Ayah 22:25کفر پر قائم رہ کر بیت اللہ سے روکنے اور شرک کرنے کی پاداش میں عذاب الہی :
25۔ کفر پر قائم رہ کر بیت اللہ سے کن لوگوں نے روکا ؟ مشرکین مکہ نے کن کو روکا ؟ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو ‘ پوری دنیا میں سے بیت اللہ کو ‘ بیت اللہ ماننے والوں میں سے قریش مکہ نے مسلمانوں کو روک دیا کہ تم حج اور عمرہ ادا نہیں کرسکتے حالانکہ مکہ والوں کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی جس دلیل سے وہ مسلمانوں کو حج بیت اللہ ادا کرنے سے روک دیتے ، بلاشبہ مسلمانوں اور کفار مکہ میں جنگ جاری تھی لیکن ان کے اپنے قانون کے مطابق حج کے مہینوں کو حرمت کے مہینے قرار دیا گیا تھا اور وہ ان مہینوں میں جنگ بند کردیتے تھے اور اسلام نے بھی ان کے اس قانون کو روز اول ہی سے قبول کرلیا تھا اور نہ ہی مسلمانوں نے کبھی اس کے خلاف کیا بات صرف وہی تھی کہ وہ اپنا زور جتا رہے تھے کہ ہم اتنے طاقتور ہیں جس کو چاہیں حج کے لئے آنے دیں اور جس کو چاہیں حج سے روک دیں اور واضح ہے کہ دھونس ‘ دھاندلی کسی قانون کی پابندی کا نام نہیں ہے بلکہ قانون شکنی کا نام ہے ، بہرحال وہ تو قریش مکہ تھے اور جن لوگوں کو انہوں نے روکا تھا زیادہ دیر نہ لگی کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی نگرانی کا فرض ہی ان کو سونپ دیا اور اس طرح اس کا فیصلہ کردیا گیا لیکن قرآن کریم کی یہ آیت اور اس کا حکم تو آج تک قائم ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا ۔
اور اس میں پہلے اس بات کو معلوم کرنا ہوگا کہ (مسجد الحرام) سے مراد کیا ہے ؟ بیت اللہ یا پورا حرم مکہ ؟ اور یہ بھی کہ حرم مکہ کی حدود کیا ہیں ؟ ان تینوں سوالوں میں جو اختلاف کئے گئے ہیں وہ اس قدر ہیں کہ اگر ان کا بیان شروع کردیا جائے تو ایک جلد مکمل ہوجائے کیونکہ جہاں اختلاف بتایا جائے گا وہاں اس کا سبب اور پھر اس کا حل بھی پیش کرنا ہوگا ورنہ قارئین میں کئی شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اس لئے ہم ان کو بیان کرنے سے معذرت کرتے ہیں ۔ لیکن اتنا عرض کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری تفہیم میں ” مسجد الحرام “ جو اس وقت تھی اور اس میں توسیع ہونے کے بعد جو اس وقت ہے اور مزید تو سیع ہو کر جتنی ہوجائے گی وہ اور وہاں سے نکلنے کے وہ سارے راستے جو اس وقت تھے اب ہیں یا جو جو راستے بنتے جائیں گے سب منی اپنی حدود کے اندر ‘ مزدلفہ اپنی حدود کے اندر اور عرفات اپنی حدود کے اندر سب کے سب ” مسجد الحرام “ کے بعض احکام میں داخل ہیں اور بعض احکام میں صرف ” مسجدالحرام “ اپنی توسیع کے ساتھ داخل ہے اور اسی طرح بعض احکام میں پورا حرم مکہ داخل ہے اور اس کی حدود وہی ہیں جو اس وقت تھیں یا اس وقت جس کو ہم دیکھ سکتے اور معلوم کرسکتے ہیں ۔ مثلا طواف ‘ اعتکاف اور سعی وغیرہ کا ذکر آئے گا تو اس کے ساتھ ” بیت اللہ “ اپنی حدود توسیع کے ساتھ جس میں صفاومروہ بھی آچکا ہے سارے کا سارا ” مسجدالحرام “ ہوگا پورا حرم کہ اس مقصد کے لئے نہیں ہے اور حج وعمرہ ادا کرنے والوں کے لئے ” بیت اللہ “ اپنی حدود وتوسیع کے ساتھ ‘ راستے جن راستوں سے منی وغیرہ کی طرف جائیں گے خواہ وہ پرانے ہوں یا نئے ‘ اسی طرح مزدلفہ اپنی حدود کے ساتھ اور عرفات کا میدان اپنی حدود و توسیع کے ساتھ ” مسجد الحرام “ کے حکم میں داخل ہوں گے ۔ شکار اور حالات جنگ کا وقت آئے گا تو مکمل حدود مکہ ” مسجد الحرام “ کے حکم میں داخل ہوگا اور یہی وہ صورت ہے جس سے ان سب اختلافات کا حل ممکن ہے جو اس سلسلہ میں کئے گئے ہیں ۔ لیکن تفصیلات بیت اللہ کے تعمیر کرنے کا حکم دیا تو ان کو فکر لاحق ہوئی کہ کونسی وہ مخصوص جگہ ہو جہاں بیت اللہ تعمیر کیا جائے تو ہم نے ان کو اس مخصوص جگہ پر مطلع کردیا اور آپ نے اپنے فرزند ارجمند سیدنااسمعیل (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی تعمیر کی اور اس کی تفصیل سورة البقرہ کی آیا 124 تا 131 میں بیان کی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 22:26زیر نظر آیت میں غرض وغایت تعمیر بیت اللہ بیان کی گئی ہے کہ یہ گھر اس لئے تعمیر کرایا جا رہا ہے کہ یہاں شرک کی قطعا ممانعت کردی جائے گویا شرک کی ممانعت کا مرکز بیت اللہ کو قرار دیا گیا کہ نہ اس کے اندر شرک ہو نہ اس کے قرب و جوار میں اور پھر یہاں سے وہ لوگ تیار ہو کر نکلیں جو شرک کی روک تھام کے لئے کام کریں اور جب تک دنیا کا سلسلہ قائم ہے اس وقت تک بدستور یہ سلسلہ قائم رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو اپنی طرف نسبت دی کہ میرے گھر کو صاف ستھرا رکھنا ‘ ظاہری ناپاکیوں سے بھی اور باطنی ناپاکیوں سے بھی ہر جگہ کا طواف بند کردیا گیا اور طواف کے لئے سڑف یہی ایک جگہ مقرر کردی گئی اور یہاں آنے والوں کے لئے لازم کردیا گیا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں بیت اللہ میں قیام کریں اور رکوع و سجود کریں ۔ گویا یہ گھر صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لئے بنایا جا رہا ہے یہاں غیر اللہ کی عبادت کو ہرگز ہرگز روا نہیں رکھا جاسکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس جگہ کے علاوہ جتنا چاہیں شرک کریں ‘ نہیں شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ سب نیکیوں کو برباد کردیتا ہے اس لئے ہر جگہ اس کی ممانعت ہے نیز زیر نظر آیت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ میرا گھر ہے کیونکہ میرے انوار کی تجلی گاہ ہے اس لئے اس کی ظاہری صفائی کا بھی پورا اہتمام کیا جائے اور باطنی صفائی کا بھی پورا پورا اہتمام رکھا جائے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ کیا ملا ؟ کیوں ملا ؟ اس پر عمل کیسا رہا ؟ نتیجہ کیا نکلا ؟ اس کے ذکر کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ ان سارے سوالوں کی تفصیل مع شے زائد آپ کو سورة البقرہ کی آیت 124 تا 131 ص 496 تا 544 ملے گی وہاں سے ملاحظہ کریں۔
مختصر یوں سمجھئے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے والد سے جداہو کر وہاں سے ہجرت کرکے مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے اور دین حنیف کی تبلیغ کرتے ہوئے کنعان آکر مقیم ہوگئے اور معمر ہوچکے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے اسمعیل کی بشارت سنائی آپ کا یہ مبشر بیٹا پیدا ہوا اور دس بارہ برس عمر ہوئی ہوگی کہ اللہ نے سارہ سے بھی بیٹا پیدا ہونے کی خوشخبری دے دی جب سارہ کے ہاں اسحاق پیدا ہوگئے تو آپ کی دونوں بیویوں میں رقابت پیدا ہوگئی جو ایک فطری امر تھا ۔ ادھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں اشارہ دیا کہ اسمعیل (علیہ السلام) کی قربانی پیش کرو ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس اشارہ کا ذکر اپنے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) سے کیا تو بیٹے نے عرض کی جو آپ کو حکم ملا ہے اس کی تکمیل کیجئے اور میری طرف سے مطمئن رہئے میں ہر لحاظ سے فرمانبردار ہوں اس خواب کی ظاہری تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسمعیل (علیہ السلام) کے ذبیح ہونے کی اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا کہ اسمعیل (علیہ السلام) کا ذبیح ہونا بیت اللہ کے قریب لے جا کر اس غیر ذی زرع وادی میں آباد کرنا ہے چناچہ حکم الہی کی اس تعمیل میں اسمعیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے قریب لا بسایا زیر نظر آیت میں اس کا ذکر فرمایا گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو نئے سرے سے تعمیر کا حکم دیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ۔
Ayah 22:27بیت اللہ کی تعمیر کے بعد وہاں مراسم حج ادا کرنے کے اعلان کا حکم الہی :
27۔ بیت اللہ کی تعمیر کی غرض وغایت ایک تو وہ تھی جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا جا چکا ہے اور دوسری غرض یہ تھی کہ بیت اللہ اور اس کے قرب و جوار میں حج بیت اللہ کا مذہبی فریضہ ادا کیا جائے اس لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ لوگوں کو بیت اللہ کے حج کی دعوت عام دو تاکہ لوگ دور دراز سے سفر کرکے بیت اللہ کی طرف آئیں اور مناسک حج ادا کریں ۔ ہم آپ کو جب بات کا حکم دے دیں وہ کریں اور پھر دیکھیں کہ لوگ کس طرح جوق در جوق دنیا کی تمام دور دراز راہوں سے یہاں آیا کریں گے پاپیادہ بھی اور ہر طرح کی سواریوں پر بھی جو چل چل کر تھکی ہوئی ہوں گی ۔ (رجال) جمع ہے جس کا واحد راجل ہے اور پاؤں پر چلنے کی وجہ سے مرد کو بھی کہا جانے لگا لیکن اس کا واحد رجل بتایا گیا ہے یعنی ” رجل “ اور ” راجل “ پیادہ پاؤں پر چلنے والا جیسے رکاب جمع ہے راکب کی ، ضامر کمزور اور تھوڑے گوشت والی سواری وہ گھوڑا ہو یا اونٹ یا کوئی دوسرا جانور اور اس جگہ مراد یہی ہے کہ وہ سواریوں کے جانور جو چل چل کر تھک چکے ہوں اور کمزور وہ چکے ہوں ۔ (اذن) تاذین سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر یعنی ” پکاردے “ خطاب اول سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے ہے ۔ (عمیق) بہت گہرایا بہت دور عمق بہت بعید کو کہا جاتا ہے فج دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے کو کہتے ہیں فج عمیق دور دراز کے گہرے پہاڑی راستے ۔ (حج) جمع کرنا اور اصل لغت میں حج قصد زیارت کو کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں حج کی نیت سے اول احرام باندھ کر طواف اور وقوف عرفات کو اوقات مخصوصہ میں ادا کرنا ہے اور اس کا نام حج ہے ۔ حج کی مکمل تفصیل اوقات حج ‘ وجہ تسمیہ ‘ مناسک حج اور ادعیہ ماثورہ فی الحج کی مکمل تفصیل ہم پیچھے سورة البقرہ کی آیت 186 تا 203 تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول ص 694 سے 738 تک بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 22:28حج کی غرض سے بیت اللہ کی طرف آنے والوں کی غرض بھی واضح کردی :
28۔ لوگوں کے حج کرنے کی طرف والہانہ چلے آنے کی غرض بھی بیان کردی گئی فرمایا کہ انسان جہاں جاتا ہے اس کی ضروریات بھی اس کے ساتھ ہی جاتی ہیں جب وہاں لوگ اکٹھے ہوں گے تو ان لوگوں کی ضروریات بھی ہوں گی اور وہ ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی ضروریات کی اشیاء کو خریدیں گے اور پھر جب خریدنے والے ہوں گے تو کیسے ہو سکتا ہے وہاں بیچنے والے نہ ہوں اور اس خریدنے اور بیچنے میں لوگوں کے لئے منافع رکھا گیا ہے بلاشبہ یہ دنیوی فوائد ہیں اور مذہبی فریضہ ادا کرنے سے اس فریضہ کو ادا کرنے والوں کے گناہ بھی رب ذوالجلال والاکرام معاف فرمائے گا اس طرح جہاں لوگوں کے دینی اور دنیوی دونوں قسم کے فوائد وابستہ ہوں گے وہاں لوگوں کا جانا یقینی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہاں لوگ اکٹھے نہ ہوں ۔ اب تم خود غور کرو کہ آج فی زماننا ہمارے ملک سے پچپن ‘ ساٹھ ہزار روپے فی کس خرچہ ادا کیا جا رہا لیکن لوگ ہیں کہ حج کے لئے رواں دواں ہیں اور سعودیہ کی منڈیوں میں مال اس طرح دھڑا دھڑ پہنچ رہا ہے کہ دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جو وہاں سے مل نہ رہی ہو حالانکہ سعودیہ کا آج بھی بیشتر حصہ بدستور اسی طرح غیر ذی ذرع پڑا ہے ۔ وہاں کا منظر دیکھ کر آج بھی انسان کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے کہ جو غرض رب ذوالجلال والاکرام نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وہ کس طرح پوری کی جا رہی ہے کہ یہاں لوگ آتے ہیں تو روحانی برکتوں کے ساتھ ساتھ دنیاوی نعمتوں سے بھی مالا مال ہو کر جاتے ہیں ، دینی نعمت و برکت تو یہ ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” جس شخص نے اللہ کی رضا کے لئے حج کیا اور اثنائے حج میں فحش کلامی اور برائی سے بچتا رہا وہ جب واپس لوٹے گا تو گناہوں سے اس طرح پاک ہوگا جس طرح اس دن پاک تھا جب اس کی ماں نے اس کو جنا تھا اور دنیوی منفعت یہ کہ لوگ کاروبار کرتے ہیں اور خوب نفع کماتے ہیں اور دور دراز ملکوں سے آنے والے لوگ اپنی ضروریات کی چیزیں خرید کرلے جاتے ہیں ۔ اگر آپ مزید غور کریں گے تو یقینا آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ حج دنیاء اسلام کی ایک عالمی کانفرنس بھی ہے اور ذکر و عبادت ‘ حج وقربانی کے علاوہ دنیائے اسلام کے سارے مسائل پر غور فکر کرنے کا ایک زریں موقع بھی ، خلافت راشدہ کے زمانہ میں ایام حج میں مملکت اسلامیہ کے تمام صوبوں کے گورنر اور دیگر اعلی حکام مکہ میں جمع ہوتے تھے اور مقامی دشواریوں اور مشکلات کو دور کرنے کے مشورے کئے جاتے تھے لیکن افسوس کہ اس وقت مسلمانوں نے اس کی ساری افادیت کو نسیان طاق پر رکھ دیا ہے اور سوائے ایک رسم پوری کرنے کے جو اصل غرض وغایت اسلام تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتی ۔ اللہ تعالیٰ اسلامی مملکتوں کے حکمرانوں کو ان دنوں میں بیت اللہ میں جو جائے امن وسلامتی ہے جمع ہو کر اپنی اپنی مشکلات ودشواریوں کو ایک دوسرے سے بیان کرکے اس کا اجتماعی حل تلاش کرنا چاہئے بلکہ وہاں کی حکومت کو اپنا پیشوا ومقتدا مان کر اس کے تابع رہ کر اپنے اپنے ملکوں کا نظام چلانا چاہئے ‘ اسی طرح کہ سب مسلمان مل کر ایک قوم ہیں اور ایک قوم کا ایک امام و پیشوا ہونا بھی ضروریات دین میں سے ہے اس طرح سارے اسلامی ممالک کا ایک قانون اور ایک لائحہ عمل ہوجائے تو آج بھی دنیا کی کوئی قوم ان کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتی لیکن افسوس کہ ” ایں خیال است ومحال است وجنون۔ “
حج کے معلوم دونوں کی تفصیل ‘ ذبح ونحر کا طریقہ اور اس کی افادیت ‘ بہیمۃ الانعام کی وضاحت ‘ قربانی کی پیش کرنے کی غرض وغایت ‘ قربانی کا طریقہ اس وقت جو کچھ وہاں کیا جارہا ہے اس کا مکمل بیان بھی سورة البقرہ کی آیات 124 میں کیا گیا ہے اس کے لئے تفسیر عروۃ الوثقی کی مذکورہ آیات کو بغور مطالعہ کرنے سے سب کچھ معلوم ہوگا انشاء اللہ ۔ (البائس الفقیر) سے بدحال محتاج ہے یعنی سخت محتاج اس سے محتاجوں تک گوشت کا پہنچانا لازم آتا ہے نہ کہ جلا دینا۔
Ayah 22:29قربانی کی تکمیل کے بعد اپنی میل کچیل دور کرنے کا ارشاد الہی :
29۔ قربانی کرچکنے کے بعد سفر کی تکان دور کرنے کے لئے غسل اور حجامت جو حج کے دنوں میں ممنوع تھی اس کی اجازت مرحمت فرمائی گئی کہ اپنی میل کچیل دور کرو ‘ احرام کھول کر عام کپڑے پہن لو حجامت کرا کر اور نہا دھو کر صاف ستھرے ہوجاؤ گویا گناہوں کی میل دور کر چکنے کے بعد ظاہری میل کچیل سے بھی صاف ستھرے ہوجاؤ (تفث) ناخن کی میل کو کہا جاتا ہے اور (قضائ) کے معنی دور کرنا ‘ فارغ کرنا ‘ ادا کرنا ‘ قطع کرنے کے ہیں جس طرح وضو ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوۃ وغیرہ میں ترتیب ضروری ہے مناسک حج میں بھی ترتیب لازم وضروری قرار دی گئی ہے ۔ زیر نظر آیت میں قربانی کے بعد جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ضروری ہے کہ بعد ہی میں کئے جائیں لیکن بھول چونک یقینا قابل معافی ہے ۔ ” اپنی نذروں کو پورا کرو “ سمجھ لینا چاہئے کہ نذر کیا ہے ؟ منت ‘ عہد ‘ مشروط التزام ‘ عبادت خانہ کی خدمت کے لئے کسی کو وقف کردینا اور اس جگہ منت یا عہد ہی مراد ہے ۔ حاجی کے لئے قربانی ہے لیکن کسی نے یہ کہا کہ میں حج پر گیا تو دو قربانیاں کروں گا ‘ میں وہاں بخیریت پہنچ گیا تو اتنا صدقہ کروں گا یا اتنے نوافل پڑھوں گا ‘ اگر میرا یہ کام ہوگیا تو میں اللہ کے لئے دو نفل ادا کروں گا گویا نذر نام ہے ایسی بات کو اپنے اوپر لازم کرلینے کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم نہ کی گئی ہو اس لئے جو بات خود ہی اپنے اوپر لازم کر لینیکا جو اللہ کی طرف سے لازم نہ کی گئی ہو اس لئے جو بات خود ہی اپنے اوپر لازم کرلی گئی اس کو پورا کرنا لازم وضروری ہوگیا بشرطیکہ وہ شرعی لحاظ سے غلط نہ ہو مگر شرعی طور پر اس کا کا کرنا جائز اور درست نہ ہو تو ایسی منت ونذر پوری نہیں کی جاسکتی مثلا اگر کسی نے کہا کہ میں اونٹ قربانی کا جانور لے کر جاؤں گا لیکن اس پر سوار نہیں ہوں گا بلکہ پیدل چل کر حج کروں گا تو حج بہرحال کرنا ہی ہوگا لیکن یہ پیدل چل کر جو کہا اس کے پورا کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ، میں روزہ رکھوں گا اور سارا دن دھوپ میں کھڑا بھی رہوں گا تو روزہ رکھنا لازم لیکن دھوپ میں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ شرط صحیح نہ تھی ، میرا یہ کام ہوگیا تو میں فلاں قبر پر بکرا چڑھاؤں گا ، کام ہوجائے تو بھی قبر پر بکرا نہیں چڑھایا جائے گا کیونکہ یہ منت جائز اور درست نہ تھی بلکہ اس کا پورا کرنا حرام ہے ۔
بہرحال اس طرح کی کوئی بات اپنے اوپر لازم کرلی گئی ہو اور وہ ناجائز بھی نہ ہو تو اس کو پورا کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے اور اس کے بعد ارشاد فرمایا ” اب بیت اللہ کا طواف کرو۔ “ گویا قربانی اور حلق وغیرہ منی میں کرنا تھا وہ کرچکے تو اب طواف کرنے کے لئے بیت اللہ کی طرف آؤ اور طواف کرو۔ یہ طواف حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کا پورا کرنا لازم ہے بیت اللہ کو اس جگہ (بیت عتیق) فرمایا گیا اور عتیق کے معنی اصل اور قدیم کے ہیں گویا یہ وہی بات ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے جو عبادت کا گھر بنایا گیا وہ یہی بیت اللہ تھا اور اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو تعمیر کیا لیکن یہ تعمیر تعمیر اول نہ تھی بلکہ اس کے منہدم ہونے کے بعد جو تعمیر ابراہیم (علیہ السلام) نے کی اس کا ذکر ہے اور حقیقت میں قبلہ اول بھی یہی ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة آل عمران کی آیت 96 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں اور بیت اللہ کو عتیق اس لئے بھی کہا گیا ہے کہ بڑے بڑے جبار حکمران جو آئے وہ بھی اس کی ذلت کا سوچ کر خود ذلیل ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی اور ہمارا ایمان ہے کہ وہ اس کو ذلت سے بچائے ہی رکھے گا ۔ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ بیت اللہ کے اندر ‘ مطاف میں اور اس کے اردگرد جو ایک عرصہ تک بت رکھے رہے تو کیا یہ ذلت اور ظلم کی بات نہ تھی ، خیال رہے کہ شرک بلاشبہ ظلم عظیم ہے لیکن اس کی اصل محبت اور مودت پر قائم ہے نہ کہ ظلم و زیادتی پر جن لوگوں نے وہاں بت رکھے تھے کیا ان کی نیت میں بیت اللہ کو ذلیل کرنا ‘ بیت اللہ کے ساتھ ظلم کرنا مقصود تھا ؟ بلاشبہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی یہ کام کرنے والوں کے خیال میں ظلم و زیادتی تھی انہوں نے جو کچھ کیا وہ پیار و محبت کے رنگ میں کیا اور جب یہ ان پر واضح ہوگئی کہ یہ تو شرک ہے جو فی نفسہ ظلم ہے تو انہوں نے خود ان کو توڑا اور بیت اللہ کو پاک وصاف کردیا اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح کوئی شخص کسی ولی اللہ کی پرستش کرے بلاشبہ اس طرح غیر اللہ کی پرستش کرکے اس نے ظلم کیا لیکن کسی پر ظلم کیا اپنی ذات کے ساتھ ظلم کیا اس سے اس ولی اللہ کا کیا بگڑا جس نے اس کو اپنی پرستش کے لئے نہیں کہا تھا بعینہ اسی طرح بیت اللہ نے تو نہیں کہا تھا کہ میرے اندر اور میرے اردگرد بت رکھ دو اب یہ ظلم ان ظالموں نے کیا جنہوں نے وہ بت رکھے لیکن ان کا یہ ظلم اور زیادتی کس کے ساتھ تھی ؟ ان کی اپنی ذات کے ساتھ تو اس جگہ جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ بیت اللہ کے ساتھ ذلت وظلم اور ذیادتی کی ہو رہی ہے اور وہ اس حال میں ممکن ہے کہ جب کوئی ظالم و جابر اس پر چڑھائی کرکے اس کو ختم کردینا چاہے اور اس طرح اس پر ظلم اور زیادتی کی کوشش کرے ، اس کی نگہبانی و حفاظت کی ذمہ داری اس کو ماننے اور تسلیم کرنے والوں پر لازم آتی ہے لیکن جب کبھی وہ اتنے ناکارہ اور پست ہمت ہوئے کہ وہ اس کی ہم سبائی نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ نے ثابت کردیا کہ یہ میرا گھر ہے اگر اس کے محافظ ونگہبان اتنے ناکارہ ہوچکے ہیں تو میں نے جو کچھ کرنا ہے وہ میرے علم میں ہے اور پھر وقت آنے پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔
Ayah 22:30حرمات اللہ کا احترام سب پر لازم ہے جو ان کی تعظیم کرتا ہے وہ اپنا بھلا کرتا ہے :
30۔ (ذلک) اسم اشارہ ہے اور یہ ساری باتوں پر جو گزشتہ آیات میں بیان کی گئی ہیں ان پر حاوی ہے جو بیت اللہ اور مناسک حج کے متعلق ہیں اور جن کی نشاند ہی قبل ازیں کی جاچکی ہے گویا فرمایا جا رہا ہے کہ یہ باتیں تو اس طرح مکمل ہوگئیں جس طرح آپ کو بتائی گئیں اب ذرا ان کی بات بھی سن لو جن پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور وہ بیت اللہ کی وراثت کے مدعی ٹھہرے تھے کہ انہوں نے اس امانت کی ذمہ داریوں کو کس طرح پورا کیا حالانکہ جو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے فرمایا ” جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی حرمتوں کی عظمت مانے تو اس کے لئے اس کے پروردگار کے حضور بڑی ہی بہتری ہے “ (حرمات) حرمہ کی جمع ہے یعنی وہ چیزیں جن کا احترام اللہ تعالیٰ نے واجب ٹھہرایا ہے اور اس جگہ وہ تمام مناسک حج مراد ہیں ، حرم ‘ مسجد حرام ‘ اشہر حرام ‘ مشعر حرام ‘ اور محرم احرام باندھنے والا ۔ ہدی قلاتد وغیرہ اور ان تمام چیزوں کی حرمت اول روز سے چلی آرہی ہے اور اس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں نے جو اپنے آپ کو بیت اللہ اور دین ابراہیم کا وارث سمجھتے تھے انہوں نے بہت کچھ بدل دیا تھا اور ان کی جگہ ان کی اپنی رسم و رواج نے لے لی تھی بجائے احرام کے وہ بجائے مکان کے پیچھے سے مکان پر چڑھتا یا نقب لگا کر داخل ہوتا اس طرح اشہر الحرام کو ” الغئی “ کے طور پر بدلدیا کرتے جس کا ذکر پیچھے سورة التوبہ کی آیت 37 میں کیا گیا ہے اور اس طرح ان کے دوسرے مشرکانہ عقائد کا ذکر بھی پیچھے سورة الانعام کی آیت 136 تا 153 میں گزر چکا ہے فرمایا اس طرح ان احکام کو بدل کر جو انہوں نے ان کی جگہ نئی نئی رسومات جاری کردی ہیں تو اپنا ہی نقصان کیا ہے کیونکہ حرمات اللہ میں ردوبدل کرنے والے خود ذلیل و خوار ہوتے آئے ہیں اور یقینا یہ بھی ہوں گے اور دنیا جانتی ہے کہ وہی جو کہا گیا ہے پھر فرمایا کہ ان جانوروں یعنی چوپایوں کو چھوڑ کر جن کا حکم قرآن کریم میں تم کو سنایا گیا ہے تمام چارپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں ۔ “ اور ان کا ذکر پیچھے سورة البقرہ آیت 173 ‘ سورة المائدہ آیت 3 ‘ سورة الانعام آیت 145 ‘ سورة النحل آیت 115 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور اس کے بعد فرمایا ” پس چاہئے کہ بتوں کی ناکامی سے بچتے رہو “ (الرجس) کیا ہے ؟ اس کی وضاحت بھی پیچھے سورة الانعام آیت 125 ‘ سورة یونس کی آیت 100 میں گزر چکی ہے لیکن اس جگہ (الرجس من الاوثان) آیا ہے اس کا مفہوم سمجھ لینا چاہئے کہ یہ (وثن ) کیا ہے ؟ وثن ہر وہ شے جو اپنی جگہ پر ٹھہری رہے اور ادھر ادھر نہ ہو سکے جیسے بت ‘ قبر ‘ درخت کوئی خاص جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر جاہلیت کے طور پر پرستش کرتے ہوں اس لئے زیر نظر آیت میں بھی اس کے معنی بتوں کی ناپاکی کے کئے گئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی پرستش سے بچو اور اس کے بعد فرمایا ” جھوٹ بولنے سے بھی بچو “ یعنی جو باتیں اور احکام اللہ نے مقرر نہیں کئے ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے اور جو اللہ تعالیٰ نے شعائر اللہ ٹھہرائے ہیں ان کو چھوڑ کر جھوٹ مت بولو کیونکہ یہ بہت بڑا سنگین جرم ہے اور اللہ جل جلالہ پر افتراء ہے اس سے احتراز کرو۔
وثن کے متعلق اتنی بات مزید سن لیجئے ایک حدیث میں ہے کہ ” ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ نامی مقام پر جاکر چند اونٹ ذبح کرے گا اس نذر کے ماننے والے نے نبی اعظم وآخر ﷺ سے پوچھا کہ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ھل کان فیھا وثن من اوثان الجاھلیہ یعبد ” کیا وہاں کوئی بت تھا جس کی مشرک پوجا کرتے تھے ؟ “ اس نے کہا نہیں ! پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا قبل کان فیھا عیدھن اعیارھم ” کیا وہاں کبھی مشرکین کا کوئی میلہ وغیرہ لگتا تھا ؟ “ تو اس نے کہا نہیں ۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرلو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا درست نہیں ہے اور نہ وہ نذر پوری کرنا صحیح ہے جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو ۔ (ابوداؤد عن ثابت بن ضحاک) اس حدیث سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ جس مقام پر کسی غیر اللہ کی عبادت ہوتی ہو یا عید ومیلہ لگتا ہو اور اس مقام کو لوگ متبرک سمجھتے ہوں اگر بت وہاں موجود نہ ہو اس کو (وثن) کہا جاتا ہے اور یہی بات ہم نے اوپر بیان کی ہے ۔
Ayah 22:31اللہ تعالیٰ کا ہو کر رہنے کا حکم اور شرک کی سخت ممانعت اور مشرک کی مثال :
31۔ (حنفآئ) حنیف کی جمع ہے اور حنیف حنف سے ہے جس کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں بروزن فعیل صفت مشتبہ کا صیغہ ہے ، جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑے (حنیف) کہلاتا ہے ، شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” حنیف آں را گفتند کر گزار دوفتنہ نماید واز جنابت غسل کند حاصل آن کہ نام کسے بودل کہ بشریعت ابراہیمی متدین باشد “ (فتح الرحمن) (حنفآء للہ ) ہر طرف سے کٹ کر ایک اللہ کی طرف مائل ہونے والے اسی طرح کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے ساتھ شریک کرنے والے نہ ہوں اور تمام شعائر اللہ کی تعظیم اور مناسک کے ادا کرنے والے ہوں بلکہ ہر کام اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر کریں اور شرک کے ہر شائبہ سے بالکل پاک رہتے ہوں ” جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا “ اس کی مثال ایسی جیسے بےلگام گھوڑا ‘ بےلنگر جہاز اور بےڈور پتنگ ہو کہ بےلگام گھوڑا جدھر منہ آیا بھاگ نکلا ‘ بےلنگر جہاز ہے تو کسی وقت بھی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گا اور بےڈور پتنگ ہے تو چاہے ہوا اس کو کہاں لے جا کر پھینک دے ، توحید الہی سے کٹا تو اب وہ کسی نہ کسی طرح کے شرک میں ڈوبا ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بلندی سے اچانک نیچے گر پڑا گویا اس کی زندگی کا طیارہ کریش ہوگیا اور ” وہ اس طرح گرے گا کہ اسے یا تو کوئی اچک لے گا یا ہوا کا جھونکا کسی دور دراز گوشہ میں لے جا کر پھینک دے گا “ اور اس طرح وہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے گا ۔ (سحیق) سحق سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے ۔ دور ‘ بعید ‘ پسا ہوا وغیرہ۔
Ayah 22:32شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کے تقوی کی نشانی ہے :
32۔ شعائر اللہ کیا ہیں ؟ وہ جو گزشتہ آیت 30 میں (حرمات اللہ) سے تعبیر ہوئے ہیں اور انہی کو اس جگہ شعائر اللہ فرمایا گیا ہے شعائر شعیرہ کی جمع ہے بروزن فعیلہ اس کے معنی ہیں ہر وہ شے کہ جو کسی چیز کا نشان مقرر ہو یا جو کسی علامت کو بتائے اسے شعیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ (کبیر ج 3 ص 353 مصر) ” شعائر اللہ “ اللہ کی نشانیاں ‘ اللہ کے نام کی چیزیں یا وہ چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نشان بندگی ٹھہرایا ہے (اشعار بدن) کے معنی یہ ہیں کہ تم اس جانور پر ایسی نشانی مقرر کر دو جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ جانور قربانی کا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس کو نشان زدہ کرکے چھوڑ دو کہ وہ جہاں چاہے چرتا ‘ چگتا اور لوگوں کی فصلوں کو برباد کرتا پھرے ۔ (شعائر) مناسک حج کی تمام علامات کا نام ہے جن میں رمی جمار ‘ سعی بین الصفا والمروہ ‘ قربانی کا جانور وغیرہ ہیں اور تعظیم کا مطلب ان کی حفاظت کرنا اور طریقہ کے مطابق ادا کرنا ہے اس طرح قربانی کے جانور کا فربہ اور عمدہ ہونا بھی بیان کیا گیا ہے اور اس کی تفصیل پیچھے سورة المائدہ کی آیت 2 میں گزر چکی ہے بلکہ سورة البقرہ کی آیت 158 میں بھی اس کا بیان آچکا ہے ۔
(شعائر اللہ) وہی ہیں جو دین اسلام میں واضح کئے جا چکے ہیں مثلا بیت اللہ اور بیت اللہ کے ضمن میں دنیا جہان کی ساری مسجدیں اور معبد آگئے خواہ وہ کہیں ہیں لیکن اس کے باوجود جو شعائر بیت اللہ کے ساتھ خاص ہیں وہ کسی دوسری جگہ ادا نہیں کئے جاسکتے ۔ مثلا بیت اللہ کا طواف ہے لیکن باوجود اس کے کہ مسجد کو ہم بیت اللہ کہہ دیتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں لیکن طواف کسی مسجد کا نہیں کرسکتے گویا مطاف پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک ہے اگر کوئی دوسری جگہ کو مطاف بنا کر اس کے اردگرد چکر لگائے گا خواہ وہ جگہ کوئی مسجد ہی کیوں نہ ہو تو وہ مستوجب سزا ہوگا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے شرک پسندوں نے شعائر اللہ کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے پہلے انہوں نے مدینہ طیبہ کی گلیوں کو چوں کو شعائر اللہ میں شمار کیا اور قوم کو خاموش پاکر اولیائیکرام (علیہ السلام) کے مزار ‘ روضے بنائے اور ان کو شعائر اللہ قرار دیا اور اب جس کا جی چاہا اس نے اپنے بزرگوں اور اپنے باپ دادوں کو ولی بنایا اور ان کی قبروں کو پکا کر کے روضے تعمیر کرنے شروع کردیئے اور ان کو شعائر اللہ کہنے لگے اور بدلتے ہوئے اب گھوڑے ‘ لٹ علی شاہ ‘ جھاڑے شاہ ‘ نوشاہ ‘ ڈوڈے شاہ اور گراں دتا جیسے رند اور مرفوع القلم لوگوں کی قبروں پر روضے بنا کر ان کو شعائر اللہ بنایا اور پوجنا شروع کردیا اور ان کے علمائے کرام نے ان کو اسی زیر نظر آیت اور اسی جیسی دوسری آیتوں سے سند جواز بھی پیش کردی اور آج اپنی تفسیروں میں وہ وہ خرافات بھر دیئے کہ ان کو پڑھ کر ایک مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس طرح بڑے محتاط انداز سے ان کے بہتر لوگوں کو بھی ان کی ترجمانی کرنی پڑی اور لکھا کہ ” اولیائے کرام اور ان کے مزارات پر انوار کیوں ” شعائر اللہ “ میں داخل نہیں ۔ “ (ضیاء القرآن) گویا عیسائیوں کی نقل میں وہی کام کیا جو انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے بعد احبارو رہبان کے ساتھ کیا تھا اور وہ ایسا کرنے کے باعث مشرک قرار دیئے گئے تھے اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ دے اور مسلمانوں کو ان کے اس شر سے بچائے ۔ رہے اولیائے اللہ کے مزارات تو وہ اسلامی حکومت کا فرض ہے ان میں سے ایک ایک مسمار کرا کر ان جگہوں پر اسلامی درسگاہیں قائم کردے اور ان شرک کے اڈوں سے اس ملک کو نجات دلوائے اور ان اولیائے کرام کی توہین سے بچا کر اسلام پسندی کا مظاہرہ کرے ۔ اے اللہ تو احکم الحاکمین ہے اپنے کسی بندہ کو توفیق فرما دے کہ وہ اس شرک کی لعنت سے اس مالک کے باشندوں کو نکال باہر کرے کہ توفیق وقدرت تیرے ہی ہاتھ میں ہے ۔ اے اللہ ہماری دعا قبول فرما۔
Ayah 22:33ان جانوروں میں مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدہ ہے اور انجام کار قربان کرنا بھی :
33۔ شعائر اللہ کی تعظیم و تکریم بیان کرنے کے بعد لوگوں کو اس طرح کی وہم پرستی سے بچانے کے لئے جس طرح کی وہم پرستی میں شرک پسند مبتلا ہوجاتے ہیں قرآن کریم نے حقیقی اور اصلی تعظیم کی وضاحت فرما دی تاکہ اس وہم پرستی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے فرمایا ” ان جانوروں میں “ جن کو تم نے بیت اللہ میں لے جا کر قربان کرنے کے لئے مختص کردیا ہے اور ان کی خدمت کرکے ان کو خوب فربہ اور عمدہ بنانے کی کوشش کی ہے ” ایک مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدے ہیں “ اور ظاہر ہے کہ وہ مقررہ وقت وہی ہے جو ذوالحجہ کی دس تاریخ منی میں قربانی کرنے کا دن مقرر ہے اس وقت تک تم ان سے فائدہ حاصل کرسکتے ہو گویا قربانی کے نامزد اونٹوں پر سواری کرسکتے ہو ‘ بوجھ لاد سکتے ہو اور اگر وہ جانور دودھ دینے والے ہیں تو دودھ پی سکتے ہو۔ قربانی کا جانور نامزد کرنے کے بعد اگر اس کی اون اتارو گے تو کام میں لاسکتے ہو اور ذبح ہونے کے وقت تک تم ان سے یہ سارے کام لے سکتے ہو کہ تمہارے انہی فوائد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ہاں ! ان کو ایذا نہ پہنچاؤ اور انکی خوراک کا بندوبست صحیح رکھو کہ یہ بات تعظیم کی ہے ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے جانور کو ہنکا کر لئے جا رہا ہے اور اس پر سوار نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ لیکن اس شخص نے عرض کیا حضور ﷺ یہ قربانی کا اونٹ ہے ۔ آپ ﷺ نے اس کی بات سنی اور پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجا اس نے پھر کہا کہ یہ اونٹ قربانی کا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجا ‘ تین بار یہ بات دہرائی گئی اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا تیرا برا ہو میں نے کہا ہے کہ اس پر سوار ہوجا۔ “ اور یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں ہے ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔
ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے اونٹ کو ہنکا کرلے جا رہا تھا ” فرمایا اس پر سوار ہوجا کہ رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ طریقہ سے زیادہ سیدھے طریقہ پر تو نہیں چل سکتا ۔ “ (طحاوی) مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے یہ فائدہ حاصل کرنا جائز ثابت ہے تو پھر وہ کون ہوگا جس کا بتایا ہوا طریقہ آپ ﷺ سے بہتر ہو سکتا ہے لہذا کسی وہم میں مبتلا ہوئے بغیر سواری کے جانوروں سے سواری کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔
لیکن ہمارے فقہاء میں سے امام ابوحنیفہ (رح) کے ذمہ ہمارے علماء کرام نے یہ بات منسوب کی ہے کہ امام موصوف نے قربانی کے جانوروں پر سوار ہونے ‘ ان پر بوجھ لادنے اور ان کا دودھ پینے اور اس طرح کے دوسرے فوائد حاصل کرنے سے منع کیا اس لئے احناف کا فتوی یہی ہے گویا امام ابوحنیفہ (رح) کو حق ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ سے اختلاف کریں اور حنفیوں کا حق ہے کہ وہ امام موصوف کے فتوی پر عمل کریں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کو چھوڑ دیں اگر تقلید اسی چیز کا نام ہے تو تقلید اور کفر میں کوئی فرق نہیں اور احناف کو یہ زیب دیتا ہے تو دے کہ وہ امام موصوف نے ایسا فتوی دیا ہے ہم امام موصوف کو اللہ کا ایک نیک اور صالح بندہ تسلیم کرتے ہیں اس لئے اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے ایسی بات کہی ہوگی بلکہ پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے ایسی بات نہیں کی یہ سراسر ان پر بہتان ہے اور یہ بھی کہ امام ابوحنیفہ (رح) کی دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں آپ نے ایسا لکھا ہو اور لوگوں نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ انہی کو زیب ہے جو اپنے آپ کو مقلد مانتے اور لکھتے ہیں بیت العتیق کے متعلق بیان پیچھے گزر چکا ہے فرمایا یہ فوائد تم ان جانوروں سے اس وقت تک حاصل کرسکتے ہو جب تک کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ جائیں اور ذبیحہ ہونے کے بعد کا فائدہ آگے آرہا ہے ۔
Ayah 22:34ہدایت کے لئے عبادت کا طریقہ مقرر ہے اور تم جانوروں کے ذبح کے وقت اللہ کا ذکر کرو :
34۔ (منسک) پر ہر عبادت کا طریقہ مراد ہے (منسکا) مخصوص دنوں میں قربانی کرنا اور (منسکا) قربانی کی جگہ اس جگہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے امت مسلمہ ہم نے فقط تم ہی کو یہ قربانی کا طریقہ نہیں بتایا اور سمجھایا بلکہ ساری امتوں کو اس کی تلقین کی گئی اور ہر امت میں یہ تصور موجود ہے ، سب امتیں قربانی کرتی رہی ہیں اور یہ قرب الہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے ، ایک جانور کی قربانی عبادت کی غرض کیونکر ہو سکتی ہے اس طرح کہ اس میں ایک اللہ کی فرمانبرداری کا تصور پایا جاتا ہے اور یہ بات پہلے کتنی بار عرض کی جا چکی ہے کہ انسان دور طرح کی قوتوں کے مجموعے کا نام ہے اور دونوں قوتوں میں تضاد بھی ہے ایک سفلی اور حیوانی قوتیں ہیں اور دوسری ملکوتی اور روحانی قوتیں اس لئے انسان کو سکھایا گیا ہے کہ ان سفلی اور حیوانی قوتوں کو ملکوتی اور روحانی قوتوں کے تابع کرنے کا نام اسلام ہے اور ملکوتی وروحانی قوتوں کو ختم کرکے سفلی اور حیوانی قوتوں کو ان پر مسلط کردینا کفر۔ گویا اصلیت اور حقیقت قربانی کی یہی ہے کہ حیوانی قوتوں کو قربان کیا جائے اور اس کا ظاہری طریقہ بہیمۃ الانعام کی قربانی بھی ہے جن کا تعلق حج کے ساتھ خاص ہے تاکہ حجاج کو غذا بھی میسر آئے اور وہ اس طرح حلال جانوروں کی قربانی کرکے یہ ثابت کردیں کہ ہماری جن جن قوتوں اور طاقتوں کی اسلام کو ضرورت ہوگی ہم ان کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے حتی کہ اگر ہماری جانوں کی قربانی کی ضرورت ہوگی تو ان سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور اس کی علامت یہ ظاہری قربانی کرکے وہ ثابت کر رہے ہیں دوسرے انسانوں کو تاکہ وہ لوگ یہ بات ذہن میں رکھیں ۔
اس کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان کی کچھ انفرادی خواہش ہوتی ہے کچھ ملی اور قومی اور اس کو اس بات کا درس دیا گیا ہے کہ اپنی ذاتی اور انفرادی خواہشات کو قومی اور ملی خواہشات کے لئے قربان کرنا ہوگا مثلا مال کو اپنے قبضہ و تصرف میں لانا ایک انفرادی خواہش ہے لیکن اس مال کی اگر قوم وملت کو ضرورت پڑے تو اس کو قربان کرنا گویا انفرادی خواہش کو قربان کرنے کے مترادف ہے اور جس شخص نے خواہ وہ کون ہو اپنی انفرادی خواہشات کی تکمیل کے لئے قومی اور ملی خواہشات کو قربان دیا وہ انسان سچا مسلمان نہیں ہو سکتا خواہ وہ اپنے اسلام کے کتنے دعوے کرتا ہو ۔ ” جب تم ان پالتو جانورون کو ذبح کرو تو ان پر اللہ کا نام یاد کرو “ جس کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ ذبح کرتے وقت اللہ اکبر کا لفظ زبان سے بھی ادا کرو اور نیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا رکھو اگر غیر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تم نے جانور کو ذبح کیا تو گویا تم نے وہ حق جو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص تھا دوسروں کو دے دیا اور اسلام کی زبان میں اسی چیز کا نام شرک ہے ۔ ” تم سب کا معبود ایک اور صرف ایک ہے “ جب یہ بات ہے تو پھر تمہاری اس قربانی کا مستحق بھی صرف اور صرف وہی ہے اس میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہراؤ بلکہ اس بات کا ثبوت دو کہ تم خالصتا اسی کے لئے ہو اور جو کچھ تمہاری ملکیت میں ہے وہ بھی اسی ذات الہ کے لئے ہے گویا تم اور تمہارا مال سب اللہ رب العزت کے لئے ہے اور ” تم اس کے فرمانبردار ہو “ اس لئے تم نے اپنی قربانی کو بھی یکسوئی کے ساتھ اس کی خاطر قربان کردیا ہے کہ تمہاری قربانی کا کوئی دوسرا مستحق نہیں تھا ۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ اس طرح نرمی اختیار کرنے والوں کو ہماری طرف سے بشارت سنا دیں ۔ “ خبت پست اور نرم زمین کو کہا جاتا ہے یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو فقط اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کرتے ہیں اور ان کے اندر صرف رضائے الہی کا حصول ہے اور اس حصول کی خاطر وہ یہ فروتنی ‘ تذلل اور تواضع کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جس طرح اس حیوان کو ایک اجل مسمی کے لئے تم نے پال رکھا تمہاری اپنی زندگی بھی ایک اجل مسمی تک ہے تم نے اس عارضی ملکیت کے ناطے سے اس کو قربان کردیا ہے تو وہ حقیقی مالک جو ہے وہ بھی اجل مسمی سے آگے تمہاری زندگی کو نہیں جانے دے گا اور تمہاری اجل مسمی سے وہ خوب واقف ہے جو تمہارا پروردگار حقیقی ہے ۔ لیکن جو حال ہماری قربانیوں کا ہے وہ سب پر روشن ہے ۔
Ayah 22:35اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور مصیبتوں میں صبر کرنے والے کون ہیں :
35۔ گذشتہ آیت میں کچھ لوگوں کا وصف (مخبتین) یعنی وہ لوگ جو متواضع اور منکر المزاج ہوں اور غرور وتکبر ان کے قریب بھی نہ پھٹکا ہو ان لوگوں کا مزید تعارف کرایا گیا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف صحیح معنوں میں سما گیا ہے اور جلال خداوندی کی شعاعیں ان کے دلوں پر پڑتی ہیں اور عظمت الہی کی تجلیات ان کے قلوب پر پڑتی ہیں اور وہ آخرت کی فکر رکھتے ہیں اور اس عارضی زندگی پر وہ کبھی نازاں نہیں ہوتے جو انعامات ان کو دنیا میں ملتے ہیں ان کا بارگاہ ایزدی میں شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس راہ میں جو کچھ بھی ان کو پیش آئے اسے خوشی خوشی جھیلتے ہیں اور صبر کا مفہوم کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ صبر وثبات سے احکام خداوندی پر عمل پیرا ہوجانا یہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی آندھی ان کو گھبرا نہیں سکتی اور مخالفین کی ایذاؤں سے وہ کبھی نہیں گھبراتے اور یہ بھی کہ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور یہ بات بھی پیچھے عرض کی جا چکی ہے کہ نماز کے فقط پڑھنے اور نماز کے قائم کرنے میں بہت بڑا فرق ہے کہ نمازی صحیح معنوں میں نماز کو قائم کرتا ہے وہ کبھی برائی اور بےحیائی کے قریب بھی نہیں بھٹکتا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دیئے گئے پروگرام کے مطابق زندگی گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ کبھی دغا ‘ فریب ‘ دھوکا ‘ کم ماپنا ‘ کم تولنا ‘ جھوٹ بولنا ‘ غیبت کرنا اور اسی طرح کی دوسری برائیوں کے قریب بھی نہیں جاتا اور معاشرہ اسلامی کے لئے ہر حال میں کوشاں رہتا ہے اس کی زندگی میں کسی طرح کا کوئی الجھاؤ پیدا نہیں ہوتا کہ وہ دنیوی جھگڑوں ہی کا ہو کر رہ جائے یہاں تک کہ اس کو اگر ماحول زیادہ تنگ کرے تو سب کچھ چھوڑ کر اس ماحول سے بھاگ جاتا ہے اور وہاں رہنے کی کوشش کرتا ہے جہاں اس کو ایسے ماحول سے نجات مل جائے اور ان لوگوں کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ جو کچھ کماتے ہیں فقط اپنی ذات ہی کے لئے نہیں رکھتے اس میں دوسروں کا حق سمجھتے ہوئے ان کو ادا کرتے ہیں اور اگر حالت دوسری ہوجائے تو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے رب ذوالجلال والاکرام ہی سے طلب کرتے ہیں اور ہمیشہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور یقینا ان کی زندگی ہی میں وہ وقت بھی آتا ہے کہ ان کی حالت اللہ تعالیٰ بدل دیتا ہے اور وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق خرچ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ان طریقوں کی طرف سے وہ مکمل طور پر رک جاتے ہیں جہاں دوسروں کی رضا کے لئے خرچ کرنا ہوتا ہے گویا ان کی کمائی اور ان کا خرچ دونوں ہی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہوتے ہیں دنیا کی واہ واہ کے لئے نہیں ۔
Ayah 22:36قربانی کے جانوروں میں اونٹ خصوصا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے :
36۔ قربانی کے لئے جانوروں کو مختص کرنے سے انکی دیکھ بھال کا زیادہ خیال رکھنے کے باعث وہ فربہ اور عمدہ ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے جتنا بڑا جانور ہوگا اگر وہ اپنے لحاظ سے فربہ اور عمدہ بھی ہوگا تو وہ بہت ہی اچھا اور بھلا لگے گا ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (بدن) کا استعمال ہوا ہے جو بدنہ کی جمع ہے یہ لفظ زیادہ تر اونٹوں ہی کے لئے مخصوص سمجھا جاتا ہے اور خصاصا وہ جو قربانی کے لئے نامزد کئے جا چکے ہیں اور جن کا ذکر پیچھے ہدی اور قلائد کے ذکر میں سورة المائدہ کی آیت 2 میں گزر چکا ہے اور اس آیت سے پہلے شعائر اللہ کے تحت بھی ان کا ذکر آچکا ہے زیر نظر آیت میں ان جانوروں کو دوبارہ شعائر اللہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ان جانوروں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ ٹھہرایا ہے اس لئے اس جگہ انہی اونٹوں کا ذکر ہے جو قربانی کے لئے مقرر کئے جا چکے ہیں اور پیچھے (بھیمۃ الانعام) میں بھی ان کا ذکر کیا جا چکا ہے یعنی اس سورت کی آیت 28 میں لیکن اس جگہ اس کو دوبارہ بیان کیا گیا ہے ‘ کیوں ؟ ایک وجہ تو اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ جانور عربوں کے ہاں ایک محبوب ترین جانور تھا اور یہ بھی کہ یہی وہ جانور ہے جس سے یہود نفرت کرتے تھے اور اس کی وجہ ہم پیچھے سورة آل عمران کی آیت 93 میں بیان کر آئے ہیں کہ یہود نے اس کو حرام قرار دے دیا تھا اور بدقسمتی سے آج کل کچھ یہودی صفات کے لوگ مسلمانوں میں بھی اس کو ایسا ہی سمجھتے ہیں یہود نے اس جانور کو قربانی کے جانوروں میں شامل کرنا معیوب سمجھا تھا اس لئے اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے اس کا الگ ذکر کرکے بتا دیا کہ یہود جو کچھ کہتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ جانور نہایت مبارک ہے جو شعائر اللہ میں شامل ہے یہود اگر اس کو برا مانتے ہیں تو وہ مانا کریں ہم اس پروپیگنڈا میں آنے والے نہیں اور ان کا یہ کہنا کہ یہ دین ابراہیم میں حرام تھا ایک بالکل بےاصل و دلیل بات ہے ہاں ! ان کے پاس کوئی دلیل ہے تو وہ بیان کریں اور ایک بات اچھی طرح سن لیں کہ حلت و حرمت کا حق فقط رب ذوالجلال والاکرام کو ہے کوئی آدمی خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو اس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حلال چیز کو حرام یا حرام چیز کو حلال کر دے نبی کا کام فقط پیغام پہنچانا اور اس کی تشریح کرنا ہے جو ہم نے اس کو وحی غیر متلو کے تحت بتا دی ہے اور یہود نے جو اسرائیل (علیہ السلام) کے طرف سے اس کی نسبت کی ہے وہ حلت و حرمت کے لئے نہیں اور کسی شخص کا کسی بیماری کے باعث ایک چیز کا استعمال نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ اس نے اس کو حرام کردیا ہے بلاشبہ وہ کسی تکلیف کے باعث اس کو نہیں استعمال کرتا تو یہ ایک دوسری بات ہے ۔
اونٹ ایک جانور ہے جو عربوں کے علاقہ کے عین موافق قدرت خداوندی نے اس کو پیدا کردیا ہے کہ وہ اس سے اس قدر مستفید ہو سکتے ہیں کہ کسی اور جانور سے اس قدر مستفید نہیں ہوسکتے آپ جس لحاظ سے بھی اس کو دیکھیں گے اس میں وہ خصوصیات پائی جائیں گی جو عربوں کی علاقائی ضرورت کے مطابق ہیں کہ وہ پانی پی لے تو کئی کئی روز تک اس کو پانی پینے کی حاجت نہیں ہوتی اس کی خوراک اللہ نے جھاؤ اور جھاڑیوں میں رکھ دی ہے کہ ان کو کھا کر گزران کرسکتا ہے پھر خوراک کھائے تو ضروری نہیں کہ روزانہ ہی اتنی خوراک حاصل کرے ۔ ریگستانی علاقوں میں یہی ایک جانور ہے جو سارے سواریوں کے جانوروں سے زیادہ دیر تک سفر کرسکتا ہے اور سردی گرمی کے بچاؤ کی دوسرے جانوروں کی طرح اس کو ضرورت نہیں ہوتی اتنا بڑا جانور ہے کہ اگر ذبح کرلیا جائے تو سینکڑوں آدمیوں کی خوراک کا کام دے سکتا ہے ، جتنا بوجھ اٹھا سکتا ہے اتنا بوجھ کوئی دوسرا جانور نہیں اٹھا سکتا ، قدرت نے اس کو اونچا بنایا ہے تو اس میں یہ خوبی رکھ دی ہے کہ اس کو بٹھا کر لاد لیا جائے اور جتنا وزن وہ اٹھا سکتا ہے اتنا وزن دنیا کا کوئی جانور بھی لے کر اٹھ نہیں سکتا ۔ اس لحاظ سے اس کو دیکھا جائے تو بھی یہ فی الواقعہ قدرت الی کی ایک نشانی ہے ۔
اس جگہ قربانی کے جانور کی حیثیت سے اس کو بیان کیا گیا ہے اس لئے اس کے ذبح کرن کی کیفیت کو بیان کیا گیا کہ اس کو ذبح کیونکر کیا جائے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کا طریقہ یہ بتایا اور سکھایا کہ اس کو کھڑا ہی رہنے دیا جائے باقی جانوروں کی طرح زمین پر لٹانے کی ضرورت نہیں اس کا ایک پاؤں اوپر کرکے اچھی طرح باندھ دو اور تین ٹانگوں پر یہ کھڑا رہے گا اور دور سے نیزہ لے کر اس کی حلقوم میں نشانہ رکھ کر مارو اور بسم اللہ اللہ اکبر کہو اس طرح اس کا خون فوارہ کی طرح بہہ نکلے گا تو ” وجبت “ یہ گر پڑے گا پھر اس کی کھال اتار دو اور خوراک کے طور پر پکا کر استعمال کرو اس کی کھال اس کی ہڈیاں اس کے بال ساری چیزیں تمہارے کام کی ہیں ان کو کام میں لاؤ ، نحر وذبح کے طریقہ پر ہم پیچھے سورة الانعام کی آیت 118 ‘ 119 میں بیان کرچکے ہیں ۔
طریقہ استعمال کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان قربانی کے جانوروں کا گوشت خود بھی استعمال کرو اور غریب لوگوں اور فقیروں میں بھی اس کو تقسیم کر دو زیر نظر آیت میں (قانع) اور (معتر) کے الفاظ بیان کئے گئے ہیں (قانع) قناعہ ہی سے ہے ، یعنی ایسا آدمی جس کو تھوڑی چیز بھی مل جائے گی تو وہ قناعت کرتے ہوئے مزید تقاضا نہیں کرے گا اور (معتر) وہ جس کی عادت میں مانگنا اور طلب کرنا ہی راسخ ہے (عر) اور (عر) دراصل خارش کو کہتے ہیں خارش والا کیا کرتا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے بس اللہ سے معافی طلب کرو کہ خدا کرے یہ بیماری کسی کو لاحق نہ ہوجائے بس یہی حال ان پیشہ ور مانگنے والوں کا ہے اور اس جگہ گوشت دینے کی بات ہے ہر طرح کے سوال کی نہیں فرمایا جو تقاضا کرتا ہے اس کو بھی دے اور جو تقاضا نہیں کرتا کو بھی دے دو کیونکہ اس کا کھانا یا استعمال کرنا ہے لہذا وہ استعمال ہوجائے بےکار اور ضائع نہ جائے لیکن ہم مسلمانوں نے جو کچھ ان جانوروں کے ساتھ کیا ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں اور پھر جو کچھ اس کی تقسیم میں ہم نے فرضی حصے بخرے ٹھہرائے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں کہ حقیقت حال سب پر روشن ہے ۔
” اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے “ ذرا غور کرو کہ اتنا بڑا جانور اس کا پاؤں اوپر کرنے کا تم نے کہا تو اس نے پاؤں کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیا اور تم نے اس کو اوپر کر کے دوہرا کیا اور اوپر سے مضبوطی کے ساتھ اسکو باندھنے لگے اور وہ خاموش رہا تم نے رسی باندھی اور اس کو دکھا کر نیزہ اٹھایا اور دور سے بھاگ کر یا اس سے ذرا فاصلہ پر رہ کر زور کے ساتھ نیزہ اس کے حلقوم میں پیوست کردیا لیکن اس نے تم پر کوئی حملہ کیا ؟ ہرگز نہیں سوچ لو کیا تم اتنے قوی اور طاقتور ہو کہ اس جانور سے تم میں طاقت زیادہ ہے ؟ نہیں ! ہرگز نہیں یہ اس شان کریمی کی کرشمہ سازی ہے کہ اس نے اتنے بڑے جانور کو تمہارے سامنے مسخر کردیا ہے اور تم اس سے یہ سارا کام اس لئے لے رہے ہو کہ تم اس کے مالک قرار پاگئے اور ذرا غور کرو کہ تمہارا بھی کوئی مالک ہے یا نہیں ؟ تم بھی کسی کے فرمانبردار رہنا چاہتے ہو یا نہیں ؟ تمہاری فرمانبرداری کیا ہے ؟
فرمایا تمہاری فرمانبرداری بھی ہم تم کو بتائے دیتے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ تم اس کے اس احسان کا شکریہ ادا کرو جس نے تمہارے لئے اتنا بڑا جانور بنایا اور پھر یہ کہ اس کو تمہارا فرمانبردار بنادیا کہ تم نے اس کے گلے پر چھری چلائی ‘ اس کو آگ پر بھونا اور کھا گئے تو زبان سے اس بات کا اقرار تو کرو کہ الحمد للہ الذی اطعمنا ۔ ” سب اچھی تعریفوں کی مالک وہ ذات ہے جس نے ہم کو کھلایا ۔ “ اور اتنا بڑا جانور ہمارے لئے مسخر کردیا تاکہ جو کام ہم چاہیں اس سے لیتے رہیں لیکن وہ ذرا منہ زور بھی نہ ہو ۔
Ayah 22:37اللہ رب العزت کو تمہارے ان جانوروں کے خون اور گوشت نہیں پہنچتے :
37۔ گزشتہ حقیقت کو ایک دوسرے رنگ میں رنگ کر تمہارے سامنے رکھ گیا تاکہ تم ذرا غور کرو تو سمجھ جاؤ فرمایا یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ان قربانیوں کے گوشت ‘ خون ‘ کھال ‘ اون اور دوسری چیزوں سے کوئی استفادہ نہیں کرتا کہ اس کو ان چیزوں میں سے کسی کی ضرورت ہو اس لئے اس نے تم کو قربانی کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ مشرکین نے سمجھا تھا اور کبھی وہ ان جانوروں کا خون لے کر بیت اللہ کی دیواروں پر لگاتے تھے اور کبھی ان کے گوشت کو لے کر اپنے ان معبودوں کے بتوں کے سامنے جا رکھتے تھے جن کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہمارا اس طرح کرنے سے چڑھاوا منظور ہوگا اور وہاں سے اٹھا کر اس کے نگران اور محافظ لے جاتے تھے اور جن لوگوں کو اس طرح کا مال ملتا تھا وہ اس کو لوگوں کے دلوں میں مزید راسخ کرتے تھے کہ تمہاری قربانی قبول ہونے کی نشانی ہی یہ ہے کہ تم نے اس طرح اس کو یہاں لا کر سر چڑھا دیا ورنہ پھر قربانی قربانی ہی نہیں ہوگی ۔ وہی رسم بد ہمارے ہاں اس طرح منتقل ہوئی کہ ہم جب مردوں کو ثواب بھیجنا چاہتے ہیں تو ان ملاؤں کے سامنے حلوے ‘ گوشت ‘ روٹیاں ‘ دودھ ‘ پھل اور کپڑے پیش کرتے ہیں کہ ہمارے ملاں بھی ان کا ثواب طفیل روح پاک محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیں گے وہ ان چیزون کو اپنے گھر لے جاتے ہیں اور مزے لے لے کر کھاتے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر پکا کرتے رہتے ہیں کہ دیکھو یہ وہابی لوگ نہیں مانتے ہم ہی ہیں جو تمہارے مردوں کو اس طرح اس کا ثواب پہنچا سکتے ہیں اور لوگ اس کو باپ دادا کی رسم کے طور پر جاننے بوجھنے کے باوجود وہی کرنے پر مجبور ہیں جو انہوں نے باپ دادا کو کرتے دیکھا تھا ۔
لیکن قرآن کریم نے کس قدر وضاحت فرما دی اور لوگوں کو واضح الفاظ میں بتایا کہ ” یاد رکھو ‘ اللہ تعالیٰ کو تمہاری ان قربانیوں کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے ‘ نہ خون ‘ اس کے حضور جو پہنچتا ہے وہ تو تمہارا تقوی ہے اور اس نے ان جانوروں کو تمہارے لئے فرمانبردار بنا دیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس راہنمائی کے باعث تم اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ اور اس کے نام کی بزرگی وبڑائی بلند کرو اور نیک کرداروں کے لئے خوشخبری ہے ۔ “ اس طرح مسلمانوں کو اپنا شکر ادا کرنے کا طریقہ بھی بتا دیا کہ تم رب ذوالجلال والاکرام کی تکبیر وتہلیل بیان کرو اور غیر اللہ کو اس میں ساجھی اور شریک مت بناؤ اور ان کو قبلہ رو کر کے ان پرچھری چلاتے وقت ‘ نیزہ مارتے وقت ” بسم اللہ واللہ اکبر “ کے الفاظ ادا کرو تاکہ دوسری قوموں سے تمہارا امتیاز ہوجائے اور سب کو معلوم ہوجائے کہ مشرک کون ہے اور موحد کون ؟ اور وہ لوگ جو خوب کار اور نیکو کار ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان کو بشارت سنائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا میں رضائے الہی پر راضی رہے اور آنے والی زندگی میں ان کو اس کا صلہ مزید عطا کیا جائے گا کہ ان کے لئے ابدی جنت تیار کر رکھی ہے جہاں انکی اچھی طرح آؤ بھگت کی جائے گی اور پھر وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔