی نہ سکتی ہو جب تک کوئی مصنوعی آنکھ استعمال نہ کی جائے ، بہرحال اس نے جب اپنی حالت پر غور کیا تو اس کو معلوم ہوا کہ میں ابھی وہیں کا وہیں ہوں تو اس نے مزید جو ترقی کی طرف قدم اٹھا تو اس کو معلوم ہوا کہ جو تڑپ وطلب ہم نے بیج میں سمجھی تھی وہ بھی دراصل بات صحیح نہیں تھی بلکہ یہ طلب تو بیج بننے سے بہت پہلے کے خلیوں میں موجود ہے حالانکہ ان خلیوں پر ایک خاص مدت تک عمل ہونے کے بعد یہ بیج کا نام حاصل کرتے ہیں ، ان خلیوں کی دریافت کے بعد اب وہ پھولا نہیں سما رہا اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے وہ کام کر دکھایا جو شاید اللہ میاں بھی نہ کرسکا اور پوری دنیا کے اخباروں نے اس کو اس قدر پذیرائی بخشی کہ آسمان سر پر اٹھا لیا کہ ” لیجئے جناب کلوننگ ٹیکنا لوجی نے مادہ تولید کی ضرورت ختم کردی “ اس ہا۔۔۔۔ ہا ۔۔۔ ہو۔۔ ہونے اتنا شور مچایا کہ الامان والحفیظ ۔ اس اخباری اعلان کے بعد ہر آنے والے دن نے کتنے کتنے جھوٹ گھڑے اور کیسے کیسے ان کو لباس پہنایا گیا نتیجہ یہ رہا کہ ہر ایک طبقہ کے لوگوں نے اس میں بقدر ہمت حصہ لیا ، اہل دانش ‘ قانونی ماہرین اور اخلاقیات کے علمبردار غرض ہر طبقہ کے لوگوں نے طبع آزمائی کی یہاں تک کہ علمائے کرام نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ، وہ خبر کیا تھی جس پر اس طرح سارے لوگوں نے طبع آزمائی کی ؟ معلوم ہوا کہ اسکاٹ لینڈ کی ایک لیبارٹری میں سائنس دانوں نے ایک کامیاب تجربہ کے بعد ایک بھیڑ سے دوسری بھیڑ ” ڈولی “ بنا لی ہے اور ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں اس کی تصویریں اور وضاحت پیش کی جس کا نتیجہ یہ بتایا گیا کہ اس طرح مادہ جانور سے سیل لے کر اس پر عمل کیا گیا تو بیسیوں سیل ایک جیسے بن جائیں گے اور پھر ایک جیسے جانور ان سے حاصل کر لئے جائیں گے پھر صورت حال کو انسان پر لا کر بہت سے فرضی خطرات کا اظہار کیا گیا حالانکہ اس میں نہ تو کوئی خطرہ کی بات ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت ہے کہ ہمارے فتوارائیں نے ایک درخت بیری کو اوپر سے کاٹ کر اس کی ایک آنکھ سے ڈیڑھ انچ مربع کی جلد کو اتارا ایک دوسری بہت بڑے بیر کی بیری کا اتنا ہی ٹکڑا عین اسی سائز کا کاٹ کر صرف آنکھ پر آنکھ رکھ کر جوڑ دیا اور اس کے اوپر آنکھ کی جگہ خالی چھوڑ کر پٹی باندھ دی ۔ دس بارہ روز کے بعد جب بیری کی وہ آنکھ پھوٹ نکلی تو اس کا سارا رنگ ڈھنگ اس بیری کا تھا جو بہت بڑے بیر کی تھی جب یہ بڑھکر تیار ہوئی اور بار آور ہونے پر دیکھا تو اسی بیری کے سائز کے بیر تھے اور سارے کے سارے ایک ہی جسم وحجم کے جس کی جلد لے کر پیوند کاری کی گئی تھی ، سائنس دانوں نے جو کام ایک مدت تک لیبارٹریوں کی خدمات حاصل کرنے کے بعد اور کروڑوں روپے برباد کرنے کے بعد بتایا ہمارے فتو آرائیں نے صرف ہاتھ کی صفائی اور ایک چھری کی مدد سے کر دکھایا فرق تھا تو صرف یہ کہ سائنس دانوں نے بھیڑ کے ایک سیل سے اس کی ” ڈولی “ تیار کی اور فتو آرائیں نے یہ عمل بھیڑ پر نہیں بلکہ ایک بیری کے درخت پر کیا جاندار ہونے میں درخت اور بھیڑ میں کوئی فرق نہیں ہاں ! قسم حیوانی میں ضرور فرق ہے ، یاد رہے کہ سائنس دانوں کے سارے خطرات دور ہوجائیں گے اور ایک بھی باقی نہیں رہے گا جب اس نئی تخلیق کے جانوروں اور انسانوں سے کوئی نسل بھی آگے نہیں چلے گی اور نہ ہی وہ چلا سکیں گے اور نہ ہی انسانوں سے کوئی اس طرح کا فعل سرزد ہوگا جن افعال کا خطرہ انہوں نے محسوس کیا ، کیونکہ یہ سارے خطرات اس سیل کے باعث پیدا ہوئے جس سیل سے جنس حاصل کی جاتی ہے اور جب ایک جانور کے سیل سے دوسرا جانور پیدا ہوگیا اور اس کی دوسری صنف کا عمل دخل بھی نہ رہا تو چاہے آپ جتنے جانور ان سے پیدا کرتے رہیں ان کے وہ افعال ختم ہوجائیں گے جن افعال کے باعث اس طرح کے خطرات پیدا ہوتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ اس طرح کی تخلیق کے توالد وتناسل اور تو ارث کی کیا صورت ہوگی ؟ تو اس تخلیق کو صرف تخلیق تک محدود رہنا ہے اس سے توالد وتناسل اور تو ارث کا کوئی خطرہ ہی نہیں ہوگا کیونکہ ایسی تخلیق والدہ ‘ والدہ اور ولد کی بحث سے بالکل آزاد ہوگی ۔ اس دھرتی پر ایسے حیوانات کی قبل ازیں ہزاروں کی تعداد میں ایسی مخلوقات موجود ہیں اور پھر اگر ہزاروں کی تعداد میں ایک تخلیق کا اور اضافہ ہوجائے گا تو اس سے کونسا خطرہ ہے جو بڑھ جائے گا جس طرح ان ہزاروں کی تعداد میں ایک تخلیق کا اور اضافہ ہوجائے گا تو اس سے کونسا خطرہ ہے جو بڑھ جائے گا جس طرح ان ہزاروں کی تعداد مخلوقات میں نہ توالد وتناسل ہے اور نہ ہی والدہ ‘ والد اور ولد کی کوئی بحث موجود ہے تو ان میں ایک مزید مخلوق کے اضافہ سے کیا ہوگا ؟ کچھ بھی نہیں آپ ان خطرات کو خطرات سمجھ کر خواہ مخواہ پریشان نہ ہو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جب کوئی تخلیق کرنی ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کا انتظام نہ کیا گیا ہو۔ اس طرح کی انسانی تخلیق اگر معرض وجود میں آگئی تو بلاشبہ وہ مخلوق خداوندی ہی کہلائے گی اور اس مخلوق کو مکلف قرار نہیں دیا جائے گا لیکن بلاشبہ وہ مکلف مخلوق کے مشابہ ہی ہوگی اور اس مخلوق پر مسلمانوں کا ایمان آج سے نہیں بلکہ اسی وقت سے ہے جب سے اسلام کو اللہ نے دین بنایا کیونکہ دین اسلام کا یہ ایک طے شدہ مسلمہ مسئلہ ہے جس کو آج تک بالغیب کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے لیکن خیال رہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اور تبدیلیاں ہونا بھی ضروری ہیں جن کے متعلق انسان فی الوقت غفلت میں ہے اگر ان میں سے سب سے بڑی تبدیلی کی طرف پیش رفت ممکن ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دوسری تبدیلیاں نہ ہوں ، سائنس دان اس ایک تبدیلی کی خبر ہم کو دے رہے ہیں اور ہم ان کو اسی طرح کی ہزاروں تبدیلیوں کی خبر دیتے ہیں وہ اس ایک کے لئے کوشاں ہیں لیکن قدرت الہی اس ایک ہی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ہزاروں تبدیلیاں کر رہی ہے تعجب کی بات ہے کہ اپنی معلوم شدہ تبدیلی پر ناز ہے اور باقی ہزاروں تبدیلیوں سے وہ فی الحال مکمل طور پر غفلت میں ہیں اور اس غفلت میں وہ سب تبدیلیاں بھی رونما ہوجائیں گی وہ اس ایک تبدیلی کے لئے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کریں اللہ ان کی محنت کو یقینا پھل لائے گا ۔ رہی یہ بات جو ہمارے اخبارات نے بڑی بڑی سرخیوں سے شائع کی تھی کہ ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے “ سائنس سے اس کا جواز مل گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس بات پر عیسائیوں کا ایمان تھا اور عیسائیوں سے مسلمانوں کو مفت میں مل گیا بلکہ عیسائیوں کے پروپیگنڈے نے مسلمانوں کو بھی منوا لیا لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ایسی مخلوق پر ہم کو یقین ہے بلکہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے جو بغیر ماں باپ کے ہوگئی بلکہ وہی رہی ہے لیکن اس مخلوق میں توالد وتناسل کی کوئی بحث نہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو قرآن کریم نے ولدقرار دیا ہے اور مکلف ثابت کیا ہے بلکہ مکلفین کا رسول بتایا ہے اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی اس بحث سے مستثنی ہیں اور مسلمانوں کی حمیت کا جنازہ کیوں نکل گیا کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو انسانوں کی صف اول سے اٹھا کر بھیڑ بکریوں اور حشرات الارض کی صفت میں لے جا کھڑا کردیا کیونکہ ان کی پیدائش اس نظام کے تحت ہوئی جس نظام کے تحت انسانوں کی پیدائش ہو رہی ہے اور جس پیدائش کے ضابطہ الہی میں لاکھوں کی تعداد میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام پیدا ہوئے اور وہ اس مخلوق ثانیہ کے ایک فرد تھے نہ تو ان کا تعلق مخلوق اول سے تھا اور نہ ہی ان کا تعلق مخلوق بعث بعد الموت کے ساتھ ہے تاہم مخلوق اول بھی ہمارے ایمان کا جزو ہے اور مخلوق ثانیہ کے دور میں ہم خود موجود ہیں اور اس کو آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں اور سارے نبیوں اور رسولوں کا بھی مع عیسیٰ (علیہ السلام) اس مخلوق ثانیہ کے افراد سے تعلق ہے اور مخلوق بعث بعد از موت بھی ہمارے ایمان کا ایک جزو اور اہم حصہ ہے اگر سائنس دان اس کے معلوم کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو ہمارے لئے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ وہ سارے سائنس دن خود مانیں یا نہ مانیں اس ہمارے اللہ کی مخلوق سے ہیں اور وہ ہماری جنس کے افراد ہیں اگرچہ وہ اس قدر محو ہوگئے ہیں کہ ان کو اپنی بھی خبر نہیں رہی تاہم ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں اور ہم اس ترقی اور ان کی معلومات کے لئے اپنے پروردگار کے شکر گزار ہو کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ہمارے ایمان میں اس سے تازگی آئے گی لیکن ابھی ان کو کہاں کہاں دھکے اور ٹھوکریں کھانی ہیں اس کو ہم نہیں جانتے لیکن یقینا ہمارے پروردگار اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے علم میں موجود ہے ۔ غور کیجئے کہ انسان ہو یا حیوان جو کچھ وہ خوراک میں کھاتا ہے کہیں اس میں اس زندگی کے آثار بھی موجود نظر آتے ہیں جس زندگی سے اس کی نسل کے نئے انسان اور حیوان پیدا ہونا ممکنات میں سے ہو ؟ خوراک کی ایک ایک چیز پر غور کرتے جاؤ لیکن اس کے باوجود جب وہ انسانی یا حیوانی جسم کے اندر جاتی ہے تو وہاں اس پر کیا کیا کیمیاوی عمل ہوتے ہیں اور وہ کونسی لیبارٹریاں اللہ نے اس ساڑھے پانچ فٹ کے جسم کے اندر فٹ کردی ہیں کہ وہ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں اور اس خوراک کے اجزاء سے فضلات کو چھوڑ کر آنکھ اور کان کی میل سے لے کر بیسیوں اقسام کے وہ فضلات بھی تیار ہوتے ہیں جن کا اخراج قولون کے ذریعہ سے نہیں بلکہ دوسرے ذرائع سے ہو رہا ہے اور پھر صرف خون کے اجزاء ترکیب میں بیسیوں سے متجاوز کیمیاوی چیزوں کی افزائش ہو رہی ہے اور اس افزائش میں ایک جنسی خلیوں کی افزائش بھی موجود ہے اگر اس خون کے اندر موجود خلیوں ہی کو حاصل کرکے ان پر کوئی عمل جو تجربات سے ثابت ہوگا شروع کریں اور پھر ان میں وہ سیلز موجود نکل آئیں جن سے انسانی نسل کی افزائش ہوتی ہے تو اس میں کمال کس کا ہے اس نظام کے پیدا کرنے والے خدا کا یا فقط معلوم کرنے والوں کا ؟ تعجب ہے کہ جن لوگوں نے اس کو معلوم کیا ان کو داد دینے کے لئے تو دنیا جہان کے اخبارات اور دنیا جہان کے انسان اٹھ کھڑے ہوئے لیکن جس پروردگار حقیقی نے یہ سارا نظام قائم کیا ان خلیوں اور جینز کو پیدا کیا اور ان میں زندگی ونمو کی طاقت رکھی وہ سب کو بھول گیا اور کسی ایک کو بھی یاد نہ آیا کہ یہ کمال ان سائنس دانوں کا ہے تو صرف اس قدر کہ انہوں نے ایک چیز کو دریافت کرلیا ہے بلاشبہ یہ ان کا کمال ہے لیکن کمال اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا ہے جس نے اس سارے نظام کو چلایا اور ان سائنس دانوں کو پیدا کیا ‘ ان کو عقل عطا کی اور ایسے تجربوں کے لئے جان کھپانے کے لئے ان کو خاص کردیا جو ان کی اختیاری چیز نہیں ہے بلکہ وہ ان تجربوں ہی پر جان کھپانے کے لئے مجبور ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ انسان ہو یا حیوان اس کی دونوں اصناف کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دونوں ہی اصناف کی افزائش وپیدائش کا بندوبست کیا ہے جو فطرت کے مطابق ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی زبان اقدس سے جو بات ہمیں معلوم ہوئی وہ بھی یہی ہے کہ اس وجہ سے بچہ کی شکل کبھی ننھیال کی طرف مائل ہوتی ہے اور کبھی ددھیال کی طرف ، گویا ایک ہی صنف کے دونوں سیلز کاملاپ بھی ممکن ہے لیکن یہ ملاپ اس تہیج کے نتیجہ میں ہوتا ہے جو دونوں اصناف کے ملنے کے نتیجہ میں معرض وجود میں آتی ہے لیکن سائنس نے وہ تہیج مصنوعی طریقہ سے پیدا کی اور مصنوعی طریقہ سے ان سیلز کو حاصل کرلیا ۔ غور کرو کہ یہ مصنوعی طریقہ کیا ہے ؟ اس فطری طریقہ کا بدل ۔ اخبار نے یہ لکھا کہ ” حقیقتا اس میں صرف مادہ بھیڑ کا میمیری سیل اور انڈہ لیا گیا اور نر بھیڑ کا پورے پیدائشی عمل میں کوئی رول نہیں تھا “ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے کیوں ؟ اس لئے کہ جس بھیڑ کو تجربہ کے لئے مختص کیا گیا وہ بھیڑ اس فطری یا مصنوعی طریقہ کی پیدائش تھی جس میں جنس کی دونوں اصناف کا تعلق موجود تھا لہذا اس بھیڑ کے اندر نر بھیڑ کا عمل داخل موجود ہے ہاں ! اس سے جو پیدائش ہوئی وہ اس عمل سے مستثنی قرار پائی اور اس مادہ بھیڑ سے اب ممیری سیل لیا گیا اور اس سے پیدئش کی گئی تو وہ بات صادق آئے گی جو اخبار نویسوں نے تحریر کی حالانکہ نہ تو ایسا ہوا نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے ۔ مزید غور کرو کہ وہ بھیڑ جس پر تجربہ کیا وہ کس کی تخلیق ہے ؟ اس بھیڑ کے اندر جو ایک باقاعدہ نظام چل رہا ہے جس سے وہ خوراک جو وہ کھاتی ہے اس پر عمل ہو کر مختلف قسم کی چیزیں جو اس کے جسم کے لئے ضروری ہیں تیار ہو رہی ہیں وہ کس نے تیار کی ہیں ؟ انہی ضروری چیزوں میں وہ سیلز اور انڈے بھی ہیں جن سے اس جنس کی پیدائش ہوتی ہے تو یہ سیلز اور انڈے کس نے تیار کئے ؟ پھر وہ عضو جو بھیڑ کے اندر پیدا کیا گیا جس کا نام او وری رکھا گیا وہ کس نے فٹ کیا ؟ پھر اس کا وہ عمل جس کو ایمبریو کے نام سے یاد کیا گیا وہ عمل کس نے اس میں رکھا ؟ جب کہ اور بھی بہت سے اعضاء اس بھیڑ کے اندر موجود تھے جو اپنا اپنا کام کر رہے ہیں ؟ اسلام کے پاس ان سارے سوالوں کا جواب مع شے زائد ایک اور صرف ایک ہے اور وہ ہے ” اللہ “ کہ اس نے یہ سب کچھ کیا۔ اس میں اگر سائنس دانوں کا کوئی کمال ہے تو فقط یہ کہ انہوں نے تجربات سے یہ معلوم کرلیا کہ اس بھڑکے کون کون سے عضو کا کیا کیا کام ہے جبکہ ان سائنس دانوں کا خالق بھی اللہ ہی ہے اور ان کو یہ عقل عطا کرنے والا بھی اللہ ہی ہے جس نے اس میں ان تجربات کی صلاحیت رکھی اور اس سارے کام میں غیر اللہ کی ایک چیز بھی موجود نہیں ہے ۔ افسوس کہ انسانوں نے اور خصوصا مسلمانوں نے اس مسئلہ کو اس طرح کیوں اچھالا اور قوم کو کیوں سیدھی راہ نہ دکھائی کہ اس میں اصل کمال کس کا ہے حالانکہ جہاں دوسری اقوام کے لوگ موجود ہیں وہاں مسلم قوم کے لوگ بھی تو آخر موجود ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام یعنی اس کائنات کی ایک ایک چیز کی ٹوہ اور کہنہ معلوم کرنے اصل حق تو مسلمانوں کا تھا لیکن بدقسمتی سے انہوں اس سے ایسا منہ موڑا کہ اس کی طرف بھول کر بھی دھیان نہ دیا لیکن بدقسمتی سے جس قوم نے اس کی ٹوہ اور کہنہ معلوم کرنے کی کوشش کی وہ اس نظریہ کی حامل نہ تھی کہ اس کائنات کے نظام کو کوئی باقاعدہ چلانے والا بھی ہے ‘ انہوں نے یہ سب کچھ اتفاق قرار دے کر اپنے علم کی بنیاد اتفاق پر رکھی گویا جن کے پاس صحیح نظریہ تھا ان کے پاس صحیح عمل نہ تھا اور جنہوں نے صحیح عمل کر دکھایا ان کے پاس اتفاق کے سوا کوئی نظریہ موجود نہ تھا ۔ اس لئے گویا کام جاری ہے لیکن جس انداز سے جاری ہے وہ انداز بلاشبہ اسلامی نہیں اگر وہ انداز بھی اسلامی ہوتا تو آج دنیا کی حالت یقینا اس سے مختلف ہوتی اور جو لوگ اس وقت شیر بنے ہوئے ہیں وہ یقینا بلیاں بھی نہ یقینا اس نظام کو تبدیل ہونا ہے اور ہم اس تبدیلی کی طرف رواں دواں ہیں فرق ہے تو یہ کہ یہ تبدیلی جزو نہیں اس لئے وہ نازاں ہیں کہ ہم نے یہ کردیا حالانکہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا مگر یہ کہ جو کچھ کیا وہ ہونے والے کام کی دریافت ہے کہ ہاں ! فی الواقع وہ ہو رہا ہے ، مسلمان قوم کو غیر مسلموں کی اس للکار کا دندان شکن جواب دینا چاہئے اور اس کائنات میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہئے تاکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے اس تخلیق کردہ نظام کی حقیقت کو وہ معلوم کر کے غیب سے استشہاد کی طرف لانے میں اپنا اہم رول ادا کریں اور اپنے فرض سے تساہل برت کر وہ اپنے آپ کو نکمے ثابت نہ ہونے دیں ۔ اللہ ہمسب کو صحیح معنوں میں سچے مسلمان بننے کی توفیق دے اور پالیا پالیا کی ہماری صداؤں کی باز گشت بھی اس دنیا میں سنائی دے ۔ تخلیق کے فطری طریقہ کی وضاحت عروۃ الوثقی میں ( سورة الحج) اور (سورۃ المؤمنون) میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ موجودہ خبروں میں کتنی صداقت اور کتنی حقیقت ہے ابھی اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہاں ! ہم یہ تحدی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جن خطرات کا اظہار کیا گیا ہے اور جس طرح قرآن کریم کی آیات کو مذاق کانشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ایسا یقینا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں لاریب ایک ذرہ برابر بھی شک نہیں اور اس کائنات کا نظام بھی چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ، جو اعلانات سائنس دانوں نے کئے ہیں وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے کیونکہ نہ تو یہ سائنس دان اس نظام سے باہر ہیں اور نہ ہی ان کے تجربات اس لئے جو نتائج بھی نکلیں گے وہ قرآن کریم کی راہنمائی کے خلاف نہیں ہوسکتے ، بلاشبہ نہیں ہوسکتے ، قرآن کریم کے نزول کے بعد آج تک زمانہ میں کتنی ترقیاں ہوئیں اور زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا لیکن ایک بھی ایسی چیز نہیں ہے جس نے قرآن کریم کے کسی ایک بنائے ہوئے طریقہ کو غلط ثابت کیا ہو ہاں ! مفسرین کی سمجھ میں ایک بات نہ آئی ہو اس لئے ان کی بیان کی تردید ہوجائے تو وہ قرآن کریم کی تردید نہیں بلکہ مفسرین کی تفہیم کی کمزوری تھی اور ایسی کمزوری اب بھی ثابت کی جاسکتی ہے لیکن قرآن کریم کے اصولوں کے خلاف کوئی چیز ثابث ہوجائے یہ ناممکنات ہی سے نہیں بلکہ قمسنعات سے ہے ، آپ آگے بڑھیں اور اپنے تجربات کو جتنا بڑھا سکتے ہیں بڑھائیں اسلام کی طرف سے کسی پر اس سلسلہ میں کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی ، ایک سچے مسلمان کو ان اخباری خبروں سے اتنا متاثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہئے ، ہاں ! مسلمان سائنس دانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی جگہ غیر مسلم سائنس دانوں کے تجربات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے خود تجربات سے ان باتوں کا دفاع کریں جن کی حقیقت افواہ کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ اس ایمان وایقان سے کام کریں کہ یہ نظام اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے اور اس کائنات میں جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہوگا وہ اس کی مرضی کے خلاف نہیں ہوسکتا اور قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اندریں وجہ ورڈ آف گارڈ (Word Of God) اور ورک آف گاڑد (Work Of God) میں اختلاف ممکن نہیں ہمیں ان خبروں کی صداقت اور اظہار کئے گئے سارے خدشات پر مشکوک نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم کو درون خانہ کی کیونکر ہو اطلاع جب ان کی انجمن سے ہمارا گزر نہیں ۔ ہر شخص لا رہا ہے وہاں سے نئی خبر صحت ہے کس خبر میں کسی کو خبر نہیں۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور (کافر) اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان اور کافروں نے تو اپنے رب کی طرف سے پیٹھ پھیرلی ہے

انفسی دلائل کے بعد انسانی حماقت کا بیان بڑا معنی خیز ہے : 55۔ گزشتہ دلائل آفاق اور دلائل انفس سے کیا ثابت ہوتا ہے کون نہیں جانتا ؟ بلاشبہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور انسانوں کو نفع ونقصان دینے والا صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے کہ وہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کائنات میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو اسے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جیسا کہ کافروں نے پہلے ہی اس کو پس ڈال دیا ہوا ہے ۔ اور اس مضمون کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس طرح دوسروں کو شریک وسہیم بنانے والے انسان جو حقیقت میں کافر ہیں گویا شیطان کی مددگار ہو رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شیطان کا ساتھی و مددگار ہوگا وہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارے گا ۔ (ظھیرا) ظہیر کے معنی مددگار کے بھی ہیں اور مظھوربہ کے بھی یعنی وہ اپنے رب کے سامنے ذلیل ہے گویا وہ پیٹھ کے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اور اب وہ اللہ کا نہیں بلکہ شیطان کا مددگار ہے ۔
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کو تو ہم نے صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

آپ ﷺ کو ہم نے خوشخبری دینے والا ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے : 56۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو ہم نے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور بلاشبہ یہی آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے آپ ﷺ نے اپنا کام کردیا تو اب ان کو ہدایت دینا یا ہدایت پر چلانا اور قائم رکھنا آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں اس لئے آپ ﷺ زیادہ متفکر نہ ہوں کہ کون کیا کرتا ہے اور کیا نہیں ؟ اس لئے کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری اس کے متعلق مطلق نہیں ہے۔ جو شخص آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا اپنا نقصان پھر جو شخص اپنا نقصان خود کرتا ہے اسکے لئے آپ ﷺ اس قدر متفکر کیوں ہوں ۔ اس طرح کی تسلی قرآن کریم میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو بار بار دی گئی لیکن آپ ﷺ کی طبیعت سے یہ فکر کبھی جدا ہوئی اور نہ ہی ہو سکتی تھی ۔
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ہاں ! یہ کہ تم میں جو کوئی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کر لے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر تو پیغام پر طلب نہیں کرتا : 57۔ قرآن کریم میں جتنے انبیاء ورسل کا ذکر کیا گیا سب سے اس بات کا اعلان کروایا گیا اور ہر ایک نے اس کا اعلان کیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے اس پیغام پر جو تم کو سنا رہا ہوں کوئی عوض طلب نہیں کرتا اور یہی بات نبی اعظم وآخر ﷺ سے بار بار کہلائی گئی چناچہ (ان اجری الا علی اللہ) کے الفاظ قرآن کریم میں 9 بار آئے ہیں یعنی یہ دین اسلام کی باتیں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں اور شب و روز اس میں مصروف ہوں ‘ تمہارے طعنے سن کر خاموش ہوجاتا ہوں ‘ تمہاری اذیت رسائیوں پر صبر کرتا ہوں تمہاری گالیاں سن کر دعائیں دیتا ہوں تو یہ سب کچھ اس لئے برداشت کر رہا ہوں کہ تم مجھے کوئی تنخواہ دیتے ہو اور میں اس لئے اس کو برداشت کر رہا ہوں کہ کہیں میری تنخواہ بند نہ ہوجائے ، غور کرو کہ دنیا کا وہ کونسا دکھ ہے جو تم نے مجھے نہیں دیا اور پھر میں نے اس کو برداشت نہیں کیا کیا میں نے پھر اللہ کا پیغام سنانا بند کردیا ؟ اگر نہیں تو یقینا میں سمجھتا ہوں اور میرا پختہ یقین ہے کہ میرا یہ اجر رب کریم کے ذمہ لازم ہے اور وہ مجھے یقینا عطا فرمائے گا کیونکہ اس کا بھیجا ہوا تمہارے پاس آیا ہوں چناچہ میرا اجر یقینا محفوظ ہے ۔ رہے تم تو تمہارے ہاں مجھے اتنا اجر ہی کافی ہے کہ تم اس پیغام کو قبول کرلو ۔ اس بات کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا : (آیت) ” حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم “۔ (التوبہ 9 : 128) ” وہ تمہاری بھلائی کا بڑا خواہش مند ہے وہ مومنوں کے لئے بڑا شفقت کرنے والا ‘ رحمت والا ہے ۔ “ اس لئے تمہارا حق قبول کرلینا تمہارا راہ ہدایت پر گامزن ہوجانا اور ہر طرف سے منہ موڑ کر تمہارا طالب حق تعالیٰ بن جانا ہی میری ان ساری جانکاہیوں اور جانفشانیوں ‘ دلگدازیوں اور ساری مشقتوں کا بہترین صلہ ہے ، سورة سبا میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ (آیت) ” قل ما سالتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید “۔ (سباء 34 : 47) ” تمہاری بھلائی کے سوا میں اور کچھ نہیں چاہتا ‘ میرا اجر بس یہی ہے کہ تم درست ہوجاؤ اور اللہ تعالیٰ بلاشبہ ہرچیز پر گواہ ہے ۔ “ اور یہ بات زیر نظر آیت میں ارشاد فرمائی گئی کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ہاں ! یہ کہ تم میں کوئی چاہے تو اپنے رب کی راہ اختیار کرے ۔ “ مزید وضاحت کے لئے عروۃ الوثقی میں سورة التوبہ کی آیت 128 کی تفسیر دیکھیں مزید وضاحت وہاں مل جائے گی ۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور آپ ﷺ اس { حَییٌّ وَ قَیُّوْمُ } پر بھروسہ رکھیے جسے کبھی موت نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہیے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے کو کافی ہے

اپنے رب پر بھروسہ رکھئے جو ” حی لا یموت “ ہے : 58۔ ” آپ اس حی وقیوم پر بھروسہ رکھئے جو کبھی نہیں مرے گا “ مطلب واضح ہے کہ اگر ان کافروں کو اپنی تعداد کی کثرت ‘ اپنے وسائل کی بہتات اور اپنے دوستوں کی امداد پر بھروسہ ہے تو کیا ہوا یہ سب چیزیں تو فانی ہیں ‘ ان میں آخر کونسی چیز ہے جس کو بقا حاصل ہے ۔ آپ ﷺ اس پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور جس کو کبھی موت نہیں آئے گی اور جس کا معین و مددگار اللہ تعالیٰ ہو یقینا ایک روز فتح ونصرت اس کے قدم چومے گی اور بلاشبہ نفع ونقصان کا خود مالک ہے ” اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے ، “ کیونکہ یہی دراصل حصول صبر و توکل علی اللہ کا وسیلہ ہے بلاشبہ باقی سب وسیلے فانی ہیں لیکن افسوس کہ لوگ فانی وسیلوں کی تلاش میں خاک چھانتے پھرتے ہیں اور اصل وسیلہ کی طرف جس کو کبھی فنا نہیں اس کی طرف کسی کو دھیان ہی نہیں جاتا ۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے وقت اچھی طرح خیال رکھو کہ جہاں کہیں بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کو صبروتوکل کی تلقین فرمائی گئی ہے وہاں زیادہ سے زیادہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور اہتمام صبر وصلوۃ ہی کی تلقین فرمائی گئی ہے ” وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے کو کافی ہے “ اس طرح آپ ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ اپنے مخالفین ومعاندین کا معاملہ رب العزت ہی کے سپرد کر دو وہ ان کے تمام جرائم سے پوری طرح باخبر ہے اور جب وہ ہر بات کی خبر رکھتا ہے تو ان کے ساتھ وہی کرے گا جس کے وہ سزاوار ہیں ۔ زیر نظر آیت اور اس مضمون کی دوسری آیات پر ان لوگوں کو بھی غور کرنا چاہئے جو ” عبد دیگر اور عبدہ دیگراست “ کے چکر میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے برباں سے برباں دل لوگوں کی بندگی کی نسبت بھی اپنی طرف ہی کرتا ہے کیونکہ وہی ہے جو ہر ایک کا خالق ومالک ہے اور ہی سب کاملجاوماوی ہے اور نیک وبد سب اس کے بندے ہیں ۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہ (ذات) جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چھ (اَدوار یعنی) دن میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا (وہ) رحمن (ہے) پس اس کے متعلق کسی باخبر سے پوچھنا چاہیے

وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کو چھ ادوار میں پیدا کرنے والا ہے : 59۔ زیر نظر آیت پیچھے تین بار گزر چکی ہے ‘ سورة الاعراف کی آیت 54 ‘ سورة یونس کی آیت 3 اور سورة ہود کی آیت 7 کے طور پر اور وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں اس لئے ان تینوں مقامات کو اب بھی دیکھ لیا جائے اس جگہ آیت کے آخر میں فرمایا (آیت) ” الرحمن فسئل بہ خبیرا “۔ ” وہ رحمن ہے پس اس کے متعلق کسی باخبر سے پوچھو “۔ یہ کن سے کہا جارہا ہے ؟ ظاہ رہے کہ خطاب عام مخاطبین سے ہے جن سے اوپر بحث چلی آرہی ہے اس لئے یہاں قابل غور ہے کہ جب سب کو کسی باخبر سے پوچھنے کا کہا جا رہا ہے تو اللہ سے بڑھ کر خبر رکھنے والا کون ہے ؟ اور بلاشبہ اس سے بڑھ کر اس کے متعلق کوئی دوسرا خبر نہیں دے سکتا کیونکہ وہی اپنی شئون و کمالات کو پوری طرح جاننے والا ہے ۔ (انت کما اثنیت علی نفسک) ” ہاں ! اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے دریافت کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ قرآن کریم کی آیات کو دیکھا جائے جو اس سلسلہ میں ہم کو خبر دیتی ہیں اور نبی اعظم وآخر ﷺ سے پوچھا جائے جو صحیح احادیث میں موجود ہے اور پھر قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی خود بھی وضاحت فرمائی ہے جہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم ولا ینبئک مثل خبیر “۔ (فاطر 35 : 14) ” اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے ۔ حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں خبر دار کے سوا کوئی دوسرا نہیں دے گا “۔ اس جگہ ” خبردار “ سے مراد کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے اور اس میں بھی مراد حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات والائے صفات ہے ۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہے ؟ کیا تم جس کو سجدہ کرنے کو کہو ہم اسی کو سجدہ کرنے لگیں اور اس سے ان کی نفرت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے

جب ان سے الرحمن کے لئے سجدہ کا کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ رحمن کون ہے ؟ : 60۔ الرحمن اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ناموں میں سے بہت سے ناموں کا استعمال مکہ والوں کے ہاں بھی ہوتا تھا لیکن (الرحمن) انہی ناموں میں سے ایک تھا جن کا استعمال ان کے ہاں نہیں تھا جب قرآن کریم میں (الرحمن) کا نام آیا تو قریش مکہ نے کہا یہ کوئی تمہارا دوسرا خدا ہے حالانکہ اسلام نے بار بار ایک اللہ ہونے کی تلقین فرمائی تھی اور ان کا اس طرح کہنا تجاہل عارفانہ تھا جیسا کہ بڑے لوگ گھمنڈ میں آ کر اس طرح کی باتیں کہہ دیا کرتے ہیں چناچہ فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ (وما رب العلمین) (الشعرائ 26 : 23) کفار مکہ کو رحمن کے نام سے ایک قسم کی چڑ تھی اور جب سے انہوں اپنی اس چڑ کا اظہار کیا تو اس کے بعد مکی سورتوں میں (الرحمن) کا لفظ بار بار استعمال ہوا اور ان کو بتایا کہ دراصل یہ نام تمہارے لئے بہت ہی برکتوں کا باعث ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص یا قوم کسی اچھی بات سے بھی چڑ کرے تو کرتی رہے اس بات کو محض اس لئے چھوڑ دینا کہ کوئی اس سے چڑ کھاتا ہے صحیح نہیں ہے ۔ وہ مصلحت اندیش جو لوگوں کی چڑ کے باعث حق کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں وہ بلاشبہ جاہل ہیں اگرچہ وہ دوسروں کو جاہل سمجھتے ہیں ۔ سورة بنی اسرائیل آیت 110 میں اس کی وضاحت گزرچکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں (الرحمن) کا لفظ زیادہ تر سورة مریم ‘ طہ ‘ الانبیاء ‘ الفرقان ‘ یسن ‘ الزخرف ‘ اور الملک میں آیا ہے اسی طرح الفاتحہ مع بسم اللہ دو بار ‘ البقرہ ‘ الرعد ‘ الشعراء النحل ‘ فصلت ‘ ق ‘ الرحمن اور الحشر میں ایک ایک بار آیا ہے اور النساء میں دو بار استعمال ہوا ہے اور اس طرح کل 57 بار مع سورة فاتحہ کی بسم اللہ کے استعمال ہوا ہے لیکن (الراحمین) کا لفظ بھی 6 بار اور (ارحم الراحمین) چار بار ذکر کیا گیا ہے ، انہوں نے کیا کہا کہ ہم رحمن کو اس لئے سجدہ کریں کہ تو نے ہم کو کہا ہے انہوں نے یہ بات نہایت ہی تحقیرانہ انداز میں کہی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ دراصل وہ خود حقیر تھے اور بڑا بنے بیٹھے تھے ۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

(بڑا ہی) برکت والا ہے وہ (اللہ) جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سورج اور نورانی چاند بنایا

برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے ہیں : 61۔ تصریف آیات کے مطابق مضمون کو استشہاد کے طور پر پھرایا جا رہا ہے کبھی آفاق اور کبھی انفس کی نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اور توحید الہی میں ان کو پیش کیا گیا ہے کبھی مجرد آسمان و زمین کی بات کی گئی اور کبھی پھر آسمان و زمین کے اندر جو نظام کا بندھن باندھا گیا ہے اس کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ، زیر نظر آیت میں پھر آیات آفاق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آفاق میں ذرا نظر دوڑاؤ اور دیکھو کہ آسمانوں میں جو برج ہیں وہ کس نے بنائے ہیں اور کیوں بنائے ہیں اس طرح اتنے بڑے سورج کو جو تمہاری زمین سے بھی بہت بڑا بتایا گیا ہے کس طرح قائم ہے اور اس سے کیا فوائد حاصل کئے گئے ہیں ‘ اسی طرح چاند کیوں ہے اور کیسے اس کو بنایا گیا ہے اور خصوصا چاند کے اس طرح ہلال ‘ قمر اور بدر ہونے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے اور اس طرح وہ کیوں نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے یہ نشانات کس طرح اپنے بنانے والے ‘ اپنے چلانے والے کا بول بول کر اقرار کر رہے ہیں لیکن اس کو وہی آنکھ دیکھتی ہے جو بینا ہو اور وہی کان سنتا ہے جو بہرا نہ ہوچکا ہو اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں علم کے رٹنے والے تو بہت ہیں لیکن سمجھنے والوں کی اتنی کمی ہے کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ، بروج کی مکمل وضاحت سورة الحجر آیت 16 کے تحت کردی گئی ہے وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے رات اور دن بنائے اس شخص کے لیے جو اللہ کی یاد (اپنے دل میں) رکھنا چاہے یا اس کا شکر ادا کرنا چاہے

دن رات کے آگے پیچھے آنے میں بہت سی نشانیاں رکھی گئی ہیں : 62۔ دن رات کے آگے پیچھے آنے اور دن کے رات میں تبدیل ہونے اور رات کے دن میں تبدیل ہونے میں کیا نشانیاں ہیں اور کیسے نشانیاں ہیں اس کا ذکر سورة البقرہ کی آیت 164 ‘ سورة آلعمران کی آیت 190 ‘ سورة یونس کی آیت 6 اور سورة المومنون کی آیت 80 میں گزر چکا ہے اس لئے بار بار اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں مذکورہ آیات کی تفسیر دیکھ لینا ہی کافی ہوگا ۔ زیر نظر آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں بلاشبہ نشانی ہے لیکن ہر ایک کے لئے نہیں صرف اسی کے لئے جو اپنے دل میں اللہ کی یاد رکھنا چاہے اور شکر ادا کرنا چاہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نشانیاں تو بہرحال اپنی جگہ نشانیاں ہی ہیں لیکن کونسی وہ آنکھ ہے جو اس کو دیکھتی نہیں اور کونسا وہ کان ہے جو گزرنے والے وقت کو کانوں سے سن نہیں رہا خصوصا آج کل جب کہ ہر کلائی پر گھڑی بندھی ہوئی ہے اور ہر گھر میں دیواروں پر کلاک آویزاں ہیں اور وقت ہے کہ نہایت تیزی سے گزرتا چلا جا رہا ہے ، معلوم ہوا کہ صحیح فائدہ اٹھانا انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے اور اس ارادے کے امتحان ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس پر اس کے اشرف المخلوقات ہونے کا انحصار ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ جو ئندہ یا بندہ ہوتا ہے حقیقت کو وہی حاصل کرسکتا ہے جو تلاش کرتا ہے اور دل میں حاصل کرنے کی تڑپ رکھتا ہے اور ایمان باللہ کا شوق دل میں پاتا ہے آنے والی آیات میں ایمان والوں کی نشانیوں کا ذکر کیا جارہا ہے ۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور اللہ کے (کامل) بندے وہ ہیں جو زمین پر منکسر المزاجی سے چلتے ہیں (بلاشبہ وہ دھیمی چال ہی ہو سکتی ہے) اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ (ان کو) سلام کردیتے ہیں

جو لوگ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جہالت کو ساتھ سلام کرتے ہیں : 63۔ زیر نظر آیت سے لے کر آخر سورت تک (عباد الرحمن) کے نشانات گنوائے گئے ہیں اور ان آیات میں سے اس پہلی آیت میں ان کی دو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اور قرآن کریم کی بلاغت کا اندازہ کیجئے کہ بندوں کو خاکساری کی تعلیم دینا مقصود تھی تو ان کو مخاطب کرتے ہوے فرمایا جا رہا ہے کہ ” رحمت والیے اللہ کے بندے “ گویا یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ جب رحمت اور مہروکرم والا ہے تو اس کے بندوں میں خلق خدا کے ساتھ تواضع وملنساری ظاہر ہونا ضروری ہے ، قرآن کریم میں تواضع اور خاکساری کے مختلف مظاہر بتائے گئے ہیں جن میں کچھ اس طرح ہیں کہ لوگوں سے بےرخی نہ کیجئے ۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلئے اور چال ڈھال میں غرور کا شائبہ نہ اپنائیے اور آواز میں سختی اور بھونڈا پن نہ رکھئے اور جا بجا قرآن کریم نے تواضع وخاکساری اور دنائت و پستی کا فرق بھی واضح کیا ہے اس کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے مثلا یہ کہ تواضع وخاکساری کا منشا یہ ہے کہ انسان میں کبر و غرور اور نخوت جیسے رذائل پیدا نہ ہوں اور ہر شخص ایک دوسرے کی عزت کرے اور دنائت و پستی کا مطلب یہ ہے کہ بعض ذلیل اغراض کے لئے انسان اپنی خوداری کھودے ، مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں پہلا نشان جو ان لوگوں کو بتایا گیا ہے اس میں خاکساری اور فروتنی کی صورت یہ بتائی گئی کہ ان کی رفتار دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ وقار ومتانت کا ایک پیکر چلا آرہا ہے جس میں نہ غرور ہے اور نہ رعونت ‘ نہ چال کا اتار چڑھاؤ بلکہ وہ سبک رفتار ہیں اور ان کے گزرنے سے کسی کو ان سے کوئی تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہیں اور بلاشبہ وہ اہلا وسہلا مرحبا کے مستحق ٹھہرتے ہیں کیونکہ انکو ایسے کہنے میں کسی کو کوئی تکلف نہیں کرنا پڑتا۔ عبادالرحمن کی دوسری نشانی یہ بیان فرمائی گئی کہ ان کو جب جاہلوں سے واسطہ پیش آتا ہے اور وہ اپنی جہالت کا کوئی مظاہرہ کردیتے ہیں تو وہ جوابی کاروائی میں غصہ سے لال پیلے نہیں ہوجاتے بلکہ اس کو بڑے دل گردے کے ساتھ برداشت کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو ترکی بہ ترکی جواب بھی نہیں دیتے اور ان کو سات سلام کہتے ہوئے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ گویا کوئی بات جہالت کی ان کے ساتھ نہیں ہوئی ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ خوش گوئی اور خوش کلامی آپس میں میل ملاپ پیدا کرتی ہے اور بدگوئی اور بدکلامی پھوٹ پیدا کرتی ہے اس لئے بدکلامی شیطان کا فعل ہے وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں غصہ ونفرت اور حسد وبغض کا بیج بوتا ہے اس لئے اللہ کے بندے ہمیشہ نیک بات کہتے ہیں اور اگر دوسری طرف سے کوئی بری بات سنتے ہیں تو جواب نہیں دیتے بلکہ خاموش اختیار کر جاتے ہیں اگر جواب دینا ضروری ہو تو سختی سے نہیں نرمی سے حقیقت حال کہہ دیتے ہیں اور اس میں بھی ان کا لہجہ نہایت محتاط ہوتا ہے خیال رہے کہ یہ بات جتنی کہنا آسان ہے اتنی ہی کرنا مشکل ہے اس لئے اس میں کہنے سے زیادہ کرنے کا خیال رکھنا اور بھی ضروری ہے اور یہ یاد رکھنا کہ نیکی کے عوض میں کی گئی نیکی نہیں بلکہ برائی کے مقابلہ میں کی گئی نیکی حقیقی تصور کی جاتی ہے ۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور یہ وہ ہیں جو اپنے رب کے سامنے سجدہ اور قیام کی حالت میں راتیں بسر کرتے ہیں

وہ لوگ جو اپنے رب کے سامنے سجدوں میں راتیں گزراتے ہیں : 64۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی راتیں شراب خانوں ‘ نشاط خانوں ‘ سینموں اور ناچ گھروں میں نہیں گزرتیں اور نہ ہی یہ لوگ دیر تک راتوں کو ٹیوی ‘ وی سی آر اور ناچ گانوں میں گزارتے ہی اور نہ ہی ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ہیں بلکہ ان کی راتیں قیام و سجدہ میں گزرتی ہیں گویا اگر ان کے پاس کچھ بھی وقت نیند سے زائد ہو تو وہ رات کے نوافل میں خرچ کرتے ہیں اور اس طرح خاموشی کے ساتھ کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اگر زیادہ نہ ہو سکے تو رات کو عشاء کی نماز کے بعد جلد سونا اور طلوع فجر کے ساتھ ہی بیدار ہوجانا وہ اپنا معمول بناتے ہیں اور بلاشبہ یہ بات طب اور حفظان صحت کے لئے بھی نہایت ضروری ہے اس لئے وہ ہر حال میں اس عادت کو اپنانے میں اپنا زور صرف کرتے ہیں اور نماز کی حفاظت کرنے کے لئے وہ اس اصول کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتے ظاہر ہے کہ جب تک رات کے وقت جلدی سویا نہ جائے صبح جلدی آنکھ نہیں کھل سکتی اس لئے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ نے بھی رات کو نماز عشاء کے بعد بیکار باتیں کرنے سے اور قصہ کہانی کہنے سے منع فرمایا ہے تاکہ وقت پر سونے سے وقت پر آنکھ کھل سکے اور صبح خیزی مسلمانوں کی عادت ہوجائے اور صبح کو مؤذن کی پر تاثیر آواز ان کو بےتابانہ اپنے خواب بستر سے اٹھا دے یہ اس جگہ عباد الرحمن کی تیسری نشانی اور پہچان کرائی گئی اور رات کو آخرت کے خوف سے آنکھ کا نمناک ہوجانا اور جسم کا سجدہ میں گر جانا وہ تاثیر رکھتا ہے جس کو قلم بیان نہیں کرسکتا ۔
Ayah 25:65

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور یہ وہ ہیں جو دعائیں مانگتے رہ گئے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے دوزخ کے عذاب کو دور ہی رکھ بلاشبہ اس کا عذاب تو ہمیشہ کی تباہی ہے

وہ لوگ بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام مناجات کرتے ہیں : 65۔ بلاشبہ یہ لوگ صوم وصلوۃ کے پابند ‘ زکوۃ وحج کے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ راتوں کو بھی یاد الہی میں قیام و رکوع اور سجدے کرے ہیں گویا ہر طرح کی عبادت کرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو لغزش سے مبرا اور پاک وبے عیب نہیں سمجھتے بلکہ ان کو ہر وقت یہ خوف لگا رہتا ہے کہ ان کو جس طرح عبادت کرنا چاہئے ویسے نہیں کرسکے کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر یا ان کی قوم پر نہ آدھمکے وہ بار بارگاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے عذاب جہنم دور فرما دے کیونکہ تیرا عذاب ایک بہت بڑی بھاری مصیبت ہے (غرم) قرض ‘ تاوان اور ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کو ادا کرنا لازم ہو غریم قرض دار اور قرض خواہ دونوں کو کہتے ہیں ۔ (منتہی الارب) (غراما) اسم فعل پہیم تکلیف اور ہلاکت کا نام ہے ، مطلب ومفہوم آیت کا یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو احکام الہی بجا لانے اور شب وروز یاد خداوندی میں بسر کرنے کے باوجود کبھی اپنی ریاضت وطاعت پر دل میں گھمنڈ پیدا نہیں کرتے اور بڑی عاجزی سے اپنی مغفرت اور بخشش کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں اور غفلت میں وقت ضائع نہیں کرتے ۔
Ayah 25:66

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے کے لیے بری جگہ اور رہنے کے لیے برا ٹھکانہ ہے

وہ کہتے ہیں کہ دوزخ بلاشبہ ٹھہرنے کی ایک بہت بری جگہ ہے : 66۔ قرآن کریم میں جب وہ دوزخ کی صفات کو پڑھتے ہیں تو ان کا دل یقین کر گیا ہے کہ بلاشبہ دوزخ ایک بہت ہی بری جگہ کا نام ہے اس لئے وہ بار بار اللہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم کو اس کی لپیٹ سے بچا لیجئے اور اس سے دور ہی رکھئے ، دوزخ کیا ہے ؟ بلاشبہ وہ ایک شفاخانہ ہے لیکن شفاخانہ میں کون جاتے ہیں ؟ وہی جو بیمار ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اے اللہ مجھے صحت عطا فرمائے رکھ اور مجھے بیمار نہ فرما تاکہ آپریشن کی صعوبتیں سہنا نہ پڑیں اور اے اللہ مجھے اپنی امان میں رکھ دعا صحیح نہیں ہے ؟ کیوں نہیں بلاشبہ ایک صحت مند کو بھی صحت کے برقرار رہنے کی دعا کرتے ہی رہنا چاہئے کہ ہمیشہ کہ سکھ کے ساتھ دیکھ بھی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دکھ سے بچائے ، پھر اگر ساری زندگی شفاخانہ ہی میں گزرے تو کیا اس سے بڑی صعبوت بھی کوئی اور ہے ۔