11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور یہ واقعہ ہے کہ ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آے تھے ، انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، کہا تم پر بھی سلامتی ہو ، پھر فوراً ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا

ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھیجے گئے ملائکہ رسولوں کا مختصر ذکر 92 ؎ زیر نظر آیت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں کہیں ان کو ” مہمان “ کہا گیا ہے اور کہیں ” بھیجے ہوئے “ یعنی ” رسلنا “ اور ” ضعیف “ کے الفاظ آئے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے اس جگہ بحث کی ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان یا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے کون تھے ؟ یعنی فرشتے تھے یا انسان ؟ پھر بعض مفسرین نے ان کو فرشتے ثابت کرنے کیلئے اپنے دلائل پیش کئے ہیں اور بعض نے ان کو انسان ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے پہلے مفسرین کی تعداد زیادہ اور دوسرے مفسرین کی تعداد کم ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ بحث محض وقت کا ضیاع ہے کیونکہ جن مفسرین نے ان کے انسان ہونے پر زور دیا ہے اس کی ان کو ضرورت یہ محسوس ہوئی ہے کہ اس آیت سے فرشتوں کا انسان وجود ہونا ثابت ہوتا ہے اور فرشتے کا کوئی وجود ذاتی تسلیم نہیں۔ ان کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے تھی کہ وجود کی پانچ اقسام اسلام میں تسلیم کی گئی ہیں ان میں بلاشبہ پہلا وجود ذاتی ہے اور جب یہ طے ہے کہ فرشتے اور جن کوئی وجود ذاتی نہیں رکھتے ان کا تعلق باقی چار وجودوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہے خواہ وہ وجود حسی ہے یا خیالی خواہ عقلی ہے یا شبہی تو بعینہ اس طرح فرشتوں کا جو وجود یہاں بیان کیا گیا ہے وہ ذاتی نہیں کیونکہ وہ ذاتی یا حقیقی وجود ہی نہیں رکھتے اور پھر وہ وجود جو غیر متبدل ہے وہ وجود ذاتی یا حقیقی ہے باقی چاروں اقسام غیر متبدل نہیں لہٰذا اگر یہ فرشتے تھے تو ظاہر ہے کہ ان کا وجود غیر متبدل نہیں اس لئے اس بحث کے اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں ! جن لوگوں نے ان کو انسان تسلیم کیا ہے وہ اس خیال سے کیا ہے کہ انسان کا جسم غیر متبدل ہے اس لئے اگر وہ فی الواقعہ انسان تھے تو ان کو فرشتے کیوں تسلیم کیا جا رہا ہے ؟ حالانکہ جن لوگوں نے ان کو فرشتہ تسلیم کیا ہے انہوں نے ان کا وجود کہیں بھی غیر متبدل نہیں بیان کیا۔ اس لئے ہم وہ مفہوم مراد لیتے ہیں جو اکثر مفسرین نے لیا ہے کہ وہ فرشتے تھے اور ان کا جسم انسانی غیر متبدل نہیں تھا۔ بلکہ متبدل تھا کیونکہ فرشتہ کوئی ذاتی وجود نہیں رکھتا۔ وجود کی اقسام دیکھنا مطلوب ہوں تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 30 کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیں بات انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آنے والے مہمان دراصل لوط (علیہ السلام) کے پاس بھیجے گئے تھے لیکن لوط (علیہ السلام) سے پہلے ان کو یہ کہا گیا کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہوتے جائو اور ان سے مل کر ان کی اہلیہ سارہ ؓ کو بیٹے اسحاق اور پوتے یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری سناتے جائو۔ چناچہ جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو آپ علیک سلیک کے بعد جلدی سے اٹھے اور ان کی ضیافت کا سامان کر لائے اور ان کی مہمانی کیلئے ایک بھنا ہوا بچھڑا ان کو پیش کیا۔ جب مہمانوں کے سامنے دستر خوان چن دیا گیا اور ان کو کھانے کیلئے اشارہ کیا گیا کہ بسم اللہ کیجئے تو مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو ان سے بدگمان ہوا اور جی میں ڈرا (کہ یہ بات کیا ہے ؟ ) انہوں نے کہا خوف نہ کر ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں

ابراہیم (علیہ السلام) کا ان مہمانوں سے ڈر محسوس کرنا اور مہمانوں کی گزارش کا ذکر 93 ؎ جب مہمانوں نے کھاتے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ چونکہ وہ بالکل اجنبی تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کو اجنبی ہی سمجھا تھا اس لئے قدرتی طور پر کچھ دل میں خدشہ محسوس ہوا جس کے آثار ان کے چہرے سے محسوس ہونے لگے اس لئے وہ مہمان بھی ان کا ” تغیرلون “ سمجھ گئے اور فوراً انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ آپ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں دراصل ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور اس طرف کو جا رہے ہیں کھانے کی ہم کو حاجت نہیں۔ آیت 69 ، 70 سے جو نصیحت ہم کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ آنے والے کو پہلے السلام علیکم کہنا چاہئے اور جس کو سلام کیا جائے اس کو بھی اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا لازم و ضروری ہے اور یہ علیک سلیک و دعا خوش اخلاقی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ دوسری نصیحت ہمارے لئے یہ ہے کہ مہمان کو دیکھ کر اس کے اکرام میں اس کو ماحضر بےتکلف پیش کردینا چاہئے خصوصاً جب کھانے کا معروف وقت بھی موجود ہو۔ تیسری نصیحت یہ ہے کہ مہمان اگر کسی وجہ سے کھانے کی طرف رغبت نہ کرے اور معذرت کرلے تو برا نہ جاننا چاہئے اور اس کو زیادہ اصرار بھی نہ کرنا چاہئے اس سلسلہ میں جو اہتمام آپ نے کیا ہے اس کا اجر ہر حال میں محفوظ ہوگیا ہاں ! میزبان کو اگر علم ہوجائے کہ میرے لئے اہتمام کیا جانے لگا ہے تو اگر اس کو ضرورت نہ ہو تو وہ خود پہل کر کے اس وقت ضرورت نہ ہونے کا کہہ سکتا ہے بشرطیکہ فی الواقع اس کو ضرورت نہ ہو۔ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ” من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلیکرم ضیفہ ” جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے۔ “ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسلام کی ان ضروری ہدایات کے مطابق بہت کم عمل کیا جاتا ہے۔ مہمان سے بار بار استفسار کیا جائے گا کہ آپ کیا پسند کریں گے ؟ اگر وہ نفی کرے تو بار بار اصرار ہوگا اور اگر اس نے کہہ دیا کہ ” تمہارا شوق “ تو جو کچھ کریں گے دل پر بہت بوجھ رکھ کر کریں گے اور بعد میں کہیں گے کہ یار بڑا بےشرم تھا کتنی جلدی ہاں کرلی اور بعض لوگ جو کچھ پیش کریں گے ساتھ ساتھ فرماتے جائیں گے کہ یہ دیکھو یہ لو بہت ہی مزیدار ہے ہم یہ تو بس آپ کی خاطر میں لائے ہیں۔ دیکھو کتنا مزہ آیا ہے یہ اور اس طرح کی کتنی ہی باتیں کہتے جائیں گے۔ بعض کبھی نہیں پوچھیں گے اس طرح بعض میزبان کو حاجت ہوگی لیکن وہ نہ ، نہ کرتے رہیں گے اور جب تک خوب اصرار نہ کرلیا جائے وہ ضرورت ہونے کے باوجود ہاتھ نہ بڑھائیں گے۔ لیکن اسلام نے بڑی وسعت کے ساتھ اور صاف دل کو پسند کیا ہے اور ایسے کاموں کیلئے بار بار اصرار دونوں ہی طرف سے اچھا نہیں سمجھا گیا بلکہ ضرورت کے مطابق صحیح صحیح عمل کی تلقین فرمائی ہے۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بیوی بھی کھڑی تھی وہ ہنس پڑی پس ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور اس بات کی بھی کہ اسحاق سے یعقوب (علیہما السلام) کا ظہور ہو گا

آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ سارہ ؓ دہلیز میں کھڑی تھیں کہ مہمانوں نے ان کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی 94 ؎ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ اپنے خیمہ یا دروازہ میں کھڑی تھیں خواہ مہمانوں کی گفتگو سننے کیلئے یا مزید کسی چیز کے پیش کرنے کے انتظار میں یا کسی اپنی ضرورت و حاجت کیلئے تو ان مہمانوں نے چلتے وقت سیدھا سارہ کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کو اللہ ایسا بیٹا دے گا جس کے ہاں نسل آگے بڑھے گی اور اس کو اللہ تعالیٰ (یعقوب) فرزند عطا فرمائے گا یعنی سارہ کو بیٹے کے ساتھ ہی پوتے کی خبر بھی سنا دی۔ حضرت سارہ ؓ نے مہمانوں کو دیکھا تو ہنس دیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی تشویش ختم ہوگئی اور ظاہر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کو مہمانوں کے نہ کھانے سے تشویش ہوئی تھی تو آپ کے گھر والوں پر بھی اس کا اثر لازم تھا جب ابراہیم (علیہ السلام) کی تشویش دور ہوگئی تو سیدہ سارہ ؓ کی تشویش بھی خود بخود ختم ہوگئی۔ جس کے باعث آپ ہنس دیں لیکن سارہ ؓ کی ہنسی کو مہمانوں نے بھی دیکھایا نہیں ؟ تو اس کا کوئی ذکر تک موجود نہیں ہاں ! مہمانوں نے فی نفسہ سارہ ؓ کو دیکھا تو ان کو بیٹے اور بیٹے کے بعد پوتے کی خبر سنا دی رہی یہ بات کہ یہ خبر تو ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنچانا چاہئے تھی انہوں نے خصوصاً سارہ ؓ کو کیوں خوشخبری سنائی اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس تو پہلے ہی ہاجرہ ؓ کے بطن سے اولاد موجود تھی یعنی اسماعیل جیسا فرزند ارجمند اللہ نے دیا ہوا تھا لیکن سارہ ابھی تک اولاد سے محروم تھیں پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دی جاتی تو یہ بات متعین بھی نہ ہوئی تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ بیٹا کس عورت سے دیا جائے ہاجرہ ؓ سے سارہ سے یا قطورا سے لیکن سارہ کو خوشخبری دینے کا مطلب تو صاف اور واضح ہے کہ اگر سارہ کے بیٹا ہوگا تو وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا ہوگا نہ کہ کسی اور کا اس لئے انہوں نے براہ راست ؓ کو خوشخبری سنائی تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ بیٹا انہی کے بطن سے ہوگا اور ایسا ہوگا کہ جس کی رجسٹری ہوچکی ہے کہ جب تک اس کے ہاں یعقوب پیدا نہ ہو وہ مر بھی نہیں سکتا۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی تعجب مجھ پر ! کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میرے اولاد ہو حالانکہ میں بڑھیا ہوگئی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے ، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے

سارہ ؓ نے بیٹے کی خبر سن کر تعجب کیا کہ ہاں ! میرے ہاں بیٹا ؟ 95 ؎ سارہ ؓ تعجب سے بولیں کہ کیا میرے ہاں اولاد ہوگی جب کہ میں بوڑھ بانجھ ہوچکی ہوں اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوچکا ہے ؟ یہ بات واقعی بڑی تعجب انگیز ہے اور یہ تعجب ازراہ مدت نکاح تھا نہ کہ قدرت الٰہی پر کیونکہ نکاح کے بعد سال دو سال نہیں بلکہ بیسیوں سال گزر چکے تھے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اب اولاد کے قابل نہ رہی تھیں بلکہ اصلیت یہی ہے کہ شادی کو اتنا لمبا عرصہ گزر چکا تھا کہ عام حالات میں اتنی مدت گزرنے تک انسان ایک طرح سے مایوس ہوجاتا ہے کہ اب اولاد جب کہ اولاد کی عمر سمجھی جاتی تھی اس وقت تو اولاد نہیں ہوئی اور عرصہ دراز گزرنے کے بعد کیسے ؟ اور ” ویلتی “ ویلتی تھا قاعدہ کے مطابق ی کو الف سے بدل دیا ” ویل “ کے اصلی معنی تو ہلاکت اور افسوس کے ہیں لیکن اس جگہ بطور بددعا نہیں بلکہ بطور تعجب و حیرت ہے اور عورتوں کی عادت میں بھی اس طرح کے جملے داخل ہیں مثلاً ہمارے ہاں کی اکثر عورتیں بات بات پر کہہ دیں گی ” ہا ہائے نی میں مر جائوں “ اور پھر ایسے کلمات عین خوشی کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں جب کہ عام حالت میں زیادہ خوشی کی بات نظر آئے۔ بہرحال یہ تو حالت خود بتا رہی ہے کہ یہاں کوئی افسوس اور ہلاکت کی بات نہیں بلکہ نہایت ہی خوشی کی بات ہے۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا کیا تو اللہ کے کاموں پر تعجب کرتی ہے ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تجھ پر ہوں ، اے اہل خانہ ابراہیم ! بلاشبہ اس کی ذات ہے جس کی ستائش کی جاتی ہے اور وہی ہے جس کے لیے ہر طرح کی بڑائیاں ہیں

مہمانوں نے کہا کہ اللہ کے کاموں پر تعجب کی کیا بات ہے یہ تو فیصلہ الٰہی ہے 96 ؎ بلاشبہ اکثر حالات میں اولاد شادی کے بعد جلد ہی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے لیکن بعض اوقات ایک لمبی مدت تک اولاد نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو مر جاتی ہے اور پھر عرصہ کے بعد اس جوڑے کے ہاں اولاد پیدا ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ اگر اولاد مر جاتی رہے تو ایک مدت کے بعد اولاد کی صحیح پرورش بھی شروع ہوجاتی ہے اور اولاد باقی رہنے لگتی ہے۔ قانون الٰہی میں ہر طرح کے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں جو بغیر وجہ بھی نہیں لیکن ان وجوہ کو ظاہری آنکھیں اور عقل و فکر نہیں پا سکتی اور علم الٰہی میں تو ہر کام کا ایک وقت مقرر ہی ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ انسانی زندگی میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور پھر وہ رکاوٹیں جب اٹھنے پر آتی ہیں تو ایک ایک کر کے ساری رخصت ہوجاتی ہیں اور انسان کو کبھی یاد بھی نہیں رہتا کہ وہ میں ہی تھا جس کے سامنے کیا کیا صورتیں حائل تھیں اور جب اللہ نے چاہا تو وہ سب صورتیں اپنے وقت پر درست ہوگئیں لیکن اس وقت کو بھی وہی علام الغیوب جانتا ہے۔ وہی ہے جو مایوس کن حالات سے انسان کی ساری مایوسیاں ختم کردیتا ہے اور وہی ہے جو اچھے بھلے انسانوں کو مایوس و ناامید کردیتا ہے۔ مختصر یہ کہ ان مہمانوں نے کہا کہ اے سارہ ؓ ! تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و برکت ہے جو تم اہل بیت یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والوں کے ساتھ کی گئی ہے۔ غور کرو کہ ان اہل بیت میں کون شامل ہیں ؟ حضرت سارہ ؓ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کیونکہ انہی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور اس کی بےحساب برکتوں کے ورود کی خوشخبری دی جا رہی ہے یا دعا کی جا رہی ہے۔ سارہ ؓ کون ہیں ؟ سیدنا خلیل کی اہلیہ ؓ پھر قرآن کریم کی زبان میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو اہل بیت کہا جائے تو کیا نبی اعظم و آخر ﷺ کی ازواج مطہرات کو ” اہل بیت “ نہیں کہا جائے گا ؟ کیوں نہیں صحیح معنوں میں وہی تو اہل بیت ہیں۔ لیکن شیعوں کے ہاں جب عقیدہ کے طور پر یہ بات تسلیم کرلی گئی کہ ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں تو اب ان کو سو دلیلیں کتاب و سنت سے پیش کرو وہ کبھی ان کو مانیں یا تسلیم کریں گے ؟ مطلق نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ من حیث الجماعت یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور کوئی گروہ جب کسی بات کو من حیث الجماعت مان جائے تو پھر وہ ایک قوم کا متفق علیہ عقیدہ قرار پا جاتا ہے لہٰذان باوجود عقل و فکر کے وہ قوم اس کو مانتی چلی جاتی ہے اور ہم اہل سنہ میں بھی بہت سی چیزیں ہیں جو محض مکتب فکر کی وجہ سے تسلیم کی جاتی ہیں حالانکہ ان کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں موجود نہیں۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل سے اندیشہ دور ہوگیا اور اسے خوشخبری ملی تو قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگا

جب ابراہیم (علیہ السلام) سے ڈر اور خوف جاتا رہا تو قوم لوط کے بارے میں بات کرنے لگے 97 ؎ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی پریشانی دور ہوگئی اور بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سن لی تو دل کو مسرت حاصل ہوئی تو قوم لوط کے ضمن میں بات کرنے لگے کہ ان بستیوں کو کیسے ہلاک کرو گے جن میں بہت سے مسلمان بھی موجود ہیں تو مہمانوں نے جواب دیا کہ ہاں ! ہم کو معلوم ہے اور ہمارا علم ہے کہ وہاں لوط اور اس معدودے چند لوگ بھی موجود ہیں تو تیرے رب کا حکم یہ ہے کہ ان کو اطلاع کردی جائے گی اور حکم دیا جائے گا کہ وہاں سے ہجرت کر جائیں اس طرح ان کے ہجرت کر جانے کے بعد ان کی قوم کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

ابراہیم بڑا ہی بردبار ، نرم دل اور اللہ کی طرف رجوع ہو کر رہنے والا تھا

بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) تحمل والے اور بردبار انسان تھے 98 ؎ آپ کی بردباری اور تحمل ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ لوط عیہ السلام کی قوم جو دنیا کی اقوام میں سے ایک انوکھی قوم تھی اور بدکاری و بدکرداری اور غیر فطری افعال میں آپ اپنی مثال تھی ان سے انتقام لینے میں جلد بازی سے روک رہے تھے حالانکہ وہ جلد بازی نہ تھی بلکہ ایک مدت گزرنے کے بعد ان کے فیصلے کا وقت قریب آچکا تھا لیکن اس کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) ان کے عذاب کو موخر کردینے کی اپیلیں کر رہے تھے اور اس وقت تک وہ بات کرتے رہے جب تک کہ ان کو واضح طور پر بتا نہ دیا گیا کہ یہ فیصلہ الٰہی ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ کے فرستادوں نے کہا) اے ابراہیم ! (علیہ السلام) اب اس بات کا خیال چھوڑ دے تیرے پروردگار کی جو بات تھی وہ آپہنچی اور ان لوگوں پر عذاب آ رہا ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا

ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اب اس قوم کے متعلق کوئی بات نہ کریں 99 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اے خلیل ! اس جھگڑے کو رہنے دو ان بدبختوں کو کافی عرصہ تک سمجھایا گیا لیکن وہ اپنے کفر و شرک سے باز نہ آئے اور روز بروز بدکرداریوں اور بداخلاقیوں میں بڑھتے ہی گئے اب ان کیلئے عذاب مقدر ہوچکا ہے اور اب یہ فیصلہ بدلا نہیں جاسکتا کیونکہ جب عذاب کا فیصلہ الٰہی نافذ ہوجاتا ہے تو وہ وقت ہوتا ہے کہ کسی کے ٹال نہیں ٹلتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل (علیہ السلام) کو سدومیوں کی سفارش سے روک دیا اور بات واضح کردی گئی اب ان کا وقت قریب آچکا ہے بس ہمارے فرستادہ لوط (علیہ السلام) کو اس فیصلہ سے مطلع کریں گے اور ان کو اپنے لوگوں کے ساتھ لے کر نکل جانے کی اطلاع دیں گے اور اس کے بعد دما دم مست قلندر ہوجائے گا۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور پھر جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے خوش نہیں ہوا ان کی موجودگی نے اسے پریشان کردیا وہ بولا ، آج کا دن تو بڑی مصیبت کا دن ہے

ہمارے فرستادہ لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کو دیکھ کر لوط (علیہ السلام) نے ایک مصیبت جانا 100 ؎ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے رخصت ہو کر سدوم پہنچے اور لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ڈرے کہ بدبخت قوم میرے ان مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟ کیونکہ ابھی تک لوط (علیہ السلام) کو انہوں نے نہیں بتایا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں اور ہمارے اجسام غیر متبدل نہیں۔ اس لئے لوط (علیہ السلام) کو ان کے جانے سے تکلیف محسوس ہوئی کہ کہیں میرے مہمانوں کی فضیحت نہ ہو۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے وہ پہلے سے برے کاموں کے عادی ہو رہے تھے لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا ، لوگو ! یہ (تمہارے گھروں میں) میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں ؟

مہمانوں کی آمد کی خبر لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لگ گئی تو وہ لوط کے گھر کی طرف دوڑے 101 ؎ لوط (علیہ السلام) ابھی تک اسی حیص بیص میں تھے کہ قوم کو خبر لگ گئی اور لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ تم ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا لیکن وہ سمجھنے والے کب تھے ؟ یھر عون الاھراع سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ شدت جوش و غضب سے کانپتے ہوئے بھاگتے چلے آنا اور لفظ نے قوم لوط کے وڈیروں کی ساری کیفیت ایک لفظ میں بیان کردی اور یہ قرآن کریم کا معجزہ بلاغت ہے کہ وہ ایسا اشارہ کردیتا ہے جس میں صفحات کے صفحات مضمون پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کو جوں جوں کھولتے جائو وہ کھلتا ہی چلا جاتا ہے۔ جس فاسد اور گندی ذہنیت سے وہ بھاگتے اور دوڑتے چلے آئے تھے اس کی طرف ” یعملون السیات “ کے الفاظ سے وضاحت فرما دی اور اس کی تہ میں وہ سارا مضمون آگیا جو وہ اجنبیوں کے ساتھ کیا کرتے تھے جس میں وہ فعل سدومیت بھی شامل ہے جس کو لوگ غلطی سے لواطت کا نام دیتے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کو ان کی ساری خباثتوں کا علم تھا اس لئے ان کا اچانک لوط (علیہ السلام) کے گھر آدھمکنا ان کی ساری کارستانیوں کو ظاہر کر رہا ہے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان قوم کے جوانوں کو رقت آمیز الفاظ میں سمجھایا 102 ؎ لوط (علیہ السلام) کے اس فرمان کو یقوم ھولاء بناتی ھن اطھرلکم ” اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں ہیں جن سے تم بیا ہے گئے ہو اور وہی تمہارے لئے پاکیزہ ہیں۔ “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کو کیا خطرہ تھا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحشی قسم کے بدقماش لوگ ان کے محترم مہمانوں کی آبرو پر ہاتھ ڈالنے کا تہیہ کرچکے تھے۔ آپ کے ساتھ کوئی ایسی جمعیت نہ تھی جو ان وحشیوں اور درندہ صفت بدمعاشوں کو ڈنڈے مار کر بھگا دے اس لئے نہایت ہی یاس کے عالم میں فرمایا کہ ” یہ میری لڑکیاں ہیں “ یہ طریقہ بڑا پاکیزہ اور ستھرا ہے کیونکہ یہ فطری چیز ہے اور فریقین کو اس کی ضرورت ہے اور پھر یہ بےمقصد بھی نہیں بلکہ اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز بھشی اس فعل کا نتیجہ ہے اور تمہارے نکاح میں بھی ہیں اس فطری چیز کو چھوڑ کر غیر فطری چیز کی طرف رغبت کرنا بربریت نہیں تو اور کیا ہے ؟ ” میری لڑکیاں “ کہنے سے مراد قوم کی لڑکیاں ہیں اور نبی اپنی امت کیلئے بمنزلہ باپ ہی ہوتا ہے اور پوری قوم کی بیٹیاں نبی ہی کی بیٹیاں قرار پاتی ہیں اور یہ طریقہ انتخاب بھی بہت پیارا اور غیر مبہم ہے۔ آپ (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ یہ میری قوم کی بیٹیاں جن کو تم نے اپنے اپنے نکاح کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے لیکن ان کے حقوق فطری نہیں پورے کرتے ہو تاکہ تمہاری خواہش نفس بھی بطریق احسن پوری ہو اور ان کے حقوق زوجیت بھی ادا ہوں۔ یہی مطلب زیادہ قرین قیاس ہے ورنہ اس کے مفہوم اور بھی بیان کئے گئے ہیں لیکن ہمارے نزدیک وہ صحیح نہیں۔ لوط (علیہ السلام) نے ان کو ” اللہ کا ڈر اختیار کرنے کی ہدایت کی اور ایک طرح سے اپیل بھی کی کہ میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھدار اور ہدایت یافتہ نہیں۔ “ تورات نے اس جگہ بہت بڑا بیان قلمبند کیا ہے لیکن اس کی اصل سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اس میں کافی حد تک تحریف ہوچکی ہے اور یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے جس کی کچھ حقیقت نہیں آپ تورات میں پڑھنا چاہیں تو کتاب پیدائش 19 : 12 کو دیکھیں۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ تیری ان بیٹیوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں اور تو اچھی طرح جانتا ہے ہم کیا کرنا چاہتے ہیں

قوم کے لوگوں نے لوط (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں 103 ؎ سدومی اتنے چھوٹ اور واہیات تھے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے صاف صاف کہہ دیا کہ لوط ! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں ان عورتوں کی چنداں ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم ان کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور ہمارے عزائم اور ارادوں سے تو پہلے ہی اچھی طرح واقف ہے اور ” حق “ سے اس جگہ حاجت مراد ہے یعنی ہمیں ان عورتوں کی ضرورت نہیں ہم جس مقصد کیلئے آئے ہیں تم اس کو اچھی طرح جانتے ہو اس لئے بہتر ہے کہ ہماری مزاحمت نہ کرو اور درمیان سے ہٹ جائو اس لئے کہ اس بستی پر کنٹرول ہمارا ہے تمہارا نہیں۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش ! تمہارے مقابلہ میں مجھے طاقت ہوتی یا کوئی سہارا ہوتا جس کا آسرا پکڑ سکتا (یعنی ہجرت کا حکم آجاتا)

لوط (علیہ السلام) نے کہا اے کاش کہ مجھے ان بدبختوں کے مقابلہ کی طاقت ہوتی 104 ؎ قوم کے اس رویہ سے لوط (علیہ السلام) کو بہت دکھ ہوا اور بولے کہ کاش میرا تم پر کچھ دبائو اور زور ہوتا یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کا میں آسرا پکڑتا اور ظاہر ہے کہ سارے مضبوط سہاروں سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے اور آپ (علیہ السلام) کی مراد بھی وہی ہے کہ کاش اب تو اللہ تعالیٰ کسی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت مرحمت فرما دیتا کیونکہ کوئی نبی جس قوم کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجا جائے اگر قوم اس کی مخالفت میں کمر بستہ ہوجائے تو وہ اس وقت تک ہجرت نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہجرت نازل نہ ہوجائے اور یہی اس جگہ ” رکن شدید “ سے مراد ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ” رکن شدید “ سے مفسرین نے بہت سی اور چیزیں بھی مراد لی ہیں لیکن صحیح اور واضح بات وہی ہے جس کو اس جگہ بیان کیا گیا۔
Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

آنے والوں نے کہا اے لوط (علیہ السلام) ! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں ، یہ لوگ کبھی تجھ پر قابو نہ پا سکیں گے تو ایسا کر جب رات کا ایک حصہ گزر جائے تو اپنے گھر کے آدمیوں کو ساتھ لے کر نکل چل اور تم میں سے کوئی ادھر ادھر نہ دیکھے مگر تیری بیوی ، جو کچھ ان لوگوں پر گزرنا ہے وہ اس پر بھی گزرے گا ، عذاب کا مقررہ وقت صبح کا ہے اور صبح کے آنے میں کچھ دیر نہیں

لوط کو مہمانوں نے کہا کہ آپ یہاں سے ہجرت کریں ان کا کام تمام ہونے والا ہے۔ 105 ؎ لوط (علیہ السلام) کے مہمان اب تک تو یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے جب ان اوباشوں کی گستاخی اور لوط (علیہ السلام) کی پریشانی اور بےبسی کی انتہا ہوگئی تو کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) گھبرائو نہیں دروازہ کھول دو اور ان مسخروں کو آگے آنے دو ہم ایسے نہیں ہیں کہ یہ بدمعاش ہمیں دبوچ لیں گے ہم تیرے اللہ کے فرستادہ ہیں ہم پر یہ لوگ کبھی قابو نہ پا سکیں گے۔ ہمارے آنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے قانون ” جزائے اعمال “ کا فلہھب ان کے حق میں اٹل ہے وہ اب ان کے سر سے ٹلنے والا نہیں۔ بلاشبہ آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کا خاندان یعنی آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے عذاب سے محفوظ رہیں گے مگر آپ (علیہ السلام) کی بیوی ان ہی بےحیائوں کی رفاقت میں رہے گی اور تمہارا ساتھ نہ دے گی۔ ان کی ہلاکت کا وقت صبح کا متعین ہوچکا ہے کیا صبح کوئی زیادہ دور ہے ؟ 106 ؎ ان فرستادوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لوط (علیہ السلام) کو وضاحت سے بتا دیا کہ آخر وہ وقت جو عذاب الٰہی کا ان بدکاروں اور بداخلاقوں کیلئے مقرر ہے وہ اب بالکل قریب آچکا ہے جب ہی ابتدائے شب ہو تو آپ (علیہ السلام) اپنے خاندان کے لوگوں اور ماننے والوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں۔ چناچہ فرستادوں کی ہدایت کے مطابق لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر نکل گئے لیکن آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ نے آپ (علیہ السلام) کی رفاقت سے انکار کردیا اور وہ ایک بار نکل چکنے کے بعد دوبارہ سدوم میں واپس آگئی۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہماری بات کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کی تمام بلندیاں پستی میں بدل دیں اور اس پر آگ میں پکے ہوئے پتھر لگاتار برسائے

پھر کیا تھا کہ صبح ہونے کو تھی کہ ظالموں کی بستیاں ظالموں سمیت تہ وبالا کردی گئیں 107 ؎ (1) جب لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے سارے لوگ ہاں سے بحفاظت نکل گئے اور آخر شب ہونے کو تھی کہ اول ایک ہیبت ناک چیخ نے ان کو آ لیا اور پھر اچانک دیکھتے ہی دیکھتے آتش فشاں اس طرح پھٹنا شروع ہوا کہ پہلے دھواں ہی دھواں چھا گیا اور اس طرح ان کو اندھا کر کے اس زور سے وہ پھٹا کہ اس کے اوپر کے حصہ کا کچھ معلوم نہ ہوا کہ وہ کدھر گیا اور وہ جتنی بستیاں تھیں وہ سب کی سب غرق ہو کر رہ گئیں اور اس زمین کو اس وقت تک چین نہ آیا جب تک وہ سارا علاقہ بحرمیت میں تبدیل نہ ہوگیا۔ آتش فشاں پھٹنے سے پتھروں کا برسنا ، آگ کا لگنا ، چیخوں کا بلند ہونا اور سارے علاقے کو اڑا کر دور پھینک دینا سب کے سب آگئے جن میں سے کسی چیز کا ایک جگہ اور کسی چیز کا دوسری جگہ بیان کیا گیا اور اس طرح ایک ہی بات اور ایک ہی کام کو اس کے مختلف انداز کے مطابق بیان کیا گیا جس کا ماحصل صرف یہ تھا کہ جس طرح سنت اللہ کے مطابق گزشتہ امتوں کی نافرمانیوں کے باعث ہلاکت ہوئی اس کی یعنی قوم لوط کی ہلاکت بھی ہوگئی اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی امت کے اس وقت کے لوگوں کو بتا دیا گیا کہ اے قوم قریش اور عرب کے بسنے والو ! تم سے یہ ظالموں کی بستیاں آخر کتنی دور ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ بالکل قریب ہے وہاں سے گزرتے ہوئے تم کتنی بار ان کو ملاحظہ کرچکے ہو اور آنے والے لوگ بھی ان کو ملاحظہ کرتے رہیں گے اس لئے بہتر ہے کہ ان ظالموں کی بستیوں سے عبرت حاصل کرو اور ظلم و شرک کرنا چھوڑ دو ورنہ تمہارا حال بھی ایسا ہی ہوگا یعنی تمہاری ہلاکت بھی کسی عذاب کے تحت ہوگی جیسا کہ پیچھے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔