24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل و کشائش ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ اپنے عزیزوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دیں گے ، چاہیے کہ وہ ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا پیار کرنے والا ہے

صاحب کشائش وسعت نہ رکھنے والوں پر حد سے تجاوز نہ کریں : 31۔ (یاتل) کا تعلق (الوت) سے بھی ہو سکتا ہے اور (الیت ) سے بھی (الوت) کے معنی ایک بات میں کمی کرنے کے ہیں اور (الیت) کے معنی قسم کھانے کے ہیں اور دونوں معنوں سے مفہوم صحیح اور درست ہوجاتا ہے ” صاحب فضل قسم نہ کھائیں “ ” صاحب فضل کمی نہ کریں “ کسی غریب ومسکین رشتہ دار یا غیر رشتہ دار سے کوئی اچھا سلوک کرتے ہیں ان کو کھلاتے پلاتے ہیں ان کو صدقہ و خیرات ادا کرتے ہیں ‘ ان کے کام آتے ہیں لیکن جب انکی طرف سے کوئی رنج پہنچ جائے یا کوئی دکھ آلگے تو ان سے وہ نیکی کرنا ‘ ان کا ہاتھ بٹانا ‘ ان کو صدقہ و خیرات دینا بند کردیں تو یہ گویا برائی کے دل بدلہ میں برائی ہوئی جو کوئی خوبی کی بات نہیں ، خوبی کی بات تو یہ ہے کہ برائی کے بدلہ میں نیکی کی جائے بلاشبہ یہی نیکی اصل نیکی ہے ، نیکی کے بدلہ میں نیکی کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے ۔ حکم عام ہے اگرچہ اس کا شان نزول خاص ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ اس سے مراد سیدنا ابوصدیق ؓ سیدہ عائشہ ؓ کے والد ماجد کے متعلق سمجھا گیا ہے لیکن یہ کوئی مخصوص حکم نہیں بلا اس کا تعلق اس سے بھی ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا تاہم حکم دوسرے قرآنی احکام کی طرح عام ہے جو اس وقت بھی عام تھا ‘ آج بھی عام ہے اور رہتی دنیا تک عام ہی رہے گا ، خوبی کی بات ہمیشہ خوبی کی بات ہی ہوتی ہے ، غور کیجئے کہ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو اخلاق کی کن بلندوں پر پہنچانا چاہتا ہے ، ایک آدمی اپنے ایسے محسن کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور ایسا چرکا لگاتا ہے کہ اس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا پھر وہ محسن اس سے کوئی خاص انتقامی کاروائی بھی نہیں کرتا ‘ نہ ناراض ہوتا ہے ‘ نہ احسان جتلاتا ہے نہ کسی طرح سے اس کی کردار کشی کرتا ہے اور کرتا ہے تو صرف یہ کہ اس سے مالی تعاون کرنے سے ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اس کی بات بھی بھلی نہیں لگتی اور اس کو برملا کہا جاتا ہے کہ تم اپنے اس فعل سے باز آجاؤ کہ تمہارا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ تم ایک ادنی آدمی کے مقابلہ میں آجاؤ اور اس سے محض اس لئے ہاتھ روک لو کہ اس نے اپنی سادگی اور ناسمجھی کے باعث تم پر زیادتی کردی ہے ۔ بلاشبہ اس کی زیادتی کی شرعی سزا اس کو ملنی چاہئے لیکن اس سے ہاتھ کھینچ لینا اس کے فعل کی شرعی سزا نہیں ہے ۔ اس کو بتایا جارہا ہے کہ تم اس رسول مکرم ﷺ کے تعلیم یافتہ ‘ صحبت یافتہ اور خاص آدمی ہو جس نے ہمیشہ پتھر مارنے والوں اور راستہ میں میں کانٹے بچھانے والوں کے لئے بھی اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگی ہیں کہ ” اے اللہ ! ان کو معاف فرما دے یہ جانتے نہیں کہ میں تیرا بھیجا ہوا ایک رسول ہوں “ یعنی ابھی ان کو اس بات کا یقین نہیں آیا ان کے ساتھ مہربانی فرما اور ان کے اندر اس بات کا یقین پیدا کر دے کہ یہ جان جائیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ انسان اور خطا لازم وملزوم ہیں اگر ایک سے ہوئی ہے تو دوسرے سے بھی ممکن ہے : 32۔ اس بیان سے یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ طوفان بپا کرنے والے منافق تھے لیکن ان منافقین کے چرکے میں کچھ سادہ لوح مسلمان بھی آگئے تھے جن کے دل تو یقینا بیمار نہیں تھے لیکن وہ وقتی طور پر اس مرض میں مبتلا ہوگئے تھے اگرچہ بعد میں ان کو بہت افسوس ہوا ہوگا تاہم جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا منہ سے نکل ہوئی بات اور شیشہ پر پڑجانے والی لکیر مٹائے کب مٹتی ہے اس سے تو چشم پوشی ہی کی جاسکتی ہے ان کی معذرت قبول کرلی جائے یا اللہ کی رضا کے لئے خاموشی اختیار کرلی جائے اور انتقام لینے کی طاقت وقوت ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ انتقام نہ لیا جائے بلکہ ان کی معافی طلب کئے بغیر ہی ان کو یک طرفہ معاف کردیا جائے ، ایسے لوگوں کے لئے انعام قرآنی ایک بہت بڑا انعام ہے کہ ان کو صاحب فضل کہا گیا ہے اور صاحب مال بھی تسلیم کیا گیا ہے اور ایسے صاحب فضل اور صاحب مال پر جب اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرنا چاہتا ہے تو اس کو توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی ذرا اور جھک جائے اور اپنے آپ کو صاحب فضل اور صاحب مال نہ سمجھے بلکہ یہ بات دوسروں کو سمجھنے دے اور خود اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے جھک جائے تاکہ اللہ کریم اس کے فضل و کرم اور مال ومنال میں مزید اضافہ فرما دے ۔ ان آیات کریمات کو پڑھیں اور اپنے آپ کا تجزیہ کریں کہ کیا ٰیہ خوبی آپ میں ہے ؟ کیا آپ انتقام کی قدرت و طاقت رکھنے کے باوجود انتقام نہیں لیتے ؟ کیا آپ اپنے سے کم تر لوگوں کے ساتھ اس وسعت سے کام لے سکتے ہیں ؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو آج ہی سے اپنی اصلاح کا خود تہیہ کرلیں اور اس معاملہ میں جو کچھ بھی نفس باور کرائے اس کو جھٹک دیں ‘ دیر نہ کریں ” ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے ۔ “
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ پاک دامن ، بیخبر اور ایمان والی عورتوں پر اتہام لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

پاکدامن مومن عورتوں پر الزام لگانے والے لعنت الہی کے مستحق ہیں : 33۔ پیچھے ایک خاص واقعہ کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں عام قانون بیان کیا جا رہا ہے کہ یاد رکھو جو لوگ پاکدامن عورتوں پر اس طرح کا الزام لگائیں خصوصا وہ عورتیں جو طبعا انتی نیک ہوتی ہیں کہ ان کے دلوں میں کسی ایسی حاکت کا خیال تک بھی نہیں آتا ‘ جو ایسے ماحول میں پرورش پاتی ہیں جو ماحول فرشتوں سے بھی پاکیزہ لوگوں کا ہے جو ایسی مصروف ترین زندگی بسر کر رہی ہوتی ہے کہ ان کے لئے ایسے گندے تخیلات کے اپنانے کا وقت ہی نہیں ہوتا اور جن کا قدم کبھی چار دیواری سے باہر ہی نہیں نکلتا الا کسی شرعی ضرورت کے لئے اور وہ اپنی فطرت و پاکیزگی کے باعث کمینہ خصلت لوگوں کے طور اطوار سے بالکل ناواقف اور انجان ہوا کرتی ہیں اور انہیں کبھی بھولے سے بھی ایسا خیال نہیں آتا کہ ان پر بھی کوئی شخص انگشت زنی کرسکتا ہے فرمایا جو شخص ایسی نیک فطرت ‘ عفت شعار مسلمان عورتوں پر اس قسم کا گھناؤنا الزام لگاتا ہے دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی اس پر پھٹکار ہوگی اور انجام کار اس کو درد ناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا ، ایک ایسا واقعہ معرض وجود میں آیا جس سے اس وقت یقینا کچھ افراد کو ذہنی اذیت پہنچی لیکن الزام لگانے والے جب خود قانون کی زد میں آگئے اور ملزم کو الہی عدالت سے بری کردینے کا اعلان ہوا تو یقینا ان کی ذہنی اذیت بھی دور ہوئی اور اس بریت سے ایک خوشی بھی حاصل ہوگئی اور امت کے عورتوں کے لئے ایک قانون بھی پاس ہوگیا جو رہتی دنیا تک کام آتا رہے گا ۔ بعض مفسرین نے زیر نظر آیت کو امہات المومنین کے لئے خاص کرنے کی سعی و کوشش کی ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے نہ قانون کے اندر کوئی ایسا اشارہ موجود ہے نہ شارع نے اس کی کوئی ایسی تشریح کی ہے اور نہ ہی عقل ہی اس کو قبول کرتی ہے بلکہ اس کے برعکس نبی اعظم وآخر ﷺ نے جن سات موبقات چیزوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے اس میں ساتواں نمبر اسی کو قرار دیا ہے احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچتے رہو ۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ ہلاک کردینے والی سات چیزیں کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کا شریک کرنا ۔ 2۔ جادو کرنا (جادو کیا ہے اس کا ذکر پیچھے گزر چکا) 3۔ کسی بےگناہ کو قتل کرنا ۔ 4۔ سود کھانا ۔ 5۔ یتیم کا مال کھانا ۔ 6۔ میدان جنگ سے بھاگ آنا ۔ 7۔ پاکدامن ‘ بیخبر مومن عورتوں پر تہمت لگانا ۔ شاید کسی ذہن میں خیال پیدا ہو کہ یہ ایمان کی شرط کیوں ؟ یقینا اس لئے کہ یہ معاشرہ اسلامی کا قانون بیان کیا جارہا ہے اور اس کو کفر کے معاشرہ سے الگ کرنے کے لئے یہ لفظ بیان کیا گیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ اسلام کا قانون ہے جو کسی دنیوی مقننہ کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی کیا گیا ہے اور جس مملکت میں اس کا نفاذ نہیں ہوگا وہ مملک اسلامی نہیں ہوگی ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلم عورت کی عزت کو محفوظ نہیں رکھا گیا بلکہ تشریحات میں اس کی وضاحت موجود ہے نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا قذف المحصنۃ یھدم عمل مائۃ سنۃ (طبرانی) کسی پاکدامن عورت پر بہتان لگانا سو سال کی نیکیوں کو برباد کردیتا ہے لہذا اسلامی مملکت میں نفاذ قانون میں ہر ” محصنہ “ کے لئے یہی قانون ہے ۔ اور قانون میں علیحدہ وضاحت کی بجائے ساتھ ہی وضاحت کردی گئی ہے کہ پاکبازی ایمان کی شرائط میں سے ہے ۔ فرمایا دنیوی سزا جو مقرر کی گئی ہے وہ نظم وضبط کے لئے رکھی گئی ہے اور یقینا وہ دنیوی رسوائی بھی ہے لیکن آخرت کا عذاب تو اور بھی سخت ہے اور اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو وہ بھی یقینا ان کو دیا جائے گا ۔ ” اگر انہوں نے توبہ نہ کی “ کی شرط اگرچہ زیر نظر آیت میں نہیں لگائی گئی تاہم دوسری جگہ اس کی وضاحت موجود ہے اور وہ پیچھے آیت پانچ میں گزر چکی ہے اور یہ بھی کہ جو اصول ہوتے ہیں ان کو ہر بار بیان نہیں کیا جاتا بلکہ وہ ایک ہی بار بیان کردیئے جاتے ہیں اور وہ ہر جگہ قائم رہتے ہیں اسی لئے ان کو اصول کہا جاتا ہے ۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ان کے کاموں کی گواہی دیں گے جو یہ کیا کرتے تھے

وہ دن کہ انسان پر اس کی زبان ‘ ہاتھ اور پاؤں تک گواہی دیں گے : 34۔ ہر انسان اپنے اعضاء سے کام لینے پر ایک حد تک مختار ہے جو بولنا چاہتا ہے زبان بول دیتی ہے ‘ جو کرنا چاہتا ہے وہ ہاتھ کرتا ہے اور جدھر چلنا چاہتا ہے پاؤں چلنے لگتے ہیں اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ آج یعنی اس دنیوی زندگی میں تو بعض لوگ اپنی چرب زبانی سے اپنی غلط باتوں کی تاویلیں کرلیتے ہیں اور سادہ لوح انسانوں کو بہکانے ‘ پھسلانے کے لئے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں ذرا وہ اس دن کا بھی تصور کریں جب ان کی زبانیں ان کے ہاتھ ‘ ان کے پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے گویا کوئی ایسا بٹن دبا دیا جائے گا جو دباتے ہی وہ بولتے ‘ ہاتھوں سے کام کرتے اور پاؤں سے چلتے دکھادیئے جائیں گے کیا وہ اس وقت بھی اس بات کا انکار کرسکیں گے کہ یہ بولنے والے ‘ کرنے والے اور چلنے والے ہم نہیں ؟ واضح ہوگیا کہ ہر انسان کی زندگی میں پوری فلم تیار کی جا رہی ہے جس بات کا وہ انکار کرے گا اتنے حصہ کی فلم اس کو دکھا دی جائے گی جس سے وہ انکار نہیں کرسکے گا اور اس طرح اس کی رسوائی میں بھی یقینا اضافہ ہوگا ۔ آج بہت سی باتوں کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں اس لئے ان آیات کی تفسیر سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہا اور فی زمانا جو ترقی ہوچکی ہے اس میں ہم ایک آلہ کے محتاج ہیں جس کو خاص طریقہ سے فٹ کر کے بجلی کا کنکشن دینا پڑتا ہے اور ہی چیز دکھائی جاسکتی ہے جس کو دکھانے کی آلات کی مدد سے ہم کوشش کرتے ہیں لیکن زیر نظر آیت اور اس آیت کے مضمون کی دوری آیات اس بات کی گوائی پیش کر رہی ہیں کہ ابھی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب انسان اس طرح کے آلات کا محتاج نہیں رہے گا اور یہ بھی کہ انسان کی کوئی حرکت اور انسان کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی بات ضائع نہیں کی جا رہی ہے بلکہ انسان جو کچھ بولتا ہے وہ اس کی صورت اور لہجہ میں فضا کے اندر محفوظ ہے ۔ اگرچہ ابھی تک وہ ہماری دسترس میں موجود نہیں ہے ۔ زیر نظر آیت کا مضمون سورة یسن آیت 65 ‘ سورة فصلت آیت 21 میں بھی بیان کیا گیا ہے وہاں سے بھی ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو پوری پوری (جرم کے مطابق) سزا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی سچا ہے ، ظاہر کرنے والا ہے

جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کی ان کو پوری پوری جزاء دی جائے گی : 35۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی قرآن کریم کی دوسری آیتیں انسان کے ہر عمل کی جزا سزا کے لئے دلیل ہیں اور بلاشبہ انسان جو کچھ اس زندگی میں کرتا ہے اس کے نتیجہ سے اس کو دوچار ہونا لازم وضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر انسان کے لئے اس کے ہر ہر عمل کی علیحدہ علیحدہ جزاء وسزا ہوگی نہ تو اس کی عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی قرآن وسنت میں اس کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے اس لئے کہ اس طرح تو کوئی ایک انسان بھی خواہ وہ کتنا ہی پاکباز اور پرہیزگار کیوں نہ ہو سزا سے نہیں بچ سکتا اور یہ نظریہ قرآن کریم اور احادیث میں کہیں بھی نہیں پیش کیا گیا بلکہ نظریہ یہ ہے کہ انسان نے جو کچھ زندگی میں کیا ہوگا اس کا باقاعدہ حساب کتاب ہوگا اور اگر اس کی برائیوں سے اس کی نیکیوں کا وزن زیادہ ہوگا تو وہ کامیاب قرار پائے گا اور اس طرح جو کامیاب ہوا وہ یقینا سزا سے بچ گیا یعنی بچالیا گیا اور جس کی برائیوں کا وزن زیادہ نکلا وہ اپنی برائیوں کی زیادتی کے مطابق سزا کا مستحق ٹھہرے گا اور جتنی اس کی سزا ہوگی اس کو بھگت لینے کے بعد وہ جنت کا مستحق قرار پائے گا اور اس کو اس سزا سے نکال باہر کیا جائے گا ۔ ہاں ! اس سلسلہ میں قرآن کریم نے چند اصولی باتیں ہیں جو وضاحت کے ساتھ پیش کی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ : 1۔ کافر ‘ مشرک اور منافق کے وہ اعمال جو نیک اعمال کے ضمن میں آتے ہیں ضائع ہو کر رہ جائیں گے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے خود ضائع کئے ہوں گے مثلا فصل لینے کے لئے بیج ڈالنا ضروری ہے لیکن بیج اگر پتھر کی چٹان پر ڈال دیا جائے تو پھر کیا وہ بار آور ہوگا ؟ اور اگر شور زمین پر ڈال دیا جائے پھر ؟ قرآن کریم نے اس کی مثال اس طرح کبھی پتھر کی چٹان پر بیج ڈالنے سے اور کبھی ناکارہ زمین میں بیج ڈالنے سے ‘ کبھی بیج ڈال کر جب وہ اگ آئے تو اس پر ہل چلا دینے سے ‘ کبھی طغیانی سے اور کبھی راکھ اور ریت سے دی ہے ملاحظہ ہو سورة الاعراف 7 : 147 ‘ التوبہ 9 : 17 ‘ 67 تا 69 ‘ ہود 11 : 15 ‘ 16 ‘ ابراہیم 14 : 18 ‘ الکہف 18 : 104 ‘ 105 وغیرہ وغیرہ ۔ 2۔ برائی کی سزا اتنی ہی دی جاتی ہے جتنی کہ کسی برائی کرنے والے نے برائی کی مگر نیکیوں کی جزا اصل فعل سے زیادہ دی جائے گی بلکہ تصریح ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ہے اور اس سے زیادہ جتنا چاہے اللہ تعالیٰ اور بڑھا دے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سورة البقرہ 2 : 261 ‘ الانعام 6 : 160 ‘ یونس 10 : 26 ‘ 27 وغیرہ ۔ 3۔ مومن اگر موبقات اور کبائر سے پرہیز کریں گے تو ان کے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ تفصیل کے لئے دیکھو سورة النساء 4 : 41 ‘ سورة الشوری 42 : 37 وغیرہ ۔ (یوفیھم اللہ) اللہ تعالیٰ ان کو پورا پورا دے گا ‘ کیا پورا پورا دے گا ؟ فرمایا (دینھم) ان کا بدلہ (الحق) جس کے وہ حق دار ہیں (ویعلمون) اور وہ جان لیں گے کہ (آیت) ” ان اللہ ھو الحق المبین “۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہر بات واضح کرنے والا ہے ۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک باتیں ناپاک لوگوں (کا کام ہے) اور ناپاک لوگ ناپاک باتیں (ہی کیا کرتے) ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگ (کرتے) اور پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتیں (ہی کیا کرتے ہیں) یہ سب لوگ ایسی باتوں سے مبرا ہیں جو وہ لوگ کہتے ہیں ، ان کے لیے تو اللہ کی بخشش اور عزت کی روزی ہے

ناپاک باتیں ناپاک لوگوں کا کام ہے اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کا : 36۔ ا : زیر نظر آیت کا ایک مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ناپاک منافقوں کے لئے ناپاک باتیں ہی رہ گئی ہیں کیونکہ وہ ناپاک باتوں کو پسند کرتے ہیں نہ ان کے دلوں میں پاک خیالات آتے ہیں نہ وہ دوسروں کی طرف انہیں منسوب کرتے ہیں اور (اولئک) میں اشارہ ان پاک لوگوں کی طرف ہے جن پر انہوں نے اتہام باندھا تھا لیکن آخر ان گندے لوگوں نے ایسے گندے کام کی نسبت ان کی طرف کر کے ان کا کیا نقصان کیا ؟ وہ آخر نقصان کر بھی کیا سکتے تھے جب کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش ان کا ساتھ دے رہی تھی اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے عزت والا رزق رکھا تھا ۔ چونکہ (خبیثات) اور (طیبت) سے برے اعمال اور اچھے اعمال بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اس لئے اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ ” برے اعمال ہی لوگوں کو سجتے ہیں اور نیک اعمال نیک لوگوں کو سزاوار ہیں نیک لوگ اس سے پاک ہیں کہ برے کام ان پر چسپاں ہوں جو منسوب کرنے والوں نے ان کی طرف منسوب کیے ۔ “ ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کو اور پاک عورتوں پاک مردوں کو زیب دیتی ہیں : 36۔ ب : یہ بات مشاہدہ میں ہے اور دنیا کا عام دستور یہی ہے کہ فاحشہ عورتیں شریف مردوں کے ساتھ کبھی زندگی بسر نہیں کرسکتیں بلکہ ان کی محبت والفت ہمیشہ خبیث اور گندے مردوں کے ساتھ ہوتی ہے یہی حال مردوں کا ہے کہ شریف مرد و عورت کانباہ تو آپس میں ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ ایک شریف انسان کے گھر میں ایک فاحشہ عورت رہ سکے یا بداخلاق کے گھر میں شریف عورت۔ تم سب کو تسلیم ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شخص بھی صاحب تقوی وورع نہیں ہو سکتا ‘ تمہیں ان کی طہارت و پاکیزگی اور معصومیت پر پورا اعتماد ہے بلکہ یہ تمہارے عقیدہ کا ایک خاص جز ہے پھر یہ کس قدر حماقت ونادانی ہے کہ ان کی اہلیہ ام المومنین پر تم اتہام لگاتے ہو حالانکہ آپ خود اس امر کا اعلان کرچکے ہیں کہ مجھے اپنی اہلیہ پر پورا پورا اعتماد ہے پھر کسی دوسرے کا کیا حق ہے کہ وہ اس معاملہ میں لب کشائی کرے ۔ یہ اور اسی طرح کے دوسرے اور مطلب بھی اس آیت کے بیان کئے گئے ہیں لیکن ہمیں پہلا مطلب سب سے جامع معلوم ہوتا ہے اس لئے ہم نے اس کو پہلے تحریر کیا ہے ۔ پہلے مطلب ہی کو عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی بیان کیا ہے چناچہ آپ نے فرمایا کہ (الخبیثت) سے مراد بری باتیں ہیں اور (الطیبت) سے مراد اچھی باتیں پھر مجاہد ‘ عطاء ‘ سعید بن جبیر ‘ شعبی ‘ حسن بصری ‘ حبیب بن ابی ثابت اور ضحاک کی بھی یہی رائے تفاسیر میں بیان کی گئی ہے اور اس کو ابن جریر طبری نے اختیار کیا ہے اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی بیہودہ باتیں وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خود بداخلاق اور خبیث ہوں اور جو متقی و پرہیز گار ہوں ان کے دلوں میں ہمیشہ جذبات صادقہ اور افکار صالحہ پیدا ہوتے ہیں اور بلاشبہ اہل بیت ان تمام بیہودہ باتوں سے پاک ہیں ۔ اس آیت 36 پر وہ واقعہ ختم ہوگیا جو افک کے نام سے معروف ہے بلکہ یہ آیت پردے کے احکام کے لئے توطیہ وتمہید کا کام بھی دیتی ہے اور یہ انسانی زندگی کے اصول ومبادیات میں سے ہے جس کو تسلیم کرلینے کے بعد ہم حسب ذیل نتائج پر پہنچتے ہیں : (i) خاوند اور بیوی میں ایک دوسرے پر کامل اعتماد پیدا ہوگا اور اختلاط وارتباط بڑھے گا جو ازدواج کے مثمر کرنے کے لئے ضروری ولازمی ہے ۔ (ii) ان کا تمام وقت بیرونی دنیا کے لئے پراسرار ہے اور بلاشبہ پر اسرار ہی ہونا چاہئے ۔ (iii) کسی شخص کو ان کے تعلقات وروابط میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا ضرورت اس امر کی ہے کہ ادنی ترین مداخلت کو بھی روکا جائے اسی لئے باہمی روابط کو صاف اور غیر مخدوش رکھنے کے لئے ان قوانین کا نفاذ ضروری ہے جو آنے والی آیت 27 میں آئے ہیں ۔ (iv) اس آیت سے زنا کے پیشہ کی جڑ کٹ جاتی ہے جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ زنا کی صورت میں لوگ عموما عورت کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں اور مرد سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی لیکن افسوس کہ اس وقت مسلمانوں میں اور خصوصا اس ملک عزیز میں یہ مرج ترقی پذیر ہے جو قرآن کریم کی آیات سے دوری کی واضح علامت ہے ۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے گھر کے علاوہ دوسرے گھروں میں مت داخل ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو

دوسرے لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے : 37۔ واقعہ افک نے مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں وہ سمجھ گئے کہ پردے کے بغیر ان خرابیوں کا سدباب ممکن نہیں جب یہ آرزو ان کے قلوب میں اچھی طرح جاگزیں ہوگئی تو فورا اس کے بعد قانون کی ضروری تفصیل ہوئی تاکہ مرد و عورت کے باہمی اختلاط میں بہت زیادہ کمی آجائے مگر اس پردے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر ایک کے لئے الگ الگ دستور العمل نوازش کیا سب سے پہلے گھر کے پردے کی تفصیل بیان کی اور اس بات کی وضاحت فرما دی کہ دوسروں کے گھروں میں ناگہانی طور پر جانے سے فسادات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ، علیحدگی اور خلوت ہر شخص کا حق ہے دوسرا اس میں داخل دینے کا مجاز نہیں ‘ پھر انسان ہر وقت ایک ہی حالت میں نہیں ہوتا بعض اوقات وہ یہ نہیں چاہتا کہ دوسرا آدمی اس کو دیکھے ‘ گھر میں عورتیں ہوتی ہیں ‘ نہیں معلوم وہ اس وقت کس حالت میں ہوں ‘ اس لئے شریعت نے ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر حسب ذیل احکام دیئے ہیں جن میں سے دو کا ذکر زیر نظر آیت میں بیان ہوا : ا۔ اپنے گھروں کے سوا جب دوسرے لوگوں کے گھروں میں داخل ہو تو اجازت لے لیا کرو گویا بغیر اجازت کسی دوسرے کے گھر میں داخل مت ہو۔ ب۔ اجازت ملنے کے بعد گھروالوں پر داخل ہو تب بھی داخل ہوتے وقت السلام علیکم ضرور کہا کرو۔
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر جب تم اس گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تب اس میں مت داخل ہو جب تک تم کو اجازت نہ ملے اور اگر تم کو جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہوجاؤ یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے

دوسروں کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے تو داخل مت ہو : 38۔ اجازت نہ ملنے کی دو صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ اندر سے کوئی جواب ہی نہ آئے اور دوسری صورت یہ ہے کہ آواز آئے لیکن یہ کہ اس وقت ہم فارغ نہیں ہیں یا یہ کہ صاحب خانہ گھر پر نہیں ہے ۔ ج : حکم یہ دیا گیا ہے کہ تین بار دستک دو ‘ گھنٹی پر ہاتھ رکھو اگر اندر سے آواز نہ آئے تو چلے جاؤ پھر سہی ‘ سمجھ لو کہ اندر جواب دینے والا کوئی آدمی نہیں ہے ۔ اگر تم کو واپس چلے جانے کا حکم ملے تو واپس چلے آیا کرو : 39۔ د۔ اگر اندر سے اطلاع آئے کہ اس وقت نہیں یا اس طرح کی کوئی دوسری بات تو بغیر غصہ کئے واپس چلے آؤ ۔ یہ باتیں تمہاری پاکیزگی کے لئے کی گئی ہیں اگر تم ان کے مطابق عمل کرو گے تو انشاء اللہ تمہارے لئے بہت آسانی رہے گی اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خواب واقف ہے ۔ بلاشبہ سماعت بھی بصارت کی طرح سمجھی گئی ہے مطلب یہ ہے کہ نابینا آدمی کو بھی اجازت طلب کرنی چاہئے اور اجازت ملے تو اندر جانا چاہئے کیونکہ اگر نابینا آدمی اچانک اندر داخل ہوجائے تو گھر والوں کی باتیں تو ان کے کان میں پڑیں گے اور یہ چیز بھی نظر کی طرح تخلیہ کے حق میں بےجا مداخلت ہے ۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم کو ایسے مکان میں داخل ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں جس میں کوئی رہتا نہ ہو اس میں تمہارا سامان ہو اور اللہ خوب جاتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو

غیر مسکونہ گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے : 40۔ ہ۔ غیر مسکونہ گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہاں ! اتنا خیال رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بظاہر لوگوں کے سامنے تو غیر آباد مکان میں داخل ہوجاؤ اور وہاں کسی دوسرے مکان مسکونہ میں کود جاؤ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ پر تمہاری فریب کاری اور مکارہی نہیں چل سکتی اور وہ ہرچیز کو جانتا ہے اور ظاہر و باطن اس کے لئے یکساں ہے ، غیر مسکونہ گھر کن کو کہا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ مسافر خانے ‘ دکانیں ‘ سرائے مہمان خانے ‘ ہوٹل اور اس طرح عبادت خانے اس ضمن میں آتے ہیں کہ ان جگہوں پر جانے کے لئے اجازت طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ گزشتہ تین آیتوں کے مضمون پر ذرا غور کرو اور ان آیات میں جو قانون بیان کیا گیا ہے اس قانون کی ہر شق پر اچھی طرح غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ اخلاق کی پاکیزگی اور نفس کی طہارت کے لئے بہترین قانون ہے اور آج اگرچہ مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے مگر غیر مسلم قوموں کے ہاں اس کو اپنایا گیا ہے ۔ ان کے ہاں ملاقات کے لئے وقت اور ان کا تعین عام سی بات ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے ، اجازت لے کر دوسروں کے گھروں میں داخل ہونا دونوں کیلئے مفید ہے جن لوگوں سے تمہیں ملنے کی خواہش ہے وہ تم سے ملنے کے لئے تیار ہوجائیں گے ‘ اپنی حالت درست کرلیں گے اور اچانک کسی کے گھر میں گھس آنے سے جو غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے اس کا سدباب ہوجائے گا بلاشبہ یہ قانون نہایت مفید اور نتیجہ خیز ہے اس کی پابندی سے بداخلاقی کے تمام منافذ بند ہوجائیں گے اور تمہیں اس امر کا اطمینان ہوجائے گا کہ میرے گھر میں کوئی شخص میری اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا پھر تم علم ومال کے حصول اور اشاعت اسلام کے لئے دوردراز کا سفر اختیار کرسکو گے اور اس طرح تمہارے سامنے ترقی کی صدہا راہیں کھل جائیں گی ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر اطلاع کے تمہارے مکان میں جھانکے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کچھ مواخذہ نہ ہوگا ۔ (صحیح بخاری) ایک حدیث میں ہے کہ جابر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر داخل ہونے کے لئے اجازت چاہی اور دروازہ کھٹکھٹایا آپ ﷺ نے پوچھا کون ؟ میں نے جواب دیا کہ میں ہوں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ‘ میں کیا ؟ اس طرح دراصل آپ ﷺ نام کی تصریح چاہتے تھے ۔ عبداللہ بن مسعود کا کہنا تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنی ماؤں ‘ بہنوں اور بیٹیوں کے پاس بھی اجازت لے کر جاؤ ۔ ایک اثر میں اس طرح ہے کہ ابو موسیٰ اشعری ؓ ملاقات کے لئے حضرت عمر ؓ کے پاس گئے اور تین مرتبہ سلام کیا اور جب جواب نہ ملا تو لوٹ آئے کچھ دیر بعد حضرت عمر ؓ نے کہا کہ غالبا میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز سنی ہے انہیں اندر بلا لیجئے مگر وہ جا چکے تھے واپس آئے تو آپ نے اس کا سبب پوچھا ‘ انہوں نے جواب دیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ استاذن احدکم ثلاثا فلم یوذن لہ فیلنصرف “ عمر فاروق ؓ نے کہا کہ اس حدیث پر کون گواہ ہے تو وہ ابو سعید خدری کو لائے تو انہوں نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے اس کی تصدیق کی تو آپ نے فرمایا بازار کے شور وغوغا نے مجھے ان کی طرف سے غافل کردیا تھا ۔ کتنا بہترین اور اچھا اصول ہے کہ آپ کو فرصت نہیں تو آنے والے سے کہہ دیجئے کہ آپ پھر آئیں اس وقت نہیں مل سکتا لیکن آج کل کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک شخص ملنے کو آئے اور اس سے ملاقات کرنے کو آپ اپنی مجبوری ظاہر کردیں تو وہ تمام عمر کے لئے آپ سے ناراض ہوجائے گا حالانکہ بعض مہاجرین کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” میں تمام عمر اس امر کی تلاش میں رہا کہ کبھی دوست کے مکان پر جا کر اندر جانے کی اجازت طلب کروں تو وہ مجھے یہ جواب دیں کہ اس وقت نہیں ‘ پھر کسی وقت انشاء اللہ تو میں واپس آجاؤں اور نہایت خوش وخرم واپس آؤں کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنے کا موقع میسر آگیا اور میں پھر کسی وقت جا کر ان سے ملاقات کروں ۔ یاد رہے کہ اجازت طلب کرنے کے حکم سے صرف یہ صورت مستثنی ہے کہ کسی کے گھر پر اچانک کوئی مصیبت آجائے جیسے آگ لگ جائے یا کوئی چور گھس آئے یا اس طرح کا کوئی ہنگامہ بپا ہوجائے تو مدد کے لئے پہنچنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ۔ یہاں تک کہ تو گھر کے اندر رہ کر پردے کے احکام بیان کئے گئے اور آئندہ آنے والی آیات میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر عورت اور مرد کی ملاقات بازار میں ہوجائے ‘ عید گاہ یا مجلس علمی میں ان کو شرکت کا موقع ملے یا میدان جنگ میں آمنا سامنا ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کو کیا حکم ہے اور یہاں پردے کی کیا صورت ہوگی ۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ایمان والوں سے فرما دیں کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں یہ بات ان کے لیے بڑی پاکیزہ ہے بلاشبہ اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے

ایمان والوں کو حکم کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں : 41۔ (یغضوا) کی اصل غ ض ض ہے اور (غض) نظر اور آواز میں کمی کرنے کے معنوں میں استعمال ہے چناچہ قرآن کریم میں بھی دونوں باتوں میں استعمال ہوا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (واغضض من صوتک) (لقمن 31 : 19) اور (آیت) ” یغضوا من ابصارھم “۔ کے الفاظ اس جگہ استعمال ہوئے ہیں یعنی اپنی نظروں کو نیچا رکھو ۔ اسلام ہم کو صرف گناہوں ہی سے نہیں روکتا اور ان کے ارتکاب پر ہی سزا نہیں دیتا بلکہ وہ ان تمام وسائل اور ذرائع پر پابندی عائد کرتا ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتا ہے جو انسانوں کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں کیونکہ جب گناہوں کی طرف لے جانے والا راستہ ہی بند ہوگا تو گناہوں کا ارتکاب یقینا نہیں ہوگا ۔ طبیعت میں ہیجان پیدا کرنے والے اور جذبات میں شہوت کو مشتعل کرنے والے اسباب سے نہ رکنا اور ان کو کھلی چھٹی دے دینا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ ہم اپنے قانون کی قوت سے لوگوں کو برائی سے بچا لیں گے بہت بڑی نادانی کی بات ہے اگر کوئی نظام ان عوامل اور محرکات کا قلع قمع نہیں کرتا جو انسان کو بدکاری کی طرف دھکیل کرلے جاتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اس برائی کو برائی ہی نہیں سمجھتا اور نہ اس سے لوگوں کو بچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے ، اس کی زبان پر جو کچھ ہے وہ اس کے دل کی صدا نہیں بلکہ محض ریا کاری اور ملمع سازی ہے ۔ درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمی گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش ! کسی کو چلتے دریا میں غوطہ زن کردیا جائے اور پھر اس کو یہ بھی کہا جائے کہ خبردار اپنے دامن کو پانی سے بچانا سراسر زیادتی ہے ۔ اس سورت کا آغاز بدکاری کی سزا کے ذکر سے ہوا یہاں ان راستوں ہی کو بند کیا جا رہا ہے جو انسان کو اس جرم شنیع کی طرف لے جاتے ہیں ، بدکاری کا سب سے خطرناک راستہ نظر بازی ہے اس لئے سب سے پہلے اس کو بند کیا جا رہا ہے ، مردوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور دنیا کی جڑ کو سنبھال کر رکھو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جب نگاہیں دوچار نہیں ہوں گی تو دل میں کسی قسم کی کشش پیدا نہیں ہوگی اور پھر جب کشش ہی پیدا نہیں ہوگی تو کسی بدفعل کا ارتکاب ہی آخر کیوں کر ہوگا ۔ زیر نظر آیت میں آنکھوں کو مطلقا بند رکھنے کا حکم نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور نظر بھر کر دیکھنے سے منع کیا جا رہا ہے پھر یہ بھی کہ اتفاقی نظر کوئی جرم کی نظر نہیں ہاں ! اتفاقی نظر پڑی اور اس سے دل میں ایک بار پھر دیکھنے کا داعیہ پیدا ہوا لیکن فورا شریعت درمیان میں حائل ہوگئی اور اس نے دوبارہ نظر اوپر نہ اٹھنے دی اور دل نے فورا مہر ثبت کردی کہ دوبارہ دیکھنا حرام ہے تو اس طرح سے رک جانا کمالات انسانی میں سے ایک بہت بڑا کمال ہے ۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ایمان والیوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں کھلا ہی رہتا ہے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینہ پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زیبائش کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے یا اپنی (عام) عورتوں کے (جو مسلمان ہیں) یا اپنی باندیوں کے یا اپنے ان ملازمین کے جو عورتوں کی زیب وزینت سے غرض نہیں رکھتے یا لڑکوں کے جو عورتوں کے اسرار سے ابھی بیخبر ہیں اور یہ بھی کہ اپنے پاؤں کو زمین پر نہ ماریں کہ جس زینت کو چھپا رہی ہیں وہ آشکارا ہوجائے اور اے ایمان والو ! (سب مل کر) اللہ کے حضور توبہ کرلو تاکہ تم فلاح پاؤ

ایمان والی عورتوں کے لئے بھی نظریں نیچی رکھنے اور ستروں کی حفاظت کا حکم : 42۔ عورتوں کے لئے اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لئے ہے لیکن اس وقت عورتوں کے لئے اس طرح کے پردے کا رواج ہے جس میں وہ نظریں نیچی رکھنے کی بجائے یک طرفہ اس سے آزاد ہوچکی ہیں کہ وہ جس کو چاہیں نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں حالانکہ اس میں جو حکم مردوں کے لئے ہے وہی عورتوں کے لئے بھی ہے مزید وضاحت آگے آرہی ہے ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے بڑی سختی سے نامحرم کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ : عن ابی امامۃ یقول سمعت رسول اللہ ﷺ اکفلوا لی بست اکفل لکم بالجنۃ اذا حدث احدکم فلا یکذب واذا ائتمن فلا یخن واذا وعد فلایخلف وغضوا ابصارکم وکفوا ایدیکم واحفظوا فروجکم “۔ ” ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میرے ساتھ چھ باتوں کا وعدہ کرو تو میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوں ۔ 1۔ جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے ۔ 2۔ جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے ۔ 3۔ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے ۔ 4۔ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھے ۔ 5۔ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھے اور ۔ 6۔ اپنی دنیا کی جڑ کی حفاظت کرے ۔ “ اور امام بخاری (رح) نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ” جو شخص مجھے دو باتوں کی ضمانت دے کہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے یعنی دنیا کی جڑ کہ وہ ان دونوں کی حفاظت کرے گا اور پھر اس نے یہ وعدہ پورا کیا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ” نظر شیطان کے تیروںٗ میں سے ایک زہریلا تیر ہے جو اس کو میرے خوف سے ترک کرتا ہے میں اسے ایمان کی نعمت بخشتا ہوں جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں پاتا ہے ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی دیدہ بازی کی آنکھ کی بدکاری سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” آدمی اپنے تمام حواس سے زنا کرتا ہے۔ بعض دفعہ دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے ‘ لگاوٹ کی بات چیت زبان کا زنا ہے ‘ آواز سے لذت لینا کانوں کا زنا ہے ۔ بعض اوقات ہاتھ لگانا ہاتھ کا زنا ہوتا ہے اس طرح بعض اوقات چلنا پاؤں کا زنا ہوتا ہے اس طرح بدکاری وبے حیائی کی جب یہ ساری تمہیدیں پوری ہو چکتی ہیں تو پھر دنیا کی جڑ بعض اوقات اس کی تصدیق وتکمیل کردیتی ہے ۔ (بخاری ومسلم) مختصر یہ کہ نظر بازی کی ممانعت میں نبی کریم ﷺ کے بہت سے ارشادات کتب احادیث میں محفوظ ہیں اور معاشرہ کی حالت اس وقت آپ کی نگاہوں میں ہے خود غور کرلیا جائے کہ آج ہمارا اس پر کتنا اور کیسا عمل ہے اور اس نظر کے زنا سے کون بچا ہے اور کون نہیں ؟ ہر انسان کو اپنا فیصلہ خود کرلینا چاہئے ۔ نظر کے معاملہ میں ایک تساہل جو تقریبا ہر جگہ پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مردوں کو مردوں کی طرف دیکھنے اور عورتوں کو عورتوں کی طرف دیکھنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی اور اکثر اوقات نہانے ‘ دھونے اور بول وبراز کے موقع پر ستر کو دیکھنے کی کوئی پرہیز نہیں کی جاتی ۔ نوجوان بچوں بلکہ سارے مردوں کو نکال کر نہانے اور عورتوں کا آپس میں مل کر نہانے دھونے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی حالانکہ یہ سراسر جہالت کی بات ہے اور احادیث میں اس کی ممانعت بھی موجود ہے ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ لاینظر الرجل لی عورۃ الرجل ولا تنظر المراۃ الی عورۃ المراۃ ” کوئی مرد کسی مرد کے پردے کی جگہ پر نظر نہ ڈالے اور کوئی عورت کو عورت کے پردے کی جگہ کو نہدیکھے ۔ “ (مسلم ‘ احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی) حضرت علی ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اے علی ! لا تنظر الی فخذ حی ولا میت ۔ ” کسی مردہ یا زندہ انسان کی ران پر نگاہ مت ڈال “ پھر احادیث میں پردے کی جگہ کی وضاحت بھی موجود ہے کہ مرد کے لئے آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” عورۃ الرجل مابین سرتہ الی رکبتہ : ” مرد کے پردے کی جگہ ناف سے گھٹنے تک ہے ۔ “ (دارقطنی ‘ بیہقی) اور رہی عورت کہ اس کے پردے کی جگہ کہاں سے کہاں تک ہے اس میں کلام بہت لمبا ہے اور میرے نزدیک میرے لئے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کفایت کرتا ہے کہ : ان المراۃ اذا بلغت المحیض لم یصلح لھا ان یری منھا الا ھذا وھذا واشار الی وجھہ وکفیہ (ابوداؤد) ” جب عورت بالغ ہوجائے تو جائز نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھ کے سوا اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے “ اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ : اذا عرکت المراۃ لم یحل لھا ان تظھر الا وجھھا والا مادون ھذا وقبض علی ذراع نفسہ وترک بین قبضتہ ویبن الکف مثل قبضہ اخری “۔ (ابن جریر) ” جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ ظاہر کرے اپنے منہ کے سوا اور اپنے ہاتھ کے سوا اور ہاتھ کی حد آپ ﷺ نے خود اپنی کلائی پر ہاتھ رکھ کر اس طرح بتائی کہ آپ ﷺ کی مٹھی اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی کی جگہ اور باقی تھی ۔ “ لیکن موجودہ حالت بہت دکھ دہ ہے اور ہمارے گھروں کی حالت نہایت ناگفتہ ہوتی چلی جا رہی ہے ، ایسا کیوں ہے ؟ اس کے عوامل بہت ہیں اور ایک ان میں ہمارے علماء کرام کی بےجا سختیوں کا رد عمل بھی ہے اور ظاہر ہے کہ جتنی سختی زیادہ ہو اس کا رد عمل بھی اتنا ہی سخت ہوتا ہے اور تفصیلات کا یہ مقام نہیں اس کے لئے الگ کتاب کی ضرورت ہے یاد رہے کہ ” غض بصر “ کی طرح ” حفاظت ستر “ کے لئے بھی وہی حکم ہے جو مردوں کے لئے ہے اگرچہ حدود ستر الگ الگ ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ۔ عورتوں کے لئے وہ پابندی جو مردوں کے لئے نہیں رکھی گئی : 43۔ ” عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں کھلا ہی رہتا ہے “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورتوں سے اتنا ہی مطالبہ نہیں کیا جتنا کہ مردوں سے کیا ہے یعنی (غض بصر) اور ” حفاظت ستر “ بلکہ وہ عورتوں سے مزید مطالبہ بھی کرتا ہے جو مردوں سے نہیں کیا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ” عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں “ اور زینت کو ہماری زبان میں ” بناؤ سنگھار “ سے تعبیر کیا جاتا ہے یا ” آرائش “ کے لفظ سے بھی بعض اوقات یاد کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد خوشنما کپڑے ‘ زیور ‘ چوڑیاں ‘ منہ اور پاؤں وغیرہ کی مختلف آرائشیں ہیں جو بالعموم عورتیں کرتی ہیں ۔ اس آیت میں اس سے منع کیا گیا ہے کہ عورتیں اس طرح کی زیب وزینت اور بناؤ سنگھار کو بھی پردہ میں رکھیں مگر ہاں ! وہ جو اس میں سے کھلا رہتا ہے مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب کسی ضرورت کے لئے باہر نکلیں اور مردوں کے سامنے آنے کا امکان ہو تو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور پردے کا اہتمام اس طرح کریں کہ ان کی زیب وزینت ظاہر نہ ہو مگر ہاں وہ حصہ جس کا کھلا رکھنا ضروری ہے جیسے ہاتھ ‘ پاؤں وغیرہ اور اس طرح اگر کوئی ہاتھ پاؤں کی زینت کی چیز نظر پر جائے تو دوسری بات ہے اور کسی چیز یا بات کا اظہار کرنا اور کسی چیز یا بات کا ظاہر ہوجانا اس میں جو فرق ہے وہ سب پر عیاں ہے اس میں زیادہ باریکیوں ہی نے پہلے ایک رد عمل کی صورت پیدا کردی ہے اس لئے زیادہ باریکیوں میں جانے کی اب ضرورت نہیں کہ ہر آدمی اس کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور منہ ہاتھوں کا کھلا رکھنا ایک فطری مجبوری ہے اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ نے مستثنی قرار دے دیا ، پھر مزید حکم یہ کہ عورتیں اس زیبائش کو چھپانے کے لئے کیا کریں ؟ فرمایا اپنے اوپر اوڑھنیاں اوڑھے رکھیں اور خصوصا اپنے سینوں پر چادریں ڈال لیا کریں تاکہ سینہ کا ابھار اور سینہ کا زیور واضح نہ رہے ، غور کیجئے کہ اگر اس سے یہ مراد نہیں ہے تو ” اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں “ کا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے ؟ لیکن افسوس کہ اس وقت وہ تمام بری عادتیں لوٹ آئی ہیں جو زمانہ جاہلیت میں عرب اقوام کا شعار تھیں ، اس وقت عورتوں میں دستور یہ تھا کہ وہ گردن ‘ کندھے اور سینہ کے بعض حصوں کو اظہار حسن و جمال کے لئے کھلا چھوڑ دیتی تھیں تاکہ مردوں کی نظروں میں وہ مرغوب ٹھہریں اور وہ پوری رغبت کے ساتھ ان کی طرف دیکھ سکیں ۔ آج وہ دور جاہلیت کے رواجات دوبارہ لوٹ آئے ہیں اور علم نے ان کو تہذیب کے رنگ میں رنگ دیا ہے اور فی زماننا عورتوں کا سارا بناؤ سنگھار غیر مردوں ہی کے لئے رہ گیا اور خاوندوں کے لئے سوائے پیشاب کے برتن کے کوئی چیز باقی نہیں رہی اور وہ اس کو غنیمت سمجھتے ہیں حالانکہ اس میں حیوانیت کے سوا اور کچھ بھی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ انسانیت کا مکمل طور پر جنازہ نکل چکا ہے ۔ قرآن کریم نے جاہلیت کی ان تمام باتوں کو مٹا دیا اور فرمایا کہ جب عورتیں گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیوں کو اس طرح اوڑھ لیں کہ گردن ‘ سر ‘ کان اور سینہ کے تمام محاسن اور خوبیاں ڈھک جائیں مگر ہاں فطری چیز یعنی ہاتھ اور پاؤں کو ضرورت کے مطابق دکھاوے کے لئے نہیں ضرورت کے لئے کھولا جاسکتا ہے ۔ گزشتہ استثناء کے اندر مزید استثنا کی تفصیل : 44۔ اس زینت وزیبائش میں ایک مزید استثناء جو اسلام نے بحال رکھی وہ یہ ہے کہ اس زینت میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جو قرابتداری کے اصول کے مطابق اکثر اوقات میں قریب رہنے والے ہیں اور وہ محرمات ہیں جہاں اسلام نے نکاح کی ممانعت کردی ہیں یا وہ شخص ہے جس سے نکاح ملے پا گیا ہے یعنی کیا جا چکا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس سے نکاح کیا جا چکا ہے وہ تو وہی ہے جس کو ہماری زبان میں خاوند اور میاں کے لفظ سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ یہی تو وہ ہے جس کے لئے عورتوں کو زیب وزینت کی اجازت دی گئی ہے اور یہ ساری امانت تو اس امین کی ہے ، علاوہ ازیں اپنی زینت کو وہ ظاہر کرسکتی ہیں تو صرف ان لوگوں پر جن کی نسبت طے ہے کہ ان کے جذبات شہوت برانگیختہ نہ ہوں گے جیسے ایک عورت کا والد یا اس مرد کا والد جس کی وہ بیوی ہے اور اپنے بیٹوں پر اسی طرح اپنے خاوندوں کے بیٹوں پر ‘ اپنے بھائیوں پر اور بھائیوں کے بیٹوں پر اور اپنی بہنوں کے بیٹوں پر اور اس طرح دوسری میل جول رکھنے والی عورتوں پر بھی یہ ظاہری زینت کھلی رکھی جاسکتی ہے ۔ (نسآء ھن) کے لفظ کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے ساری عورتیں یعنی عورتوں کی بعض مراد نہ لی جائے بلکہ وہ خاص عورتیں ہی مراد لی جائیں جو عام طور پر میل جول رکھنے والی ہوں اور جانی پہچانی ہوں ۔ موجودہ زمانہ میں اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ بعض خبیث عورتوں سے بھی پردہ کیا جائے اور ان پر ساری زیب وزینت ظاہر نہ ہونے دی جائے کہ اس میں احتیاط کی بہت ضرورت ہے اور اسی طرح مانگنے والی اور سوال کرنے والی عورتوں کو بھی گھروں کے اندر عورتوں کے کمروں تک نہ پہنچنے دیا جائے ۔ آباء کے لفظ میں وسعت ہے اور پھر جس طرح کی وسعت عور کے آباء میں ہے بالکل اسی طرح کی وسعت اس کے خاوند کے آباء کے اندر بھی موجود ہے اور یہی حال اپنے بیٹوں اور خاوندوں کے بیٹوں کا ہے کہ بیوی کے بیٹے بھی اس وسعت میں آجاتے ہیں اسی طرح حرمت میں بھی وسعت مل جاتی ہے اور بالکل اجنبی اور گھر میں آنے جانے والوں میں جو اجازت طلب کرکے آتے رہتے ہیں فرق موجود ہے ان باتوں کو خود ہی سمجھ لینا چاہئے اسی طرح جو ضمنی محرمین کا حال ہے جیسے سالیوں اور بہنویوں کا معاملہ ہے یا ان کی اولاد کا کہ جب وہ دوسروں کی موجودگی میں اور خصوصا عورت کے خاوند کی موجودگی میں آئیں جائیں اور خاوند اس میں مراحمت بھی نہ کرے تو شریعت بھی اجنبی لوگوں کی طرح سختی نہی کرتی اور عورت ومرد دونوں کے ننھیال وددھیال کے بزرگوں کے سامنے پردہ کے ساتھ آیا جایا جاسکتا اور ظاہری زینت کی ممانعت بھی نہیں کی جاسکتی اور ہم نے قبل ازیں ایک ہی فقرہ میں اس کو عرض کردیا ہے کہ ہمارے علمائے گرامی قدر کی بےجا سختیوں کے رد عمل کے طور پر آزاد رہنے بلکہ ہوجانے پر بھی ایک حد تک مجبور کیا گیا ہے کہ اس کو اس طرح پابند سلاسل کردیا گیا کہ گویا وہ ایک عورت نہیں بلکہ کوئی چوری کا مال ہے ۔ گھر کے ملازمین سے عورتیں بوڑھے مرد جو بہت بوڑھے ہوں مستثنی ہیں : 45۔ گھر کے ملازمین میں غیر مسلم عورتیں بھی شامل ہیں گزشتہ آیت میں (نسآئھن “ ) کے لفظ میں مسلمان عورتوں کا ذکر تھا لیکن لیکن چونکہ ملازمین میں غیر مسلم عورتیں آنے کا بھی امکان تھا اس لئے ان کا ذکر الگ کردیا گیا اور (ماملکت ایمانھن) میں ملک یمین میں آنے والے مرد بھی شامل ہوگئے اگرچہ مفسرین نے ان سے مراد صرف لونڈیاں لی ہیں غلاموں کو اس کی اجازت نہیں دی اور یہ تقسیم بھی بڑی معنی خیز ہے کہ مردوں کی ملک یمین عورت ہو تو نکاح کی ضرورت بھی نہیں اور بغیر نکاح اس سے ازدواجی زندگی کی حیوانی خواہشات کو پورا کرلینا جائز اور حلال قرار دیا گیا لیکن اس کے عکس کو یعنی آزاد عورت کو اگر ملک یمین کے طور پر کوئی مرد مل جائے تو وہ اس کے سامنے بھی نہیں آسکتی بلکہ اس کو مکمل طور پر پردہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن قرآن کریم میں اس کا کوئی ثبوت نہیں وہ ملک یمین کو صرف گھر میں آنے جانے والے مردوں اور عورتوں میں شامل کرتا ہے لیکن کسی حال میں بھی ان کو محرمات میں شامل نہیں کرتا جس کا تعلق صرف معاشرتی زندگی کے قیام کی سہولت کے لئے ہے اور زیر نظر آیت میں ان مردوں کو بھی اس حکم سے مستثنی کردیا گیا ہے جو اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ اب ان کو عورتوں کی کوئی حاجت ہی نہیں رہی یعنی کسی عورت کو بھی دیکھ کر ان کی حیوانی خواہشات نہیں بھڑکتیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ خواہشات یک طرفہ طور پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتیں یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عنین ‘ نامرد اور خصی شدہ لوگوں کو بھی اس زمرہ میں شامل کیا ہے ۔ فرمایا اس حکم سے وہ بچے بھی مستثنی ہیں جو عورتوں کے خفیہ معاملات سے ابھی تک بیخبر ہوں اور گھروں میں آنے جانے کی ضرورت بھی ہو تاکہ معاشرتی زندگی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے یہ بچے ملازمین میں بھی شامل ہو سکتے ہیں اور طالب علم بچوں میں بھی اور ایسے بھی جو ہمسایوں اور عزیزوں کے گھروں سے آنے جانے والے ہوں اور ان کے لئے جو لازمی شرط قرار دی گئی ہے وہ یہی ہے کہ ایسے بچے جو ابھی تک عورتوں کے خاص رازوں سے واقف نہ ہوں اگر وہ اس ضمن میں نہ آئیں تو نابالغ ہونے کے باوجود بھی ان سے ظاہری میل جول یا تخلیہ کی آمد ورفت درست نہیں اور یہی حال مردوں کیلئے بچیوں کا ایک طرف کو بیان کیا گیا ہو تو دوسری طرف کو خود بخود اس میں شامل سمجھنا چاہئے اور سارے احکام میں یہی بات اصل ہے کہ قرآن کریم نے جہاں مردوں کا ذکر کیا ہے یعنی مذکر کے صیغوں سے تو عورتیں وہاں شامل ہیں اور جہاں مؤنث ہیں اور جہاں مؤنث کے صیغوں سے بات کی ہے تو مرد بھی اس میں بلاریب شامل ہیں لیکن ہمارے مفسرین اکثر اس بات کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں اور پھر اس پر بڑی بڑی بحثیں شروع کردی ہیں ۔ عورتوں کے لئے ہدایت کہ وہ چھپی زینت کو عیاں کرنے کے لئے کوئی حرکت نہ کریں : 46۔ عورتوں کے زیورات میں سے ایسے زیور بھی ہوتے ہیں جن میں چھنکار کی آواز پیدا ہوتی ہے کبھی پاؤں میں ایسے زیور یعنی پازیب وغیرہ پہن کر نکلتی ہیں اور آج کل کپڑوں کے اوپر اس طرح کی چیزیں ٹان کی جاتی ہیں اور موتی اور ستارے کی کڑھائی اس طرح کی کی جاتی ہے کہ چلتے وقت اگر خاص احتیاط نہ کی جائے تو ایک آواز نکلتی ہے جو دوسرے انسان کو اپنی طرف متوجہ کردیتی ہے اس لئے آیت کے ان الفاظ نے اس سے منع کیا ہے عورتیں ایسے زیور اور اس طرح کے کپڑے پہن کر اگر باہر نکلیں تو پاؤں کو زمین پر اس طرح زور دار طریقے سے نہ ماریں کہ ان کی جھنکار سن کر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں ۔ ان تمام احکام کا مقصد تو یہ ہے کہ ایسے تمام اشتعال انگیز اطوار و عوامل پر قدغن لگا دی جائے جنکی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں بدکاری اور بےحیائی کی راہیں کھل سکتی ہیں اور جن کی موجودگی میں وعظ ونصیحت بلکہ قانون کی شدت بھی گناہوں کا انسداد کرنے سے قاصر رہتی ہے اس آیت میں ایک خاص حرکت کا زکر کرکے ہر ایسی چیز سے جو ان کو نامحرم مردوں کی توجہ کا مرکز بنا دے ان سے منع کیا گیا ہے خواہ بھڑکیلے لباس پہن کر یا تیز خوشبو لگا کر یا کسی دوسری چیز سے لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو منع کیا گیا ہے ۔ آج ان باتوں کی وضاحت کی اس لئے ضرورت نہیں کہ فی زماننا جو کچھ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر کیا جا رہا ہے ناسمجھی کی بنا پر نہیں اور یہ سب رواج کا دھارا ہے جس کے سامنے میں اور آپ سب پانی کی طرح بہتے چلے جا رہے ہیں اور اس بہاؤ کو روکنے کے لئے ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ کوشش کرنے والا خود اس بیماری کا شکار ہے اور ہمارے گھروں کی صورتحال ناگفتہ بہ حد تک خراب ہوچکی ہے ، دختران اسلام کے لئے رسول اللہ ﷺ کا پیغام ہے کہ ” الرافلۃ فی الزینۃ فی غیر اھلھا کمثل ظلمۃ یوم القیمۃ لا نورلھا “۔ ” وہ عورت جو آراستہ پیراستہ ہو کر نامحرموں میں اترا اترا کر چلتی ہے قیامت کے دن وہ مجسم تاریکی ہوگی جہاں نور کی کرن تک نہیں ہوگی ۔ “ (ترمذی) لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جب کسی کو اس طرح کی حدیث کا ذکر کیا جاتا ہے تو خاتونان نئی روشنی ان کا مذاق اڑاتی ہیں کہ کونسی قیامت اور کیسا نور ؟ حوروں کے تصور پر زندگی گزرانے والے اور خیالی نہروں میں غوطہ زن دقیانوسی لوگوں کی یہ اختراعی کہانیاں ہیں اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ہم ان سے صرف یہی کہیں گے کہ اس ملک کی خاتون اول کا حال دیکھ لو اور عبرت حاصل کرو غور کرو کہ اللہ کی لاٹھی کتنی بےآواز ہے کہ کچھ رہا بھی نہیں اور کسی کو محسوس بھی نہیں ہوا۔ ایمان والو ! اللہ کے حضور توبہ کرلو تاکہ تم فلاح پاؤ : 47۔ انسان اور خطاء لازم وملزوم ہیں پھر خطاء کا کرنا اور خطاء کا ہوجانا دونوں میں بلاشبہ بہت بڑا فرق ہے بعض انسان وہ ہیں کہ ان سے خطاء ہوتی ہے لیکن کتنے ہی انسان ہیں جو خطائیں کرتے ہیں ، انسانوں میں سے معصوم صرف اور صرف انبیاء کرام ہی ہوتے تھے اور نسیان کی لغزش ان سے بھی ہوتی رہی ۔ انسانیت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس سے نسیان کے طور پر کوئی خطا ہوجائے یا کوئی خطا وہ کر بیٹھے یا بھول جائے تو فورا تائب ہوجائے کیونکہ توبہ سے نہ صرف یہ کہ گناہ مٹ جاتے ہیں بلکہ وہ اجر وثواب کا بھی مستحق ٹھہرتا ہے اس لئے آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو “ جو صورتحال بھی ہوئی ہے اور جس صورتحال سے بھی تم دوچار ہوئے ہو تمہارے پروردگار سے وہ پوشیدہ نہیں یہ اس کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے تمہاری حالت کو پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ ہونے دیا اب تم اس کے سامنے جھک جاؤ ‘ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے اس سے معافی طلب کرلو اور بلاچون وچرا احکامات الہی اور ارشادات نبویہ کی تعمیل کے لئے جھک جاؤ اس میں تمہارے دونوں جہانوں کی کامیابی ہے ۔ آفتاب اسلام کے طلوع ہونیکے بعد اب اہل جاہلیت کے رسم و رواج کو اور اخلاق و عادات کو نہ چھوڑنا بہت بڑی ناانصافی ہے ، خیال رہے کہ ایک بھولا ہوا انسان جب سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کے لئے اب ہی اسلام کا آفتاب طلوع ہوا ہے یا وہ آج ہی مسلمان ہوا ہے ۔ اسلام کا پردہ نہایت آسان ‘ بیحد صاف و شفاف ہے جس میں عورت کو اپنی زیب وزینت چھپانے کے لئے صرف ایک بڑی چادر کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کو اپنے پورے جسم پر اوڑھ سکے نہ وہ کسی کو تا کے جھانکے اور نہ اس کو کوئی تاڑنے کی کوشش کرے ، کیا کوئی عقلمند آدمی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جو پردہ آج ہم میں رائج ہے یہ اسلام کا حکم ہے ہرگز ہرگز نہیں یہی وجہ ہے کہ اس بیجا تقبید اور پابندی کی وجہ سے وہ تمام خرابیاں اسلامی گھرانوں میں پیدا ہو رہی ہیں جو اس کے قدرتی نتائج ہیں اور علمائے اسلام صنف نازک کی تمام ترقیاں یک قلم روک دینا چاہتے ہیں ہم نے اوپر بار بار عرض کیا ہے کہ انہی پابندیوں کا رد عمل ہے کہ آج عورتیں بالکل بےلگام ہو کر رہ گئی ہیں اور وہ ان پابندیوں کو برداشت کرنے کے لئے کسی حال بھی تیار نہیں اگر آج بھی ان کو صحیح اسلامی پردہ سے روشناس کرایا جائے اور شروع سے تربیت انکی اسلامی خطوط کے مطابق کی جائے ، حکومت جو اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے نام سے موسوم کرتی ہے اسلام کے قانون کے مطابق ان کی تعلیم کا صحیح بندوبست کرتی تو کبھی اس کے اس طرح کے نتائج سامنے نہ آتے ایک فطری امر اور ایک اختراعی پابندی میں جو فرق ہے اس سے کون واقف نہیں ہے ۔ شروع ہی سے ایک لڑکی کو جب وہ بلوغت کے قریب پہنچے تو اس کو اس کی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا جائے اور مرد و عورت کا کردار الگ الگ کر کے سمجھایا جائے اور اس کو باور کرایا جائے کہ تم ایک لڑکی ہو اور بڑی ہو کر تم پر کون کون سی ذمہ داریاں آنی ہیں اور کن کن حالات سے دوچار ہونا ہے ‘ مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریوں میں قدرت نے کیا فرق رکھا ہے اور کیوں رکھا ہے ؟ عورت اور مرد دونوں کے مل جانے سے انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے ‘ عورت مرد کے بغیر ایک کامل انسان نہیں اور بالکل اسی طرح مرد عورت کے بغیر ایک مکمل انسان نہیں ہے ، جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا اپنے جسم ‘ شکل و صورت اور ظاہری ڈیل ڈول میں بدلتا رہتا ہے اور بلوغت تک پہنچ کر وہ بالکل اپنی نوزائیدگی سے ایک مختلف شے ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح بلوغت کے بعد اس ایک جنس کی دونوں اصناف کے ملنے سے ایک کامل انسان بن جاتا ہے جس طرح ہر جسم کے مختلف اعضاء ہوتے ہیں اور سب کے سب اعضا مل کر ایک جسم بنتا ہے اور سارے اعضاء اپنا اپنا کام کرتے ہیں کوئی ایک عضو دوسرے عضو کی کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کرسکتا ہر حال میں اس کی کمی محسوس ہوتی رہتی ہے بالکل اسی طرح اس ایک جنس کی دونوں اصناف کا حال ہے کہ دونوں اصناف ایک دوسرے کے سوا اپنے اندر کمی رکھتے ہیں اور دونوں کے مل جانے سے وہ کمی دور ہوجاتی ہے اور وہ دونوں مل کر ایک مکمل انسان بنتے ہیں ، اس طرح بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے لئے نکاح کیوں ضروری ہے ؟ اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کے نقطہ نظر میں نکاح فقط حیوانی خواہشات کے ازالہ کا باعث نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی تکمیل کے لئے ضروری ہے بلاشبہ وہ خود حیوان ہیں جن لوگوں نے نکاح کی غرض وغایت صرف یہی سمجھی ہے ‘ انہوں نے عورت کو اس کا صحیح مقام بالکل نہیں دیا اور نہ ہی دے سکتے ہیں ۔ قرآن کریم نے محصن مسافح کے فرق کو واضح کردیا ہے پھر احصان کا حکم دیا ہے اور سفاح منع فرمایا ہے غور کرو گے تو انشاء اللہ سمجھ آئے گی اور قرآن کریم انہیں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں ۔