24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنے ” بےنکاح “ لوگوں کا نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اور باندیوں میں سے بھی جو نیک ہوں اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑا وسعت والا علم والا ہے

اپنے بےنکاح لوگوں کا نکاح کر دو تاکہ انسانیت کی تکمیل ہو سکے : 48۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہر ایک مرد کے لئے خواہ وہ کوئی ہو عورت ایک ضرورت ہے اور ہر ایک عورت کے لئے خواہ وہ کوئی ہو مرد ایک ضرورت ہے کیونکہ دونوں ایک جنس کی دو اصناف ہیں اور جنس انسانیت کی تکمیل کے لئے دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں اس لئے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے بےنکاح لوگوں کا نکاح کردیا دیا کرو “ (ایامی) جمع ہے ” ایم “ کی اور ایم ہر وہ مرد ہے جس کی بیوی نہ ہو اور ہر وہ عورت ہے جس کا خاوند نہ ہو ۔ کسی نے پہلے شادی کی ہو یا نہ کی ہو شادی کر چکنے کی صورت میں دوسرا فریق وفات پا جائے یا مرد نے عورت کو طلاق دے دی یا عورت نے کسی وجہ سے طلاق حاصل کرلی یا بلوغت کے بعد ابھی شادی کی ہی نہیں سب کے لئے ایک ہی حکم ہے کہ ایسے سارے لوگوں کی شادیاں کردی جائیں اور شادی کے لئے فریقن کی مرضی ورضا اسلام میں لازم وضروری ہے ، وہ نکاح صحیح نہیں ہے جس میں فریقین کی رضا شامل نہ ہو اگر ایک فریق کے ولی ووکیل نے خود اپنی مرضی سے کسی کا نکاح کردیا ہو تو جس کا نکاح کیا گیا اس سے رضا طلب کی جائے گی اگر اس نے رضا بخوشی وبرضا ورغب اس کو قبول کرلیا تو وہ نکاح درست تصور ہوگا اور اگر ایک نے اس سے انکار کردیا تو نکاح صحیح تصور نہیں ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اعلان نکاح لازم وضروری ہے خفیہ نکاح کسی حال میں بھی جائز اور درست نہیں ہے ۔ زیر نظر آیت میں نکاح کی ضرورت پر اس لئے زور دیا گیا ہے کہ پیچھے بدکاری وزناکاری سے منع کیا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ انسانی جنس کی تکمیل کے لئے دونوں اصناف کو ملنے کا موقع میسر آئے اس لئے ضروری ہے کہ ان کے نکاح کئے جائیں اور باقاعدہ ازدواجی زندگی اختیار کریں تاکہ سفاحت کا قلع قمع ہو سکے اسلام میں نکاح بجائے خود ایک فضیلت کی چیز ہے مسیحیت کی طرح نکاح ایک ناگزیر برائی کا نام نہیں ہے ۔ اپنے غلاموں اور باندیوں سے بھی جو نیک ہوں ضرور نکاح کرو : 49۔ آیت کے پہلے حصہ میں جو (ایامی) کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد ہر قسم کے لوگ ہیں وہ آزاد ہوں یا غلام کیونکہ ہر وہ شخص جو مرد ہے تو عورت نہیں رکھتا اور اگر عورت ہے تو مرد نہیں رکھتی خواہ وہ آزاد ہو یا کنیز و غلام (ایامی) کے لفظ میں آتے تھے لیکن اس طرح کی جو تقسی میں دنیا میں ہوجاتی ہیں یہ بات کو کم ہی سمجھنے دیتی ہیں اس لئے غلام اور کنیزوں کا مخصوص ذکر بھی کردیا جب کہ سب کو معلوم ہے کہ وہ انسان ہیں ‘ ان کے بھی فطری جذبات ہیں ‘ ان کی تکمیل بھی بلاشبہ ازدواجی زندگی اختیار کرنے ہی سے ممکن ہے فرمایا کہ اگر تم جن کے یہ لوگ دست نگر ہیں اس معاملہ میں ان کی مدد نہیں کرو گے تو آخر اور کون کرے گا لیکن غلام اور کنیز کے ساتھ صالح کی قید بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ اس صالح ہونے سے کیا مراد ہے ؟ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا غلام اور ایسی کنیز جن میں ازدواجی زندگی کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو ان کا جوڑ جوڑو اگر تم کسی نااہل غلام کے ساتھ کسی کنیز کو کنیز سمجھ کر جکڑ دو گے تو وہ ساری عمر تمہیں کو ستی رہے گی اسی طرح اگر تم نے کسی غلام کو ایسی لونڈی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ اپنی قسمت کو روتا رہے گا اس لئے ان کا نکاح کرنے سے پہلے تسلی کرلو کہ یہ زندگی کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں یا نہیں دوسری بات یہ بھی ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک غلام اور لونڈی ہی کا جوڑ جوڑا جائے ایک غلام کو آزاد کرکے یا غلام رکھتے ہوئے دونوں صورتوں میں آزاد عورت کے ساتھ اس کا نکاح ہو سکتا ہے اور یہی صورت کنیز کی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ اس کو کسی غلام ہی کے ساتھ جوڑا جائے ایک آزاد مرد کے ساتھ بھی اس کا نکاح جائز اور درست ہے اگر ان میں صلاحیت نکاح ہے آخر وہ بھی انسان ہیں اگر تم ہمت کرو گے تو تمہارے لئے اس میں یقینا برکت ہوگی تم نے اس کی انسانیت کے پیش نظر اس سے نیکی کی تو اس نیکی کا اجر عند اللہ بھی ‘ تم کو ملے گا اور رہی غربت وتنگ دستی تو وہ کسی انسان کا قدرتی حق نہیں ہے کہ جو امیر ہے وہ امیر ہی رہے گا اور جو غریب ہے وہ ہمیشہ غریب ہی رہے گا ۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اس کی کتنی مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ جو امیر تھے وہ غریب ہوگئے اور جو غریب تھے وہ امیر ہوگئے ، آج اگر وہ تم کو غریب نظر آتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ کل وہمال و دولت میں تم پر بھی فضیلت لے جائیں اور اللہ تعالیٰ ان کو غنی کر دے ، یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کہ اکثر لوگ افلاس اور غربت کو شادی نہ کرنے کا سبب بنائے رکھتے ہیں لڑکی والے چاہتے ہیں کی لڑکا زیادہ متمول ہو اور لڑکے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کے والدین بڑے امیر ہوں تاکہ خوب جہیز ملے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فقر وغنی عارضی چیزیں ہیں اگر شریف ‘ قابل اور نیک رشتہ مل رہا ہے تو قبول کرلو اور ان عارضی چیزوں کو زیادہ اہمیت نہ دو اگر انسان ہو تو انسانیت کی تلاش کرو انسانیت ہوئی تو انشاء اللہ سب کچھ ہوا اور اگر انسانیت نہ ہوئی تو سب کچھ بیکار ہے مال بھی ایک چیز ہے اور بلاشبہ ہے لیکن یاد رکھئے کہ مال ہرچیز نہیں ہے اور مال کے مقابلہ میں بلند اخلاقی اور اچھا کردار اور نیک سیرت بہت اہم چیز ہے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔ 1۔ وہ نکاح کرنے والا جس کی غرض انسانیت کی تکمیل ہے ۔ 2۔ وہ مکاتب جو زرمکاتبت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا وسعت والا ‘ علم والا ہے آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے حقیقت یہ ہے کہ نکاح کے بعد کشائش کے بعض سامان خودبخود پیدا ہوجاتے ہیں جب مرد پر نکاح کا بوجھ پڑتا ہے تو اسکو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے اور وہ کمانے کی فکر کرتا ہے چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ ” اذا جاء کم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ الا تفعلوہ تکن فتنہ فی الارض و فساد کبیر “۔ ” جب تمہیں ایسا آدمی مل جائے جس کی طہارت نفس اور دین داری کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے نکاح کرو ورنہ بدترین فتنہ و فساد کا دروازہ کھول دو گے ۔ “ تعجب ہے کہ مسلمانوں کے بعض خاندانوں میں رانڈ عورتوں کا نکاح یا ایک بار طلاق ہوجانے والی عورتوں کا نکاح کرنا حرام سمجھا جاتا ہے اور وہ دوبارہ نکاح کرنے کو بہت بڑا جرم قرار دیتے ہیں ، ایسی عورتیں اگر اسی طرح مجرد زندگی گزار دیں تو ان کے نزدیک وہ عورتیں بہت پاکباز سمجھی جاتی ہیں اور لوگ اس کی مثالیں پیش کرتے ہیں کہ فلاں کی بیٹی تارک بیٹھی ہے اور اس نے ساری زندگی اسی طرح گزار دی ہے اس لئے وہ اللہ کی بہت ہی نیک بندی ہے گویا وہ برائی کو عین نیکی سمجھتے ہیں لیکن برائی ہر حال میں برائی ہے اس کو نیکی سمجھ لینے سے کبھی وہ نیکی نہیں ہوسکتی ۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہ ہو ان کو چاہیے کہ [ ضبط سے کام لیں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور تمہارے غلاموں میں سے جو تم سے مکاتبت چاہیں تو ان سے یہ عہد نامہ کرلو بشرطیکہ تم ان میں یہ صلاحیت پاؤ اور جو مال اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے تم ان کو دے دو اور اپنی باندیوں کو جو پاکدامن رہنا چاہتی ہیں دنیا کے مال و اسباب کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جو انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کی بےبسی کے بعد (ان کیلئے) بخشنے والا پیار کرنے والا ہے

جن لوگوں میں نکاح کا مقدور نہ ہو ان کو کیا کرنا چاہئے ؟ ۔ 50۔ زیر نظر آیت نے ہمارے مفسرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا تحریر کریں اس لئے انہوں نے دبی زبان سے جو کچھ کہا ہے اس نے لوگوں کو سیدھا کرنے کی بجائے مزید ٹیڑھا کردیا ہے ۔ آیت میں مختلف احکامات دیئے گئے ہیں جن کا تعلق گزشتہ بیان کی گئی آیات کے ساتھ ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت گزشتہ آیات کا خلاصہ ہے ، اس میں پہلا حکم جو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ” جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہ ہو اس کو چاہئے کہ وہ ضبط کریں “ معلوم ہوا کہ اسلام کی نظر میں نکاح اگرچہ ایک فطری تقاضا ہے لیکن یہ تقاضا اس طرح کا نہیں جس طرح بھوک پیاس ‘ پانی اور ہوا میں کہ اگر ضرورت کے مطابق انسان اس کو روکانا چاہے تو ایک عرصہ تک روک سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا من لم یستطع معلیہ بالصوم فانہ لہ وجائ ” جس شخص کو نکاح کی قدرت حاصل نہ ہو وہ روزہ رکھے یہی اس کی حفاظت کرے گا “ قرآن کریم کا حکم کیا تھا ؟ (لایجدون نکاحا) جو لوگ نکاح کا مقدر نہیں رکھتے “ رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت کیا فرمائی ؟ (ومن لم یستطع) ” جس کو نکاح کی قدرت حاصل نہیں “ ظاہر ہے نکاح کسی فرد واحد کی اختیاری چیز نہیں ہے بلکہ جنس انسانی کے دو افراد کا مشترکہ معاملہ ہے ۔ پھر اسلام نے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ یہ صرف حیوانی خواہشات کا ازالہ نہیں بلکہ ایک نئے خاندان کی داغ بیل ڈالنا ہے ۔ ظاہر ہے کہ طرفین کو اس کے لئے تیار ہونے میں وقت لگے گا اور جب تک طرفین تیار نہ ہوں اس وقت تک کسی ایک فرد کو نکاح کی قدرت حاصل نہ ہوگی اور وہ مقدور نہیں رکھے گا نکاح کا مقدر نہ ہونا یا قدرت حاصل نہ ہونا کا مطلب فقط یہ ہے کہ اگر وہ مرد ہے تو مناسب عورت کا ملنا اور اگر وہ عورت ہے تو مناسب مرد کا ملنا ہی قدرت حاصل ہونا ہے ، مختصر مطلب کیا ہوا ؟ جب تک مناسب رشتہ میسر نہ آئے اس وقت تک انسان کو نفسانی خواہش کو روکے رکھنا انسانیت کے لئے لازم وضروری ہے اگر اس سے پہلے اس نے اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی تو وہ انسانیت سے نکل کر حیوانی صف میں کھڑا ہوجائے گا ۔ اگر مناسب رشتہ مل گیا تو یہی اس کے لئے مقدر ہے اور یہی قدرت حاصل ہونا ہے اور اسی کو قرآن کریم نے (غنی) سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ضرورت کی چیز کا میسر آنا ہی (غنی) کہلاتا ہے ، صدیق اکبر ؓ کا ارشاد ہے کہ اطیعوا اللہ فیما امرکم بہ من النکاح ینجزلکم ما وعدکم من الغناء ” اللہ تعالیٰ نے نکاح کرنے کا جو حکم دیا ہے تو اس کی اطاعت کرو اس نے تم کو غنی کرنے کا جو وعدہ کیا وہ یقینا اس کو بھی پورا کرے گا۔ “ بلاشبہ پاکدامن رہنے کی غرض سے نکاح کرنے والا اللہ تعالیٰ کی امان میں ہے اور جس کو اللہ کی امان مل گئی اس کے لئے کیا ہے جو باقی رہ گیا ؟ مفسرین نے ” نکاح کے مقدور سے “ مراد شادی کے اخراجات برداشت کرنے سے لے لی اور لوگوں کو بتا دیا کہ شادی اور اخراجات لازم وملزوم ہیں اس لئے ان اخراجات میں وقت کیساتھ ساتھ اس طرح اضافہ ہونا شروع ہوگیا کہ اب لاکھوں اور کروڑوں روپیہ اکٹھا نہ کرلیا جائے یا قرض نہ اٹھایا جائے تو شادی ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کل لوگوں نے گراں قدر مہر اور جہیز کی شرطیں لگا لگا کر نکاح کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ غریب والدین ‘ بچوں کے نکاح کا تصور کرکے کانپ جاتے ہیں اور ان کو کسی کروت بھی چین نہیں آتا ۔ بلاشبہ مہر کی آخری حد مقرر نہیں ہے لیکن کسی بات کے شروع کو دیکھ کر اس کی انتہا کا تصور کیا جاسکتا ہے اور احادیث کی روشنی میں مہر کا شروع اگر مرد کے پاس مال مطلق نہ ہو اور اس کو قرآن کریم آتا ہو تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کی شرط کو مہر کے طور پر دے سکتا ہے اور عورت اس کو قبول کرے تو نکاح کردینا درست ہے حالات کے پیش نظر صرف ایک چادر پر بھی اکتفا کیا جاسکتا ہے دیکھنا صرف مرد کی حیثیت کے مطابق اپنی جائیداد کا ایک حصہ اپنی شریک حیات کے نام منسوب کر دے تاکہ ازدواجی زندگی کے ساتھ ہی اس گھر کا ایک فرد اس کو قرار دے دیا جائے اور ظاہر ہے کہ جس گھر میں اس کی کچھ شرکت ہوگی اس کا احساس فطری امر ہے اور یہی مطلوب حقیقی ہے اور عورت کے لئے جہیز کی شرط ویسے ہی غیر اسلامی ہے جس گھر سے بھی آئی ہے اس گھر میں بھی اس کی شرکت تھی اور ہے اور وہ اس وقت تک رہے گی جب تک اس کے والدین موجود ہیں جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو اس گھر کی مکمل وراثت تقسیم ہوگی اس وقت اس کا حصہ بھی اس کو مل جائے گا اور ملنا چاہئے یہی اسلامی ہدایت ہے ‘ نہیں بلکہ قانون ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کسی حال میں جائز نہیں ۔ شریعت اسلام نے نکاح میں اس قدر سہولتیں اور آسانیاں پیدا کردی تھیں مگر مسلمانوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا نتیجہ یہ ہے کہ روز بروز ان میں بدکاری وبے حیائی کی کثرت ہوتی چلی جا رہی ہے اللہ ہمیں اسلام کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان اختراعی پابندیوں سے بچنے کی کوئی سبیل پیدا کر دے ۔ غلاموں میں سے جو مکاتبت چاہیں ان کو مکاتب کر دو بشرطیکہ ان میں صلاحیت ہو : 51۔ ” تمہارے غلاموں میں سے جو تم سے مکاتبت چاہیں تو ان سے یہ عہد نامہ کرلو بشرطیکہ تم ان میں صلاحیت پاؤ ۔ “ زیر نظر آیت کا یہ دوسرا حکم ہے کہ غلام اگر مکاتبت چاہیں تو تم کو مکاتبت کردینا چاہئے ۔ مکاتبت کیا ہے ؟ اصطلاح اسلامی میں یہ لفظ اس معنی میں بولا جاتا ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا کو ایک معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے اور آقا اس کی وہ پیشکش قبول کرلے تو اس کے لئے ایک تحریر لکھ لی جائے اور یہ مکاتبت ہے ۔ اس میں غلاموں کو آزاد کرنے کا یہ ایک طریقہ بھی ہے کہ غلام اپنے مالک سے کہے کہ میں اتنی مدت میں اتنی رقم آپ کو ادا کر دوں گا تم مجھے آزاد کر دو یا میں آپ کی یہ خدمت انجام دے دیتا ہوں بشرطیکہ آپ مجھے آزاد کردیں جب یہ معاہدہ طے پا جائے تو دونوں فریق اس کی پابندی کریں اور اس میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم سے جب کوئی مکاتب ہونے کی درخواست کرے تو اس کی درخواست کو قبول کرلو بشرطیکہ تم سمجھتے ہو کہ وہ اس درخواست کے مطابق عمل درآمد کرسکے گا کیونکہ اس کی صلاحیتوں سے تم واقف ہوچکے ہو گے ۔ اس وقت بحمداللہ اس طرح کے غلاموں اور لونڈیوں سے تو ہمارا واسطہ ہی نہیں رہا لیکن اس کے جدید طریقے نکل آئے ہیں اور یہ قانون اس طرح کی ساری غلامیوں پر استعمال ہو سکتا ہے بلکہ ہونا چاہئے ، اس پر مزید حکم یہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی غلام مکاتب ہو تو اس کی مالی مدد کرو تاکہ وہ اپنی مکاتبت کی رقم جلد ادا کرسکے اور وہ اس کی غلامی سے جلد آزاد ہو سکے اور تمہارا یہ خرچ کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہوجائے گا کیو کہ یہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ایک صورت ہے ۔ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جب کہ وہ خود بھی پاک دامن رہنا پسند کرتی ہوں : 52۔ اسلام سے پہلے عربوں میں یہ دستور تھا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس لونڈی ہوتی تو وہ اسے زنا کرنے کے لئے بازار بھیج دیتا اور اس سے جس قدر آمدنی ہوتی وہ خود وصول کرلیتا ۔ چناچہ آج کل باوجود کمال تہذیب وشائستگی کے یہ لعنت موجود ہے نہ ” اس بازار میں “ اس کی کمی ہے اور نہ ” اس بازار میں “ دونوں کی داستانیں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بیان کی گئی ہیں اور اس ملک عزیز کے سارے و ڈیرے ان کے پشت پناہ ہیں ۔ اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے عبداللہ بن ابی سلول کا ذکر کیا ہے کہ اس کے پاس دو لونڈیاں تھیں وہ ان سے زنا کرواتا تھا حالانکہ ان دونوں کو بذاتہ اس فعل سے بہت نفرت تھی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر شکایت کی اور آیت نازل ہوئی جب کہ نسائی نے تصریح کی ہے اسلام نے اس وقت اس رسم قبیح کو بالکل مٹا دیا تھا اور اس کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے یہ لفظ ارشاد فرمائے کہ جب وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تو تم چند سکوں کی خاطر انہیں کیوں مجبور کرتے ہو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر وہ خود پاکدامن رہنا نہ چاہیں تو انہیں اس غرض کے لئے رکھ سکتے ہو۔ اس لئے کہ مجبور تو اس کو کیا جاسکتا ہے جو اسے نہ کرنا چاہئے مطلب یہ ہے کہ (آیت) ” ان اردن تحصنا کی جو قید ہے وہ محض صورتحال کا بینا ہے ، تاہم یہ ہئیت کذائی کا بیان بھی ہو سکتا ہے کہ عمر کے تقاضوں کے مطابق جس عورت کی عمر کا تقاضا ہے کہ اس کی شادی کردی جائے اس کے باوجود اگر وہ لونڈیاں ہیں تو ان کے مالک اگر وہ آزاد ہیں تو ان کے ولی جب ان کے نکاح کے متعلق خاموش ہیں اور کوئی بندوبست نہیں کرتے حالانکہ ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ ان کی شادی کردی جائے اور انکو شادی سے کسی طرح کا انکار بھی نہیں ہے تو یہ گویا انکو بدکاری پر مجبور کرنا ہے اور بدقسمتی سے یہ بیماری بھی آج کل عام ہے کہ نوجوان عورتیں ‘ بچیاں گھروں میں موجود ہیں اور گھر والے محض اس لئے خاموش ہیں کہ ان کے پاس ان کے جہیز کے لئے کچھ نہیں ہے یا جتنا متمول لڑکا وہ چاہتے ہیں اتنا متمول لڑکا نہیں ملتا جس کا نتیجہ کبھی صحیح نہیں نکل سکتا اور بعض جگہ پر اس بات کے پیش نظر برائیاں شروع ہوجاتی ہیں جو بعد میں لاعلاج ثابت ہوتی ہیں ، بہرحال ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ان تمام ذرائع سے پرہیز کرے جن سے خادم ومملوک اور اولاد وزیر اثر لوگوں میں بداخلاقی وبدکاری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور یہاں زور دے کر یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر باوجود اس تنبیہہ کے تم نے پھر بھی اپنے خادموں کو یا اپنی اولاد اور زیر اثر نوجوانوں اور لوگوں کو اس بداخلاقی اور بدکاری پر اوپر بیان کئے گئے طریقہ کے مطابق مجبور کیا تو اللہ تم کو بھی باز پرس کرے گا اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر تمہارا ان کو مجبور کرنا ان کی کمائی کمانے کے لئے ثابت ہوگیا تو وہ عذاب سے بچ جائیں اور تم کو دھر لیا جائے اور ان کا یہ گناہ معاف کردیا جائے ۔ خیال رہے کہ اس وقت دنیا میں بدکاری وبے حیائی کی جتنی صورتیں موجود ہیں یہ سب کی سب اس وقت اس دور جاہلیت میں بھی موجود تھیں ۔ ” خانگی “ کا پیشہ کرنے والی زیادہ تر آزاد شدہ لونڈیاں ہوتی تھیں جن کا کوئی سرپرست نہ ہوتا تھا یا ایسی آزاد عورتیں تھیں جن کی پشت پناہی کرنے والا کوئی خاندان یا قبیلہ نہ ہوتا یہ کسی بھی بڑے گھر میں بیٹھ جاتیں اور کئی کئی مردوں سے بیک وقت ان کا معاہدہ ہوجاتا کہ وہ ان کو مدد خرچ دیں گے اور اپنی حاجت رفع کرتے رہیں گے ، جب ان میں سے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوجاتا تو عورت ان مردوں میں سے جس کے متعلق کے متعلق کہہ دیتی کہ یہ بچہ اس کا ہے اس کا بچہ قرار پا جاتا یا بچہ پیدا ہونے کے بعد بول کر جس کا نام لے دیتا اس کا قرار پا جاتا ۔ یہ گویا معاشرہ میں ایک مسلم ادارہ تھا جسے اہل جاہلیت ایک قسم کا ” نکاح “ سمجھتے تھے ۔ اسلام نے آکر اس رسم بد کو مٹایا لیکن ہماری قوم کے اکثر وڈیروں میں اس طرح کی حرکتیں آج بھی موجود ہیں صرف انکے نام بدل دیئے گئے ہیں اور دور جدید کے ترقی یافتہ ملکوں میں بعینہ یہ صورت حال بطور قانون موجود ہے اور ان کے ہاں زنا صرف جبر کا نام ہے باقی سب کچھ ” LOVE “ کے نام سے جائز اور درست ہے LOVE.BOY اور LOVE.SON ایک فیشن ہو کر رہ گیا ہے اور آہستہ آہستہ یہ فیشن اسلامی ملکوں کی طرف رواں دواں ہے ۔ بے بسی کی حالت کو اللہ جانتا ہے اس لئے بےبس ہونے والی عورتوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : 53۔ لونڈیوں سے اگر کوئی شخص بزور بازو ایساکام لے رہا ہے اور وہ بیچاری مجبورا اس بدکاری اور بےحیائی کو کر رہی ہیں تو اللہ سے انکی حالت ذرا بھی پوشیدہ نہیں ہے اس لئے مجبوری کو مجبوری سمجھ کر ان سے گرفت کو اٹھا لیا گیا ہے اور بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص جبر کرکے کسی عورت سے کوئی زیادتی کر گیا ہے تو اسلامی قانون بھی ایسی عورت کو گرفت میں نہیں لاتا اور اس کو عذاب نہیں دیتا نہ کوڑوں کی سزا اور نہ ہی رجم ۔ اس طرح ایسی حالت مین دنیا کا عذاب بھی اس عورت سے دور کردیا گیا ہے اور آخرت کا عذاب بھی ان کو یقینا نہیں آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ‘ پیار کرنے والا ہے ۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے تم پر اپنی واضح آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے قبل گزر چکے ہیں کچھ ان کے واقعات بھی اور اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے نصیحت کی باتیں بھی

بلاشبہ ہم نے تم پر اپنی واضح آیتیں نازل کردی ہیں : 54۔ فرمایا ہم نے تمہاری طرف نہایت ہی صاف اور صریح احکام نازل کئے ہیں جن کا مقصد معاشرہ اسلامی کو ہر قسم کی برائیوں ‘ بےحیائیوں اور بدکاریوں سے پاک کرنا ہے اور پاک رکھنا ہے یہ احکامات اتنے واضح ہیں کہ ان کے متعلق یہ کہنے کی کوئی شخص بھی جسارت نہیں کرسکتا کہ وہ انہیں سمجھ نہیں سکا پھر جرم کی سزا اور آئندہ اس کو روک دینے کا قانون بھی بتا دیا ۔ گزشتہ قوموں کے واقعات بھی نصیحت کی باتیں ہیں اگر کوئی نصیحت قبول کرنا چاہے : 55۔ فرمایا گزشتہ قوموں کی عبرت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کرچکے ہیں جو تم سے پہلے گزری ہیں اور تم کو وہ نصیحتیں بھی کردی ہیں جو ڈرنے والوں کے لئے ہوتی ہیں ایک حکم نامہ کے اختتام پر اس سے زیادہ سخت تنبیہہ کے الفاظ اور کوئی نہیں ہوسکتے مگر آفرین ہے اس قوم پر جو ماشاء اللہ مومن ومسلم بھی کہلاتی ہے اور اس حکم نامے کو پڑھتی ور پڑھاتی بھی ہے اور پھر ایسی سخت تنبیہہ کے باوجود اس حکم نامے کے خلاف کرنے میں بھی بڑی بےباک ہے ، اس حکم نامہ سے مراد زیر بیان آیت یا اس سے پہلے ہی کی آیت نہیں ہے بلکہ شروع سورت سے لے کر اس وقت جو احکامات بیان کئے گئے ہیں وہ سب اس سے مراد ہیں جن کی تلخیص حسب ذیل دوبارہ بیان کی جارہی ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔ ا : زنا کی سزا مقرر کردی گئی جس کا تعلق حکومت اسلامی سے ہے ۔ ب : سوسائٹی سے اس کا درجہ گرا کر قوم کو متنبہ کردیا ۔ ج : سوء ظن کی ممانعت کردی اور جو ایسا کرے گا وہ مستوجب سزا ہوگا ۔ د : قذف کی سزا کا اعلان بھی کردیا گیا ‘ قاذف کو سزا دینے کے ساتھ لعنت الہی کا مستحق بھی قرار دیا گیا مگر ہاں جو توبہ کرے ۔ ہ : میاں بیوی کے درمیان کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجائے تو اس کے تصفیہ کا حل بتایا گیا ۔ و : پردے کا قانون نافذ کردیا گیا جس کی بناء پر مرد و عورت کے اختلاط کی حوصلہ شکنی کی گئی کہ اس سے زنا کا باب کھلتا ہے ۔ ز : سوسائٹی میں ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاقات کا قانون بنایا گیا اور پھر اس کی وضاحت بھی کردی گئی ۔ ح : حرمت کے رشتوں کا واضح اعلان کردیا گیا اور پھر اس کی تشریح بھی نبی اعظم وآخر ﷺ نے خود فرما دی ۔ ط : رانڈوں کے لئے خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں نکاح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور نکاح کی برکات بھی بیان کی گئیں ۔ ی : معاشرہ اسلامی میں نکاح کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا اور نوجوان مردوں اور عورتوں کو نکاح کی ترغیبت دی گئی اور غلام ولونڈیاں رکھنے والوں کو مکاتب کرنے کا حکم عام دیا گیا خصوصا جب وہ مکاتبت چاہیں ۔ ک : نکاح میسر نہ آئے تو کیا کیا جائے اس کی وضاحت پیش کی گئی ۔ ل : عورتوں کے لئے خاص قوانین کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس کی وضاحت بھی کردی گئی ۔ م : نکاح کی تعمیم کردی کہ جب قوم کے اعلی وادنی طبقات بدترین خباثت سے بچ جائیں گے تو دوسری بداخلاقیوں سے بچنے کے لئے انہیں راستہ مل جائے گا ۔ ن : ترک نکاح سے جو نقصانات پیدا ہوتے ہیں ان کو گزشتہ امتوں کے واقعات سے واضح کردیا گیا ۔ س : جن لوگوں کو قانون کی پابندی کا شوق ہے ان کے لئے یہی واقعات تذکیروموعظت کا کام دیں گے ۔ ع : بااخلاق اور متقی بننے کے لئے تمام بےحیائیوں اور بداخلاقیوں سے بچنا ضروری ہے اس کی وضاحت کردی گئی ۔ : کسی عورت کا مجبوری کے عالم میں گناہ کے ارتکاب کی وضاحت کی گئی کہ وہ کیوں اور کیسے ؟ ص : یہ بات واضح کی گئی کہ راہ حق میں دنیاوی مکروہات کا ارتکاب کرنا پڑے گا مگر وہ لوگ یقینا غلطی پر ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ رہبانیت اور تجرد سے مذہبی برکات حاصل ہوتی ہیں ۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ، اس کا نور ایک ایسے طاق جیسا ہے جس میں ایک چراغ روشن ہے اور وہ روشن چراغ ایک فانوس میں ہے اور فانوس گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے ، وہ چراغ ہے کہ شجر مبارکہ زیتون (کے تیل) سے روشن کیا گیا ہے جو نہ مشرق کے رخ واقع ہے اور نہ مغرب (کے رُخ) اس کا تیل (اتنا لطیف ہے) کہ اگر اس کو آگ نہ بھی چھوئے تو بھڑک پڑے (اور فضاؤں کو منور کردے) وہ نور پر نور ہے اللہ جس کو چاہتا ہے (اپنے قانون کے مطابق) اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کو سمجھانے کی خاطر مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ کو ہرچیز کا علم ہے

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یہ ایک مثال بیان کی گئی ہے : 56۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات یکسر رشد وہدایت ‘ نوروبصیرت اور پندوموعظت ہوتی ہیں ‘ ان پر عمل پیرا ہونے سے انسانی قلوب و دماغ میں روشنی پیدا ہوتی ہے اور برکات الہیہ کا نزول ہوتا ہے کہ مگر ان فیوض خداوندی سے مستفید ہونے کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ قوم میں اخلاق فاضلہ ہوں ‘ وہ فسق وفجور سے پرہیز کرتی ہو اور نیکی و طہارت اس کا شکار ہو اس لئے ابتدائے سورت میں ایک بدترین اخلاقی جرم پر بحث کی گئی تاکہ آئندہ تعلیم اور نیکی و طہارت اس کا شکار ہو اس لئے ابتدائے سورت میں ایک بدترین اخلاقی جرم پر بحث کی گئی تاکہ آئندہ تعلیم الہی کی نشر و اشاعت میں رکاوٹ نہ پیدا ہو اور نور الہیہ برابر فائز ہوتے رہیں اب بتایا جاتا ہے کہ جب انسانوں کی ایک جماعت اس قانون پر عمل کرے گی تو ان کے قلوب وصدور اللہ کی نور سے روشن ہوجائیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال بیان کی گئی ۔ نور کیا ہے ؟ ” نور “ لغت میں اس کیفیت کو کہتے ہیں جو سورج ‘ چاند اور آگ سے پیدا ہو کر زمین اور دیواروں وغیرہ پر پڑتی ہے ۔ ” نار “ اور ” نور “ دونوں کا مادہ ایک ہے نور نورا النور نور نور۔ اسم نکرہ مرفوع ومنصوب ومجرور ومعرفہ مضاف مرفوع ومجرور ۔ سب کا معنی روشنی اگرچہ مختلف آیات میں مراد مختلف ہے مثلا آگ کی روشنی ‘ سورج ‘ چاند اور ستاروں کی روشنی ‘ ایمان کی روشنی ‘ ہدایت کی روشنی ‘ احکام الہی کی روشنی ‘ قرآن کریم کی روشنی ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کی روشنی ‘ عام روشنی ‘ شریعت اور براہین الہیہ کی روشنی ‘ اسلام کی روشنی ‘ تجلیات الہیہ کی روشنی ‘ توحید و اعمال صالحہ کی روشنی اور زیر نظر آیت میں نور بمعنی منور ہے روشن کرنے والا ۔ دوسروں کو روشنی عطا کرنے والا ، نور کی اصل تنقیح نار سے ہوتی ہے ۔ ” مشکوۃ “ اسی طاق کو کہتے ہیں جو دیوار کے آر پار نہ ہو ۔ ” مصباح “ چراغ۔ صبح کو صبح اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں روشنی ہوتی ہے ” زجاجۃ “ شیشے کی قندیل جو نہایت صافوشفاف ہو۔ ” دری “ میں یائے نسبتی ہے یعنی قندیل صفائی اور چمک میں موتی کے مشابہ ہے ” یوقد “ ایقاد سے لیا گیا ہے اور یہ لفظ آگ یا چراغ روشن کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ (السموت والارض) کے الفاظ پوری کائنات کے لئے استعمال ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ” کائنات “ کی روشنی ہے ۔ اللہ ان دیکھی اور ان سمجھی ذات ہے جس کا عقل انسانی احاطہ نہیں کرسکتی اور ظاہر ہے کہ جس کا احاطہ عقل انسانی نہ کرسکتی ہو اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں ہے پھر اس کو بیان کرنے کے لئے کیا کیا جائے ؟ یہی کہ اس کو کسی مثال سے سمجھایا جائے اگرچہ اس کی مثال بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ” لیس کمثلہ شیئ “ خود اس کا ارشاد گرامی ہے اس لئے اس کے سمجھنے کے لئے جو الفاظ بھی استعمال کئے جائیں گے محض تفہیم کے لئے ہوں گے ، غور کرو کہ جسم انسانی میں مختلف اعضاء اور جو راح اپنااپنا کام کر رہے ہیں اور ان کے بغیر ہمارا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے مگر آپ جب عمیق غور وفکر سے کام لیں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ اصل میں کام کرنے والی ” روح “ انسانی ہے جو ہر رگ وپے میں جاری وساری ہے اور جو ان تمام اعضائے بدن سے اپنا اپنا کام لے رہی ہے اگر وہ نہ ہو تو جسم انسانی ہڈیوں اور گوشت و پوست کے سوا کچھ بھی نہیں جو سب کا سبب بیکار و حرام ہے ۔ بالکل اسی طرح اگرچہ اس کائنات ارض وسماوی میں مختلف چیزیں نظر آتی ہیں لیکن دراصل اللہ ہی کی قدرت ہر جگہ کار فرما ہے اور اس کا نور زمین و آسمان کی روشنی کا باعث ہے ، اس کے نور کا فیضان ایک چراغ میں ہوتا ہے جسے ” خطیرۃ القدس “ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ بلاشبہ اللہ کا تصور فطری چیز ہے جو شخص کسی فطری چیز سے انکار کرتا ہے دراصل اس کا اپنی ذات سے انکار ہے اور پھر جو شخص اپنے ہونے سے انکار کرے اس کو کیا کہا جائے گا ؟ اس کو کیا کہا جاسکتا ہے ؟ فیصلہ خود کرلو جو تمہارا فیصلہ ہوگا وہی اصل فیصلہ قرار پائے گا ، ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ جو اللہ رب العزت کو نہیں مانتا وہ اپنی ذات سے ہی انکار کرتا ہے اور اس کے لئے یہ کائنات ایک ظلمت واندھیرے کے سو کچھ بھی نہیں ہے اور جو شخص اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات کو مانتا اور تسلیم کرتا ہے اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے بشرطیکہ اس کا ماننا اس کے دل سے ہو کیونکہ دل کے تسلیم کرنے کے بغیر صرف زبان کی تصدیق کوئی چیز نہیں الا یہ کہ وہ ایک دھوکا ہے اور ایک فریب ہے جو اس نے خود اپنی ذات کو دے رکھا ہے اور پھر اس پر طرہ یہ کہ وہ اس بات کو مانتا بھی نہیں ہے اچھا تو کیا اس کے نہ ماننے سے حقیقت بدل جائے گی ؟ اس مثال کو بھی مثال ہی سے بیان کیا جاسکتا ہے اس لئے زیتون کے تیل کا ذکر کیا گیا : 57۔ اس کا تیل وہ روحانیت ہے جو روح اعظم اور ملاء اعلی کے مجموعہ سے ترتیب دی گئی ہے اور اس کی آگ اللہ کی تجلی کی روشنی ہے پھر جس طرح چراغ سے نور نکل کر قندیل میں روشن ہوتا ہے اور اس طرح تمام مکان کو بقعہ نور بنا دیتا ہے ایسے ہی ملاء سافل ملاء اعلی خطیرۃ القدس سے انوار و تجلیات لے کر زمین و آسمان کی روشنی کا سبب بن جاتے ہیں اور تمام کائنات ارض وسماوی روشن ہوجاتی ہے ، اس وقت جب یہ مثال بیان کی جا رہی تھی لوگ چراغ جلانے کے لئے مختلف قسم کے تیل استعمال کیا کرتے تھے لیکن ان تیلوں میں سے زیتوں کے تیل کے روشنی بڑی تیز اور دھوئیں سے پاک ہوتی تھی اور جس چراغ میں زیتوں کا تیل ڈالا جاتا تھا اس کی چمک دمک کا مقابلہ کوئی اور چراغ نہ کرسکتا تھا پھر زیتون کا درخت اور اس سے نکالا ہوا تیل ایک قسم کا نہیں ہوتا تھا بعض زیتون کے درکت اپنے علاقہ اور آب وہوا کی وجہ سے دوسرے زیتون کے درختوں سے زیادہ عمدہ ہوتے ہیں اور ان سے نکالا ہوا تیل بہت ہی صاف اور روشن ہوتا ہے خصوصا زیتون کا وہ درخت جو پہاڑ کی چوٹی یعنی زمین کے فراز پر اگا ہوا ہو کہ طلوع آفتاب کے وقت بھی اس کی عنابی کرنیں اسے زندگی بخش اثرات سے سرشار کردیں اور جب سورج غروب ہورہا ہو تب بھی۔ اس طرح تازہ ہوا اسے ہر وقت پہنچتی ہو اور خصوصا جب کہ وہ کاٹ کاٹ کر خراب بھی نہ کردیا گیا ہو اور اس طرح کا درخت اپنی قدوقامت میں بھی نمایاں ہوتا ہے اور پھل بھی اور پھر دہنیت میں بھی اور اس کا تیل بھی بڑا نفیس ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اسے آگ نہ بھی لگائی جائے تو بھی از خود روشنی کے شعلے بھڑک اٹھیں گے اور جب اس طرح کا صاف و شفاف تیل اس میں جل رہا ہے جو زیتون کے ایک خاص درخت کا تیل ہے اور پھر دیا بھی ایسا بہترین جو اپنی مثال آپ ہے اور دیا مزید شیشے کی ڈبیا میں رکھا گیا ہے اور شیشے کی ڈبیا کو بھی ایک طاق میں رکھا گیا ہے تاکہ روشنی بندھ کر ایک طرف کو پڑتی رہے اور اس کے جلنے سے دھوئیں کا نام ونشان بھی نہ اٹھے کیا ایسے چراغ کی روشنی دوسرے چراغوں کو مات نہ کرے گی ؟ کیوں نہیں بلاشبہ اس چراغ پر کوئی چراغ بھی فوقیت نہیں رکھے گا بالکل اسی طرح دین اسلام باقی ادیان پر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت دوسرے نبیوں رسولوں کی نبوت و رسالت پر اور قرآن کریم دوسری آسمانی کتابوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور رہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات تو اس کی رفعت شان اور بلندی مرتب کا اندازہ لگایا جا ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اس کی مثال کسی مخلوق کے ساتھ دی جاسکتی ہے ۔ ” اس کو آگ نہ بھی چھوئے تو وہ بس بھڑک پڑے “ کا مطلب کیا ؟ 58۔ (آیت) ” یکاد زیتھا یضیء ولولم تمسسہ نار “۔ دراصل ایک محاورہ ہے جو زیتون کے تیل کے صاف شفاف ہونے پر دلالت کرتا ہے اور بلاشبہ اس میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو چیز زیتون کے تیل سے مراد اصل ہے اور بلاشبہ وہ قلب مومن ہے اس طرح اس کا مطلب بالکل صاف ہوجاتا ہے کہ یہ ایمان ان لوگوں کے سینوں کو اپنا نشیمن بناتا ہے جن کے قلوب ہر قسم کے فساد اور بگاڑ سے محفوظ ہوں جن کی فطرت کا روغن غیر فطری ملاوٹوں سے پاک ہوتا ہے اس لئے وہ خود بخود دعوت ایمانی کی ذرا سی رگڑ سے بھڑک اٹھتا ہے اور وہ انسان نہ صرف یہ کہ خود صالح ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں کو بھی صالح بنانے میں بھرپور حصہ لیتا ہے ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ عطر ہے جس کا ڈھکنا اٹھائے بغیر ہی پوری فضا کو معطر کردیتا ہے اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے : 59۔ بلاشبہ نور خداوندی ہی نور مطلق ہے جو سارے جہان کو منور کر رہا ہے مگر اس کا ادراک ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا اس کے ادراک کی توفیق اور اس کے فیض سے مستفیض ہونے کی نعمت اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے ورنہ جس طرح اندھے کے لئے دن رات برابر ہیں اسی طرح بےبصیرت انسان کے لئے ، اس طرح اس آیت میں (نورہ) کی ضمیر کا مرجع اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور مصباح سے مراد ذات الہ ہے اور مشکوۃ سے مراد ساری کائنات لی جائے گی اور فانوس (زجاجہ) اس کا وہ نوری پردہ ہوگا جس کے باعث وہ عیاں اور آشکارا ہونے کے باوجود اپنی مخلوقات کی نگاہوں سے مخفی اور پنہاں ہے یہ فنا اس لئے نہیں کہ اس کے ظہور میں کچھ کمی ہے بلکہ تجلیات کی فراوانی اور انوار کی کثرت اس بات سے مانع ہے کہ کوئی آنکھ کھول کر اس کو دیکھنے کی جرات کرسکے کیونکہ کسی انسان کی یہ ظاہری آنکھ اس کی ذات کے جلوہ کی متحمل ہی نہیں ہے ، بلاشبہ انسان محض اپنی کوشش اور علم وفضل سے اس نور محض تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور وہ جس پر چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے فرما دیتا ہے اور یہ بھی اللہ رب العزت صاحب جبروت کی بندہ پروری ہے کہ وہ ان حقائق ومعارف کو محسوس مثالوں کے ذریعہ سے ہمیں سمجھا دیتا ہے ورنہ ان کو سمجھنا بھی کسی انسان کے بس کا روگ نہ تھا ۔ واضح ہوگیا کہ جنہوں نے خارجی اثرات ضلالت سے اپنی باطنی شمع ہدایت کو گل نہیں کیا ہوتا وہی اس کے نور سے مستفید ومستفیض ہوسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر فرزند انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مثالیں پیش کرتا ہے اگر وہ آفاق وانفس میں غور کرے تو اس کی ہدایت کے لئے کافی سامان موجود ہے ۔ آفاق میں غور کیا ہے ؟ یہی کہ انسان غور وفکر کرے کہ اس ہماری زمین کا وجود اور اس کی ساخت ‘ اس کا سورج سے ایک خاص فاصلے پر اور ایک خاص زاوئیے پر رکھا جانا ‘ اس پر حرارت اور روشنی کا انتظام ‘ اس پر مختلف موسموں کی آمدورفت ‘ اس کے اوپر ہوا اور پانی کی فراہمی ‘ اس کے پیٹ میں طرح طرح کے بیشمار خزانوں کا مہیا کیا جانا ‘ اس کی سطح پر ایک زرخیز چھلکا چڑھا جانا ‘ اس میں قسم قسم کی بیحد و حساب نباتات کو اگایا جانا اس کے اندر خشکی اور تری اور ہوا کے جانوروں کی بیشمار نسلیں جاری کرنا اور اس میں ہر نوع کی زندگی کے لئے مناسب حالات اور موزوں خوراک کا انتظام کرنا اس پر انسان کے وجود میں لانے سے پہلے وہ تمام ذرائع ووسائل فراہم کردینا جو تاریخ کے ہر مرحلے میں اس کی روز افزوں ضروریات ہی کا نہیں بلکہ اس کی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا ساتھ بھی دیتے چلے جائیں یہ اور دوسری ان گنت نشانیاں ایسی ہیں کہ دیدہ بینا رکھنے والا جس طرف بھی زمین اور اس کے ماحول میں نگاہ ڈالے وہ اس کا دامن دل کھینچ لیتی ہیں جو شخص یقین کے لئے اپنے دل کے دروازے بند کرچکا ہو اس کی بات تو دوسری ہے وہ ان میں اور تو سب کچھ دیکھ لے گا بس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والی کوئی نشانی ہی نہ دیکھے گا مگر جس کا دل تعصب سے پاک اور سچائی کے لئے کھلا ہوا ہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر ہرگز یہ تصور قائم نہ کرے گا کہ یہ سب کچھ کسی اتفاقی دھماکے کا نتیجہ ہے جو کئی ارب سال پہلے کائنات میں اچانک برپا ہوا تھا بلکہ اسے یقین آجائیگا کہ یہ کمال درجہ کی حکیمانہ صفت ضرور ایک قادر مطلب اور دانا وبینا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تخلیق ہے اور وہ رب جس نے یہ زمین بنائی ہے نہ اس بات سے عاجز ہو سکتا ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے اور نہ ایسا نادان ہو سکتا ہے کہ اپنی زمین میں عقل و شعور رکھنے والی ایک مخلوق کو اختیارات دے کر بےلگام گھوڑے کی طرح چھوڑے دے ۔ اختیارات کا دیا جانا آپ سے محاسبے کا تقاضا کرتا ہے جو اگر نہ ہو تو حکمت و انصاف کے خلاف ہوگا اور قدرت مطلقہ کا پایا جانا خود بخود اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں نوع انسانی کا کام ختم ہونے کے بعد اس کا خالق جب چاہے محاسبے کے لئے اس کے تمام افراد کو زمین کے ہر گوشے میں جہاں بھی وہ بکھرے پڑے ہوں اٹھا کر لاسکتا ہے ۔ انفس میں غور کیا ہے ؟ وہ یہ کہ انسان کو باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اس حقیقت پر گواہی دینے والی بیشمار نشانیاں مل جائیں گی کہ کس طرح ایک خوردبینی کیڑے اور جرثومے کو ملا کر ماں کے ایک گوشہ جسم میں جو اس کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی اور تم میں سے ہر ایک خواہ وہ کوئی ہو کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کرکے بتدریج بڑھایا گیا اور پھر کس طرح تمہیں ایک بےنظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا ہے ، کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ وتاریخ دنیا میں سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض اور روشن دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خود کار مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روز پیدائش سے جوانی اور بڑھاپے تک سانس لینے ‘ غذا ہضم کرنے ‘ خون بنانے اور رگ رگ میں اس کو دوڑانے ‘ فضلات خارج کرنے ‘ تحلیل شدہ اجزائے جسم کی جگہ دوسرے اجزاء تیار کرنے اور اندر سے پیدا ہونے والی یا باہر سے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے اور نقصانات کی تلافی کرنے حتی کہ تھکاوٹ کے بعد تمہیں آرام کے لئے سلا دینے تک کا کام خود بخود کئے جاتی ہے بغیر اس کے تمہاری توجہات اور کوششوں کا کوئی حصہ زندگی کی ان بنیادی ضروریات پر صرف ہو ۔ پھر یہ کہ ایک عجیب دماغ تمہارے کاسہ سر میں رکھ دیا گیا ہے جس کا پیچیدہ تہوں میں عقل وفکر ‘ تخیل و شعور ‘ تمیز و ارادہ ‘ حافظہ ‘ خواہش ‘ احساسات وجذبات ‘ میلانات ورجحانات اور دوسری ذہنی قوتوں کی ایک انمول دولت بھری پڑی ہے ، بہت سے ذرائع علم تم کو دیئے گئے ہیں جو آنکھ ‘ ناک ‘ کان اور پورے جسم کی کھال سے تم کو ہر نوعیت کی اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں ۔ زبان اور گویائی کی طاقت تم کو دے دی گئی ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرسکتے ہیں اور پھر تمہارے وجود کی اس پوری سلطنت پر تمہاری انا کو ایک رئیس اعظم بنا کر بٹھا دیا گیا ہے کہ ان تمام قوتوں سے کام لے کر رائیں کام کرو اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں کن راہوں میں اپنے اوقات ‘ محنتوں اور کوششوں کو صرف کرنا ہے کیا چیز رد کرنی ہے اور کیا قبول کرنی ہے ‘ کسی چیز کو اپنا مقصود بنانا ہے اور کس کو نہیں بنانا ۔ ایک ایسی ہستی بنا کر جب تمہیں دنیا میں لایا گیا تو ذرا دیکھو کہ یہاں آتے ہی کتنا سروسامان تمہاری پرورش ‘ نشو ونما اور ترقی وتکمیل ذات کے لئے تیار تھا جس کی بدولت تم زندگی کے ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر اپنے ان اختیارات کو استعمال کرنے کے قابل ہوگئے ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے زمین میں تم کو ذرائع دیئے گئے ‘ مواقع فراہم کئے گئے ‘ بہت سی چیزوں پر تم کو تصرف کی طاقت دی گئی ‘ بہت سے انسانوں کے ساتھ تم نے طرح طرح کے معاملات کیے ‘ تمہارے سامنے کفر و ایمان ‘ فسق وطاعت ‘ ظلم و انصاف ‘ نیکی وبدی ‘ حق و باطل کی تمام راہیں کھلی ہوئی تھیں اور ان راہوں میں سے ہر ایک کی طرف بلانے والے اور ہر ایک کی طرف لے جانے والے اسباب موجود تھے ، تم میں سے جس نے جس راہ کا بھی انتخاب کیا اپنی ذمہ داری پر کیا ‘ کیونکہ فیصلہ وانتخاب کی طاقت اس کے اندر ودیعت تھی ہر ایک کے اپنے ہی انتخاب کے مطابق اس کی نیتوں اور ارادوں کو عمل میں لانے کے جو مواقع اس کو حاصل ہوئے ان سے فائدہ اٹھا کر کوئی نیک بنا اور کوئی بد ‘ کسی نے ایمان کی راہ اختیار کی اور کسی نے کفر وشرک یا دہریت کی راہ لی ‘ کسی نے مرتے دم تک دنیا میں بھلائی کی اور کوئی زندگی کی آخری ساعت تک برائیاں کرتا رہا ‘ کسی نے حق کا بول بالا کرنے کے لئے جان لڑائی اور کوئی باطل کو بلند کرنے کے لئے اہل حق پر دست درازیاں کرتا رہا ۔ ذرا غور کرو کہ کوئی شخص جس کے دیدے بالکل ہی پھوٹ نہ گئے ہوں یہ کہہ سکتا ہے کہ اس طرح کی ایک ہستی زمین پر اتفاقا وجود میں آگئی ہے ؟ کوئی حکمت اور کوئی منصوبہ اس کے پیچھے کارفرما نہیں ہے ؟ زمین پر اس کے ہاتھوں ثمرہ اور کسی بدی کا کوئی پھل نہیں ؟ کسی ظلم کی کوئی داد اور کسی ظالم کی کوئی بازپرس نہیں ؟ اس طرح کی باتیں ایک عقل کا اندھا تو کہہ سکتا ہے یا پھر وہ شخص کہہ سکتا ہے جو پہلے سے قسم کھائے بیٹھا ہو کہ تخلیق انسان کے پیچھے کسی حکیم کی حکمت کو نہیں ماننا ہے مگر ایک غیر متعصب صاحب عقل آدمی یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان جس طرح جن قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے اور جو مشیت اس کو یہاں دی گئی ہے یقینا وہ ایک بہت بڑا حکیمانہ منصوبہ ہے اور جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا یہ منصوبہ ہے اس کی حکمت لازما یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس ہو اور اس کی قدرت کے بارے میں یہ گمان کرنا ہرگز درست نہیں ہو سکتا کہ جس انسان کو وہ ایک خوردبینی خلئے سے شروع کرکے اس مرتبے پر پہنچا سکا ہے اسے پھر وجود میں نہ لاسکے گا ؟ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے (آیت) ” وفی الارض ایت اللموقنین ، وفی انفسکم افلا تبصرون “۔ زمین میں یقین لانے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی کیا تم دیکھتے نہیں “ مزید وضاحت کے لئے سورة یوسف کی آیت 105 کی تفسیر کو دیکھیں ۔ اللہ رب کریم ہی جانتا ہے کہ کتنے لوگ ان امثال ونظائر اور دلائل وبراہین سے کام لیں گے ہاں ! آگے ان لوگوں کی نشاندہی کی جارہی ہے جو ایسی مثالوں سے کام لیتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں ۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(انہی) گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی عظمت کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے وہاں لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں

وہ عظمت والے گھروں میں صبح وشام تسبیح میں مصروف رہتے ہیں : 60۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا نور ہر جگہ کار فرما ہے لیکن اس کو اخذ کرنے کے لئے کچھ مخصوص گھر بھی بنائے گئے ہیں جو کچھ کسی کی زبان سے نکلتا ہے بلاکم وکاست سب کا سب کائنات کے اندر محفوظ ہے لیکن دوسروں جگہوں پر جو سنائی دیتا ہے لیکن فائدہ کون حاصل کرتے ہیں ؟ وہی جو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ اپنے سر پر آنکھیں رکھتے ہیں ۔ لیکن جو سپرہ چشم ہیں ان کو تو عین دوپہر کے وقت بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح اللہ رب کریم کے نور کو اخذ کرنے کے لئے کچھ خاص عبادت خانے بنائے گئے ہیں جن کو اسلام کی زبان میں مساجد کا نام دیا گیا ہے اور ہم ان کو ” اللہ کے گھروں “ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں اس لئے اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ اللہ کے نور کو اخذ کرنے کے لئے سلیم الطبع لوگ صبح وشام کی نمازوں میں مسجدوں کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تسبیح وتہلیل اور تقدیس و پاکیزگی میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے لئے وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ نے بتایا اور سمجھایا ہے کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس کی طرف ہم کو دعوت دی گئی ہے ۔ قرآن کریم نے صبح وشام ہی کا اکثر مقامات میں ذکر کیا ہے کیونکہ یہی اوقات سارے انسانوں کے لئے یا اکثریت کے لئے گھر میں رہنے کے ہیں اور باقی اوقات مختلف جگہوں پر آسکتے ہیں اور آتے ہیں ۔ (ترفع) سے مراد مساجد کا بلند کرنا ہے یعنی ان کی عمارات بھی شاندار ہوں اور نہایت پاک وستھری بھی ہوں ‘ کوڑے کرکٹ کا نام ونشان تک نہ ہو۔ دیواروں اور فرش پر بدنما دھبے اور داغ بھی نظر نہ آئیں ‘ چھتوں پر مکڑی نے جالے نہ تن دیئے ہوں ، حدیث میں ہے کہ من بنی اللہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنہ ” جو شخص رضائے الہی کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے گھر تعمیر فرما دیتا ہے “ لیکن ہمارے ملک میں جو لوگوں سے مانگ مانگ کر مسجدیں بنانے اور اس کو ایک کاروبار بنا لینے کا رواج ہوچکا ہے اس کی کوئی اصل اسلام میں نہیں ہے ۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ مقامی لوگ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی استطاعت کے مطابق مسجد تعمیر کریں یا اگر کوئی ایک ہی شخص یا جماعت اپنی مرضی سے کسی مناسب جگہ مسجد تعمیر کردے اور مسجد تعمیر کرنے کے بعد اس میں باقاعدہ جماعت کا انتظام کیا جائے ، زیادہ سے زیادہ اگر مسجد کی ضرورت کی مسافر خانہ کے قریب ضروری ہو تو ان مسافروں سے بھی اس میں کسی طرح کی مدد لی جاسکتی ہے تاہم مانگنا اور مسلسل کئی کئی سالوں تک مانگتے ہی رہنا مطلق اسلام کا کام نہیں ہے کیونکہ سوال کرنا اور مانگنا تو بجائے خود ایک طرح کی آلودگی اور گندگی ہے اور مساجد کو تو آلودگیوں اور گندگیوں سے پاک رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، مسجد کے ساتھ بالکل ملحق اور بعض اوقات مسجد کی مخصوص چار دیواری کے اندر طہارت خانوں کا انتظام بھی مستحسن امر نہیں ہے ، اگر اس کی اشد ضرورت ہو تو مسجد کے باہر قرب و جوار میں کوئی جگہ انتخاب کرکے وہاں اس طرح کا انتظام کرنا زیادہ صحیح ہے ، لیکن رواج ایک ایسی چیز ہے کہ جو ایک وقت پڑجاتا ہے اس کو اٹھانا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ، بدقسمتی سے آج کل جس مولوی اور عالم کے تین بچے ہوں وہ سوچتا ہے کہ تین مسجدیں الگ الگ میرے لڑکوں کی تعمیر ہونا چاہئے اور وہ اس کے لئے متحرک ہوتا ہے اور لوگوں سے اپلییں کر کرکے مسجدوں پر مسجدیں بنائے چلا جاتا ہے گویا یہ مسجد نہیں بلکہ ایک فیکٹری ہے اس بدنظمی کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہ کہ مسجدوں میں اللہ کا ذکر بلند کرنے کی بجائے مسجدیں بنانے اور تعمیر کرنے کی اپیلوں پراپیلیں ہوتی ہیں اور جو لوگ اس سے آگے بڑھتے ہیں تو وہ گیارہویں کے ختم کی اپیلیں شروع کردیتے ہیں اور اب لوگ تیسرے کی مجلسیں بھی مساجد میں جمانے لگے ہیں اور ابھی معلوم نہیں ان مساجد کو کیا کیا گندے اور غیر اسلامی کام کرنے کے لئے مختص کیا جائے گا کیونکہ ایک بڑی عمارت سے اور بھی بہت سے کام لئے جاسکتے ہیں اور مساجد کی بےحرمتی کی حد یہ ہے کہ گم شدہ چیزوں کے اعلان مساجد میں ہوتے ہیں اور اس طرح کے کتنے ہی کام ہیں جو مسجدوں سے لئے جا رہے ہیں اور اگر اس کے لئے کوئی واضح قدم نہ اٹھایا گیا تو آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے مرد ہیں کہ جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد اور ادائیگی نماز اور ادائیگی زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی جو اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی

وہ لوگ جن کو تجارت اور کوئی دوسری بات بھی یاد الہی سے نہیں روکتی : 61۔ یہ لوگ جن کا اوپر آیت میں ذکر کیا گیا ہے کوئی راہب ‘ احبارو رہبان اور سادھو نہیں بلکہ دنیا کی تمام کاروبار کرتے ہیں مگر جب اور جس وقت تجلیات الہیہ سے تمسک واعتصام کا وقت آتا ہے تو پھر نہ تو تجارت ان کو روک سکتی ہے اور نہ بیع وشراء کے اندر ان کے کوئی جذب وکشش باقی رہتی ہے بلکہ وہ والہانہ اور مضطربانہ ذکر الہی ‘ اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ میں مصروف ہوجاتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے وجود سے دنیا میں خدا پرستی قائم ہے اور وہ ہر وقت اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ بیان ہے ان کے کمال تقوی و خشیت کا ، قرآن کریم نے دوسری جگہ ان کی اس حالت کو اس طرح بیان کیا ہے فرمایا (آیت) ” وانذرھم یوم الازفۃ اذ القلوب لدی الحناجر کظمین ماللظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع “۔ (ال مومن 40 : 18) ” اور ان لوگوں کو اس روز سے ڈراؤ جو سر پر چلا آرہا ہے جبکہ گھٹ گھٹ کر کلیجے منہ کو آئیں گے اس روز نافرمانوں کا نہ تو کوئی دل سوز دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے “ یہی وہ روز ہے جس روز نور خداوندی کے ساتھ ربط وتعلق رکھنے کے اعتبار سے ہمارے اخلاق اور اعمال کے نتائج نکلیں گے بلاشبہ اس روز صرف تجلی ربانی ہی کار فرما ہوگی اللہ کرے ایسا نہ ہو کہ (آیت) ” نور السموت والارض “۔ سے ہمارے روابط میں کمی ہوجانے کی وجہ سے ہم اس روز ذلیل ورسوا ہوں ، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہمارا حامی و مددگار ہو۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک اعمال کا بدلہ دے اور اپنے خاص فضل سے انہیں زیادہ دے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے

دعا بدرگاہ خدا کہ وہ نیکوکاروں کو نیک اعمال کا بدلہ عطا کرے : 62۔ انسان اور بھول چوک خطا ونسیان آپس میں لازم وملزوم ہیں اگر کوئی شخص برائیوں سے بچتا ہے تو بلاشبہ اس پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا بہت بڑا فضل ہے اور وہ نیکو کاروں کو اس ان کے نیک اعمال کا یقینا بدلہ دے گا ، اس کے ہاں اندھیر کھاتا نہیں اور یہ بھی کہ وہ دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے ، اہل ایمان سے جو مستقل وعدہ کیا گیا ہے وہ تو یقینا جنت ہی کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اور کسی حال میں بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے : 63۔ انسان کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ مجھے اس کام سے ‘ اس تجارت سے ‘ اس فصل سے اتنا مال ملے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اتنا عطا فرما دیتا ہے کہ وہ اتنا ملنے کی امید بھی نہیں رکھتا تھا اور اس کے دیئے کا جو اجر اس کو آخرت میں ملے گا وہ تو حد و حساب سے بھی باہر ہے اس کا یہ مطلب نہ سمجھ لیا جائے گا کہ اللہ اس کو اس قدر عطا کردیتا ہے کہ وہ اللہ کے شمار میں نہیں ہوتا کیونکہ اللہ کے حساب سے تو کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے اور آیت کا مطلب یہ ہو کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اللہ تعالیٰ انہیں ان اعمال کی جزا بھی دے گا اور مزید بھی یعنی صرف جزا ہی نہیں بلکہ بلکہ اپنے فضل و کرم کے غیر متناہی خزانوں سے انہیں وہ نعمتیں دے گا جن کا یہ لوگ ابھی تصور بھی نہیں کرسکتے جیسا کہ حدیث قدسی میں نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اعددت لعبادی الصالحین مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔ ” میں نے اپنے بندں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ‘ جن کے بارے میں کی کان کو خبر تک نہیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا ہے “ ۔ بلاشبہ آیت کے آخر میں (آیت) ” واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب “۔ فرما کر اپنی بندہ نوازی کی حد کردی کوئی اس کی رضا کا طلبگار تو ہو وہاں کمی کس چیز کی ہے ؟