22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

اور یہ اس لیے ہوا کہ اللہ رات کو دن اور دن کو رات کے اندر داخل کرتا رہتا ہے (یہاں ہر گوشہ میں حالات تبدیل ہوتے ہیں) نیز اس لیے کہ اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتی رہتی ہے : 61۔ اوپر ذکر کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کا ساتھی ہے اور یہ ایسی بات ہے جو لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرسکتی ہے ، اس لئے کہ جس کمزور کا ساتھی زور آور ہو اس کمزور کو کوئی کمزور نہیں سمجھتا اور اگر کوئی بات ایسی کر دے تو زور آور ساتھی یہ کب برداشت کرسکتا ہے کہ اس کے کمزور ساتھی پر کوئی ظلم کرے اور پھر وہ بچ کر نکل جائے اگر ایسا ہو تو گویا اس زور آور کے لئے بھی یہ ایک طرح کا طعنہ ہے اور بلاشبہ وہ بھی اس کو اپنے لئے طعنہ سمجھتا ہے ۔ اس بات کا ازالہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھی ہونے کا مطلب تم کہیں غلط نہ سمجھ لینا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام تدریج وامہال کے اصول کے تحت ہوتا ہے اور وہ یک بارگی نہ کسی کا مددگار ہو کر اس کے مخالف کو زمین دوز کرتا ہے اور نہ مظلوم کو فورا وہ طاقتور بنا دیتا ہے کہ آج کا مظلوم کل کا ظالم ہوجائے نہیں وہ تو ہر کام کو آہستہ آہستہ اور آرام آرام سے کرتا ہے تاکہ اگر کوئی اپنی حالت کو بدلنا چاہے تو خود بدل لے اور گناہگار زندگی سے نکل کر نیکی کی زندگی کی طرف منتقل ہوجائے لیکن اگر اس نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ اپنی ڈگر پر ہی چلتا رہا تو بہرحال وہ وقت بھی آئے گا کہ اس کو گرفت میں لے لیا جائے گا اس کی مثال دے کر سمجھایا کہ غور کرو اللہ رب العزت دن کو رات اور رات کو دن میں تبدیل کرتا ہے اور ہر بینا آنکھ اس کا مشاہدہ کرتی ہے لیکن کام اسی کے قانون کے مطابق جاری رہتا ہے جب دن کے بڑھنے کا وقت آتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ بڑھتے بڑھتے رات کے مقابلہ میں گھنٹوں بڑھ جاتا ہے اور بعینہ جب رات کے بڑھنے کا وقت آتا ہے تو دن آہستہ آہستہ گھٹتے گھٹتے رات کے مقابلہ میں گھنٹوں کم ہوجاتا ہے لیکن یہ سلسلہ نظم اسی طرح قائم ہے تاہم کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آج تو رات دن سے تین گھنٹے زیادہ تھی لیکن کل دن رات سے تین گھنٹے زیادہ ہوجائے کیونکہ اس طرح سلسلہ نظم قائم نہیں رہ سکتا لہذا کوئی ضدی یہ ضد کر دے کہ میں تو خدا کو اس وقت خدا مانوں گا جب آج رات بڑی تھی اور کل دن رات کے مقابلہ میں بڑا کر دے اگر وہ ایسا نہ کرے تو نہ وہ قادر ہے اور نہ ہی میں اس کی قدرت کو مانتا اور تسلیم کرتا ہوں تو ایسا جاہل اور بیوقوف چاہے اپنی بیوقوفی اور حماقت کو کام میں لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات سے انکار ہی کر دے اللہ تعالیٰ اس کو ماننے کے لئے اپنا اصول اور قانون نہیں بدلے گا لیکن اس بیوقوف اور جاہل کو اس کی اس بات کے باعث ابھی فورا کسی عذاب میں مبتلا نہیں کر دے گا کہ ابھی اس کو منوا کر اس کا عذاب دور کرے ۔ اس لئے کہ جس طرح دن رات کی تبدیلی کے لئے اس نے ایک قانون بنایا ہے اور وہ اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا اس طرح وہ اس جاہل کی جہالت کو دور کرنے کے لئے بھی اپنے قانون کے خلاف ورزی نہیں کرے گا کیونکہ جاہل کی جہالت دور کرنے کا بھی اس نے ایک قانون بنایا ہے اور وہ اسی کے مطابق ہی جاہلوں کی جہالت کو دور کرتا ہے اور کتنے ہی جاہل تھے جن کی جہالت اس کے قانون کے مطابق بدل گئی اور اب بھی وہ جن کی جہالت بدلتا ہے اسی قانون کے مطابق بدلتا ہے لیکن ان دونوں مثالوں میں جو فرق خاص ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح دن اور رات باوجود اپنی ساری جسامت کے بالکل بےاختیار نہیں بلکہ ایک دائرہ کی حد تک اس کو اختیار دیا گیا ہے لہذا اس کی جہالت کو بدلنے کے لئے وہ بےاختیار اشیاء والا قانون اس نے نہیں رکھا بلکہ بااختیار والا قانون ہی اس کے لئے بنایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” جو تلاش کرتا ہے وہ پا جاتا ہے “ اس لئے جیسی اس کی تلاش ہوگی ویسا ہی وہ اس کو حاصل بھی کرے گا ۔ جس طرح رات کو دن میں اور دن کو رات میں بدلنے کا قانون ہماری آنکھوں کے سامنے ہے بالکل اسی طرح یہ قانون بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور سب کے سب اس کو ایک حد تک جانتے ہیں ۔ فرمایا ” اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے ۔ “ یعنی تمہاری کوئی بات اور کوئی حرکت ایسی نہیں جس سے وہ خبردار نہ ہو جو کچھ تم کہتے ہو وہ سنتا ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں کے اندر ہے اس کو وہ جانتا ہے اور ماضی ‘ حال ‘ مستقبل اس کے لئے سب ایک ہی طرح ” حال “ کی مانند ہیں۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

نیز اس لیے بھی کہ حق اللہ ہی کی ہستی ہے اور جن ہستیوں کو اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں اور پھر اس لیے بھی کہ اللہ ہی کی ہستی بلند مرتبہ ہے بڑائی والی

اللہ تعالیٰ ہی کی ذات حق ہے اور علاوہ ازیں جو بھی معبود بنائے گئے سب باطل ہیں : 62۔ فرمایا کہ اچھی طرح سمجھ لو کہ پکارنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لئے حق ہے اور علاوہ ازیں جو کچھ بھی ہے سب باطل ہے پکارنا کیا ہے ؟ یہی کہ کسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارنا اور سوچنا کہ وہ ہماری مشکل اور مصیبت کو ٹال دے اور حاجت کو پورا کر دے ۔ زیر نظر آیت میں بتا دیا کہ اس کائنات میں کار فرمائے حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ لوگ سوائے اللہ تعالیٰ کے جن جن چیزوں ‘ شخصیتوں اور طاقتوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں سب بےحقیقت محض ایک وہم کی ایجاد ہیں اور یکسر فریب ودھوکا ہیں گویا تخلیق کی صفت غفور ورحیم کسی نہیں کہ اس میں بھی کسی غیر اللہ کو شامل کیا جاسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے برابر کا نہیں تو بہرحال کسی ایک چیز کا ہی کوئی خالق قرار دیا جائے بلکہ تخلیق کی صفت ایسی ہے کہ جب اس صفت خداوندی کا اطلاق کسی انسان کی طرف ہوگا تو اس کے معنی پیدا کرنے کے نہیں ہوں گے بلکہ اندازہ کرنے کے ہوں گے کیونکہ ” خلق “ کی صفت کسی غیر اللہ کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی اور اسی طرح خالق ہی کا حق ہے کہ وہ مخلوق کی حاجت براری اور مشکل کشائی کرے اور کسی بھی غیر اللہ کو خواہ وہ اللہ کا کوئی نیک اور صالح بندہ یہاں تک کہ کوئی نبی ورسول ہی کیوں نہ ہو حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھا جاسکتا اگر کوئی ایسا سمجھے گا تو گویا اس نے رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ اس کو شریک کردیا جب کہ اس کا کوئی شریک نہ ہے ، اس لئے فرمایا گیا کہ اللہ کو پکارنا اور حاجت روا سمجھنا ” حق “ ہے اور غیر اللہ کو خواہ وہ کون ہو ایسا سمجھا ” باطل “ ہے اور حق کبھی باطل اور باطل کبھی حق نہیں ہو سکتا اور ان دونوں کو ملانے والا اور ایک کے نیچے دوسرے کو چھپانے والا اور اسی طرح حق کو باطل کا لباس پہنانے والا اور باطل دونوں کو حق کا لباس پہنانے والا ہمیشہ مشرک ہی ہو سکتا ہے مومن نہیں ہو سکتا ایک یہ ایسا اصول ہے جس سے شرک اور توحید دونوں روز روشن کی طرح واضح ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس طرح پتھر اور مٹی کی مورتیوں کو اللہ رب العزت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں اسی طرح قبر اور تھان کو بھی رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہو سکتا ۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نے (اپنی آنکھوں سے یہ منظر) نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے یقین کرو اللہ بڑا ہی لطف کرنے والا ، خبر رکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو بادل سے بارش نازل کرتا ہے اور زمین کو ہرا بھرا کردیتا ہے : 63۔ (الم تر) کے الفاظ قرآن کریم میں تقریبا 32 ‘ 33 بار آئے ہیں جیسے سورة البقرہ 25 کی آیت 107 ‘ 243 ‘ 256 ‘ سورة آل عمران کی آیت 22 سورة النساء 4 : 43 ‘ 47 ‘ 58 ‘ 75 ‘ سورة ابراہیم 14 کی آیت 19 ‘ 24 ‘ 28 ‘ سورة الحج 22 کی آیت 18 : 63 ‘ 65 : 70 ‘ سورة مریم 19 کی آیت 88 سورة النور 24 کی آیت 41 ‘ 43 ‘ سورة الفرقان 25 کی آیت 45 ‘ سورة الشعراء کی آیت 225 ‘ سورة القمان کی آیت 20 ‘ 29 سورة الفاطر 35 ‘ کی آیت 25 ‘ سورة الزمر کی آیت 31 ‘ سورة ال مومن : 40 کی آیت 69 ‘ سورة المجادلہ کی آیت 7 ‘ 8 ‘ 14 ‘ سورة الحشر کی آیت 11 ‘ سورة نوح کی آیت 10 ‘ سورة الفجر کی آیت 6 ‘ سورة الفیل کی آیت اول میں جس کے معنی ہیں ” کیا تو نے نہیں دیکھا “ اور یہ دیکھنے کا اثبات ہے ‘ نہ کہ نفی اور ہر جگہ اس سے مراد ہر فرد لیا گیا ہے اور ہر ہر فرد کو مخاطب کر کے کوئی نہ کوئی بات اس سے کی گئی ہے اور جو بات بھی کی گئی ہے اس میں یہ سوالیہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ یہ کام اللہ نے کیا ہے یعنی اللہ کے سوا کسی نے نہیں کیا جیسا کہ اس جگہ ارشاد فرمایا ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی نازل کرتا ہے “ اور بات وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جو اس کو اتار سکتا ہو ۔ جس کا احتصار یہی ہے کہ ” تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بارش کوئی نہیں برسا سکتا “ یعنی تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو بارش برساتا ہے ۔ پھر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ اگر زمین ذرا بھی اگانے کی صلاحیت ہو تو وہ اس سے ہری بھری ہوجاتی ہے اگر اس میں کچھ بویا گیا ہے تو اس سے اور اگر کچھ نہیں بویا گیا تو مختلف قسم کی بوٹیوں سے اور اس میں انسانوں کو تفہیم کرایا جا رہا ہے کہ تم لوگ ظاہری حالات کی ناسازگاری کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ظہور کو بعید از امکان نہ سمجھو کیونکہ اس بات کو ہر آدمی نہیں سمجھ سکتا کہ رب ذوالجلال والاکرام کی شان کس طرح ظاہر ہوگی اور اس کے ہاتھ کدھر سے نمودار ہوں گے تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک اور چٹیل میدان پڑی ہوتی ہے کہ اس پر سبزہ وروئیدگی کا نشان تک کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی افق پر کہیں بادل دکھائی دیتا ہے اور ہوائیں اس بادل کو جتنے حصے میں اس نے حکم دیا ہے پھیلا دیتی ہیں اور اس طرح بادلوں کے قافلے پر قافلے چلے آتے ہیں کہ تم ان کو کے مختلف رنگ دیکھتے ہو پھر آنکھ جھپکنے میں زمین پر وہ ٹپکنے لگتے ہیں اور آج سے ابھی کل نہیں آتا کہ زمین جل تھل ہوجاتی ہے اور پھر کیا ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اس زمین کو ہرا بھرا کردیتا ہے اور درختوں کی کو نپلیں نکل آتی ہیں اور چند ہی دنوں میں وہ پھلوں سے لدے ہوئے نظر آتے لگتے ہیں بس اس سے سمجھ لو کہ وہ جب چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق وحی الہی کی بارش سے دلوں کی زمینوں کو بھی آباد کردیتا ہے اور اس طرح وہ اپنے قانون کے مطابق لوگوں کی حالت کو بھی بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ مکہ کے حالات تم سے پوشیدہ نہیں لیکن اس پروردگار حقیقی نے جب چاہا اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ کو پیدا فرما کر اپنے قانون کے مطابق وحی الہی کی بارش برسانا شروع کردی پھر جہاں جہاں شور زمین تھی اس کے شور کو جب چاہا دور فرما کر ان کے دلوں کی زمین کو وحی الہی سے زندہ کردیا فرمایا وہ لطیف وخبیر ہے اس لئے وہ اپنی تدبیروں کو بروئے کار لاتا ہے تو اس طرح لاتا ہے کہ کسی کو سان و گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک کام کرکے دکھا دیتا ہے اور وہ ہرچیز کے مال سے اچھی طرح واقف ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے وہی ہے جو بےنیاز ہے ہر طرح کی ستائشوں کا سزاوار

آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے وہ غنی ہے اور تعریف کیا گیا ہے : 64۔ ان آیات میں توحید الہی کا درس دیا جا رہا ہے یہ صرف تعریفی فقرے نہیں بلکہ ان کا ہر لفظ اس پس منظر سے گہرا ربط رکھتا ہے جس میں یہ آیات کریمات نازل ہوئیں ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ اور قرآن کریم کے خلا جو لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ان کے اعتراضات کی اولین بنیاد یہ تھی کہ آپ ﷺ ان کو توحید کی دعوت دے رہے تھے اور ان لوگوں کے اس دعوت کو سن کر کان کھڑے ہو رہے تھے اور وہ کہتے تھے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد ﷺ کو کیا ہوگیا ہے ؟ پھر خود ہی کہتے کہ شاید اس پر کسی کا سایہ ہوگیا ہے یا یہ پاگل ہوگیا ہے اس پر کسی نے جادو کردیا کہ وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے غور کرو کہ اگر اکیلا اللہ ہی معبود ‘ حاجت روا ‘ مشکل کشا ہے تو ہمارے ان بزرگوں کا کیا بنا ؟ حالانکہ ہمارے باپ دادا ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ‘ کیا ہم سب کے باپ دادا غلط تھے ؟ ان سب کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی جو آج اس کو سوجھی ؟ کیا وہ سب کے سب غلط تھے اور یہ ایک صحیح ہے ؟ ان کو سمجھانے کے لئے کتنا پیارا انداز اختیار کیا فرمایا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے اور مالک کے ساتھ اس کی ملکیت میں کسی دوسرے کو آخر کس طرح شریک کیا جاسکتا ہے ؟ جبکہ وہ دوسرے جن کو تم اس کی ملکیت میں شریک سمجھ بیٹھے ہو یا وہ خود اس کی ملکیت میں شریک بن بیٹھے ہیں حالانکہ وہ سب کے سب بھی اس کی مملوک ہیں اور وہ تو ان سب سے زیادہ برتر اور بزرگ تر ہے اس کا تو کوئی بھی ہمسر نہیں ہے وہ غنی ہے اور ساری اچھی تعریفوں کے وہی لائق ہے اس کے سوا کوئی نہیں جس کی ملکیت تصور کی جاسکتی ہو وہ رب العالمین ہے اور کوئی مخلوق بھی خالق کے ساتھ کسی معاملہ میں شریک نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ کس طرح اللہ نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردی ہیں ؟ جہاز کو دیکھو کس طرح وہ اس کے حکم سے سمندر میں تیرتا چلا جاتا ہے ؟ پھر کس طرح اس نے آسمانوں کو تھام رکھا ہے کہ زمین پر گریں نہیں اور گریں تو اس کے حکم سے ؟ بلاشبہ اللہ انسان کے لیے بڑی ہی شفقت رکھنے والا بڑی ہی رحمت والا ہے

اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کو مسخر کرنے والا ہے اور سارا نظام اسی کا قائم کردہ ہے : 65۔ (سخر) اس نے کام میں لگا دیا ‘ اس نے بس میں کردیا (تسخیر) سے جس کے معنی زبردستی کسی خاص کام میں لگا دینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب قرآن کریم میں (سخر) کا لفظ 16 بار استعمال ہوا ہے اور (المسخر) کا صرف ایک بار سوہ البقرہ کی آیت 164 میں لایا گیا ہے اس طرح (مسخرات) تین بار استعمال ہوا ہے ایک بار سورة الاعراف کی آیت 54 میں اور دو بار سورة النحل کی آیت 12 ‘ 79 میں اور یہ نشاندہی اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں بڑے اجرام سماوی اور ارضی کا نام لے کر مسخر کرنے کا بیان آیا ہے اور ماحصل ان سب کا یہ ہے کہ دنیا ومافیہا کی کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بیکار محض پیدا کیا ہو اور یہ بھی کہ جو کچھ پیدا کیا ہے سب کا سب انسان کی تسخیر میں آسکتا ہے ایک بھی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے مسخر نہ کردیا ہو۔ یہ حضرت انسان ہی ہے کہ جس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا یقینا کرلے گا اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ ستاروں پر کمندیں دال چکا ہے اور ابھی جہاں اور بھی ہیں جہاں تک اس کی رسائی ممکن ہے کائنات کے اندر جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس سب سے یہ مستفیدہو سکتا ہے بلکہ سب سے پہلا اور اول حق اس پر مسلمانوں کا ہے جو مسلمان کہلانے کے باوجود ایسے کو تہ نظر اور کو تہ اندیش ہیں کہ جو نظریات ان کے سامنے پیش کئے گئے تھے انہوں نے ان کو سن کا آن سنا کردیا اور ان کے ذریعہ سے سنائے گئے لوگوں نے ان سے فائدہ حاصل کرنا شروع کردیا ۔ زیر نظر آیت میں (سخرلکم ما فی الارض) کے الفاظ بیان ہوئے ہیں یعنی ” زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی ہیں “ اور دوسری جگہ (آیت) ” سخرلکم ما فی السموات وما فی الارض) (لقمن 31 : 20) کے الفاظ بھی بیان ہوئے ہیں یعنی ” آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی ہیں “ گویا آسمان و زمین کی ہر چن جن کو شمار کرنا چاہو تو تم شاید ہی نہ کرسکو لیکن ان میں ہرچیز کے فرمانبردار کردینے کی اطلاع دی گئی ہے ۔ اس طرح انسان کو عقل عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ پھر انسانوں اور آسمانوں و زمین کی ایک ایک چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ اور ان ساری چیزوں کو پیدا کرکے انسان کے تابع کردینے والا اللہ تعالیٰ تعجب ہے کہ انسان ان ساری چیزوں سے مستفید بھی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تسخیر سے کام بھی لے رہا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی چیز کو اس نے بھلا دیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اس کے لئے تسخیر نہ کردیا ہوتا تو یہ انسان ایک لمحہ کے لئے بھی اس دنیا میں زندہ نہ رہ سکتا تھا پھر ان ساری چیزوں میں کشتی کا ذکر کیا جو دریاؤں میں چلتی ہے کہ کشتی کی ایک ایک چیز پر غور وفکر کر کے دیکھتا جا کہ اس میں اتنے بڑے مہیب دریا میں تیرنے کی صلاحیت کس نے رکھی ؟ اور پھر یہ کہ اس پر تیرا کتنا کتنا بھاری وزن اٹھا کر ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک لے جانے کے لئے کس نے فرمانبردار کردیا ۔ کبھی غور کرکے دیکھو کہ ایک رتی وزن کی سوئی کس طرح پانی میں ڈوبتی چلی جا رہی ہے اور ٹنوں بھاری بحری جہاز سینکڑوں ٹنوں کا مزید بوجھ اٹھا کر سمندر مین کس طرح تیرتا چلا جا رہا ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ ہاں ! یہ اس قانون قدرت کے تحت ہے جس کو ہم نے ” صلاحیت “ کے ایک لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔ اس طرح انسان اگر ایک ایک چیز کو دیکھتا اور اس پر غور وفکر کرتا جائے تو وہ کبھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات سے غافل نہیں سکتا اس کے بعد آسمان و زمین کی اتنی وسعت اور اس قدر بلندی کی طرف توجہ دلائی کہ ان دونوں کو کس طرح ایک دوسرے سے جد کردیا گیا اور اتنی بلندی ان کو دی کہ وہاں سے گری ہوئی چیز اربوں سال تک بھی زمین پر نہ آسکے اور اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ اس پر فکر کرو کہ ایسا کیوں کیا گیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ۔ ” اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے بڑی ہی شفقت رکھنے والا ‘ بڑی ہی رحمت والا ہے ۔ “ فرمایا یہ انسان اور اس طرح تسخیر کائنات اس کے لئے پھر اس کی ناشکریوں کے باوجود اس سے جو درگزر کی جاتی ہے اور اس کو فورا پکڑ نہیں لیا جاتا تو یہ محض اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی شفقت ورحمت کی بدولت ہے اور دوسری طرف اس کی آزمائش بھی کہ وہ اس شفقت ورحمت سے مستفید ہو کر اس کا شکر گزار بندہ بنتا ہے یا شیطان کا کہا مان کر یہ باور کرتا ہے کہ یہ میری سائنس کی کرشمہ سازی ہے لیکن انسانوں میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو ناشکری کرنے والے ہیں ، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیاوی زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کا الحاق ایسے نظام کے ساتھ قائم ہوجائے گا جس میں ان کے لئے افسوس و حسرت اور عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ وہ مانیں یا نہ مانیں یہ بات اس طرح لازم وضروری ہے جس طرح کائنات کی تسخیر ونظام ہے جس کو انہوں نے ساری زندگی اپنا کمال سمجھا اور حقیقت حال سے آنکھیں بند ہی رکھیں ان کی مثال اس پرندہ کی سی ہے جس نے اتنی بلندیوں پر پہنچ کر ایک ذرہ تک کی چیز کو تو دیکھ لیا لیکن اتنا بڑا پھندا اس کو نظر نہ آیا نتیجہ یہ نکلا کہ اس ذرہ پر گرتے ہی وہ اس پھندے میں پھنس کر رہ گیا اور اس کی ساری آزادیاں ختم ہو کر رہ گئیں۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی وہ موت طاری کرتا ہے پھر زندہ کرے گا در اصل انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

وہی ہے جس نے تم کو زندگی بخشی اور اسی نے موت بھی لازم کردی : 66۔ آپ کا انکار کیوں اور کیسے ہے ؟ محض اس لئے کہ اس نے تم کو زندہ کیا لیکن تم اس کی عطا کردہ زندگی کا ماننے والے نہیں تمہارے زعم میں ہے کہ ہم ایسے ہی بغیر کسی کے پیدا کرنے کے پیدا ہوگئے ہیں لیکن ایسی بات ہے تو پھر تم مرتے کیوں ہو جب کہ مرنے پر تمہاری خواہش اور مرضی بھی نہیں ہوتی پھر یہی نہیں بلکہ تم مرنے سے پہلے کتنی سٹیجوں سے گزرے ‘ جوانی تک پہنچ کر گزشتہ ساری تبدیلیوں کو تم نے پس پشت ڈال دیا اور اب تم کندھوں پر تھوکنے لگے اس جوانی نے تم کو ایسا مست کیا کہ تم گزشتہ اپنی پیدائش سے لے کر جوانی تک کے ایک ایک مرحلہ کو بھول گئے لیکن اب اس جوانی کو بھی تم سنبھال نہ سکے اور آہستہ آہستہ باوجود تمہاری ساری احتیاطوں کے تم بڑھاپے کی طرف رواں دواں ہوگئے ‘ آخر کیوں ؟ اس لئے کہ بوڑھا ہونے کو تمہارا جی چاہ رہا تھا ؟ یا اس لئے نہ رکھ سکے ورنہ تم نے ایک نہیں ہزار جتن کئے کہ میں بوڑھا نہ ہوں اس کے باوجود قانون الہی کے مطابق تم ہوتے ہوتے بوڑھے ہوگئے ، اب تمہاری زندگی دوسروں کے سہارے سے وابستہ ہو کر رہ گئی اور پھر ایک دن آیا کہ تم موت کی آغوش میں چلے گئے ان سارے کاموں میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جو تمہاری مرضی کے تابع ہوا بلکہ تم اس نظام کے تابع رہ کر زندگی کے ایک ایک لمحہ کو گزارتے رہے اور اس کے باوجود کتنے ضدی اور کتنے ہی جاہل وبیوقوف ثابت ہوئے کہ اس نظام سے تم نے انکار کیا اور تم کو تعجب ہوا کہ مرنے کے بعد بھلا دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں یہ تو ایک ڈھکوسلا ہے اگر دوبارہ پیدا کیا جانا ڈھکوسلا ہے تو پہلی بار زندہ ہونا کیا ہوا ؟ تمہیں بتایا گیا تھا کہ یہ زندگی دارالعمل کی زندگی ہے اس سے نکال کر تم کو دارالجزاء کی طرف منتقل کردیا جائے گا اور پھر وہاں تم کو تمہارے سارے کئے کی جزا دی جائے گی ، تم نے اپنی پہلی زندگی کو مانا اور تسلیم کیا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے سوا تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ تم زندہ نظر آرہے تھے پھر تم نے جو کچھ کیا وہ اپنی مرضی کے مطابق کیا تم کو بتایا گیا کہ اس طرح مرضی کرنے سے کیا نقصان نہیں ہوا اگر تمہارا کہنا صحیح ہوتا تو ہمارا یقینا وہ نقصان ہوچکا ہوتا تمہیں مہلت دیئے جانے کی حکمت بتائی گئی اور دارالجزاء کو منتقل ہونے کے بعد تک تمہارے اس مطالبہ کو مؤخر کرتے رہے لیکن تم نے دارالجزاء میں پہنچنے ہی سے انکار کردیا اور اب تم کو بہرحال اس ناشکری اور ناقدری کا مزہ چکھنا ہی ہوگا تمہارے ماننے یا ناماننے سے کیا ہوتا ہے ؟ جس کو ہونا ہے اس کو تو یقینا ہونا ہی ہے ایسے انسانوں سے نفرت الہی کی صورت بھی ملاحظہ کرتے جاؤ کہ ایسے انسانوں کو مخاطب کرنے کے لئے بھی براہ راست ان سے خطاب نہیں کیا بلکہ عام لفظ سے کیا اظہار نفرت کے وقت انسان اکثر اوقات اپنے مخالف کا نام لینے کا عادی نہیں ہے ۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لیے ایک طور طریقہ ٹھہرا دیا ہے جس پر وہ چل رہے ہیں پس لوگوں کو اس معاملہ میں تجھ سے جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ، تو اپنے پروردگار کی طرف لوگوں کو دعوت دے یقینا تو ہدایت کے سیدھے راستے پر گامزن ہے

ہر امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر ہے آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے جائیں : 67۔ (منسک) کے متعلق سورة ہذا کی آیت 34 میں ذکر گزر چکا ہے اور سورة البقرہ کی آیت 200 سے 256 تک مناسک حج کا ذکر کیا جا چکا ہے وہاں پوری تفصیل کردی گئی ہے اس جگہ پر لفظ شریعت اسلامی کے قواعد و ضوابط کے لئے بیان کیا گیا ہے اور یہ بات گویا تمام امتوں اور جماعتوں کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے جو قرآن کریم کے نزول کے وقت مذہب کے نام سے معرض وجود میں آچکی تھی اور خصوصا یہود ونصاری جو بزعم خویش اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہونے کے دعویدار تھے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی مخالفت کے باعث قریش مکہ کے کان بھرتے رہتے تھے اور مناظرہ کے لئے ان کو تیار کرتے رہتے تھے بہرحال ان سب کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح ساری جماعتیں اپنی اپنی جگہ کوئی طریقہ عبادت رکھتی ہیں اگرچہ ان میں زیادہ تر وہی باتیں ہیں جو ان کی اختراعی ہیں تاہم کسی نہ کسی طریقہ پر وہ عبادت کرنے کی مدعی ہیں اس طرح اہل اسلام کے لئے بھی ہم نے ایک طریقہ عبادت مقرر کردیا ہے ۔ پھر اس میں اختلاف کر کے خواہ مخواہ کا جھگڑا کردینا کہاں کی عقل مندی ہے اور خصوصا جب کہ یہ بات اپنی جگہ واضح ہے کہ پہلے آئے ہوئے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شریعتوں اور طریقوں میں ان کے ماننے والوں نے کسی حد تک ان میں ردوبدل کردیا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ ان سب کے بعد آئے ہیں اس لئے لوگوں کی ملاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا خالص دین لوگوں تک پہنچایا اور وہ بھی اس طریقہ سے کہ کسی جماعت وفرد کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ وہ کرلیا جو صحیح تھا اور اس کو چھوڑ دیا جو صحیح نہیں تھا تاکہ کسی کاتنازع اور جھگڑا کھڑا نہ ہو بلکہ جو اس حق کو قبول کرنا چاہے وہ بخوشی کرلے اور جو نہ چاہے اس سے مناظرہ اور مباحثہ کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مناظرہ اور مباحثہ سے حق کو تسلیم نہیں کرایا جاسکتا بلکہ فریقین کے درمیان بعد اور دوری مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ہم نے اس مضمون کو سورة البقرہ کی آیت 148 اور سورة المائدہ کی آیت 48 کے تحت تفصیل سے بیان کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور آج بھی حقیقت یہی ہے قرآن کریم کے الفاظ زیر نظر آیت میں جو بیان ہوئے ہیں ان پر اچھی طرح غور کرو کہ حق کی طرف سے کبھی یہ جھگڑا پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ تو بغیر کسی جھگڑا کے بیان کیا جاتا ہے اور باطل کے پاس جب کوئی حق کا جواب نہیں ہوتا تو وہ آستیں چڑھا کر لڑنے کو آتا ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جب دونوں طرف آستینیں چڑھائی جائیں تو حق دونوں طرف نہیں ہوتا بلکہ یہ باطل کی باطل کے ساتھ ٹکر ہوتی ہے کاش کہ یہ بات آج ہم مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی سمجھ میں بھی آجائے تو کم از کم مزید تنازعات تو نہ بڑھیں جو دن رات ترقی پذیر ہیں ۔ حق پر قائم رہتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا اور باطل کے ساتھ تنازع وجھگڑا شروع کردینا دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ حق کے مطابق عمل جاری رکھو اور باطل سے الجھنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس سے اجتناب کرو اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اجتناب بیزاری کا اظہار ہے نہ کہ اظہار رواداری لیکن ہمارے مذہبی راہنماؤں کی ایسی مت ماری جا چکی ہے کہ بیزاری کو اظہار رواداری سمجھتے ہیں الجھاؤ نہ کرنے والوں کو جاہل قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جاہل نے اپنی جہالت کا کبھی اقرار نہیں کیا اگر وہ اقرار کرلے تو آخر جاہل کیوں رہے اس طرح وہ اپنی جہالت کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں حالانکہ وہ قرآن کریم کی اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو حق کے مطابق عمل جاری رکھو اور باطل سے الجھنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس سے اجتناب کرو اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اجتناب بیزاری کا اظہار ہے نہ کہ ظہارا رواداری لیکن ہمارے مذہبی راہنماؤں کی ایسی مت ماری جا چکی ہے کہ بیزاری کو اظہار رواداری سمجھتے ہیں الجھاؤ نہ کرنے والوں کو جاہل قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جاہل نے اپنی جہالت کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں حالانکہ وہ قرآن کریم کی اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو حق کے مطابق رواں دواں ہونے کی کوشش کرتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ باطل کو جھکنے پر وہ مجبور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (آیت) ” انک لعلی ھدی مستقیم “۔ ” بلاشبہ تو ہدایت کے سیدھے راستے پر گامزن ہے ۔ “ اب غور کرو کہ ہدایت کا سیدھا راستہ کیا ہوا ؟ یہی کہ کسی کے ساتھ بغیر الجھاؤ کئے راہ حق کے مطابق عملا ہدایت دیتے چلے جانا اور حق پر قائمرہنا اور عام فہم مطلب یہ ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے کہ جب فریقین میں سے دونوں ایک دوسرے کے مخالف بات کریں گے تو حق پر قائم رہنے والے فریق کمزور ہے تو دوسرا فریق اپنے طاقتور ہونے کے باعث جھگڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھا دے اور حالات اس وقت کر اب ہوجاتے ہیں جب حق بھی اپنی ایسی صورتحال کے باوجود جھگڑنے لگے اور اگر بات دوسری ہو کہ حق پر قائم رہنے والا فریق طاقت وقوت کے لحاظ سے بھی بھاری ہو تو باطل کبھی ھق کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہوگا یہ بات ہزار بار آزمائی ہوئی ہے اور سو فصدی صحیح ہے اور قرآن کریم اس کی طرف راہنمائی کر رہا ہے ، آیت کا ترجمہ ایک بار پھر غور کے ساتھ پڑھ لو فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے ہر امت کے لئے ایک طور طریقہ ٹھہرا دیا ہے جس پر وہ چل رہی ہے پس لوگوں کو اس معاملہ میں تجھ سے جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں تو اپنے پروردگار کی طرف سے لوگوں کو دعوت دے یقینا تو ہدایت کے سیدھے راستے پر گامزن ہے ۔ “ پورے مضمون پر غور کرو کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تو اپنے پروردگار کی طرف سے لوگوں کو دعوت دے ۔ “ مضمون کا سارا زور اور خلاصہ اسی فقرہ کے اندر موجود ہے ، پیغام پہنچانے والے پہنچانا ہے ‘ فقط جن کو پیغام پہنچایا جا رہا ہے وہ اس پیغام کو مانیں نہ مانیں پیغام دینے والے کی بلا سے ۔ اس طرح اب اگر وہ نہیں مانین گے تو ان کا جھگڑا کس سے ہوگا جس نے پیغام دیا یا جس نے پیغام بھیجا ؟ ظاہر ہے کہ ان کا جھگڑا پڑے گا تو اس سے جس نے پیغام بھیجا اور وہ کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو پھر وہ جانین اور ان کا اللہ ‘ پیغام دینے والے کو الجھنے کی آخر ضرورت ؟ اس کی وضاحت آنے والی آیت میں بیان کی جارہی ہے ۔
Ayah 22:68

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر لوگ تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے اللہ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جھگڑنے کی ضرورت نہیں ‘ آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا معاملہ اللہ جانتا ہے : 68۔ زیر نظر آیت گزشتہ آیت کی خود تفسیر کررہی ہے اور اس نے وہی بات ہم کو بتائی ہے جو ہم نے اوپر بیان کردی ہے فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ تو ہمارا پیغام ان تک پہنچانے والے ۔ آپ ﷺ نے ان کو پیغام پہنچا دیا ظاہر ہے کہ وہ پیغام ان کی ساری مذہبی آزادیوں اور مذہب کے نام پر بتائی ہدایتوں کے خلاف ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ مذہب کے اندر انہوں نے سوائے نام کے باقی رہنے ہی کیا دیا ہے ؟ تو وہ آپ ﷺ سے الجھنے کی کوشش کریں گے ‘ اس لئے کہ جس نے انکو پیغام بھجوایا ہے اس سے وہ الجھ نہیں سکتے اس لئے ان کو پیغام سن کر پیغام دینے والے ہی پر غصہ آئے گا اور اس غصہ کی وجہ سے ان کی مت اس طرح ماری جائے گی کہ وہ تجھ ہی سے جھگڑا کھڑا دیں گے جو دراصل انکی جہالت کے باعث ہوگا اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ بابا میں نے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچایا ہے اور وہ تمہارے معاملہ اور تمہارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے اس لئے تم کو الجھنے کا شوق ہے تو اس سے جا کر الجھو میں تو الجھنے کے لئے نہیں بھیجا گیا اور نہ کسی رسول نے آکر قوم سے کبھی الجھاؤ کیا اور نہ ہی میں الجھاؤ کے لئے تیار ہوں ۔
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

تم جن باتوں پر باہم دگر اختلاف کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر کے آشکارا کر دے گا

اللہ تعالیٰ تمہارا فیصلہ کر دے گا جس معاملہ میں تم الجھنا چاہتے ہو : 69۔ فرمایا ان مذہبی پروہتوں کا جھگڑا ایسا نہیں ہوتا جس کا کوئی حل کسی کے پاس ہو کیونکہ یہ لوگ بےدلیل جھگڑتے ہیں اور جواب ہمیشہ دلیل کا دلیل سے ہوتا ہے آپ کو جو کچھ دیا گیا وہ ایسا نہیں جو بغیر دلیل کے ہو اور ان کے پاس ایک بات بھی ایسی نہیں جس پر کوئی دلیل ہو لہذا اس کا حل ایک ہی ہے کہ ان سے صاف صاف الفاظ میں یہ بات کہہ دے کہ تمہارے اس اختلاف کا جو تم حق کے خلاف کرتے ہو فیصلہ فیصلہ قیامت کے روز خود رب ذوالجلال والاکرام ہی کرے گا ۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے وہ خوب واقف ہے ، کوئی اس سے یہ نہ سمجھ لے کہ دنیا میں اللہ ان کا فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ‘ ہرگز نہیں بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حق کے ماننے اور تسلیم کرنے یا حق کو رد کردینے اور نہ ماننے کا اختیار دیا ہے اور یہ اختیار بھی اس نے اضطرارا نہیں بلکہ اختیارا دیا ہے اگر وہ ان کو حق کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دے تو کیونکر اور کیسے کر دے اس لئے جو آزادی اس نے دی ہے اس کی حد بھی اس نے دنیوی زندگی کے خاتمہ تک دے رکھی ہے جس اختیار کو اس نے دیا اس کو سلب کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے یہ ان ہی کے اختیار کا معاملہ ہے وہ چاہیں تو عقل وفکر سے کام لے کر حقیقت کو تسلیم کرلیں اور چاہیں تو اپنی جہالت پر قائم رہتے ہوئے اپنے رسم و رواج پر ڈٹے رہیں آپ ان سے فرما دیں کے تم اپنا کام کئے جاؤ اور ہم اپنا کئے جا رہے ہیں فیصلے کا دن آئے گا تو یقینا فیصلہ ہوجائے گا جس کا آنا نہایت حد تک یقینی ہے ۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ پر سب کچھ روشن ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے ؟ یہ ساری باتیں نوشتہ میں ضبط ہیں اور ایسا کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں

اللہ تعالیٰ ہر بات سے واقف ہے اور اس کے علم میں ہرچیز موجود ہے : 70۔ (الم تعلم) کا لفظ تیسری بار اس سورت میں آیا ہے اور ہم پیچھے اس کے متعلق عرض کرچکے ہیں کہ بظاہر خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے لیکن اس کا لفظ لفظ شہادت پیش کر رہا ہے کہ اس کا رخ تمام ترمخالفین کی طرف ہے جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان شروع سے چلا آرہا ہے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا مخاطب کر کے آپ ﷺ کے مخالفین سے اکثر بات کرتا ہے اور یہ بات عام انسانوں کی بول چال میں داخل ہے کہ وہ بعض اوقات مخاطب ” ا “ کو کرتا ہے اور بات ” ب “ سے اور یہ صورت حال اکثر اس وقت پیش آتی ہے جب وہ اپنے مخالفین کو بات پہنچانا چاہتا ہے اس طرح گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ پر سب کچھ روشن ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ؟ پھر جب کوئی جاگنے کے باوجود سویا ہو اس کو کون جگائے ؟ یہ جو کچھ کر رہے ہیں جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر کر رہے ہیں اندریں وجہ اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو وہی ان سے نمٹے گا اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ کوئی آوارہ بات یا دھمکی نہیں ہے بلکہ عنقریب ہم ان کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دکھائیں گے ۔ ان کی ایک ایک فرد کی الگ الگ فائل تیار کی جا رہی ہو ” ساری باتیں نوشتہ میں درج کرنا اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں ہے ۔ “ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ” لوح محفوظ “ سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے کیونکہ اس کی حقیقت اس دنیا انسان کے مشاہدہ میں نہیں آسکتی تاہم مثالوں سے اس کو سمجھنا ممکن ہے جیسے آج کل جب کہ ٹیلی ویژن ‘ ٹیلی فون اور وائرلیس جیسی چیزیں ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہیں ۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جن کے لیے نہ تو اس نے کوئی سند اتاری اور نہ ان کے پاس علم کی کوئی روشنی ہے اور بےانصافوں کو مدد کا کوئی سہارا نہیں مل سکتا

اللہ تعالیٰ کے سوا یہ لوگ جن کو حاجت روا سمجھتے ہیں اس پر وہ کوئی دلیل نہیں رکھتے : 71۔ آج جن معبود ان کی عبادت سے روکا جا رہا ہے کیا اس سے پہلے کبھی اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کرنے کا انکو کہا تھا ؟ اگر کہا تھا تو یہ لوگ اس کی دلیل پیش کردیں اے پیغمبر آج آپ ﷺ جن بزرگوں کے بتوں ‘ قبروں ‘ اور شہیدوں کی پرستش سے ہم کو روک رہے ہیں ان کی پرستش سے ہم کو روک رہے ہیں ان کی پرستش کا یہ سرٹیفکیٹ ‘ یہ دلیل ہمارے پاس موجود ہے اور اگر ایسی کوئی بات موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے تو پھر یہ لوگ خواہ مخواہ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو کیوں ٹھکرا رہے ہیں ؟ کیا یہ بات کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے آئے ہیں ‘ یہ دلیل ہے ؟ دلیل تو اس بات کا نام تھا کہ وہ تورات کو اللہ کی کتاب مانتے اور بیان کرتے اور ان کا ایک گروہ نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی ہدایت انجیل کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور مشرکین مکہ صحائف ابراہیمی کا ذکر کرتے رہتے ہیں پھر ان کتابوں کو بطور حجت یہ لوگ پیش کرتے اور اے پیغمبر اسلام ! ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ آپ ﷺ کو اللہ کی کتاب کہتے ہیں اور ہم اس سے پہلی کی آئی ہوئی کتابوں کو اللہ کی نازل کردہ کتب تسلیم کرتے ہیں جب کہ ہماری ان کتابوں میں جب بات کا حکم دیا گیا ہے قرآن کریم اس سے روک رہا ہے پھر ہم کیسے مان لیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز سے قرآن کریم نے ان کو روکا اور منع کیا ہے اسی چیز سے قبل ازیں تورات وانجیل بھی ان کو روک چکی ہیں اور اس طرح قرآن کریم کی اس تعلیم کو رد کر کے یہ دوہرے تہرے مجرم بنے ہیں ایک قرآن کریم کے حکم کے باعث یہ لوگ مجرم قرار پائے اور ایک تورات یا انجیل کے باعث اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ ان دوہرے مجرموں کو دوہرا تہرا عذاب دیا جانا ضروری ہے اور وقت آنے پر یہی ہوگا کہ ان کی ان کارستانیوں کے باعث کہ کہیں قبروں اور آستانوں پر جبہ فرسائیاں ہو رہی ہیں ‘ کہیں دعائیں مانگی جارہی ہیں ‘ کہیں چڑھاوے چڑھائے جا رہے ہیں ۔ کہیں منتیں مانی جا رہی ہیں تو کہیں طواف کئے جا رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ شرک ہی تو ہے جو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی دھڑا دھڑ کیا جا رہا ہے اور اس وقت کی حالت اس وقت کی حالت سے زیادہ بدتر ہوچکی ہے اور تعجب پر تعجب یہ کہ جس بات پر بیشمار اور ان گنت دلیلیں قائم ہیں اس کو کوئی کرنے کے لئے تیار نہیں اور جس بات پر کوئی دلیل قائم ہی نہیں کی جاسکتی اس کو اس وقت بھی کیا جارہا تھا اور آج بھی کیا جا رہا ہے ۔ ایک بات مزید کان کھول کر سن لو ‘ وہ یہ کہ جس غرض وغایت کے لئے یہ لوگ من دون اللہ کی حدود کے شیدائی ہیں وہ بھی ان کو حاصل نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب کے سب اس وقت بےبس ہو گے اور ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہوگا ۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب انہیں ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کفر ہے ان کے چہروں پر ناپسندیدگی ابھرتی ہوئی دیکھ کر تم پہچان لیتے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مارے ناپسندیدگی کے یہ پڑھنے والوں پر حملہ کر بیٹھیں گے تو کہہ دے کیا میں تمہیں اس سے بھی ایک بدتر صورتحال کی خبر دوں ؟ آگ کے شعلے ! جس کا اللہ نے منکروں کے لیے وعدہ کیا ہے اور جس کا ٹھکانا یہ ہوا تو کیا ہی برا ٹھکانا ہے

جب ان لوگوں پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں : 72۔ مشرکین ومعاندین کے پاس دلیل تو ہے نہیں کہ وہ پیش کردیں پھر جب ان کے بےدلیل نظریات عقائد کی تردید میں آیات بینات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے ان پر نظر ڈالو تو غصہ سے وہ لال پیلے ہوتے ہیں اور آنکھیں ہیں کہ پھٹی جا رہی ہوتی ہیں ایسے جیسے ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے اگر ان کے بس میں ہو تو وہ آیات بینات پڑھ کر سنانے والوں کو یکبارگی حملہ سے ہلاک کرکے رکھ دیں ، فرمایا یہ تو ان کی ظاہری حالت ہے جس سے ان کو نکالا نہیں جاسکتا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا باعث ان کی جہالت ہے کیا کسی کی جہالت کو فورا علم میں بدلا جاسکتا ہے ؟ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اے مخاطب ! آپ ان سے کہئے کیا میں تم کو اس سے بدتر چیز کی خبر دوں ؟ وہ تمہارے اس غیظ وغضب سے بدتر چیز آگ ہے جو بلاشبہ تمہارے اس غضب کا نتیجہ ہے فورا سنا دیا جاتا ہے اور ایسے کھلے کفر کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ طے کی جا چکا ہے جس کی خبر تم کو دی جا رہی ہے جس کی خبر تم کو دی جا رہی ہے کہ وہ ایسا ٹھکانا ہے جس سے برا ٹھکانا اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس جگہ (المنکر) سے مراد وہ حالت ہے کا اظہار حق سننے کے بعد معاندین ومنکرین کے چہروں سے ہوتا اور (یسطون) کا مادہ س ط و ہے سطا یسطو سطوا کے معنی ہیں اچانک یکبارگی حملہ کردینا جس کو ہماری زبان میں ” پل پڑنا “ کے الفاظ سے موسوم کیا جاتا ہے ، یہ انکی اس حالت کا بیان ہے جس حالت میں وہ یکبارگی حملہ کرسکتے ہیں اگر وہ کرسکیں ۔ (النار) سے مراد آگ دوزخ ہی ہے جو ان کے غیظ وغضب کا نتیجہ ہے اور کسی کو آگ میں جلانے سے مراد غصہ میں مبتلا کرنا ہے اور اس سے ” آگ بننا “ ” آگ پر لٹکانا “ ” آگ میں ڈالنا “ او ” آگ میں آگ لگانا “ کے محاورات عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں ۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ! ایک مثال سنائی جاتی ہے غور سے سنو اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو انہوں نے ایک مکھی تک پیدا نہیں کی ، اگر یہ تمہارے سارے معبود اکٹھے ہو کر زور لگائیں جب بھی پیدا نہ کرسکیں اور اگر ایک مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو ان میں قدرت نہیں کہ اس سے چھڑا لیں تو طلب گار بھی یہاں درماندہ ہے اور طالب بھی

عام انسانوں سے خطاب کہ ایک مثال کان کھول کر سن لو اور سبق حاصل کرو : 73۔ ” ضرب المثل “ کے معنی مثال بیان کرنے کے ہیں (ضرب اللہ مثلا) کے معنی ہیں اللہ نے مثال بیان کی ہے اور ” مثال “ کا لفظ نظیر ‘ مثل ‘ مانند ‘ تصویر ‘ صورت ‘ نمونہ ‘ تمثال ‘ کہانی ‘ حکایت ‘ کہاوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یسلبھم) کا مادہ س ل ب ہے اور ” سلب “ غالب ہو کر کسی چیز کے حاصل کرنے کو کہتے ہیں ، واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بالشرط (سلب) مصدر (باب نصر) سے ہم ضمیر مفعول ” ان سے چھین لے “ غیر اللہ کو حاجت روا ‘ مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے سمجھنے والوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اے مشرکین تم تو (من دون اللہ ) کا نام سنتے ہی آگ بگولا ہوجاتے ہو اور تمہاری مت اس طرح ماری جاتی ہے کہ تم کچھ سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے ہم تم کو بہرحال دعوت دینے کے لئے آئے ہیں اور اپنا فرض ادا کریں گے اتنے جز بز نہ ہو ہم تم کو ایک مثال سناتے ہیں تم ذرا دھیان سے سنو آؤ تم کو تمہارے ان معبودوں کی بےبسی کی بات سنائیں یہ تمہارے سارے بزرگ جن کے تم نے اپنے اپنے رواج کے مطابق بت ‘ قبریں تصویریں اور شبیہیں بنا رکھی ہیں ان میں اتنی صلاحیت طاقت وقوت بھی نہیں کہ وہ ایک مکھی یا اس بھی کوئی حقیر چیز پیدا کرسکیں حالانکہ تم ہو کہ ان سے بیٹے ‘ بیٹیاں طلب کرتے ہو وہ بھی اس وقت جب تم اللہ کی طرف سے مایوس ہونے لگتے ہو جس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ تم نے ان کو اللہ سے زیادہ طاقتور سمجھ رکھا ہے اس لئے تم ان کے سامنے اپنی عرضیاں پیش کر رہے ہو کہ یہ تم کو خود عطا کریں یا اللہ سے لے کردیں جبکہ تم اللہ سے براہ راست حاصل کرنے سے مایوس ہو۔ حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سارے مل کر بھی ایک مکھی جیسی حقیر چیز کو پیدا نہیں کرسکتے ۔ اچھا آؤ ہم تم کو بتائیں کہ مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی کوئی چیز اٹھا کر بھاگ نکلے یعنی اڑ جائے تو ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس مکھی سے لے اڑنے والی چیز کو واپس حاصل کرلے ، نہیں ایک تو خیر ایک ہے اگر یہ سب مل کر بھی اس مکھی سے وہ چیز واپس لینا چاہیں تو نہیں لے سکتے ، تف ہے تم پر کہ تم ایسوں کو اپنا حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا تصور کئے بیٹھے ہو ، تعجب ہے تم پر تم کسی کے متعلق تو کہتے ہیں کہ وہ مردے زندہ کرتا ہے ‘ کسی کے متعلق کہتے ہو وہ بیٹے دیتا ہے ‘ کسی کے متعلق کہتے ہو کہ وہ اولوں کو برسنے سے روکتا ہے اور کسی کے متعلق تمہارا خیال ہے کہ وہ زندگی عطا کرتا ہے اور اس طرح تم نے مختلف ضرورتوں اور حاجتوں کے لئے معبود والہ بنا رکھے ہیں ، یہ سارے کے سارے اپنی زندگیوں میں کیسی کیسی مصیبتوں میں مبتلا ہوتے رہے اور کتنی کتنی مشکلوں میں پڑے لیکن وہ اپنی کسی مصیبت اور کسی مشکل کو بھی ٹال نہ سکے بلکہ وہ اپنے مالک حقیقی ہی سے سب کچھ طلب کرتے رہے لیکن تم ہو کہ آج ان کے مرنے کے بعد ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے اور تم نے ذرا خیال نہ کیا کہ اگر وہ اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے تو آخر مرتے کیوں ؟ حالانکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے خادموں ‘ نوکروں ‘ مریدوں نے ان سب کو اپنے ہاتھوں نہلایا دھلایا ‘ کفن پہنائے پھر اپنے مذہبی رواج کے مطابق قبر میں گاڑا یا آگ لگا کر جلا دیا وہ خود اپنے لئے کچھ بھی نہ کرسکے لیکن آج ان کے مرنے کے ہزاروں ‘ سینکڑوں ‘ بیسیوں سال گزرنے کے بعد وہ تمہارے حاجت روا اور مشکل کشا ہوگئے کیوں ؟ اور کیسے ؟ عقل کے ناخن لو اور بات کو سمجھنے کی کوشش کرو وہ کام جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے کرنے کے ہیں وہ وہی کرسکتا ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جو کرسکے اور نہ ہی وہ ایسے کاموں کے کرنے کے لئے کسی کو اذن دیتا ہے ، تم جن سے ضعف وناتوانی کا مداوا چاہتے ہو اور اپنی نادانی اور ناسمجھی کی بنا پر جن کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہو اور وہ سارے کے سارے عاجز وناتواں ہیں اور اس طرح گویا تمہاری حالت یہ ہے کہ تمہارے عابد و معبود سب ایک دوسرے سے زیادہ ضعیف وکمزور ٹھہرتے ہیں ، طالب ومطلوب سے مراد عبادت کرنے والا اور غیر اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت کی جائے وہ ہے اور اس کو مرید اور پیر ‘ مسترشد اور مرشد ‘ چیلا اور گرو کے الفاظ سے بھی موسوم کیا جاسکتا ہے کہ ” طالب “ مرید ‘ مسترشد اور چیلا ہے اور مطلوب پیر ‘ مرشد اور گرو۔ بلاشبہ ہمارے مفسرین نے اس جگہ ” بت “ ہی مراد لئے ہیں لیکن یہ بات عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ اس سے مراد فقط بت ہی لئے جائیں کیونکہ بت بذاتہ کوئی چیز نہیں بلکہ وہ نیک لوگ ہی تھے خواہ وہ حقیقت میں نیک تھے یا نیک سمجھ لئے گئے تھے بہرحال وہ اپنے اپنے زمانہ میں مذہبی طور پر عزت واحترام سے دیکھے گئے لوگ تھے جب وہ وفات پاگئے تو ان کے معتقدین نے ان کو یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ان کے ناموں سے بت تراش لئے جو ان کے جسموں کے قائم مقام قرار پائے اور پھر حالات زمانہ کے تحت کبھی وہ بت پتھر سے تراشے گئے ‘ کبھی سونے چاندی سے اور آج کل وہ بتوں کی بجائے قبروں ‘ مقبروں اور خانقاہوں کے نام سے یاد کئے جانے لگے اور یہ بات بھی پیچھے بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ پرستش کرنے والوں نے کبھی فی نفسہ بت ‘ قبر ‘ مقبرہ یا شبیہہ کی پرستش نہیں کی بلکہ صاحب بت ‘ صاحب قبر ‘ صاحب مقبرہ ‘ صاحب شبیہہ ہی کی پرستش کی ہے اور اس کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا ہے اس کی وضاحت آیت 75 نے بھی کردی ہے جو آگے آرہی ہے ۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

اللہ کے مقام کی جو عزت کرنی تھی یہ نہ کرسکے وہ تو سر تا سر قوت ہے ، سب پر غالب

ان ناقدروں نے اللہ کی قدر نہیں جانی جیسا کہ قدر جاننے کا حق تھا : 74۔ فرمایا ان لوگوں کی عقل کا جنازہ تو اس وقت نکل گیا جب انہوں نے خالق و مخلوق کو ایک مقام پر لا کر کھڑا کیا حالانکہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جب کہ وہ خود بھی مالک اور مملوک دونوں کو ایک جیسا تصور نہیں کرتے حالانکہ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور میں آیا اس کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے کیونک حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار عقل وفکر اور خیال تک اس کی کہنہ و حقیقت کو نہیں پاسکتے اس کی بہترین تفسیر نبی اعظم وآخر ﷺ کی وہ دعا ہے جس کے الفاظ امام احمد (رح) نے مسند میں امام مسلم (رح) نے صحیح مسلم میں ‘ امام ابو عیسیٰ (علیہ السلام) (رح) نے ترمذی میں اور امام بیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اپنی کتاب بیہقی میں اور حافظ ابو یعلی نے اپنی مسند میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے نقل کئے ہیں کہ : انت الاول فلیس قبلک شیء تو ہی پہلا ہے کوئی تجھ سے پہلے نہیں ۔ انت الاخر فلیس بعدک شیء تو ہی آخر ہے کوئی تیرے بعد نہیں ۔ انت الظاھر فلیس دونک شیء تو ہی ظاہر ہے کوئی تجھ سے اوپر نہیں ۔ انت الباطن فلیس دونک شیء تو ہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔ کسی کو یہ شبہ لاحق نہ ہو کہ قرآن کریم نے اہل جنت کے لئے جنت کی زندگی اور اہل دوزخ کے لئے دوزخ کی زندگی کے لئے ہمیشگی اور ابدی ہونے کا ذکر کیا ہے پھر یہ بات کیسے صادق آئی کہ وہ ہی ذات ہے جو آخر میں رہے گی ۔ جب ایک بار (کل شیء ھالک الا وجھہ) (القصص 28 : 88) ” ہرچیز فانی ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا “ جب ایک بار موت سب کی ہوگئی مگر اللہ کی ذات کے سوا تو پھر یہ آخر رہنے والی بات واضح ہوگئی اس میں کسی طرح کا کوئی اضطراب نہ رہا اور آنے والی زندگی بھی اس کی عطا کردہ ہے جو جنتی اور دوزخی گروہوں کے اختیار میں نہیں ورنہ دوزخی کبھی زندہ نہ رہتے اور نہ ہی وہ کبھی زندہ رہنے کے لئے تیار ہوں گے لیکن اس کے باوجود وہ مر نہیں سکیں گے جس سے ان کی بےاختیاری روز روشن کی طرح واضح ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب پر غالب اور سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے اس لئے وہی معبودیت والوہیت کا مستحق ہے ۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ نے فرشتوں میں سے بعض کو پیام رسانی کے لیے برگزیدہ کرلیا اس طرح بعض انسانوں کو بھی ، بلاشبہ اللہ ہی سننے والا ، دیکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے جس کو چاہتا ہے رسول چن لیتا ہے : 75۔ اس آیت نے گزشتہ آیت 73 کی ساری پوزیشن واضح کردی کہ لوگوں نے انسانوں میں رسولوں ‘ نبیوں اور نیک لوگوں کی پرستش کی تھی اور اس طرح بعض نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کو اپنا سفارشی ‘ حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا تھا لہذا دونوں کی نفی فرما دی کہ نہ تو کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی الوہیت ومعبودیت میں اس کا شریک ہے اور نہ ہی فرشتوں میں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے پسند کرلیتا ہے ۔ اس لئے نہ تو ان کے نبیوں ‘ رسولوں اور دوسروں نیک بندوں میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ ہی فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں بلکہ دونوں گروہ اس کے بندے ہیں اور دونوں ہی گروہ اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اپنا خالق و معبود مانتے ہیں ، یہ جاہلوں اور بیوقوفوں کی جہالت اور بیوقوفی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو بھی کسی کو اس کا بیٹا قرار دے کر کسی کو اس کی بیٹی قرار دے کر اور کسی کو ولی سمجھ کر اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں حالانکہ ایسا کرنے اور ایسا سمجھنے کا ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ غور کیجئے کہ اس جگہ انسانوں اور فرشتوں کو رسول بنانے کا مضمون توحید الہی کے بعد بیان کیا اس لئے کہ انسانوں اور فرشتوں کو معبود الہ تسلیم کیا گیا تھا اس لئے ان ایسا تسلیم کرنے والوں کو باور کرایا کہ یہ تو اس کے برگزیدہ بندے ہیں تم نے ان کو ان کے اصل مرتبہ سے اٹھا کر خدائی کے مرتبہ پر کیسے بٹھا دیا کیا خالق و مخلوق کو ایک درجہ پر رکھا جاسکتا ہے ؟ زیر نظر آیت میں انسانوں کو رسول بنائے جانے کا ذکر کر کے یہ بھی ثابت کردیا کہ رسالت کے لئے پسند کئے گئے لوگ دو ہی طرح کے تھے ایک انسان اور دوسرے فرشتے اور تیسری کسی مخلوق کو اللہ نے رسالت کا مستحق نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہو سکتا تھا ، یہ ان لوگوں کے لئے ایک زبردست کوڑا ہے جو رسولوں کی بشریت سے انکاری ہیں اور بڑی دیدہ دلیری سے یہ تحریر کرتے ہیں کہ ” فرشتے محمد رسول اللہ ﷺ کے نور سے پیدا ہوئے کیونکہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہرچیز میرے ہی نور سے پیدا فرمائی ۔ “ (مجموعہ رسائل ج اول ص 37) ” عالم نور محمدی ﷺ کا ابتدائے وجود میں محتاج تھا کہ وہ نہ ہوتا تو کچھ نہ بنتا ‘ یوں ہی ہر شے اپنی بقا میں اس کی دست گر ہے آج اس کا قدم درمیان سے نکال لیں تو عالم دفعتا فنائے محض ہوجائے وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو ۔ “ (مجموعہ رسائل ج اول ص 37) ” اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے ۔ “ (تفسیر مفتی محمد نعیم الدین) سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ رسول کو بشر کہنے والے ” ایسے فریبی ‘ مکار اور ایسے احمق بھی موجود ہیں ۔ “ (ایضا) لیکن حق حق ہے اور باطل باطل اس طرح تحریر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ نے زیر نظر آیت کی تفسیر میں یہ تحریر کروا دیا کہ ” یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ مالک ہے وہ جسے چاہے اپنا رسول بنائے وہ انسانوں میں سے بھی رسول بناتا ہے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سید عالم صلوۃ اللہ تعالیٰ علیہم وسلامہ “ (تفسیر نعیمی تفسیر سورة الحج آیت 75 ص 493) اب عبارت کے دونوں حصوں کو قریب کرکے ایک بار پھر پڑھ لو اور فیصلہ خود کرلو کہ حقیقت کیا ہے چناچہ تحریر ہے کہ ” اس لئے قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا ہے “ اور دوسری عبارت یہ ہے کہ ” یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا “ گویا جو رسول کو بشر کہے وہ کافر ہے اور جو رسول کو بشر نہ کہے وہ بھی کافر ہے تو مسلمان کون ہے ؟ یہ فیصلہ آپ خود کرلیں یا مفتی محمد نعیم الدین مرحوم کے روحانی اور حقیقی وارثوں سے پوچھ لیں ہم کچھ کہیں گے تو شاید وہ صحیح نہ ہو اور وہ ہم کو وہابی کہہ کر ہماری بات کا گلا گھونٹ دیں گے ، ارشاد الہی کو ایک بار پھر سن لو کہ ” اللہ نے فرشتوں میں سے بعض کو پیام رسانی کے لئے برگزیدہ کرلیا اور اس طرح بعض انسانوں کو بھی بلاشبہ اللہ ہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔ “ اس کو معلوم ہے کون کیا کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے ؟
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ انہیں پیش آنے والا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر چکا اور ساری باتوں کا آخری سر رشتہ اس کے ہاتھ میں ہے

اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے : 76۔ یہ ماضی ‘ حال ‘ اور مستقبل کا استعمال انسانوں کے حق میں ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے سب کچھ حال ہی حال ہے لہذا وہ سب کے متعلق خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا ماضی کیسا تھا ‘ حال کیسا ہے اور مستقبل کیسا ہوگا ؟ گویا انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوں یا فرشتے جیسا کہ گزشتہ آیت میں ان دونوں فریقوں کا ذکر گزرا ان سب کے آگے اور پیچھے سے وہ خوب واقف ہے اور سب کچھ اس کے احاطہ علم میں ہے اس لئے نہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی قول وفعل اللہ تعالیٰ کی نگرانی سے بالاتر ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کے حق میں اللہ تعالیٰ سے یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ یہ ہمیں ماننے ‘ پکارنے اور سوارنے والا ہے اس سے آپ درگزر فرما دیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی نہیں جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر حاوی ہو ، سارے کام براہ راست اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور فرشتے ہوں یا انبیاء کرام (علیہ السلام) سب کی ایک ایک حرکت سے وہ واقف ہے اور یہ سب اس کے متعلق اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا کہ اس نے انکو عطا کیا ہے وہی ہے جو ان سب کا خالق ہے اور جس جس کام و خدمت پر اس نے ان سب کو لگایا ہے وہ اپنا اپنا کام اس کے حکم کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں اور سرمو اس سے انحراف نہیں کرتے اور وہی ذات سب سے ارفع واعلیٰ ہے جس کے حضور سب کام لوٹتے ہیں ۔ فرشتے کیا ہیں ؟ اس کے متعلق ہم پیچھے سورة البقرہ کی آیت 30 میں بیان کرچکے ہیں اور نبوت و رسالت کا عہدہ انسانیت کی تکمیل کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کیا جا چکا ہے اور اس کی وضاحت بھی گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ۔