Ayah 24:39اعراض کرنے والوں کے اعمال کی حالت کا بیان :
64۔ (سراب) کیا ہے ؟ جنگل کی ریت کو کہا جاتا ہے جو دوپہر کے وقت سورج کی چمک سے چمکتا ہوا معلوم ہوتا ہے دور سے دیکھنے والا گمان کرتا ہے کہ وہاں پانی بہہ رہا ہے اور خصوصا جب دیکھنے والا خود پانی کی طلب بھی رکھتا ہو اور پیاس سے نڈھال ہوا جا رہا ہو ۔ بڑے بڑے وسیع ریگستانوں خصوصا عرب اور صحرائے افریقہ میں ایسے مواقع دھوپ کے وقت اکثر دیکھنے میں آتے رہتے ہیں اور دریاؤں کے کنارے رہنے والوں کو بھی موسم گرما میں جب بارش نہ ہو رہی ہو اور پانی کی طلب ہو تو دریا کی ریت سے ایسا شبہ ہوتا رہتا ہے ۔ (بقیعۃ) جمع ہے قاع کی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واحد ہے اور اس کی جمع قیعان ہے اور یہ لفظ ہموار اور مسطح زمین کے لئے استعمال ہوتا ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کا تعلق اس نور الہی سے قائم نہیں ہوتا ان کی دو قسمیں ہیں اور دونوں کی الگ الگ مثال بیان کی جا رہی ہے جو آگے آئے گی گویا اس جگہ کفار کے اعمال کو دو حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے ۔
پہلے گروہ کفار کے اعمال کی مثال اور اس کا انجام :
65۔ پہلا گروہ کفار کا وہ گروہ ہے جس کی توجہ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی طرف ہے لیکن وہ ایمان باللہ کے باعث نہیں بلکہ محض اچھے اور برے کی پہچان کے باعث ہے اور وہ جو کچھ کرتے ہیں ان کا مطمع نظر دنیوی زندگی کی اچھی شہرت ہے آخرت پر ان کا مطلق ایمان نہیں اس دنیوی زندگی کی شاباش حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی اچھائی اور برائی کا معیار رسول کی پیروی نہیں بلکہ اپنی انا کی تسکین ہے ‘ ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر رنگ کو قبول کرتے ہیں اور ہر مجلس کے وہ قائد ورہنما بننا چاہتے ہیں اور اس میں ان کو تسکین ہوتی ہے ، ہمیشہ بھاری پلڑے کے ساتھ ہیں اور ان کے نزدیک حق و باطل کا معیار کثرت ہے وہ ہر کثرت کو حق اور ہر قلت کو باطل جانتے ہیں ‘ وہ طاغوت کا کفر کئے بغیر اللہ پر ایمان کے مدعی ہیں ‘ وہ اچھے کام کرتے ہیں لیکن دکھاوے کے لئے ‘ ان کی زندگی کا اصل اصول ہی یہ ہوتا ہے کہ چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو ۔ باد مخالف سے وہ بہت گھبراتے ہیں ‘ وہ دودھ کے جلے چھاچھ پھونک پھونک کر پیتے ہیں ۔ وہ لوگوں کی نظروں میں کتنے ہی صاحب عقل سمجھے جاتے ہوں اور وہ خود اپنے آپ کو پاپولر بنانے کے لئے کتنی ہی برداشت رکھتے ہو لیکن اسلام کی نگاہ میں دوربین میں وہ منافق قرار پاتے ہیں اور قرآن کریم نے ان کو (آیت) ” لا الی ھؤلآء ولا الی ھؤلآء “۔ کہا ہے کہ وہ نہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے ‘ ان کا شک کبھی دور ہی نہیں ہوا وہ اپنی خواہشات کے بندے اور غلام ہیں بس یہی لوگ ہیں جن کی مثال اس جگہ سراب سے دی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ہی جیسے چٹیل میدان میں ریت چمک رہی ہو اور اس کی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دے اور وہ اس کو پانی سمجھ کر اس کی طرف چل رہے ہوں کیونکہ انکی خواہش پیاس بجھانے کی ہے لیکن جب وہ چل چل کر تھک جائیں اور سخت دھوپ کا وقت گزر جائے اور ریت کی چمک دمک ختم ہوجائے تو اس وقت ان کی سمجھ میں آئے کہ یہ تو ریت ہے تو اس وقت بلاشبہ ان کی حالت دیدنی ہوگی ۔ دنیوی زندگی میں وہ اپنی خواہش کے بندے ہو کر چلتے رہے اور بہت چلے لیکن جب زندگی کی شام ہوگئی اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے چلنے کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہوا اور اب وقت جو تھا وہ بھی نکل گیا اور یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ نکلا ہوا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ہاں ! دنیا میں انہوں نے اپنے ان اچھے اعمال کا اچھا بدلہ بھی حاصل کرلیا کہ لوگ ان کے اردگرد بیٹھتے تھے ‘ ان کا حقہ بھرتے تھے ‘ ان سے فیصلے کرواتے تھے ‘ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے ‘ انکے ناموں کے ساتھ بڑے بڑے القابات لگائے جاتے تھے ‘ ان کو ہاتھوں پر اٹھایا جاتا تھا ‘ انکی قدم بوسی کی جاتی تھی ‘ ان کی قیام گاہیں انتظار گاہیں بن کر رہ گئی تھیں ‘ ان کے اشاروں پر لوگ مرتے تھے اور یہ سب کچھ کیوں تھا ؟ اس لئے کہ ان کو ان کے کیے کا صلہ مل جائے چناچہ وہ مل گیا اس لئے آخرت کے لئے چونکہ انہوں نے کچھ رکھا ہی نہ تھا لہذا دنیوی زندگی سے علاقہ ختم ہوتے ہی وہ کنگال ہوگئے ، وہاں کا سارا نظام ہی بدل گیا ، اب وہ ہیں اور ایک ” ہو “ کا عالم ہے ۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا حساب بیباک کردیا وہ دیکھتے ہی رہ گئے :
66۔ موت کے بعد کیا دیکھا ؟ یہی کہ وہ دنیوی زندگی گویا ایک خواب تھا اور جب بیدار ہوئے تو کچھ بھی نہ رہا اور وہ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے نہ وہ زمینیں نظر آئیں اور نہ وہ ڈیرے ، نہ حقہ بھرنے والے دکھائی دیتے ہیں اور نہ انتظار کرنے والے ‘ ان کی اس حالت کا ذکر پیچھے سورة الکہف کی آیات 103 تا 106 میں گزر چکا ہے وہاں سے تفصیل ملا حظہ کریں سورة الکہف تفسیر عروۃ الوثقی جلد پانچ میں ملے گی ۔
Ayah 24:40کفار کی دوسری جماعت کی مثال جو اچھے اعمال سے ہی بیگانہ ہے :
67۔ کہاوت ہے کہ ” کریلا اور نیم چڑھا “ کافر بھی ہوا اور اچھے برے کی تمیز بھی نہ رکھتا ہو اس کے متعلق کیا کہا جائے گا ؟ یہی کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا کہ اس پر موج کے اوپر ایک اور موج چھائی ہوتی ہے اور پھر اس اندھیرے کو مزید گہرے اندھیرے میں تبدیل کرنے کے لئے سیاہ بادل بھی چھایا ہو تو اس کا حال کیا ہوگا یہی کہ وہ اپنا ہاتھ بھی ان موجوں سے باہر نکال سکتا ہو کہ اس کو دیکھے تو کیا وہ اس کو دیکھ سکے گا ؟ ہرگز ہرگز نہیں دراصل انسان میں کام کرنے کے تین مرکز ہیں :
1۔ نفس ‘ جو بدن کی تربیت کرتا ہے اور اس کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے ۔
2۔ قلب جو تمام اخلاق و اعمال کا مرکز ہے اور جس سے ہر قسم کا داعیہ خیر وشر تولید کرتا ہے ۔
3۔ عقل جو علوم ومعارف اور کمال وفضل انسانی کا مرکز ہے ۔
جب تک یہ لطائف مصروف کار رہتے ہیں اور ان کا تعلق اللہ کے نور سے قائم رہتا ہے اس وقت تک انسان صحیح معنوں میں زندہ رہ سکتا ہے اور جہاں ان پر ظلمت و تاریکی چھا جائے انسانیت گم ہوجاتی ہے اور وہ بدترین خلائق بن جاتا ہے ایسے انسانوں کی مثال بیان کرتے ہوئے دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے “ آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ‘ کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوب گئے ہیں “۔ (الاعراف 7 : 176) پھر ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم نے دوسری جگہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ” کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اللہ کے بعد اب کون ہے جو اس کو ہدایت دے ؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے ؟ “ بلاشبہ یہ وہی لوگ ہیں کہ ان کے تینوں لطائف تاریک ہوچکے ہیں اور حس وبیداری کی جگہ غفلت اور مدہوشی نے لے لی ہے ، اب ذرا مزید غور کرو کہ زیر نظر آیت میں اس کی کس قدر وضاحت فرما دی گئی ۔
جس نے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو قبول نہ کیا اس کے لئے کونسی روشنی ہوگی ؟
68۔ لطیفہ نفس کی خرابی کو ” گہرے سمندر “ سے تعبیر کیا گیا ہے (یغشہ موج من فوقہ موج “ سے مراد قلب کی ظلمت و تاریکی ہے اور ” من فوقہ سحاب “ کا لطیفہ عقل کے اندھیرے کی طرف اشارہ ہے گویا ان کے اعمال کی مثال بڑے گہرے دریا کے اندرونی اندھیروں کی سی ہے کہ دریا کو لہرنے ڈھانک رکھا ہے اور لہر بھی ایک نہیں ایک کے اوپر ایک اور اس کے اوپر اندھیرا اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ نکال کر بھی دیکھنے کی کوشش کرے تو وہ نہ دیکھ سکے ایسے ہی جب یہ لطائف تاریک ہوجاتے ہیں اور دوسرے موانع بھی ان کے سد راہ ہوں کہ نور خداوندی اپنا اثر ونفوذ نہ کرسکے تو کوئی اعلی سے اعلی تعلیم بھی ان کے قلب و دماغ کو روشن نہیں کرسکتی ان ظلمتوں کی وجہ سے وہ اپنی فطرت صالحہ کو فراموش کردیتے ہیں اور انجام کارناکارہ محض بن جاتے ہیں ، مومن کی مثال تو نور علی نور سے دی گئی اور دوسری جگہ ان کے متعلق (آیت) ” نورھم یسعی بین ایدیھم وب ایمانھم “۔ کہا گیا مگر ان بدبختان ملت کی حالت یہ ہے کہ (آیت) ’ ومن لم یجعل اللہ نورا فمالہ من نور “۔ ابن عباس ؓ کی رائے ہے کہ کافر کے قلب ‘ سمع اور بصر کی تاریکی کو اس سے تشبیہ دی ہے پس جن لوگوں کی ظلمت اعمال واخلاق کی یہ حالت ہو ان کا بلاشبہ یہی حال ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اللہ ایسی حالت سے بچائے اور اپنی امان میں رکھے ۔
Ayah 24:41ہرچیز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے تسبیح خواں ہے :
69۔ کون ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے تسبیح خواں نہیں ؟ جب اللہ تعالیٰ کا نور ہر جگہ جاری وساری ہے مگر ہرچیز اس سے اپنی استعداد ہی کے مطابق فائدہ اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ وانابت ان کی فطرت میں داخل ہے اور یہی فطری الہام دراصل شرائع کے نزول کی اساس وبنیاد ہے اگر نوع انسانی میں ایسے نفوس ذکیہ نہ پیدا ہوتے جن کو نبی ورسول کے خطاب سے نوازا گیا ہے اور جن میں انوار الہیہ اس درجہ کار فرما نہ ہوتے کہ سنتے تو اللہ کے کانوں سے ‘ دیکھتے تو اللہ آنکھوں سے اور چلتے تو اس کے پاؤں سے تو بلاشبہ اس نورانی شریعت کا نزول اور اس سے استفادہ غیر ممکن تھا اس لئے کہ شریعت کی پابندی اور طہارت و پاکیزگی نفس ہی انسان کو اس نور کے قریب تر کرتی جاتی ہے ، اس طرح اب جب کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا اور اس کو بند ہونا ہی چاہئے تھا تو اب یہ فریضہ ہر ایک مسلم کے ذمہ لگا دیا گیا اس لئے ہر مسلم کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہئے ، غور کرو کہ برق وبھاپ کے خزائن سے یہ عالم تکوینی بھرپور ہے مگر جب تک عالی دماغ حکیم پیدا ہوں گے لوگوں کو ان کی طرف توجہ نہ ہوگی اور یہی حال نور خداوندی کا ہے وہ زمین و آسمان میں پھیلا ہوا ہے اور ہرچیز اپنی قابلیت کے مطابق اس سے نفع حاصل کر رہی ہے یہاں تک کہ پر پھیلا کر اڑنے والے پرندے بھی اپنی دعا وتسبیح سے واقف ہیں اور اس کی تسبیح وتہلیل ہی کے گیت گا رہے ہیں اور ان کی تسبیح کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کے متعلق سورة بنی اسرائیل کی آیت 44 اور سورة الحج کی آیت 18 میں وضاحت پیش کی گئی ہے اس لئے انہیں سورتوں کی طرف مراجعت کریں ۔ سورة بنی اسرائیل عروۃ الوثقی کی پانچویں جلد میں گزر چکی ہے اور سورة الحج اسی جلد نمبر 6 میں موجود ہے ‘ وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 24:42آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے :
70۔ آسمان و زمین کی حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ واقتدار میں ہے اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور وہی اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ اس نور سے کس نے فائدہ اٹھا یا اور کون ہے جو اعراض ہی کرتا رہا بلاشبہ مالک ہرچیز کا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کی حکومت وملکیت ہے اور وہی اس پوری کائنات کا منتظم ومالک ہے ۔ زیر نظر آیت کی وضاحت پیچھے سورة البقرہ کی آیت 107 ‘ 247 ‘ 251 ‘ 258 ‘ سورة آل عمران کی آیت 189 ‘ سورة النساء کی آیت 52 ‘ سورة المائدہ کی آیت 17 ‘ 18 ‘ 40 ‘ 120 ‘ سورة الانعام آیت 73 ‘ سورة الاعراف آیت 108 ‘ سورة التوبہ آیت 116 ‘ سورة یوسف آیت 101 ‘ سورة بنی اسرائیل آیت 111 ‘ سورة طہ آیت 120 ‘ سورة الحج آیت 56 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 24:43بادلوں کو ملانے ‘ چلانے اور بارش برسانے والی بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے :
71۔ توحید الہی کے دلائل میں اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازیوں کا ذکر کیا جارہا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ اے مخاطب وہ کون ہے جو بارش کو برسانے والا ہے ؟ اور مخاطب کے پاس کوئی جواب سوائے اس کے نہیں کہ وہ اللہ ہے ۔ فرمایا ہاں ! وہ اللہ ہی ہے جو پانی کے خزائن سے بخارات اٹھا کر اوپر کو لے جاتا ہے اور وہ فضا کے اندر حد نظر سے بھی کہیں اوپر اٹھا کرلے جاتا ہے اور یہ عمل برابر جاری رہتا ہے کہ اربوں ‘ کھربوں ٹن پانی زمین و آسمان کے خلا کے اندر اس طرح اڑ کر پھر رہا ہے کہ وہ نظر تک نہیں آتا اور پھر اس کو تہ بہ تہ بادلوں کی شکل میں جوڑ دیتا ہے اور ہوا ہے کہ وہ اس کو آہستہ آہستہ چلا کر آپس میں جوڑ دیتی ہے اور پھر تو دیکھتا ہے کہ وہ اس بادل سے بارش برسانا شروع کردیتا ہے اور زمین کے جس حصہ کو وہ چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق سیراب کردیتا ہے اور وہ سرسبز و شاداب نظر آنے لگتا ہے اور دوسرا حصہ بالکل محروم رہتا ہے اور بسا اوقات اے مخاطب تو دیکھتا ہے کہ یہی بارش جو سراسر رحمت ہی رحمت ہوتی ہے زحمت ہو کر رہ جاتی ہے اور طغیانی کی صورت اختیار کر کے سب کچھ بہا کرلے جاتی ہے اس طرح گوایا اس نے انہیں بادلوں کو اس علاقہ کے لوگوں کے لئے باعث عذاب بنا دیا اور بلاشبہ یہ سارے کام وہ اپنے قانون قدرت سے سرانجام دیئے جارہا ہے اور کوئی نہیں جو اس کے اس نظام قدرت میں ایک ذرہ برابر بھی دخل اندازی کرسکے ۔ (یزجی) ازجاء سے ہے جس کے معنی آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ چلانے کے ہیں (رکاما) کی اصل ” ر ک م “ ہے اور (رکم) ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھنے کو کہتے ہیں اور (ودق) مینہ یا مینہ کے قطرات کو کہا جاتا ہے جو اس بادل سے ٹپکنے لگتے ہیں اور برابر ٹپکتے ہی جاتے ہیں ، خلال جمع ہے خلل کی اور یہ لفظ شق ہونے اور دراڑ پڑنے پر بولا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان بادلوں کو بنانا ‘ جوڑنا اور ان سے پانی کو برسانا کس کا کام ہے ؟ کیا یہ کام جو باقاعدگی کے ساتھ ہوا چلا رہا ہے بغیر کسی کے چلائے چل رہا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو مان لو کہ یہ کام سرانجام دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی ذات ہے کہ وہ عبادت کے لائق ہے ۔ (یولف) الف سے ہے اور یہ اس اجتماع کو کہا جاتا ہے جس میں اتحاد ہو اور اس سے ” تالیف “ ہے ۔
آسمانوں سے اولوں کو بنانے اور برسانے والا بھی وہی ہے ۔
72۔ (جبال) جبل کی جمع ہے جس کے معنی پہاڑ ہی کے ہیں اور آسمانوں میں پہاڑ ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ مطلب بالکل واضح اور آسان ہے کہ (السمائ) کے معنی سحاب کے ہیں جس کے معنی بادل کے ہوتے ہیں اور جبال کے معنی اولے ہیں جو کثرت سے پڑتے ہیں اور یہ بھی کہ بڑے بڑے بھاری بادلوں کے ٹکڑوں کو پہاڑ کہا گیا ہے کیونکہ پہاڑوں کی شکل وہیئت اور بادلوں کی شکل وہئیت دیکھنے والوں کو ایک ہی جیسی نظر آیا کرتی ہے اور بادلوں سے اولے برسنا عام ہے کہ آج بھی لوگ اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں علاوہ ازیں بھی اس کے مفہوم بیان کئے گئے ہیں اور یہ جو فضا میں ستارے اور سیارے نظر آتے ہیں جن میں سے بعض ہماری اس زمین کے برابر یا اس سے بڑے بھی بتائے جاتے ہیں ان میں بھی پہاڑ موجود ہوں اور آیت انہی پہاڑوں کی نشاندہی کر رہی ہو یہ ممکن ہے اور ایسے نظریات انسانوں کو مزید ریسرچ پر مجبور کرتے ہیں اور انسان اپنی زندگی میں نئی نئی چیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے اور اس مسلسل تلاش کی برکات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ، بادلوں کی اصل کیا ہے ؟ پانی اور قدرت الہی نے ان بادلوں کو آپس میں ٹکرا کر بجلی کی چمک پیدا کر کے چمک اور کڑک وگرج دونوں سے انسان کے لئے بیسیوں اباب کھول دیئے اور انہی ابواب میں سے ایک باب یہ بھی ہے کہ آواز کی رفتار اور بجلی کی رفتار میں فرق ہے اور یہ بھی کہ چمک کی رفتار بہرحال گرج کی آواز سے بہت زیادہ ہے اور یہ بھی کہ ہوائی جہاز کی رفتار اس کی آواز سے زیادہ تیز ہو سکتی ہے اور اب بلاشبہ ہو رہی ہے اور اس سے یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ بجلی کی چمک میں جلا دینے کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے اور اس کو کنٹرول میں لا کر بہت سے اور کام بھی اس سے لئے جاسکتے ہیں اور آج ہم اس سے مختلف کام لے رہے ہیں اور ابھی مزید بھی لئے جاسکیں گے ۔
بعض اوقات بجلی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے :
73۔ انسان کی اندرونی روشنی اور بیرونی روشنی دونوں کے ملاپ سے سب کچھ نظر آتا ہے اور بلاشبہ ان دونوں میں سے ایک نہ ہو تو کچھ سجائی نہیں دیتا لیکن یہ بات بھی مشاہدہ میں ہے کہ کبھی بیرونی روشنی اتنی تیز ہو کہ وہ اندرونی روشنی کو اپنا کام کرنے ہی نہ دے تو بھی انسان کو کچھ نظر نہیں آتا اور اس کو آنکھیں چندھیا جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور آیت کے اس آخری حصہ میں ایسی حالت کا ذکر کرکے یہ بات سمجھا دی ہے کہ کسی چیز کا اعتدال سے بڑھ جانا بجائے فائدہ کے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور یہی حال عقل وفکر کا بھی ہے کہ جب وہ وحی الہی کے تابع نہ وہ تو وہ اس قدر سرکش ہوجاتی ہے کہ حق وناحق کا امتیاز نہیں کرسکتی اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ” اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بصارت اڑا لے جاتی ہے “ اور دونوں روشنیوں کے باوجود آدمی اندھے کا اندھا ہی رہتا ہے ، گویا زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور اپنی زحمت دونوں کے اختیار کا ذکر کردیا کہ یہ میرے دست قدرت میں ہے اور میں ہی مختار کل ہوں انسان کو جو اختیار دیا گیا ہے وہ بالکل محدود ہے اس لئے اس کو اپنے اختیار سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہئے اور اپنی حیثیت کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے یہی راہ ہدایت ہے اور یہی حقیقی کامیابی ۔
Ayah 24:44رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانے والا کون ہے ؟ :
74۔ بلاشبہ اس سوال کا جواب بجز اس کے کچھ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ذات ہے جس کے اختیار میں ہے اور وہ باقاعدہ اپنے قانون کے مطابق رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور پھر اس میں وہی فرق ہوتا ہے جو اس نے اپنے قانون کے مطابق مقرر کردیا ہے اور اس میں کبھی ایک منٹ تو کیا ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں پڑا ، اس نظام کو قایم ہوئے کروڑوں سال گزر گئے لیکن کبھی اس میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا اور جب تک یہ نظام قائم ہے کبھی فرق نہیں آئے گا ۔ آپ سال میں کسی دن کا انتخاب کرلیں اور اس دن کے طلوع و غروب کو نوٹ کرلیں اور پوری زندگی اسی دن کے طلوع و غروب کو دیکھتے رہیں آپ کو ایک لمحہ کا فرق بھی نظر نہیں آئے گا ، اس سے سمجھ لو کہ وہ ناظم اعلی جس نے اس نظام کو قائم کیا ہے کتنا ارفع واعلی ہوگا اور کتنا زبردست منتظم ہے اگر آپ غور وفکر کریں گے تو ان تمام باتوں کے اندر جو اوپر بیان کی گئیں اور جو اس زیر نظر آیت میں بیان کی جارہی ہیں اہل نظر کے لئے بہت بڑا سامان عبرت ہے اور اگر تمہاری آنکھ وا ہے تو تم اس رات اور دن کے تغیر وتبدل میں اقوام وامم کے عروج وزوال کو دیکھ سکتے ہو اور تم کو یقینا اس ظاہر کین اندر باطن اور جزئیات کے اندر کلیات نظر آئیں گے اور تم سمجھ جاؤ گے کہ ہر کائنات ایک ہی ذات واحد وی کہ کی بنائی ہوئی ہے اور وہی اس ساری کائنات پر یکہ و تنہا حاکم و متصرف ہے اور وہی ہے جو عبادت کے لائق ہے اور کوئی دوسرا اس کا شریک وسہیم نہیں ہے اور جو آنکھ اس ظاہر کے اندر باطن نہیں دیکھ سکتی وہ یقینا بینا آنکھ نہیں کہلا سکتی ۔ اسی مضمون کو کسی صاحب بصیرت نے اس طرح ادا کردیا ہے کہ ۔
قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا۔
یہ مضمون پیچھے سورة آل عمران کی آیت 27 میں اور سورة الحج کی آیت 61 میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 24:45انسانی اور حیوانی زندگی کا سارا انحصار پانی پر ہے :
75۔ پانی کو اللہ تعالیٰ نے سبب زندگی اور اصل حیات بنایا ہیں ‘ اس میں اور اسی سے زندی کا آغاز کیا ہے اس مضموں کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” اور اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی “ (الانبیائ 21 : 30)
یعنی ہر جاندار چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اگر پانی کو لے جائے یا نابود کر دے تو زندگی کا نام ونشان خود بخود مٹ جائے ، اس لئے قرآن کریم نے دوسری جگہ مشرکین سے اس طرح سوال کیا ہے کہ ” ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا ؟ “ (الملک 67 : 30) لیکن زیر نظر آیت میں ہر جاندار کی تخلیق پانی کو بھی مراد لیا جاسکتا ہے جس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ (نطفۃ) سے تعبیر کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی تخلیق کا اصول اس کی جنس کے پانی پر رکھ دیا ہے اور اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے ۔
جانوروں میں ایسے بھی ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ایسے بھی جو یا چار ٹانگوں پر چلتے ہیں :
76۔ ان جانداروں میں سے بعض وہ ہیں جو پیٹ کے بل چلنے والے ہیں اور بعض وہ جو دو ٹانگوں پر چلتے ہیں اور بعض وہ جو چار ٹانگوں پرچلنے والے ہیں لیکن سب کی زندگی کا انحصار کس چیز پر ہے ؟ پانی پر اور اس طرح سب کی تخلیق کے لئے جو اصول مقرر کیا گیا ہے وہ بھی اسی جنس کے جانداروں کے پانی پر مقرر کیا گیا ہے ہر جنس اور ہر نوع کا تعلق اس کی جنس اور نوع ہی پر رکھا گیا ہے اور پھر پانی سب کی زندگی کے لوازمات میں سے ایک اہم لازم چیز ہے اور اگر مزید گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو مفہوم اس طرح بھی ادا کیا گیا کہ جس طرح حیوانات میں مختلف اقسام ہیں انسانوں میں بھی ہیں ‘ پیٹ پر چلنے والے تو بالکل زمین کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور زمین سے اوپر اٹھتے ہی نہیں اس کے مقابل کچھ دو پاؤں پر چلنے والے ہیں جو زمین پر سیدھے کھڑے رہتے ہیں اور ایک درمیانی قسم ہے جیسے چارپائے اور ان کے سر بھی زمین ہی کی طرف جھکے رہتے ہیں اگرچہ وہ بالکل زمین سے پیوست نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے ایک اندازہ مقرر کردیا ہوا ہے اور جب تعلیمات الہیہ نازل ہوتی ہیں تو تمام فرزندان آدم ان سے یکساں فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے جن لوگوں کے قوائے عقلیہ ان کے جذبات پر غالب ہوں ان کے لئے یہ تعلیم نہایت ہی مفید ثابت ہوتی ہے مگر جو اپنی فطرت کے صاف آئینہ کو ضلالت وگمراہی کی آندھیوں سے محفوظ نہیں رکھتے ہیں وہ ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں ‘ اگر ان کی فطرت میں استعداد ہوتی تو وہ ضرور اپنی قابلیت کے موافق نفع پذیر ہوتے ۔ اس طرح مضمون کو کھولتے جاؤ تو کھلتا ہی چلا جائے گا اور قرآں کریم کا معجزانہ کلام اپنے اعجاز کے مختلف پہلو واضح کر دے گا ۔
Ayah 24:46بلاشبہ ہم نے صاف اور واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں :
77۔ (آیات مبینت) اور (ایات مبینت) کے الفاظ جہاں بھی قرآن کریم میں آئے ہیں ہمارے مفسرین نے ان سے مراد معجزات ہی لئے ہیں اور معجزات بھی وہ جو وقتی طور پر ظاہر ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ ختم ہو کر رہ گئے لیکن سیاق کلام ہر جگہ بتاتا ہے کہ ان سے مراد قرآن کریم نے ہر جگہ زندہ وجاوید معجزات ہی لئے ہیں جن سے مضمون کی اصلیت اور حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور ہر جگہ الفاظ کے لباس کے اندر ایک کھلا مضمون نظر آتا ہے لیکن بلاشبہ اس کو وہی لوگ دیکھتے ہیں جن کے پاس بینا آنکھ موجود ہوتی ہے اور وہ ان ظاہری آنکھوں کو بند کر کے بصیرت کی بینائی سے دیکھنے کے عادی ہوتی ہیں تو ان پر حقیقت حال بالکل واضح ہوجاتی ہے جو انکی زندگی کے لئے ایک رہنمائی اپنے اندر رکھتی ہے اور وہ ان آیات کریمات کو الف لیلیٰ کی کہانی کی طرح نہیں پڑھتے بلکہ ان آیات سے سبق حاصل کرتے ہیں اور بلاشبہ یہی وہ لوگ ہیں جو اس اللہ کی زمین پر سیدھے کھڑے ہیں ‘ نہ رینگنے والے جانداروں کی طرح زمین کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں اور نہ چارپایوں کی طرح سرنیچے کئے ہوئے زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات اپنا پورا مضمون کھول کر رکھ دیتی ہے اور ان پر سب کچھ روشن ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآئ۔
اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق ان پرسیدھی راہ کھول دیتا ہے :
78۔ آیات بینات میں بلاشبہ ہر ایک بداخلاقی کو دور کرنے کے لئے مفصل قانون دے دیا ہے اور ان میں اللہ کے نور کے اخذ واقتباس کی پوری پوری رعایت رکھی گئی ہے اور اس کے ساتھ تمام شرائع وتعلیمات الہیہ کی حقیقت مستورہ کو بےحجاب کردیا ہے ، اب جس شخص میں قابلیت ہوگی وہ ان باتوں کی قدر کرے گا اور راہ حق اختیار کرے گا تاہم صداقت کے ظاہر ہوجانے کے باوجود پھر بھی دو قسم کے آدمی نظر آئیں گے ایک وہ ہیں جو زبان سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا اظہار کریں گے مگر وقت آنے پر ہمیشہ الگ رہیں گے اور یہ مصلحت اندیش لوگوں کا گروہ ہوگا اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو ہر وقت اور ہر آن اللہ کے نام پر قربان ہونے کے لئے تیار ہوں گے اور یہی وہ جانباز ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق بالکل سیدھی راہ کھول دی ہے کہ یہ جان بچا کر نہیں جان کی بازی لگا کر خوش ہوتے ہیں ‘ ان کا مطمع نظر یہی ہے کہ
جان دی ‘ دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
اب آنے والی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو مصلحت اندیش لوگوں کا گروہ ہے جو حلوے پر بہت خوش ہوتے ہیں اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ کی عادت ان میں راسخ ہوچکی ہوتی ہے اس لئے کڑوا گھونٹ اگر آجائے تو وہ فورا تھوک دیتے ہیں ۔
Ayah 24:47پہلے گروہ کا ذکر جس کو اسلام کی زبان میں منافقین کا گروہ کہا جاتا ہے :
79۔ انہوں نے زبان سے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا کہ ” ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا حکم مانا “ ظاہر ہے کہ جو بات وہ زبان سے کہہ رہے ہیں وہ تو بجائے خود سچی لیکن چونکہ ان کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جسے وہ زبان سے ظاہر کر رہے ہیں اس لئینا پنے اس قول میں وہ جھوٹے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے رسول ہونے اور اللہ تعالیٰ کے اللہ ماننے کی شہادت دیتے ہیں ، معلوم ہوا کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہے ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو اور شہادت دینے والے کا عقیدہ بھی وہی ہو جس کو وہ زبان سے بیان کر رہا ہے تو ہر لحاظ سے وہ سچا ہوگا اور اگر بات اپنی جگہ جھوٹی ہو لیکن شہادت دینے والا اس کے حق ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو تو ہم ایک لحاظ سے اس کو سچا کہیں گے کیونکہ وہ اپنا عقیدہ بیان کرنے میں صادق ہے اور دوسرے لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے کیونکہ جس بات کی وہ شہادت دے رہا ہے وہ بجائے خود غلط ہے ۔ اس کے برعکس اگر بات اپنی جگہ سچی ہو لیکن شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اس کے خلاف ہو تو ہم اس لحاظ سے اس کو سچا کہیں گے کہ وہ صحیح بات کی شہادت دے رہا ہے اور اس لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے کہ اس کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جس کا وہ زبان سے اظہار کر رہا ہے مثال کے طور پر ایک مسلم و مومن اگر اسلام کو برحق کہے تو وہ یقینا سچا ہے لیکن ایک یہودی یا عیسائی ‘ یہودی یا عیسائی رہتے ہوئے اسلام کو برحق مانے تو بات اس کی سچی ہوگی مگر شہادت اس کی جھوٹی قرار دی جائے گی کیونکہ وہ اپنے عقیدے کے خلاف شہادت دے رہا ہے اور اگر وہ دین اسلام کو باطل کہے تو ہم کہیں گے کہ بات ان کی سچی تھی لیکن جب اس کے امتحان کا وقت آیا تو وہ اپنی اس بات سے پھر گیا لہذا ان کے اس اقدام نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے دعوی ایمان میں سچے نہیں تھے اس لئے قرآن کریم نے ان کے متعلق صاف صاف کہہ دیا (وما اولئک بالمؤمنین) یعنی اس طرح کے مدعیان ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن نہیں ہیں کیونکہ ایمان کا حق صرف زبان سے ان الفاظ کا کہہ دینا کفایت نہیں کرتا اس لئے شرط لازم ہے کہ اللہ ورسول کے احکام کی بےچون وچرا اطاعت کی جائے اگر کوئی شخص یہ شرط پوری نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوی میں صادق نہیں کہلا سکتا اس لئے اسلام کی زبان میں ایسے لوگوں کو جو بات کے لحاظ سے سچے اور شہادت کے لحاظ سے جھوٹے ثابت ہو رہے ہوں ان کو منافق قرار دیتا ہے اور زیر نظر آیت میں انہی لوگوں کا بیان ہے :
ایسے لوگوں کی منافقت کو مزید واضح کی جارہا ہے تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے :
80۔ زیر نظر آیت میں ان کی منافقت کی دلیل بیان کی جارہی ہے کہ اگر ان کو اس امر کی دعوت دی جائے کہ اپنے اختلافات اور منازعات باہمی کا فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق کرا لو تو یہ بات سنتے ہی وہ اعراض کر جاتے ہیں اور اس طرح منہ پھیر جاتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں گویا وہ سنی ان سنی کردیتے ہیں اور اسی طرح آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں کہ ایک قدم سیدھا نہیں اٹھاتے اور ان احکام و فرامین کی کوئی پروا نہیں کرتے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا دعوی ایمان سراسر غلط اور دھوکا پر مبنی ہے اور ظاہر ہے کہ دھوکا باز کبھی سچا نہیں ہو سکتا ۔ ان کے حالات وبیانات کی تفصیل پیچھے سورة الانفال اور سورة توبہ میں بیان کردی گئی ہے اس لئے یہاں صرف ان کی طرف اشارہ کردیا گیا ہیں ان کے بیانات اور اعمال کی تفصیل بیان نہیں کی گئی اس لئے تفصیل کے لئے آپ سورة الانفال اور التوبہ ہی کی طرف مراجعت کریں اور ایک اشارہ آنے والی آیت میں بھی کیا گیا ہے اس کو ملاحظہ کریں ۔
اگر فیصلہ ان کے حق میں ہوتا نظر آئے تو سرتسلیم خم کردیتے ہیں :
81۔ مطلب یہ ہے کہ اختلاف ومنازعت میں یہ بات واضح نظر آئے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے یا جس بات اور کام کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس میں ان کے لئے دنیاوی فائدہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے تو وہ اپنی تلون مزاجی کے باعث فورا اس کو قبول کرنے کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ اپنی غرض کے بندے ہیں ان کی غرض پوری ہے تو وہ پکے مسلمان اور صحیح معنوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور اگر ان کی غرض دوسری طرف سے پوری ہو رہی ہے تو وہ مسلمانوں کا ساتھ ساتھ چھوڑنے کے لئے ہر آن اور ہر وقت تیار کھڑے ہیں اور چرب زبان اتنے ہیں کہ باتوں ہی باتوں میں وہ دوسری طرف کھسک جائیں گے اور اپنی غرض پوری کرلیں گے اس معاملہ میں وہ اتنے ماہر ہیں کہ ان کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے زیادہ دیر نہیں لگتی بس باتوں ہی باتوں میں وہ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر چل پڑتے ہیں گویا ان کا مقصود اصل فقط اپنی دنیوی غرض سے اس کے سوا کچھ نہیں ۔
آج کل مسلمانوں کی عموما اور نئی روشنی کے روشن خیالوں اور جدید قسم کی تعلیمات حاصل کرنے والے لوگوں کی خصوصا یہی حالت ہے کہ یہ سب کے سب اسلامی قومیت کے دعوی کے باعث کتاب وسنت کے اتباع کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کی عملی زندگی دیکھو تو بالکل ان کے بخط مستقیم مخالف ہوتی ہے ، ہاں ! قرآن کریم اور سنت رسول کا کوئی حکم ان کی خواہش اور سمجھ کے مطابق نکل آئے تو پھولے نہیں سماتے اور اس کو بار بار بیان کرتے ہیں اور نہایت ہی خوش وخرم نظر آتے ہیں اور دراصل وہ اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ کتاب وسنت کی لیکن نام وہ کتاب وسنت ہی کا لیتے ہیں اور اگر کوئی بات ان کی خواہش کے خلاف ہو تو وہ اس کتاب وسنت کو ماننے ہی کے لئے تیار نہیں اور چرب زبانی سے وہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ یہ بات کتاب وسنت کے مطابق نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق نہیں اور یہ وہ مقام ہے جہاں وہ بالکل ننگے ہوجاتے ہیں اور ان کی حالت بینا آنکھ رکھنے والوں کو صاف صاف نظر آنے لگتی ہے ۔
Ayah 24:48ان کی حالت کے پیش نظر ان کی اندرونی حالت وکیفیت کا بیان :
82۔ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو ان کے قدم آگے کی طرف کو نہیں اٹھتے کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے دل میں جو بیماری ہے وہ قدم اٹھانے ہی نہیں دیتی اور انکو اس بات کا پختہ یقین ہے کہ وہ کسی رو رعایت کی کوئی امید نہیں جو بات ہوگی وہ بالکل صاف صاف اور کھلی ہوگی اور اس طرح کی کھلی اور صاف بات کو وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اس وقت جب خود نبی اعظم وآخر ﷺ موجود تھے جب ان کو دعوت دی جاتی تھی تو صرف رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور آپ ﷺ ہی کی فیصلہ صادر کرنا ہوتا تھا پھر یہ اللہ کی طرف دعوت چہ معنی دارد ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود نبی کریم ﷺ کے وقت میں بھی جو فیصلے ہوتے تھے وہ سارے کے سارے وحی متلوہی کے ذریعہ نہیں ہوتے تھے بلکہ نبی کریم ﷺ اپنی ذاتی صوابدید کے مطابق بھی فیصلہ فرماتے تھے جن کا ماننا مسلمانوں کے لئے ایسا ہی ضروری تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف وحی متلو کے ذریعہ کئے گئے فیصلوں کا ماننا ضروری تھا یہی وجہ ہے کہ دوسری جگہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وضاحت فرما دی کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے کیونکہ ہر انسان کے اختیار کی بات نہیں کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے لیکن افسوس کہ یہ بات اس وقت کے منافقین کو بھی کھٹکتی تھی اور آج کے دور کے منافقین کو بھی یہی بات کھٹکتی نظر آتی ہے ، وہ قرآن کریم کا بار بار نام استعمال کرتے ہیں لیکن حدیث وسنت کے نام سے دور بھاگتے ہیں اور سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ‘ کیوں ؟ اگر حدیث وسنت کا نام لیاجائے تو ان کو پابند ہونا پڑتا ہے اور وہ پابند ہونا نہیں چاہتے حالانکہ اگر حدیث وسنت سے مکمل طور پر گلوخلاصی کرائی جاسکے تو قرآن کریم کے کثیر حصہ سے خود بخود چھٹکارا ہوجاتا ہے کہ کون اللہ سے ملا ہے اور کس سے اللہ نے یہ باتیں کی ہیں ؟ اور یہ بھی کہ اللہ نے جس سے یہ باتیں کی ہیں وہ کیا ہے ؟ کوئی مشین ہے یا انسان ؟ اگر اس واسطے کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو قرآن کریم کی آخر حیثیت ہی کی رہ جاتی ہے ؟ آپ قرآن کریم کو کس ورطہ سے قرآن کریم تسلیم کریں گے ؟ افسوس کہ منافقین نے اپنی چرب زانی سے اقرار کیا اور عملی طور پر انکار کے مرتکب ہوگئے ، اس لئے زیر نظر آیت میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟
1۔ کیا ان کے دل کفر ونفاق کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ۔
2۔ کیا ان کو ابھی اس میں تردد ہے کہ جو احکام ہمیں مل رہے ہیں یہ کتاب وسنت میں ہیں بھی یا نہیں ؟
3۔ کیا انہیں یہ خوف لگا ہوا ہے کہ اللہ اور رسول ان کے ساتھ ناانصافی کریں گے اور ان کے حقوق کو سلب کرلیں گے ؟
ظاہر ہے کہ یہ تینوں باتیں ان کے دعوی اسلام کے شایان شان نہیں ‘ انہیں کسی طرح یہ حق نہیں پہنچتا کہ ایمان کا دعوی کرنے کے بعد اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے احکام سے انحراف کریں پھر اگر وہ اسی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں تو یقینا انکو تمام تر اسلامی برکات سے محروم کردیا جائے گا اور آج ہم لوگ من حیث القوم ان برکات اسلامی سے بلاشبہ محروم کردیئے گئے ہیں لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہمارے سیاسی اور مذہبی حلقے کے پیشوا اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں حالانکہ حقیقت اس کی محتاج نہیں ہوتی کہ اس کو کوئی تسلیم کرتا ہے یا نہیں ۔
Ayah 24:49سچے مومن اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں :
83۔ گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو منہ سے ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں کی پروا نہیں کرتے تو زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ سچے مومن کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ وہی لوگ ہیں کہ جب ان کو ” اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کردے تو ان کی بات یہی ہوتی ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور بلاشبہ وہ عملی طور پر اپنے کئے کا ثبوت پیش کردیتے ہیں فرمایا یہی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہیں “ اور مزید ایک دو آیت کے بعد آنے والی آیت ان کی کامیابی اور فلاح کی ضمانت پیش کر رہی ہے اور اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ ہر دیکھنے والا ان کی فلاح و کامیابی کا اقرار کرنے لگتا ہے ۔
آیت بالا پر ایک بار پھر غور کرو فرمایا جا رہا ہے کہ جب ارباب نفاق کا پول کھلتا ہے تو قسمیں کھا کھا کر اپنی اطاعت وفرمانبرداری کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو آپ ﷺ کا ہر حکم ماننے کو تیار ہیں یہاں تک کہ اگر آپ ﷺ ہمیں ہرچیز کو چھوڑ کر جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیں تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی توقف نہ کریں گے ، حقیقت یہ ہے کہ جھوٹے آدمی کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے کذب ونفاق کو قسموں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے ۔ چناچہ قرآن کریم ہی میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” یحلفون لکم لترضوا عنھم “۔ ” وہ صرف تم کو خوش کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) (المنافقون) ” انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ بنا رکھا ہے “ ان سے کہہ دیجئے کہ قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں تمہاری اطاعت کی حقیقت تو سب کو معلوم ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ان تمام ناشائستہ حرکات سے خوب واقف ہے ۔
Ayah 24:50سچا مومن کون ہے ؟ وہی جو قول وفعل کی یکسانیت رکھتا ہے :
84۔ اطاعت وفرمانبرداری کا دعوی مومن و منافق دونوں کو ہے اور دنوں زبان کے لحاظ سے ایک جیسا دعوی رکھتے ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا لیکن مومن وہ ہے جو قولی دعوی کے ساتھ فعلی ثبوت بھی پیش کر دے گویا جو کچھ اس کی زبان نے کہا عمل نے اس کی تصدیق کردی تو وہ سچا مومن کہلایا اور اگر زبان کے دعوی کی عملی تصدیق نہ ہوئی بلکہ عمل نے قول کی نفی کردی تو ایسا شخص منافق قرار پایا ۔ یہ پہچان اسلام کی مقرر کردہ پہچان ہے لیکن منافق نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ اپنی چرب زبانی سے اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اور یہی اس کی منافقت کی پہچان ہے اس لئے اس سے بحث بےفائدہ اور لاحاصل ہے ‘ ایسے لوگوں کو سات سلام کہہ کر خاموشی اختیار کرلینا ہی بہتر اور موزوں ہے اور ہو سکے تو ان کے ڈنگ سے بچنے کی تدبیر مناسب ہے ۔ آپ نبی اعظم وآخر ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یہی سبق آپ کو حاصل ہوگا ۔ منافقین کی ریشہ دوانیوں کا علم آپ ﷺ کو سینکڑوں بار ہوا لیکن آپ ﷺ نے ہر بار یہی راہ اختیار فرمائی ۔ وحی الہی نے بھی ان کا نام تک لینا کبھی پسند نہ کیا ۔
Ayah 24:51وضاحت کے لئے پیغامبر اور منافقین کا تقابل پیش کیا جا رہا ہے :
85۔ ایک پیغامبر کا کام کیا ہے ؟ یہی کہ من وعن پیغام کا پہنچانا اور اس کے مطابق خود عمل کرنا ‘ پیغام سننے والوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ اس کو سن لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ، پھر منافق کی پہچان کیا ہوئی ؟ یہی کہ وہ سن لینے اور فرمانبرداری کرنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کا عمل اس کے سننے اور فرمانبرداری کرنے کے وعدہ کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ وہ ہر سنی ان سنی کردیتا ہے ‘ وہ ایک کان سے سنتا ہے دوسرے سے نکال دیتا ہے ‘ اس کی زبان اور اس کے عمل میں کبھی مطابقت نہیں ہوتی وہ عمل کرنے کی بجائے سننے اور سمجھنے کی قسمیں کھاتا رہتا ہے ، بس ایسے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ قسمیں کھانے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ جس چیز کا نام اطاعت وفرمانبرداری ہے وہ ایک جانی پہچانی چیز ہے ، قسموں سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس کا تعلق جو کچھ ہے وہ صرف اور صرف عمل سے ہے اور جو تم عمل کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔
Ayah 24:52رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری کی مزید وضاحت :
86۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ ایمان صرف یہ ہے کہ بلا چون وچرا رسول کے تمام فرامین کی اطاعت کرو اور اگر روگردانی کرو گے تو تم خود اس کے ذمہ دار ہو اس لئے کہ رسول نے تو اپنا فرض تبلیغ و رسالت ادا کردیا اس کا کام صرف اسی قدر تھا کہ اللہ رب العزت کا پیغام تم کو سنا دے اور تمہارے شکوک و شبہات کو دور کردے ۔ زیر نظر آیت میں رسول کی اطاعت کا جو حکم دیا گیا ہے کیونکہ ” علیہ ماحمل “ کے الفاظ خود بول بول کر کہہ رہے ہیں کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے جو کسی بات کی مکلف کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ مکلف انسان ہی ہو سکتا ہے نہ کہ انسان کا پیغام اس لئے اس انسان سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں نہ کہ آپ ﷺ کی صرف رسالت جیسا کہ بعض اہل عقل و دانش اور خصوصا اہل قرآن کہلانے والے لوگ کہتے ہیں ۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا دین تم کو واضح طور پر پہنچا دیا اور اس کے مطابق عمل کر کے بھی تم کو دکھا دیا اس طرح اس نے گویا اپنا یہ فرض بہ احسن و خوبی ادا کردیا اور اب یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو پکڑ پکڑ کر ایمان وہدایت کے راستہ پر چلا بھی دے ، یاد رکھو کہ اب ایمان وہدایت کی راہ اختیار کرنے کی ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہے اور عند اللہ تم ہی کو جواب دہی کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بات تم نے کیوں نہیں مانی ہاں ! یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ” اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو یقینا ہدایت پاؤ گے “ کیونکہ ہدایت کی راہ صرف اور صرف رسول کی پیروی میں ہے اور یہی فوز و فلاح کی راہ ہے اس راہ سے ہٹ کر جو شخص ہدایت کی تلاش کرے گا وہ گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکتا ۔
Ayah 24:53رسول کے ذمہ پیغام پہنچانا ہے ‘ ہدایت پر لگا دینا نہیں :
87۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت کی طرف سے رسول کی ذمہ داری صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ واضح طور پر لوگوں کو اللہ کا دین پہنچا دے چناچہ وہ اس نے پہنچا دیا اب اس کو قبول کرنا نہ کرنا ‘ اس کے مطابق عمل کرنا نہ کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اپنی ذمہ داری نہیں ادا کرتے ہو تو اس کا خمیازہ بھی تم ہی کو بھگتنا ہوگا ۔ ایک بار مزید غور کرو کہ زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری تمام آیات میں ایمان کا لازمی تقاضا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی کو بتایا گیا ہے اور دوسری جگہ اللہ کی اطاعت کا راستہ بھی رسول ہی کی اطاعت کو قرار دیا گیا ہے اس کے بغیر صرف ” امنا باللہ وبالرسول “ کہہ دینے سے اطاعت رسول کا حق ادا ہوجاتا تو کوئی شخص بھی منافق نہ کہلا سکتا اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ اطاعت نام ہے اقرار باللسان کے ساتھ اقرار بالقلب کا اور پھر اقرار بالقلب کا اعتبار ہے اقرار بالعمل کے ساتھ اگر یہ نہیں تو زبانی جمع خرچ کا نام اسلام نہیں ہے ۔
Ayah 24:54رسول اللہ ﷺ کے پیروؤں کے لئے غلبہ تمکن کی بشارت :
88۔ دودھ سفید ہوتا ہے ‘ صحیح ہے لیکن ہر سفید چیز کو دودھ نہیں کہا جاسکتا بلاشبہ ایمان والوں کو خلافت دیئے جانے کی پیش گوئی زیر نظر آیت میں دی گئی ہے لیکن اس کا مفہوم یہ سمجھنا کہ جس شخص کو حکومت وفرمانروائی مل گئی وہ ایماندار ہوگیا کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے اس کا یہی مطلب سمجھا اور انہوں نے ہر اس شخص کو سچا مسلمان سمجھا اور ہر اس ملت کو ملت اسلامی تصور کرلیا جس شخص کو حکومت و بادشاہی دیکھی جھٹ انکو مسلمان فرمانبردار سمجھ لیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے دین کے ہر رکن کی تاویل کی اور ہر کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر بنانے کے لئے کمر بستہ ہوگئے جس کا نتیجہ وہی ہوا جو ایسے لوگوں کا ہوا کرتا ہے کہ نہ وہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے ۔
بلاشبہ زیر نظر آیت میں ذکر ہے اس جماعت کا جس نے اللہ کی غلامی لی اور اس کے قانون کی پابندی کو اپنی غایت الغایات بنا لیا ہے اور عمل صالح ان کا طغرائے افتخار ہے ان لوگوں سے قدوس حق نواز حسب ذیل وعدے کرتا ہے کہ :
ا : انہیں ارض مقدس کی حکومت ملے گی جیسے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی ۔
ب : جو دین ان کو قرآن کریم کی معرفت ملا ہے اس کو تمکین فی الارض نصیب ہوگی اور یہ لوگ اس قرآن کو اپنی سلطنت کا قانون بنائیں گے ۔
ج : انہیں کسی دشمن کا خوف نہ ہوگا اور اس کی کمزوری سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے گا ‘ دنیا کا ایک حصہ تو ان کے زیرنگیں ہوگا اور دوسرا حصہ ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا بلکہ جب کبھی ان پر حملہ آور ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو ناکام اور خائب و خاسر واپس کر دے گا ۔ وعدہ الہی میں ان تینوں باتوں کے ساتھ اس خلافت کی بقاء و استحکام کے لئے چند شرطوں کی پابندی ضروری قرار دے دی اور فرمایا کہ جب تک یہ خصوصیات مسلمانوں میں باقی رہیں گی وہی اس حکومت کے مالک رہی گے اور جہاں انہوں نے جادہ اعتدال سے انحراف کیا تو قعرمذلت میں گرا دیئے جائیں گے اور وہ شرائط اس طرح بیان فرمائیں :
ا : جب تک تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ میری ہی غلامی کو طرہ امتیاز بناؤ گے اور میرا قانون نافذ کرتے وقت انسانو سے بالکل خوف نہ کرو گے ۔
ب : راہ حق وتبلیغ اسلام میں جس قدر بدنی تکلیفیں ہوں ان کو نماز کی طرح شوق وولولہ کے ساتھ برداشت کرو گے ۔
ج : مال زکوۃ کی طرح سلطنت کے مصارف اور قیام جہاد کے لئے ایک مستقل رقم ادا کرتے رہو گے تاکہ ضرورت کے وقت حکومت اسلامی کی اعانت کی جاسکے ۔
د : امام جس امر کا حکم دے اسے بسر وچشم قبول کرتے ہوئے اس سے کسی حال میں بھی انحراف نہ کرو گے ۔
فرمایا یہی وہ باتیں ہیں جن سے سلطنت اسلامی قائم رکھ سکو گے اور ان پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی بلاشبہ یہ وعدہ پورا ہوگیا اور ساری دنیا اس کی آج تک گواہ ہے تاریخ اغیار بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس وعدہ کے نتیجہ میں خلافت راشدہ قائم ہوئی اور دنیا کے کثیر حصہ پر فرزندان اسلام کا پرچم لہرانے لگا ۔ مسلمان من حیث القوم جب تک ان شرائط کو پورا کرتے رہے اور ان کی کمزوریوں سے ساری شرائط ہی فوت نہ ہوگئیں وہ بلاشرکت غیرے ان علاقوں کے حکمران رہے اور اقوام عالم میں سے کسی کو اس کی جرات نہ ہوئی کہ وہ ان کے سامنے سر اٹھائے اور کبھی کہیں کسی قوم نے کوشش کی بھی تو اس کو اسی وقت سر سے پکڑ لیا گیا اور کسی کو آنکھ اٹھانے کی جرات نہ ہوئی اور اس کا نتیجہ آج بچہ بچہ کی زبان پر ہے ، بلاشبہ اس وقت تھا جو تھا لیکن :
آج بھی مسلمانوں کی تیرہ سو سالہ زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم عزت و عظمت ‘ شان و شوکت ‘ دبدبہ و حشمت کے تنہا مالک اور اجارہ دار ہیں لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹا کر موجودہ حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم انتہائی ذلت و خواری ‘ افلاس وناداری میں مبتلا نظر آتے ہیں ‘ نہ زور وقوت ہے نہ زرودولت ‘ نہ شان و شوکت ہے نہ باہمی اخوت والفت ‘ نہ عادت اچھی نہ اخلاق اچھے ‘ نہ اعمال اچھے نہ کردار اچھے ‘ ہر برائی ہم موجود ہے اور ہر بھلائی سے ہم کوسوں دور ‘ اغیار ہماری اس زبوں حالی پر خوش ہیں اور برملا ہماری اس کمزوری کو اچھال رہے ہیں اور ہمارا خوب مضحکہ اڑا رہے ہیں پھر اسی پر بس نہیں کہ اغیار یہ سب کچھ کر رہے ہیں بلکہ اس وقت تو خود ہمارے جگر گوشے نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان اسلام کے ان مقدس اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں بات بات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور اس شریعت مقدسہ کو ناقابل عمل ‘ لغو اور بیکار گردانتے ہیں ۔ عقل حیران ہے کہ جس قوم نے دنیا کو سیراب کیا وہ آج کیوں تشنہ کام ہے ؟ جس قوم نے دنیا کو تہذیب و تمدن کا سبق پڑھایا وہ آج کیوں غیر مہذب اور غیر متمدن ہے ۔ راہنمایان قوم نے ہماری اس حالت زار کا کئی بار اندازہ لگایا اور مختلف طریقوں پر ہماری اصلاح کے لئے جدوجہد کی مگر نتیجہ یہ نکلا کہ ع
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی :
بدقسمتی سے آج ہماری حالت بد سے بدتر تو ہوچکی اور آنے والا زمانہ ماسبق سے بھی زیادہ پرخطر اور تاریک نظر آرہا ہے ‘ ہمارا خاموش بیٹھنا اور عملی جدوجہد نہ کرنا ایک ناقابل تلافی جرم ہے لیکن ہم ہیں کہ گہری نیند سو رہے ہیں اور جب آنکھ کھلتی ہے اور اسلام اسلام کا ایک شور بپا دیکھتے ہیں تو ہم آنکھیں ملتے ملتے ایک اعلان کردیتے ہیں اور اس کا نام اسلام کا قانون رکھتے ہیں لیکن اس کو جب اصل اسلامی قانون پر رکھ کر دیکھتے ہیں تو نظر آنے لگتا ہے کہ یہ قانون اسلام کا قانون تو نہیں پھر اس جھگڑے میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ایک گروہ اس کو اسلامی قانون ثابت کرنے پر لگ جاتا ہے اور دوسرا اس کو غیر اسلامی گردانتا ہے اس طرح ایک نیا بھیڑ بھڑ نا شروع کردیتے ہیں۔
حالانکہ ہم سب کا دعوی ہے کہ ہماری شریعت ایک مکمل قانون الہی ہے جو ہماری دینی اور دنیوی فلاح و بہبود کا تاقیام قیامت ضامن ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم خود ہی اپنا مرض تشخیص کریں اور خود ہی اس کا علاج شروع کردیں بلکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر قرآن کریم سے اپنا اصل مرض معلوم کریں اور اس مرکز رشد وہدایت سے طریق علاج معلوم کرکے اس پر کار بند ہوں۔ جب قرآن کریم قیامت تک کے لئے ہے اور وہ مکمل دستورالعمل ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس نازک حالت میں ہماری راہبری سے قاصر رہے ۔ مالک ارض وسماء جل وعلا کا سچا وعدہ ہے کہ روئے زمین کی حکومت وخلافت مومنوں کے لئے ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ وہ انکو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا کہ ان سے قبل لوگوں کو حاکم بنا چکا “ اس پر تحدی کے طور پر یہ اعلان بھی فرمایا گیا کہ مومن ہمیشہ کفار پر غالب رہیں گے اور کافروں کا کوئی یار و مددگار نہ ہوگا ۔ کس وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور اگر تم سے یہ کافر لڑے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے اور پھر وہ کوئی اپنا یارومددگار نہ پائیں گے ۔ “ ( سورة الفتح 28 : 22) اور مزید ارشاد فرمایا کہ ” اور ایمان والوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم وضروری ہے “ اور پھر فرمایا کہ ” تم ہمت مت ہارو اور غم مت کرو تم ہی غالب آنے والے ہو اگر تم مومن ہوئے ۔ “ (آل عمران 3 : 139) فرمایا خیال رکھو کہ ’ اللہ ہی کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے لئے “ (المنافقون 63 : 8) ہاں ! آج اگر ہماری حالت اس کے برعکس ہے تو ہم کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہماری ایمانی حالت کمزور سے کمزور تر ہوچکی ہے اور صحیح معنوں میں ہم ایمان والے کہلانے کے حق دار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہمارے ساتھ نہیں رہا اور یہ اس لئے ہوا کہ ہم وہ نہ رہے جن کے ساتھ اس نے یہ وعدہ فرمایا تھا ۔