22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں یقینا اللہ ان کی مدافعت کرتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ امانت میں خیانت کرنے والوں کو کہ وہ کفران نعمت کر رہے ہیں کبھی پسند نہیں کرتا

ایمان والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہے کفران نعمت کو وہ پسند نہیں کرتا : 38۔ (یدفع) دفع سے ہے جس کے معنی دور کرنے کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ جب اس کا تعدیہ بذریعہ الی ہوتا ہے تو اس کے معنی دینے اور حوالہ کرنے کے آتے ہیں جیسے (فادفعوا الیھم اموالھم) ” پس ان کے مال ان کے حوالے کر دو “ اور جب عین کے ذریعہ سے ہوتا ہے تو اس کے معنی دفع کرنے ‘ ہٹانے اور حمایت کرنے کے آتے ہیں جیسے اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ (آیت) ” ان اللہ یدافع عن الذین امنوا “۔ ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے اہل ایمان کی “ اور مطلب واضح ہے کہ اب جب کہ مسلمان کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہیں تو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت یقینا ان کے شامل حال ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کا دفاع کرے گا ۔ زیر نظر آیت سے مضمون کا رخ اس وقت کی طرف مڑ گیا جب اہل اسلام ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے اور ان کے آنے کے بعد پہلا موسم حج آیا اور مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اب مسلمانوں کو خواہ وہ مہاجر ہوں یا انصار بیت اللہ سے محروم کردیا گیا ہے کیونکہ مکہ والوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اب ہم مسلمان کہلانے والوں کو حج نہیں کرنے دیں گے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی کہ فکر نہ کرو تم ہی اصل بیت اللہ کے وارث ہو کیونکہ وہ دین ابراہیمی جس نے مناسک حج کو باقاعدہ زندہ کیا تھا وہی تمہارا دین ‘ وہی تمہاری ملت ہے تم اٹھو اپنا مقام سنبھالو اور اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ ہے ۔ اس وقت موسم حج کی وہ سنت جو قربانی کی سنت ہے آج سے رہتی دنیا تک اس روز کی یاد تازہ کرنے کے لئے جہاں بھی مسلمان ہوں گے سنت قائم ہے اس سنت کو پورا کرتے رہو تمہاری یہ قربانیاں اس طرح مقبول ومنظور ہوں گے اور عنقریب آنے والے وقت میں تم کو بیت اللہ کی تولیت بھی لوٹا دی جائے گی کیونکہ تم حق پر ہو اور حق کو دبایا تو جاسکتا ہے کہ جب حق والے نہ اٹھیں تو وہ دبا رہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ حق لینے والے موجود ہوں اور پھر حق کو وہ حاصل نہ کرسکیں ۔ تم اپنے آپ کو یکتا و تنہا ہرگز نہ سمجھو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اور وہ یقینا اہل حق کی مدد فرماتا ہے وہ تمہارے خلاف دشمنوں کی ساری چالوں کا خود توڑ کرے گا اور کفران نعمت کرنے والوں کو نیچا دکھائے گا ، اس طرح آج بھی یہ آیت اہل حق کے لئے ویسی ہی ایک بشارت ہے جیسی کہ اس وقت تھی اور یہ وعدہ الہی بدستور قائم ہے کہ : ” اللہ تعالیٰ کفران نعمت کرنے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ “ نبی اعظم وآخر ﷺ ہجرت کرکے 8 ربیع الاول 13 نبوی مطابق 30 ستمبر 622 عیسوی دو شنبہ کے روز فارس ماہ تیر کی چوتھی تاریخ اور رومی ماہ ایلول 923 اسکندری کی دسویں تاریخ کو مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تھے اور 2 سال گزرنے کے بعد یہ پہلا حج تھا کہ مکہ والوں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ اب ہم مسلمانوں کو حج نہیں کرنے دیں گے ، اس وقت تک جب یہ سورت نازل ہوئی کتنے سال گزر چکے ہوں گے لیکن ابھی تک مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ بزور بازو حج میں شریک ہوجائیں خصوصا جب کہ ان دونوں میں قتال ویسے بھی حرام تھا اور اس حرمت کو اسلام بھی تسلیم کرتا تھا نصرت الہی کا وعدہ دیا گیا اور قتال کی جو پہلے ہی اجازت دی جا چکی تھی اور کتنی جنگیں بھی لڑی جا چکی تھیں لیکن حج وعمرہ کی غرض سے ایسا اقدام کرنے کی اجازت ابھی نہیں ملی تھی لیکن آنے والی آیت میں اس غرض خاص کے لئے بھی رب ذوالجلال والاکرام نے اجازت مرحمت فرما دی ۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن کے خلاف ظالموں نے جنگ کر رکھی ہے اب انہیں بھی جنگ کی رخصت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر سراسر ظلم ہو رہا ہے اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے

حج کی اجازت دو کہ جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے ظلم کی رات مٹانے کے لئے حکم : 39۔ (یقتلون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول جن سے قتال کیا جائے ، یہ قتال کن سے کیا جا رہا تھا ؟ مسلمانوں سے ‘ کون کر رہا تھا ؟ کفار مکہ جو اس قتال کے اصل الاصول تھے کہ انہوں نے مسلمانوں پر جنگ مسلط کی تھی اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ ان کے ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ مسلمانوں کو حج جیسے فریضہ کے ادا کرنے سے بھی انہوں نے روک دیا تھا اور پھر وہ اجازت دینے کے لئے تیار بھی نہیں تھے ، اب مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ کفار مکہ سے قتال تو پہلے ہی جاری ہے اب تم حج وعمرہ کی غرض سے بھی ان سے جنگ کرسکتے ہو ۔ ہمارے مفسرین نے یہ قتال کا حکم پہلا حکم بتایا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں اس لئے کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آنے کے بعد سب سے پہلے جو سورت نازل ہوئی وہ بالاتفاق البقرہ ہے اور البقرہ کے بعد الانفال نازل ہوئی جس میں بعض جنگوں کی پوری تفصیل دی گئی اس لئے اس حکم کو جہاد کا پہلا حکم نہیں قرار دیا جاسکتا پھر (یقاتلون) کے الفاظ خود اس بات پر دال ہیں کہ جنگ جاری ہے اور جن لوگوں کی طرف سے یہ ظلم ڈھایا گیا وہ قریش مکہ ہیں جنہوں نے ایک طرح کے نہیں بلکہ طرح طرح کے ظلم ڈھا رکھے تھے اور اس وقت جس ظلم کی بات کی جا رہی ہے وہ ظلم حج وعمرہ کی رکاوٹ کا ہے اور مسلمانوں کو اس ظرض وغایت کے پیش نظر ابھی تک جہاد کی اجازت نہ دی گئی تھی اور بلاشبہ یہی وہ اجازت ہے جس کو ملنے کے بعد نبی اعظم وآخر ﷺ نے باقاعدہ عمرہ کی تیاری کی اور عمرہ کی غرض سے مکہ والوں کو اطلاع دے کر مکہ میں بغرض عمرہ داخل ہونے کی کوشش فرمائی اور میدان حدیبیہ میں قریش مکہ کے ایک وفد سے اس سال نہیں تو آئندہ سال اجازت دی گئی کہ وہ عمرہ ادا کریں اور حج ادا کریں ان کے لئے اب کوئی روک نہیں ہوگی صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے 7 ہجری میں پہلا عمرہ ادا کیا اور 8 ہجری میں اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کرا کر بیت اللہ کی تولیت مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دی ۔ (اذن) کے لفظ سے غالبا مفسرین نے یہ سمجھا ہے کہ یہ جہاد کا پہلا حکم ہے کیونکہ (اذن) کے معنی اجازت دینے ہیں ۔ بلاشبہ (اذن) کے معنی حکم دیا گیا ‘ اجازت دی گئی کے ہیں لیکن کسی چیز کی اجازت دی گئی ؟ جہاد کرنے کی ‘ نہیں بلکہ بغرض حج وعمرہ ادا کرنے کی جہاد کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن سے پہلے ہی ان لوگوں نے جنگ جاری رکھی ہوتی ہے اور ظالم تو وہ پہلے ہی تھے لیکن ان کا یہ ظلم کہ انہوں نے مسلمانوں کو حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے سے روک دیا حالانکہ ان کو اس کا کوئی حق نہیں تھا جب کہ ان کے اپنے قانون میں بھی یہ موجود تھا کہ جن لوگوں سے وہ برسرپیکار ہوتے ان کو ان مہینوں میں حج وعمرہ کی اجازت دی جاتی جس کا ذکر پیچھے سورة التوبہ میں بتفصیل گزرچکا ہے ، بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اجازت کے لحاظ سے پہلا حک جہاد یہی ہے یعنی اس میں مسلمانوں کو جہاد کی جازت دی گئی اور حکم جہاد البقرہ ہی کی آیت میں ہے لیکن اجازت اور حکم میں کوئی فرق تسلیم بھی کیا جائے تو اجازت پہلے ہوتی ہے پھر اجازت کی آیت کو حکم دیا قتال سے ایسی مؤخر سورت میں بیان کرنا جس کا نزول بلاشبہ البقرہ کے بعد ہوا ہے اور اس وقفہ میں بھی پانچ چھ سال کا وقفہ میں بھی پانچ چھ سال کا وقفہ تسلیم کیا ہے ۔ جن لوگوں نے سورة حج کو مکی لکھا ہے انہوں نے بھی پہلا حصہ مکی تسلیم کیا اور دوسرا مدنی جس کے نزول کا زمانہ مدینہ میں آنے کے پانچ چھ سال بعد ہوا اور اور یہ بھی کہ جو ترتیب نزول تسلیم کی گئی ہے اس میں بھی البقرہ کا نمبر 86 ہے اور سورة الحج کا 103 نمبر ہے جو اس فرق کو واضح کر رہا ہے ، چناچہ سورة البقرہ کی آیت 190 میں پہلا حکم جہاد نازل ہوا آیت 191 میں جہاد جاری رکھنے کی غرض وغایت بیان کی گئی اور بتایا گیا کہ یہ جہاد کب تک جاری رہنا چاہئے اور پھر تاکیدی احکام بھی نازل کئے گئے جن کا ذکر آیت 244 میں کیا گیا پھر بزور بازو عمرہ و حج کرنے کی اجازت مرحمت کی گئی اور مسلمانوں کو بتا دیا گیا کہ اب اس ظلم کو مٹانے کا وقت بھی آچکا ہے اور اللہ تمہاری مدد کرے گا تم عمرہ کی غرض سے آگے بڑھو اور مکہ والوں کو اطلاع دے دو کہ ہم عمرہ کرنے کی غرض سے آرہے ہیں ہمارا راستہ خالی کر دو مکہ والوں کو معلوم ہوا تو وہ اہل اسلام کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے حدیبیہ میں پہنچے اور اس سال نہیں تو آئندہ سال مشروط طور پر اجازت عام دینے پر رضا مند ہوگئے آپ ﷺ نے اس کو منظور فرمایا کیونکہ جو کچھ مقصود تھا وہ حاصل ہوگیا اور اللہ رب العزت نے اس صلح کو فتح قرار دیا جس کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا ۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ مظلوم ہیں جو بغیر کسی حق کے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا وہ کہتے تھے ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ بعض آدمیوں کے ہاتھوں بعض آدمیوں کی مدافعت نہ کراتا رہتا تو کسی قوم کی عبادت گاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی ، خانقاہیں ، گرجے ، عبادت گاہیں ، مسجدیں جن میں اس کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سب کبھی کے ڈھائے جا چکے ہوتے جو کوئی اللہ کی حمایت کرے گا ضروری ہے کہ اللہ بھی اس کی مدد فرمائے ، کچھ شبہ نہیں وہ یقینا قوت رکھنے والا غالب ہے

مسلمانوں کو حج وعمرہ کی خاطر جہاد کی اجازت دینے کی حقیقت کا بیان : 40۔ ” یہ وہ مظلوم جن کو ظالموں نے گھروں سے نکال دیا تھا “ اس فقرہ میں مسلمانون کی مظلومیت کی وضاحت کی گئی ہے کہ ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا گیا حالانکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کی پاداش میں ان کو یہ سزا دی گئی لیکن آخر ان کا قصور کیا تھا ؟ فرمایا ان کا قصور یہ تھا کہ ملک میں بلکہ شہر میں 360 حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے اس ملک وشہر میں کھڑا ہو کر یہ اعلان کردیا کہ ” ہمارا حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اور صرف اللہ ہے “ یہ نعرہ اس ملک اور شہر کے لوگوں کے عقیدہ کے خلاف تھا اور ان کے باپ دادا سے ان کے تسلیم کردہ بزرگوں کے بت بنا کر انہوں نے رکھے تھے اور انکے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس طرح ہمارے وہ بزرگ کجوش ہو کر ہماری حاجت روائی کرتے ہیں اور ہماری بگڑی سنوار دیتے ہیں جب اسلام نے ان کو بتایا کہ بگڑی بنانے والی تو صرف ایک ہی ذات ہے جس کا ام مبارک اللہ ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہے تو ان کو یہ بات بہت بری لگی اور انہوں نے اس میں اپنے بزرگوں کی توہین سمجھی اور یہ نعرہ بلند کرنے والوں کو انہوں نے مجبور کیا کہ وہ ایسی بات کہنے سے باز آجائیں لیکن ان کے دلوں میں سمجھی اور یہ نعرہ بلند کرنے والوں کو انہوں نے مجبور کیا کہ وہ ایسی بات کہنے سے باز آجائیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوچکا تھا اس لئے انہوں نے اپنے اس عقیدہ کو اپنی جانوں ‘ اپنے مالوں اور اپنی ہر ایک چیز سے عزیز سمجھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے ان کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا اور ان لوگوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے لیکن ان مظلوموں نے سارے ظلم برداشت کئے لیکن توحید الہی کے بیان کرنے سے باز نہ آئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب وہ گھر بار چھوڑ کر نکل آئے تو جہاں وہ ہجرت کرکے پہنچے ان لوگوں نے وہاں بھی ان کو آرام سے نہ بیٹھنے دیا یہاں تک کہ ان کو اس مذہبی فریضہ سے بھی روک دیا جس کو وہ اپنی جانوں سے زیادہ عزیز جانتے اور خیال کرتے تھے ، انجام کار اللہ تعالیٰ نے ان کو بزور بازو فریضہ ادا کرنے کی اجازت دے دی اور یقین دلایا کہ تم اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے نکلو میں تمہاری مدد کروں گا اور پھر وہی ہوا جس کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے وعدہ کیا تھا ۔ اب پوری دنیا کے لوگوں کو باور کرنے کے لئے بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے لئے عبادت خانہ بیت اللہ ہے اس طرح دوسری قوموں کے عبادت خانے بھی ہیں جیسے صوامع ‘ بیع اور صلوت ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کی مساجد فرمایا کہ اب غور کرو کہ مسلمانوں کو عبادت کرنے کے لئے تلوار کے چلانے کی کیوں اجازت دے دی فرمایا اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان شریروں اور شیطانوں کے شر سے اور شیطنیت سے اس طرح بچانے کی کوئی صورت بیان نہ کرتا تو آج تک دنیا سے تمام عبادت خانوں کا نام ونشان بھی مٹ گیا ہوتا اور ہر فریق طاقت حاصل کرنے کے بعد دوسرے لوگوں کے عبادت خانوں پر ہاتھ صاف کرتا اس لئے اللہ کا حکم تو یہ تھا کہ عبادت خانے خواہ وہ کسی جماعت یا قوم کے ہوں ان کا احترام کیا جائے کیونکہ سب قوموں نے وہ اپنے اپنے طریقہ کے مطابق عبادت ہی کے لئے بنائے ہیں اور حکومت کسی گروہ وقوم کے حصے میں آئے لیکن سارے لوگوں کے عبادت خانوں کا احترام رکھنا نہایت ضروری ہے جس کو قریش مکہ نے ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی فریضہ سے روک کر بہت بڑا ظلم کیا تھا اور اب وہ وقت آگیا کہ ان کو یہ یہ ظلم نہ کرنے دیا جائے بلکہ راہ راست کی طرف لایا جائے ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسلامی سیاست کا ایک عالمی اصول بھی بیان کردیا کہ طاقت کا توازن برقرار رکھنے ہی میں تمام بنی نوع انسان کا بھلا ہے اگر قوت و طاقت مستقل طور پر ایک ہی قوم کے ہاتھ میں دے دی جائے تو دنیا کے امن وسلامتی کا جنازہ نکل جائے ، طاقتور ہاتھ کمزور اور بےبس قوموں پر بےدریغ ظلم ڈھاتا رہے اور اسے کوئی روکنے اور کہنے والا نہیں ہوگا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ ان کے شہر اور بستیاں کھنڈر بنا دیئے جائیں گے اور ان کی عصمتیں اور آبروئیں پامال کی جائیں گی اور یہاں تک کہ ان کے مذہبی عبادت خانے توڑ پھوڑ کر رکھ دیئے جائیں گے ، اس لئے قدرت الہی کو یہ کبھی گوارا نہیں ہوا کہ ہمیشہ ایک ہی قوم کے ہاتھ میں قدرت و طاقت رہے اور آج کل جو دنیا کی حالت ہو رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں یقینا کچھ ہونے والا ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قوت و طاقت کا توازن درست نہیں رہا اور صورت حال اس کے قریب آرہی ہے کہ اب کسی وقت بھی ہاتھ الہی آگے بڑھے اور زور آوروں کو زیردست بنا کر رکھ دے بلاشبہ اس وقت کو اللہ رب العزت ہی جانتا ہے کہ کب آئے گا لیکن اس کو وقت بدلتے آخر دیر کتنی لگتی ہے ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وقت کب آئے گا لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ سنت اللہ کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی اب ہوگی ، ہم دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو کفر کی اس للکار کا جواب دینے کی توفیق بخشے اور اس وقت جو طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے اس کو سنبھالا دے کر اس وقت کفر کی طاغوتی طاقتیں حق کو مٹانے کے لئے متحد ہوچکی ہیں اور حق کو دباتے ہی چلی جا رہی ہیں اللہ ہمارے کسی جرنیل کو اسلام کی کھوئی قوت کو بحال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی ممالک میں سے کوئی تو کھل کر میدان میں آنے کے لئے تیار ہو اور اس وقت دنیا میں جو کچھ عالمی طور پر عبادت خانوں کا حال ہو رہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ صوامع جمع صومعۃ کی اور اس کا اطلاق عیسائیوں کے خلوت خانوں پر ہوتا تھا جہاں وہ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے تھے اور بیع بیعہ کی جمع ہے اور یہ لفظ یہود ونصاری دونوں کے عبادت خانوں پر بولا جاتا تھا لیکن بعد میں یہود نے ان کا نام بیعہ کی بجائے صلوات رکھ لیا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز رہے اور مسلمانوں کے ہاں مساجد کہا جاتا ہے جو مسجد کی جمع ہے اور ان عبادت خانوں کے یہ نام کیوں اور کیسے رکھے گئے ؟ اس کی مختلف توجیہات لوگوں نے بیان کی ہیں اور محرابوں اور میناروں کی وجہ بھی بتائی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اناث وذکور کا تصور پیش کیا گیا ہے جو ایک واہیات بات ہے ۔ اب اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرماتا ہے اس کی جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتا ہے ۔ “ گویا یہ اصول بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے چناچہ اس کے لئے جو قاعدہ ہے اس کی خود اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ جو اس کے نام کو بلند کرتا ہے ‘ جو اس کے کلمہ توحید کی اشاعت کرتا ہے ‘ جو شمع توحید کو ہاتھ میں لے کر طوفان اور آندھیوں سے الجھتا ہوا آگے بڑھتا ہے تاکہ وہاں حق کا اجالا ہوجائے ، اللہ تعالیٰ کی نصرت وتائید کے مستحق یہی عالی ظرف لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے جو شروع سے اسی طرح چلتا آیا ہے ‘ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا کہ جب تک انسان خود کوشش نہیں کرتا اس کا ثمرہ حاصل نہیں کرسکتا ۔ فرمایا اچھی طرح سن لو کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے تحفظ کا قدرت خود ذمہ لے رہی ہے اور جن کو اپنی نصرت کے مژدہ سے خورسند کیا جا رہا ہے ؟ فرمایا وہ وہی ہیں جن کی حکومت اور جن کا اقتدار منفرد نوعیت کا ہے جب یہ مسند حکومت پر بیٹھتے ہیں تو اپنے پروردگار کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور جب ملک کے خزانوں کو ان کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے تو وہ ان خزانوں کو اپنے ذاتی آرام و آرائش اور عیش و عشرت میں صرف نہیں کرتے ، ان کے اقتدار کے جھنڈے کے نیچے بدکاری اور فسق وفجور کبھی پروان نہیں چڑھتے ، ان کی دولت غریبوں اور مسکینوں کی ضروریات کی کفیل ہوتی ہے جہاں ان کے قدم پہنچتے ہیں وہاں نیکی اور تقوی کے سوتے پھوٹ نکلتے ہیں اور یہ سب کچھ ان کو اس لئے میسر آتا ہے کہ ان کی مدد کے لئے ایک صاحب قوت جو سب پر غالب آنے والا ہے ان کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ اس کے ہوجاتے ہیں تو اللہ ان کا ہوجاتا ہے ۔
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ ہیں کہ اگر ہم نے زمین میں انہیں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰۃ کی ادائیگی میں سرگرم ہوں گے ، نیکیوں کا حکم دیں گے ، برائیاں روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ ہے

ان کو اقتدار حاصل ہوجائے تو وہ نظام صلوۃ اور نظام زکوۃ قائم کرتے ہیں : 41۔ کھانا کھایا جاتا اور پانی پیا جاتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ بھوک وپیاس ختم ہو اور انسان اطمینان حاصل کرکے اور اپنا ایندھن حاصل کرکے یکسوئی کے ساتھ اپنی شبانہ روز محنت میں مصروف ہو سکے لیکن اگر کھانے سے بھوک نہ اترے اور پینے سے پیاس مزید بھڑک جائے پھر ؟ ظاہر ہے کہ پھر وہ انسان بیمار ہے اور اس کو اپنا علاج کرنے کی فکر کرنی چاہئے ورنہ وہی چیزیں جو اس کی زندگی کا باعث تھیں اس کی جان لیوا ہوجائیں گی ، یہی بات ان لوگوں کی ہے جن کا ذکر گزشتہ آیت میں بیان ہوا اور زیر نظر آیت میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوا قتدار میسر کر دے تو وہ اپنے دور اقتدار میں نظام صلوۃ قائم کرتے ہیں اور نظام زکوۃ رائج کرتے ہیں ۔ اس کی تشریح ہم اس سے پہلے مختلف مقامات پر کرچکے ہیں کہ نظام صلوۃ وہی ہوگا جس میں برائیاں مٹ جائیں اور نیکیاں جنم لیں کیونکہ نماز کی اصل حقیقت ہی یہ ہے کہ ” نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے ۔ “ گویا جس نظام میں فحش کام رک جائیں اور برے کام ختم کرا دیئے جائیں وہ حکومت یقینا اسلامی حکومت ہے اور وہ نظام یقینا نظام صلوۃ کہلانے کا مستحق ہے اور جب تک کوئی حکمران اپنی حکمرانی کے دور میں یہ کام نہیں کر دکھاتا وہ دور اسلامی دور اور وہ سلطنت اسلامی سلطنت کہلانے کی حق دار نہیں ہے اور نظام زکوۃ وہ نظام ہے جس میں دولت کا بیلنس قائم ہو کر امیر و غریب کو کم از کم اس کی فطری ضروریات کے پورا کرنے کے مواقع میسر آئیں اور حکومت اسلامی اس کی ان ضروریات زندگی کی ذمہ دار قرار پائے اور کسی انسان کو دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے الا یہ کہ وہ اپنی ضروریات اگر بیان کرے تو فقط اس حکومت کے سامنے جس حکومت کو اللہ نے قائم کیا ہے اور وہ حکمران سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عطا ہے اور میں اس کے متعلق اپنے رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں جواب دہ ہوں جس معاشرہ میں یہ باتیں میسر آجائیں وہاں یہ سب کچھ اللہ کے خوف کے تحت اور قانون خداوندی کی حفاظت کے لئے کیا جا رہا ہے تو یقینا وہ حکومت اسلامی حکومت اور وہ ملک اسلامی مملکت کہلانے کا حق دار ہوگا اور جس ملک میں یہ کچھ میسر نہ ہو خواہ وہاں اسلام کا کتنا بھی شور ہو رہا ہو وہ حکومت اسلامی حکومت اور وہ مملکت اسلامی مملکت نہیں ہو سکتی ۔ بلاشبہ نماز کے انفرادی فوائد سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا اجتماعی فائدہ یہی ہے کہ اخلاقی قوت حاصل ہو جس دور کی یہ بات ہو رہی ہے اس پر ذرا غور کرو کہ مکہ کے اس محالو میں جن شدید مزاحمتوں سے مسلمانوں کو سابقہ تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں مادی طاقت وقوت سے بڑھ کر اخلاقی طاقت وقوت درکار تھی اور اس اخلاقی قوت کی پیدائش اور اس کی نشو ونما کے لئے اس بات کی تلقین کی گئی ایک اقامت صلوۃ اور دوسری ادائیگی زکوۃ اس لئے کہ اقامت صلوۃ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے لوگ ان برائیوں سے پاک ہو سکتے ہیں جن میں اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ مبتلا تھے اور جن میں اس وقت کی سوسائٹی جس میں اہل عرب گھرے ہوئے تھے مبتلا نظر آتی تھی اور ظاہر ہے کہ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا اپنے اندر صرف اتنا ہی فائدہ نہیں رکھتا کہ یہ بجائے خود ان لوگوں کے لئے دنیا وآخرت میں نافع ہے جنہیں یہ پاکیزگی حاصل ہو بلکہ اس کا لازمی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ان کو ان سب لوگوں پر برتری حاصل ہوجاتی ہے جو مختلف طرح کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوں اور جاہلیت کے اس ناپاک نظام کو جو ان برائیوں کی پرورش کرتا ہے برقرار رکھنے کے لئے ان پاکیزہ انسانوں کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوں اور انجام کار وہ منہ کی کھائیں اور ایسے گریں کہ ان کو اٹھنے کی ہوش ہی نہ رہے ۔ غور کروتو اس آیت سے بہت کچھ حاصل ہوتا جائے گا ۔ احادیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا من لم تنہ صلوتہ عن الفحشاء والمنکر فلا صلوۃ لہ ” یعنی جس شخص کو اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے ۔ “ (ابن ابی حاتم عن عمران بن حصین) تفصیل کے لئے سورة البقرہ کی آیت 124 تا 128 پر ایک نظر ڈال لیں۔ مسلمانوں کے اقتدار کے ثمرات کو دیکھنا ہو تو اس دور کی طرف بڑھو جس کا آغاز حرم کی سرزمین سے ہوا تھا جس کی حیثیت ملت اسلامی کے قلب کی ہے اور کاش کہ آج بھی اہل اسلام اس کو حکومت اسلامی کا مرکز مان لیں اور ایک امام کے زیر سایہ ہو کر اپنی قوت کو جمع کریں اور اپنی اسلامی نظام صلوۃ اور نظام زکوۃ کو نافذ کرنے کی کوشش کریں اور یقینا آج بھی اللہ تعالیٰ ان کی اسی طرح مدد کرے جس طرح اس نے اس وقت کی تھی ۔ زیر نظر آیت کے آخری الفاظ پر بھی غور کرلو کہ ارشاد فرمایا ” نیکیوں کا حکم دو اور برائیوں سے روکو “ وہ اس وقت ممکن ہے جب نیکیوں کا حکم دینے والے خود نیک اور صالح انسان ہوں گے اور برائیوں سے وہ کوسوں دور بھاگیں گے اس طرح جب وہ دوسروں کو ان باتوں کا حکم دیں گے تو یقینا ان کے حکم دینے میں ایک اثر ہوگا اور اس طرح جو وہ چاہیں گے اس کا نتیجہ حاصل کریں گے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ ” تمام کاموں اور تمام باتوں کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ “ اور یہ وہی بات ہے جس کو ہمارے ہاں اس طرح بھی ادا کیا جاتا ہے کہ ” جیسا کرو گے ویسا بھرو گے “ ” کر بھلا ہوبھلا “ اور ” جو بیجوگے وہی کاٹو گے “ نیکی کا ثمرہ برائی اور برائی کا ثمرہ نیکی نہیں ہو سکتا ۔ کاش کہ یہ بات ہمارے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے ذہن تک بھی پہنچ جائے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بگڑنے سے سارا نظام بگڑ گیا ہے اور اگر ان کی اصلاح ہوجائے تو یقینا پورا اسلامی معاشرہ قائم ہوجائے اور اس میں ذرا بھی دیر نہ لگے ۔ بلاشبہ یہ وہی بات ہے جو ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” جسم کے اندر ایک ایسا عضو بھی ہے اگر وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے اور اگر وہ درست نہ ہو تو جسم کبھی درست نہیں ہو سکتا “۔ بعد میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ” الاوھی القلب “ خبردار وہ دل ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی راہنماء اور سیاسی لیڈر ہی ہر ایک ملک کا دل ہوتے ہیں اگر یہ خراب ہوجائیں تو معاشرہ کبھی درست نہیں ہو سکتا جیسا کہ آج کل مسلمانوں کا عموما اور پاکستانی مسلمانوں کا خصوصی طور پر حال ہو رہا ہے کہ یہی وہ عضو ہے جو مکمل طور پر خراب ہوچکا ہے ۔
Ayah 22:42

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے پہلے کتنی ہی قومیں (اپنے اپنے وقتوں کے) رسولوں کو جھٹلا چکی ہیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود

اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے : 42۔ جیسا کہ قبل ازیں بیسیوں بار عرض کیا جا چکا ہے کہ قرآن کریم دعوت تذکیر ہے اور اس میں کہیں بھی سلسلہ وار تاریخ نہیں بیان کی گئی کہ ایک دور کی تاریخ بیان کرنے لگے تو مسلسل بیان کرتے گئے اور پھر ترتیب وار جب دوسرے لوگوں کا ذکر آیا تو اس ترتیب سے اس کو بیان کیا گیا ‘ نہیں ‘ اس میں بار بار نصیحت کا مضمون شروع ہوتا ہے اور پھر نئے سرے سے اس جگہ سے بیان کرنا شروع کردیا جاتا ہے صرف پیرایہ بیان بدل دیا جاتا ہے تاکہ ایک بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے اور کوئی پہلو بھی اس کا تشنہ نہ رہے ، یہی بات اس جگہ ہوئی ہے کہ مضمون ایک بار پیچھے کو چلا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا ہے ‘ صحیح ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے اور ان کو بھی ان کی اقوام نے جھٹلایا تھا دیکھو آپ سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے جھٹلایا ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود نے اپنے اپنے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا ۔
Ayah 22:43

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

قوم ابراہیم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور قوم لوط نے لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا : 43۔ اور اسی طرح قوم ابراہیم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور قوم لوط نے لوط (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا تھا اور ان ساری اقوام کا ذکر آپ پیچھے بہت تفصیل سے پڑھ چکے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ان کے مفصل بیانات اور ان انبیاء کرام کی دعوتوں کا ذکر گزر چکا ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اس لئے کیا گیا کہ مکہ کے لوگ اس وقت بھی اپنے آپ کو ابراہیمی کہلاتے تھے حالانکہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کو مکمل طور پر بھلا کر ایک نئی شکل اختیار کرلی گئی تھی تاہم نام وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) ہی کا لیتے تھے اور یہی حال آج تقریبا قوم مسلم کا ہے کہ نام تو نبی اعظم وآخر ﷺ کا لیتے ہیں لیکن کرتے وہی ہیں جو انہوں نے اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا اور ان کی مذہبی فرقہ بندیوں کے نام کے علماء جو ان کی ترجمانی کرنے کے لئے ان کو وہی کچھ کہتے ہیں جو انکو کرتے پاتے ہیں تاکہ وہ خوش ہو کر ان کے پیٹ کا مسئلہ حل کرتے رہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایک مسلمان دوسرے کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے وہ ایک یہودی ‘ عیسائی ‘ ہندویا سکھ کو بھی شاید نہ دیکھتا ہو حالانکہ دونوں ہی ایک اللہ ‘ ایک رسول ‘ ایک قرآن کریم ‘ ایک دین اسلام کو ماننے کے دعویدار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھنے کی توفیق دے اور اس فرقہ بندی کی لعنت سے بچائے جس کو قرآن کریم نے شرک قرار دیا ہے ۔
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اصحاب مدین اور موسیٰ بھی جھٹلایا گیا اور ہم نے پہلے منکروں کو ڈھیل دے دی پھر پکڑ لیا تو دیکھ ہماری ناپسندیدگی ان کے لیے کیسی سخت ہوئی ؟

اصحاب مدین نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے گئے : 44۔ گزشتہ دونوں آیتوں کی طرح یہ بھی آپ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے بیان کیا گیا ہے ، ایک بات شاید ذہن میں کھٹک پیدا کرے کہ باقی انبیاء کرام کی قوموں کا ذکر کرکے کہا گیا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جھٹلایا اور ثمود قوم نے جھٹلا ایا اور اسی طرح اصحاب مدین نے بھی جھٹلایا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کا ذکر مجہول کے صیغہ سے کیا گیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب آپ کی قوم نے نہیں کی تھی بلکہ ایک دوسری قوم نے کی تھی یعنی قوم فرعون نے اور یہ بات اس اعتبار سے کی جا رہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق نسبی بنی اسرائیل سے تھا قبطیوں سے نہیں تھا اور آخر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ (فکیف کان نکیر) ” میری ناپسندیدگی ان کے لئے کیسی سخت رہی ۔ “ (نکیر) دراصل نکیری تھا اور عربی قاعدہ کے تحت ” ی “ نسبتی گر گئی اور اب ” ر “ کی زیر نے وہ کام دیا جو ” ی “ دے رہی تھی (نکیر) کے معنی انکار ہی کے کئے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ انکار کوئی پسندیدہ چیز نہیں خصوصا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار ہو تو ظاہر ہے کہ اس سے ناپسندیدگی ہی کا مفہوم نکلے گا اور یہی بات ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں وہ تباہ وبرباد کردیئے گئے اور اس سے نبی کریم ﷺ کو بتا دیا گیا کہ مکہ والوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کر کے ثابت کردیا ہے کہ ان کا انجام بھی ان ہی لوگوں جیسا ہوگا جو پہلے نبیوں اور رسولوں کے مخالفین کا ہوچکا ۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

پھر کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور وہ ظلم کرنے والی تھیں ، وہ ایسی اجڑیں کہ اپنی چھتوں پر گر کے رہ گئیں ، کنوئیں ناکارہ ہوگئے سربفلک محل کھنڈر بن گئے

قریش مکہ کی پہلی بستیوں کو نگاہ میں رکھیں جنہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تھا : 45۔ فرمایا کہ غور کرو پہلی دعوتوں کو جھٹلانے والوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ یہ بھی کہ وہ قومیں کتنی کتنی طاقتور تھی لیکن ان کو ڈھیر کرتے کتنا وقت لگا ؟ ان کے بڑے بڑے پختہ محلات اور آباد کنوؤں کا کیا حال ہوا ؟ اور یہ ساری شہادتیں ملک عرب سے گویا ان کے گھر ہی سے پیش کی جارہی ہیں جہاں سے عربوں کے قافلوں کا دن رات گزر ہوتا تھا اور جن کی روایات وہ ہر روز اپنے شعرا کے شعروں اور ادیبوں کی نثروں اور خطیبوں کے خطبوں میں پڑھتے اور سنتے رہتے تھے ۔ آخر ان سب کو ہم نے کیوں تباہ وبرباد کیا ؟ کیا ان سے ہماری کوئی خاص دشمنی تھی ؟ نہیں ان کی ہلاکت کا باعث بھی ان کے اپنے نبیوں اور رسولوں کی دعوتوں کا انکار تھا اور یہ کام یہ لوگ کر رہے ہیں (قصرمشید) پختہ اور بلند ایوانوں اور محلوں کو کہا جاتا ہے اور (بئرمعطلۃ) غیر آباد کنوؤں کو کہا گیا ہے جہاں آبادی کا نام ونشان تک نہ رہا ہو اور وہاں سے گزرتے ہوئے خوف آئے ۔ کبھی آپ کا گزر نہایت پرانی عمارت کے پاس سے ہوا ہو تو یہ نقشہ دیکھنے میں آئے گا اور صاف پتہ چلے گا کہ کبھی یہ عمارت آسمان بوس تھی اور اس کے مکین کتنے خوش نصیب ہوں گے جن کو اتنی بڑی رہائش گاہ میسر رہی ہوگی لیکن اس کی موجودہ حالت پر جب نظر پڑے گی تو معلوم ہوگا کہ پہلے اس کی اوپر کی چھت نیچے والی چھت پر گری ‘ پھر وہ اس بوجھ کو نہ سہارتے ہوئے نیچے والی منزل پر گری ہوگی اور اس طرح کرتے کرتے زمین بوس ہوگئی اور ازیں بعد اس کی دیواریں بھی بادوباراں کے اثر سے گرتی گرتی ایک ڈھیر کی صورت میں تبدیل ہوگئی ہوں گی ۔ کبھی یہ عمارتیں کتنی خوبصورت نظر آتی ہوں گی لیکن آج تو ایک بھیانک منظر پیش کر رہی ہیں اور اس طرح سوچتے سوچتے بھی اس بلڈنگ اور محل کی طرف بھی سوچ جانی چاہئے جس میں آج ہم خود رہ رہے ہیں کہ کسی آنے والے کل میں یہ بھی ایسا ہی تصور پیش کرے گا اور یہاں بھی ابابیلیں ‘ الو اور زاغ وزغن کا بسیرا ہوا کرے گا اور آنے والی نسلوں کو یہی منظر پیش کرے گا جو آج ہم کو یہ شکستہ عمارتیں پیش کر رہی ہیں ۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ملکوں میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے ؟ ان کے پاس دل ہوتے اور سمجھتے بوجھتے ، کان ہوتے اور سنتے اور پاتے ، حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں

کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان پر ان کو غور کرنے کا موقع ملا ہو : 46۔ فرمایا کیا ان لوگوں نے ان آثار قدیمہ کی طرف کبھی توجہ نہیں کی اور ان کی سیر کرنے کے لئے گھر سے کبھی نہیں نکلے کہ ان کو دیکھ کر یہ لوگ عبرت حاصل کرتے اور ان کو سننے ‘ سوچنے ‘ سمجھنے اور دیکھنے کی قوتیں بیدار ہوتیں ۔ اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ انسان کو چلتے پھرتے اور آتے جاتے جن چیزوں پر اس کی نظر پڑے اس کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھے تو بھی بغور دیکھے اور اپنی بصیرت کی آنکھیں بھی وا کرے اور پیچھے تک دیکھتا چلا جائے اور اس طرح پھر نظر بصیرت کو واپس لوٹائے تو اپنے پیچھے کی طرف دیکھے تو دور تک دیکھتا جائے اور اس طرح کرکے اپنی ظاہری آنکھ سے بھی کام لے اور باطنی آنکھ سے بھی جس کو بصیرت کی آنکھ کہا گیا ہے جو بہت دور تک دیکھ سکتی ہے ضرور دیکھنے کی کوشش کرے اور اس طرح جب کان سے کسی بات کو سنے تو سنی کو ان سنی نہ کردے بلکہ اس پر اچھی طرح غوروخوض کرے اس طرح جو شخص اپنی آنکھوں ‘ کان اور دل سے اس طرح کام لیتا ہے یقینا وہ ایک صالح انسان ہے اور قرآن کریم کی زبان سے انہی انسانوں کو زندہ انسان سمجھا گیا ہے اور اس کے برعکس وہ انسان جو نہ تو ان آنکھوں سے اس طرح دیکھتے ہیں اور نہ ہی ان کانوں سے اس طرح سنتے ہیں اور نہ دلوں سے اس طرح سوچتے ہیں کہ قرآن کریم ان کو زندہ انسان تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر کہیں تو وہ ان کو ” کالانعام “ کہتا ہے کبھی (بل ھم اضل) قرار دیتا ہے کبھی ان کو مردہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ (غیر احیائ) یہ لوگ زندہ نہیں ہیں اور کبھی کہتا ہے کہ ان کے کانوں میں ڈٹ لگے ہوئے ہیں ‘ ان کے دل غلاف میں بند ہیں ‘ ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہوئیں ان کے دل اندھے ہوگئے ‘ ان کے کان بہرے نہیں ہوئے ان کے دل سننے سے غافل ہیں ‘ ان کے سینوں میں دل نہیں بلکہ پتھر کے ٹکڑے بھرے ہوئے ہیں اور اس طرح کی بیسیوں صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ پھر قرآن کریم نے بار بار ان کی اس طرح کی حالتوں کو بیان کرکے کہا ہے کہ انبیاء ورسل اس لئے بھیجے گئے تھے کہ ان مردوں کو زندہ کریں ‘ ان اندھوں کو آنکھیں ‘ ان بہروں کو کان اور پتھر دلوں کو نرم و گداز دل دیں ‘ ان کوڑھیوں کو درست کریں ‘ ان کے سارے کئے کرائے کی ان کو خبر دیں جو ناجائز طریقے انہوں نے مال کمانے ‘ خرچ کرنے کے اختیار کرلئے ہیں ان سے ان کو آگاہ کریں اور ان ساری باتوں کے بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ ایسے مردہ ‘ ایسے اندھے ‘ ایسے بہرے اور ایسے پتھر دل ‘ زندہ ‘ بینے ‘ سماعت رکھنے والے اور نرم دل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور اذن سے ہوسکتے ہیں اور اس نے ایسا قانون بنا دیا ہے کہ جو شخص اس قانون کے مطابق زندہ ‘ بینا ‘ سننے کے لائق وقابل ہوتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ زندہ ‘ بینا اور سننے والا کردیتا ہے اور اس قانون کی خلاف روزی کرنے والے اسی طرح مردہ کے مردہ ‘ اندھے کے اندھے اور بہرے کے بہرے ہی رہتے ہیں ۔ ہم نے اس مضمون کو سورة البقرہ کی آیت 18 ‘ 171 میں سورة الانعام کی آیت 50 ‘ 104 میں سورة الاعراف کی آیت 64 میں سورة المائدہ کی آیت 71 میں ‘ سورة ہود کی آیت 24 ‘ 28 میں ‘ سورة یونس کی آیت 43 میں اور سورة الرعد کی آیت 16 ‘ 19 ‘ سورة الاسراء کی آیت 72 ‘ 97 میں تفصیل سے بیان کیا ہے اور سورة آل عمران کی آیت 49 میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ تجھ سے عذاب کے مطالبہ میں جلدی مچا رہے ہیں اور اللہ کبھی ایسا کرنے والا نہیں کہ اپنا وعدہ پورا نہ کرے مگر تیرے پروردگار کے یہاں ایک دن کی مقدار ایسی ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ایک ہزار برس

یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں ہرچیز کا ایک وقت مقرر ہے : 47۔ ” یہ لوگ آپ ﷺ سے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں “ بلاشبہ آپ ﷺ نے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہمارے حکم سے ان کو کہا کہ اگر تم نے میرے لائے ہوئے دین کو قبول نہ کیا اور اپنے باپ دادا کی باتوں پر جمے رہے تو اللہ کا عذاب تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ ان لوگوں نے آپ کی یہ بات سنی تو آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن ایسے انکار کے باوجود وہ زندہ ہیں اور اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور آپ کو نہایت دریدہ دہنی سے یہ بات کہتے ہیں کہ تم نے تو ہم کو عذاب الہی آجانے کی دھمکی دی ہے اور ہم تیری مخالفت کر رہے ہیں اور تیرے لائے ہوئے دین کو قبول نہیں کر رہے تو پھر وہ تیرا موعود عذاب آکیوں نہیں گیا ؟ جس طرح تیری یہ بات صحیح نہیں اسی طرح تیرا سارا ہی لایا ہوا دین جس کا نام تو نے اسلام رکھا ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ کفار کی یہ باتیں سن کر آپ ﷺ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکو جواب یہ دیا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کہئے کہ جلدی نہ کرو میں نے تم سے کوئی عذاب آنے کا وقت تو مقرر نہیں کیا تھا کہ فلاں تاریخ اور فلاں وقت عذاب الہی تم کو اپنی گرفت میں لے لے گا فقط عذاب آنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ بھی میں نے نہیں بلکہ اللہ نے مجھے کہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی کہی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی میں اب کہتا ہوں کہ اگر تم اپنی مخالفت پر اسی طرح ڈٹے رہے اور اس دعوت کو قبول نہ کیا تو یقینا عذاب الہی تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ‘ کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہو سکتا ، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک دن بعض حالات کے لحاظ سے ایک ہزار برس کا ہوتا ہے اور بعض لحاظ سے پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے جن دنوں کو تم گنتے اور ان سے سال بناتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ! ہرچیز کا اور ہر بات کا ایک وقت متعین ہے جس کو وہی جانتا ہے اور اس کے سوا اس مقرر وقت کو کوئی نہیں جانتا اور جب وہ وقت آجائے گا اس کے بعد ایک پل پھر کسی کو ڈھیل نہیں دی جائے گی اور نہ ہی دی جاتی ہے لیکن جس طرح اس کے ہاں ڈھیل نہ دیئے جانے کا فیصلہ ہے اسی طرح اس کے وقت آنے میں تقدیم بھی ممکن نہیں ، کیونکہ جہاں ڈھیل نہیں دی جاتی وہاں پہل بھی نہیں کی جاسکتی ، قرآن کریم نے بار بار یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ کبھی ایسا کرنے والا نہیں کہ وہ اپنا وعدہ پورا نہ کرے “ اس نے فرمایا ہے کہ ” ہر جان مرے گی “۔ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی مخلوق ہو لیکن زندہ ہی رہے کبھی نہ مرے ، اس نے فرمایا ہے کہ ” میں اس دنیا میں دوبارہ کسی کو نہیں لوٹاؤں گا “ اور اب ممکن نہیں کہ اس دنیوی زندگی میں ایک بار ختم ہونے کے بعد کوئی شخص دوبارہ زندہ ہو کر آجائے “ تخلیق انسانی کے بعد اس نے فرمایا ہے کہ میں انسانوں کو زوجین سے پیدا کروں گا اور ممکن نہیں کہ کبھی کوئی انسان زوجین کے علاوہ پیدا ہو کر اس دنیا میں آجائے ‘ زوجین عرف اسلام کے مطابق جائز ہوں یا ناجائز ۔ آنے والا بچہ حلال کا ہو یا حرام کا ۔ ہاں ! نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق ضروری ہے کہ نبی ورسول ہونے والا انسان حلال اور جائز طریقہ سے آیا ہو ناجائز اور حرام طریقہ سے نہ آیا ہو اس لئے کہ کسی نبی کا نسب ناجائز نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ نیکوکاروں کو جنت میں اور بدکاروں کو دوزخ میں ڈالے گا لہذا کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نیکو کار جہنم میں اور کوئی بدکردار بہشت میں چلا جائے بشرطیکہ وہ اپنی اس نیکو کاری یا اس بدکاری وبدکرداری پر مرجائے ، ہاں ! جب تک انسان زندہ ہے اس وقت تک کسی نیک کے بد ہونے اور کسی بد کے نیک ہونے کا اصول اس نے پہلے واضح فرما دیا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ جملہ سنتے ہی کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا “ بعض چہروں پر بل پڑجاتے ہیں اور وہ ایک نہیں بیسیوں باتیں کریں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ دیکھو اللہ کے فلاں رسول نے فلاں فلاں مردہ کو زندہ کیا تھا ‘ فلاں کو پیدا کیا تھا ‘ فلاں کو بینا کیا تھا اس لئے اللہ قادر مطلق بھی چاہے وہ کچھ کرے کون ہے جو اس کے متعلق یہ کہے کہ وہ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا ، اس کی تشریح ہم کتنے مقامات پر پیچھے کر آئے ہیں اور اب زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کسی دوسرے نے اس کے متعلق ایسا نہیں کہا اور بلاشبہ ” وہ کبھی اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا “ تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی سورة البقرہ آیت 80 ‘ سورة آل عمران آیت 9 ‘ 194 اور سورة الرعد آیت 31 ‘ سورة ابراہیم آیت 47 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ڈھیل دی اور وہ ظالم تھیں پھر ہم نے مواخذہ میں پکڑ لیا اور بالآخر سب کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے

کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے ڈھیل دے رکھی تھی جب ہمارا مقررہ وقت آیا تو وہ پکڑی گئیں : 48۔ فرمایا جہاں ہم نے عذاب دینے کے ضابطہ کا اعلان کیا ہے وہاں ہم نے ڈھیل دینے کا بھی اعلان کر رکھا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم کرتے ہی نہ پکڑ لیا جائے بلکہ اس کو اس وقت تک ڈھیل دی جائے جس وقت تک اس کو ڈھیل دیتے رہنا ہمارے قانون میں ہے اب کسی کے جلدی کرنے سے ہم اپنا قانون تو نہیں بدلیں گے کہ فلاں آدمی عذاب کے لئے جلدی مچا رہا ہے لہذا اس کو جلدی عذاب میں مبتلا کر دو اور فلاں آدمی عذاب طلب نہیں کرتا اس لئے اس کو عذاب میں مبتلا ہی نہ کرو بالکل چھوڑ دو ، غور کرو کہ قوم نوح (علیہ السلام) نے سوائے چند معدودے آدمیوں کے نوح (علیہ السلام) کی تعلیم کو نہ مانا اور نوح (علیہ السلام) کو بہت ستایا لیکن جب تک ہمارے قانون کا طے شدہ وقت نہ آیا ہم نے انکو ہلاک نہ کیا بلکہ نوح (علیہ السلام) کو کہا کہ تم اپنا کام کئے جاؤ کوئی مانتا ہے تو مانے نہ نہیں مانتا تو تمہاری بلا سے وہ خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور جو اپنا نقصان کرنے پر تل چکا ہے اس کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے لہذا آپ اپنا کام کرتے جائیں جب وقت آئے گا تو ہم ان کو ذرا بھر بھی مہلت نہیں دیں گے اس طرح ایک ایک نبی ورسول کے تذکرہ کو دیکھتے جاؤ تم کو یہی اصول ہمارا دکھائی دے گا اور اب جلدی کرنے والوں کو آخر ہم اپنے قانون کے مطابق ڈھیل کیوں نہ دیں گے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اپنے قانون امہال کا ذکر بھی بار بار قرآن کریم میں کیا ہے اور اس کی بیسیوں سے زائد مثالیں بھی پیش کی ہیں اور یہ بھی کہ قرآن کریم نے اس کو زیادہ تر لفظ (اجل) (تکویر) اور (تدریج) سے بیان کیا ہے اور (مہل) کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے ۔ ہم اس کی وضاحت سورة النحل کی آیت 61 میں ‘ سورة الانبیاء کی آیت 21 میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة المزمل اور الطارق میں انشاء اللہ مزید بیان آئے گا ، اس جگہ لفظ (املیت) کے استعمال ہوا ہے جس کی اصل م ل و ہے ” میں نے ڈھیل دی “ ڈھیل اور مہلت ایک ہی چیز ہے اور اس سے ” املاء “ ہے اور اسی ڈھیل کے لئے لفظ ” مھل “ بھی بیان ہوا ہے جس کی اصل م ہ ل ہے اور اس کے معنی بھی ڈھیل اور مہلت ہی کے ہیں ۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم نے ہمیں وضاحت سے بتایا ہے کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفظوں میں ان کو تعبیر کرنا چاہیں تو فقط فطرت کے فضل و رحمت ہی سے تعبیر کرسکتے ہیں تمہیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی ، اس کے قوانین کا عمل کبھی فوری اور اچانک نہیں ہوتا وہ جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرز عمل نے دنیا کے لئے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے یعنی اس کا ہر قانون فرصتوں پر فرصتیں دیتا ہے اور اس کا ہر فعل عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رکھتا ہے بلاشبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل ہیں اور ان میں ردوبدل کا امکان نہیں ہے ۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

کہہ دیجئے اے لوگو ! میں اس کے سوا کچھ نہیں ہوں کہ تمہیں اعلانیہ خبردار کردینا چاہتا ہوں

آپ اعلان کردیں اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہ میں نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں : 49۔ (یایھا الناس) کے اصل مخاطب وہی لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو اس عذاب کو لے کیوں نہیں آتے جس عذاب کے آنے کی تم ہم کو دھمکی دیتے رہے ہو ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ لوگو ! میں تو تم کو صرف خبردار کرنے کے لئے آیا ہوں اور وہ میں نے تم کو کردیا ہے میں نے کب کہا کہ میں تمہاری قسمتوں کا فیصلہ کرنے والا ہوں ؟ میں نے تو یہ کہا ہے ‘ کہتا ہوں اور جب تک ہوں کہوں گا کہ بچ جاؤ اس شامت آنے سے پہلے پہلے جو یقینا آئے گی اگر تم نے مخالفت اسی طرح جاری رکھی فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کو کب تک مہلت دینی ہے اور کب اور کس صورت میں اس کو پکڑ لینا ہے ۔ لہذا اس معاملہ میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا کہ اس نے مجھے بتایا ہے اور جو کچھ اس نے بتایا ہے وہ میں نے تم کو پہنچا دیا اگر وقت اس نے بتا دیا تو میں وہ بھی ضرور بتاؤں گا لیکن میں اپنی طرف سے پہلے کیا کچھ کہہ رہا ہوں جو اب تم کو کہوں گا ؟ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کے بہت سے صفاتی نام ہیں اور انہی ناموں میں سے ایک نام (نذیر) بھی ہے جس کے معنی ڈرانے والے کے ہیں ۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی

ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کے لئے مغفرت کا اعلان ہے : 50۔ زیر نظر آیت میں سچے دل سے ایمان لانے والوں کے لئے دو باتوں کی خوشخبری دی جا رہی ہے ، مغفرت کی اور عزت و تکریم کے ساتھ رزق دیئے جانے کی ، مغفرت کے معنی کیا ہیں ؟ یہی کہ ان لوگوں سے جو ایمان لے آئیں گے جو خطائیں ‘ کمزوریاں اور لغزشیں ہوجائیں گی ان سے درگزر کیا جائے گا اور ان کو عزت و تکریم کے ساتھ نہایت اچھا اور پاکیزہ رزق دیا جائے گا اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ایمان لانے کے بعد کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو حرام و حلال میں تمیز کرکے حرام سے اجتناب اور حلال کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ حرام سے بچنے اور حلال کی طلب کا تعلق ایمان ہی سے ہے اور بلاشبہ یہ بہت بڑا انعام ہے جس کے دیئے جانے کا زیر نظر آیت میں اعلان کیا گیا ہے اور بلاشبہ اللہ کے بندے دنیا میں بھی جب کسی ایسی کمزوری اور لغزش سے دو چار ہوتے ہیں تو مغفرت الہی کے طلب گار ہوتے ہیں اور رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنی لغزشوں اور کمزوریوں کو پیش کرکے مغفرت کے طالب ہوتے ہیں اور حلال کی جائز طلب کے باوجود حرام سے وہ دور بھاگتے ہیں اور اس کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے ۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کے خلاف لڑ کر کامیاب ہونا چاہا وہ دوزخی ہیں

جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کے خلاف کرکے کامیاب ہونا چاہا وہ دوزخ کا ایندھن ہیں 51۔ (معاجزین) اسم فاعل جمع مذکر (معاجز) واحد اور (معاجزہ) مصدر بامفاعلہ ہرانے والے اور اس سے مراد ہے کسی چیز کے حصول سے قاصر ہوجانا ‘ بےبس ہوجانا (اعجاز) دوسرے کو عاجز بنا دینا ‘ عاجز کردینا (معاجزہ) مقابلہ کرکے اپنے حریف کو ہرا دینا ‘ عاجز کردینا ‘ منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی نہ حشر ہوگا ‘ نہ نشر ‘ نہ عذاب وثواب اس میں بتایا گیا ہے کہ کیوں نہیں ہوگا ؟ بلکہ یہ سب کچھ یقینی ہوگی ‘ ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ تعالیٰ کو روک نہیں سکتے ‘ اس کی قدرت کو سلب نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کو عاجز بنا سکتے ہیں اور پھر جب ان سب باتوں کا اس نے اعلان کردیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیسے روک سکتے ہیں ، فرمایا کامیاب ہونا تو درکنار اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جن لوگوں نے اس سلسلہ میں کوشش کی اور وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے خلاف چلے تو گویا اس راہ پر قدم اٹھانا ہی ان کے دوز کی ہونے کا باعث ہوگیا اور اگر ان کا قدم واپس نہ آیا تو وہ انجام کار سیدھے دوزخ میں جا گرے کیونکہ الٹی راہ چل کر کبھی بھی کوئی سیدھی منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا ہر قدم اس کو اصل منزل سے دور کرتا چلا جائے گا ۔