Ayah 24:57کفار کی پروا نہ کرو کہ وہ تم کو تھکا دیں گے وہ تو جہنم کا ایندھن ہیں :
91۔ وعدہ الہی کی ایک صورت کہ اگر تم نے مذکورۃ الصدر اصولوں کی پابندی کی جن کی وجہ سے وہ خلافت قائم ہوئی ہے تو کوئی غیر مسلم قوم تم پر غالب نہ آسکے گی اور ان بدبختوں کا ٹھکانا تو جہنم ہے اس لئے ان کو ذلیل ورسوا کرنے کے لئے تم ہر وقت ضروری آلات سے مسلح رہو۔
آیات ماسبق سے معلوم ہوگیا کہ خلافت اسلامی کے بقاوقیام کا مرکزی نقطہ شریعت کی پابندی ہے کہ آپس میں اتفاق رہے اور اختلاف نہ ہونے پائے ، پردے کے احکام کی غرض بھی یہی تھی کہ مسلمانوں میں کسی قسم کی بداخلاقی پیدا نہ ہونے پائے مگر عموما ایسا ہوتا ہے کہ حکومت مل جانے کے بعد انسان کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ آزادی آجاتی ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرتا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں بےحیائی اور بےغیرتی کا مرض پیدا ہوجاتا ہے اور تمام وہ باتیں جو اسے گھر کی چاردیواری کے اندر کرنی چاہئے تھیں وہ علی رؤس الاشہاد کرتا ہے اور اس طرح وہ اخلاق انسانی کو بالکل برباد کردیتا ہے جس میں آج دوسری اقوام کی دیکھا دیکھی ہماری قوم مسلم بھی مبتلا ہوچکی ہے ۔
ایسے ہی پردے کا ایک غلط پہلو یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس کو اتنا تنگ کردیا جائے کہ کوئی شخص بھی گھر کے اندر نہ آسکے اس صورت میں اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ مرد ہر وقت گھر ہی میں رہے تاکہ ضروریات خانہ داری پوری ہوں مگر اس طرح بیرونی زندگی بالکل برباد ہوجاتی بس ان تمام غلط فہمیوں کو آیات ذیل میں دور کیا گیا ہے گزشتہ آیات میں ان لوگوں کے لئے قانون تھا جو اجنبی ہیں کہ وہ جب کسی دوسرے مسلمان کے پاس آئیں تو انہیں کسی قانون کا پابند ہونا پڑے گا اب بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے رشتہ دار ہم سے ملنا چاہیں تو ان کے لئے کونسا دستور العمل ہے ۔
Ayah 24:58مسلمانوں کے لئے پردے کے احکام کی پہلی اور ابتدائی صورت :
92۔ لونڈی غلام اور گھر میں کام کاج کرنے والے لوگوں کی آمدورفت لازم وضروری ہے اور نابالغ بچوں کا آنا جانا بھی ناگزیر ہے اس لئے اگر ان کو بھی ہر وقت گھر میں آنے جانے کی اجازت حاصل کرنی پڑے گی تو بہت مشکل ہوجائے گی اس لئے گھر والوں اور ان سب لوگوں کے لئے جن کا گھر بھی آنا جانا ضروری ہے انکی سہولت کے پیش نظر تین اوقات مقرر کردیئے گئے کہ ان اوقات میں اجازت حاصل کیے بغیر وہ اندر داخل نہ ہوں تاکہ میاں بیوی اپنے محبت آمیز تعلقات سے تسکین حاصل کرسکیں جو تین اوقات کئے گئے ہیں یہ بالکل فطری ہیں پہلا وقت وہ جب عادت کے مطابق کھانے پینے سے فارغ ہو کر آدمی آرام کرنے اور سونے کے لئے تیار ہوجائے بلکہ سوجانے کی جگہ پہنچ جائے اور یہ وقت فجر کی نماز کے وقت آنے تک ہے اور اس طرح دوپہر کا کھانا کے بعد جب انسان قیلولہ کرتا ہے مختصر یہ کہ جو جو اوقات آرام کے لئے ایک گھر میں مقرر کئے گئے ہیں اور عرف عام میں سب گھر میں آنے جانے والوں کو معلوم ہوں ان مخصوص اوقات میں اگر کسی کو اندر داخل ہونے کی ضرورت پیش آئے تو اجازت حاصل کئے بغیر یہ لوگ بھی ایک دوسرے کے کمرے میں نہ آئیں جائیں اور ان مقررہ اوقات کے علاوہ لونڈی غلاموں اور گھر میں کام کاج کرنے والے لوگوں اور نابالغ بچوں کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں ، اس طرح صاحب خانہ کو بھی محتاط رہنا ہوگا کہ گھر میں کام کاج کرنے والوں کو آنے جانے کی ضرورت ہوگی اس لئے آرام کے لئے مخصوص وقت کے علاوہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو تخلیہ کی ہو ۔ اسی طرح مسلمانوں کے لئے پیروی کے احکامات کی یہ پہلی اور ابتدائی صورت واضح کردی تاکہ اس کی پابندی کی جائے اور پردہ کی باتیں بےپردہ نہ ہوں ۔
مخصوص اوقات کے علاوہ گھر میں آنے جانے والوں کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں :
93۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ ان لوگوں کے لئے جو صاحب مکان کے لونڈی ‘ غلام ہیں یا اس گھر میں کام کاج کرنے والے ہیں ان کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی ان نابالغ بچوں پر کوئی پابندی ہے جو پردے کے معاملات سے پوری طرح واقف نہیں اور یہ بھی کہ ضرورت کے لئے ان کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ، جاسکتی وہ بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہوں یا دوسرے ہمسایہ وغیرہ کے یا جاننے بوجھنے والوں کے جن کا گھروں میں آنا جانا متعارف ہے اور ضرورت کے لئے سب لوگ ایک دوسرے کے ہاں اپنے بچوں کو بھیج دیا کرتے ہیں ۔ فرمایا ہم نے تمہارے لئے یہ بات کھول کھول کر واضح کردی ہے تاکہ اس کا کوئی پہلو مبہم نہ رہ جائے ، خیال رہے کہ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا حکم بیان کیا گیا ہے جن کا ایک گھر میں آنا جانا ناگزیر ہے عام لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے گھر میں جانے کے آداب پہلے بتائے جا چکے ہیں جن کا ذکر اس سورت کے حاشیہ 36 تا 40 میں بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 24:59بچے جب بالغ ہوجائیں یا بلوغت کے قریب پہنچ جائیں تو اب وہ بغیر اجازت اندر نہ آئیں :
94۔ ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کے آداب پہلے ذکر کئے جا چکے ہیں اور اجازت لینے کی ضرورت اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا جا چکا ہے اس عام اجازت سے گھروں میں کام کاج کرنے والے خادم اور لونڈی غلام اور نابالغ بچے مستثنی کئے گئے تھے پھر ان مستثنی کئے جانے والوں کے لئے بھی تین مخصوص اوقات میں اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا اب زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ بچے جو نابالغ ہونے کے باعث ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہے ہیں جب وہ قریب البلوغ ہوں یا بالغ ہوجائیں تو اب ان کے آنے جانے پر بھی وہی پابندی ہے جو عام لوگوں کو ایک دوسرے کے گھر جانے پر ہے یعنی اب وہ بغیر اجازت حاصل کئے اندر نہ داخل ہوں گویا جو حکم اجنبی لوگوں کا ہے وہی ان کا بھی ہے اور تفصیل پیچھے گزر چکی ہے ۔
Ayah 24:60عمر رسیدہ عورتوں کے لئے خاص رعایت کا ذکر :
95۔ وہ بوڑھی عورتیں جنہیں اب اولاد کی امید باقی نہیں رہی اور وہ مخصوص اوقات میں الگ تھلگ بھی نہیں رہیں گی اور گھروں میں رہتے ہوئے گھر میں کام کاج کرنے والوں اور عام بچوں میں اگر سر سے دوپٹہ اتار بھی دیں گی یا ان کے سر سے دوپٹہ اتر بھی جائے گا تو ایسی صورت قابل برداشت ہے کیونکہ اب وہ نانی ‘ دادی ہوچکی ہیں اور گھر میں ان کی ذمہ داری کی نوعیت بھی بدل چکی ہے اور ان کو خاص قسم کی زیب وزینت کی ضرورت بھی نہیں رہی کہ ہر بات کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور قوی مضمحل ہوجائیں تو خواہشات بھی سرد پڑجاتی ہیں ۔ ہاں ! ان کے لئے بھی جہالت کے مظاہرہ کی اجازت نہیں تاہم وہ حتی الامکان ایسی صورت حال سے بچیں تو یہ ان کے لئے زیادہ اچھی بات ہے ۔
دورجہالت کے رسم و رواج سے بچنا ان کے لئے بھی ضروری ہے :
96۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ عورتوں کے لئے عام حکم دیا گیا تھا (آیت) ” ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن “۔ وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل سے اپنے گریبان ڈھانک لیا کریں اب ان بوڑھی عورتوں کو اس حکم سے مستثنی کیا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اب ان کو نکاح کی ضرورت باقی نہیں رہی اس لئے اگر انہوں نے اپنی اوڑھنیوں کو اس خاص طریقہ سے استعمال نہ کیا تو بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا تاہم انکو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ دورجہالت کے رسم و رواج کو دوبارہ اپنے گھروں میں رائج کردیں اور انکی دیکھا دیکھی پر وہی جہالت کی باتیں شروع ہوجائیں اس لئے اتفاق اور بات ہے لیکن جان بوجھ کر اس میں سستی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ۔
تاہم بوڑھی عورتیں بھی احتیاط برتیں تو معاشرہ کے لئے اس میں بھلائی ہے :
97۔ زیر نظر آیت میں (القواعد من النسآئ) کے الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں کہ یہ اس قدر بوڑھی اور معمر ہوچکی ہیں کہ ان کو خود خواہشات نفسانی کی حاجت نہ رہی ہو اور انکو دیکھ کر بھی کسی انسان کو اس طرح کا خیال نہ آئے ، ایسی عمر رسیدہ عورتوں کو بھی دور جاہلیت کی عدات وخصائل کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ انکی آسانی کے پیش نظر مکمل طور پر پردہ نہ کرسکنے کے عذر کے پیش نظر ان کو مستثنی کیا گیا ہے ‘ دوسرے لفظوں مین ان معذور عورتوں کے عذر کو منظور کرلیا گیا ہے اور پھر تاکید بھی کی گئی ہے کہ یاد رکھو اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور علم رکھنے والا ہے وہ دلوں کے رازوں سے بھی خوب واقف ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ کس نے دور جہالت کی یاد کو تازہ کرنے کی غرض سے ایسا کیا ہے اور کون فی الواقع معذور ہے ، گھریلو زندگی کے ذکر کے باعث اب گھروں میں کھانا کھانے کے آداب و احکام کو بیان کیا جارہا ہے ۔
جان لینا چاہئے کہ پردہ کا مقصد معاشرتی روابط کا انقطاع نہیں :
98۔ دورجاہلیت میں یہ رواج تھا کہ لوگ اندھوں ‘ لنگڑوں اور مریضوں کے ساتھ کھانا کھانے سے کراہت کرتے تھے اس لئے ان سے مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے حالانکہ کسی شخص کا اندھا ‘ لنگڑا اور مریض ہوجانا اختیاری بات نہیں بلکہ ایسے کمزوروں کو اپنی کمزوری کا بہت خیال رہتا ہے اس لئے ان کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دینا چاہئے اور پھر یہ بھی کہ جب گھروں کے اندر جانے پر پابندیاں عائد کردی گئیں جو گزشتہ آیات میں بیان ہوئی ہیں تو شاید کچھ لوگوں نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ اسلام سوشل آزدیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے کہ خاص اپنے عزیزوں ‘ قریبیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں کوئی شخص آزادی سے نہیں جاسکے گا اور اس طرح بہت سے وہ لوگ جو معذور ومجبور تھے اور خصوصا اس زمانہ میں جب چو طرفہ جنگ جاری تھی ایسے لوگوں کی کثرت ہو چلی تھی اور ایسے لوگ اپنی مجبوریوں کے باعث یقینا اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں ہی کے گھروں پر گزر بسر کر رہے تھے بلاشبہ انہوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ اب ان کی آزادی محدود ہوگئی اس طرح کے بہت سے عوامل پیدا ہوگئے ہوں گے اور لوگ ایک دوسرے سے تبصرے کرتے ہوں گے اور بلاشبہ ہر طرح کی آزادی کے بعد اس طرح کی پابندی بھی بعض طبائع پر شاق گزری ہوگی اس لئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان سب کے شبہات کو دور کرنے کے لئے ایک ہی آیت میں اس سلسلہ میں بہت سی چیزوں کی وضاحت فرما دی کہ بعض احتیاطی پابندیاں عائد کرنے کا یہ مطلب نہیں جو لوگوں نے سمجھ لیا اور اندھوں ‘ لنگڑوں ‘ اپاہجوں اور مریضوں کو اپنے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے محروف کرنا مقصود نہیں اور اجازت طلب کر کے اندر داخل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے روک دیا گیا ہو بلکہ اجازت سے مقصود بعض غلط قسم کے میل جول سے ممانعت کی گئی ہے جس سے انسانی آزادی کو بحال کرنا مقصود ہے نہ کہ انسانی زندگی پر خواہ مخواہ قیود بڑھانا ، خود ہی غور کرلو کہ ایک انسان کو اپنے گھر کے اندر بھی آزادی سے رہنا نصیب نہ ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کو بھی جانوروں کی طرح راستوں ہی میں پورا کرنا شروع کر دے تو اس کی انسانی زندگی کی آزادی سلب ہوئی یا انسانی آزادی محدود ہو کر رہگئی اس لئے ان کو بتایا گیا کہ اسلام نے اس بات پر قطعا پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اپنے عزیز و قریب کے لوگوں سے آمد ورفت ہی مطلقا بند کردیں ۔ کھانے کے اوقات ہر وقت نہیں ہوتے بلکہ ہر معاشرہ کے اندر کچھ کھانے کے اوقات مقرر کئے گئے ہیں اور جہاں جہاں جس کا کھانا چلتا ہے سب کو معلوم ہے وقت معین پر اجازت حاصل کرکے اندر جایا جاسکتا ہے اور کھانا کھانے میں کوئی پابندی اس طرح کی عائد نہیں کی گئی کہ معذور لوگ دوسرے لوگوں سے مل کر کھانا نہ کھائیں بلکہ اسلام نے پوری وسعت سے کام لیتے ہوئے آپس میں مل کر یا الگ الگ کھانے کی اجازت برقرار رکھی ہے بلکہ معذوروں کو ہر گھر سے کھانا کھا لینے کی وضاحت کردی ہے اور ساتھ ہی تندرست لوگوں کو ایک طرح سے سمجھا دیا ہے کہ معاشرہ کے معذورلوگوں کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی تم پر لازم ہے اور رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں کھانا کھانے اور اس طرح دوستوں ‘ یاروں کے ہاں بےجھجھک کھالینے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس عادت کو بحال رکھا کہ یہ تمہاری مرضی کی بات ہے کہ تم مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ اپنے اپنے برتن میں لے کر کھانا کھاؤ جس طرح سے تم کھانے کے عادی ہو اسلام نے اس سلسلہ میں تم پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ، پردہ کا اپنا مقام ہے اور ظاہر ہے کہ کھانا کھانے میں کن اعضا کے کھولنے کی ضرورت ہے سب کو معلوم ہے کہ وہ منہ اور ہاتھ ہی تو ہیں اور ظاہر ہے کہ کھانا کھانے میں کن اعضا کے کھولنے کی ضرورت ہے سب کو معلوم ہے کہ وہ منہ اور ہاتھ ہی تو ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں تو پہلے ہی پردہ سے مستثنی رکھے گئے ہیں پھر اس معاملہ میں سب سے زیادہ احتیاط کی جو چیز ہے وہ آنکھ ہے اور زبان ہے اور ان دونوں پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ ہر حال میں موجود رہے گی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے اور خواہشات نفسانی سے پر لہجہ اختیار کرنے کی روک اپنی جگہ پر قائم ہے اور ان دونوں چیزوں کا کھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر جن گھروں میں کھلم کھلا کھانے کی اجازت دی جاتی ہے ان گھروں میں رہنے والے تو سب لوگ محرم ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کو روابط رکھنا پہلے ہی ممنوع نہیں ہے اور جو تین اوقات منع کئے گئے ہیں ان میں بھی اجازت لے کر جانے کی عام اجازت دی گئی ہے لہذا اس میں کسی قسم کی دشواری موجود نہیں بلکہ انسانی زندگی کی نہایت اہم بات اس جگہ بیان کردی گئی ہے اور ایک دوسرے کے ہاں پورے اہتمام کے ساتھ آنے جانے کو کہا گیا ہے اور مہمان اور میزبان دونوں کے لئے بہترین ادب سکھانے کی کوشش کی ہے اور پھر یہ قانون وقتی قانون نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے یہ قانون بنا دیا گیا ہے جس میں آسانی اور سہولت کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔
Ayah 24:61جن گھروں میں کھانا کھانے کی اجازت عام دی گئی ہے ان پر مزید ایک نگاہ ڈال لیں :
99۔ ان گھروں کی پوری فہرست پر ایک نظر ڈال لو ظاہر ہے کہ اپنے گھروں سے مراد وہی گھر ہیں جن گھروں کی ذمہ داری تمہارے اپنے کندھوں پر ہے اور اپنی اولاد گھر بھی ظاہر ہے کہ اس ضمن میں آتے ہیں باپ دادوں ‘ ماؤں ‘ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں اپنے چچوں ‘ پھوپھیوں ‘ ماموؤں اور خالاؤں کے گھروں میں جا کر کھانا پکانے والیاں ‘ کھانے کھلانے والیاں اور کھانے کھانے والوں میں کیسا کیسا رشتہ بنتا ہے اور کتنا قرب یہاں موجود ہے ایک ایک بات کو نگاہ میں رکھو اور یہ بھی کہ اگر تم وہاں سے کھا رہے تو عین ممکن ہے کہ تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ ہی ہو اور اس طرح ان لوگوں کی اولادوں کا وہاں موجود ہونا بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلہ میں یہاں کسی قسم کی مزید وضاحت بھی نہیں کی گئی تو ان سب کے ہاں ظاہری سب کی موجودگی میں میل جول کی کوئی ممانعت بھی نہیں کی گئی اس بات پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہئے جو پردے کے سلسلہ میں عورت کو ایک انسان سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ وہ عورت کو محض ایک شیطان تسلیم کرتے ہیں اور اس چیز نے بعض لوگوں کو اس قدر غصہ دلایا کہ وہ آج اسلام کے نام سے بھی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور شاید ان کو بتانے والا ایک بھی نہیں جو ان کو بتائے کہ اسلام نے تو عورت کو بہت بلند مقام دیا ہے یہ محض چند سرپھیروں کی طرف سے کہی گئی بات ہو سکتی ہے اسلام نے مردوں اور عورتوں کو ایک جنس کی دو قسمیں ضرور قرار دیا ہے اور حیوانوں کی طرح اس نے ایکدوسرے کو سونگھنے کی اجازت نہیں دی بلکہ انسانی زندگی کا پورا پورا احترام سکھایا ہے اور ان دونوں صنفوں کو الگ الگ ذمہ داریوں سے روشناس کردیا ہے اور ان کی فطرت کو اجاگر کر کے دونوں کو اپنے اپنے مقام میں وقار کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھایا ہے اور ان کو باور کرانے کی پوری کوشش کی ہے کہ بلاشبہ تم حیوان ہو لیکن حیوانیت سے آگے بڑح کر تم انسان بھی ہو اس لئے انسانیت کی قدر کرو کہ حیوانیت سے انسانیت کا درجہ بہت بلند ہے اور اپنی بلندی کو نظر انداز کرکے صرف حیوانیت کی طرف مائل نہ ہوجاؤ بلکہ ایک گھوڑے اور ایک انسان کے فرق کو مدنظر رکھو۔
وہ کون ہیں جن کی کنجیاں تمہارے سپرد کی گئی ہیں ؟ :
100۔ اس حکم کے مختلف پہلو بتائے گئے ہیں بعض نے غزوات میں جاتے وقت معذور لوگوں کو پیچھے اپنی جائیدادوں پر مقرر کئے جانے والے لوگ مراد لئے ہیں اور بعض نے اس سے مراد اپنے غلام اور لونڈیاں لی ہیں اور بعض نے جائیدادوں کے مستقل انتظام کرنے والے مراد لئے ہیں جیسے بڑے جاگیرداروں کی جاگیروں اور بڑے بڑے کاروباروں پر متعین کردہ لوگوں سے لی ہے اور ان الفاظ کی وسعت ان سب پر حاوی ہے اس لئے ضرورت کے ساتھ ہر ایک اس سے مراد لیا جاسکتا ہے لیکن جن مفسرین نے اس سے مراد وہ یتیم بچے لئے ہیں جنکی نگہبانی کے لئے کسی کو ان کا کفیل بنایا گیا ہو اور ہمارے نزدیک یہ لوگ اس سے مراد نہیں لئے جاسکتے کیونکہ یتیم کے مال کو اس طرح کھانے کی اجازت کسی حال میں بھی نہیں ہے ہاں باقی لوگوں کو جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے صاحب مال کے مال سے بقدر کفایت کھانا کھا لینے کا حق ہے اور یہ بات اس حفاظت ونگہبانی کے ضمن میں آسکتی ہے ۔
دوستوں کے گھروں سے کھانا کھا لینے کی بھی اجازت ہے :
101۔ بلاشبہ دوستوں میں ایسے گہرے دوست بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی اور عدم موجودگی میں کھانا کھایا جاسکتا ہے کیونکہ بےتکلف اور جگری دوستوں کے ہاں سے کھا لینے میں ان پر بھی شاق نہیں گزرتا بلکہ ایک دوسرے پر حق قائم ہوجاتا ہے بلاشبہ اس حق کو قرآن کریم نے بھی بحال رکھا ہے بلکہ زیر نظر آیت میں وضاحت سے اس کی اجازت دی ہے اور خصوصا دوستوں کے ذکر کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ تم سب لوگ آپس میں مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ ہر طرح کی اجازت ہے جو طریقہ بھی اختیار کرلیا گیا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اندازہ کیجئے کہ اس سے زیادہ وسعت اور کیا ہو سکتی ہے فریقین کا اطمینان ہو تو اسلام اس اطمینان کی صورت حال کو خوشی سے قبول کرتا ہے اور پھر جہاں اس قدر وسعت موجود ہو وہاں اس طرح کی پابندیاں جو نام کے مذہبی پیشواؤں نے ڈنڈے سے عارضی طور پر لگا رکھی ہیں کہاں ان کا کوئی وجود اسلام میں موجود ہے ؟ دراصل ان مجسمہ گناہوں نے اپنے گناہوں کے باعث عورت کو اپنی ہوس کا ازالہ سمجھا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ عورت مرد کے لئے ایک کھلونا ہے کہ وہ اس سے کھیلے اور پھر بند کرکے رکھ دے اور خود جہاں گلچھرے اڑاتا پھرے ۔ اس طرح انہوں نے اپنے گندے کردار کو ایک ستھرے کردار کی عورت کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کی ہے بہرحال یہ اسلام مذہبی پیشواؤں کا خود تراشیدہ ہے اسلام نے من حیث العقل جنس انسان کی دونوں اصناف کو انسانیت سے روشناس کرایا اور حیوانیت سے ان کو بلند مقام عطا کیا ہے اور دونوں کو تفہیم کرایا ہے اور کسی صنف پر غیر فطری پابندیاں عائد نہیں کیں بلکہ فطری پابندیوں سے روشناس کرایا ہے جو پابندیاں انسانیت کے لئے ہر صاحب عقل وفکر انسان تسلیم کرتا ہے جیسا کہ اس کی وضاحت گزر چکی ۔ مل کر کھانے والے اگر ایک گھر ہی کے افراد ہوں گے تو ایک میز ‘ ایک دستر خوان اور ایک برتن تک مراد لئے جاسکتے ہیں جیسی کسی خاندان کی عادت ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ خاندان ہوں گے جیسا کہ اوپر ذکر ہے تو مردوں کے ساتھ مرد اور عورتوں کے ساتھ عورتیں مل کر ایک دسترخوان ‘ ایک میز یا ایک برتن میں کھاسکتے ہیں اور سب افراد کا ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھانا بھی مراد ہو سکتا ہے اور ایک جگہ تیار شدہ کھانا الگ الگ برتنوں اور الگ الگ گھروں یا جگہوں میں بھی حسب حال مراد لیا جاسکتا ہے ، مختصر یہ کہ دائرہ حیوانیت سے نکل کر دائرہ انسانیت میں داخل ہونے کے بعد دائرہ انسانیت میں رہتے ہوئے سوسائٹی کا نظام ہی دراصل اسلام کا نظام ہے ۔
گھروں میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم سے اجازت حاصل کرنا کفایت کرتا ہے :
102۔ گھروں میں داخل ہونے کے آداب اس سورت کی آیت 27 ‘ 28 میں بیان ہوچکے ہیں وہاں سے تفصیل ملاحظہ کریں ‘ زیر نظر آیت کے آخر میں بھی اس بات کو ایک بار پھر دہرایا گیا ہے کہ گھروں میں داخل ہوتے وقت اجازت طلب کرنا اور پھر اجازت کا مل جانا بہت ضروری ہے اجازت کا طریقہ دروازہ کھٹکھٹانا ‘ گھنٹی کا بٹن دبانا ‘ فون پر اجازت طلب کرنا سب درست ہے تاہم اسلامی روایات کا پاس کرتے ہوئے داخل ہوتے وقت گھروالوں کو السلام علیکم پیش کرنا بھی ضروریات اسلام میں سے ہے اس لئے ان احکامات کے خاتمہ پر ایک بار پھر یہ بات دہرائی جا رہی ہے کہ اسلامی آداب کے مطابق گھر والوں پر سلام پیش کرو اس سے محبت اور خلوص انشاء اللہ العزیز بڑھے گا اور میزبان بھی خوش ہوں گے اور اسلامی آداب کو بھی فروغ ہوگا پھر تاکیدا فرما دیا کہ یہ اسلامی آداب اللہ تعالیٰ نے تم کو سکھائے ہیں یہ وہ دعا ہے جس میں بہت ہی برکتیں رکھی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے نشانات کھول کھول کر تم پر واضح کردیئے ہیں اور انہی میں تمہاری فلاح و کامیابی ہے جو صاحب عقل وفکر احباب کو معلوم ہے ۔
Ayah 24:62اجتماعی کاموں سے کھسکنے والوں کو منافق ہی کہا جاسکتا ہے :
103۔ اوپر جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ خالصتا اسلامی احکام ہیں اور بلاشبہ یہ سب احکام اجتماعی زندگی کے لئے پتھر پر لکیر ہیں ان میں مین میکھ نکالنے والے اور شک و شبہات پیدا کرنے والے اور طرح طرح کی کٹ حجتیاں پیش کرنے والے دراصل وہ لوگ ہیں جو خود بیمار ہیں اور نفاق کے مرض میں مبتلا ہیں اگرچہ منافق نے کبھی اپنے مرض نفاق کو تسلیم نہیں کیا اس لئے تم اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر پکا اور سچا ایمان رکھنے والے وہی لوگ ہیں کہ جن کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جو حکم ملے وہ اس پر دلی رضا ورغبت سے جم جائیں اور اجتماعی کاموں سے ذرا بھر بھی نہ کترائیں ‘ ہاں ! اگر ان کو کوئی سخت ضرورت پیش آئے تو وہ اپنی ضرورت کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے یا اپنے امیر وقت کے سامنے رکھ دیں اور جب تک وہاں سے اجازت نہ ملے وہ کسی صورت بھی کھسکنے کا نام نہ لیں بلاشبہ جو لوگ اجتماعی کاموں کے وقت کھسکنا شروع ہوجاتے ہیں اور ان کے پاؤں آگے کو حرکت کرنے کی بجائے پیچھے کو حرکت کرنا شروع کردیتے ہیں ان کے منافق ہونے میں ذرا بھی شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ قومی یا دینی معاملات سے انفرادی معاملات پر ترجیح رکھتے ہیں اس لئے جب کسی قومی یا دینی اجتماع کے لئے طلب کیا جائے تو وہاں ضرور حاضر ہونا چاہئے اور پھر یہ بھی کہ جب تک وہاں سے اجازت نہ ملے وہاں سے کھسکنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خیال رہے کہ آج کل فی زماننا حکومت یا قوم کے سیاسی لیڈر یا مذہبی راہنما جو اجتماعات کرتے ہیں ان کی حیثیت اسلامی نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہے اور ہاتھ کھڑے کر کے ان کو خوش کرنا لہذا ان کی شرعی حیثیت نہیں ہے اگر کوئی شخص یہ ہمت رکھتا ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ ہاں میں ہاں نہیں بلکہ صحیح بات پیش کرے گا اور وہ اس پوزیشن میں ہے تو شامل ہو اور صحیح بات برملا کہہ دے ورنہ حاضری نہ دینے پر وہ اس حکم کی خلاف ورزی میں نہیں آتا بلکہ شامل نہ ہو کر اشتعال پیدا نہ کرنے کی ضمن میں آتا ہے اور اس کی اصلاح کی کئی اور صورتیں ہو سکتی ہیں جن کو اپنایا جاسکتا ہے اس لئے ایسے اجتماعات سے گریز کرنا اسلامی ہدایت کے منافی نہیں ہے ۔
باقاعدہ اجازت طلب کرنے والے لوگوں کے ایمان میں کوئی شبہ نہیں :
104۔ اسلام میں گروہ بندیوں کا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کو قرآن کریم نے شرک قرار دیا ہے ۔ پھر جب مختلف گروہوں کا کوئی مقصد نہیں تو ہر گروہ کے لئے ایک الگ امیر اور پیشوا کا کیا مقام ہو سکتا ہے ۔ آج کل جو صورت حال ہمارے ملک میں ان مذہبی پیشوایان اسلام نے بنا رکھی ہے اس کا کوئی جواز اسلام میں نہیں ہے کہ لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کرکے ہر گروہ کے لئے ایک الگ امیر مقرر کیا گیا ہے اور پھر ہر گروہ سے اس امیر کی اطاعت کا تقاضا کیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس تقاضا کو پورا نہ کرے تو اس پر فتوی صادر کیا جاتا ہے کہ یہ مومن ومسلم نہیں ہے ، خیال رہے کہ اسلام میں صرف اور صرف ایک امیر ہونا چاہئے اگر ملکی تقسیم ناگزیر ہوچکی تو ایک ملک کے لئے ایک امیر ضروری ہے اور اس کی اطاعت لازم قرار دی جاسکتی ہے یہ جماعتی امیر جب کہ اپنا کوئی امیر نہ رکھتے ہوں بلکہ ہر امیر اپنے گروہ کا ایک مستقل امیر ہو اور اپنی اطاعت کے لئے وہ لوگوں کو دعوت دے تو اس امارت کو اسلامی امارت نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ سب کا سب ایک فتنہ ہے علاوہ ازیں کچھ بھی نہیں ایک سیاسی حکومت بنائی گئی ہے اور اس کو اسلامی حکومت کا نام بھی دیا گیا ہے اور پھر اس کے باوجود مختلف پیشوا بھی اپنی اپنی پیشوائی کا دم بھرتے اور قوم کو اپنی امارت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی بوکھلا چکے ہیں اور لوگوں میں بھی بوکھلاہٹ کا باعث ہوتے ہیں اس لئے یہ کچھ اس طرح کا کھیچڑ پکایا گیا ہے جس میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رکھی گئی اس لئے نہ تو یہ اسلامی امیر قرار دیئے جاسکتے ہیں اور نہ ہی انکی پیروی لازم وضروری قرار دی جاسکتی ہے ، ہر آدمی کو یہ حق دیا جانا کہ وہ اپنی چرب زبانی یا اپنی مالی حالت کے پیش نظر چند آدمی اپنے ساتھ لگا لے اور اخبار و ٹیوی میں اپنا ایک اشتہار دے کا ایک جماعت تشکیل دے لے اور خود اس کا امیر بن بیٹھے اور اس طرح حکومت سے اپنے امیر ہونے کی ایک سند حاصل کرلے اور ماننے والوں پر قرآن کریم کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو فٹ کرنا شروع کر دے تو اسلام کی رو سے اس پر مواخذہ کیا جائے گا نہ کہ اس کی امارت کے ساتھ اس کی وابستگی اسلام کا کام تصور ہوگا ۔
خلیفہ وقت کو ہدایت کہ ہدایت کہ اجازت طلب کرنے والوں کا وہ جائزہ لے کر فیصلہ کرے :
105۔ باقاعدہ اجازت طلب کرنے والوں کے حالات کا جائزہ لینے اور پھر حالات کا تقاضا ہو تو ان کو اجازت مرحمت کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے ، خلیفہ وقت یا امیر قوم کا کام ہے کہ وہ قانون کے مطابق اجازت طلب کرنے والوں کی انکو ائری کا حکم دے اور اگر ثابت ہوجائے کہ اجازت طلب کرنے والے کو اجازت ملنی چاہئے تو اجازت دے دی جائے اور اگر عذر معقول نہ ہو تو اجازت نہ دی جائے بلاشبہ یہ سارے خانگی امور ایسے نہیں ہیں کہ ہر ضرورت کے لئے اجازت دی جائے بلکہ کوئی اہم معاملہ ہو یا بہت نقصان ہوتا ہو تو اجازت دینی چاہئے اس مقصد کے لئے جو محکمہ بنایا گیا ہے اس کی اجازت حاکم وقت ہی کی اجازت تصور ہوگی اور یہی حال ہر معاملہ کا ہے اور قانون کے مطابق الفاظ استعمال کرنے کا یہی مطلب ہے۔ چونکہ انسان سے کمی بیشی کا احتمال ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں سے کوئی کمی بیشی ہوجائے ان کے بخشش طلب کرو کہ اللہ تعالیٰ بخش دینے والا ‘ معاف کرنے والا ہے ۔
Ayah 24:63رسول اللہ ﷺ کا بلانا ایسا نہیں جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو :
106۔ مسلمانوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بلانا تمہارے ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہیں کیونکہ ایکد وسرے کا بلانا ذاتی یا دنیوی ضروریات کے لئے ہوتا ہے اور رسول کا بلانا محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (دعآئ) استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی بلانے کے بھی ہیں اور دعا کرنے کے بھی اس لئے (دعآء الرسول) کے معنی رسول اللہ ﷺ کو بلانے کے بھی ہوسکتے ہیں اور دعا کرنے کے بھی اور اس طرح رسول کو پکارنے بھی اس لئے آیت کا مفہوم تین طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے اور ہر طریقہ کا مفہوم مراد لیا جاسکتا ہے ۔
1۔ ” رسول اللہ ﷺ کے بلانے کو عام آدمیوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو “ مطلب یہ ہے کہ تم کو رسول اللہ ﷺ بلائیں تو آپ ﷺ کے بلانے کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو بلکہ فورا حاضر ہوجاؤ اگر تم نے دیر کی تو مستوجب سزا ٹھہرو گے اس لئے سنتے ہی حاضر ہوجاؤ اگرچہ تم کسی اہم کام میں مصروف ہو اور اسی طرح آپ ﷺ کے بلانے کو دل میں ذرا بھر بھی بھاری نہ سمجھو اور تنگی محسوس نہ کرو کہ ایسا کرنے ایمان کے جاتے رہنے کا خطرہ ہے ۔
2۔ یہ بھی کہ ” رسول اللہ ﷺ کی دعا کو عام آدمیوں کی سی دعا نہ سمجھو “ وہ تم سے خوش ہو کر تم کو دعا دیں تو تمہارے لئے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں ہو سکتا اور دنیوی نعمتوں میں سے کوئی نعمت بھی اس سے بڑی نہیں ہو سکتی اور اگر رسول اللہ ﷺ ناراض ہو کر کچھ فرما دیں تو تمہاری اس سے بڑھ کر کوئی بدنصیبی نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیاو آخرت دونوں جگہ خسارہ کا باعث ہوگی ۔
3۔ ” رسول اللہ ﷺ کو پکارنا عام آدمیوں کا ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نہیں ہے “ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جس طرح ایک دوسرے کا نام لے کر ایک دوسرے کو پکارتے ہو اور ایک دوسرے کو زور زور سے پکارتے ہو آڑ کے پیچھے بھی بلاتے ہو اور بآواز بلند ذاتی نام سے پکارتے رہتے ہو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو مت بلاؤ کیونکہ یہ نہایت بےادبی اور گستاخی کی بات ہے کہ تم آپ ﷺ کو ” یامحمد “ کہہ کر پکارو لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے ایک دوسرے کی ضد کے باعث ان باتوں میں سے کسی کی بھی حفاظت نہ کی اور آج اس سلسلہ میں جو کچھ کہا ‘ سنا جاتا ہے سب لوگ اس سے اچھی طرح واقف ہیں زیادہ وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
حقیقت میں ” دعاء الرسول “۔ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا دین حق کی طرف دعوت دینا ہے اور اہم امور دین کے لئے بلانا اس سے مراد ہو سکتا ہے اور سیاق وسباق بھی اس معنی کو طلب کرتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے جو دعوت دی تھی اس کا منشا یہی تھا کہ دین حق دنیا میں پھیلایا جائے اور لوگوں کو نیکی کی تعلیم دی جائے اور بری باتوں سے لوگوں کو روکا جائے لیکن افسوس کہ آج لوگ باجود مسلمان کہلانے کے آپ ﷺ کی دعوت کو ایک دوسرے کی دعوت کی طرح بھی قرار نہیں دیتے ایک دوسرے کو جس کام کی طرف بلاتے ہیں ادھر رخ کرنا آسان ہو رہا ہے مگر رسول اللہ ﷺ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور یہی وہ فتنہ ہے جو اس وقت دنیائے اسلام میں سارے فتنوں سے زیادہ بڑا ہے ، جس کے باعث مسلمان قوم من حیث القوم آج عذاب الیم میں مبتلا نظر آرہی ہے ۔
آنکھیں بچا کر نکل جانے والوں سے اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے :
107۔ (یتسللون) کی اصل س ل ل ہے اور سل کے معنی کسی چیز کو پیچھے سے کھینچ لینے کے ہیں اور نرمی کے ساتھ نکال لینے کے ہیں یا نرمی کے ساتھ نکل جانے کے اور اس طرح چھپ کر نکل جانے پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اور ” لواذا “ لاوزیلاوز سے ہے جس کے معنی ہیں کسی دوسری چیز کی آڑلی یعنی اس کے پیچھے چھپ گیا یا اس کے ذریعہ سے چھپ گیا اور مطلب یہ ہے کہ باتوں ہی باتوں میں ٹال مٹول کرکے دوسری طرف نکل گیا ، منافقین کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ باتوں ہی باتوں میں ٹال مٹول کرکے خاموشی کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور جو مطلب کی ہوتی ہے اس کو قبول کرتے ہیں اور دوسری بات پر کبھی دھیان ہی نہیں دیتے ، بات صاف ہوگئی کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب رسول انکو بلاتے ہے تو وہ لوگوں کو دکھاوے کے لئے پیش پیش رہتے ہیں اور خوب جی حضوری کرتے ہیں لیکن جب وہاں پہنچ کر ان کو دیکھا جاتا ہے تو وہ کہیں نظر نہیں آتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ راستہ ہی سے کسی ایسے طریقہ سے نکل جاتے ہیں کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں فلاں آنکھوں میں دھول ڈال کر نکل گیا ۔
ان لوگوں کو ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجائیں :
108۔ نبی کریم ﷺ کی حکم عدولی کرنے والوں کو ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آجائے یا انکو دردناک عذاب میں مبتلا نہ کردیا جائے ، یہ آفت کیا ہو سکتی اور عذاب کیسا ہو سکتا ہے ؟ منافق ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان مسلمان ہوچکے ہیں اور باطن ان کا اسلام کو قبول نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ وہ خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن خلاف ورزی کے لئے اپنی طرف سے پوری احتیاط بھی برتتے ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کا عام علم نہ ہو اور ظاہر ہے کہ جیسا ان کا عمل ہے ویسا ہی نتیجہ نکلنا چاہئے ، اور اس طرح نکلے گا کہ ان پر ظالم بادشاہ اور حاکم مقرر کر دئیے جائیں گے اور فتنے کی یہی ایک صورت ان کے عمل کا صحیح نتیجہ ہوگا اور پھر آپس میں تفرقے ہوں گے اور خانہ جنگیاں شروع ہوجائیں گی پھر ایک قوم وملت کہلانے کے باوجود وہ لعنت الہی کے مستحق ہوں گے اور ان کا اخلاقی زوال ایک دنیا جانے گی اور ہوتے ہوتے وہ اپنا اعتبار واعتماد کھو بیٹھیں گے اور کوئی قوم بھی ان کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوگی اگر آپ برا نہ مانیں تو اس وقت مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ تقریبا اسی طرح کی ہوچکی ہے اور افسوس یہ ہے کہ اس عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود آج ہم اس کو عذاب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہی ہٹ دھرمی ہم کو ذلیل سے ذلیل تر کرتی چلی جا رہی ہے ۔
Ayah 24:64آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے :
109۔ تنبیہہ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ خبردار ! اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین و آسمان کا نظام ابتدا سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے قبضہ واقتدار میں ہے وہ جس قوم میں ان اصول وکلیات کی پابندی دیکھتا ہے اس کو روحانی وجسمانی برکات سے مستفید ہونے کا پورا پورا موقع دیتا ہے یہ لوگ دنیا میں اپنی قومی حکومت قائم کرکے آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور اخرت میں اپنے اعمال حسنہ کی وجہ سے جنت میں آرام کریں گے ، جس وقت یہ قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ کو اس بات کی پوری خبر تھی کہ ان اصول اساس کی اس وقت سب سے زیادہ اگر کوئی جماعت پابند ہے تو وہ صرف وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صحبت وتعلیم سے تیار ہوئے ہیں اس لئے ان کو ارض مقدس کی حکومت نوازش کی گئی ۔
خیال رہے کہ اعمال کی تہ میں جو کمزوریاں باقی رہ جاتی ہیں ان پر کوئی دنیاوی قانون گرفت نہیں کرسکتا مگر جس روز احتساب اعمال شروع ہوگا اور سب لوگ دربار خداوندی میں حاضر ہوں گے اس دن وہ ان سے پورا پورا حساب لے لے گا کیونک وہ ہرچیز کو اچھی طرح جانتا ہے ۔
اسی مضمون پر ( سورة النور) ختم ہو رہی ہے وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین ۔
عبدالکریم اثری
ٹھٹہ عالیہ :
27۔ مارچ 1997 ء