Ayah 24:9پانچویں بار وہ قسم کھائے گی کہ اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو :
15۔ چار بار قسمیں کھالینے کے بعد وہ پانچویں بار اس طرح قسم کھائے کی کہ ” اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ سچوں میں سے ہو “ یعنی اس قسم کے کھانے میں اگر میں جھوٹی ہوں اور میرا خاوند سچا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت پڑے ۔ اس پر عورت بھی اگر اسی طرح پانچویں قسمیں کھالے تو وہ عذاب یعنی اس سزا سے بچ جائے گی جو اس جرم کے لئے بتائی جا چکی ہے یعنی سو کوڑے اور ایک سال تک کی قید ، اب دونوں میں سے سزا تو کسی کو بھی نہ ہوئی تو اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ اس کا نتیجہ فریقین کے درمیان جدائی ہے جب لعان کی قسمیں دونوں طرف سے ہوگئیں تو اب عورت کو مرد سے طلاق لینے کی ضرورت نہ رہی اور نہ مرد کسی طرح کی کوئی مزاحمت کرسکتا ہے بلکہ فریقین کے قسمیں کھا چکنے کے بعد خود بخود طلاق واقع ہوجاتی ہے اور یہی اس کا نتیجہ ہے ۔ شریعت اسلامی کی زبان میں اس کو لعان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ کتب احادیث میں اس کی بہت وضاحت کی گئی ہے اور خود نبی کریم ﷺ کے وقت کے تین واقعات کتب احادیث میں بیان کئے گئے ہیں ‘ ہلال بن امیہ ‘ عویمر العجلانی ‘ اور عاصم بن عدی کی مختلف احادیث کو اکٹھا کرکے بیان کیا جائے تو ہمارے خیال میں ہلال بن امیہ کا واقع تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ہم اس کو اپنے الفاظ میں اس جگہ درج کرتے ہیں اور صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں تفصیلات کے لئے کتب احادیث میں کتاب الطلاق میں باب لعان کا مطالعہ کریں ۔
حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم میں قذف کی حد سے متعلق احکام کی آیات کا نزول ہوا تو انصار کے قبیلہ بن خزرج کے رئیس سعد بن عبادہ نے جناب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ” یا رسول اللہ ! کیا یہ آیات اس طرح نازل ہوئی ہیں ۔ “ سعد ؓ کی زبان سے اس طرح کی بات سن کر نبی اعظم وآخر ﷺ خاموش ہوگئے اور پھر انصار سے مخاطب ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا ” اے گروہ انصار ! سن رہے ہو اپنے سردار کی باتیں ؟ “ تو حاضرین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دراصل غیرت کے باعث ان کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے ہیں دراصل وہ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہیں اس پر سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا :
یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ۔ میرا ایمان ہے کہ یہ آیات حق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں ۔ مگر جو بات پریشان کن ہے وہ یہ کہ اگر میں اپنی بےحیاء بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ ملوث دیکھوں تو کیا میں حق پر نہیں ہوں گا ، اگر اسے قتل کر دوں ، تو کیا میرے لئے ضروری ہوگا کہ میں چار گواہ ڈھونڈتا پھروں اور جب تک انہیں اکٹھا کروں ملزم اپنا مطلب پورا کرکے فرار ہوجائے ۔
ان آیات کے نزول اور سعد بن عبادہ کی اس گفتگو پر تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ ہلال بن امیہ کو بعینہ یہی واقعہ پیش آگیا ۔ عشاء کے وقت جب وہ اپنی زمینوں سے واپس ہوئے تو انہوں نے ایک فرد کو اپنی بیوی پر پایا ان کی باتیں بھی سنیں لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا ، صبح دم ہلال جناب سید الکونین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پورا قصہ من وعن حضور ﷺ کے گوش گزار کیا ۔ جناب رسالت مآب یہ واقعہ سن کر سخت رنجیدہ ہوئے ، اتنے میں انصار کے دوسرے افراد بھی وہاں آپہنچے اور آپس میں کہنے لگے ۔
” ہمارے سردار سعد بن عبادہ ؓ نے جو بات کہی تھی ‘ ہم اسی ابتلا میں پڑگئے ، ہلال کے بس کا روگ نہیں کہ چار گواہ اکٹھے کرسکے ‘ اس لئے جناب رسالت مآب احکام الہی کے مطابق اسے حد قذف بھی لگائیں اور ساتھ ہی ہمیشہ کے لئے مردود الشہادت بھی قراردیں گے ۔
مگر ہلال نے کہا ۔ بخدا مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ مجھے رسوا نہیں کرے گا ۔
جناب رسالت مآب ﷺ نے ہلال کا واقعہ سن کر فرمایا :
اے ہلال ! قرآنی حکم کے مطابق چار گواہ پیش کرو ‘ ورنہ تمہاری پیٹھ پر اسی تازیانے لگائے جائیں گے ۔
ہلال بن امیہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں اپنے دعوے میں حق پر ہوں ۔ میرا ایمان ہے کہ ضرور اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سبیل پیدا فرمائیں گے جو میری پیٹھ کو حد قذف سے نجات دلائے گی ۔
دوران گفتگو حضرت جبریل امین (علیہ السلام) یہ آیات لے کر حاضر ہوئے :
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا عیب لگائیں اور خود ان کے سوا ‘ ان کا کوئی گواہ نہ ہو ‘ ایسے مدعیوں میں سے ہر ایک کی گواہی یہ ہوگی کہ پہلے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر قسم کھائے کہ وہ ضرور اپنے بیان میں سچا ہے ، پھر پانچویں مرتہ کہے : اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی پھٹکار ۔
اور اگر (شوہر کے قسم کھانے کے بعد) عورت بھی چار مرتبہ اللہ کو گواہ ٹھہرا کر قسم کھائے کہ یہ آدمی سراسر اپنے بیان میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہہ دے ۔
اگر یہ اپنے بیان میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ ہی کا غضب پڑے (اس صورت میں) عورت کے سر سے سزا ٹل سکتی ہے ۔ ( سورة نور 7 : 10)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیات لعان نازل ہوئیں تو جناب رسالت مآب ﷺ نے ہلال بن امیہ کو بلا کر بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے راہ پیدا فرما دی ۔ ہلال نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو اللہ پاک سے ایسی ہی آس لگائے ہوئے تھا :
اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے ہلال کی بیوی کو بھی بلابھیجا ، جب وہ آن پہنچی تو حضور ﷺ نے اس دعوی سے متعلق اس سے باز پرس کی ‘ جس پر وہ کہنے لگی ” یا رسول اللہ ﷺ ! ہلال نے مجھ پر بہتان باندھا ہے ۔ “
جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے ، اسے علم ہے کہ تم میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے ، کیا تم میں کوئی ہے جو (خدا کا خوف کرتے ہوئے) توبہ کرے اور حق بات ظاہر کر دے ۔ “
اس پر ہلال بن امیہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں میں نے حق بات کہی ہے اور جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے ۔
اس پر جناب سید الکونین ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ دونوں میاں بیوی سے قرآنی احکام کے مطابق لعان کرایا جائے ، اس لئے آپ ﷺ نے پہلے ہلال کو حکم دیا کہ وہ چار مرتبہ ان الفاظ سے شہادت دے جو کلام پاک میں مذکور ہیں ‘ چناچہ ہلال نے چار مرتبہ شہادت دی کہ :
” میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں ۔ “
جب وہ پانچویں شہادت کے لئے تیار ہوا تو حضور ﷺ نے تاکیدا ہلال سے فرمایا :
” دیکھو ہلال ! اللہ تعالیٰ کا خوف کرو ‘ دنیاوی سزا آخرت کے عذاب سے کہیں ہلکی ہے اور عذاب الہی ‘ لوگوں کی دی ہوئی سزا سے کہیں زیادہ سخت ہے ۔ یہ پانچویں شہادت آخری شہادت ہے۔ اسی پر فیصلہ کا دارومدار ہے ۔ “
اس پر ہلال بن امیہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے کامل یقین ہے کہ اللہ پاک مجھے اس شہادت پر آخرت کا عذاب نہیں دیں گے اور اس نے پانچویں شہادت دی ۔
” اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ “
اس کے بعد ہلال بن امیہ کی بیوی آگے بڑی ‘ اس نے بھی چار بار شہادت دی اور قسمیں کھائیں اور ہر بار کہا کہ میرا خاوند جھوٹا ہے ، جب پانچویں شہادت دینے لگی تو آپ ﷺ نے اسے روک دیا اور فرمایا ” اللہ سے ڈرو ‘ یہ پانچویں شہادت آخری شہادت ہے یاد رکھو ! اللہ کا عذاب اس دنیاوی سزا (زنا کی حد شرعی) سے زیادہ المناک ہے ۔ “
اس نے جب یہ سنا تو وہ تھوڑی دیر رکی ‘ جھجھ کی ‘ مگر پھر فورا کہہ اٹھی :
واللہ ۔ میں اپنی قوم کو ہرگز رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں شہادت بھی دے دی ۔
” کہ اگر میرا شوہر سچا ہے تو اللہ کہ پھٹکار مجھ پر پڑے ۔ “
جب ملاعنت کی کاروائی مکمل ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے میاں بیوی میں تفریق فرما دی اور حکم دیا کہ :
1۔ اس حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ ماں سے منسوب کیا جائے گا ۔
2۔ باپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔
3۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بچے کو مطعون کرے یا اس کی ماں کو ملامت کرے اور اگر کوئی شخص اس کے باوجود الزام تراشی کا مرتکب ہوا تو ۔۔۔۔۔۔ اس پر حد قذف جاری ہوگی ۔
4۔ عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ہلال سے زمانہ عدت کے لئے نفقہ اور سکونت کا مطالبہ کرے کیونکہ یہ طلاق اور وفات کے بغیر اپنے خاوند سے الگ کی جا رہی ہے ۔
پھر آپ ﷺ نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا :
اس عورت کے ہاں جو بچہ کی ولادت ہو تو دیکھو وہ کس پر گیا ہے ؟ وہ ہلال پر ہو تو سمجھو ہلال کا ہے ۔
اور اگر دوسری صورت پر ہو تو سمجھ لو کہ یہ بچہ اس شخص کا ہے جس کے ساتھ عورت متہم کی گئی ہے ۔
وضع حمل کے بعد جب دیکھا گیا تو بچہ ہلال کی صورت پر نہیں تھا ، جب حضور ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا :
اگر اللہ کی کتاب پہلے فیصلہ نہ کرچکی ہوتی تو میں اس پر ضرور حد جاری کرتا۔
(صحیح بخاری ج 2 کتاب المحاربین ص 40 ‘ 44 ج 4 ص 908 ‘ 909 ‘ صحیح مسلم ج 4 ص 133 ‘ 136)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص اور اس کی بیوی کا مقدمہ بارگاہ سید الکونین ﷺ میں پیش کیا گیا (خاوند نے بیوی پر الزام لگایا کہ وہ دوسرے شخص سے ملوث ہوگئی ہے) ان کے درمیان لعان کرایا گیا ۔
عورت حمل سے تھی ‘ لیکن مرد کو اصرار تھا کہ یہ حمل اس کا نہیں (ملاعنت کے بعد) جناب رسالت مآب ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کرا دی اور فیصلہ دیا ۔
کہ بچہ صرف ماں کا ہوگا ۔ (موطا امام مالک ص 480)
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اسی طرح کا ایک اور معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، چناچہ جناب رسالت مآب ﷺ نے لعان کا حکم دیا ، ملاعنت کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا :
” تمہارا حساب اللہ پاک کے ذمہ ہے ، تم میں سے ایک بہرحال جھوٹا ہے ۔ “ پھر آپ ﷺ نے مرد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :
” یہ (عورت) اب تیرے حق میں نہیں رہی ، اب تیرا اس کے ساتھ تعلق باقی نہیں رہا ۔ تم اس (عورت) کے خلاف نہ تو کسی قسم کی دست درازی کرسکتے ہو اور نہ کسی منتقمانہ کارروائی کرنے کے مجاز ہو۔ “
اس پر اس شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا :
” یارسول اللہ ﷺ میرا مال (جو اسے میں نے دیا ہے) کا کیا بنے گا ؟ “
جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا :
” تمہیں مال واپس لینے کا کوئی حق نہیں ۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو بھی (تمہارا) مال اس لذت کا بدل ہے جو تو نے حلال کرکے اس سے حاصل کی۔
اور اگر تمہارا دعوی جھوٹا ہے تو بھی (جس طرح اب وہ عورت تم سے دور ہوگئی ہے) اسی طرح مال بھی تیرے حق ملکیت سے دور چلا گیا ۔
Ayah 24:10حال اس قدر خراب تھی کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو اسکی اصلاح کی کوئی صورت نہ تھی :
16۔ بلاشبہ عرب بداخلاقی میں اس درجہ منہمک تھے کہ بظاہر ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہ تھی یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فضل مخصوص تھا کہ اس نے عرب جیسے وحشی ملک میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو بھیجا اور آپ ﷺ کو ایسا قانون عنایت فرمایا جس سے قلیل ترین مدت میں تمام جزیرہ نمائے عرب کو ان نقائص اور زمائم سے پاک وصاف کردیا جن میں صدیوں سے ڈوبے چلے آرہے تھے اور ان کو مہذب وشائستہ بنا کر قیصر و کسری سے بھی آگے بڑھا دیا ۔
Ayah 24:11اتہام باندھنے والے ایک منظم گروہ کے لوگ تھے جو تم ہی میں شامل تھے :
17۔ نبی اعظم وآخر ﷺ ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو کفار مکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اس تحریک کو ختم کردیا جائے انہوں نے اس کے لئے یہ تدبیر شروع کی کہ مہاجرین مدینہ میں آرام سے نہ بیٹھ سکیں بلکہ ان کے بار بار میدان کارزار میں نکلنے پر مجبور کیا جائے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح ان کے ساتھ انصار کو مصروف ہونا پڑے گا اور جب وہ اس طرح بار بار آزمائے جائیں گے تو اس تحریک سے یقینا تنگ پڑیں گے ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ان کی یہ آزمائش ان کے حق میں مفید نہیں ہو رہی تو انہوں نے ہر اس شخص کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جس کی رگ وپے میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق ذرا بھر بھی کمزور عنصر موجود تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ میں ایک اچھا خاصا منافقین کا گروہ پیدا ہوتا چلا گیا اور مدینہ منورہ میں جو لوگ محض اپنی سیادت کو بچانے کی خاطر مسلمان ہوئے تھے انہوں نے اندرون خانہ اپنی کوششیں تیز سے تیز تر کردیں اور ان کی ہر ممکن کوشش وسعی یہ تھی کہ لوگ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں نہ آئیں ، پرانے نظام کے امام ہر قیمت پر چاہتے تھے کہ ان کی سیادت باقی رہے اور وہ اپنی من مانیاں کرتے رہیں اس قانون اسلامی سے ان کو بہت دکھ ہوا اس لئے وہ اپنی جان کی بازی لگا کر بھی ان محرکات کو ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے جو انکی من مانیوں کے لئے خطرہ تھے پرانے رسم و رواج کے پابند قبائل کب برداشت کرسکتے تھے کہ ان کے آباء و اجداد کے طریقوں کو بدلا جائے اس لئے انکو نبی اعظم وآخر ﷺ کا یہ اصلاحی نظام ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا وہ ہر قیمت پر نئی ملت کو ختم کرنے کا تہیہ کرچکے تھے ، آپ پیچھے سورة الانفال میں پڑھ چکے ہیں کہ جنگ احد میں تھوڑی سی کامیابی مخالفین کے حصہ میں آئی تھی اس کامیابی سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ۔ قریش مکہ اور منافقین مدینہ کی ریشہ دوانیاں اب زیادہ تیز ہوگئیں ان کو خیال ہوا کہ ہم مزید ہمت کریں تو اس تحریک کو بیخ وبن سے اکھیڑ پھینکنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، انہوں نے چھوٹے چھوٹے قبائل کو ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ان کے ارادہ میں یہ بات تھی کہ اب ایک بار مدینہ پر ٹوٹ پڑیں گے تو یہ سارا معاملہ ختم کردیں گے غزوہ احد کے بعد انہوں نے پروپیگنڈا مہم کو بھی تیز کردیا اور غلط خبریں پھیلانا شروع کردیں یہی وجہ ہے کہ جنگ احد کے بعد جو مہمات پیش آئیں ان میں غلط خبروں کا زیادہ حصہ ہے ، غزوہ بدر الاخری ذی قعدہ 4 ھ میں پیش آیا آپ ﷺ مدینے سے پندرہ سو آدمیوں کی جمعیت لے کر نکلے آپ ﷺ کو معلوم ہوا تھا کہ ابو سفیان مکہ سے لشکر لے کر آرہا ہے حالانکہ یہ خبر غلط تھی اس طرح غزوات الرقاع اور غزوہ دومۃ الجندل میں بھی ہوا ۔ ازیں بعد آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ حارث بن ابی ضرار مدینے پر چڑھائی کے لئے لشکر فراہم کر رہا ہے آپ ﷺ نے بریدہ سلمی کو بھیجا کہ اس خبر کی صداقت معلوم کریں اور ازیں بعد آپ ﷺ خود بھی سات سو کی جمعیت لے کر بعجلت مریسیع پہنچے ، یہ خزاعہ کا ایک قبیلہ تھا جو بنی مصطلق کے نام سے معروف تھا یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کو غزوہ بنی المصطلق کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔
غزوہ مریسیع ہی وہ غزوہ ہے جس میں منافقین کی خاصی تعداد نے شرکت کی تھی ‘ کیوں ؟ مدینے میں رہ کر ان کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی تھی انہوں نے کتنی ہی مہمات میں شرکت کرنے سے گریز کیا تھا اور وہ بار بار معذرت کر کے بھی تھک چکے تھے اس لئے انہوں نے یقینا ایک نئی سکیم بنائی کہ اب زیادہ سے زیادہ مسلمانوں میں شریک ہو کر مسلمانوں کے جنگی رازوں سے واقفیت حاصل کریں اور ان کے علم میں تھا کہ مدینہ کے باہر جتنی قومیں اور خاندان آباد ہیں ان سب سے قریش کے روابط ہیں اور وہ ان سب کو اکٹھا کرکے مدینہ پر چڑھائی کرنے والے ہیں اس لئے مسلمانوں کے جنگی راز بھی ان کو پہنچائیں گے اور اگر ہوسکا تو کوئی سکیم بھی ایسی ضرور لڑائین گے جس سے مسلمانوں کے اندر اختلاف پھوٹ سکے اور کچھ نہیں تو کم از کم مہاجر وانصار ہی کا مسئلہ کھڑا کردیں گے ۔ مریسیع چونکہ مکہ کے قریب جگہ تھی اس لئے وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ یہاں سے مکہ والوں کے ساتھ آسانی کے ساتھ روابط رکھے جاسکیں گے بہرحال اس طرح کے حالات کے باعث وہ شریک ہوئے لیکن ان کے ارادوں پر پانی پھر گیا جب وہ لوگ مسلمانوں کے پہلے ہی حملہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلے اور مسلمانوں کو اس غزوہ سے اتنا مال و دولت ملا کہ اس سے پہلے کسی غزوہ میں اتنا مال و دولت نہیں ملا تھا اور جب اس مال و دولت کو دیکھ کر وہ مکمل طور پر محتاط ہوگئے تاکہ اس مال سے وافر حصہ پاسکیں اور مسلمانوں کو یہ باور بھی کرائیں کہ دیکھا تم نے ‘ ہماری وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اگر وہ بھاگ نہ کھڑے ہوتے تو ہم ان کا تیاپانچا کردیتے اور منافقین کے سرداروں کو اس سے بہت ہی تکلیف پہنچتی کہ ان کی کوئی سکیم بھی کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکی اس لئے یہاں بھی ان کے اندر کی آگ نہ بھڑک سکی بلکہ اندر اندر سلگتی رہی اور یہ بدباطن ہر موقع پر فتنہ گری کی کوشش کرتے رہے کہ اتفاق سے ایک دن چشمہ سے پانی لینے پر ایک مہاجر اور انصاری میں جھگڑا ہوگیا ۔ انصاری نے عرب کے قدیم طریقہ پر یا للانصار کا نعرہ بلند کیا اور دوسری طرف مہاجر نے بھی یا معشرالمھاجرین کے نعرے سے جواب دے دیا دونوں طرف سے نعروں کی آواز سن کر مہاجرین وانصار بھی ہتھیار بستہ ہوگئے لیکن چند لوگوں نے بیچ بچاؤ کرا دیا ۔ عبداللہ بن ابی سلول جو منافقین کا سردار تھا اس کو یہ موقع ہاتھ آگیا اور انصار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ” تم نے یہ بلا خود مول لی ‘ مہاجرین کو تم نے بلا کر ایسا کردیا کہ اب وہ خود تم سے برابر کا مقابلہ کرتے ہیں اور تمہارا ذرا بھر بھی لحاظ نہیں کرتے ، اب بھی کچھ ہاتھ سے نہیں گیا ہے تم ان لوگوں کی دستگیری سے ہاتھ اٹھا لو تو وہ خود بخود یہاں سے نکل جائیں گے “۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ جھگڑا اتفاقا نہ ہوا ہو بلکہ ان منافقین ہی کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہو اس لئے کہ جب یہ آگ بھڑکتے بھڑکتے بجھ گئی تو ان منافقوں کے سردار کو بہت تکلیف پہنچی اور اس نے اپنے مداحوں اور خاندان کے لوگوں کے سامنے ایک جوشیلی تقریر شروع کردی اور ان کو مخاطب کرکے زور دار الفاظ میں کہا کہ ” رسول کے ان ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں “ اور پھر اسی جوش میں اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ ” ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا ۔ “ (المنافقون 63 : 7)
یہ واقعہ لوگوں نے نبی اعظم وآخر ﷺ تک بھی پہنچا دیا جب یہ واقعہ عرض کیا جارہا تھا اس وقت حضرت عمر فاروق ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے اور ابھی تک میدان مریسیع ہی میں تھے ، عمر ؓ نے جب یہ باتیں اپنے کانوں سے سنیں تو غصہ سے بےتاب ہوگئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ارشاد ہو تو میں ان منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ ﷺ نے نہایت سکون سے جواب دیا کہ اے عمر ؓ ! کیا تم یہ چرچا پسند کرتے ہو کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں ۔ (بخاری ص 728) مریسیع کی جنگ میں جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں حضرت جو یریہ بھی تھیں جو حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھی اور حارث اپنی قوم کے سردار تھے اس طرح جو یریہ نے نبی اعظم وآخر ﷺ کی زوجیت میں آنے کی خواہش کی جو پوری کردی گئی اور آپ ﷺ کا نکاح جو یریہ سے ہونا تھا کہ جو یریہ کے خاندان کا سارا مال جو مسلمانوں نے مال غنیمت کے طور پر تقسیم کرلیا تھا جو یریہ ؓ کے خاندان کو واپس کردیا اور تمام قیدیوں کو بھی رہا کردیا گیا ۔ اس طرح یہ قبیلہ اور خاص کر قبیلہ کی یہ شاخ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مطیع وفرمانبردار ہوگئی لیکن منافقین کو اس سے بہت بڑا دھچکا لگا کہ اس طرح ایک طرف تو اس مال سے ہاتھ دھونے پڑے اور چار وناچار واپس کرنا پڑا اور دوسری طرف قریش مکہ کے ساتھ جو عہد ومعاہدہ تھے وہ بھی پورے نہ ہو سکے اس سے ان کو بہت قلق تھا کہ اس غزوہ کی واپسی میں ایک مزید اتفاقیہ واقعہ پیش آگیا جو واقعہ افک کے نام سے معروف ہے ۔
احادیث وسیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو سننے کے ساتھ ہی نقل کیا گیا ہے لیکن جب واقعہ کی نسبت قرآن کریم میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اس واقعہ کو سننے کے ساتھ ہی تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ” یہ بالکل افتراء ہے “ اس کی تفصیلات لکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہاں ! اس واقعہ سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ محض جھوٹ اور بیہودہ خبر بھی بعض اوقات کس طرح پھیل جاتی ہے اور پھیلانے والے کتنے محتاط ہوتے ہیں کہ وہ بات کا بتنگڑ بھی بنا دیتے ہیں اور خود ظاہر بھی نہیں ہوتے اور اشاروں کنایوں ہی میں وہ کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں اور ان کو ایک ” پر “ سے کوا اور کوے سے ڈار بناتے کوئی زیادہ دیر نہیں لگتی اور آج کل یہ مہم باقاعدہ منظم طریقہ سے چلائی جاتی ہے جس کا نام پروپیگنڈا رکھا گیا ہے اور ہر تحریک میں اس کا ایک باقاعدہ سیکرٹری بنایا جاتا ہے ، بہرحال ان لوگوں نے واقعہ افک کی خبر خوب گرم کی اور اندر ہی اندر انہوں نے بہت کچھ کہنا سننا شروع کردیا اور دراصل وہ اس نئے قانون کی دھجیاں اڑانا چاہتے تھے جس کی سزائیں نہایت سخت تھیں اور ان کو یہ پابندیاں ایک نظر نہ بھاتی تھیں ، انہوں نے جو کچھ کہا نہایت بچ بچا کر کہا اور اس طرح کی گول مول باتیں کیں اور ان کو اس قدر خفیہ رکھا کہ کتنے روز تک اس بات کو اندر ہی اندر چلاتے رہے اور جب یہ بات ظاہر ہوئی تو اس وقت مدینہ کے بچہ بچہ کی زبان پر یہ بات جاری تھی اور ہر کان اس کو سن چکا تھا اور اس کی چھان بین نہایت مشکل ہوچکی تھی کہ اس افواہ کو پھیلانے والا کون ہے ؟ اور ایک اتفاقی بات کو کس طرح ہوا دی جارہی ہے ؟ بہرحال اس سے جو تکلیف آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے اہل و عیال کو پہنچی اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو کسی اس طرح کی آزمائش میں مبتلا ہوا ہو باقی لوگ اس کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ ایسی آزمائش میں کسی کو مبتلا نہ کرے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ بعض لوگوں نے اس واقعہ افک سے بالکل انکار کیا ہے اور انہوں نے انکار کا باعث صرف ان روایات کو قرار دیا ہے جن روایات میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے اور پھر روایات کا انکار کرنے کے لئے روایان کو زیر بحث بنایا ہے لیکن ہم یہ بات ایک سے زیادہ بار عرض کرچکے ہیں کہ راویوں کی بحث سے کسی واقعہ کے صحیح یا غلط قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اس طرح سارا وقت اس بحث میں کھپ جاتا ہے اور پھر بات کے صحیح یا غلط ہونے کا یہ معیار بذاتہ صحیح نہیں ہے بلکہ واقعہ خود اس کی وضاحت پیش کردیتا ہے کہ میرے اندر صداقت کتنی ہے اور کذب گو کہاں تک اس کا نام درایت رکھیں یا کچھ اور اس سے حقیقت واضح ہونا فطرت کے زیادہ قریب ہے اگرچہ یہ طریقہ ہمارے ہاں کم رواج پایا ہے اور ایک دوسرے کی بات کو نیچا کرنے کے لئے زیادہ تر سہارا راویوں ہی کا لیا جاتا ہے کیونکہ فریقین ایک دوسرے کی باتوں کا رد اس بحث سے زیادہ کرسکتے ہیں بلکہ بعض اوقات دونوں فریق اپنی اپنی بحث پیش کرکے ایک دوسرے کا رد کرنے پر مطمئن رہتے ہیں اور اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہیں اور پھر اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔
قرآن کریم نے اس آیت میں صرف یہ اشارہ دیا ہے کہ یہ واقعہ افک باقاعدہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت پھیلایا گیا اور ایک اتفاق کو اتفاق نہیں بلکہ عمد بنانے کی کوشش کی گئی اور اس میں شامل ہونے والے ایک گروہ کی صورت میں تھے جو اپنا اپنا کام نہایت مستعدی کے ساتھ سرانجام دیتے چلے جار ہے تھے لیکن دوسرے واقعات کی طرح اس واقعہ کی برائی بھی انہی پر پڑی اور وہ جو کچھ کر گزرنا چاہتے تھے وہ نہ کرسکے بلکہ ان کا سارا وبال انہیں پر پڑا تاہم کچھ کان کے کچے لوگوں پر بھی اس کا اثر پڑا اگرچہ وہ حقیقت میں سچے مسلمان تھے لیکن کوئلوں کی دلالی میں منہ کلا کا مصداق وہ بھی ٹھہرے ۔
تم اس کو برا نہ سمجھو بلکہ تمہارے حق وہ واقعہ اچھا رہا کیونکہ نتیجہ نے اس کو اچھا کردیا :
18۔ بلاشبہ کوئی الزام بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن ذرا غور کرو کہ جب وہ شخص جس پر الزام لگایا گیا ہو اس الزام سے بری قرار دیا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ اس کی اتنی خوشی ہوتی ہے کہ لوگ مبارکبادیاں پیش کرتے ہیں اور ہر آنے والا الزام لگانے والوں پر لعن طعن کرتا ہے اور بری ہونے والے ملزم کی اخلاقی حالت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا ہر ایک خودبخود اعتراف کرنا شروع کردیتا ہے اور ملزم اپنے آپ میں پھولا نہیں سماتا اور الزام لگانے والے منہ چھپائے پھرتے ہیں اور وہ شرم کے مارے کسی کی آنکھوں کے سامنے آنے تک سے گریز کرنے لگتے ہیں اور بلاشبہ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے ۔ اس لئے قرآن کریم نے بھی اس وقعہ کو (خیر) کہا کیونکہ اس نے نتیجہ میں بھلائی رکھی گئی تھی اور عام مسلمانوں کی بھلائی اس میں یہ نکل آئی کہ ان کو آئندہ ایسی باتوں میں آنے سے روک دیا گیا اور ان کو احتیاط کا سبق سکھایا گیا اور منافقین سے بچنے کی تلقین کی گئی اور انکی طرف سے ہر حال چوکنا رہنے کا کہا گیا ‘ دوست و دشمن کی تمیز سکھائی گئی اور آج تک منافقین کے ہاتھ میں کھیلنے والوں کو ان کے نرغہ سے نکلنے کا موقع میسر آگیا ، قوم مسلم کو دوست و دشمن میں تمیز کرنے کا سبق سکھایا گیا اس لئے ارشاد فرمایا کہ ” تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے ۔ “
اپنے کیے کا نتیجہ سب نے اپنے اپنے گناہ کے مطابق پالیا :
19۔ بلاشبہ اس واقعہ کے کرداروں میں سے جس کو جتنا جتنا دکھ پہنچا اتنی اتنی بڑی خوشی بھی اس کو حاصل ہوئی اور جن لوگوں نے اپنی اپنی مخالفت کے باعث جتنا جتنا حصہ انہوں نے ڈالا تھا اتنے اتنے ہی عذاب سے وہ دوچار ہوگئے جو اپنی منافقت یا اپنی سادگی کے باعث ظاہری طور پر سزا کے مستحق ٹھہرے ان کو اتنی سزا دی گئی اور جو اپنی چرب زبانی سے بچ نکلے ان کے لئے رسوائی کافی رہی اور بچہ بچہ ان کی اس حرکت سے واقف ہوا اس لئے ارشاد فرمایا کہ ” ان میں سے ہر شخص نے جتنی گناہ کمایا تھا اتنا ہی اس کے لئے وبال ہے اور جس نے ان میں سے سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے “ یعنی اس دنیا میں بھی وہ رسوا ہوا اور آخرت میں بھی وہ یقینا رسوا ہوگا اور آخرت کی رسوائی سب سے بڑی رسوائی ہے ۔ اس فتنے کا اصل برپا کرنے والا کون تھا ؟ پیچھے واضح ہوچکا کہ وہ عبداللہ بن ابی سلول ہی تھا اور اس فتنے کی ساری ذمہ داری اس پر عائد ہوتی تھی کہ اس نے ایک اتفاقیہ امر کو اپنی چرب زبانی سے کچھ کا کچھ بنا دیا حالانکہ اس کے پاس اس کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں تھی اور دراصل وہ اس نئے قانون سے جو اس سورت میں بیان ہوا بہت نالاں تھا اور چاہتا تھا کہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس میں پھنسا کر نبی اعظم وآخر ﷺ کے پیچھے لگا دیا جائے اور اس طرح ایک پنتھ دو کاج کی بات کر دکھائے لیکن اس سلسلہ میں بھی اس کو منہ کی کھانی پڑی ۔
Ayah 24:12اسلامی معاشرہ کے اخلاقی اصول کی وضاحت اور ذمہ داری کا احساس :
20۔ زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کو آپس میں حسن ظن سے کام لینا چاہئے کیونکہ تم ایک دوسرے کے اندرونی حالات سے اچھی طرح واقف ہو اور جانتے ہو کہ ایک مومن جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی رضا کا طالب ہے اس قسم کے شنیع فعل کا ارتکاب نہیں کرسکتا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ایسا قدم کبھی اچانک نہیں اٹھایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم بناکر ایک مدت تک اس پر چلنا پڑتا ہے اس طرح کی برائی اچانک ممکن ہی نہیں سکتی اور اگر پہلے اس طرح کی کوئی بات ہوتی تو وہ چھپی کیسے رہ سکتی تھی پھر جن لوگوں کے متعلق ایسی باتیں کہی گئی ان میں سے اس طرح کا کوئی تصور بھی پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے ان ساری باتوں کے پیش نظر مسلمانوں کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ کسی کی ہاں میں ہاں ملاتے بلکہ ان کا حق تو یہ تھا کہ ایسی بات سنتے ہی الامان والحفیظ کہہ دیتے اور ایسی بات کرنے والوں کا پردہ فاش کردیتے اور ان کے عزائم کو فورا ملیا میٹ کردیتے اور ان کو برملا کہتے کہ یہ بات تم نے محض جھوٹ موٹ گھڑ لی ہے (افک) کہتے ہی جھوٹ اور افتراء کو ہیں (افک) کے اصل معنی ہی پلٹ دینے کے ہیں چونکہ افتراء وبہتان بھی ایک چیز کی اصلیت سے مقلوب ہونا ہے اور بہتان لگانے والے اس کی اصلیت کو پلٹ دیتے ہیں اس لئے اسے (افک) کہا جاتا ہے ۔
اس طرح ایک طرح سے مسلمانوں کی گوشمالی بھی کی گئی اور ان کو سبق بھی سکھایا گیا کہ تم نے غور وفکر سے کام کیوں نہ لیا اور کیوں نہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی کہ اس کی اشاعت کرنے والا مسلمانوں کا شدید ترین دشمن عبداللہ بن ابی سلول ہے اور یہ ناپاک الزام اس ذات کی طرف منسوب کیا جارہا ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ جیسے مقدس انسان کی اہلیہ اور ام المومنین ہے اور پھر وہ صدیق اکبر جیسے انسان کی بیٹی ہے اور کوئی شخص اس واقعہ سے پہلے ایسی بات کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کرسکا اور دفعتا ایسی بات ممکن بھی نہیں ہو سکتی ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک بداخلاق انسان نے اس قصہ کو مشہور کیا لیکن اس کا انداز ایسا تھا کہ جو کچھ اس نے کہا وہ اشاروں ‘ کنایوں میں کہا تاکہ وہ قانون کی زد میں آسانی کے ساتھ نہ آسکے اور پھر تم اس کی زندگی کے حالات وواقعات کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے اور دوسری طرف جو انسان تھے ان میں سے بھی تم ایک ایک سے واقف تھے ان ساری باتوں کے باوجود تم نے بات سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ واللہ ! یہ تو بہتان عظیم ہے اور ایسا ہونا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں۔ بلاشبہ اس وقت ابھی ابھی اس نئے اور جدید قانون کا اعلان ہوا تھا جس کا ذکر اس سورت کی پہلی دس آیتوں میں بیان کیا شاید لوگ ڈرتے ہوں گے کہ اگر کوئی بات منہ سے نکل گئی تو کہیں قانون کی زد میں نہ آجائیں کیونکہ قانون کی وضاحت سے ابھی اور اچھی طرح واقف نہ تھے لیکن آج ہم مسلمانوں کو کیا ہوگیا کہ ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے کے لئے ہر انسان ہر وقت تیار کھڑا ہے اخبارات ‘ ٹیوی اور رسائل ایسے الزامات سے لبریز پڑے ہیں ‘ بڑوں بڑوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں ‘ کھلے بندوں الزام لگائے جاتے ہیں ‘ جھوٹ موٹ باتیں بیان کی جاتی ہیں اور ایسی باتوں کو ایک فیشن سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک دوسرے کی کردار کشی کے لئے تیار کھڑا ہے اور افوائیں پھیلانا ایک فن تصور کیا جاتا ہے اور قوم میں کتنے اہل قلم ہیں جن کا روز گار ہی ایسا ہے کہ وہ ان افواہوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان کو جو کچھ رطب ویابس ملتا ہے وہ اس کو لیتے اور مزید جھوٹ کی چاشنی بھر کر اپنے اخبار میں ایک خبر داغ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے مسلم معاشرے کے انسان ہیں کہ وہ (افک مبین) کہنے کی بجائے امنا وصدقنا کہہ کر ان کی تصدیق کرتے ہیں اور وحی والہام کی طرح اس کی اشاعت کی جاتی ہے ۔
Ayah 24:13الزام کے ثبوت کے لئے ان سب سے ثبوت طلب کیا جا رہا ہے :
21۔ تعجب ہے کہ تم سے ایسی غلطی کیوں ہوئی تمہارے پاس مدت سے ایک قانون موجود تھا کہ جو شخص کسی پر ایسا الزام لگائے جیسا کہ یہاں لگایا گیا تو اس کے ثبوت کے لئے چار گواہ پیش کرے (آیت) ” والتی یاتین الفاحشۃ من نسآء کم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم “۔ (4 : 10) جب تم نے اس خبر کو سنا تھا تو تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض تھا کہ ملزم سے اس امر کا مطالبہ کرتا کہ وہ اس کو عدالت میں باقاعدہ ثابت کرے ، نظام قائم ہوچکا تھا اس لئے یہ کافی تھا کہ تم اس کی طرف رجوع کرتے اور اس سے چار عینی گواہ طلب کرتے پھر جو شخص اس الزام کے ثبوت میں گواہ نہیں لاسکتا اور اس کے باوجود اس کی تشہیر کرتا ہے وہ جھوٹا ہے ۔
Ayah 24:14اللہ کا فضل ہوا کہ تم کو اس گناہ کی پاداش میں عذاب الہی نے فورا پکڑ نہ لیا :
22۔ نام کے تو وہ لوگ بھی مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس طوفان کو اٹھایا اور پھر انہوں نے تو اٹھایا جو اٹھایا تم کو کیا ہوا کہ تم نے ان کو فورا پکڑ نہ لیا کہ جو کچھ تم نے کہا اس کو ثابت کرو اور پھر جب تم بھی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ کر خاموش رہے تو اللہ کا خاص فضل ہی ہوا جس نے تم کو بھسم کر کے نہ رکھ دیا ورنہ ہدایت الہی آجانے کے بعد جو وطیرہ تم نے اختیار کیا اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم کو عذاب الہی ہاتھوں ہاتھ لیتا اور تمہارا نام ونشان مٹا کر رکھ دیتا کہ اتنی بڑی بات سن کر تم خاموش رہے اور یہ اللہ کی خاص رحمت تھی کہ تم سے اس نے درگزر فرمایا اور اس رنج دہ واقعہ کو تمہارے لئے مثمر نتائج اور برکات بنا دیا اور اس کی وجہ سے تمہیں ایک بہترین قانون عنایت کردیا جس نے پہلے قانون کی مزید وضاحت کردی تاکہ آئندہ کے لئے تمام مفاسد کا تم سے سدباب کر دے یاد رکھو کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا ورنہ تم کو ملیا میٹ کردیا جائے گا اور تم عذاب الہی کی لپیٹ میں آجاؤ گے اس لئے کہ جماعتوں کے لئے قانون الہی یہی ہے کہ کرنے والے تھوڑے ہوتے ہیں لیکن جب ان کے کئے کی سزا آتی ہے تو وہ فقط انہی کو نہیں پکڑتی جو ایسے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ ان کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کہ انہوں نے ان کو رکھنے کی کوشش کیوں نہ کی اور ان کے سامنے ایسا فعل کیوں ہوا ؟
Ayah 24:15سننا اور سن کر اس کو آگے بیان کردینا اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے :
23۔ سماعت کس کا فعل ہے ؟ کان کا بلاشبہ جو کچھ کوئی بیان کرے گا کان ان کو سنے گا لیکن سن لینے کے بعد سوچنے اور سمجھنے کے لئے اللہ نے تم کو کوئی چیز نہیں دی ؟ کیوں نہیں عقل وفکر اس لئے دی گئی کہ جو کچھ سنو اس کو عقل وفکر پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرو پھر سنی ہوئی بات غلط بھی ہو سکتی ہے صحیح بھی ۔ اگر بات صحیح ہے تو آگے چلاؤ ورنہ اس کی تردید کر دو ۔ کان کے سوراخ نے اپنا کام کیا تو عقل نے اپنا کام کیوں چھوڑ دیا ؟ اور یہ گز بھر زبان تم نے اسیے ہی کیسے چلا دی اس کو کو روک کر کیوں نہ رکھا تاکہ عقل کو اپنا کام کرلینے کے بعد زبان اپنا کام کرتی اور وہ اس طرح چلتی جس طرح چلنے کا حکم اس کو عقل دیتی ، افسوس ہے تم پر کہ تم ان ہفوات کو اپنی زبانوں پر لا رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات نکالتے تھے جس کا تم کو ہرگز ہرگز علم نہ تھا اور یہ صحیح ہے کہ تم میں کتنے تھے جو خاموش تھے لیکن خاموش رہنے کی بھی آخر کوئی حد ہوتی ہے تمہاری زبانیں آخر گنگ کیوں ہوگئیں اور تم نے اس واقعہ کی تردید کیوں نہ کردی کیا تمہاری عقل نے کچھ کہنے سے انکار کردیا کیا تم نے اس بات کو ہلکا سمجھا اس لئے خاموش ہوگئے اگر تم نے اس کو ہلکا سمجھا تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو یہ بات بہت بڑی تھی اور اس کی پاداش میں تم کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا جاسکتا تھا لیکن اللہ کے خاص فضل و رحمت کی چادر نے تم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تم کو موقع فراہم کردیا کہ گزشتہ را صلوۃ اور آئندہ را احتیاط کے اصول سے کام لیتے ہوئے اپنی اصلاح کرلو ، لیکن غور کرو کہ آج ہماری قوم کی حالت کیا ہے ؟ کیا نقل ودرایت کے معاملہ میں جس احتیاط کی ہم کو ہدایت دی گئی ہے اس سے آج ہم کام لے رہے ہیں ؟ کیا جو اصول ہم نے روایات کو قبول کرنے اور رد کرنے کے لئے بنائے ہیں وہ اسی اصول کے مطابق ہیں ؟ راویوں کی بحث کے جو اصول ہمارے ہاں چلے آ رہے ہیں کیا وہ اسی اصول کے مطابق ہیں ؟ کیا عقل کو بالائے طاق رکھ کر صرف زبان کو قبولیت روایت کا ذریعہ بنانا صحیح ہو سکتا ہے ؟ کیا ہمارے ہاں کے بڑے بڑے متقی اور پرہیزگار جن کے علم کا طوطی بولتا ہے جن کے تقوی کی لوگ قسمیں کھاتے ہیں ان کی زبانیں یہ احتیاط برت رہی ہیں جس احتیاط کا اس آیت میں ہم کو حکم دیا گیا ہے ؟ اہل علم وفکر کے لئے یہ آیات کریمات اپنے اندر بہت اسباق رکھتی ہیں اس لئے ان پر غور وفکر کرنا ان کے لئے بہت ضروری ہے اگر اس اصول کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو کسی بات کو غلط یا صحیح قرار دینے کے لئے جس طرح اور جس انداز سے راویوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں جہالت کا نام علم رکھ دیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جہالت کبھی علم نہیں ہو سکتی ، ہمارے ہاں زیادہ احتیاط کے لئے یہ محاورہ استعمال کیا جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے اس لئے سمجھدار اسی کو سمجھا جاتا ہے جو چھاچھ کو پھونک پھونک کر پئے حالانکہ عقل وفکر ہم کو دودھ اور چھاچھ میں فرق بتا دیتی ہے اور اگر عقل سے کام لیا جاتا تو ہم چھاچھ ہی کو پھونکیں نہ مارتے رہتے ، گھوڑے کے دانت کتنے ؟ فیصلہ کے لئے ہم کتابوں کے ڈھیر رکھتے ہیں دونوں طرف سے دلائل کی بھرمار ہوتی ہے ‘ بڑے بڑے پروہت اور علامہ حضرات دلائل کو بیان کرتے ہیں اور نقل پر نقل پیش کی جاتی ہے لیکن اگر کوئی نوجوان یہ کہہ دے کہ جناب عالی ! میں یہ گھوڑا لے آیا ہوں مہربانی فرما کر اس کے دانت گن لیں تاکہ بات ختم ہوجائے تو فریقین اس نوجوان پر پل پڑتے ہیں اور مار مار کر ان کو ہلکان کردیتے ہیں اس طرح نہ گھوڑا نظر آتا ہے اور نہ گھوڑے والا اور ہماری بحث جوں کی توں قائم رہتی ہے ۔ اللہ ہم سب کو بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے لیکن اس دعا کی قبولیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم عقل سے کام لیں کیونکہ یہ اس اللہ کی عطا کردہ ہے جس نے اس کتاب کو نازل کیا ہے ۔
Ayah 24:16اس بات کو سن کر تم نے ھذا بھتان عظیم کیوں نہ کہہ دیا ؟
24۔ زیر نظر آیت کے مضمون کی ذمہ داری کن لوگوں پر ڈالی گئی ؟ غور کرو گے تو سمجھو گے کہ یہاں تین فریق ہوئے ایک فریق اس بہتان کی بات اٹھانے والا ‘ دوسرا فریق وہ جس پر یہ بہتان باندھا گیا اور تیسرا وہ جو اس بات کو یعنی بہتان کو سننے والا تھا ۔ بہتان باندھنے والے تو بہتان باندھ رہے تھے اور جن لوگوں پر یہ بہتان باندھا گیا ان کو بولنے کا کوئی حق نہیں تھا کیونکہ ان کے بولنے کی اس وقت کوئی قیمت نہ ہوتی اور ظاہر ہے کہ یہ حق صرف ان ہی لوگوں کا تھا جو اس بہتان کو اپنے کانوں سے سن رہے تھے اور قرآن کریم نے بھی انہی لوگوں کو مخاطب کیا جب ارشاد فرمایا کہ (لولا اذ سمعتموہ) ” جب تم نے ایسی بات کو سنا (آیت) ” قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بھذا “۔ ” تو تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم کو زیب نہیں دیتا کہ اس طرح کی بات اپنی زبان پر لائیں “ (آیت) ” سبحنک ھذا بھتان عظیم “۔ ” خدایا تو پاک ہے (معاذ اللہ) یہ تو بہت بڑا بہتان ہے “ غور کرو کہ اللہ رب العزت قادروقدیر اور مالک وملیک ہے وہ چاہتا تو ایسے واقعہ کو معرض وجود ہی نہ آنے دیتا اور کوئی شخص اس طرح کی بات کہہ ہی نہ سکتا لیکن اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا تو کیا یہ ہدایت ہم کو دی جاسکتی ؟ اگر کسی ایرے غیرے کی بات ہوتی تو اس کے لئے اس چیلنج کے ساتھ بات کی جاسکتی تھی ؟ کیا عام مومن عورتیں اور امہات المومنین ایک ہی درجہ کی عورتیں تھیں ؟ رب ذوالجلال والاکرام نے ان نفوس قدسیہ کے متعلق ایسی بات کہی جانے کی اپنی مشیت کے تحت اجازت دی اور اس طرح ان نفوس قدسیہ کے تقدس کو مزید مقدس بنا کر اور اونچا کردیا اور جماعت مسلمین کو بات سننے اور بات کرنے کا ایک بہت بڑا اہم اصول پریکٹیکلی سمجھا دیا لیکن افسوس کہ ہم نے اس اصول کو سمجھنے کی بجائے اس کو لڑائی لڑنے کا ایک موضوع بنا لیا اور راویوں کی چھان بین شروع کردیئے اور اصل واقعہ کو کچھ سے کچھ کرنا شروع کردیا اور اس واقعہ کا وقت ‘ تاریخ اور دن گننے شروع کردیئے اور اس طرح لوگوں کو باور کرایا کہ وہ ہمارے علم کی داد دیں اس طرح جو اصول ان آیات کریمات میں ہم کو سمجھائے گئے تھے ان کو نہ خود سمجھنے کی کوشش کی اور نہ دوسروں کو ان اصولوں کی طرف آنے کی دعوت دی کہ ہماری زندگیوں کی اصلاح ہو اور ہمیں ان آیات کریمات سے جو درس دیا گیا ہے اور جو سبق سکھایا گیا ہے اس کو سیکھ کر اس کے مطابق اپنی اپنی زندگی کی اصلاح کریں اور جماعتی زندگی کی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں ۔ ” وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب “۔
Ayah 24:17اگر تم ایمان رکھتے ہو تو آئندہ اس طرح کی غلطی کبھی نہ کرنا :
25۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ہر زمانہ کے مسلمانوں کو مخاطب کرکے ایک بات کہہ دی جو ہر دور کے مسلمانوں کین لئے ایک ہی طرح کی حیثیت رکھتی ہے جو اس وقت موجود تھے اور آج موجود ہیں اور جو رہتی دنیا تک آتے رہیں گے یہ سب کے لئے تنبیہہ ہے کہ جو ہوا سو ہوا اس پر لڑنے بھڑنے اور مرنے مارنے کی ضرورت نہیں آئندہ کبھی ایسا نہ ہو کیونکہ یہ بات ایمان کے تقاضے کے خلاف ہے کہ معاشرہ اسلامی میں رہتے ہوئے کسی پاکباز مرد یا عورت کے متعلق کوئی ایسی ہوائی بات کہے اور تم لوگ خاموش رہو اور اس بات کو واگزار کر دو گویا اس طرح کی باتوں سے احتراز ایمان کا لازمی تقاضا ہے اگر ان سے احتراز نہ کیا گیا تو ایمان کا دعوی بالکل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا ۔ اب غور وفکر کی بات یہ ہے کہ آج جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کیا اس معاشرہ کو ان آیات کریمات کی روشنی میں اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا ہے ؟ کیا ہمارے عوام و خواص اور اخص الخواص قوم کے سیاسی اور مذہبی لیڈر ایمان کے ان تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں ؟ سچی اور صاف بات تو یہی ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے اور اسلام کی قدروں کو اس طرح پامال کیا جا رہا ہے کہ شاید کبھی کسی زمانہ میں ایسا ہوا ہو اور پھر طرہ یہ کہ یہ سب کچھ کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کو عوام نہیں بلکہ خواص کہا جاتا ہے ، موجودہ واقعات جو روپذیر ہو رہے ہیں وہ اپنی جگہ پر ہیں ہمارے ہاں تو آج تک مسلمان کہلانے والوں کے ہاں بھی گزشتہ واقعات پر زبانیں اسی طرح چلائی جاتی ہیں جس طرح اس وقت منافقین نے چلائی تھیں بلکہ ان سے ان کا مقام بہت آگے ہے کہ وہ جو کچھ کہتے تھے گول مول الفاظ میں کہتے تھے اور آج کے یہ نام کے مسلمان صاف صاف کہتے نظر آتے ہیں ۔ جس گروہ کو شیعہ کہا جاتا ہے اگر ان کے لٹریچر سے کچھ بھی واقفیت ہے یا ان کے علماء گرامی قدر کی مجالس سے شناسائی ہے تو یقینا یہ بات واضح ہوگی کہ ایک طرف یہ مسلمان کہلانے والا گروہ ہے اور دوسری طرف عیسائی کہلانے والا ‘ ایک عیسائی عالم لکھتا ہے کہ ” عائشہ ؓ کی سیرت سے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کی زندگی واقعہ سے قبل بھی اور بعد بھی اس پر گواہ ہے کہ ہم انہیں اس الزام سے بالکل بری تسلیم کریں “ (لائف آف محمد ﷺ 303 ‘ 304) افسوس کہ ہمارے یہ قضئے آج تک حل نہ ہوئے تو آئندہ کیا حل ہوں گے اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق دے ۔
Ayah 24:18اللہ تعالیٰ نے تم پر بات کو کس طرح واضح کردیا ہے ؟ ۔
26۔ (ویبین اللہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام تم پر واضح کردیئے ہیں ‘ اب تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرتے ہو یا نہیں اللہ کے علم میں ہے اور وہ ہر بات سے باخبر ہے کہ تم کو اپنا اعمال نامہ خود تیار کرنا ہے اس نے تم کو ایک حد تک اختیار دیا ہے اور جس حد تک اختیار دیا ہے اس حد تک تم پر گرفت بھی رکھی ہے آج تم اگر اپنی زبانوں اور اپنی تحریر کی حفاظت نہیں کرو گے تو یقینا کل اس کا نتیجہ بھی تمہارے سامنے وہ پیش کر دے گا اگر تم کو اللہ سے زیادہ علیم و حکیم ہونے کا خبط ہے تو اس خبط کا وبال بھی تم ہی پر پڑے گا ۔
Ayah 24:19معاشرہ اسلامی میں بدکاریوں کی اشاعت کرنے والے مستوجب سزا ہیں :
27۔ بلاشبہ برائی اور بےحیائی تو برائی اور بےحیائی ہی ہے لیکن برائی اور بےحیائی کی تشہیر کرنا بھی برائی ہے بلکہ یہ برائی پہلی برائی سے بھی بڑی ہے کیونکہ یہ اشاعت وتشہیر ہے جو بہت سے لوگوں میں ہیجان پیدا کر کے ان کو آمادہ گناہ کرتی ہے ، غور کرو کہ عریاں تصاویر ‘ ڈرامے ‘ فلمیں ‘ فحش لٹریچر ‘ ٹیوی کے اکثر پروگرام ‘ وی سی آر کی لعنت ‘ عشقیہ اشعار ‘ گانے ‘ کھیل اور تماشے ‘ کلب اور ہوٹلوں کی شامیں اور راتیں سب کیا ہیں ؟ بلاشبہ یہ سب کے سب اشاعت بےحیائی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ پھر غور کرو کہ عریاں تصاویر بنانے والے ‘ سنیما چلانے والے ‘ ڈرامے کرنے والے ‘ فلمیں بنانے اور چلانے والے ‘ فحش لٹریچر تحریر کرنے اور چھاپنے والے ‘ ٹیوی پروگرام کرنے والے ‘ عشقیہ اشعار پڑھنے اور سننے والے ‘ گانے بجانے والے ‘ کھیل اور تماشے دکھانے والے سب کون ہیں ؟ ہاں ! ہاں ! خصوصا اس ملک عزیز میں کیا یہ سب کے سب یہودی ہیں ؟ عیسائی ہیں ؟ ہندو ہیں ؟ سکھ ہیں ؟ نہیں ‘ نہیں یہ سب کے سب یا ان کی اکثریت مسلمان کہلانے والے ہیں ، ہماری ان خانقاہوں اور مزاروں پر کیا ہو رہا ہے ؟ ڈھولک ہے ‘ باجا ہے ‘ گانا ہے ‘ ناچنا ہے ‘ شرابیں ہیں ‘ چرس ہے ‘ بھنگ ہے ہر قسم کی شرارتیں ہیں اور عورتوں ‘ مردوں کا کھلا اختلاط اور اس کے نتیجے میں زنا ہے ۔ اچھا یہ خانقاہیں اور مزار کن لوگوں کے ہیں ؟ ان خانقاہوں اور مزاروں کے سجادہ نشین ‘ گدی نشین ‘ منتظمین اور مجاور سب کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ بدکاری ‘ بےحیائی اور فحاشی کے اڈے نہیں ؟ زیر نظر آیت میں ان ساری چیزوں اور باتوں سے منع کر رہی ہے اور واضح الفاظ میں منع کر رہی ہے پھر جتنے واضح الفاظ میں وہ ہم کو روک رہی ہے اس سے کتنی بار واضح طور پر ہم یہ سب کام انجام دے رہے ہیں بلکہ ان میں سے کتنے کام عبادت سمجھ کر اس کو بجا لاتے ہیں ۔ آیت کا مضمون ایک بار پھر نگاہ میں لاؤ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بدکاریوں کی اشاعت ہو ‘ ان کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ خوب جانتا ہے تم نہی جانتے ۔ “ حکومت کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہی ہے ؟ علماء اور مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ سیاسی لیڈروں ‘ قومی اور صوبائی ممبروں اور سینٹروں کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس ملک عزیز کی عدلیہ اور انتظامیہ کیا کر رہی ہے ؟ ان ڈھیر سارے سوالوں کا جواب اپنے دل سے پوچھ لیں ۔ اگر اسلام کے ساتھ ذرا بھی لگاؤ ہے تو وہ ٹھیک ٹھیک تم کو بتا دے گا ۔ استفت فی قلبک نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد ہے ۔
Ayah 24:20عذاب میں مبتلا نہیں تو یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے :
28۔ اس اور اس آیت جیسی دوسری آیات میں اللہ کے فضل اور رحمت سے مراد اس کا قانون امہال ہے جو ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلا جا رہا ہے کوئی نہ سمجھے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ان بدکاروں اور بےحیاؤں کے لئے ایسا ہے کہ ان پر کبھی گرفت ہی نہیں ہوگی یہ مضمون پیچھے آیت دس کے تحت حاشیہ 16 میں گزر چکا ہے اگر یہ ڈھیل نہ ہوتی تو توبہ کی توفیق ممکن نہ رہتی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و رحمت کہ اس نے ڈھیل ومہلت دے کر انسان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا تاکہ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کو اس بھولنے کی صعوبت سے دوچار نہ ہونا پڑے ‘ بھول کر جو اس نے صعوبت اٹھائی وہی اس کا بدلہ ہے اور بلاشبہ سچی توبہ کی توفیق بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے فضل و رحمت ہی سے ممکن ہے جو انسان کی زندگی تک خاص کردی گئی ہے۔
Ayah 24:21شیطان کی پیروی مت کرو وہ بےحیائی کی صدا دیتا ہے :
29۔ ایمان والوں کو شیطان کی پیروی سے روکا جا رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ ” تم شیطان کے قدم بقدم نہ چلنے لگو “ (خطوات) خطوۃ کی جمع ہے اور خطوہ دو قدموں کے درمیان کی جگہ کو کہتے ہیں فرمایا جا رہا ہے کہ تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کو بےحیائی اور بدکاری کی تلقین کرتا ہے اور برے کاموں کو اس حسین انداز میں پیش کرتا ہے کہ ان کے نتائج آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ‘ انسان یہی سمجھنے لگتا ہے کہ ساری مسرتیں ‘ ساری عزتیں انہیں برے کاموں میں سمٹ کر رہ گئی ہیں شیطان کے اکسانے سے وہ ایسی ایسی کمینی اور حیاسوز حرکتیں کرتا ہے کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں لیکن جب اپنی بدکاریوں کے نتائج سے وہ دوچار ہوتا ہے ‘ جب بےحیائی کی جلائی ہوئی آگ خود اس کے اپنے گھر کو لپیٹ میں لے لیتی ہے ، اس کی اپنی ناموس اور عصمت لٹنے لگتی ہے اس وقت شیطان کو اپنی مدد کے لئے پکارتا ہے لیکن وہ بےمروت ہنس کر ٹال دیتا ہے اور الٹا اس کا مذاق اڑاتا ہے اگر یقین نہ آئے تو کسی بڑے خناس کی ہسٹری پر ایک نگاہ ڈال لو تم پر حقیقت عیاں ہوجائے گی ۔
جو شخص اس کے داؤ اور فریب سے بچ گیا اس پر یقینا اللہ نے فضل کیا :
30۔ برائی سے بچ جانا یا بھول کر اپنی بھول کو تسلیم کرتے ہوئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے معافی طلب کرلینا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی سے ممکن ہے اور اس کی مہربانی ہے کہ وہ تمہیں شیطان کی وسوسہ اندازیوں سے اور اس کے دم فریب سے بچا لے ورنہ تم میں طاقت نہیں کہ تم اس گرگ باراں دیدہ کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچا سکو ، اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ پر اپنی نظر لطف وکرم فرماتا ہے تو گرتے ہوئے سنبھل جاتے ہیں اور ڈوبتے ہوؤں کو سہارا مل جاتا ہے اپنے علم اور فہم پر نازاں نہ ہوا کرو ہر وقت اس کے فضل و کرم کے امیداوار رہا کرو اور اس کی بارگاہ اقدس میں بصد عجز ونیاز عرض کیا کرو کہ اے رب العزت ! ہم کمزور ہیں اور شیطان کی چالیں بڑی ہی خطرناک ہیں ہم خود اپنی مرضی سے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ہماری مدد فرما اور ہمیں اس بےحیا اور بےغیرت کے شر سے محفوظ فرما کہ تیرے سوا کوئی نہیں جو اس کے داؤ اور فریب سے ہم کو بچا سکے وہ تمہاری سب باتوں کو سنتا ہے تمہارے ارادوں سے بھی واقف ہے ۔
پورے ملک عرب کے لوگ بلکہ پوری دنیا کے رہنے والے ہر قسم کے افعال شنیعہ کے ارتکاب کی وجہ سے شیطان کے پیچھے لگے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک مزکی انسان بھیج کر کس طرح ان تمام ناپاکیوں سے پورے ملک اور دنیا والوں میں سے کتنوں ہی کو پاک وصاف کردیا پھر جس راستباز انسان کی قوت قدسی سے ایک دنیا پاک ہوگئی کیا اس کا گھر اس کی قوت قدسی سے پاک نہ ہوا تھا ؟ کیوں نہیں وہ تو ہر قسم کی آلائشوں اور شیطانی مکائد سے لاریب پاک “۔ فتدبر یا اخی ۔