25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو غرق کردیا اور ان کو دنیا کے لیے ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

قوم نوح نے رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے انکو بھی غرق کر کے رکھ دیا : 37۔ قوم نوح قوم موسیٰ سے مدتوں پہلے کی تھی تاہم قرب کے باعث پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کیا گیا اور اب نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ قریش مکہ کو سنایا جا رہا ہے کہ غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل قوم نوح بھی ہمارے رسولوں کی مخالفت کی تھی اور ان کی یہ مخالفت ایک مدت مدید تک جاری رہی اور انجام کار ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور آپ پر ایمان لانے والے چند معدودے آدمیوں کو کشتی نوح میں سوار کرکے بچایا اور باقی ساری قوم کو غرق کرکے رکھ دیا اور اس طرح ان ظالموں کو دردناک عذاب میں مبتلا کر کے ختم کردیا ، ہم نے یہ کیوں کیا ؟ کیا ان سے ہمارا کوئی خاص بیر تھا ؟ ہرگز نہیں بلکہ انہوں نے ہمارے رسولوں کی مخالفت کی اور پھر مخالف میں ایسے ڈٹے کہ مدت تک انکو جو ڈھیل دی گئی تھی اس سے کچھ بھی انہوں نے فائدہ حاصل نہ کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو غرق کردیا گیا اور بالکل اسی طرح تم لوگوں نے بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی قسم کھا رکھی ہے اور انجام تمہارا بھی یہی ہوگا جو ان کا ہوا ۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد وثمود اور اصحاب الرس اور ان کے درمیان بیشمار امتوں کو (ہلاک کیا گیا)

عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے درمیان کتنی قومیں ہلاک کی گئیں : 38۔ قوم عاد اور قوم ثمود بھی قرآن کریم کی بیان کردہ اقوام میں سے بڑی اہم قومیں تھیں اور اسی طرح اصحاب الرس کو بھی اس زمین پر اللہ نے ایک وقت بہت بڑا اقتدار دیا تھا اور انکے درمیان بھی بہت سی اقوام گزر چکی ہیں ان سب کا رعب ودبدبہ اپنے اپنے وقت میں ضرب المثل رہا لیکن جب ان کے ختم ہونے کا وقت آیا تو اچانک ان کو اللہ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس طرح ملیامیٹ کیا کوئی نام لینے والا بھی باقی نہ رہا جب ان سب کے ساتھ ایسا ہوچکا تو آخر تمہارے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ؟ تم کو ابھی وقت دیا جارہا ہے اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ گے تو تمہارا فائدہ ہوگا ورنہ ان گزشتہ قوموں کی طرح تم کو بھی نیست ونابود کر کے رکھ دیا جائے گا ۔ اصحاب الرس کون تھے ؟ اس میں لوگوں نے اختلاف کیا اور جو کچھ ہم کو معلوم ہوا وہ پیش خدمت ہے : اصحاب الرس کے متعلق واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کون تھے ؟ اصحاب الرس کا ذکر قرآن کریم میں دو بار آیا ہے ایک اس جگہ زیر نظر آیت میں اور دوسری جگہ سورة ق کی آیت 12 میں اور سورة ق میں قوم نوح کے بعد اور ثمود وعاد سے پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس جگہ قوم نوح اور قوم عاد وثمود کے بعد اس کا ذکر کیا گیا ہے اندریں وجہ ان کے زمانہ کا تعین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں کیا جاسکتا اور ویسے ہی قرآن کریم قصص کا ذکر الترتیب نہیں کرتا بلکہ تذکیر کے طور پر جہاں جس کا ذکرمناسب سمجھتا ہے کردیتا ہے مورخین نے جو تحقیق کی ہے اگر اس پر بحث کی جائے تو ہر ایک کی تحقیق کی مشکوک کہا جاسکتا ہے اس لئے صحیح اور واضح یہی ہے کہ انکے زمانہ کا تعین نہایت مشکل ہے البتہ تقریبا 630 ق م کہا جاسکتا ہے ۔ ” رس “ لغت میں پرانے کنوئیں کو کہا جاتا ہے اس لئے (اصحاب الرس) کے معنی پرانے کنوئیں والے لوگوں کے کئے گئے ہیں جیسا کہ زیرنظر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی طرف بھی کوئی رسول بھیجا گیا اگرچہ اس نبی کا نام واضح نہیں اور اس قوم نے بھی گزشتہ دوسری قوموں کی طرح اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان کو اس تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا گیا جس طرح قوم نوح ‘ ثمود اور عاد کو ہلاک کیا گیا تھا فرق ہے تو صرف یہ کہ باقی قوموں میں جن کے نام لئے گئے ان کے نبیوں کا حال بھی کچھ نہ کچھ معلوم ہے اس لئے ان کا زمانہ بی متعین کیا گیا ہے ان کے نبی ورسول کا نام بھی وضاحت کے طور پر نہیں لیا گیا اس لئے اس کا زمانہ بھی متعین نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن زیر نظر آیت میں (آیت) ” وقرونا بین ذلک کثیر “ ‘ کے الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب الرس کے آگے بیچھے اور بھی بہت سی اقوام گزر چکی تھیں اور انہوں نے بھی اپنے اپنے ادوار میں اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی تھی اور ان کو بھی اسی طرح ہلاک کیا گیا تھا اگرچہ ان اقوام کا ” اصحاب الرس “ کی طرح کوئی نام بھی قرآن کریم نے ذکر نہیں کیا اور تاریخ نے بھی ان اقوام عالم کے ناموں اور ان کی تفصیل کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے دور متعین کئے ، البتہ جو کچھ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ ان کا زمانہ مسیح (علیہ السلام) سے بہرحال پہلے کا ہے مسیح (علیہ السلام) کے بعد کا نہیں۔ 1۔ ابن عساکر کے قول کے مطابق اصحاب الرس کا زمانہ عاد سے بھی صدیوں پہلے کا ہے ، ان کے ہاں اللہ تعالیٰ نے حنظلہ بن صفوان کو رسول بنا کر مبعوث کیا تھا انہوں نے ان کو دین کی تبلیغ کی مگر اصحاب الرس نے حق کو قبول نہ کیا اور اپنے رسول حنظلہ بن صفوان کو قتل کردیا اور اسی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا لیکن اس سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ ان کو کنوئیں والے کیوں کہا گیا اور یہ نسبت اس واقعہ کے ساتھ کیا نسبت رکھتی ہے ، ملخص تاریخ ابن کثیر جلد اول۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے بروایت عبداللہ بن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ آذر بائی جان کے قریب ایک کنواں تھا یہ قصہ چونکہ اس سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہاں کے بسنے والے اصحاب الرس کہلائے ، عکرمہ نے کہا کہ اس کنوئیں کے قریب آباد قوم نے اپنے نبی کو چونکہ اس کنوئیں میں ڈال کر زندہ دفن کردیا تھا اس لئے ان کو اصحاب الرس کہا گیا ۔ تاریخ ابن کثیر ج اول۔ 3۔ قتادہ (رح) کا بیان ہے کہ یمامہ کے علاقہ میں فلیح نام کی ایک بستی تھی اور اصحاب الرس وہی آباد تھے اور یہ اور اصحاب القریہ جن کا ذکر سورة یس میں کیا گیا ہے ایک ہی ہیں کیونکہ یہ مختلف نسبتوں سے پکارے جاتے ہیں ۔ تاریخ ابن کثیر ج اول۔ 4۔ ایک روایت عکرمہ سے اس طرح کی بھی مشہور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن ابی حاتم اور عکرمہ دونوں کی روایت کا ایک ہی مطلب ہے اگرچہ یہ دونوں رائیں بھی مشکوک ہیں اس لئے کہ قرآن کریم نے اصحاب القریہ اور اصحاب الرس دونوں کا تذکرہ جدا جدا کیا ہے دونوں تذکروں میں کسی ایک جگہ بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ یہ دونوں قومیں ایک ہیں اور اگر بات اسی طرح ہے تو اصول بلاغت کے خلاف ہے کہ ایک ہی قوم کو جدا جدا نسبتوں اور کیفیتوں کے ساتھ بیان کیا جائے اور ان میں سے کسی ایک میں بھی یہ اشارہ موجود نہ ہو کہ یہ مختلف نسبتیں اور تعبیریں ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ بات اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ یہ تفسیر نبی اعظم وآخر ﷺ یا کسی دوسرے اس قوم کے بعد کے نبی ورسول کی بیان کردہ نہیں اور تاریخی حیثیت میں اس کا ماخذ بھی معلوم نہیں البتہ ان دونوں قوموں کو الگ الگ قوم ماننے کے لئے بطور واصل یہ موجود ہے کہ اصحاب الرس کا تعلق قبل مسیح کی اقوام سے ہے اور اصحاب القریہ یقینی طور پر مسیح (علیہ السلام) سے بعد کی قوم ہے اس کی تفصیل عنقریب آئے گی ۔ 5۔ ابوبکر عمر بن حسن نقاش اور سہیل کہتے ہیں کہ اصحاب الرس کی آبادی میں ایک بہت بڑا کنواں تھا جس کے پانی سے وہ لوگ پانی پیتے تھے اور کھیتی کو چلانے کا کام لیتے تھے اور اس بستی کا بادشاہ بہت ہی عادل تھا اور لوگ بھی اس سے بیحد محبت کرتے تھے اس کا جب انتقال ہوگیا تو اہل شہر اس کی موت سے سخت غمگین اور حزین تھے کہ ایک دن شیطان اس بادشاہ عادل کی شکل میں ظاہر ہوا اور اہل شہر کو جمع کرکے تقریر کی کہ میں سے کچھ دنوں کے لئے جدا ہوگیا تھا ‘ مرا نہیں تھا اب آگیا ہوں اور ہمیشہ زندہ رہوں گا لوگوں نے اس کی بات پر یقین کرلیا اور اس کی آمد پر ایک بہت بڑا جشن منایا تب شیطان نے ان کو حکم دیا کہ وہ مجھ سے ہمیشہ پس پردہ باتیں کیا کریں چناچہ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی اور وہ پس پردہ بیٹھ کر گمراہی پھیلانے لگا اس وقت بقول سہیل صاحب ” روض الانف “ ایک شخص حنظلہ بن صفوان کو خواب میں بتا دیا گیا کہ ان کو اس آبادی میں راہ ہدایت دکھانے کے لئے پیغمبر بنا دیا گیا ہے ۔ صفوان نے ان کے پاس جا کر توحید الہی کا درس دیا اور شرک سے اجتناب کی تلقین کی اور ان لوگوں کو بتایا کہ یہ تمہارا بادشاہ نہیں ہے بلکہ یہ تو پس پردہ شیطان ہے تو لوگوں کو اس کی یہ بات سخت ناگوار گزری اور بجائے اس کے کہ وہ اس کی بات مانتے اور حق کو قبول کرتے اس پیغمبر پر حملہ کرکے اس کو قتل کردیا اور اس المیہ کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انکو ہلاک کردیا اور اس طرح کل جس بستی میں چہل پہل تھی اور باغات اور نہروں سے گویا جنگل میں منگل ہو رہا تھا آج وہ جل بھن کر چٹیل میدان ہو کر رہ گئی جس میں کتوں ‘ شیروں اور بھیڑیوں کے مسکن کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔ یہ روایت پہلی روایتوں سے بڑی اور مفصل ہے تاہم اصول روایت ودرایت کے لحاظ سے سخت ساقط الاعتبار ہے اور ایک من گھڑت داستان کے سوا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے (البدایہ والنھایہ جلد اول) 6۔ محمد بن کعب قرضی فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ان اول الناس یدخل الجنۃ یوم القیمۃ العبد الاسود “۔ (جنت میں سب سے پہلے جو شخص داخل ہوگا وہ ایک سیاہ فام غلام ہوگا) کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی میں اپنا پیغمبر بھیجا مگر اس کو اس کالے کلوٹے غلام کے سوا کسی نے بھی نبی تسلیم نہ کیا اور اس کے سوا ایک بھی ایمان نہ لایا پھر اہل شہر نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نبی کو ایک کنوئیں میں بند کردیا اور اس پر ایک بہت بھاری اور وزنی پتھر رکھ دیا تاکہ اس کو کوئی کھول نہ سکے اور یہ نبی اس طرح سسکیاں لیتے لیتے اس میں مرجائے لیکن یہ سیام فام شخص بہت قوی ہیکل تھا وہ جنگل کی طرف جاتا وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا ‘ بازار میں فروخت کرتا اور انکی قیمت سے کھانا خرید کر روزانہ کنوئیں پر پہنچ کر پتھر کو ہٹاتا اور اللہ کے رسول کی خدمت میں کھانا پہنچاتا کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پر جنگل میں نیند طاری کردی اور یہ چودہ سال تک اس حالت میں سویا پڑا رہا ادھر یہ ہوا لیکن ادھر دقوم وک اپنی اس نازیبا حرکت پر افسوس آیا اور انہوں نے اس رسول اللہ کو کنوئیں سے نکال لیا اور توبہ کر کے اس پر ایمان لائے اور اس مدت کے اندر اس پیغمبر کا انتقال ہوگیا ۔ چودہ سال کے بعد جب وہ غلام جاگا تو اس نے سمجھا کہ میں چند گھنٹے سویا ہوں جلدی سے لکڑیاں چن کر شہر پہنچا دیکھا تو حالات بدلے ہوئے تھے دریافت کیا تو سارا قصہ اس کو معلوم ہوا اور اس غلام کے متعلق نبی اعظم وآخر ﷺ کا یہ ارشاد ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ۔ مروج الذھب ص 586 حاشیہ الکامل جلد اول۔ معلوم رہے کہ یہ روایت اپنی سند کے لحاظ سے بھی قابل جرح ہے اور درایت کے اعتبار سے بھی چناچہ محدثین کہتے ہیں کہ یہطویل داستان خود محمد بن کعب کی جانب سے ہے جس کو انہوں نے اسرائیلیات سے اخذ کیا ہوگا بلاریب نبی اعظم وآخر ﷺ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ (ارض القرآن ج 2 ص 56) علاوہ ازیں قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ” اصحاب الرس “ بھی ہلاک شدہ قوموں میں سے ہیں اور یہ روایت اس کے خلاف ہے جو ان کو نجات یافتہ بیان کرتی ہے اس لئے قطعا غلط ہے اور روایت کا وہ جملہ جس میں عبد اسوس کا ذکر ہے اگر وہ ثابت بھی ہوجائے یعنی اس روایت کے علاوہ وہ موجود ہو تو بھی اس کا تعلق اصحاب الرس کے واقعہ سے نہیں ہوگا ۔ 7۔ مورخ مسعودی کہتے ہیں کہ اصحاب الرس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک ہیں اور یہ دو قبیلے تھے ایک قیدماں یا قید ماہ اور دوسرا یامین یا رعویل اور یہ یمن میں آباد تھے ، لیکن مسعودی نے صرف اس قدر تعارف پر اکتفا کیا ہے اور تاریخی حیثیت سے نہیں بتایا کہ وہ کن وجوہ کی بنا پر قید ماہ اور رعویل کو اصحاب الرس کہتا ہے اور ان کو ” رس “ کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ یہ صحیح ہے کہ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں میں سے ایک کا نام قیدماہ بھی ہے لیکن توراۃ اور تاریخ دونوں اس بات سے خاموش ہیں کہ اس کی اولاد کو اصحاب الرس بھی کہا جاتا ہے لہذا مسعودی کا قول دلیل کا محتاج ہے تاہم صاحب ارض القرآن سلیمان ندوی (رح) نے صرف اس بنا پر کہ مسعودی نے اپنی رائے تذبذب اور تردد کے ساتھ بیان نہیں کی اس قول کو ترجیح دی ہے ۔ (الرض القرآن ج 2 ص 56) 8۔ مصر کے ایک مشہور معاصر عالم فرج اللہ زکی کردی کہتے ہیں کہ لفظ رس ” ارس “ کی تخفیف ہے اور یہ اس مشہور شہر کا نام ہے جو قفقاز کے علاقہ میں واقع ہے اس وادی میں اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کو مبعوث فرمایا جس کا نام ابراہیم زردشت تھا انہوں نے اپنی قوم کو دین حق کی دعوت دی مگر قوم نے انکار کیا اور ان کی دعوت و ارشاد کے مقابلہ میں اور زیادہ سرکشی اور بغاوت اختیار کرلی چناچہ قوم نے اس کی سزا پائی اور ہلاک کردی گئی اس کے بعد ان کی دعوت کا میدان عمل اس مخصوص علاقہ قفقاز یعنی آذربائی جان سے کل ایران تک وسیع ہوگیا ۔ زردشت کا صحیفہ اگرچہ محرف ہوچکا ہے مگر اس کا ایک حصہ اب بھی قدیم فارسی مکتوب میں موجود ہے (مراد اس سے اوستا کی جانب اشارہ ہے) اور اس صحیفہ میں اب بھی نبی کریم ﷺ کی بعثت اور دین اسلام کی بشارت کا ذکر پایا جاتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے : ” عنقریب عرب میں ایک ” نبی عظیم “ مبعوث ہوگا اور جب اس کی شریعت پر ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جائے گا اور دوسرا ہزار شروع ہوگا تو اس دین میں ایسی باتیں پیدا ہوجائیں گی کہ یہ پہچاننا مشکل ہوجائے گا کہ کیا یہ دین وہی دین ہے جو اپنے قرن اول میں تھا (یعنی بدعات واہوا اور رسوم قبیحہ پیدا ہوجائیں گی ) ۔ “ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زردشت (علیہ السلام) کی اصل تعلیم حق ہی تھی اور اسی لئے انہوں نے بعثت محمد ﷺ کی بشارت دی اور بعض ایسی تفصیلات کا بھی ذکر کیا جو آج حرف بحرف صحیح ثابت ہو رہی ہیں مگر دوسرے ادیان وملل کی طرح ان کی متبعین نے بھی اس تعلیم حق کو مسخ ومحرف کر ڈالا اور ان کے متبعین مجوسی پارسی اب بھی ایران اور ہندو پاک میں پائے جاتے ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر ج 2 ص 42 ‘ 43 مختصرا) علامہ زکی کے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ کتب تفسیر میں ایک قول ابن عباس ؓ سے بھی منقول ہے کہ اصحاب الرس آذر بائی جان کے قریب ایک کنوئیں کی نسبت سے مشہور تھے لہذا ممکن ہے کہ یہ ” ارس “ ہی سے مراد ہو جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ۔ اس مسئلہ میں قول فیصل یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ یقینا حضرت مسیح (علیہ السلام) سے قبل ہو گزرا تھا اس لئے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کے زمانہ کی کسی قوم کا تذکرہ ہے یا کسی قدیم الہند قوم کا بہرحال یہ آخری بات جو معاصر مورخ فرج اللہ زکی کردی نے کہی ہے وہ زیادہ دل کو لگتی ہے اس لئے ہم اس کو ترجیح دیتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم کا جو مقصد موعظت و عبرت ہے وہ اپنی جگہ صاف اور واضح ہے اس لئے ایک عبرت نگاہ اور گوش حق نیوش کے لئے یہ کافی وشافی ہے کہ جو قومیں اس دنیا میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے پیغام حق کو ٹھکراتی اور اس کے خلاف بغاوت وسرکشی کا علم بلند کرتی رہی ہیں اور مسلسل مہلت اور ڈھیل دینے کے باوجود وہ اپنی متکبرانہ اور مفسدانہ زندگی کو ترک کر کے صالح اور پاک زندگی بسر کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئیں پھر ان پر جب رب العزت کی سخت گرفت اور بطش شدیدہ آجاتی ہے اور وہ بےیارومددگار ہلاک وبرباد کردی جاتی ہیں ۔ اس سے مسلمانوں کو درس عبرت حاصل کرنا چاہئے اور یہی مقصد ہے ان قصص کے بیان کا لیکن افسوس کہ اس وقت ہم میں ایسے بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان قصص سے درس عبرت حاصل کریں اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے مثالیں ہر ایک کے لیے بیان کیں اور سب کو نیست و نابود کر ڈالا

ہم نے سب کے سامنے اس طرح کی مثالیں پیش کیں لیکن انہوں نے ان پر کان نہ رکھا : 39۔ مطلب یہ ہے کہ قوم کو سمجھانا مقصود تھا ہم نے اس کے سامنے اس قوم سے پہلے گزرنے والی قوموں کی تباہی و بربادی کی مثالیں دے دے کر سمجھایا لیکن ان میں بہت کم قومیں ایسی تھیں جنہوں نے اس کو سمجھا لیکن زیادہ قوموں اور قوموں میں سے زیادہ تر لوگوں نے اس سننے کو ان سنا کردیا اور گزشتہ قوموں کی نقل میں وہی کیا جو گزشتہ قومیں کرتی آرہی تھیں لیکن اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ بلاشبہ نتیجہ بھی وہی رہا جو گزشتہ قومیں دیکھ چکی تھیں کہ ان کو بھی صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بستی کے پاس سے گزرتے رہتے ہیں جس پر برا مینہ برسایا گیا تھا کیا یہ اس کو دیکھتے نہیں رہتے ؟ لیکن بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز پھر جی اٹھنے کی توقع نہیں رکھتے

بری بارش برسائی گئی بستی پر یہ لوگ اکثر گزرتے ہیں لیکن درس عبرت نہی لیتے : 40۔ قوم لوط کی بسیتوں کا ذکر پیچھے کئی مقامات پر گزر چکا ہے انہیں بستیوں کی معروف وہ بستی تھی جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور اہل مکہ کی متنبہ کیا گیا ہے کہ جب تمہارے تجارتی کارواں شام کی طرف جاتے ہوئے اس راستہ سے گزرتے ہیں جو راستہ سدوم کی ان بستیوں میں ہوتا ہوا گزرتا ہے اور اس کے نواح میں ان اجڑی پڑی بستیوں کے نشانات پر انکی نظر پڑتی ہے جہاں کبھی لوط (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی تو کیا ان کے روئیں کھڑے نہیں ہوتے اور ان کے دلوں میں کبھی خطرہ پیدا نہیں ہوا کہ وہ بھی اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں جس طرح کی حرکتیں یہ قوم کیا کرتی تھی تو کیا ان کا انجام ویسا نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ بھی کہ جس طرح ان بدکاروں کی بدکاریوں کے باعث ان کے علاقوں کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا گیا کیا مکہ والوں کے ان جرائم کے باعث ان کے علاقوں کو اس طرح تہس نہس نہیں کیا جاسکتا ؟ کیوں نہیں یقینا ان کو بھی ایسی صورت حال سے واسطہ پڑ سکتا ہے پھر یہ لوگ اس سے کیوں سبق حاصل نہیں کرتے اور ان کے دل ان کھنڈرات کو دیکھ کر کیوں ڈر نہیں جاتے ، ان اجڑے ہوئے شہروں کو دیکھ کر ان کے دل خوف سے کیوں نہیں کانپ جاتے ‘ یہ کیوں ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے یہ گویا سوال تھا اور اس کا جواب بھی ارشاد فرمایا دیا کہ ایسا اس لئے ہے کہ قیامت کا چونکہ ان کو یقین نہیں ہے اس لئے اصلاح احوال کی انہیں قطعا فکر نہیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ بھی اپنی زندگی یہاں بسر کرچکے اور ان کو بھی ایک روز چلے جانا ہے اس زندگی کے بعد اور کوئی زندگی تو ہے نہیں اس لئے اس چند روزہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ جنتا لطف اٹھا سکتے ہو اٹھا لو ۔ ماہرین آثار قدیمہ نے آج تو اپنی کاوشوں سے ہزارہا سال سے مدفون بستیوں کو کھود کر نکال لیا ہے اور وہ ان اسباب کا تجزیہ کرنے میں بڑی مہارت کا ثبوت دے رہے ہیں کہ کونسی افتاد اس بستی پر پڑی جس کی وجہ سے یہ برباد ہوگئی ، ان تمام علمی کمالات کے باوجود انہیں اپنے عقائد واطوار کی اصلاح کا کبھی خیال تک نہیں آیا اس کی بھی دراصل یہی وجہ ہے جو زیر نظر آیت میں بیان کردی گئی گویا اصلاح احوال کے لئے آخرت پر ایمان بنیادی اہمیت کا حامل ہے اس کے بغیر اصلاح کی کوئی کوشش کامیاب اور دیرپا نہیں ہو سکتی ۔ اس وقت جو قومیں اس نظریہ کو بالکل مانتی ہی نہیں بلاشبہ وہ بھی موجود ہیں تاہم ایسے لوگ بھی موجود ہیں جیسے کہ ہم مسلمان کہ باوجود ظاہری طور پر ایمان رکھنے کے حقیقت ایمان سے بالکل کورے ہیں اور روز مرہ زندگی میں ہمیں جن واقعات سے واسطہ پڑتا ہے ان کو دیکھ کر بھی کبھی ہمارا ذہن میں اس طرف نہیں گیا بلکہ اس کو ہم اس طرح ہونا خیال کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور یہی کچھ ہورہا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا ، ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ ان لوگوں کے ذہن و دماغ میں فقط یہی زندگی ہے اور اخروی زندگی کا کوئی تصور ان کے ہاں سرے سے موجود ہی نہیں اس لئے وہ جواب دہی پر یقین نہیں رکھتے پھر جس شخص کو آخرت پر یقین نہیں وہ یہی کچھ کرے گا اور یہی کچھ کہے گا ۔
Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جب بھی آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو بس انہیں مذاق اڑانے سے کام رہتا ہے کیا یہی ہے جس کو رسول بنا کر بھیجا گیا

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو یہ لوگ دیکھتے ہیں تو مذاق کی راہ سے : 41۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو رسول منتخب کیا گیا اور آپ ﷺ پر قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گئی اور یہ دونوں چیزیں یعنی آپ ﷺ بھی اور اللہ کی کتاب بھی اللہ کا فضل ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے گویا ان لوگوں پر فضل کیا کہ آپ ﷺ جیسا رسول اور قرآن کریم جیسی کتاب ان کو مرحمت فرمائی لیکن ان کی بدبختی کی حالت یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو بےاختیار ان کو ہنسی آجاتی ہے اور پھر ہنستے ہی جاتے ہیں ‘ بھلا کیوں ؟ فقط اس لئے کہ ان کے ذہن و دماغ میں آپ ﷺ کا رسول بنایا جانا ہنسی کا باعث ہے اور دیکھتے ہی کہنے لگتے ہیں کہ اچھا یہ وہ آدمی ہے جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ‘ ایسا کیوں ہے ؟ دوسری جگہ وضاحت فرما دی گئی کہ ایسا اس لئے ہے کہ ان کے تخیل میں رسول تو اس کو بنایا جانا چاہئے تھا جو بہت بڑی زمینوں کا مالک ہوتا ‘ اس کے پاس باغات ‘ کو ٹھیاں ‘ فیکٹریاں اور محلات کی کثرت ہوتی اور ہر جگہ دربان مقرر ہوتے اور دروازوں اور راستوں پر سلامی دینے والے دستے موجود ہوتے اور آپ ﷺ کی زندگی پوری ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی ہوتی یہ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ تو نہ تیرہ میں ہے نہ تین میں ‘ اس کا باپ ہے نہ دادا ‘ یہ تو ایسا ہے کہ راستہ چلتے کو کوئی پوچھنے کیلئے تیار نہیں تو اس کو اللہ میاں نے نبی کیسے بنادیا ؟ فرمایا آپ کی نبوت کا چرچا جب سنتے ہیں اور پھر آپ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں تو انکو ہنسی آجاتی ہے اور پھر ایک دوسرے کو طنز وتحقیر کے لہجے میں پوچھتے ہیں کہ یہ صاحب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبی ورسول بناکر مبعوث کردیا ہے ؟ گویا نبوت کوئی ایسی چیز ہے جو ان کے مشوہر کے بعد دینی چاہئے تھی لیکن آپ ﷺ کو بغیر کسی کے مشورہ کے کیسے مل گئی ۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس نے ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا تھا اگر ہم ان پر جمع نہ رہتے اور عنقریب جب یہ عذاب دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ کون راہ سے بہکا ہوا تھا ؟

یہ اچھا نبی ہے جو ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردینا چاہتا ہے ؟ 42۔ اس نبی ورسول نے تو ہمیں تعلیم دی کہ نہ گھر کا چھوڑا نہ گھاٹ کا اگر ہم اپنے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں پر جمے نہ رہتے تو اس نبی ورسول نے تو ہم کو کب کا برگشتہ کردیا ہوتا ۔ اگر ہم تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتے تو اس شخص کا زور بیان اور طرز استدلال تو آج تک بہا کر ہمیں ساتھ لے گیا ہوتا اور اب تک ہم اپنے معبودوں سے دور چلے گئے ہوتے لیکن ہم تو بڑی مشکل سے ڈٹے رہے اس لئے اس کی زد سے بچے رہے اس طرح وہ گویا اپنے کم درجہ کے لوگوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ اس شخص کی باتیں تو بہت مؤثر ہیں جو دل میں جا لگتی ہیں اور دماغ کو فورا پکڑ لیت ہیں اس لئے اچھا ہے کہ تم نہ دل کی بات مانو اور نہ ہی اپنی عقل کا فیصلہ تسلیم کرو ورنہ تم اپنے قدیم آبائی مذہب سے ہاتھ دھو بیٹھو گے یاد رکھو کہ اس سے بچنے کی ایک اور صرف ایک ہی صورت ہے کہ اپنی آنکھیں بند رکھو اور اپنے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لو ” ہم نہ مانیں “ ” ہم نہ مانیں “ کو ورد زبان بنا لو اور آج بھی جب کوئی عقل وفکر کی بات کرے تو مذہبی پیشوا یہی سبق پڑھاتے ہیں کہ اچھی طرح یاد رکھو کہ مذہب میں عقل کو دخل نہیں ہے اس لئے جب بھی عقل کی بات کی جائے تو اس کو مسترد کر دو اور برملا کہہ دو کہ یہ تو سراسر عقل کی بات ہے ہم نہیں جانتے یہی ایک صورت ہے کہ تم اپنا دین و ایمان اس شخص سے بچا لو بہتر ہے کہ اس کی بات کو کان پر مت رکھو بلکہ یہاں تک کہ میل ملاقات سے بھی باز رہو اور جب وہ سامنے آئے تو اس کو دیکھتے ہی تھوک دو ‘ اگر تم نے اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا دیا تو سمجھو کہ تم پر اس کا جادو چل گیا اور تم گویا مذہبی موت مر گئے اور تمہارے باپ دادا کا یدن بھرشٹ ہوگیا ۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اور اے مخاطب ! اس بات کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب وہ عذاب الہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گے اور پھر کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی اور یہ وہ وقت ہوگا جب انکو معلوم ہوگا کہ وہ کون ہے جو راہ راست سے بھٹکا رہا ؟
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا تو کیا آپ ﷺ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں

جو شخص آپ ہی اپنا معبود ہیاے پیغمبر اسلام ! ﷺ کیا آپ ﷺ اس کے ذمہ دار ہیں ؟ 43۔ کون کس کی پرستش کرتا ہے ؟ مختلف نام رکھ لئے گئے کہ فلاں بتوں کو پوجتا ہے اور فلاں قبروں کو ‘ فلاں نے نبیوں اور رسولوں کو خدا بنایا اور فلاں نے سورج اور چاند کو اگر صحیح طور پر اس کا تجزیہ کیا جائے تو کوئی کسی کی پرستش نہیں کرتا مگر صرف اپنی ذات کی ‘ اپنی خواہش کی یہ بت ‘ قبریں ‘ نبی ‘ رسول ‘ چاند اور سورج تو محض نام کے طور پر ہیں دراصل ان ساری صورتوں میں وہ اپنی ہی خواہش کی پرستش کر رہا ہوتا ہے اور چونکہ خواہش نظر آنے والی چیز نہیں ‘ اس لئے وہ کسے ایسے شے کو درمیان میں رکھ لیتا ہے جس کی کوئی نہ کوئی صورت تصور کی جاسکتی ہے ۔ ایک ایک مشرک کے شرک کا تجزیہ کرتے جاؤ سب مشرکوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہی ہے جس کو قرآن کریم نے اس جگہ (ہوا) سے تعبیر کیا ہے کیونکہ جب بھی انسان کسی حق بات کو ٹھکراتا ہے تو اسکی تہ میں اس کی کوئی حرص وہوا ہی نکلتی ہے ، آپ ٹھنڈے دل سے بیٹھ جائیں اور کسی ایک شرک کو خیالی طور پر پکڑ لیں اور اس کا تجزیہ کرتے جائیں آپ کو جو آخری نقطہ ملے گا وہ یہی ہوگا جو قرآن کریم نے بیان کردیا ۔ فرمایا انسان جب اپنی حرص وہوا کے اتباع میں کسی حق بات کی پرواہ نہ کرے تو آپ اس کو مومن کیوں کہیں گے کیونکہ مومن تو حق ہی کے لئے زندہ ہے اور حق ہی اس کا آخری مطمع نظر ہے مختصر یہ کہ موحد ہونے کے لئے شرط ہی یہ ہے کہ انسان حرص وہوا کا بندہ نہ ہو اور جو شخص بھی خواہشات کا غلام ہے وہ موحد نہیں ہو سکتا علاوہ ازیں وہ چاہے جو کچھ بھی ہو ۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر ( آپ ﷺ کی بات) سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ یہ تو بس چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ تو ان سے زیادہ راہ سے بہکے ہوئے ہیں

عقل وکفر سے کام نہ لینے والے کون ہیں ؟ آخر چوپائے ہی تو ہیں : 44۔ ہر ایک انسان دوسرے انسان کو کیا سمجھے گا ؟ ظاہر ہے کہ وہ دوسرے کو انسان ہی سمجھے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ اوصاف ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں رہی یہ بات کہ وہ اوصاف کیا ہیں ؟ وہ سماعت اور عقل وفکر ہی ہیں اور جو انسان سنی ان سنی کر دے اور اسی طرح عقل وفکر سے بھی کام نہ لے وہ بلاشبہ چوپایوں کی مانند ہی ہے بلکہ ان سے بھی گیا گزرا ہے ، حیوان کو عقل اللہ تعالیٰ نے عطا ہی نہیں کی لیکن انسانوں کو تو انسان محض اس ورطے کہا گیا کہ وہ عقل وفکر دیا گیا ہے پھر جب وہ عقل وفکر رکھنے کے باوجود حیوانوں کے سے کام سرانجام دے تو وہ بلاشبہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوگا اس وقت جب قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا عربوں کی یہی حالت تھی کہ وہ لوگ حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرتے کرتے گویا بالکل ہی حیوان ہوچکے تھے اور سمع وبصر اور عقل وفکر سے کام نہیں لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے نبی اعظم وآخر ﷺ کی تعلیمات پر کان نہ دھرا ۔ چونکہ انہوں نے عقل وفکر کا چراغ بجھا دیا تھا اس لئے وہ کسی قوی سے قوی دلیل کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اور ظاہر ہے کہ جو حق کا نور دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور جو محض اپنی خواہش نفس کے عبادت گزار ہیں انکا نفس ہی ان کا رب ہے جدھر وہ چاہتا ہے ان کو ہانک کرلے جاتا ہے اور وہ اسی کی پوجا میں مگن ہیں ‘ وہ ڈنگروں کی مانند ہی ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ اپنے مالک کو پہچانتے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہی اور جو خدمت ان کے ذمہ رب کریم نے لگائی ہے اس میں ذرا سستی نہیں کرتے اور یہ انسانوں کی شکل و صورت رکھنے کے باوجود نہ اپنے خالق کو پہچانتے ہیں نہ اس کے احسانات کا شکر ادا کرتے ہیں نہ اس کا حکم بجا لاتے ہیں ‘ اس لئے ایسے لوگوں کی اصلاح کی توقع نہیں ہو سکتی فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر ایسے لوگ باطل پر جمے رہیں اور حق کو قبول نہ کریں تو آپ ﷺ رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ سیدھے ہونے والے نہیں۔
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا کہ اس نے کس طرح سایہ کو دراز کردیا اگر وہ چاہتا تو اس کو ٹھہرا ہوا کردیتا ، چناچہ ہم نے سورج کو اس (سائے کے گھٹنے بڑھنے) کے لیے دلیل بنا دیا ہے

رات اور دن کو لانا صرف اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے : 45۔ (الم تر) اے مخاطب ! تو نے نہیں دیکھا اس سے کون مخاطب ہے بلاشبہ اس سے ہر ایک انسان مخاطب ہے اور خصوصا وہ جو صاحب نظر ہے کیونکہ زیر نظر آیت میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ان کرشمہ سازیوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو انسان کے لئے سراپا لطف ورحمت ہیں اگر اللہ رب العزت اسی فیاضی اور دریا دلی سے ان کو آشکارا نہ کرتا تو انسان کی آفاقی وخلائی فتوحات کیونکر ہوتیں ۔ ہاں فتوحات کا تو ذکر ہی کیا اس کا وجود تک بھی فنا ہوجاتا اگر آفتاب کے طلوع و غروب کا موجودہ نظام نہ ہوتا ۔ اگر ہمیشہ رات ہی رات ہوتی تو انسان تو کجا اس دھرتی پر کوئی حیوانی اور نباتاتی زندگی کے امکانات بھی ختم ہوجاتے اسی طرح اگر سورج کبھی غروب ہی نہ ہوتا اور دھرتی پر دن ہی دن ہوتا تو اس کی کرنوں کی تمازت قوت روئیدگی کو جلا کر رکھ دیتی فرمایا ” غور کرو کہ اللہ نے کس طرح سایہ کو دراز کردیا “ اس جگہ ” سایہ “ سے مراد کیا ہے ؟ بعض نے رات کا سایہ مراد لیا ہے یعنی اندھیرا اور بعض نے کہا ہے کہ سورج طلوع ہونے سے دوپہر تک جو سایہ ہوتا ہے اس کو ” ظل “ کہتے ہیں اور دوپہر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک کے سایہ کو ” فی “ کہا جاتا ہے اور یہ بات ہر ایک کے مشاہدہ میں بھی ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو سایہ لمبا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے اور جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ بھی سمٹنے لگتا ہے اور دوپہر تک وہ سمٹتا ہی رہتا ہے لیکن دوپہر کے بعد کیا ہوتا ہے یہی کہ سایہ پھر پھیلنے اور بڑھنے لگتا ہے تا آنکہ سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی وہ غائب ہوجاتا ہے ، غائب ہونا کیا ہے ؟ دوسرے لفظوں میں مرجانا یا فنا ہوجانا تو گویا جس طرح سایہ شروع ہوتا ‘ بلند ہوتا اور فنا ہوجاتا ہے یہی حال دراصل پوری زندگی کا ہے ۔ فرمایا ” اللہ چاہتا تو اس کو ٹھہرا دیتا “ گویا دوسرے لفظوں میں اگر تمہاری یہ زمین گردش نہ کرتی تو سایہ یقینا ایک ہی جگہ ٹھہرا رہتا اور پھر نہ دن کا کوئی تعین ہوتا اور نہ رات کی آمد کا کوئی انتظار کرتا اور مشاہدہ کے طور پر یہ سورج ہی اس پر دلیل ٹھہرتا جو اس وقت طلوع و غروب ہوتا نظر آتا ہے یقینا اس کے طلوع و غروب کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا ۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو (سراجا منیرا) کہا گیا ہے گویا آپ ﷺ ہی آفتاب ہدایت ہیں اسی طرح آیت کا مفہوم اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ بات تسلیم کی کہ اس وقت ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا پھیلا ہوا ہے اور کفر وشرک کا سایہ پھیلا ہوا ہے اور باطل کی تاریکیوں نے ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا پھیلا دیا ہے لیکن اب آفتاب ہدایت طلوع ہوچکا ہے ‘ کچھ دیر انتظار کرو دیکھو گے کہ اللہ چاہے تو ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی ہوگی اور سارے اندھیرے بالکل نیست ونابود ہوجائیں گے جس طرح سورج کے طلوع ہوتے ہی رات کا سارا اندھیرا چھٹ جاتا ہے اور ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے ۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتے ہیں (یعنی رات کے اندھیرے میں اس کو غائب کردیتے ہیں)

پھر ایسا ہوتا ہے کہ سایہ کو ہم آہستہ آہستہ لپیٹتے جاتے ہیں اور لپٹ کر رہ جاتا ہے : 46۔ ” پھر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اس سایہ کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹے چلے جاتے ہیں “ اس طرح جب وہ سمٹتے سمٹتے بالکل سمٹ جاتا ہے یعنی فنا ہوجاتا ہے اور اس طرح گویا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا لیا جاتا اور اسی طرح ہرچیز اسی کی طرف لوٹتی ہے اور یہ بول چال میں عام ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہرچیز کا وجود اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی طرف سے ہے اور ہرچیز کے معدوم کرنے پر بھی وہی قادر وقدیر ہے کیونکہ یہ سارا نظام اس کا قائم کیا ہوا ہے اور وہی اکیلا اس کا چلانے والا ہے کسی دوسرے کا اس میں ذرہ برابر بھی داخل نہیں اور پھر یہ بھی کہ اس اتنے بڑے نظام کو قائم کرنا اور چلانا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے کوئی مشکل چیز نہیں بلکہ بالکل آسان ہے اور مشکل کا وہاں کوئی تصور نہیں ۔ (یسیرا) قلیل شے کو بھی کہا جاتا ہے اور اس کے معنی ” سریع “ کے بھی ہیں اور یہی ہم نے تفسیر میں استعمال کئے ہیں ۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن کو (اُٹھ کر) پھیل جانے والا بنا دیا

رات کو پردہ ‘ نیند کو راحت اور دن کو پھیل جانے کے لئے بنا دیا : 47۔ رات اور دن ایک تو اسی لحاظ سے نشانی ہیں جو گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا اور ایک اس لحاظ سے بھی نشانی ہیں کہ رات انسان کو پردہ کا کام دیتی ہے اس لئے پردہ کے کام رات کو انجام دینا بنسبت دن کے آسان ہیں اور دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہے کہ انسان تھکا ہارا ہوتا ہے اور رات کو نیند پوری کرنے کے بعد جب اٹھتا ہے تو پھر تازہ دم ہوتا ہے اور اپنے کام کام میں دوبارہ مستعدی سے مصروف ہوجاتا ہے اور پھر یہ کہ ہر روز یہ سلسلہ اس کو تازہ دم کرتا رہتا ہے اور اسی طرح ہر روز ایک دن گزر جاتا ہے ، زیر نظر آیت میں رات کو لباس اور نیند کو سارے دن کی تھکاوٹ کو کاٹ دینے والی اور دوبارہ تازہ دم کردینے والی کہا گیا ہے اور دن کو پھیل جانے والا کہا گیا کہ اس میں آدمی اپنے رزق کی تلاش میں ادھر ادھر پھیل جاتا ہے اور یہ بھی کہ نیند بمنزلہ موت ہے اور نشور موت کے بعد دوبارہ اٹھنا مراد ہے اور اسی طرح ایک دن اصل موت بھی انسان کو ڈھانک لے گی اور پھر دو بار نشور ہوجائے گا اور موت کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اور اس کے بعد زندگی ہی زندگی رہ جائے گی ، اس لئے اگر دیکھنے والی آنکھیں اور سوچنے والے دل و دماغ ہوں تو روزانہ رات اور دن کی آمد ورفت اور ان کے فوائد ومنافع میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی قدرت ‘ ‘ رحمت ‘ ربوبیت حکمت اور روز جزا کی اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ توحید الہی کے ثبوت کے لئے وہ کفایت کرتی ہیں لیکن یہ ساری نشانیاں انہی لوگوں کے لئے نافع ہیں جن کے اندر سوچنے ‘ سمجھنے اور عبرت ونصیحت حاصل کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہے اور جن کے اندر یہ ارادہ نہیں وہ اس طرح کی بیسیوں نہیں سینکڑوں نشانیاں دیکھ کر بھی یقین کرنے والے نہیں بلکہ نئے نئے نشانات طلب کرتے رہتے ہیں اور اسی طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایک کھلونا سمجھ رکھا ہے کہ دل بہلانے کے لئے نت نئے مطالبات شروع کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نئے نئے مطالبات کرکے ہم بہت بڑا کام کر رہے ہیں اور ہمارے سوالات کا جواب رسول مشکل ہی سے دے گا حالانکہ وہ سراسر اپنی حماقت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔
Ayah 25:48

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی جو اپنی رحمت (بارش) سے قبل ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے بھیجتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک صاف پانی اتارا

وہی ہے جو ہواؤں سے خوشخبری کا کام لے رہا ہے : 48۔ زیر نظر آیت میں (رحمت) بمعنی بارش بیان ہوئی ہے اور شاد ہو رہا ہے کہ اللہ وہی ذات ہے جو ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیج دیتا ہے اور وہ کس بات کی خوشخبری دیتی ہیں فرمایا بارش کی کہ ہوا آئی اور ساتھ ہی بڑے بڑے بھاری بادلوں کو اپنے کندھے پر اٹھالائی اور حکم الہی کے اشارہ پر جہاں کا حکم ملا وہاں لا کر اس کو اس طرح برسانا شروع کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی پانی کردیا اور جتنا پانی برسایا وہ اس طرح صاف و شفاف پانی تھا کہ اس میں کسی طرح کی کوئی آلائش ومیل موجود نہ تھی اور اس میں سے برسنے والا پانی ایسا پانی تھا جو خود بھی پاک وصاف تھا اور ناپاک وپلید چیزوں کو بھی پاک وصاف کردینے والا تھا ، اس میں سے تم پیتے بھی ہو اور یہی پانی تمہاری ساری ضروریات زندگی کو پورا کرتا ہے اور یہی وہ پانی ہے جس سے تمہاری مردہ زمین زندہ کو اس قابل بناؤ کہ وہ وحی الہی کی بارش کو مؤثر ہونے دے تو یہ تمہاری آخری زندگی کے لئے بھی خوشخبری ہے اگر تم اس خوشخبری سے فائدہ حاصل کرو جس کے لئے اس کا نزول ضروری قرار پایا ۔ دوسری جگہ اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ ” وہی اللہ تمہارا رب جو باران رحمت سے پہلے موسمی ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے ‘ جو مختلف اطراف سے بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں پھر ان کو تہ بہ تہ اکٹھا کرتی ہیں پھر جہاں کے لئے رب کریم کا حکم ہوتا ہے وہاں وہ بادل پاکیزگی بخش پانی برسا دیتے ہیں ۔ “ (النور 24 : 43)
Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے مری ہوئی بستی کو زندہ کردیں اور اپنے پیدا کیے ہوئے چوپایوں اور بہت سے لوگوں کو اس سے سیراب کریں

پانی سے مردہ زمین کا زندہ ہوجانا اور جانوروں اور انسانوں کا پینا کتنی واضح بات ہے : 49۔ تمہارے غور وفکر کی بات ہے اگر تم غور وفکر کرو کہ یہ دنیا جس کے ہر گوشہ میں اتنی حکمتیں اور قدرتیں نمایاں ہیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آگئی ہے ؟ آسمان سے لے کر زمین تک ابر ‘ ہوا ‘ بارش اور انسان وحیوانات کی ساری ضروریات میں یہ ربط آپ سے آپ پیدا ہوگیا ہے ؟ کیا اضداد کی اس ہم آہنگی کے مشاہدہ کے بعد بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کار فرما ہیں ؟ کیا رحمت و ربوبیت کا یہ اہتمام انسان پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے کوئی بھی ذمہ داری عائد نہیں کرتا ؟ کیوں نہیں ‘ یقینا کرتا ہے اور وہ یہی ہے کہ انسان اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی عبادت کرے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرے ‘ اس کو اپنا رب تسلیم کرے اور اس کے سوا کسی کو اپنا رب تسلیم نہ کرے ۔ اس آیت میں مزید وضاحت فرما دی گئی کہ جس طرح بارش سے کسی غیر آباد شہر کو آباد کردیا جاتا ہے بعینہ اسی طرح اس مکہ کی زمین کو اپنی رحمت وحی کی بارش سے مستفید کرنا چاہتا ہے تاکہ یہاں کی مردہ قوم ایک زندہ قوم میں تبدیل ہوجائے اور جس طرح بارش کے پانی سے بہت سے انسان اور جاندار مستفید ہوتے ہیں اسی طرح وحی الہی کی بارش سے حیوان صفت انسان بھی صحیح معنوں میں انسان بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ انسان بننا چاہیں ۔ بلاشبہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ اس نے اس وحشی قوم کو زیادہ دیر نہیں لگی تھی کہ بام عروج پر پہنچا دیا ایک دنیا جس کی گواہ ہے لیکن افسوس کہ اس وقت ہم اسی قرآن کو دن رات پڑھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری انسانیت دن بدن ختم ہوتی چلی جا رہی ہے اور ہم حیوانیت کی طرف دوبارہ رواں دواں ہیں ۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے اس ( قرآن کریم) کو لوگوں کے درمیان (طرح طرح سے) بیان کیا تاکہ لوگ یاد رکھیں ، لیکن اکثر لوگ ناشکری کیے بنا نہیں رہتے

تصریف آیات کے تحت ہم سمجھاتے ہیں اگر کوئی سمجھنے والا ہوں : 50۔ ” اور بلاشبہ ہم نے اس کو لوگوں کے درمیان بیان کیا تاکہ لوگ یاد رکھیں (صرفنہ) کی ضمیر کو مفسرین نے زیادہ تر بارش کی طرف پھیرا ہے اور بعض نے موسموں کے تغیر وتبدل کا بھی ذکر کیا ہے اور قرآن کریم کی طرف بھی ہمارے خیال اس آخری مرجع کی طرف ہے کیونکہ اس طرح اس مضمون کی طرف بھی اور قرآن کریم کی انقلاب عظیم کی طرف بھی اور بارش کی مضمون کی طرف بھی خود بخود منتقل ہوجائے گا کیونکہ قرآن کریم میں بارش کے مضمون کو بار بار بیان کرکے اور اس کی مثال دے دے کر بات سمجھائی ہے اور قرآن کریم نے جو انقلاب عظیم پیدا کیا ہے یہ تمام مثالیں اس پر بھی فٹ ہوتی ہیں اسی طرح دوسرے تمام تغیرات کا ذکر جگہ جگہ کیا گیا ہے اور مقصود سب کا ایک ہی ہے اور وہ وحی الہی کی اہمیت یاد کرانا ہے اور نزول قرآن کریم کی افادیت کو سمجھانا ہے ۔ اس لئے زیر نظر آیت کو توحید کی دلیل ‘ آخرت کی دلیل ‘ جاہلیت اور وحی ونبوت کی دلیل قرار دیا جاسکتا ہے اور تینوں رخ قرآن کریم کی طرف ہیں کیونکہ وحی تو قرآن کریم ہی قرار پایا ہے۔ 1۔ توحید کی دلیل کے ورطے سے دیکھا جائے تو مفہوم اس طرح ہوگا کہ اگر یہ لوگ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو محض بارش کے اتنے بڑے انتظام ہی میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر دلالت کرنے والی اتنی نشانیاں اس میں موجود ہیں کہ تنہا انہیں پر غور وفکر کیا جائے تو یہی نشانیاں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی وحدانیت پر اطمینان دلا سکتی ہیں لیکن ہم بار بار ان لوگوں کی اس مضمون کی طرف توجہ دلاتے ہیں لیکن ان لوگوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی اور ہماری ان آیتوں سے ذرا بھی سبق حاصل نہیں کرتے اور شرک کی طرف اندھے ‘ بہرے ہو کر دوڑ رہے ہیں ۔ 2۔ آخرت کی دلیل کے ورطے پر دیکھا جائے تو مفہوم اس طرح ہو سکتا ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اپنی زندگی کے مثال بھی موجود تھی جو ہر آن اور لحظہ بدلتی رہتی ہے اور بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے اور پھر یہ موسموں کا تغیر وتبدل بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے انکی زندگی میں کتنے موسم بہار آئے ہیں اور کتنی خزائیں انہوں نے دیکھی ہیں ‘ کتنی گرمیوں میں یہ الامان والحفیظ پڑھتے رہے اور کتنی سردیوں میں شل ہو کر رہ گئے ان ساری تبدیلیوں کو دیکھ کر بھی یہ ایک تبدیلی پر ایمان نہیں لائے کیا یہ تبدیلیاں جو وہ روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں ان کے ارادہ سے آتی ہیں یا ان کے ارادہ سے جاتی ہیں ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ تبدیلیاں کون لاتا ہے ؟ کوئی حکومت لاتی ہے ‘ یہ سیاسی لیڈر لاتے ہیں یا یہ مذہبی پیشوا لاتے ہیں ؟ نہیں ! تو آخر لاتا کون ہے ؟ ہم ان کو یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو ذات یہ تبدیلیاں لاتی ہے وہی اس دنیوی زندگی کے بعد آخرت کی زندگی میں تبدیل کر دے گا اور اس جگہ کی موت وہاں کی زندگی سے بدل دے گا یعنی جو یہاں موت لاتا ہے وہی وہاں موت پر موت طاری کر دے گا لیکن یہ خاموش ہو سکتے ہیں اس بات کو مان نہیں سکتے ۔ 3۔ بارش کو گردش دیتے رہنے کے ورطے سے دیکھتے تو بھی ان کو یقین کرنا چاہئے تھا کہ جس طرح بارش ہر جگہ پر یکساں نہیں ہوتی ایک جگہ اتنی برستی ہے کہ ندیاں نالے اس کو برداشت ہی نہیں کرسکتے اور کہیں اتنی ہوتی ہے کہ مقامی ضرورت بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتی اور کہیں بالکل خشک سالی ہوتی ہے اور ایک بوند بھی نہیں گرتی کہ لوگ بارش کو ترس ترس جاتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ جہاں بارش ہوتی ہے اس کا اثر ایک جیسا نہیں ہوتا کہیں تو اس سے کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور کہیں جو بیج ڈالا جا چکا ہوتا ہے اس کو بھی وہ بہا کرلے جاتی ہے اور کہیں شور زمین ہوتی ہے جس سے اس کے شور میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور کہیں یہ بارش اس قدر تعفن پیدا کردیتی ہے کہ وہاں سے گزرنا بھیم شکل ہوجاتا ہے ۔ اگر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ یہی عمل وحی الہی سے بھی ہوتا ہے کہ جب تک وحی کا سلسلہ جاری تھا اس وقت پوری دنیا کی مثال ہر جگہ بارش یکساں نہ ہونے کی صادق آتی تھی اور جب پوری انسانیت کے نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت ہوئی تو بارش کی دوسری مثال کا معاملہ ہوا کہ بلاشبہ آپ ﷺ کی بعثت سارے جہانوں کے لئے یکساں تھی لیکن وحی الہی کے آنے کے بعد جن کے دلوں کی زمین بنجر تھی ان پر وہی اثر ہوا جو بنجر زمین پر ہوتا ہے کہ اس کا شور مزید بڑھ گیا اور بعض جگہ ایسا بھی ہوا کہ اس وحی الہی کی وجہ سے تعفن مزید بڑھ گیا کیونکہ اس جگہ پلیدی اور ناپاکی کے ڈھیر پڑے تھے جہاں یہ بارش ہوتے ہی بدبو اور سڑاند بڑھ گئی اور جن کے دلوں کی زمین زرخیز تھی وہاں ماشاء اللہ اس بارش کے ہوتے ہی پھول اور پتیاں نکلنی شروع ہوگئیں اور یہاں کی زمین اور فضا معطر ہوگئی ‘ جس کی ماشاء اللہ آج تک ہم سونگھ رہے ہیں اور یہ حالت قیامت تک جاری وساری رہے گی کہ جیسی کسی کے دل کی زمین ہوگی ویسا ہی اس پر اثر ہوگا ، قرآن کریم کو کھولتے ہی اس مضمون کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر دیکھنا مقصود ہو تو سورة البقرہ کی آیت 26 کا مطالعہ کریں ۔ اختصار اس کا یہ ہے کہ (صرفنہ) کی ضمیر بارش کی طرف نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے بلکہ قرآن کریم کی طرف ہے اور اس طرح مضمون زیادہ وسیع ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے ذریعہ سے جو انقلاب عظیم آنے والا تھا اس کو طرح طرح کے پیرایوں میں بیان کیا ہے اور اس جگہ بھی تین مختلف پیرائے اختیار کئے ہیں جن کی وضاحت اوپر بیان کردی گئی ہے ۔
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیج دیتے

ہم چاہتے تو ہر بستی کے لئے الگ الگ رسول بھیج دیتے : 51۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم چاہتے تو ہر ایک بستی میں الگ الگ رسول بھیج دیتے جیسا کہ آپ ﷺ سے پہلے ہم ہر ایک بستی اور ہر ایک قوم میں الگ الگ رسول بھیجتے ہی رہے ہیں جیسے کہ پیچھے سورة یونس کی آیت 47 ‘ سورة النحل کی آیت 36 ‘ سورة الرعد کی آیت 7 ‘ سورة ابراہیم کی آیت نمبر 4 میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں اور اس طرح سورة فاطر اور روم میں بھی یہ مضمون آئے گا ۔ اب بھی اگر ہماری حکمت کا تقاضا ایسا ہوتا تو ایسا کرسکتے تھے کہ ہر ایک بستی میں علیحدہ علیحدہ نبی ورسول بھیج دیتے لیکن حکمت کا اب یہ تقاضا نہیں ۔ انسانیت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو یکجا کرنے کا موزوں وقت اب آپہنچا ہے بہت سی امتوں کی نہیں اب ایک امت کی ضرورت ہے جو حق کی امین بنائی جائے اور اس کی یہی ایک صورت ہے کہ ساری اقوام عالم کا ایک ہی ہادی ہو ۔ اب رات گزر گئی جب کہ ہر گھر میں الگ الگ چراغ جلائے جاتے تھے ‘ اب دن طلوع ہوگیا ہے ‘ اب قیامت رسالت محمد رسول اللہ ﷺ ہی شرق وغرب ‘ نشیب و فراز اور دور ونزدیک سب کو منور کرے گا چناچہ اب آفتاب رسالت محمدی طلوع ہونے کے بعد جو بھی کوئی دوسرا چراغ جلائے گا وہ احمق ہی اپنا نام رکھے گا کیونکہ آفتاب کی موجودگی میں کوئی بھی چراغ روشن کرنے والے کو احمق ہی کہا جائے گا خواہ وہ گھی کے چراغ ہی کیوں نہ جلائے ، بلاشبہ کہنے کو تو آج بھی ہم یہی کہتے ہیں اور رہتی دنیا تک یہی کہتے رہیں گے لیکن قابل غور امر تو یہ ہے کہ کیا آج قوم مسلم کا عمل بھی اس عقیدہ کا ساتھ دیتا ہے یا قول وعمل میں تضاد آگیا ہے اور دن بدن تضاد بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ، ہر قاری کا اپنا فرض ہے کہ اس بات پر غور کرے اور اس سوال کا جو جواب وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے دل سے پاتا ہے اس کو اپنی بیاض حق میں نوٹ کر کے اپنے علمائے گرامی قدر سے بھی دریافت کرے کہ وہ کیا ارشاد فرماتے ہیں اور ان کے عمل ورویہ کو بھی دیکھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ازیں بعد ایک بار بس دماغ پر بوجھ ڈال کر معلوم کرے کہ کیا ہم سب دیوبندی ‘ بریلوں ‘ اہلحدیث ‘ شعیہ اور سنی اور پھر ان سارے گروہوں کے اندر جو مزید جماعتیں بن چکی ہیں سب کے سب ملکر ایک ہی امت کہلاسکتے ہیں اگر نہیں تو کیا اس طرح بعثت محمدی کا انکار ثابت نہیں ہوتا ؟ کیا اعتقاد کا انکار جب عمل کر رہا ہو تو اس کا انکار نہیں کہتے ؟ کیا عمل عقیدہ کے اظہار کی تصدیق نہ کرتا ہو تو پھر بھی عقیدہ کو صحیح کہا جاسکتا ہے ؟ اپنے دل ہی دل میں سارے فیصلے نہ کرلیں کچھ ہمیں بھی مطلع کریں ‘ ہم منتظر ہیں جب تک زندہ ہیں ۔
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس آپ ﷺ منکروں کا کہنا نہ مانئے بلکہ قرآن ہی سے ان کا مقابلہ پوری قوت کے ساتھ کیجئے

کافروں کی پیروی نہیں بلکہ ان سے جہاد کرنے کا حکم ہے : 52۔ زیر نظر آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو دو حکم دیئے گئے ہیں اور یہ حکم دینے والا کون ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والاکرام پہلا حکم کیا ہے ؟ ” یہ کہ آپ منکروں کا کہا نہ مانیں “ منکر کون ہیں ؟ اسلام میں سچے دل سے داخل نہ ہونے والے سارے افراد اور انکی مجموعی قومیں خواہ وہ کون ہوں اور خواہ وہ کہاں ہوں ۔ اچھا خود اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کا حیات طیبہ کے وقت آپ ﷺ کی وفات سے لے کر جو لوگ اپنے آپ کو یہودی ‘ عیسائی ‘ ہندو ‘ سکھ ‘ پادری ‘ صابی وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں کیا یہ سب اہل اسلام ہیں ؟ اگر نہیں تو آج ہم مسلمان من حیث القوم کہا کن کا مان رہے ہیں ؟ کیا کسی کے حکم کی واضح اور کھلی خلاف ورزی کرکے بیھ اس کا فرمانبردار اور مطیع کہلایا جاسکتا ہے ؟ کیا اللہ کے احکام میں کھلی اور واضح خلاف وزری کرنے کی مسلمان کو عام اجازت ہے ؟ ہم تو صرف اشارہ کر رہے ہیں مضمون آیت کو نہیں کھول رہے اور آیت کا حکم بالکل صاف ہے کوئی اس میں ابہام نہیں اس لئے ہم آپ کی دیانت پر اس کو چھوڑتے ہیں تاکہ اس صاف اور واضح حکم کو کھول کر خود دیکھ لیں اور اگر پھر بھی کسی بات کی سمجھ نہ آئے تو اپنی پسند کے علامہ حضرات سے پوچھ لیں ، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یقین ہے کہ آپ خود بخود سیدھے ہوجائیں گے شرطی کہ آپ اگر کوئی علامہ نہیں ۔ آیت زیر نظر میں دوسرا حکم اس طرح دیا گیا کہ ” (قرآن کریم ہی سے) ان کا مقابلہ پوری قوت کے ساتھ کیجئے “۔ یہ دوسرا حکم کن کے مقابلہ کرنے کا ہے ؟ ان سارے افراد وجماعتوں کا جو اسلام میں سچے دل سے داخل نہیں اور آج بھی یہودی ‘ عیسائی سکھ ‘ پارسی اور صابی جیسے ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب لوگ اہل اسلام ہیں ؟ اگر نہیں تو کیا آج ہم مسلمان من حیث القوم ان سارے گروہوں اور جماعتوں میں سے کسی گروہ یا جماعت سے مقابلہ کر رہے ہیں ؟ کیا ہمارا مقابلہ دیوبندی اور بریلوی ‘ اہل حدیث اور اہل الرائے شیعہ اور سنی ‘ پنجابی ‘ سندھی ‘ بلوچی اور خصوصا آج کل سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کا نہیں ؟ کیا یہ سارے کے سارے غیر مسلم ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر ہم سب مسلمان من حیث القوم اللہ تعالیٰ کے اس دوسرے حکم کو مان رہے ہیں یا انکار کر رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے حکم کی کھلی اور واضح خلاف ورزی کر کے بھی کوئی جماعت یا کوئی قوم مسلمان رہ سکتی ہے ؟ ہم پھر گزارش کرتے ہیں کہ آیت کا حکم بالکل صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں لہذا اس ” مقابلہ “ کے حکم کو کھولتے جائیے اور فیصلہ خود ہی کرتے چلے جائیے اور گزشتہ پیرا کی آخری سطر کو بھی ساتھ ملا لیجئے اللہ آپ کا بھلا کرے گا ۔ جہاد جہاد اکبر اور جہاد کی دوسری ساری اقسام کو ہم نے پیچھے سورة الحج کی آخری آیت میں بیان کردیا ہے اس لئے مزید وضاحت وہی سے ملاحظہ فرما لیں ۔ سورة الحج عروۃ الوثقی کی اسی جلد میں موجود ہے ، اس مضمون کے بعد توحید الہی کے مزید نشانات ملاحظہ کیجئے جو آنے والی آیات میں بیان کئے گئے ہیں ۔