22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول اور جتنے نبی بھیجے سب کے ساتھ یہ معاملہ ضرور پیش آیا کہ جونہی انہوں نے آرزو کی شیطان نے ان کی آرزو میں کوئی فتنہ کی بات ڈال دی اور پھر اللہ نے اس کی وسوسہ اندازیوں کا اثر مٹایا اور اپنی نشانیوں کو اور زیادہ مضبوط کردیا ، وہ جاننے والا حکمت والا ہے

انبیاء ورسل کی تمنا کیا تھی جس میں شیطان نے کوئی نہ کوئی فتنہ کی بات ڈال دی : 52۔ (تمنی) کی اصل م ن ی ہے اور اس کے معنی ہیں کسی انسان کے دل میں کسی خواہش و آرزو کا پیدا ہونا جو ایک فطری چیز ہے ، (تمنی) کے ایک اٹکل اور اندازہ سے پڑھنے کے بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ معنی مراد ہو ہی نہیں سکتے اس لئے کہ جو جبریل (علیہ السلام) وحی لائے تھے وہ جبریل یا خود نبی کریم ﷺ اٹکل اور اندازے سے نہیں پڑھتے تھے بلکہ بالکل وہی پڑھتے تھے جو کلام الہی آپ پر نازل ہوتا تھا جس کے نازل ہونے میں بھی کوئی شک نہیں تھا اور اس کے پڑھنے میں کوئی اٹکل اور اندازہ استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کی پوری ذمہ داری رب العزت کے ذمہ تھی اور پہلے ہی روز آپ کو اس کے لئے پابند کردیا گیا تھا کہ جو کچھ ہماری طرف سے پڑھا جائے گا اس کا یاد کرانا اور بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے آپ اس کی اتباع کریں فقط ۔ لہذا اس جگہ دوسرے معنی مراد ہی نہیں ہو سکتے لہذا وہی پہلے معنی مراد ہیں ۔ رہی یہ بات کہ ایک نبی نبی ورسول کے دل میں کیا آرزو اور خواہش پیدا ہو سکتی ہے تو وہ بلاشبہ یہی ہے کہ تمنی الرسول اوالنبی رغبتہ فی نشر دعوتہ واستتباب ماجاء بہ۔ والشیطن یلقی الشبھات فی قلوب المدعوین لل ایمان ویحاول الاتتم امنیہ الرسول اوالنبی۔ ” ہر ایک رسول اور نبی کی یہ خواہش تھی کہ جس دعوت کو وہ لے کر قوم کے پاس آیا ہے لوگ اس کو برضاؤ رغبت قبول کرلیں اور شیطان نے ہمیشہ ان کی اس آرزو کے پورا ہونے میں رخنے ڈالے اور طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کیں تاکہ کسی رسول ونبی کی آرزو پوری نہ ہوجائے ۔ “ اور اس مضمون کو قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا کہ : (آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (112) وَلِتَصْغَی إِلَیْْہِ أَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُواْ مَا ہُم مُّقْتَرِفُونَ (الانعام 6 : 112 ‘ 113) اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن ٹھہرا دیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے کو دکھاوے کی خوشنما باتیں سکھاتے ہیں تاکہ لوگوں کو فریب دیں اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ اس طرح کی دشمنی نہ کرسکتے پس تو ان کو ان کی افترا پردازیوں میں چھوڑ دے اور (یہ ایسا کیوں کرتے ہیں) اس لئے کہ لوگوں کے دل ان کی طرف جھک پڑیں جو لوگ کہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ انکی باتوں کو پسند کریں اور جیسی کچھ بدکرداریاں وہ خود کرتے رہتے ہیں ویسی ہی وہ بھی کرنے لگیں۔ “ اور ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا کہ : (آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ وَکَفَی بِرَبِّکَ ہَادِیْاً وَنَصِیْراً (31) وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلاً (32) وَلَا یَأْتُونَکَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِیْراً ۔ (الفرقان 25 : 31 تا 33) اور اس طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں سے دشمن بنائے اور اطمینان رکھو تمہارا رب راہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے اور یہ کافر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس شخص پر یہ قرآن آخر بیک دفعہ کیوں نہیں نازل کردیا گیا ‘ ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ اس بارگراں کے لئے تمہارے دل کو اس کے ذریعہ سے اچھی طرح مضبوط کردیں اور ہم نے اس کو اہتمام کے ساتھ بالتدریج اتارا اور یہ لوگ جو شگوفہ بھی چھوڑیں گے تو ہم اس کے جواب میں حق کو واضح اور اس کی بہترین تفسیر کردیں گے ۔ “ یہ دونوں آیتیں جو اس جگہ بیان کی گئی ہیں ان کو اور ان جیسی بہت سی دوسری آیات کریمات کو سامنے رکھ کر زیر نظر آیت جس کی یہاں تفسیر کی جا رہی ہے سمجھنے کی کوشش کی جائے اس کا مطلب صاف سمجھ میں آتا ہے کہ بلاشبہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی خواہش و آرزو تو دوسری انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح یہی تھی کہ آپ ﷺ کی قوم اس پر ایمان لائے لیکن شیطان اور اس کے ساتھیوں نے کیا کیا سب پر روشن ہے کہ وہ آخر الزمان نبی محمد رسول اللہ ﷺ تیرہ برس تک معاذ اللہ اپنی ساری کوششوں کے باوجود اپنے مٹھی بھر پیروؤں کو لے کر وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگیا اور اس صورت حال میں جب لوگ دیکھتے تھے کہ یہ تو کہتا تھا کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس کی تائید بھی میرے ساتھ ہے اور قرآن کریم کے ان اعلانات کو دیکھتے کہ نبی ورسول کو جھٹلانے والی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو انہیں آپ ﷺ کی اور قرآن کریم کی صداقت پر شبہ گزرتا اگرچہ مسلمانوں کو پورا یقین تھا تاہم دوسرے لوگ تو اس شبہ میں مبتلا تھے اور پھر یہ بھی کہ آپ ﷺ کے مخالفین اس وقت طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے کہ کہاں گئی وہ تائید الہی اور وہ عذاب کی وعیدیں ‘ اب کیوں نہیں آجاتا وہ عذاب جس کے ہم کو ڈراوے دیئے جا رہے تھے انہیں باتوں کا جواب دراصل دیا جارہا ہے اور پھر آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اس طرح کی تکذیب کوئی نئی تکذیب نہیں یہ تو ہر نبی کی کی گئی ہے اور ان کے پروپیگنڈے سے جو لوگ متاثر ہو رہے تھے انکو سمجھانے کے لئے یہ آیات کریمات نازل کی گئیں اور آپ ﷺ کو مخاطب کرکے ان سے کہا گیا کہ : ” کسی قوم کا اپنے نبی ورسول کی تکذیب کرنا انسانی تاریخ کا کوئی نیا اور انوکھا معاملہ نہیں پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے پھر اس تکذیب کا جو انجام ہوا وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ان تباہ شدہ قوموں کے آثار قدیمہ کی صورت میں موجود ہے تم بھی سبق حاصل کرنا چاہو تو اس سے حاصل کرسکتے ہو رہی یہ بات کہ تکذیب کرتے ہی وہ عذاب کیوں نہ آگیا جس کی وعیدیں قرآن کریم میں بیان کی گئی تھیں تو ذرا غور کرو کہ یہ کب کہا گیا تھا کہ ہر تکذیب سے فورا ہی عذاب نازل ہوجاتا ہے اور کسی بھی نبی نے یہ کب کہا تھا کہ عذاب لانا اس کا کام ہے اس کا فیصلہ تو یقینا اللہ کے ہاتھ ہی ہے رہی یہ بات کہ عذاب آئے گا تو وہ اب بھی کہی جا رہی ہے کہ آئے گا لیکن اپنے وقت پر جب اللہ چاہے گا ۔ “ ” پھر یہ بھی کوئی نئی بات نہیں کہ پیغمبر کی آرزوؤں اور تمناؤں کے بر آنے میں رکاوٹیں واقع ہوں یا اس کی دعوت کے خلاف جھوٹے الزامات اور طرح طرح کے شبہات و اعتراضات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو یہ سب کچھ بھی تمام گزشتہ پیغمبروں کی دعوتوں کے مقابلہ میں ہوچکا ہے مگر بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی فتنوں کا استیصال کیا اور ساری رکاوٹوں کے باوجود دعوت حق فروغ پائی اور محکم آیات کے ذریعہ شبہات کے سارے رخنے بھر دیئے گئے اور شیطان اور اس کے سارے چیلے ان تدبیروں سے اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا نہ دکھا سکے اور اللہ تعالیٰ نے انہی کو انسانوں کے درمیان کھرے اور کھوٹے کی تمیز کا ذریعہ بنا دیا ‘ کھروں نے دعوت حق کو قبول کیا اور کھوٹے خائب و خاسر ہو کر مٹ گئے اور پھر ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہ رہا۔ “ لیکن افسوس کہ ہماری بہت سی تفاسیر میں ایک ایسی بات زیر نظر آیت کی تفسیر میں بھردی گئی کہ جی نہیں چاہتا کہ اسکو نقل کیا جائے لیکن ہم اس جگہ نقل کفر کفر نباشد کے تحت اس کا مختصر ذکر کردینا چاہتے ہیں تاکہ قارئین کو معلوم ہوجائے کہ ایک معمولی سی ٹھوکر انسان کو کہاں سے اٹھا کر کہاں پھینک دیتی ہے اور اس طرح ٹھوکریں ہمارے مفسرین کو بہرحال لگتی رہی ہیں پھر جب کسی ٹھوکر پر کسی نے نظر کی اور اس کو وہ ٹھوکر محسوس ہوگئی اس نے ہمت کرکے اس کے خلاف تحقیق شروع کی تو بات کچھ کی کچھ ہوگئی اور ازیں بعد جہاں اس ٹھوکر کے بیان کرنے والے موجود رہے اس کے رد کرنے والوں نے بھی اپنا زور کمال دکھایا لیکن جہاں آج تک کسی کو یارانہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ کسی نے کوئی بات محسوس کی تو وہ خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکل گیا اور بعد میں جو آیا اس نے اس کی پیروی کی اور خاموشی ہی کو غنیمت سمجھا لیکن جب کافی وقت گزر گیا اور اس کے بعد کسی نے کوئی بات کرنی چاہی تو اس کے زمانہ کے سارے لوگ اس کے گلے پڑگئے اور کفر کفر کے فتو وں نے اس کو ایسا دبایا کہ وہ اٹھ ہی نہ سکا اس طرح کتنی ہی باتیں ہیں جو اس خطرہ کے پیش نظر آج تک دبتی چلی آرہی ہیں اور کتنی ہی ہیں جو واضح ہونے کے باوجود آج بھی کسی کو ہضم نہیں ہوتیں اور علمائے کرام اور علامہ حضرات قوم کو باور کراتے ہیں کہ ایسی باتوں کو سن کر ان کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے یہ معتزلہ کے فتنے ہیں کہ دہریوں کی کارستانیاں یہ کھلنڈرے لوگوں کا کام ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دیکھو آج تک کسی مفسر نے یا کسی عالم نے اس کو بیان کیا ہے ؟ کیا آج انہی کی سمجھ میں یہ بات آئی ہے ؟ یہ اور اس طرح کی دوسری باتوں میں ان کو ٹال دیا جاتا ہے بہرحال یہاں جو روایت بیان کی گئی ہے وہ اس طرح ہے کہ ” جب رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کی قوم والوں نے رخ پھیرلیا اور کلام اللہ سے ان لوگوں کا دور دور رہنا آپ ﷺ پر شاق گزرا تو آپ ﷺ کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی طریقہ ایسا پیدا ہوجاتا جس سے آپ ﷺ کی قوم کے لوگ آپ ﷺ کے قریب آجاتے ، آپ ﷺ کو قوم والوں کے مسلمان ہوجانے کی بڑی ہی رغبت تھی چناچہ ایک روز آپ ﷺ قریش کے جلسہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة النجم نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی جب آپ ﷺ پڑھتے پڑھتے (آیت) ” افرائیتم اللات والعزی ، ومنوۃ الثالثۃ الاخری “۔ پر پہنچے تو شیطان نے وہ دبی خواہش جو آپ ﷺ کے سینہ میں پیدا ہوتی رہتی تھی زبان سے نکلوا دی اور آپ ﷺ کی زبان سے آیت مذکورہ کے بعد تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترجی کے الفاظ نکل گئے اور قریش نے جب یہ الفاظ سنے تو بہت خوش ہوئے اور رسول اللہ ﷺ اپنی تلاوت میں مستغرق رہے اور اس طرح سورت ختم کرلی اور پھر جب آخر سورت پر پہنچ کر سجدہ کیا تو کوئی مسلمان یا مشرک بغیر سجدہ کئے نہ رہا اور کعبہ میں جو مشرک تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا صرف ولید بن مغیرہ اور سعید بن عاص نے سجدہ نہیں کیا اور انہوں نے ایک ایک مٹھی کنکریاں اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگالیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں بہت بوڑھے تھے اور سجدہ کرنے کی ان میں طاقت نہ تھی اس کے بعد قریش منتشر ہوگئے اور اپنے معبودوں کا جو ذکر سنا تھا اس سے بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب تو محمد ﷺ نے بھی ہمارے معبودوں کا ذکر اچھے الفاظ میں کردیا ہے ہم کو اقرار ہے ‘ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہی زندگی موت دیتا ہے وہی پیدا کرتا ہے اور وہی زرق دیتا ہے لیکن ہمارے معبود اللہ کے دربار میں ہماری سفارش کریں گے اب جب کہ محمد ﷺ نے بھی ان کو ان کا حصہ دے دیا ہے تو اب ہم محمد ﷺ کے ساتھ ہیں۔ غرض شام ہوئی اور جبرئیل (علیہ السلام) محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا محمد ﷺ آپ ﷺ نے یہ کیا کیا جو کلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے پاس لایا تھا اس کے سوا کچھ دوسرا کلام بھی آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے تلاوت کردیا ، نبی کریم ﷺ یہ بات سن کر بہت غمگین ہوگئے اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب کا بہت ڈر لگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وما ارسلنا من قبلک) الخ نازل فرمائی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی عطا فرمائی ۔ یہ اقتصاء کے ساتھ بیان کیا ہے جب کہ اصلی روایت میں اور مضمون بھی بیان ہوا ہے ۔ یہ روایت ابن جریر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اپنی اپنی عربی تفاسیر میں درج کی ہے اور ابن سعد نے طبقات میں ‘ الواحدی نے اسباب النزول میں ‘ موسیٰ بن عقبہ نے مغازی میں ‘ ابن اسحاق نے سیرت میں اور ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر ‘ بزار ‘ ابن مردویہ اور طبرانی نے اپنے احادیث کے مجموعوں میں بیان کیا ہے اور جن سندوں سے یہ نقل ہوا ہے وہ محمد بن قیس (رح) ‘ محمد بن کعب قرظی (رح) ‘ عروہ بن زبیر (رح) ‘ ابو الصالح (رح) ‘ ابو العالیہ (رح) ‘ سعید بن جبیر (رح) ‘ ضحاک (رح) ‘ ابوبکر (رح) بن عبدالرحمن بن الحارث ‘ قتادہ (رح) ‘ مجاہد (رح) ‘ سوی (رح) ‘ ابن شہاب (رح) ‘ زہری اور ابن عباس ؓ پر ختم ہوئی ہے اور یاد رہاے کہ ابن عباس ؓ کے سوا ان میں کوئی بھی صحابی نہیں ہے اوپر بیان کی گئی تفاسیر ‘ مغازی اور سیر کی کتابوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کو جمع کیا جائے تو ایک دفتر تیار ہوجائے اور پھر ان کے اختلاف کو شمار کیا جائے جو ان روایات میں پائے جاتے ہیں تو وہ بیسیوں سے متجاوز ہوجائیں اور جن جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے وہ بھی بہت سی ہیں مثلا یہ کہ جو اوپر الفاظ نقل کئے گئے وہ نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے نکلے تھے یا نہیں ؟ آپ ﷺ کو معلوم ہوا تھا یا نہیں ؟ آپ ﷺ اس وقت عالم غشی میں تھے ؟ یہ الفاظ شیطان نے آپ ﷺ کی آواز سے جاری کرا دیئے تھے ؟ یہ الفاظ آپ ﷺ نے نہیں کہے تھے بلکہ شیطان نے کہے تھے ؟ یہ الفاظ کسی مشرک نے آپ ﷺ کے کلام میں ملا کر پڑھ دیئے تھے ؟ آپ ﷺ اونگھ گئے تھے کہ آپ ﷺ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ؟ باتیں تو بہت کہی گئیں لیکن افسوس کہ اس پوری عبارت کو سامنے رکھ کر کسی نے بھی غور نہ کیا کہ یہ کلام آج بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اور آج بھی ذرا عربی زبان کے ساتھ شد بدھ رکھنے والا انسان سمجھ جاتا ہے کہ یہ جملے اصل عبارت قرآن کریم کے ساتھ میل نہیں کھاتے اور وہ بات جو بیان کی گئی ہے ان سے ثابت نہیں کی جاسکتی جب تک ان کو سورت سے الگ نہ کردیا جائے ، بہرحال اس ساری بات سے اختلاف رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے ‘ ان کا ذکر نہ کرنا خیانت ہوگی اس لئے جان لینا چاہئے کہ ان ساری روایات کی تردید کسی نہ کسی رنگ میں جن بزرگوں سے ملتی ہیں ان میں ابن کثیر (رح) ‘ ابن خزیمہ (رح) ‘ قاضی ابوبکر (رح) ‘ ابن العربی (رح) ‘ امام رازی (رح) ‘ قرطبی (رح) ‘ اور بدرالدین عینی (رح) ‘ وغیرہ ہیں لیکن لوگ درمیان میں بھی نظر آتے ہیں جو یا تو خاموش ہیں یا دبی زبان میں یہ کہتے ہیں کہ اتنے کثیر لوگ جس بات کو بیان کرتے ہیں آخر کوئی حقیقت تو اس میں ضرور پائی جاتی ہے گویا ان کے کہنے کے مطابق دال میں کچھ کالا ضرور موجود ہے اور ان میں جو سب سے قد آور شخصیت نظر آتی ہے وہ امام ابن حجر (رح) ہیں اور اس وقت کے مفسرین جنہوں نے اردو میں تفاسیر لکھی ہیں ان میں سے لوگوں نے ان روایات کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا اور یا ان کا اپنی بساط کے مطابق رد کردیا ہے جو ایک اچھا اقدام ہے ۔ میرے جیسا ایک معمولی سمجھ بوجھ کا انسان جسے نبی اعظم وآخر ﷺ کے مقام کا پاس ہے وہ تو اس روایت اور اس جیسی دوسری روایات کو سنتے ہی کہہ دے گا کہ یہ جھوٹ کا پلندہ ہے بلکہ دشمنان اسلام کی کسی سازش کا نتیجہ ہے لیکن بعض محققین ‘ مفسرین نے بھی اس کا جائزہ لیا ہے اور تحقیق کے بعد اس کا انکار کیا ہے جیسے امام فخر الدین رازی (رح) نے اس روایت کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس روایت کو سطحی قسم کے لوگوں نے بیان کیا ہے لیکن محقق علمائے کرام نے اس کے متعلق یہ فیصلہ دیا ہے ” ھذہ الروایہ باطلہ موضوعۃ “ یہ روایت جھوٹی ہے اور گھڑی ہوئی ہے اور ” واحتجوا علیہ بالقران والسنہ والمعقول “ اور اس کے بطلان اور موضوع ہونے پر ان علماء نے قرآن وسنت سے اور عقلی دلائل پیش کئے ہیں اور اس کے بعد امام موصوف نے مرقومہ بالا آیات ذکر کی ہیں اور امام محمد بن اسحاق کا قول نقل کیا ہے کہ یہ قصہ ذندیقوں کا گھڑا ہوا ہے اور عقلی دلائل پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ جو شخص کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بتوں کے بارے میں تعریفی جملے کہے وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو نبی کریم ﷺ کی بعث کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے نیز شریعت ‘ قرآن اور دین اسلام کی کسی بات پر یقین ہی نہیں رہتا ۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے کہ ان ھذہ القصہ موضوعۃ “ یہ قصہ موضوع ہے اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ بعض مفسرین نے اسے اپنی تفسیروں میں نقل کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے ” خبرواحد لایعارض الدلائل النقلیہ والعقلیہ المتوارترۃ کہ یہ خبر واحد ہے اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ جو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہوں ان کے سامنے انکی کوئی وقعت نہیں ہے اس روایت کے ناقلین نے اس کی جو مختلف تاویلیں کی ہیں امام موصوف نے ان کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اور فرمایا ہے کہ اس روایت کی کوئی تاویل بھی درست نہیں ہے اور اس کا کوئی صحیح محل اور مصداق تلاش نہیں کیا جاسکتا ‘ یہ روایت اپنی تمام تاویلات ‘ احتمالات اور اختلاف الفاظ کے ساتھ مسترد کردینے کے قابل ہے ۔ (تفسیر کبیر ملخصا) علاوہ ازیں اس روایت کو اور بھی بہت سے علماء اسلا نے من گھڑت قرار دیا ہے مثلا علامہ ابن حبان غرناطی (رح) لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی تفسیر کو اس کے بیان سے آلودہ نہیں کیا مجھے ان لوگوں پر حیرت ہے کہ انہوں نے اپنی تالیفات میں اس واقعہ کو لکھنے کی کیسے جسارت کی حالانکہ قرآن کریم کی ان آیات کو وہ تلاوت کرتے ہیں اور اس سورة النجم کے آغاز میں ہے (آیت) ” والنجم اذا ھوی ، ماضل اصاحبکم وما غوی ، وما ینطق عن الھوی ، ان ھو الا وحی یوحی “۔ ” قسم ہے ستارہ کے رب کی جب وہ غروب ہوا تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے وہ تو اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے ۔ “ پھر ان روشن آیات کی موجودگی میں یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس سورت میں ایسے قبیح کلمات زبان پاک سے نکلے ہوں اور دوسری جگہ نبی کریم ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح اعلان کرایا ہے (آیت) ” قل مایکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی “۔ (یونس 10 : 15) اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری یہ مجال نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام میں اپنی مرضی سے ردوبدل کر دوں ‘ میں تو صرف وحی کا اتباع کرتا ہوں “ اور اس طرح ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں یہ اعلان فرمایا کہ (آیت) ” ولو تقول علینا بعض الاقاویل ، لاخذنا منہ بالیمین ، ثم لقطعنا منہ الوتین “۔ (الحاقہ 69 : 44 تا 46) ” اور اگر اس (رسول ﷺ نے خود گھڑ کر کوئی بات بھی ہماری طرف منسوب کی ہوتی تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے “ کیا اس ارشاد کے بعد بھی اس چیز کا گمان کیا جاسکتا ہے بلاشبہ یہ وہ قرآن کریم کی نصوص ہیں جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق کوئی اس طرح کی بات منسوب کرنے سے قطعا روکتی ہیں اور بول بول کر کہتی ہیں کہ یہ بات جو گھڑ کر نبی کریم ﷺ کے ذمہ لگائی گئی بالکل جھوٹی ہے ۔ اگر ایسا ہونا ممکن ہوتا تو تمام احکام ‘ آیات اور سارا دین اسلام ہی مشکوک ہوجاتا۔ (البحر المحیط) علامہ ابو عبداللہ القرطبی (رح) نے بھی احکام القرآن میں اس روایت کی خوب تردید کی ہے بلکہ انہوں نے قاضی عیاض (رح) کے متعلق بھی تحریر کیا کہ نبی کریم ﷺ کی طرف اس کو منسوب کرنا آپ ﷺ کی عصمت کو داغدار کرنا ہے اور یہ کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہرگز ایسی غلطی نہیں ہو سکتی نہ قصدا ‘ نہ عمدا ‘ نہ سہوا اور نہ غلطا اور اس طرح علامہ آلوسی نے بھی روح المعانی میں امام ابو منصور ماتریدی کے حوالہ سے اس کو رد کردیا ہے ، قاضی ابوبکر ابن العربی (رح) نے جو تحریر کیا ہے اس کی تفصیل بہت ہی لمبی ہے اور انہوں نے اس کے ساتھ اور بھی بہت سی باتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں اور ان کو وہیں سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل دی ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اس سے کام لے اور جب کوئی بات سنے تو پہلے اس پر غور کرے کہ آیا یہ بات صحیح اور درست بھی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے کہ جو کچھ وہ سنے اس کو آگے بیان کر دے “ اگر ان جملوں کو جو اس روایت میں بیان کئے گئے ہیں صرف اس جگہ رکھ کر دیکھ لیا جاتا جہاں ان کی تلاوت کا محل بیان کیا گیا ہے تو ہر قاری خود ہی اس کی تردید کردیتا ہے کہ یہ فقرات خود ہی بول رہے ہیں کہ ان آیات کریمات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ، بیان تو یہ کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ پر سورة النجم نازل ہوئی اور آپ ﷺ قریش مکہ کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے تو اس کے نزول کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے اس کو پڑھنا شروع کیا اور جب ان آیات پر پہنچے کہ (آیت) ” افرء یتم اللت والعزی ، ومنوۃ الثالثۃ الاخری “۔ تو آپ ﷺ کی زبان سے نکلا یا شیطان نے نکلوایا یا شیطان یا کسی مشرک نے اس میں ملا دیا تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترجی اور پھر آگے مضمون قرآن کریم سے آپ ﷺ نے پڑھا (آیت) ” الکم الذکر ولہ الانثی ، تلک اذا قسمۃ ضیزی “۔ ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک اور دیوی مناۃ کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ؟ ” یہ بلند پایہ دیویاں ہیں ‘ ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے “ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لئے ؟ یہ تو بڑی ہی بری تقسیم ہے ۔ “ کوئی عقل مند اس عبارت کو اگر پڑھ کر غور کرے گا تو عبارت خود بتادے گی کہ ” یہ بلند پایہ دیویاں ہیں ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے “ کے الفاظ مسلسل عبارت میں بالکل اچھوت ہیں اور ان کا مفہوم دوسری آیات قطعا قبول نہیں کرتیں ۔ اس طرح بلند پایہ دیویاں تسلیم کرنے کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تقسیم تو بہت بری ہے کہ بیٹے تمہارے لئے ہوں اور بیٹیاں اللہ کے لئے ، بلاشبہ نہ تو کہنے والا اس طرح کی بات کبھی کہہ سکتا ہے اور نہ سننے والا کبھی ایسی بات کو پسند کرسکتا ہے کہ ان کے معبودوں کو ٹھکرانے کے باوجود اور ان کی اس تقسیم کو برا کہنے کے باوجود اس درمیانی فقرہ کو سن کر وہ کہہ دیں کہ چلو آج ہمارا اور محمد ﷺ کا اختلاف ختم ہوگیا ۔ اس لئے یہ ایک بالکل فضول اور لغو بات ہے ۔ پھر تعجب پر تعجب یہ کہ آمیزش سورة النجم میں کی گئی جو کہ تقریبا 5 نبوی میں نازل ہوئی اور پھر آمیزش پر عتاب جو بیان کیا گیا اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت 83 میں ہوا جو النجم کے کم از کم چھ یا سات سال بعد نازل ہوئی پھر جب آپ ﷺ کا غم زیادہ بڑھ گیا تو اس کو دور کرنے کے لئے مزید تین چار سال کا انتظار کرایا گیا ، گویا ہونے والے گناہ پر چھ سال بعد گرفت ہوئی حالانکہ اس گھڑی ہوئی روایت میں بھی بیان یہ کیا گیا ہے کہ اس شام کو جبریل آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ آپ ﷺ نے کیا کیا ؟ یہ فقرات میں تو لے کر نہیں ؤیا تھا جس سے آپ ﷺ کو بہت غم ہوا اگر کوئی عتاب ہوا تھا تو جبریل (علیہ السلام) کو اس وقت بتا دینا چاہئے تھا جس کا ذکر ساتھ ہی النجم میں کردیا جاتا اور پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کیا تھا تو وہیں اس کی معافی کا ذکر بھی کردیا جاتا یہ آٹھ سال کا وقفہ دے کر ایک سوئی ہوئی بات کو پھر جگا دینے کے مترادف ہے جس کوئی سرپیر آپس میں ملتا نظر نہیں آتا لہذا یہ بات بالکل گھڑی گئی ہے اور پھر یہ ایک ہی نہیں اس طرح کی بیسیوں باتیں ہیں جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے ذمہ خواہ مخواہ لگا دی گئی ہیں مخالفین نے تو ظلم کا بیڑا اٹھایا تھا چلو جو وہ کرتے رہے کرتین ہی رہے لیکن اپنوں نے کس سادگی سے ان کی باتوں کو قبول کرلیا اپنی سمجھ میں بالکل نہیں آتا اس لئے سرپیٹ کر رہ جاتے ہیں ، دراصل بات یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے تسلیم شدہ انبیاء کرام پر جب طرح طرح کے الزام لگائے اور ان کی سیرتوں کو داغدار کرنے میں کوئی تامل نہ کیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ‘ جیسے جلیل القدر نبی ورسول انکی بدگوئیوں سے نہ بچ سکے اور جو ظلم انہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر کیا اس کی تفصیل بھی آپ پیچھے پڑھ چکے تو انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر بھی سیاہی کے چھینٹے ڈالنے کی کوشش کی اور آپ کی پاک سیرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی اور آج انہی کی ان کارستانیوں کا تذکرہ ہماری کتب میں بھی نظر آتا ہے گویا اپنوں نے اس کو سادگی سے قبول کرلیا یا اس طرح بیان کیا کہ اس کا رد نہ کرسکے کہ رد ہونے والی بات سے کود بخود ہی رد ہوتی جاتی ہے لیکن بہرحال اس سے غلط فہمی ضرور پیدا ہوئی لیکن افسوس کہ یہ ایک ہی بات نہیں بلکہ اس طرح کی بیسیوں باتیں ہیں جو بالکل اسی طرح غلط فہمیاں پیدا کردیتی ہیں ۔ قرآن کریم میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو قصے بیان ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایک پر ہاتھ صاف کیا گیا اور ہر ایک کی جان نکال لی گئی ، قرآن کریم کا انداز بیان یہ ہے کہ وہ قصوں کی غیر ضروری تفصیلات چھوڑ کر صرف کام کی باتیں لے لیتا ہے اور اس طرح واقعات کے درمیان جو خلا چھوٹ جاتا ہے پڑھنے والا خود ہی اسے اپنے تصور سے یا بیرونی معلومات سے اگر وہ ہوں تو بھر لیتا ہے مگر اسرائیلی مذاق رکھنے والوں نے اس خلا کو افسانوں سے پر کیا اور افسانے بھی ایسے پست وگھٹیا کہ ان کی آمیزش سے ان قصوں کے سارے اخلاقی فوائد برباد ہو کر رہ گئے ، بدقسمتی سے قصص القرآن کی تفسیروں میں یہی اسرائیلیات کثرت سے رائج ہوگئے اور قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والوں کو اکثر شبہات انہی کی وجہ سے پیش آتے ہیں ۔ “ لیکن اس سورت میں تو کوئی ایسی وجہ نہ تھی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی خلا تھا لیکن ہوشیار یہودیوں نے دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ پر بھی اپنی خوب مہارت سے ایسے ایسے الزامات تراشے کہ آج ان کو دیکھ ‘ پڑھ اور سن کر عقل حیران ہوتی ہے کہ کس صفائی کے ساتھ انہوں نے یہاں بھی اپنا ہاتھ دکھایا اور ہمارے بزرگوں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک گئے ۔ یہ ہم اس لئے کہنے کے لئے مجبور ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس قوم کے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی صفائی پیش کی ہے اور ان کا لگایا ہوا ایک ایک داغ ان کے دامنوں سے دھو دیا اور اس طرح دھویا کہ اس کا کوئی داغ دھبہ بھی قرآن کریم پڑھنے سے نظر نہیں آتا لیکن انہوں نے خوش ہونے کی بجائے مقابلہ شروع کردیا اور ان سب داغوں کو جنہیں قرآن کریم نے دھویا تھا پھر سے داغدار کرنے کی کوشش کی ، قرآن کریم کے نزول کے وقت مدینہ میں یہودی موجود تھے اور نزول قرآن کریم کے چند ہی سال بعد جب مسلمان ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر پھیلتے چلے گئے تو یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کو ان سے میل جول کا موقع ملا ، ان لوگوں نے ہر نبی کے متعلق وہی پرانے قصے جو ان کے ہاں موجود تھے مسلمانوں میں بھی پھیلا دیئے نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کریم کی بہت سی تفسیریں جو مسلمانوں نے لکھیں ان کے اثر سے مسموم ہو کر رہ گئیں اور قصہ گوؤں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کے متعلق بھی ایسے بےسروپا واقعات گھڑنے اور بیان کرنے شروع کردیئے اور آج ہر معاملہ متعداول تفسیروں کا مطالعہ کرنے والوں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس قصے کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم پر اتنا بڑا بہتان حدیث کے اتنے راویوں کے ذریعہ سے جن میں بعض بڑے بڑے قد آور لوگ بھی ہیں اشاعت کیسے پا گیا ؟ اس کا سراغ ہم کو احادیث کے ذخیرہ ہی سے مل جاتا ہے وہ یہ کہ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم ‘ سنن نسائی ‘ سنن ابو داؤد اور مسند احمد میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ عن ابن عباس قال سجد النبی ﷺ بالنجم وسجد معہ المسلمون والمشرکون والجن والانس تابعہ ابن طھمان عن ایوب ولم یذکر ابن علیہ ابن عباس (بخاری کتاب التفسیر پارہ 20) ” ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سورة النجم کی تلاوت فرمائی اور خاتمے پر جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو تمام حاضرین مسلم ‘ مشرک ‘ جن وانس سب سجدے میں گر گئے ، اس کو ابی ضمان نے بھی ایوب سے روایت کیا اور اسمعیل بن علیہ نے بھی لیکن ابن علیہ نے اپنی روایت میں ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ۔ “ روایت میں چونکہ مشرکوں کے سجدہ کا بھی ذکر تھا جو نہ تو بعید از عقل ہے اور نہ ہی اس میں کوئی شک کی بات کیونکہ مشرکوں کو رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ کرنے سے قطعا انکار نہ تھا اور قرآن کریم کی تاثیر سے ایسا ہوجانا بھی بعید از قیاس نہیں ہے اور یہ بھی کہ اقلیت ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتی ہے اکثریت ایک کام کر رہی ہو تو اس میں اقلیت کا مل جانا کوئی ایسی بات نہیں جو بعید از عقل ہو ہم روزانہ ایسی باتیں دیکھتے ہیں کہ اکثریت کے کرنے کے باعث اقلیت بھی کرنے لگتی ہے اب یہ بات جب دوسروں لوگوں کو پہنچی ہوگی کہ مشرک لوگوں نے بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرلیا تو سجدہ کرنے والوں نے یہ بات گھڑی ہو کہ ہم نے محمد ﷺ کو سنا تھا کہ وہ ہمارے بتوں یعنی معبودوں کی تعریف کر رہے تھے تو ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کرلیا اس طرح دوسرے مشرکین کی گرفت پر عین ممکن ہے کہ سجدہ کرنے والے مشرکوں نے کوئی بات بنائی ہو اور پھر وہی بگڑتے بگڑتے یہ صورت اختیار کرگئی ہو حالانکہ صحیح بخاری اور اسی طرح دوسری کسی صحیح حدیث میں ایسی کسی بات کا اشارہ تک نہیں ۔ بہرحال جو کچھ بھی ہوا وہ باہر ہوا احادیث صحیحہ میں اس کا ذکر تک موجود نہیں جو بات بنائی گئی اس کا کوئی وجود موجود نہیں۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

شیطان کی وسوسہ اندازی ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہوجائے جن کے دل روگی ہیں اور سخت پڑگئے ہیں اور بلاشبہ یہ ظلم کرنے والے بڑی ہی گہری مخالفت میں پڑے ہیں

شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی روگی دلوں کے لئے آزمائش بنا دی جاتی ہے : 53۔ کسی قوم کا اپنے نبی اور رسول کی تکذیب کرنا انسانی تاریخ میں کوئی نیا واقع نہیں بلکہ ہر وہ تحریک جو دین کے نام پر کام شروع کرے شیطان کوشش کرتا ہے کہ اس کو کسی نہ کسی ایسی آزمائش میں مبتلا کردیا جائے کہ یہ فیل ہو کر رہ جائے لیکن اس شیطان نے کبھی کھل کر بھی مخالفت کی ؟ ہرگز نہیں اس کی سرشت میں یہ داخل ہے کہ جس کو اس نے دھوکا و فریب میں مبتلا کرنا ہوتا ہے اس کے ساتھ لگ جاتا ہے اور اس کا پیچھا بالکل نہیں چھوڑتا اور اس کا ایسا خیر خواہ بنتا ہے کہ وہ باور کرجاتا ہے کہ اس سے زیادہ میرا کوئی اور خیر خواہ نہیں ہو سکتا اس طرح جب اس کا پورا اعتماد جم جاتا ہے تو ایک دم ایسی چال چلتا ہے کہ اس کو معلوم بھی نہیں ہونے دیتا اور کسی ایسے کنوئیں میں گراتا ہے جہاں سے اس کا نکلنا نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے اور یقینا وہاں سے پھر وہی نکلتا ہے جس پر اللہ کا بہت ہی بڑا فضل ہے ورنہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ بہت ہی کم لوگ ہیں جو نکل پائے ہوں ، فرمایا ہم نے یہ موقع اس کو اس لئے دیا کہ اس طرح کھوٹے اور کھرے کی تمیز بہت جلد ہوجاتی ہے اور آزمائش سے جو نکلتا ہے وہ صحیح معنوں میں کندن ہوتا ہے اور جس میں ذرا بھی میل ہو وہ اس طرح بالکل صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہے اور کٹھیالی میں جاتے ہی وہ جل کر ختم ہوجاتی ہے فتنہ کیا ہے ؟ آزمائش وامتحان ہے اور امتحان کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ فیل یا پاس اگر امتحان نہ ہوتا تو یہ فیل اور پاس کی وضاحت کا اور کیا طریقہ تھا ؟ اس لئے جہاں حق ہے وہاں باطل کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ حق کی پہچان ہوتی رہے بلاشبہ نقیضین میں سے ایک کا خاتمہ کردیا جائے تو دوسری کا نام ونشان ہی مٹ کر رہ جاتا ہے ، بعض اوقات پتیل اور تانبا سونے سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آنے لگتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیتل یا تانبا سونا ہوجائے دونوں میں نہایت واضح فرق موجود ہے ، انسانوں کے اندر نفاق کی ایک ایسی بیماری ہے کہ اس کا پہچاننا نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے ، زیر نظر آیت میں اس بیماری کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اور قرآن کریم نے نفاق کو ایک بہت بڑا روگ قرار دیا ہے اور اس طرح اس کی وضاحت کی ہے کہ اب اس کا پہچاننا اتنا مشکل نہیں البتہ اس کا نکالنا نہایت ہی مشکل ہے ہاں ! اتنی بات ضرور ہے کہ اگر صحیح معنوں میں اس کی پہچان ہوجائے تو پھر پہچان جانے والوں کو اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا ۔ “ بلاشبہ یہ ظلم کرنے والے بڑی ہی گہری مخالفت میں پڑے ہیں ۔ “ گویا یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ اس بیماری نفاق کے باعث حق سے اتنے دور نکل چکے ہیں کہ ان کا واپس آنا ممکن نہیں نظر آتا اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان کو من مانیاں کرلینے دو اس لئے کہ اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا جو علاج سنت اللہ میں طے ہے وہ ان ظالموں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

جن لوگوں نے علم پایا ہے وہ جان لیں کہ یہ معاملہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہے اس طرح اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دلوں میں عجز و نیاز پیدا ہوجائے یقینا اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے

حق کے مقابلہ میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ ۔ 54۔ فرمایا کہ اہل علم میں ایمانی پختگی اس وقت ہی پیدا ہو سکتی ہے جب حق اور باطل کی ٹکر ہو اور باطل کو اپنا زور دکھانے کے لئے مہلت دی جائے ، یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ اس ٹکر میں ہمیشہ حق کامیاب رہا اور باطل مٹ گیا لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ اس سے اصلیت واضح ہوگئی جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے اصل حقیقت اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے ۔ ایک بات آپ مانتے اور یقین رکھتے ہیں لیکن اس کے خلاف جو کچھ بیان کیا جاسکتا ہے اس کا آپ کو علم نہیں تو اس بات کا امکان یقینا موجود ہے کہ اس کے خلاف اگر کچھ بیان کیا جائے یا کوئی بیان کرنے والا کر دے تو آپ کا علم ویقین متزلزل ہوجائے اس لئے تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو لوگ اس کے خلاف بیان کئے جانے سے بھی واقف ہیں اور پھر اس پر یقین رکھتے ہیں وہ اس کے علم ویقین میں بھی پختہ ہوں گے اس کی حقیقت سمجھنا ہو تو سورة آل عمران کی آیت 173 ‘ 174 کا مطالعہ کریں ۔ احد میں جو کچھ ہوا سب کو معلوم ہے اور شاید کچھ لوگ اس حقیقت کو بھی جانتے ہوں کہ ایسا کیوں ہوا ؟ بہرحال احد سے پلٹتے ہوئے ابو سفیان مسلمانوں کو چیلنج دے گیا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا مگر جب وعدہ کا وقت قریب آیا تو اس کی ہمت نے جواب دے دیا کیونکہ اس سال مکہ میں بہت قحط تھا اس نے پہلو بچانے کے لئے یہ تدبیر کی کہ خفیہ طور پر ایک شخص کو بھیجا جس نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبریں مشہور کیں کہ اب کے سال قریش نے بڑی زبردست تیاری کی ہے اور ایسا بھاری لشکر جمع کر رہے ہیں جس کا مقابلہ تمام عرب میں کوئی نہ کرسکے گا چناچہ قرآن کریم میں نے اس کا اس طرح ذکر کیا ” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوتی ہیں ‘ ان سے ڈرو ‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا “ غور کیجئے کہ یہ خبر ایمان بڑھانے کا باعث کیسے ہوگئی حالانکہ اس سے تو ان لوگوں کے حوصلے پست ہوجانے چاہئے تھے ، اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ اس وقت کامیابی ہمارا مقدر ہے اور یہ بات کہنے والے محض دھوکہ دہی سے کام لے رہے ہیں ، اس لئے انہوں نے یہ خبر گرم کرنے والوں کو فورا جواب دیا کہ ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور ہی بہترین کارساز ہے ۔ “ بہرحال اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اور آپ کے ساتھی میدن بدر میں آگئے اور ادھر سے ابو سفیان دوہزار کی جمعیت لے کر چلا مگر دو روز کی مسافت تک جا کر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا اس سال لڑنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اب واپس چلیں اور آئندہ سال آئیں گے چناچہ اس طرح وہ اپنے لوگوں کو لے کر واپس چلا گیا نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آٹھ روز تک بدر کے مقام پر اس کے انتظار میں مقیم رہے اور اس دوران آپ کے ساتھیوں نے ایک تجارتی قافلہ سے کاروبار کر کے خوب مال کمایا اور جب یہ خبر معلوم ہوگئی کہ ابو سفیان اپنا لاؤ لشکر لے کر واپس چلا گیا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس لوٹ آئے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ” آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے کا انہیں شرف بھی حاصل ہوگیا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی فضل و کرم کرنے والا ہے ۔ “ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جن لوگوں کا علم راسخ اور حکمت وبصیرت پر مبنی ہو ان کا ایمان یقینا تقلیدی قسم کا نہیں ہوتا جو ذرا جھونکا آئے تو ڈولنے لگے بلکہ صحیح اور راسخ علم سے صحیح اور راسخ ایمان پیدا ہوتا ہے اور اس راسخ ایمان سے وہ اسلام وجود میں آتا ہے جو ایمان ویقین کی اصل روح ہے اور جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان کوئی وزن قائم نہیں ہوتا معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت گھبرانا ایمان کی پختگی کی نشانی نہیں بلکہ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والوں کا ایمان ہمیشہ متزلزل ہی رہتا ہے اور اسی متزلزل ایمان کو نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے ، ” یقینا اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے “ کہ جب وہ کسی مصیبت کی گھڑی کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں کو صبر وثبات کی راہ دکھا کر پکا کردیتا ہے وہ کبھی ایسی حالت میں گھبرانے والے نہیں ہوتے بلکہ مصیبت میں گھر کر وہ مزید کندن ہو کر رہ جاتے ہیں جو میل کچیل ہوتا ہے وہ بھی ان کا صاف ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کسی نے کہا ہے کہ : تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے :
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں وہ اس بارے میں برابر شک ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ گھڑی اچانک ان کے سروں پر آجائے یا کسی منحوس دن کا عذاب آ نمودار ہو

شک و گمان کے روگی انجام کار ایسے منحوس دن تک پہنچ جاتے ہیں : 55۔ شک و گمان کی دنیا میں بسنے والے اس حالت سے کبھی نہیں نکل سکتے کیوں ؟ اس لئے کہ اس بیماری کے روگی نہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ ادھر کے اور ان کی ساری زندگی اس کشمکش میں گزر جاتی ہے ‘ ان کی چال ہی دراصل یہ ہوتی ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ لیکن ہوا کبھی ایک رخ پر بھی چلتی ہے ؟ اس لئے گویا ان کی کوئی منزل نہیں ہوتی جہاں ان کو پہنچنا مقصود ہوتا ہے اگر ان کی کوئی منزل متعین ہوتی تو وہ اس طرف کو رخ کر کے چلتے اور کم از کم جو قدم اٹھاتے خواہ وہ کتنا ہی سست ہوتا لیکن اتنے قدم تو وہ منزل کے قریب جاتے اور جس کی منزل ہی متعین نہ ہو وہ آخر پہنچے تو کہاں ؟ ظاہر ہے کہ پھر اس کی ایک منزل ہے وہ بھی وہی جو اس کے لئے مقرر کردی گئی ہے اور وہ جس رخ بھی چلیں گے اس منزل تک تو بہرحال پہنچ جائیں گے اور رہی یہ بات کہ وہ منزل کیا ہے جو انہوں نے متعین بھی نہیں کی اور وہ جس رخ بھی چلیں گے اس تک ضرور پہنچ جائیں گے تو یاد رہے کہ اس منزل کا نام موت ہے لیکن موت کے بعد کیا ان کو امن نصیب ہوجائے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو ان کے لئے منحوس دن ثابت ہوگا کہ گویا ان کو پکڑ کر جیل خانہ میں ڈال دیا جائے گا اور آج تک جو کچھ انہوں نے کیا کم از کم ان کی اپنی مرضی اور خواہش کو تو اس میں دخل ضرور تھا اور آج سے ان کی مرضی اور خواہش بھی نہیں ہوگی بلکہ جہاں ان کو قید میں ڈالا جائے گا وہی رہنا ہوگا اور وہاں سے نکلنے کی کئی سبیل نہیں ہوگی ۔ اس دن کو ” یوم عقیم “ کہا گیا ہے اور عقیم کے معنی کئے جاتے ہیں بانجھ ‘ بےخیر ‘ منحوس وغیرہ اس کا استعمال مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے ہوتا مرد کے لئے آئے گا تو اس کی جمع عقما اور عقام ہوگی اور جب عورت کے لئے آئے گا تو عقالم اور عقم ہوگی عاقر اور عقیم دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی وہ مرد یا عورت جس کے اولاد نہ ہوتی ہو اور ” یوم عقیم “ سے وہ دن مراد ہے جو اس سے بانجھ ہوچکا ہو کہ اس میں کافروں کے لئے کسی قسم کی خیر پیدا ہو ۔ عقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو اثر قبول کرنے سے مانع ہو اور ” داء عقام “ کہتے ہیں لاعلاج مرض کو جو مریض کو کبھی نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ اس کو ہلاک کردیتا ہے ۔ ریح عقیم اس ہوا کو کہتے ہیں جو نہ بادل لائے اور نہ ہی کسی درخت پر پھل رہنے دے ۔ زیر نظر آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شک کی دنیا میں بسنے والے نہ کبھی شک و گمان سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی یہ لوگ کبھی حق کو دل سے قبول کریں گے ہاں ! اس کی ایک ہی صورت ممکن ہے کہ یا تو اچانک ان پر قیامت برپا ہوجائے یا کسی ہولناک منحوس دن کا عذاب ان پر مسلط ہوجائے لیکن کیا ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں بھی ان کے مان لینے کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ یقینا نہیں ۔
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی وہ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا یا پھر ان لوگوں کے لیے نعیم و سرور کے باغ ہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے

اس روز حکومت صرف اللہ ہی کی ہوگی اور وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا : 56۔ فرمایا اچھا اگر یہ اس دن ہی کے انتظار میں ہیں ان کے دلوں کا روگ وہی دن ختم کرسکتا ہے تو انتظار کریں یقینا وہ دن بھی آئے گا لیکن اس دن اقتدار تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہوگا اور اس کی ذات کے سوا کوئی جماعت اور کوئی پارٹی ‘ کوئی رشتہ داری ‘ کوئی تعلق کام نہیں آئے گا اور نہ ہی ان کے ٹھہرائے ہوئے معبود اور سفارشی کچھ ان کے کام آئیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دن دارالعمل کا دن ہو نہیں ہوگا بلکہ دارالجزاء کا دن ہوگا اور جزاء اس حساب سے ملے گی جس حساب سے عمل کیا ہوگا گویا وہ دن تو ہار جیت کا دن ہوگا کہ اس بات کا فیصلہ کردیا جائے گا کہ ہارا کون اور جیتا کون ؟ فرمایا کہ حقیقت تو اپنے وقت پر ہی سامنے آئے گی ‘ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ دن اس وقت تمہارے سامنے لاکھڑا کیا جائے البتہ ہم تم کو یہ بتائے دیتے ہیں کہ ” نعیم و سرور کے باغات انہیں لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ۔ “ یہ نہیں ہوسکتا کہ اس وقت جو ہم آپ کو فیصلہ بتا رہے ہیں اس کے خلاف ہو لہذا تم خود سمجھ لو کہ تم کو صحیح معنوں میں ایمان لا کر اور اس کے مطابق صحیح عمل کر کے نعیم و سرور کے باغات کو حاصل کرنا ہے یا کفر کی راہ اختیار کرکے عذاب مہین میں گزر بسر کرنی ہے ۔
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے جنہوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیاں جھٹلائیں

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے یقینا عذاب ہے : 57۔ جس طرح صحیح معنوں میں ایمان لانے والوں اور صالح اعمال کرنے والوں کے لئے حتمی فیصلہ اصل فیصلہ کے دن سے پہلے سنا دیا بالکل اسی طرح بداعمالیوں اور کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے بھی وہ دن آنے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا فرمایا ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ان لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کھڑا ہے اور ممکن نہیں کہ وہ عذاب کی لپیٹ سے بچ سکین اور یہ اس لئے ہے کہ وہ ایسے بےحیا لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے حق سے منہ موڑ کر ثابت کردیا کہ وہ اپنے آپ کو اس قانون سے کوئی بالا تر چیز سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ استکبار ہی ہے اور پھر وہ اس استکبار کے باعث اس بات کے مستحق ٹھہرے ہیں کہ آخرت میں ان کو ایسا عذاب دیا جائے جو ان کو ان کے اعوان وانصار کے سامنے ذلیل و خوار کر دے گویا جتنا بڑا ظلم انہوں نے روا رکھا تھا اتنی ہی بڑی ان کو سزا بھی ملنی چاہئے اور پھر عزت و تکریم کے مقابلہ میں ذلت ورسوائی ہی ہوتی ہے اس لئے انکو اس سے دوچار ہونا پڑے گا اور اس طرح ” جو انہوں نے بویا تھا وہی وہ کاٹیں گے ۔ “
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر لڑائی میں قتل ہوئے یا اپنی موت مر گئے تو ضروری ہے کہ اللہ انہیں بہتر سے بہتر روزی دے اور یقینا اللہ ہی ہے جو سب سے بہتر روزی بخشنے والا ہے

جن لوگوں نے ہجرت کی پھر جہاد کیا اور قتل ہوئے یا مر گئے ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا : 58۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو ایک عام مضمون سے منتقل کرکے خاص مضمون کی طرف لایا گیا ہے وہ اس طرح کہ بات تو عام مسلمانوں کی ہو رہی تھی لیکن اب ان خاص مسلمانوں کی طرف مضمون کا رخ پھیر دیا گیا جو کفار قریش کے ظلم وستم سے تنگ آکر ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے اور اس ہجرت سے ان کا مقصود اصل فقط دین اسلام کو بچانا تھا کہ وہ وہی کچھ کریں جو ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے تھے فرمایا ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی “ یعنی گھر بار چھوڑا اور گھروں سے نکل کھڑے ہوئے جب انکو اس کے باوجود جہاں وہ ہجرت کرکے گئے وہاں بھی آرام سے نہ رہنے دیا گیا اور ان پر چاروناچار لڑائی مسلط کردی تو اب وہ کریں گے تو کیا ؟ یہی کہ اب وہ بھی ان کے سامنے آئیں اور ان سے فی سبیل اللہ مقاتلہ کرکے یا تو قتل کریں یا قتل ہوجائیں پھر اگر انہوں نے وقت آنے پر ایسا کیا تو اب دو ہی صورتیں ہوں گی یا تو وہ قتل کردیئے جائیں گے یا وہ میدان جنگ سے غاز بن کر واپس آئیں گے اور اپنے بستر مرگ پر مریں گے کیونکہ اس دنیا میں کوئی ہمیشہ جینے کے لئے تو پیدا ہی نہیں کیا گیا یہاں جو پیدا ہوا وہ مرنے ہی کے لئے پیدا ہوا لہذا اس کی جو بھی صورت ہوگی خواہ تو وہ دارال ہجرت پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیئے گئے چاہے دارال ہجرت میں پہنچ کر کسی جنگ میں شریک ہو کر قتل ہوئے یا دونوں صورتوں میں بچ کر بستر مرگ پر جان دی ان سب صورتوں میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ان کے لئے بہت بڑا اجر اور نہایت اچھا اور دل پسند رزق تیار کر رکھا ہے جس رزق میں کھانے پینے کی فراوانی ہوگی اور یہ بھی کہ جو وہ چاہیں گے اور طلب کریں گے وہ ان کو پیش کیا جائے گا اور جتنا چاہیں گے اتنا استعمال کریں گے اور یہ بھی کہ رزق میں کھانا پینا ‘ رہنا سہنا اور دوسری ساری ضروریات آگئیں اور کوئی چیز بھی رزق سے باہر نہ رہی بلکہ ہرچیز اس میں شامل ہوگئی اور پھر آخر میں فرمایا ” اللہ ہی ہے جو سب سے بہتر روزی بخشنے والا ہے ۔ “ کیونکہ وہ ہر طرح کے خزانوں کا خود مالک ہے اور جو کچھ ہے وہ اس کی قدرت اور اس کی عطا سے ہے اور یہ بھی کہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے کہ ان کے خرچ ہوجانے سے اس کو کوئی خطرہ لاحق ہو کہ ان میں آئے گا تو کہاں سے ؟ جو کچھ ختم ہونے والا ہے وہ ہمارے ہی پاس ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے اس کے لئے ختم ہونا نہیں ہے ، نہ وہ خود فانی ہے ‘ نہ وہ دنیا فانی ہے اور نہ ہی وہ رزق فانی ہوگا جو ابدی زندگی میں صالحین کو دیا جائے گا جس زندگی کے بعد موت نہیں ہوگی ۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ضرور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوشنود ہوں گے یقینا وہ جاننے والا اور بڑا بردبار ہے

مہاجرین کے لئے ایک مزید عظیم بشارت کہ وہ خوش کردیئے جائیں گے ۔ 59۔ ” وہ ضرور ان کو ایسی جگہ پہنچائے گا جہاں وہ خوشنود ہوں گے “ اندازہ کیجئے اس معجزانہ کلام کا کہ دو لفظوں میں دو انعامات بیان کئے اور دونوں کی وسعت اتنی ہے کہ اگر اس کو کھولا جائے تو دفتر بھر جائیں ، ایک (جنات النعیم) میں داخلہ کا انعام اور دوسرے خوشنودی حاصل ہونے کا انعام اور اس طرح بیان فرمایا کہ نہ تو اس مسکن کی کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کی حدود کو بیان کیا جاسکتا ہے ظاہر ہے کہ جو چیز نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہو ‘ نہ کسی کان نے سنی ہو اور نہ ہی کسی کے دل میں اس کی اصلیت اور حقیقت سما سکتی ہو اس کو بیان کیا جائے تو کیسے اور کیونکر ؟ اور یہی بات ” خوشنود ہونے “ میں آگئی کہ کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت ان کی کیا کیا خواہشات ہوں گی اور کس چیز کو حاصل کرکے خوش ہوں گے سوائے اس کے کہ جو کچھ وہ اس وقت پسند کریں گے وہ ان کے سامنے حاضر کردیا جائے گا بلاشبہ قرآن کریم نے دوسری جگہ دنیا جہاں کی ساری نعمتیں گنائیں ہیں جو اہل جنت کو دی جائیں گی لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا ہے کہ یہ صرف ناموں کی مشابہت ہے حقیقت کی مشابہت نہیں اور ناموں کی مشابہت بھی محض اس لئے کہ ان کے تصور کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی تصور موجود نہیں پھر ان چیزوں کو بیان کریں اور دوسروں کو سمجھائیں تو کیوں اور کیسے ؟ اور یہ مثل بھی مشہور ہے کہ ” شنیدہ کے بود مانند دیدہ “ یہی وجہ ہے کہ آخر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” یقینا وہ جاننے والا بڑا بردبار ہے ۔ “ مطلب یہ ہے کہ تمہاری سمجھ میں اگر کچھ نہیں آتا تو تم کو اس کے سمجھنے کی آخر ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ جس نے بیان کیا ہے وہ اس کی حقیقت سے ناواقف نہیں کہ اس نے کیا بیان کیا وہ تمہاری اس دنیوی زندگی کی خواہشات کو بھی جانتا ہے اور اس ذات سے تمہاری آخروی خواہشات بھی پوشیدہ نہیں اور رہی یہ بات کہ وہ تمہارے دشمنوں کو فورا پکڑا کر سزا کیوں نہیں دیتا اس لئے کہ وہ اتنا بردبار ہے کہ اس سے زیادہ کوئی بردبار نہیں یہ بھانمتی کا سوانگ تو محض انسانوں کی آزمائش کے لئے ہے ورنہ اچھے اگر اس کے بندے ہیں تو برے بھی تو آخر اسی کے ہیں پھر وہ آخر ان کو مہلت کیوں نہیں دے تاکہ وہ جو کچھ چاہیں آزادی سے کرلیں۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

جس کسی نے خود زیادتی نہیں کی بلکہ جتنی سختی اس کے ساتھ کی گئی تھی ٹھیک اتنی ہی بدلے میں اس نے کی اور پھر دشمن مزید زیادتی پر اتر آیا تو ضروری ہے کہ اللہ مظلوم کی مدد کرے اللہ یقینا معاف کرنے والا بخش دینے والا ہے

مدافعت میں برابر برابر کا اقدام کرلینے کی اجازت ہے : 60۔ زیر نظر آیت کا آدھا حصہ تو بالکل وہی ہے جو قبل ازیں سورة النحل 16 : 126 میں گزر چکا ہے اور لفظ (ذلک) زائد ہے لیکن اس کا ذکر پیچھے آیت 30 میں گزر چکا ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی بیان ہوا ہے گزشتہ مضمون کا قائم مقام ہو کر بیان ہوا ہے گویا تاکید مزید کے لئے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ ” جتنی سختی اس کے ساتھ کی گئی ٹھیک اتنی سختی ہی اس کے بدلے میں کرنی چاہئے ۔ “ تو دراصل حکومت اسلامی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کے لوگوں کے فیصلے کرتے وقت اس اصول کو ملحوظ خاطر رکھے مدعی سے تحقیق کے بعد مدعی علیہ سے بھی تحقیق کرے اور اگر کوئی معاملہ ضرب شدید کا ہے تو اس ضرب کا خوب ملاحظہ کرکے اس کے بدلے میں اتنی ضرب ضارب پر لگائی جائے اور اسی طرح قتل کرنے کی جو صورت قاتل نے اختیار کی تھی بہتر ہے کہ وہی صورت اس کے ساتھ اختیار کرے اگر وہ ممکن ہو اور اگر ممکن نہ ہو یا کوئی بداخلاقی کی بات ہو تو اس کے عوض میں علیحدہ سزا بھی دی جاسکتی ہے لیکن اصل الاصول اس میں قتل کا عوض قتل ہے بشرطیکہ مقتول کے وارث دیت یا معافی پر رضا مند نہ ہوں اور اس آیت میں دراصل (جزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا) ہی کا اصول ملحوظ رکھا گیا ہے لیکن اگر کسی فریق نے ایک بار اس کا بدلہ چکائے جانے کے بعد دوبارہ زیادتی کی توق اب اس نئے معاملہ کی نوعیت یہ ہوگی کہ ایک ان دونوں میں ظالم ہوگا اور دوسرا مظلوم اور اس طرح پہلا بدلہ چکانے والا بھی ظالم ہو سکتا ہے جب کہ پہلے بھی ظالم تھا تب ہی اس کو بدلہ چکانا پڑا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو پہلے مظلوم تھا اب وہ ظالم ٹھہرے اس طرح معاشرہ اسلامی ہو یا حکومت اسلامی دونوں کے لئے ہدایت ہے کہ وہ اس وقت ہونے والے مظلوم کا ساتھ دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ مظلوم کا حامی و مددگار ہوتا ہے اور اسی کا حامی و مددگار ہونے کی تلقین بھی کرتا ہے اس طرح گویا اصول میں کوئی فرق نہ پڑا کیونکہ پہلے بھی مظلوم ہی کا ساتھ دینے کا حکم تھا اور اب بھی مظلوم ہی کا ساتھ دینے کا حکم ہے فرق صرف یہ ہے کہ تنازع اگر انہیں فریقین میں ہوگا تو ممکن ہے کہ اب کی بات ظالم مظلوم ہوچکا ہو اور مظلوم ظالم اور اس طرح قرآن کریم نے یہ بات کہہ کر (تم بغی علیہ) دشمنوں کی طرف اشارہ بھی کردیا کہ اگر مسلمانوں کے دشمن اس بات سے چڑ کر کہ مسلمانوں نے ہمارے خلاف اتنا قدم بھی کیوں اٹھایا جتنا کہ ہم پہلے اٹھا چکے تھے مزید تعدی کی کہ وہ آئندہ اپنی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے ایسی جرات ہی نہ کریں تو کافروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہیکڑی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا ہونے دے گا کیونکہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہمیشہ مظلوم ہی کی مدد کرتا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسلمان اگر اس وقت مظلوم ہیں اور کفار اس پر طرح طرح کے ظلم ڈھا رہے ہیں تو آخر کب تک یقینا ایسا وقت بھی آئے گا کہ ان کو ان مظالم کا بدلہ دینا پڑے گا بلاشبہ اللہ رب العزت کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ۔ رہی یہ بات کہ دیر کیوں ہے ؟ تو یہ بات ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مہلت اللہ تعالیٰ نے کیوں لازم رکھی ہے ؟ دراصل تدریج امہال قانون خداوندی کا ایک حصہ ہے ۔ ” بلاشبہ اللہ معاف کردینے والا ‘ بخش دینے والا ہے “ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر کسی ظالم نے ظلم کیا اس لئے کہ اس وقت اس میں ظلم کرنے کی طاقت وقوت موجود تھی اور مظلوم نے اس کو برداشت کرلیا تو یقینا ایک نیکی اور خوبی کی بات ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر طاقتور اور کون ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنی ساری طاقت وقوت کے باوجود معاف کردینے والا اور بخش دینے والا ہے اور اس کی یہ صفت اگر کسی دوسرے نے اختیار کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرلی اور اس طرح لوگوں پر یہ بات واضح کردی کہ عفو درگزر کرنا اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں سے ہے جن کو حاصل کرنے اور اپنانے سے آدمی رضائے الہی کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ عتاب کا ۔