Ayah 22:9ایسے انسان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا :
9۔ (ثانی عطفہ) کے معنی ہی اس نے اعراض کیا ‘ الگ ہوگیا نخوت وتکبر کے باعث جسے کہتے ہیں کہ ” میں بھی اور کوئی اور بھی “ گویا یہ وہ حالت ہے جس میں انسان غرور وتکبر کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانہ جھٹک کر موڑتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت ہوتی ہے جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو اور اہل واولاد کی کثرت بھی جس کو ہماری زبان باپ واولاد والا آدمی کہا جاتا ہے لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اگر اس کے پاس نہ ہو تو کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو جو اس کے جی میں آئے کرے اور جو جی میں آئے کہے لیکن اس سے کوئی دلیل طلب کرنے کی جرات ہی نہ کرے اور ایسے ہی اگر کوئی سوال کر بھی دے تو وہ اپنی اس حرکت سے اس کے سوال کو بےوقت کرنے کی کوشش کرے فرمایا وہ نامراد خود تو بھٹکا ہی ہے لیکن اب دوسروں کو بھی بھٹکا دے گا کیونکہ خیر نام کی کوئی چیز اس کے اندر موجود نہیں وہ جو کرے گا وہ انوکھا ہی ہوگا اور جو کہے گا وہ بھی یقینا فضول ہوگا اس کے انجام کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ اس کی دنیا میں رسوائی ہوگی اور اس کی آخرت بھی یقینا برباد ہوگی ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ یا آیات الہی میں خواہ مخواہ جھگڑنے لگتے ہیں فرمایا ان لوگوں کی بےدلیل مخالفت اور ان کی غیر معقول کج بحثیوں کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی آیات میں جو سچائیاں اور خیر وصلاح کی باتیں ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتیں اس لئے یہ لوگ نیک نیتی کے ساتھ ان کو سمجھنے کی خاطر بحثیں کرتے ہیں نہیں ہرگز نہیں بلکہ ان کے اس رویہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا غرور نفس یہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے دوسروں کی پیشوائی اور راہنمائی تسلیم کرلی جائے اور بالآخر انہیں خود بھی اس شخص کی قیادت ماننی پڑے جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو سرداری کا زیادہ حق دار سمجھتے ہیں ، ان لوگوں کی حالت کو قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ :
” بلاشبہ جو لوگ کسی سند اور حجت کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیات میں جھگڑے کر رہے ہیں ان کے دلوں میں کبر بھرا ہوا ہے مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں ‘ بس اللہ کی پناہ مانگ لو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے ۔ “ (ال مومن 40 : 56) اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ :
” لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم ‘ بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی راہنما کتاب کے جھگڑتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ “ (لقمان 3 : 20 ‘ 21) بات کتنی واضح ہوگئی کہ جب بحث کا تعلق دلیل کی بجائے مجرد آباؤ و اجداد کی اندھی تقلید سے رہ جائے تو یہی کبر و غرور ہے جس میں مبتلا ہوجانے کے بعد آدمی کے سامنے ساری منطق بےکار ہو کر رہ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بےدلیل یامن گھڑت دلیل مجادلہ کو کبر قرار دیا ہے ۔
زیر نظر آیت کے اس آخری حصہ میں ان کے اس استکبار کی سزا بیان کی ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ رسوا ہوں گے جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق “۔ ایسے آدمی کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے عذاب آتش کا مزہ چکھائیں گے ۔ “ مفسرین نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ یہ آیت رسولوں کے مخالفین کے باب میں ہے کہ اگر ان کے مخالفین اپنی مخالفت پر جمے رہتے ہیں تو اتمام حجت کے بعد لازما اس دنیا میں بھی وہ ذلت سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ جہنم کے سزاوار ٹھہریں گے ، مفسرین نے اس کے حکم عام کو کیوں تسلیم نہ کیا ‘ اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دین کے کھلے باغی ہیں وہ تو عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں تو انہوں نے اس کی یہ تاویل کردی شاید اس لئے کہ ان کو ان لوگوں کی کو ٹھیوں ‘ کاروں ‘ کارخانوں ‘ اور فیکٹریوں نے یہ باور کرایا کہ وہ رسوا نہیں ہیں بلکہ ان کی تو بہت عزت کی جاتی ہے اور لوگ ان کو سلام کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں حالانکہ ان ساری چیزوں کے باوجود ان کی رسوائی میں کوئی شک نہیں ہے اور آنکھوں والوں کو یہ کو ٹھیاں ‘ کاریں ‘ کارخانے اور فیکٹریاں ہیں ان کی رسوائی کا باعث نظر آرہی ہیں اور آج تو یہ بات کسی انسان سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ اس ملک عزیز کے صدر سے لے کر بڑے بڑے وزیروں اور مشیروں ‘ چوہدریوں ‘ نوابوں ‘ مزاریوں ‘ لغاریوں ‘ دریشکوں ‘ کھوسوں ‘ گورمانیوں ‘ دولتانوں ‘ قریشیوں ‘ گیلانیوں ‘ گردیزیوں ‘ ڈا ہوں ‘ ممدوٹوں ‘ موکلوں ‘ قزلباش ‘ کلاں شیخوں ‘ بخاری فقیروں ‘ کھرلوں ‘ سیدوں ‘ سیالوں ‘ رجوعوں ‘ ٹوانوں ‘ ‘ کھوکروں ‘ ککھڑوں ‘ الیپالوں ‘ گوندلوں ‘ چٹھوں ‘ جو دھروں ‘ گھیبوں ‘ مکھڈوں ‘ اعوانوں ‘ نیازیوں ‘ اور بچھروں کی اخباروں ‘ رسالوں اور دوسرے سارے نشرواشاعت کے اداروں سے خوب رسوائی ہو رہی ہے اور اس ملک کا ہر غریب سے غریب آدمی بھی ان کی اس رسوائی کو جانتا ہے لیکن ان کی کو ٹھیوں کے طواف کرنے والوں کو وہ نظر نہ آئے تو یہ دوسری بات ہے ۔
Ayah 22:10ان سے کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارا ہی بویا ہوا ہے اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا :
10۔ فرمایا قیامت کے روزان رسوائے زمانہ کو جب اکٹھا کر لیاجائے گا تو دنیا کی اس ساری عیش و عشرت اور حشم جاہ سے خالی ہاتھ ہوں گے اور وہ سب کچھ ان کو نظر نہیں آئے گا ‘ جس کے بل پر وہ بڑے بنے بیٹھے تھے تو حیران سراسیمہ ہو کر رہ جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب حیران وسراسیمہ کیوں ہو ؟ یہ سب کچھ تمہارا ہی تو کیا دھرا ہے جو دنیا میں تم نے بویا اب یہی کاٹو گے یہ ساری حیرانی و سراسیمگی تمہارے استکبار اور عیش و عشرت ہی کا تو نتیجہ ہے ۔ جو کچھ تم نے کیا تھا آج وہی کچھ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر کبھی ظلم کرنے والا نہیں کہ اس نے تمہاری حالت کو ایسا بنا دیا ہو ‘ ہرگز نہیں اور اب اس حیرانی و سراسیمگی سے کچھ ہونے والا نہیں ہے اور اس طرح ان کو ہانک کر دوزخ میں پہنچا دیا جائے گا ۔
Ayah 22:11اب ان دوگلی پالیسی والوں کو ذکر ہورہا ہے جو انہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے :
11۔ اسلام کی نظر میں دنیا کے سارے لوگ تین گروہوں میں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جو سچے دل سے اسلام کو قبول کرتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کھلا مخالف ہے اور اس کی مخالفت کوئی چھپی ہوئی بات نہیں بلکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہیں لیکن ایک تیسرا گروہ وہ ہے جو بظاہر اسلام لے آتا ہے لیکن اندر سے وہ کفر کو پسند کرتا اور ان لوگوں کے ساتھ دلی تعلق رکھتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس گروہ کے لوگ زبان سے اسلام کے اقراری ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ اس کی رسم و رواج اور عبادات تک میں شریک ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ شرکت ان کو بھی تذبذب سے نکلنے نہیں دیتی ان کی حالت زیر نظر آیت میں بتائی جا رہی ہے کہ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں ان کی یہ اپنے زبانی اقرار اور دائرہ اسلام میں برائے نام شمولیت کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں اور جو فائدے کافر ہونے کی حیثیت سے حاصل ہونے ممکن نہیں ان کی خاطر یہ کفار سے جا کر ملتے ہیں اور ہر طریقہ سے ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کوئی ” متعصب مسلمان “ نہیں نام کا تعلق مسلمانوں سے ضرور ہے مگر ہماری دلچسپیاں اور وفاداریاں تمہارے ساتھ ہیں اس طرح ان کو باور کرا کر اس سے فائدے بھی حاصل کرتے رہتے ہیں ، ان کی حالت کو اس جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کی بندگی کرتے ہیں مگر دل کے جماؤ سے نہیں اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچ گیا تو مطمئن ہوگئے اور اگر کوئی آزمائش آلگی تو لگے منہ بسورنے اور الٹے پاؤں اپنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ پڑے ۔ ایسے لوگ اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی ان کی کوئی کمی نہیں ہے روایات میں جن بدوی دیہاتیوں کا ذکر آیا ہے ان کا بھی یہی حال تھا کہ مدینہ میں آتے اور مسلمان ہوجاتے اگر یہاں رہنے میں ان کو فائدہ معلوم ہوتا تو یہیں کے ہو کر رہ جاتے اور باور کراتے کہ ہمارا واپس جانے کو دل نہیں مانتا اور اگر کسی طرح کی کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو بدشگونی لینے لگتے اور کہتے کہ ہم کو یہ دین راس نہیں آیا اور اس طرح منہ پھیرجاتے ہیں اور واپس اپنے لوگوں کے پاس جا کر مسلمانوں کی کمزوریوں کا خوب پرچار کرتے اور ان کو کہتے کہ ہم نے تو اسلام کے اندر جا کر دیکھ لیا ہے کہ اس میں خیر کی کوئی بات نہیں ہے ۔ آج تک اسلام کے اندر جتنی گروہ بندیاں معرض وجود میں آئی ہیں سب انہی جیسے لوگوں کی مرہون منت ہیں اور آج خصوصا اس ملک عزیز پاکستان میں سارے وڈیروں کی یہی حالت ہے الا ماشاء اللہ کہ انہوں نے اسلام کا نام باقی رکھا ہے تو محض اس لئے کہ اس ملک میں رہ کر وہ کوئی دوسرا نام نہیں رکھ سکتے آج بھی ان کو مسلمانوں کی بجائے یہودیوں ‘ عیسائیوں اور مجوسیوں ‘ ہندوؤں اور سکھوں سے دوستی ہے ۔ انہی کے بتائے ہوئے پروگراموں کے مطابق سب کچھ کرتے ہیں انہی کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور اندرون خانہ انہی سے ملے ہوتے ہیں لیکن بظاہر اسلام اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن اسلام کے ساتھ قطعا مخلص نہیں اگر کوئی ان میں ہے تو وہ ان کے ساتھ وابستہ رہنے میں خیر سمجھتا ہے اور مصلحت سے کام لے کر انہیں مصلحت اندیشوں کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے کہ اس ملک کی قسمت کے وہ مالک سمجھے جا چکے ہیں ، فرمایا اچھی طرح سمجھ لو کہ ” وہ دنیا میں بھی نامراد ہیں اور آخرت میں بھی “ دنیا میں ان کی نامرادی یہ ہے کہ ان کی یہ حالت سب پر واضح ہوچکی ہے جو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ان کی مثال بلی کی سی ہے کہ وہ سو چوہے کھا کر بھی حجن کی حجن ہی رہتی ہے اور اپنا منہ اپنے پاؤں سے صاف کرلیتی ہے اور انہوں نے کیا کچھ ہے کہ ہضم نہیں کرلیا اور باقی کو ہڑپ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں فرق ہے تو صرف یہ کہ اتنے ڈھیٹ ہیں کہ شرم نام کی کوئی چیز ان کے وجود میں باقی نہیں رہی اور پورے ملک کے اندر ہر جگہ ‘ ہر قریہ وبستی میں ان کی اس حالت کا چرچا ہے اور وہ خود بھی ایک دوسرے کو ” لوٹا “ کے خطاب سے نوازتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس کی رسوائی نہیں سمجھتا بلکہ عزت خیال کرتا ہے تو وہی یہ بتا دے کہ رسوائی کس شے کا نام ہے ؟ یا یہ کہ رسوائی نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود ہی نہیں ۔ رہی عوام کے فوائد کی وابستگی تو عوام بھی اس مثل کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ضرورت کے تحت گدھے کو باپ کہا جاسکتا ہے ، فرمایا یہ تو ان کی اس دنیوی زندگی کا حال ہے اور رہی آخرت تو وہ اس دنیا سے بھی زیادہ خراب اور برباد ہوگئی کیونکہ نامرادی ان کا مقدر بن کر رہ گئی ہے ، اس کی مزید وضاحت دیکھنا ہو تو تفسیر عروۃ الوثقی میں سورة النساء کی آیت 141 تا 143 کی تفسیر ملاحظہ کریں اور اس طرح سورة الانعام کی آیت 68 کو دیکھیں ۔
Ayah 22:12وہ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان :
12۔ (دعا یدعوا) کے معنی پکارنا ‘ دعا کرنا ‘ استغاثہ کرنا ‘ فریاد کرنا اور استمداد چاہنا ہے اس میں ایک دو باتیں سمجھنے کی ہیں کہ جس کو پکارا جائے وہ پاس موجود ہو اور آواز کو سنتا ہو اور جواب دے سکتا ہو۔ جس بات کے لئے اس کو پکارا جائے اس کو پورا کرنے کی اس میں صلاحیت اور قدرت موجود ہو ۔ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک مسلمان کو باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کسی کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی وہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر ایک کی بات کو سنتا اور اس کو جواب دیتا ہے اگرچہ اس کی آواز کو کوئی براہ راست سن نہیں سکتا اور جس بات کے لئے اس کو پکارا جائے اس کو پورا کرنے کی اس میں صلاحیت اور قدرت موجود ہے اور کوئی بات ایسی نہیں جو اس کی قدرت سے باہر ہو لیکن چونکہ وہ اپنے وعدوں کا بہت پورا کرنے والا ہے بلکہ تخلف وعدہ اس سے محال ہے اس لئے اس کے وعدہ کے خلاف کی دعا کو باوجود قدرت کے وہ پورا نہیں کرتا ، اس طرح اسلام کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی شخص بھی خواہ وہ کون ہو جب تک بلاواسطہ یا بالواسطہ موجود نہ ہو وہ نہ کسی کی بات کو سنتا ہے اور نہ ہی جواب دے سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں کوئی ایسی ہستی سوائے اللہ تعالیٰ کے موجود ہے کہ وہ ہر انسان کی ہر بات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔ اس لئے کسی ذات کو سوائے اللہ تعالیٰ کے دکھائی نہ دینے کے باوجود ہر جگہ حاضر سمجھنا اور اسی طرح انسان کی ہر حاجت کو پورا کرنے کی صلاحیت اس میں جاننا یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ اس کو شریک کرنا ہے لہذا اس طرح کوئی شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو پکارے ‘ دعا کرے ‘ استغاثہ کرے ‘ فریاد کرے یا استمداد طلب کرے وہ مشرک ہے چاہے وہ کون ہو اور کہاں ہو اور مختصر لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نافع وضار سمجھ کر پکارے گا تو وہ شرک کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص فی الحقیقت نافع اور ضار نہیں ہو سکتا ۔ اس کی وضاحت پیچھے سورة البقرہ آیت 102 ‘ 123 سورة الانعام آیت 71 سورة یونس آیت 106 اور علاوہ ازیں ان میں بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے ، تفصیل چاہتے ہوں تو نشان زدہ آیات کی تفسیر عروۃ الوثقی سے ان آیات کو نکال کر دیکھ لیں ، اس سورت کی آیت 73 میں بھی تفصیل آئے گی ۔ انشاء اللہ ۔
Ayah 22:13جس کا ضرر اس کے نفع سے زیادہ قریب ہوگیا وہ بھی اچھا ساتھی ہوگا :
13۔ گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا نہ کوئی حقیقی ‘ ’ نافع “ ہے اور نہ حقیقی ” ضار “ اور جو شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کے سوا نافع یا ضار سمجھے وہ شرک کا مرتکب ہوا اور زیر نظر آیت میں بیان ہوا کہ جو شخص اسے پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے قریب تر ہے تو اس طرح گویا دونوں آیتوں میں تضاد ہوگیا ؟ کیونکہ اس آیت میں نفع وضرر کو تسلیم کرلیا گیا ؟ سمجھ لینا چاہئے کہ حقیقت میں ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اور بلاشبہ کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان گویا نہ وہ کسی کا کچھ بنا سکتا ہے اور نہ ہی بگاڑ سکتا ہے ۔
اور یہ وہ نفع ونقصان ہے جس کے لئے اس نے غیر اللہ کو نافع یا ضار سمجھ کر پکارا رہا اس پکارنے والے کافی نفسہ پکارنا تو وہ یقینا اس کے لئے گناہ کا باعث ہوا اور گناہ کا مآل اور نتیجہ ضرر اور نقصان ہی ہوگا اگر اس ضرر اور نقصان کو بھی نہ تسلیم کیا جائے تو اس کو غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت کیوں ہو ؟ اور اگر یہ جرم نہ ہوتا تو آخر اس سے روکنے کی ضرورت کیا تھی ؟ پھر یہ بھی کہ کوئی شخص جب بھی کسی غیر اللہ کو پکارے گا تو فرضی نفع ہی کے لئے پکارے گا اگرچہ جس کو پکارا گیا ہے وہ نفع نہیں پہنچا سکتا تو اس طرح اس کے فرضی نفع کی بجائے جو اس کو گناہ ہوا وہ اس پکارنے والے کو حاصل ہوگیا ‘ اس طرح اس کے فرضی نفع کی بجائے اس کا ضرر پکارنے والے کے زیادہ قریب ہوگیا اگر وہ اس کو نہ پکارتا تو یہ ضرر تو اس کو کم از کم نہ پہنچتا ۔ یہی وہ گناہ ہے جس کو بےلذت گناہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور یہی وہ بجائے نفع کے الٹا نقصان ہے جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے ۔ مثلا ” الف “ نے ” ب “ کو نفع حاصل کرنے کے لئے پکارا حالانکہ ” ب “ نفع وضرر کی قدرت نہیں رکھتا تھا اور اس طرح ” الف “ کو ” ب “ سے نفع تو حاصل نہ ہوسکا تاہم ” الف “ کا ایمان تو گیا اور ایمان چلے جانے کا ” الف “ کو کوئی نقصان پہنچایا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوگا ؟ کہ اس کا وہ فرضی نفع جو ” الف “ نے سمجھا تھا وہ تو حاصل نہ ہوا لیکن الٹا ” الف “ کا نقصان ہوگیا کہ وہ ایمان سے محروم ہوگیا ۔ یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے ذرا عقل پر زور دو گے تو بات انشاء اللہ ذہن میں بیٹھ جائے گی بشرطیکہ عقل سے کام لینا آپ روا رکھتے ہوں کیونکہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو دین کے معاملہ میں عقل سے کام لینا حرام سمجھتے ہیں اور ان سے تضاد کے متعلق بات کی جائے تو وہ ایک ہی رٹ لگاتے نظر آتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم میں اس طرح لکھا ہے کیا اللہ تعالیٰ کو بیان کرنا نہیں آتا تھا ؟ اور یہ بات وہ کبھی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ مت ان کی ماری گئی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو جہاں عقل وفکر سے کام لینا چاہئے تھا وہیں اس سے کام لینا حرام سمجھ لیا ہے ۔
فرمایا غور کرو کہ جس کو پکارنا نہیں چاہئے تھا اس کو پکارنے کی جس نے اس کو رغبت دلائی ‘ بات سمجھائی وہ کتنا ہی برا ساتھی نکلا کہ اس نے غیر اللہ کی پکار کروا کر بنائے گئے ساتھی کا ایمان ضائع کرا دیا یہ ساتھی خواہ وہ کون بھی تھا اسلام کی زبان میں شیطان ہی اس کو کہا جائے گا وہ مولوی کے روپ میں ہو یا پیرو مرشد کے روپ میں کیونکہ یہی وہ بہروپیا ہے جو طرح طرح کے روپ بدلتا رہتا ہے اس نے ہم نوالہ وہم پیالہ ہو کر وہ کام کیا جو بڑے سے بڑا دشمن بھی نہیں کرسکتا تھا ۔
Ayah 22:14ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں پہنچا دے گا :
14۔ بلاشبہ جو لوگ اس کی رضا کے لئے ایمان لاتے اور اچھے عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی انہوں نے دنیا کے عیش و آرام کو رضائے الہی کے لئے قربان کیا اور جس کی چاہت ان کے دل میں تھی وہ یقینا ان کو میسر ہوگئی یعنی وہ مراد کو پہنچے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان کو حاصل ہوگئی ۔ بلاشبہ قانون الہی میں مشرک کو سزا دینا اور مومن کو جزا دینا طے ہے اور کوئی نہیں جو اس کے کئے گئے فیصلے کو نافذ ہونے سے روک دے اس کے قانون کو رد نہیں کیا جاسکتا وہ صاحب قوت واقتدار ہے اور ذوالجلال والاکرام نہ اپنے فیصلوں کو بدلتا ہے اور نہ کسی کو اپنے فیصلے بدلنے دیتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس لئے جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ اپنی رضا ومرضی ہی سے کیے ہیں اور ان کے پورا کرنے کا جو اعلان کیا ہے وہ بھی اپنی رضا ومرضی سے ہی کیا ہے ۔
Ayah 22:15کتنا برا گمان ہے اس شخص کا جس نے یہ سمجھا کہ اس کی مدد اللہ کبھی نہیں کرے گا :
15۔ (من ینصرہ) میں ضمیر ” ہ “ کا مرجع کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہیں اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مرجع ” من “ ہے ۔
1۔ جو شخص اپنی جگہ پر یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرے گا ۔
2۔ جو شخص اپنی جگہ پر یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی جس نے ایسا خیال کیا ہے کبھی مدد نہیں کرے گا اور ہمارے خیال میں یہی آخری مفہوم زیادہ واضح ہے کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا ہے اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتا ورنہ وہ کبھی یہ حماقت نہ کرتا کہ ایک زور آور کو چھوڑ کر کسی کمزور وناتواں کی طرف توجہ کرتا۔
لیکن پہلا مطلب بھی مفسرین نے بیان کیا ہے اس لئے اس کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا جب کہ دونوں مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح اور حق ہیں ۔ ہاں ! بات پہلی سمجھی جائے یعنی اس ” ہ “ کی ضمیر سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ کو لیا جائے مطلب یہ ہوگا کہ ” جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرے گا تو وہ چھت سے رسی باندھ کر خود کشی کرے ‘ وہ کسی ذریعہ سے آسمان پر چلا جائے گا اگر جاسکتا ہے اور وہاں جا کر اس کی مدد بند کرانے کی کوشش کرے ۔ وہ آسمان پر جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کرا سکتا ہے تو کرا دے ، وہ آسمان پر جا کر اس کا رزق بند کرانے کی کوشش کرے اگر وہ کرسکتا ہے ۔ “ اور اگر بات دوسری ہے جیسا کہ ہم نے سمجھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ” جس کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گمان کرنے والے کی مدد نہ کرے گا وہ اپنے گھر کی چھت کے ساتھ رسی لٹکائے اور خود کشی کرلے اگر کرسکتا ہے ، وہ آسمان تک پہنچ کر وہاں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے اگر وہ ایسا کرسکتا ہے ، اور حقیقت دونوں ہی جگہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے اور حقیقت دونوں ہی جگہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے کر دیکھے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے اس نظریہ میں کامیاب ہو سکے چاہے وہ جو راستہ اختیار کرے ہماری طرف سے آزاد ہے یہ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے کئے گئے وعدہ کو مزید پکا کرنے کے لئے پیرایہ بیان اختیار کیا ہے کہ ہم جس کو نفع پہنچانا چاہیں کون ہے جو اس کو نہ پہنچنے دے یا جس کو ہمارے قانون کے مطابق کوئی ضرر پہنچنا لازم آچکا ہو کون ہے جو اس کے ضرر کو اس سے دور کر دے وہ گویا اس طرح کی کوئی بات سوچ کر اپنی زندگی سے ہاتھ تو دھو سکتا ہے لیکن اس نظریہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ زیر نظر آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی باتین بیان کی گئی ہیں اور بعض قبائل کا نام لے کر بھی بات کی گئی ہے اور اس آیت کا شان نزول ایک سے زیادہ طریقہ سے بتایا گیا ہے لیکن جب قرآن کریم کا حکم عام ہے تو اس کو کسی کے ساتھ کرنے کی آخر ضرورت ؟ مزید وضاحت کے لئے سورة الانعام کی آیت 35 کی تفسیر دیکھیں جو تفسیر عروۃ الوثقی جلد سوم میں ملے گی ۔
Ayah 22:16کلام واضح اور صاف وہی ہوتا ہے جس کے لئے دلائل موجود ہوں کلام الہی دلائل سے پر ہے :
16۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن دلائل کی صورت میں اس کا نازل کیا گیا ہے اور اس سے زیادہ آپ کو کہیں روشن دلائل دستیاب نہیں ہوں گے یہ دلائل عقیدہ توحید ‘ عقیدہ قیامت اور عقیدہ رسالت کی صداقت کو روز روشن کی طرح واضح کردیتے ہیں جو صاحب توفیق ہوں گے وہ ان پر ایمان لا کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں گے اور جو محروم رہیں گے وہ دین و دنیا میں خائب و خاسر ہوں گے ۔ رہی ہدایت تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے قانون کے مطابق اس کو دیتا ہے جو ہدایت کی طلب رکھتا ہے اور جو طلب نہیں رکھتا محض باپ دادا کی رسم و رواج ہی کا پابند ہے اور عقل وبصیرت سے کام نہیں لیتا اللہ تعالیٰ ہدایت کو ان کے پیچھے نہیں لگا دیتا کہ اس بھاگنے والے کو وہ پیچھے سے پکڑ لے بلکہ جو دیکھنے سننے کے باوجود اندھے ‘ بہرے بن جاتے ہیں ان کے دلوں پر اس کے قانون کے مطابق مہر ثبت کردی جاتی ہے اور وہ دیکھی ان دیکھی اور سنی ان سنی کردیتے ہیں۔
Ayah 22:17ناخلف گروہ بندیوں میں تقسیم ہونے والوں کے درمیان قیامت کے روز فیصلہ ہوجائے گا :
17۔ ایمان کے دعویداروں ‘ یہودی کہلانے والوں ‘ صابئی کے نام کو پسند کرنے والوں ‘ نصاری نام رکھ لینے والوں اور مجوسی کے نام سے یاد کئے جانے والوں اور شرک کو پسند کرنے والوں سب کو اپنی اپنی جگہ یہ دعوی ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں ‘ سوائے ایک گروہ کے ان سب گروہ کا ذکر پیچھے سورة المائدہ آیت 69 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور جس گروہ کا ذکر قبل ازیں نہیں آیا اس کا ذکر فقط قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ہے اور کسی آیت میں نہیں کیا گیا وہ نام (المجوس) ہے کہا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے کانوں والا ایک آدمی تھا جس کا نام مجوس تھا اور دین مجوسیت کا یہی موسیس اعظم تھا اور کہا گیا ہے کہ یہ لفظ معرب ہے جو دراصل منج گوش تھا (قاموس) مجوسی ثنویہ گروہ تھا جو دو خود مختار مدیر عالم قدیم بالذات خداؤں کی ہستی کو مانتا تھا ایک خیر یعنی نفع وصلاح کا خدا دوسرا بدی یعنی ضرر اور فساد کا خدا ‘ اول کا نام نور اور دوسرے کا نام عظمت تھا ، مانویہ اور مرذکیہ فرقوں کا بھی انہیں میں شمار کیا گیا ہے حکیم زردشت بن یوشب ساکن آذربائی جان کے پیرو خصوصیت کے ساتھ اس مذہب کے علم بردار تھے ، مجوسی مذہب کے مختلف فرقے تھے تو تقریبا سب ہی مٹ گئے اور انہی لوگوں کو پارس کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔ زردشت بھی دو الہ کا قائل تھا اول ” الہ الحکمۃ “ (آسمان کا دیوتا) جس کو بطور رمز ” سورج “ کہا جاتا تھا اور یہی الہ خیر تھا اس کا نام ” ہرمز “ یا ” اہرام زاد “ تھا دوسرا شر تھا جس کا نام ” اھریمان “ یا ” اہرمن “ تھا زردشت کے عقیدہ میں دونوں باہم جدال میں مشغول ہیں ایک وقت آئے گا کہ ” ہرمز “ ” اہرمن “ پر غالب آجائے گا اور وہی اس عالم کے ختم ہونے کا دن ہوگا شاید ہندو تاریخ کے رام اور راون سے بھی انہی دونوں طاقتوں کی طرف اشارہ ہو۔ زردشت کی کتاب شریعت کا نام ” اوستا “ بتایا جاتا ہے جو وحی من اللہ کا مجموعہ مانی جاتی تھی ۔ سکندر نے اس کا پیشتر حصہ فنا کردیا تھا ۔ ساسانی دور میں سفینوں اور سینوں سے اس کو دوبارہ جمع کیا گیا عربوں نے اپنی فتوحات کے دور میں اس کو دوبارہ فنا کردیا کچھ چھپا چھپایا حصہ رہ گیا اصل ” اوستا “ میں 29 کتابچے تھے ، عربی ‘ یونانی اور ارمتی تاریخ سے اس کی شہادت ملتی ہے شہرستانی نے قوانین مجوس کو بسط کے ساتھ لکھا ہے دین مجوسی میں بقول ہر ودتس موتی پوجا اور مورتیوں کے مندر داخل نہ تھے بلکہ اصل مجوسی اس کو حماقت کہتے تھے ، وہ سورج چاند ‘ آگ اور پانی کے نام پر بھینٹ چڑھاتے تھے آخر میں آشوربوں کی تقلید میں انہوں نے زہرہ پرستی شروع کردی اور زہرہ کا نام انہوں نے متر رکھا ۔ ابتدائی دور میں مذہب زردشت میں صرف سماجی بھلائی کے قوانین تھے پھر آہستہ آہستہ خیالی اور وجدانی فلسفہ نے جگہ لے لی اور ان میں رہبانیت آگئی اور پھر مندر بھی بنانے لگے اور پھر قبل از زردشت کی طرح آتش پرستی شروع ہوگئی ۔
زردشتی مذہب کی اصل کتاب پر فنا کے دو دور آئے تو اب اصیل ودخیل کا فیصلہ ممکن نہیں ہے پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اہل فارس کی زبان آرین تھی تو اس نتیجہ پر پہنچنا بالکل آسان ہوجاتا ہے کہ آرین ادب و زبان اور پہلوی کتاب ” اوستا “ میں تو ادب سامی کی روح کارفرما ہے تو پھر اس کو اصلی ” اوستا “ کیسے کہا جاسکتا ہے ۔ بلاد عرب میں مجوسیت ایران سے براہ بحرین داخل ہوئی اور اول اول بنو تمیم اس کے حلقہ بگوش ہوئے اور اقرع بن حابس زرارہ بن عد اس ‘ زرارہ کے دونوں بیٹے لقیط اور حاجب دین مجوسیت کے پرستار بن گئے ، بلخی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ مزدکیت اور مجوسیت دونوں قبائل بنو تمیم میں پھیلی ہوئی تھی ۔ آگ اور راکھ کی قسم کھانے کا دستور بعض جاہلی عربوں میں اب تک موجود ہے تعظیم و تقدیس کے لئے مزارات مقدسہ ‘ مندروں ‘ عبادت خانوں اور چوراہوں پر جو موم بتیاں اور چراغ جلائے جاتے ہیں انکی اصل یہی دیانت مجوسیہ ہے ۔
المجوس کا تعارف آپ کو ہوچکا قرآن کریم کی اس آیت میں مختلف گروہوں کا ذکر کیا گیا جو قرآن کریم کے نزول کے وقت مشہور عالم تھے اور دیانت اسلامی کا یہ حال ہے کہ اس نے مسلمانوں کا نام سب سے پہلے لیا یعنی اپنے آپ کو اس نے اس حکم سے باہر نہیں سمجھا اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ قرآن کریم کے اس حکم کے پیش نظر کم از کم مسلمان مزید گروہ بندیوں میں تقیسم نہ ہوتے لیکن افسوس کہ آج اسلام کے اندر مسلمانوں نے اس سے زیادہ مستقل گروہ بندیاں قائم کردیں جن گروہ بندیوں کا نام قرآن کریم نے اس جگہ اور علاوہ ازیں دوسری جگہ گنوائے اور پھر گروہ مشرکین کو بھی اس میں شامل کر کے ارشاد فرمایا کہ ان کے اختلافات مٹنے والے نہیں اور نہ ان گروہوں کا کوئی فیصلہ کرسکتا ہے اور انجام کار بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ ہمارے ہاں پہنچتے ہی ان کے درمیان کردیا جائے گا اور یہ سب کے سب خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حق پر کون تھا اور کون نہیں تھا اور یہ فیصلہ اندھا دھند نہیں ہوگا بلکہ اس بنا پر ہوگا کہ سب پر یہ بات واضح ہوجائے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہرچیز سے واقف ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اہل حق اور اہل باطل کو ایک طرح کر دے حق حق ہوگا اور باطل باطل کر کے رکھ دیا جائے گا اگرچہ اس وقت اس وضاحت سے باطل پرستوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ درالجزاء ہے درالعمل نہیں اور آج ہم بغیر کسی جھجھک کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ان گروہوں کے درمیان فیصلہ ہوگا بالکل اسی طرح مسلمانوں کی اندرونی گروہ بندیوں کا فیصلہ بھی ہوجائے گا لیکن کاش کہ اس فیصلہ سے پہلے ہی مسلمان ان فرضی گروہ بندیوں کو ختم کر کے فقط دین اسلام ہی کو اپنا تعارف کے لئے کافی وافی سمجھتے اور خصوصا شرک فی الذات رب العالمین اور شرک فی الرسالۃ کے مرتکب نہ ہوتے کہ ہم سب کے ہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور ‘ رسالت کی حقیقت ‘ آخرت پر ایمان یکساں طور پر قابل تسلیم تھا ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو موجودہ ایک امام و پیشوا کی بیعت پر جمع کر دے اور ہم گروہ بندیوں کو ختم کرکے ایک ہوجائیں تاکہ غیروں پر واضح ہوجائے کہ :
ع مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا :
Ayah 22:18زمین وآسمان کی ہرچیز رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز ہے :
18۔ ” سجدہ “ اور ” تسبیح “ دونوں ہی عربی الفاظ ہیں لیکن ہماری اردو زبان میں بھی مستعمل ہیں اور بچہ بڑا سب ان سے واقف ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں معدودمعنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور عربی زبان میں ان کے معنوں میں بہت وسعت پائی جاتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی وہ اپنی ساری معنوی وسعت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی زبان واضح طور پر عربی ہے اس لئے (من فی السموات) سے مراد آسمان و دنیا کی ہرچیز ہے وہ ذوی العقول ہو یا غیر ذوی العقول ‘ وہ حیوانات ہوں ‘ نباتات ہوں یا جمادات پھر ان سب میں سے چند مخصوص مخلوق کے نام بھی بیان کردیئے جن میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف قوموں نے ان چیزوں کی پرستش کی ہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوئے ہیں حالانکہ یہ خود سب کے سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہیں کیونکہ وہ اس کی مخلوق ہیں اور کوئی مخلوق بھی اس قابل نہیں کہ اس کے لئے سجدہ کیا جائے بلکہ سجدہ کا مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ساری مخلوق اس کی تسبیح خواں ہے اور اس کی تسبیح کے گیت گاتی ہے ۔
چونکہ جن وانس کے سوا ساری مخلوق کا سجدہ اضطراری یا تسخیری ہے کہ وہ مکلف نہیں ہیں اور یہ بھی کہ اس جن وانس سے مراد ایک ہی جنس کی دواصناف ہیں لہذا ان کو اختیاری سجدہ کا بھی حکم دیا گیا تھا اس لئے ان کا بیان غیر مکلف مخلوق سے الگ کرکے بھی کرو یا کہ جنس انسان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو یہ مکلف ہونے کے ناطے سے بھی سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے لئے عذاب لازم کردیا گیا ہے کیونکہ وہ مکلف ہونے کے لحاظ سے رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتے بلکہ شیطان کے ساتھی بن کر تکبر و غرور میں رہتے ہیں اور ان متکبرین کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کی نگاہ میں کتنے ہی عزت و تکریم سے دیکھے جاتے ہوں لیکن بارگاہ ایزدی میں وہ ذلیل و خوار ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کر دے اس کے لئے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے ، عزت وہی عزت ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو لوگ اس کو تسلیم کریں یا نہ کریں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ بلاشبہ اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی چاہتا ہے جو کرتا ہے کیونکہ اس کے چاہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔ قرآن کریم کی اس آیت میں بھی گزشتہ آیتوں کی طرح سجدہ تلاوت مسنون ہے اور قرآن کریم کے سجدوں میں سے یہ چھٹا سجدہ ہے ۔
قرآن کریم میں کل پندرہ مقامات ہیں جہاں سجدہ تلاوت کرنا ضروری ہے اور یہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی سنت ہے اور اس کا مشروع ہونا متفق علیہ ہے اور جو اختلاف ہے وہ صرف نام کے اعتبار سے ہے کہ بعض اس کو واجب قرار دیتے ہیں اور بعض سنت لیکن یہ بات کہ واجب کیا ہے ؟ جو لوگ واجب قرار دیتے ہیں وہ اس کا درجہ فرض سے کم اور سنت مؤکدہ سے زیادہ بتاتے ہیں تاہم یہ تقسیم بعد کی ہے سنت میں اس کا کوئی مقام نہیں اس لئے ان سجدوں کو سنت ہی کہنا زیادہ صحیح ہے ۔ لوگوں میں زیادہ معروف بات ان سجدوں کے بارے میں یہ ہے کہ ان کی تعداد چودہ ہے اور جو لوگ ایسا مانتے ہیں یا بیان کرتے ہیں وہ سورة الحج کا یہ سجدہ جس کا اس جگہ بیان ہو رہا ہے مانتے ہیں اور اس سورت الحج کے دوسرے سجدہ کو وہ تسلیم نہیں کرتے حالانکہ سنت سے وہ بھی ثابت ہے اور یہ اختلاف فقہی اختلاف ہے ۔ آیت سجدہ ختم کرتے ہی سجدہ میں گر جانا صحیح ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا یہی معمول تھا اور سوار کو سواری پر بھی سجدہ کرلینے کی اجازت ہے اور جگہ مناسب نہ ہو تو صرف سر جھکا دینے سے بھی سجدہ ادا ہوجاتا ہے اس سجدہ کے لئے باوضو ہونا شرط نہیں ‘ اگرچہ بےوضو ہونے سے باوضو ہونا اچھا ہے جس حالت میں قرآن کریم زبان سے پڑھ لینے کی اجازت ہے اس حالت میں یہ سجدہ تلاوت بھی کیا جاسکتا ہے ، احادیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھا اور اس میں جب آیت سجدہ آئی تو جو لوگ زمین پر کھڑے تھے انہوں نے زمین پر سجدہ کیا اور جو سواریوں پر تھے انہوں نے اپن سواریوں پر ہی سجدہ کرلیا اور ایسا بھی ہوا کہ آپ ﷺ نے منبر پر آیت سجدہ پڑھی نیچے اتر کر سجدہ کیا ۔ عام طور پر مفسرین کرام نے سجدہ تلاوت کے لئے وہی شرطیں بتائی ہیں جو نماز کے لئے ضروری ہیں یعنی باوضو ہونا ‘ قبلہ رخ ہونا اور نماز کے سجدہ کی طرح سجدہ کرنا یعنی زمین پر ماتھا اور ناک ٹکانا لیکن یہ شرطیں کتب احادیث میں سجدہ تلاوت کے لئے احادیث سے واضح نہیں ہوتیں لہذا بغیر وضو بھی سجدہ تلاوت کیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں میں یہ معمول بھی رہا ہے ، امام بخاری (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ وضو کے بغیر بھی سجدہ تلاوت کرلیتے تھے اور اسی طرح قبلہ رخ ہونا بھی وہ ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔
زیر نظر آیت میں مختلف گروہوں کے جھگڑے کے فیصلے کو قیامت کے روز چکانے کا جو ذکر ہے اسکے لئے اتنی بات دوبارہ سمجھ لینی چاہئے کہ یہ دراصل اس جھگڑے کو ختم کرانے کے لئے بیان کیا گیا ہے اس لئے نہیں کہ دنیا میں معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں ؟ ہرگز ایسی بات نہیں اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بینا آنکھ رکھتا ہے وہ آج بھی دیکھ سکتا ہے کہ حق پر کون ہے اور آخری فیصلہ کس کے حق میں ہونا چاہئے ۔ کائنات کا نظام اس بات پر شاہد ہے کہ زمین سے آسمان تک ایک ہی رب ذوالجلال والاکرام کی حکومت ہے جو پورے نظم وضبط کے ساتھ چل رہی ہے زمین کے ایک ذرہ سے لے کر آسمان کے بڑے بڑے سیاروں تک سب ایک ہی قانون کے اندر جکڑے ہوئے ہیں جس سے بال برابر بھی ادھر ادھر حرکت کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ ایک سچا مسلمان تو بلاشبہ اپنے دل اور ارادہ کے ساتھ اس کے سامنے سجدہ ریز ہے لیکن وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور وہ مشرک جو در در پر سجدہ کر رہا ہے وہ بھی اس کی بےاختیاری اطاعت پر اسی طرح مجبور ہے جس طرح سورج ‘ چاند ‘ ہوا اور پانی اطاعت گزار ہیں ۔ بلاشبہ کسی فرشتہ ‘ کسی جن ‘ کسی ولی ‘ کسی نبی اور کسی دیوی و دیوتا کے پاس خدائی کی صفات اور اختیارات کا ادنی شائبہ تک بھی نہیں ہے کہ اس کی الوہیت ومعبودیت کا مقام دیا جائے یا اللہ رب العزت کا ہم جنس یا مثیل ٹھہرایا جائے کیونکہ وہ خالق ہے اور باقی سب کچھ مخلوق اور خالق و مخلوق میں کوئی دوسرا رشتہ ممکن ہی نہیں ۔ لہذا کائنات کی یہ کھلی کتاب سامنے ہوتے ہوئے بھی جو شخص انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل (علیہ السلام) کی بات نہیں مانتا اور مختلف خود ساختہ عقیدے اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کی ذات میں جھگڑتا ہے بلاشبہ اس کا برسر باطل ہونا آج بھی روز روشن کی طرح واضح ہے اور یہی بات روز قیامت بھی ثابت ہوگی ۔ اس وقت اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اور کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا سوائے اس کے کہ ایک دن آنے والا ہے کہ اس کا فیصلہ ہوجائے گا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔
Ayah 22:19فریقین میں سے ایک حق پر ہے ایک کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے جہنم تیار ہے :
19۔ حق و باطل دو چیزیں ہیں ۔ باطل کے کتنے ہی شعبے ہیں جو مختلف گروہوں نے اپنا رکھے ہیں اور پھر یہ سارے مختلف گروہ مل کر ایک گروہ تشکیل پاتا ہے اور سب کا مقابلہ حق کے ساتھ ٹھہرا اس لئے زیر نظر آیت میں باطل کے سارے گروہوں کو ایک قرار دے کر بات کی جا رہی ہے کہ ان سب کا جھگڑا حق کے ساتھ ہے تو معلوم ہوا کہ اس طرح یہ سارے گروہ مل کر دو گروہ بن گئے ایک اہل حق اور دوسرے اہل باطل اور پھر فرمایا کہ حق و باطل کا جھگڑا ہے ۔ حق پر کونسا فریق ہے ؟ وہی جو انبیاء ورسل کی بات کو مان کر خالصتا اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرتا ہے اور اس ذات الہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور دوسرا گروہ وہ جو ان کی بات کو نہیں مانتا اور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے خواہ ان کے کفر کی صورتیں مختلف ہونے کے باعث وہ کتنے ہیں گروہوں میں تقسیم ہوچکے ہوں لیکن اپنے کفر کے باعث وہ سب ایک ہی گروہ کہلائیں گے اور ان کے اس گروہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس کیا رکھا ہے ؟ فرمایا ” ان سب کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں ۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ دنیا میں انہوں نے حق کی مخالفت کے جوش میں نفرت ‘ غصہ ‘ حسد اور انتقام کا بازار گرم رکھا جس کے نتیجہ میں وہ اس کے مستحق ٹھہرے ہیں کہ آخرت میں ان کے لئے آگ ہی کی پوشاک تیار کی جائے کیونکہ یہی اس دنیوی آگ کا پورا پورا صلہ ہو سکتی ہے جس کو انہوں نے ساری زندگی بجھنے نہیں دیا اور پھر اس پر بھی بس نہ کی جائے گی فرمایا یہ پوشاک پہنا کر ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی بھی ڈالا جائے گا تاکہ ان کی اندرونی احشاء بھی پگھل کر رہ جائے اور وہ بجھے ہوئے کوئلوں کی شکل اختیار کرجائیں کہ آگ ان کے قریب جائے تو پھر اس میں دھکنے لگیں اور پھر اس طرح ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جاسکے اور وہ اس عذاب میں (لا یموت فیھا ولا یحیٰ ) کی تصویر بنے رہیں۔
زیر نظر آیت کے شان نزول اور ان مذکورہ دو گروہوں کی تفصیل میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے اختصار ان کا اس طرح ہے کہ ” قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو قسم اٹھا کر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے میدان بدر میں ایک دوسرے کو دعوت مبازرت دی تھی ۔ اسلام کی طرف سے حضرت حمزہ ؓ ‘ علی ؓ اور عبیدہ ؓ بن حارث تھے اور کفر کی طرف سے ربیعہ کے دونوں بیٹے عقبہ اور شیبہ اور عقبہ کا بیٹا ولید اور اس واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ بدر کے دن عقبہ اپنے بھائی شیبہ اور اپنے بیٹے ولید کو لے کر میدان جنگ میں نکلا اور مسلمانوں کو للکارا ۔ انصار کے تین نوجوان ان کے مقابلہ میں کے لئے نکلے ، عتبہ نے پوچھا تم کون ہو۔ انہوں نے اپنا نام ونسب بتایا تو عتبہ نے نبی اعظم وآخر ﷺ کا نام لے کر کہا اخرجنا الینا اکفائنا من قومنا ہمارے مقابلہ میں ان کو بھیج جو نسب اور قوت میں ہمارے ہم پلہ ہوں تو نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا قم یا عبیدہ بن الحارث یا حمزہ بن عبدالمطلب یا علی بن ابی طالب تعمیل حکم میں تینوں بجلی کی سرعت کے ساتھ نکل کر میدان میں ان کے مقابلہ میں جا کھڑے ہوئے ۔ حضرت عبیدہ ؓ نے عتبہ کو حضرت حمزہ ؓ نے شیبہ کو اور حضرت علی ؓ ولید کو للکارا پھر حضرت حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ نے اپنے اپنے حریفوں کو چشم زدن میں ڈھیر کردیا لیکن حضرت عبیدہ ؓ اور عتبہ کے درمیان جنگ جاری رہی دونوں ایک دوسرے کے وار سے سخت زخمی ہوگئے تھے کہ حضرت حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ دونوں بھی عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ حضرت عبیدہ ؓ بن الحارث کی ٹانگ کٹ کر الگ ہوگئی تھی اس حالت میں ان کو اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا ، عبیدہ ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی محمد رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ” الست شھیدا “ کیا میں شہید نہیں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بلی تو اس وقت عبیدہ ؓ کی زبان سے یہ سنا گیا کہ کاش آج ابو طالب زندہ ہوتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے ان دو شعروں کا مصداق میں ہوں ۔
کذبتم وبیت اللہ یبذی محمد ولما نطاعن دونہ ونناضل :
ونسلمہ حتی نصرع حولہ ونذھل عن ابنائنا والحلائل :
رب بیت اللہ کی قسم ! اے مشرکین تم جھوٹ کہتے ہو کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یونہی مغلوب کرلیا جائے گا اور ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تمہارے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ، ہم اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کو تمہارے حوالے کرسکتے ہیں جبکہ ہماری لاشیں نبی کریم ﷺ کے اردگرد گری پڑی ہوں اور ہم اپنے بیوی بچوں سے غافل ہوگئے ہوں ۔ “ (صحیح مسلم بحوالہ مظہری)
Ayah 22:20اہل دوزخ کے عذاب کی کیفیت کا بیان ابھی جاری ہے :
20۔ گزشتہ آیت میں دوزخیوں پر کھولتے ہوئے پانی کے گرائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا اسی کھولتے ہوئے اپنی کے گرانے سے جو ان دوزخیوں کے پیٹوں میں ہوگا ان کی کھالوں کے نیچے جو چربی ہوگی وہ بھی پگھلنے لگے گی یہ گویا اس عذاب کا مزید بیان ہے (یصھر) کے معنی چربی کے پگھلنے کے ہیں اور اس مادہ کے صرف دو لفظ قرآن کریم میں لائے گئے ہیں ایک لفظ اس آیت میں (یصھر) کا آیا ہے اور دوسرا (نسباوصھرا) سورة الفرقان کی آیت 54 میں آیا ہے جس کے معنی سسرال کے ہیں اور عربی زبان میں صھر بیٹی اور بہن کے خاوند کو کہا جاتا ہے اور عورت یعنی بیوی کے خاندان کو بھی ” اصھار “ کہتے ہیں ۔
Ayah 22:21دوزخیوں کی سرکوبی کے لئے وہاں ہتھوڑے بھی استعمال کئے جائیں گے :
21۔ دوزخ کو ہم نے گزشتہ کئی ایک مقامات پر چوہوں کے پنجرہ سے تشبیہہ دی ہے جو محض اس لئے دی تھی کہ پنجرہ میں چوہا خود داخل ہوجاتا ہے اور نہایت آسانی کے ساتھ داخل ہوجاتا ہے لیکن وہ سوجتن کرے تو واپس نہیں نکل سکتا اور یہی حال دوزخیوں کا ہے کہ وہ داخل ہوتے وقت تو کتنی آسانی کے ساتھ داخل ہوتے جا رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن جب وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو قطعا نہیں نکل پائیں گے عذاب تو یہ بھی کم نہیں تھا لیکن ان کے عذاب میں مزید اضافہ اس طرح ہوگا کہ جب وہ نکلنے کی کوشش میں سر اوپر کریں گے تو اوپر سے ان پر لوہے کے ہتھوڑے یا گرز برسائے جائیں گے اور اس طرح گویا ان کے عذاب میں مزید شدت آجائے گی ۔ (مقامع) کی اصل م ق ع ہے اور اس اصل کا لفظ فقط ایک بار اسی جگہ (مقامع) استعمال ہوا ہے اور کسی مقام پر قرآن کریم میں اس مادہ کا لفظ نہیں آیا (قمع) کے اصل معنی روکنے کے ہیں اور لوہے کے ہتھوڑے اور گرز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کہ وہ روکنے ہی کے آلہ ہیں ۔
Ayah 22:22وہ دوزخ سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو ان کو واپس لوٹا دیا جائے گا :
22۔ فرمایا وہ اس غم میں سے نکلنا چاہیں گے ‘ غم کیا ہے ؟ وہی عذاب دوزخ اور جب کبھی وہ نکلنے کے لئے سامنے آئیں گے تو ان کو ہتھوڑا مار کر یا ان کے سروں پر گرز چلا کر ان کو واپس لوٹایا جائے گا اور اوپر سے آواز بھی دی جائے گی کہ جیسے کسی مارنے والے کو زور دار آواز سے کہا جاتا ہے کہ لگا دو اس بےغیرت کو یہ وہی ہے جس نے رب ذوالجلال والاکرام کے مقابلہ میں اس کی مخلوق کو لاکھڑا کیا تھا اور اس کو کہو کہ بلاؤ ان کو جن کو تو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے بیٹھا تھا اور عذاب جہنم کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے ، دیکھئے تفسیر عروۃ الوثقی میں سورة آل عمران کی آیت 12 ‘ 162 ‘ 197 ‘ سورة النساء کی آیت 55 ‘ 93 ‘ 97 ‘ 115 ‘ 121 ‘ 140 ‘ 169 ‘ سورة الاعراف کی آیت 18 ‘ 41 ‘ 179 ‘ سورة الانفال کی آیت 16 ‘ 36 ‘ 37 ‘ سورة التوبہ کی آیت 35 ‘ 49 ‘ 63 ‘ 68 ‘ 73 ‘ 81 ‘ 95 ‘ 109 ‘ سورة ہود آیت 119 ‘ سورة الرعد آیت 18 ‘ سورة ابراہیم آیت 16 ‘ 29 ‘ سورة الحجر آیت 43 ‘ سورة النحل آیت 8 ‘ 18 ‘ 39 ‘ 63 ‘ 97 ‘ الاسراء آیت 100 ‘ 102 ‘ 106 ‘ الکہف 68 ‘ 86 ‘ مریم 74 ‘ طہ کی آیت 29 ‘ 98 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 103 ملاحظہ کریں ۔
Ayah 22:23اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو باغات میں داخل فرمائے گا اور ان پر انعامات وافر کرے گا :
23۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ جنت اس مقام کا نام ہے جو نیکوکار انسانوں کا دائمی گھر ہوگا قرآن کریم میں عموما (الجنۃ) (باغ) اور (جنت) (باغات) کا لفظ آیا ہے اور کبھی کبھی مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے (جنۃ النعیم) (نعمت کا باغ) (جنۃ الخلد) (بقائے دوام کا باغ) (جنت عدن) دائمی سکونت کے باغ) (جنۃ الماوی) (پناہ کا باغ) وغیرہ پھر جنت کے انعامات کا ذکر بھی مختلف مقامات میں مختلف الفاظ اور مختلف اشیاء دیئے جانے کے ساتھ آیا ہے ، دنیا میں شخصی راحت و آرام کا بلند سے بلند تخیل ایک لفظ ” بادشاہی “ کے اندر بخوبی آسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مانگنے والا جب مانگے گا تو وہ کہے گا ” بادشاہی قائم “ گویا انسان کی کوئی آرزو کامیابی سے محروم نہ رہے ۔ سامان راحت اور اسباب شادمانی کی فراوانی سے اس کی مسرت میں کسی غم کا شائبہ نہ ہو ۔ یعنی بادشاہی اس کیفیت کے نام ہے جس میں بہتی نہریں ‘ سرسبز و شاداب فصلیں ‘ سونے چاندی کے اسباب و سامان ‘ زروجواہر کے برتن ‘ زریں کمر غلام و خدام ‘ ریشمی لباس ‘ طلائی تخت ‘ موتیوں کے ہار ‘ سونے کے کنگن ‘ شراب کے زمردیں اور بلوریں پیالے ‘ حسین ومہ جبین بیگمات یہ سب کچھ ایک لفظ ” بادشاہی “ کے ضروری لوازمات ہیں اور یہ سچی تعریف تم کو ہمارے ابدی دشمن شیطان نے سنائی ہے اور جو دشمن کے منہ کی تعریف ہو اس کی حقیقت میں کیا کوئی شک وشبہ کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے اس نے ہمارے باوا آدم کو مخاطب کرکے بتایا تھا کہ تیرے لئے وہ بادشاہی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ۔ (وملک لا یبلی)
آنے والی زندگی کے اس غیر فانی عیش ومسرت کے لئے ” غیر فانی بادشاہی “ کے تصور نے باقی کیا رہنے دیا جس کو کسی اور رنگ میں بیان کیا جائے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو اس لفظ کے اندر نہیں آجاتی ؟ یہ بات بار بار دہرائی جا چکی ہے کہ عالم آخرت کی اشیاء کو جن دنیاوی الفاظ سے ادا کیا گیا ہے ان سے مقصود بالکل وہی نہیں ہیں جو ان لفظوں سے سمجھنے کے ہم عادی ہیں بلکہ ان اخروی اشیاء کو ان دنیاوی الفاظ سے اس لئے ادا کیا گیا ہے کہ اس کے سوا کوئی ایسے الفاظ نہیں تھے جن میں اس کو بیان کیا جاتا تو ہم سمجھ سکتے اور ہماری تفہیم اور ہماری سمجھ کے لئے ضروری تھا کہ ان اشیاء کو انہیں ناموں سے پکارا جائے جن کی لذت ولطف اور آرام سے ہم واقف ہیں گویا یہ ایک پیرایہ بیان ہے تاکہ ان ان دیکھی اشیاء کو ہم سمجھ سکیں اور ان کو حاصل کرنے کی ہمارے اندر رغبت پیدا ہو ۔ چناچہ زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ ” جو فریق ایمان لایا اور نیک عمل ہوا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے باغوں میں داخل کرے گا کہ ان کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں انہیں وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور لباس اس کا ریشمی ہوگا ۔ “
Ayah 22:24انہیں پاکیزہ باتوں کی طرف راہنمائی ملی اور وہ ایسے راہ پر چلے :
24۔ فرمایا اہل جنت ‘ جنت تک کیسے پہنچ گئے ؟ اس لئے کہ ان کو دنیا میں پاکیزہ باتوں کے قبول کرنے کی توفیق بخشی گئی اور انہیں رب ذوالجلال والاکرام کے بتائے گئے راستہ کی طرف جب دعوت دی گئی تو انہوں نے اس کو فورا قبول کرلیا اور ان سعید روحوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن اس راستہ سے ہٹنا کبھی پسند نہ کیا اور آج اس رب ذوالجلال والاکرام نے جب جنت کے انعامات سے نوازا تو ان کے دلوں کی گہرائی سے یہی ترانہ گایا گیا ۔ (آیت) ” الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشآئ “۔ (الزمر 39 : 74) ” سب اچھی تعریفیں اس ذات کبریا کے لئے ہیں جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو اس جنت الارض کا وارث بنا دیا اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔ “ یعنی ہم میں سے ہر ایک کو جنت بخشی گئی ہے وہ اب ہماری ملک ہے اور ہمیں اس میں پورے اختیارات حاصل ہیں اور ان کے اس طرح کے ترانہ کا ذکر دوسری جگہ اس طرح کیا گیا ہے :
(آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور ، الذی احلنا دارالمقامۃ من فضلہ لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب “۔ (فاطر 35 : 34 ‘ 35)
” الحمد للہ ! سب اچھی تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہیں جس نے ہم سے غم دور کردیا بلاشبہ ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر دان ہے جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرا دیا اب نہ ہمیں اس جگہ کوئی مشقت پیش آئے گی اور نہ ہی کوئی تکان لاحق ہوگی ۔ “
مثل ہے کہ جو برتن میں ڈالا گیا ہو وہی اس سے نکلتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے جسم کے برتنوں کو صاف رکھنے اور ان میں نیکیاں بھرنے کی توفیق دے تاکہ آنے والے کل ہم بھی ذات کی تعریف کے گیت گائیں ، یہاں سے مضمون بیت اللہ اور پھر اس کی نسبت سے اسلامی فریضہ حج کی طرف پھر رہا ہے ۔