11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی تجھ پر مار پڑگئی ہے ، ہود (علیہ السلام) نے کہا ، میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن ہستیوں کو تم نے اس کا شریک بنا رکھا ہے مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں

قوم کے لوگوں نے کہا کہ ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ان بزرگوں کی تجھ کو مار لگ گئی ہے۔ 74 ؎ قوم کے لوگوں اور خصوصاً سرداروں نے ہود (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کی دعوت کے سلسلہ میں جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان بزرگوں ہی میں سے تجھے کسی کی مار لگ گئی ہے اور تیرا دماغ درست نہیں رہا اور یقیناً دماغی خرابی میں مبتلا ہوگیا ہے اس لئے اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے اور اگر تو ایسی باتوں سے باز نہ آیا تو تیرا اپنا انجام درست نہ ہوگا۔ قوم کے سرداروں نے بیل بڑا زور دار جواب سنایا تھا لیکن ہود (علیہ السلام) بھی آخر اللہ کے رسول تھے کیسے خاموش رہ سکتے تھے ؟ آپ نے بھی پیغمبرانہ جرأت کے ساتھ فرمایا کہ میری قوم کے لوگو ! خوب اچھی طرح سن لو اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی سارے کے سارے گواہ رہو کہ میں اللہ کے سوا تمہارے سب معبودوں سے بیزار ہوں اب تم سب مل کر اور اپنے ان معبودوں کو ساتھ ملا کر میرے خلاف جو کچھ دائو فریب لگا سکتے ہو یا طاقت و قوت کا مظاہرہ کرسکتے ہو کرلو اور میرا جو کچھ بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑ لو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔ میں تم سب کو سنا رہا ہوں کہ میں تم سے اور تمہارے ان سارے معبودوں سے جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے بنا رکھا ہے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں۔
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ تدبیریں کرسکتے ہو ضرور کرو اور مجھے (ذرا بھر بھی) مہلت نہ دو

ہود (علیہ السلام) نے قوم کو کھرا کھرا اور واضح جواب سنا دیا 75 ؎ ہود (علیہ السلام) نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم کے لوگو ! میں تم کو اتنی واضح اور صاف صاف بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اللہ پر بھروسہ اور مکمل طور پر توکل کر رکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پھر آخر دوسروں سے کیوں ڈروں گا ؟ اور غیر اللہ کا خوف و ڈر ہی تو شرک کی اصل جڑ ہے اگر میں غیر اللہ کا خوف اور ڈر رکھتا تو میں مواحد کیوں ہوا ؟ میں آپ سے اور آپ کے ان معبودوں سے بالکل خائف نہیں ہوں۔ جائو تم سب مل کر میرے خلاف جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی ، کوئی حرکت کرنے والی ہستی نہیں کہ اس کے قبضہ سے باہر ہو ، میرا پروردگار (حق و انصاف کی) سیدھی راہ پر ہے

میرا کار ساز و مددگار صرف اور صرف اللہ ہے اور اس پر میں بھروسہ کرتا ہوں 76 ؎ ہود (علیہ السلام) نے قوم کے سرداروں کو اپنے پیغام کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا ایمان تو یہ ہے کہ جو کچھ روئے زمین پر ہے سب کی چوٹی اس پروردگار حقیقی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے اذن و مشیت کے بغیر کسی کو ذرہ برابر نقصان یا تکلیف پہنچا سکے۔ یقینا میرا رب صراط مستقیم پر ہے اور یہ کہ جو راہ مستقیم پر چلتا ہے رب کریم اس کا ساتھ دیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔ غور کرو کہ پوری قوم کے مقابلہ میں ایسا بلند بانگ دعویٰ اور ان کو غیرت دلانا اور پھر پوری بہادر قوم میں سے کسی کی مجال نہ ہونا کہ ان کے مقابلہ میں کوئی حرکت کرے کیا یہ معجزہ نہیں تھا ؟ یقیناً یہ سب سے بڑا معجزہ تھا جو ہود (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا اور اس سے قوم کے اس سوال کا جواب بھی ہوگیا کہ آپ ہمارے پاس کوئی نشانی نہیں لائے لیکن حقیق یہ ہے کہ ایسی باتوں کو نہ کبھی پہلی قوموں نے معجزہ مانا اور نہ ہی آج ہی ہمارے لوگ اس کو معجزہ ماننے کو تیار ہیں حالانکہ قرآن کریم کی زبان میں یہ سب سے بڑا معجزہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ تحدی اور چیلنج ہے اور ساری قوم کو سنا کر سمجھا کر دکھایا گیا ہے اور ان کی اس بات کا بیا گویا جواب ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ تجھ کو اے ہود ! ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے فرمایا کہ وہ مجھے مار لگانے والے جان ہی سے کیوں نہیں مار دیتے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ لیکن تم میں اور ان میں اتنی طاقت کہاں ؟ اگر ان کے اور تمہارے بس میں ہوتا تو تم مجھے ایک سانس بھی نہ لینے دیتے اور عرصہ سے میرا تیاپانچا ہوچکا ہوتا۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم نے روگردانی کی تو جس بات کے لیے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے پہنچا دی اور میرا پروردگار کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ دے دے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے ، یقینا میرا پروردگار ہرچیز کا نگران حال ہے

ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم روگرداں رہے تو وہ وقت تم کو آ لے گا جس کی میں نے تم کو اطلاع دی 77 ؎ اس آیت میں ہود (علیہ السلام) نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرما دیا کہ اگر تم اسی طرح حق سے برگشتہ رہو گے تو سمجھ لو کہ جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے میں تم کو اپنی بساط کے مطابق پہنچا چکا ہوں اور جب تم مسلسل ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہو تو اب اس کے سوا کیا باقی رہ گیا ہے کہ تم پر اللہ کا قہر اور عذاب اور غصہ آجائے اور تم سب کو نیست و نابود کر کے رکھ دے اور میرا اللہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے اور اس سرزمین میں آباد کر دے۔ اس طرح پھر غور سے سن لو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہو ، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ رہے اور نہ ہی میرا اس سے کچھ بگڑے گا بلاشبہ اللہ میرا محافظ و نگہبان ہے اور وہ تمہارے ہر کام اور تمہاری ہر حرکت سے اچھی طرح واقف ہے اور دیکھ رہا ہے کہ تم کیا کر رہے ہو یقیناً میرا رب ہرچیز کی نگہداشت کرتا ہے وہ تمہارے ہر کام اور خیال سے باخبر ہے۔ ان لوگوں نے ان باتوں میں سے کسی چیز پر کان نہ دھرا اور اپنی سرکشی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ہوا کے طوفان کی صورت میں ان پر نازل ہوا جس نے مکانات اور درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا آدمی اور جانور ہوا کا مقابلہ نہ کرسکے اور اس طرح اوندھے ہو کر رہ گئے کہ ان کی چیخ و پکار آسمان تک بلند ہونے لگی مختصر یہ کہ اس سخت ڈیل ڈول کے لوگ ہلاک و برباد ہو کر رہ گئے اور وہ اس طرح نظر آتے تھے جیسے کھجوروں کے تنے کسی نے کاٹ کر گرا دیئے ہوں۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہماری بات کا وقت آپہنچا تو اپنی رحمت سے ہود (علیہ السلام) کو بچالیا اور ان لوگوں کو بھی بچالیا جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اور ایسے عذاب سے بچایا کہ بڑا ہی سخت عذاب تھا

جب عذاب کا موعود وقت آیا تو ہود (علیہ السلام) کو مع ان کے لوگوں کے بچالیا گیا 78 ؎ عاد قوم کی ہلاکت کا وقت جب قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور قانون مشیت کے مطابق اپنے پیغمبر سیدنا ہود (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بچالیا وہ اس طرح کہ جب عذاب کا موعود وقت قریب آیا تو ہود (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دے دیا اور اس علاقہ سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا لہٰذا ہود (علیہ السلام) مع اپنے ساتھ ایمان لانے والوں کے اس سرزمین سے نکل کر کسی دوسری جانب چلے گئے اور آپ (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد طوفان برق باد اس تیزی سے آیا کہ ان سب کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ ہے سرگزشت عاد کی انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیاں جھٹلائیں اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر و سرکش کے حکم کی پیروی کی

عام قوم کی سرگزشت میں ماننے والوں کیلئے کتنی ہی نشانیاں پنہاں ہیں 79 ؎ عام قوم بہت زبردست ” جبار “ ، سرکش اور ” متکبر “ اور ” عنید “ جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والی قوم تھی۔ مطلب یہ ہے کہ عام قوم کی بربادی کی وجہ یہ ہوئی کہ اس کا برسراقتدار طبقہ تو ویسے سرکش اور متکبر تھا جو حق کو قبول کرنا ہی اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا لیکن اس قوم کے عوام نے بھی عقل و خرد سے کام لینا چھوڑ دیا تھا انہوں نے بھی سیدنا ہود (علیہ السلام) کی دعوت پر سنجیدگی سے غورو فکر نہیں کیا تھا وہ بھی لکیر کے فقیر تھے اور اپنے رئیسوں کی چاپلوسی کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے تھے۔ دونوں گروہوں ، خاص و عام کو غور و فکر کی طویل مہلت دی گئی لیکن انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا آخر کار تباہ و برباد کردیئے گئے۔ قوم عاد کا واقعہ اور عذاب کا ذکر کرنے کے بعد دوسروں کو عبرت حاصل کرنے کی تلقین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ یہ ہے وہ قوم عاد جنہوں نے اپنے رب کی نشانوں کو جھٹلایا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی اور ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم اور ضدی تھے۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی تو سن رکھو کہ قوم عاد نے اپنے پروردگار کی ناشکری کی اور سن رکھو کہ عاد کے لیے محرومی کا اعلان ہوا جو ہود کی قوم تھی

دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت پڑی اور قیامت کو بھی وہ یقینا رسوا ہوں گے 80 ؎ ہود (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بھی اس طرح ہلاکت پر آ کر منتہی ہوا جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کا اختتام ہوا تھا اور دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی یعنی وہ رحمت سے دور ہی کردیئے گئے اور قیامت کے روز بھی وہ لوگ رحمت سے دور ہی رکھے جائیں گے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ عاد قوم پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا تھا مگر سورة مومنوں میں یہ مذکور ہے کہ ان کو ایک سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اس لئے ممکن ہے کہ قوم ہود پر دونوں قسم کا عذاب نازل کیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طوفان باد میں ہی وہ سخت چیخ کا عذاب بھی شامل ہو جیسا کہ اکثر یہ ہوتا ہے اور عام تیز و تند ہوا میں بھی سخت مہیب قسم کی آواز پیدا ہوتی ہے جس سے انسان فی الواقع خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ اس آیت 60 پر ہود (علیہ السلام) کا واقعہ تمام ہوا۔ اب مختصر سرگزشت ایک بار پھر نظر میں لائیں پھر انشاء اللہ العزیز ثمود قوم کا ذکر آئے گا جو صالح (علیہ السلام) کی قوم بھی کہلاتی تھی۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد عاد قوم یا قوم ہود (علیہ السلام) وہ پہلی قوم ہے جس نے اس سرزمین میں عمارات کی صنعت میں بہت ترقی کی۔ ہود (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم کی صرف تین سورتوں الاعراف 7 : 65 ، ہود 11 : 50 سے 89 تک اور سورة الشعراء 26 : 124 میں آیا ہے لیکن عاد قوم کے نام سے قرآن کریم کی 9 سورتوں میں ذکر کیا گیا ہے یعنی الاعراف ، ہود ، مومنون ، الشعراء ، فصلت ، الاحقاف ، الذاریات ، القمر اور سورة الحاقہ میں لیکن قرآن کریم کے سوا کوئی تاریخ کی کتاب یا تورات عاد کے متعلق کچھ روشنی نہیں ڈالتی اس لئے اس قوم کے نقشہ کا سب سے زیادہ انحصار قرآن کریم ہی کے بیان اور آثار قدیمہ کے انکشافات پر ہے۔ عاد عرب کے قدیم قبیلہ یا امم سامیہ کے صاحب قوت و اقتدار افراد جماعت کا نام ہے۔ تاریخ قدیم کے بعض یورپی مصنفین عاد کو ایک فرضی کہانی یقین کرتے ہیں مگر ان کا یہ یقین بالکل غلط اور سراسر وہم ہے اس لئے کہ جدید تحقیقات کا یہ مسلمہ فیصلہ ہے کہ عرب کے قدیم باشندے کثرت افراد و قبائل کے اعتبار سے ایک باعظمت قوم تھے جو عرب سے نکل کر شام ، مصر اور بابل کی طرف بڑھے اور وہاں زبردست حکومتوں کی بنیادیں قائم کیں اب فرق صرف اسی قدر ہے کہ عرب ان باشندوں کو ” امم بائدہ “ یا عرب عادیہ اور ان کی مختلف جماعتوں کے افراد کو عاد ، ثمود ، طسم اور جدیس کہتے ہیں اور مستشرقین یورپ ” امم سامیہ “ نام رکھتے ہیں اور اس طرح اصطلاحات و تعبیرات کے فرق سے حقیقت و واقعہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوجاتی اس لئے قرآن کریم نے ان کو ” عاد اولیٰ “ کہا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ عرب کی قدیم قوم ” بنو سام “ اور ” عاد اولی “ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ عاد کا زمانہ تقریباً دو ہزار قبل مسیح (علیہ السلام) مانا جاتا ہے اور قرآن کریم نے عاد کو ” من بعد قوم نوح “ کہہ کر قوم نوح کے خلفاء میں ان کو شمار کیا ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ شام کی دوبارہ آبادی کے بعد امم سامیہ کی ترقی عاد ہی سے شروع ہوتی ہے۔ عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے جو حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے شرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخالی مگر آج کل ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہاں ریت کے ٹیلے ہی ٹیلے نظر آتے ہیں اور بعض لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی آبادی عرب کے سب سے بہترین اور حضر موت اور یمن میں خلیج فارس کے سواحل سے حدود عراق تک وسیع تھی اور یمن ان کا دارالحکومت تھا۔ عاد قوم بھی نوح (علیہ السلام) کی ہلاک ہونے والی قوم کی طرح پکی مشرک تھی اپنے بزرگوں کے صنم تراشتے اور ان کی پرستش کرتے تھے اور مورخین کے بیان کے مطابق ان کے بڑے بت بھی وہی تھے جو قوم نوح کی ہلاک ہونے والی قوم کے تھے یعنی ” ود “ ، ” سواع “ ، ” یغوث “ ، ” یعوق “ اور ” نسر “ بلکہ بعض نئے نام بھی ان میں داخل تھے جیسے عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک اثر میں منقول ہے کہ ان کے ایک بڑے صنم کا نام ” صمود “ اور دوسرے کا نام ” ہتار “ تھا۔ عاد اپنی مملکت کے سطوت و جبروت اور جسمانی قوت کے غرور میں اتنے بڑھے کہ انہوں نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کو بالکل ہی بھلا دیا اور اپنے فہمیدہ بزرگوں کے تراشیدہ بتوں کو اپنا معبود مان کر ہر قسم کے شیطانی اعمال بےخوف و خطر کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک پغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ ہود (علیہ السلام) کی سب سے زیادہ معزز شاخ ” خلود “ کے ایک فرد تھے۔ سرخ سفید رنگ اور نہایت وجیہ تھے اور ان کی داڑھی بڑی تھی۔ (عین ج 7 کتاب الانبیاء) ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی اور لوگوں پر ظلم و جور کرنے سے منع فرمایا مگر عاد نے ایک نہ مانی اور ان کو سختی کے ساتھ جھٹلایا اور غرور وتکبر کے ساتھ کہنے لگے ” آج دنیا میں ہم سے زیادہ شوکت و جبروت کا کون مالک ہے ؟ “ تاہم ہود (علیہ السلام) بھی اللہ کے رسول تھے۔ آپ (علیہ السلام) ان کو اسلام کی مسلسل تبلیغ کرتے رہے اور اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈراتے رہے اور غرور و سرکشی کے نتائج بتا کر قوم نوح کے واقعات یاد دلاتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ : ” اے قوم ! اپنی جسمانی طاقت اور حکومت کے جبروت پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ قوم کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو یہ دولت بخشی۔ قوم نوح کی تباہی کے بعد تجھ کو زمین کا مالک بنا دیا۔ خوش عیش ، فارغ البالی اور خوش حالی عطا کی لہٰذا اس کی نعمتوں کو نہ بھولو اور اپنے بزرگوں کے ان تراشیدہ اور خود ساختہ بتوں کی پرستش سے باز آ جائو جو نہ تو تم کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ دکھ دے سکتے ہیں۔ موت و زیست ، نفع و ضرر سب ایک ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اے افراد قوم ! مانا کہ تم عرصہ تک سرکشی اور ان کی نافرمانی میں مبتلا رہے ہو مگر آج بھی اگر توبہ کرلو اور باز آ جائو تو اس کی رحمت وسیع ہے اور دروازہ توبہ بند نہیں ہوا اس سے مغفرت چاہو وہ بخش دے گا ، اس کی طرف رجوع ہو جائو وہ معاف کر دے گا ، تقویٰ و طہارت کی زندگی اختیار کرلو وہ تم کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے گا اور بیش از بیش عزت دے گا اور مال و عزت میں سرفرازی بخشے گا۔ ہود (علیہ السلام) اپنی تبلیغ اور پیغام حق کے ساتھ ساتھ بار بار یہ بھی دہراتے کہ میں تم سے کسی اجر و عوض کا خواہاں نہیں ، میرا اجر تو اللہ ہی کے پاس ہے اور یہ نبی کی زندگی کا طغرائے امتیاز ہے ان کو کوئی یہ تہمت نہیں لگا سکتا کہ وہ مال کی طلب میں ایسا کرتے ہیں یا عزت و جاہ اور ریاست کے طالب ہیں۔ وہ قوم سے نہ ریاست و عزت کے طالب ہوتے ہیں اور نہ مال و منال کے۔ ان کے سامنے تو بس ایک نقطہ ہوتا ہے کہ وہ ادائے فرضی اور اپنے مالک حقیقی کے احکام کی پیغام بری کرتے ہیں۔ عاد قوم میں ایمان دار چند ہی لوگ تھے باقی تمام سرکش اور متمرد انسان کا گروہ تھا ان کو ہود (علیہ السلام) کی یہ ہدایات سخت شاق گزرتی تھیں اور وہ یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے خیالات ، ان کے عقائد ، اعمال فرضی ان کے کسی ارادہ میں بھی کوئی شخص حائل ہو ، ان کیلئے ناصح مشفق ہے ، اس لئے اب انہوں نے یہ روش اختیار کی کہ حضرت ہود کا مذاق اڑانا شروع کردیا ، ان کو بیوقوف گردانا اور ان کی معصومانہ حقایتوں اور صداقتوں کے تمام یقینی دلائل وبراہین کو جھٹلاناشروع کردیا اور ہود (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ ” اے ہود تو ہمارے پاس ایک دلیل بھی نہ لایا اور تیرے کہنے سے ہم اپنے خدائوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ “ (ہود 11 : 53) مطلب واضح ہے کہ انہوں نے ہود (علیہ السلام) سے صاف صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا کہ ہم تیرے اس ڈھونگ میں آنے والے نہیں کہ تجھ کو اللہ کا رسول مان لیں اور اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑ کر یہ یقین کرلیں کہ وہ اللہ کے سامنے ہمارے سفارشی نہیں ہوں گے۔ ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ نہ میں بیوقوف ہوں اور نہ پاگل۔ بلاشبہ میں خدا کا رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے کسی بیوقوف کو منتخب نہیں کیا کرتا کہ اس کا نقصان اس کے نفع سے بڑھ جائے اور ہدایت کی جگہ گمراہی آجائے۔ وہ اس عظیم الشان خدمت کیلئے اپنے بندوں میں سے ایک شخص کو چنتا ہے جو ہر طرح اس کا اہل ہو اور اس خدمت خلق کو بخوبی انجام دے سکے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اللہ خوب جاننے والا ہے کہ وہ اپنے منصب رسالت کو کس جگہ رکھے۔ “ لیکن قوم کی سرکشی اور مخالفت بڑھتی ہی رہی اور ان پر آفتاب سے بھی زیادہ روشن دلائل و نصائح کا مطلق اثر نہ ہوا اور وہ ہود (علیہ السلام) کی تکذیب و تذلیل کے اور زیادہ درپے ہوگئے اور (العیاذ باللہ) مجنون اور خبطی کہہ کر اور زیادہ مذاق اڑانے لگے اور کہنے اور لگے اے ہود ! جب سے تم نے ہمارے معبودوں کو برا کہنا اور ہم کو ان کی عبادت سے باز رہنے کیلئے تلقین کرنا شروع کیا ہے ہم دیکھتے ہیں اس وقت سے تیرا حال خراب ہوگیا ہے اور ہمارے ان بزرگوں کی بددعا سے جن کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے ہم نے یہ بت تراشے ہیں تو پاگل اور مجنون ہوگیا ہے تو اب ہم اس کے علاوہ تجھ کو اور کیا سمجھیں ؟ ان کو اپنی اس گستاخانہ جرأت اور ہمت سے یہ خیال ہوچکا تھا کہ اب کوئی شخص ہود (علیہ السلام) کی طرف دھیان نہ دے گا اور ان کی باتوں کو توجہ سے نہ سنے گا لیکن دوسری طرف بھی ہود (علیہ السلام) ہیں انہوں نے ان کی ساری باتوں کو نہایت ضبط و صبر سے سنا اور پھر ان سے اس طرح مخاطب ہوئے کہ : ” میں اللہ کو اور تم سب کو گواہ بنا کر سب سے پہلے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں اس اعتقاد سے قطعاً بری ہوں کہ ان تمہارے بزرگوں یا ان کے ان بتوں میں یہ قدرت ہے کہ مجھ کو یا کسی کو کسی قسم کی بھی کوئی برائی پہنچا سکتے ہوں اس کے بعد تم کو اور تمہارے ان معبودان باطل کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ان میں ایسی قدرت ہے تو وہ مجھ کو نقصان پہنچانے میں جلدی سے اقدام کریں میں اپنے اللہ کے فضل و کرم سے صاحب عقل و خرد ہوں اور حکمت و دانائی کا حامل ، میں تو صرف اپنے اس اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی پر وثوق رکھتا ہوں جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کے تمام جانداروں کی پیشانیاں ہیں اور جو سب کی حیات و ممات کا مالک ہے ، وہ ضرور میری مدد کرے گا اور ہر نقصان پہنچانے والے کے نقصان سے محفوظ رکھے گا۔ “ انجام کار ہود (علیہ السلام) نے ان کی مسلسل بغاوت و سرکشی کے خلاف یہ اعلان کردیا کہ اگر عاد کا رویہ یہی رہا اور حق سے روگردانی کی روش میں انہوں نے کوئی تبدیلی نہ کی اور میری پند و نصائح کو ہوش گوش سے نہ سنا تو یاد رکھو کہ ان کی ہلاکت یقینی ہے ، اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کو ہلاک کر دے گا اور بلاشبہ وہ اللہ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے وہ تو ہر شے پر قادر و مسلط اور ہر شے کا حافظ و نگہبان ہے اور تمام کائنات اس کے قبضہ قدرت میں مسخر ہے۔ اے مرسی قوم کے لوگو ! اب بھی سمجھ جائو اور عقل و ہوش سے کام لو ، قوم نوح کے حالات سے عبرت حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کے سامنے سر نیاز جھکا دو ورنہ قضاء و قدر کا ہاتھ ظاہر ہوچکا ہے اور وہ زمانہ بہت قریب ہے کہ تمہارا یہ سارا غرور و گھمنڈ خاک میں مل جائے اور اس وقت تم کو ندامت سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو بار بار یہ بھی باور کرایا کہ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں بلکہ صحیح معنوں میں دوست ہوں۔ تم سے زر و سیم اور ریاست کا طالب نہیں ہوں بلکہ تمہاری فلاح و نجات چاہتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے پغاوم کے بارے میں خائن نہیں بلکہ امین ہوں ، وہی کہتا ہوں جو مجھ سے کہا جاتا ہے ، جو کچھ کہتا ہوں قوم کی سعادت اور حسن حال و مال کیلئے کہتا ہوں بلکہ دائمی و سرمدی نجات کیلئے کہتا ہوں۔ اے قوم ! تم کو اپنی ہی قوم کے ایک انسان پر اللہ کے پیغامات نازل ہونے سے اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ قدیم سے اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ انسانوں کو ہدایت وسعادت کیلئے انہی میں سے ایک شخص جو چن لیتا اور اپنا رسول بنا کر اس کو خطاب کرتا ہے اور اپنی مرضیات و نامرضیات سے اس کی معرفت اپنے بندوں کو مطلع کرتا رہتا ہے اور فطرت کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ کسی قوم کی رشد و ہدایت کیلئے ایسے شخص کا ہی انتخاب کیا جائے جو بول چال میں انہی کی طرح بلکہ انہی میں سے ہو تاکہ ان کے اخلاق و عادات کا واقف و دانا ہو۔ ان کے خصوصی امتیازات سے آشنا اور انہی کے ساتھ زندگی گزارتا رہا ہو کہ اس سے قوم مانوس ہو سکتی ہے اور وہی ان کا صحیح ہادی اور راہنما بن سکتا ہے۔ عاد نے جب یہ سنا تو وہ عجیب حیرت میں پڑگئے ، ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایک اللہ کی پرستش کے کیا معنی ہیں ؟ وہ ہود (علیہ السلام) کی باتیں سن کر مزید غم و غصہ میں آگئے کیونکہ ہود (علیہ السلام) کی ساری باتیں ان کے رسم و رواج کے خلاف تھیں اس لئے وہ غصہ میں آگئے کہ کس طرح ہم باپ دادا کی ریت ” اصنام تراشی اور اصنام پرستی “ کی چھوڑ دیں ؟ یہ تو ہمارے اور ہمارے سارے باپ دادوں کی سخت توہین ہے ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا کہ ان کو کافر اور مشرک کیوں کہا جاتا ہے جب کہ وہ ان بزرگوں کو جن کے بت تراشے گئے ہیں اللہ کے سامنے اپنا شفیع مانتے ہیں ؟ ان کے نزدیک ہود (علیہ السلام) کی بات مان لینے میں ان کے معبودوں اور بزرگوں کی سخت توہین و تحقیر تھی جس کو وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ اور شفیع مانتے تھے اور اس کیلئے ان تصویروں اور مجسموں کو سامنے رکھتے تھے تاکہ جن بزرگوں کی یہ تصویریں اور مجسمے انہوں نے سامنے رکھے ہیں وہ خوش ہو کر ہماری سفارش کریں اور ہمیں عذاب الٰہی سے نجات دلائیں۔ مختصر یہ کہ ہود (علیہ السلام) کی باتیں سن کر وہ شعلہ کی طرح بھڑک اٹھے اور ہود (علیہ السلام) سے بگڑ کر کہنے لگے کہ تو نے ہم کو اپنے اللہ کے عذاب کی دھمکی دی ہے اور ہم کو اس طرح ڈرایا ہے کہ ” میں تمہارے اوپر بڑے دن کے عذاب آنے سے ڈرتا ہوں۔ “ تو اے ہود (علیہ السلام) ! اب ہم سے تیری روز روز کی یہ نصیحتیں بلکہ دھمکیاں نہیں سنی جاتیں ہم ایسے ناصح مشفق سے باز آئے۔ اگر تو واقعی اپنے قول میں سچا ہے تو وہ عذاب بلا لے تاکہ ہمارا تیرا قصہ پاک ہو۔ ” پس لے آئو ہمارے پاس اس شے کو جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو واقعی سچوں سے ہے۔ “ (الاعراف) ہود (علیہ السلام) نے قوم کی یہ باتیں سن کر ان کو جواب دیا کہ اگر میری مخلصانہ اور صادقانہ نصائح کا یہی جواب ہے تو ” بسم اللہ “ اور تم کو اگر عذاب کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ بھی کچھ دور نہیں ہے۔ ” بلاشبہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب و غضب آیا کہ بس آیا۔ “ (الاعراف) اگر تم کو شرم نہیں آتی کہ تم بزرگوں کے چند خود ساختہ بتوں کو ان کے نام گھڑ کر پکارتے ہو اور تم اور تمہارے آبائو اجداد ان کو اللہ کی دی ہوئی دلیل کے بغیر من گھڑت طریقہ پر ان کو اپنا شفیع اور سفارشی مانتے ہو اور میرے روشن دلائل سے انحراف اور سرکشی کر کے عذاب کے طالب ہوتے ہو اگر ایسا ہی شوق ہے تو اب تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ اس (فیصلہ) کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ ” کیا ہے جس کی بنا پر تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ؟ محض چند نام جو تم نے اور تمہارے بزرگوں یعنی باپ دادوں نے اپنے جی سے گھڑ لئے ہیں اور جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ اچھا آنے والے وقت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔ “ (الاعراف) الحاصل قوم ہود کی انتہائی شرارت اور بغاوت اور اپنے رسول کی تعلیم سے بےپناہ بغض وعناد کی پاداش عمل اور قانون جزاء کا وقت آپہنچا اور غیرت حق حرکت میں آئی اور عذاب الٰہی نے سب سے پہلے خشک سالی کی شکل اختیار کی ، عاد سخت گھبرائے ، پریشان ہوئے اور عاجز و درماندہ آنے لگے تو ہود (علیہ السلام) کو جوش ہمدردی نے چین نہ لینے دیا اور مایوسی کے بعد پھر ایک مرتبہ ان کو سمجھایا کہ راہ حق کو اختیار کرلو ، میری نصائح پر ایمان لے آئو کہ یہی نجات کی راہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ پچھتائو گے لیکن بدبخت اور بدنصبی قوم پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ بغض وعناد اور دوبالا ہوگیا تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا نتیجتاً آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیز و تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو ان کی آبادی کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا ، تنو مند اور قوی ہیکل انسان جو اپنی جسمانی قوتوں کے گھمنڈ میں سرمست و سرکش تھے اس طرح بےحس و حرکت نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تناور درخت بےجان ہو کر گر جاتا ہے۔ غرض صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے عبرت بنیں اور دنیا و آخرت کی لعنت اور عذاب ان پر مسلط کردیا گیا کہ وہ اس کے مستحق تھے اور حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے مخلص پیروان اسلام اللہ کی رحمت و نعمت میں عذاب الٰہی سے محفوظ رہے اور سرکش قوم کی سرکشی و بغاوت سے مامون ہوگئے۔ یہ ہے ” عاد اولی “ کی وہ داستان عبرت جو اپنے اندر چشم بینا رکھنے والوں کیلئے بیشمار پند و نصائح رکھتی اور رب العزت کے احکام کی تعمیل اور تقویٰ و طہارت کی زندگی کی جانب دعوت دیتی ہے ، شرارت ، سرکشی اور احکام الٰہی سے بغاوت کے انجام بد سے آگاہ کرتی اور وقتی خوش عیشی پر گھمنڈ کر کے نتیجہ کی بدبختی پر مذاق اڑانے سے ڈراتی اور باز رکھتی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کے اس واقعہ کا تفصیلی ذکر قرآن کریم نے جس عبرت آموز طریقہ پر کیا ہے اس کو پڑھئے اور موعظت دیکھ لیں عبرت اور گراں مایہ پند و نصائح کا سامان فراہم کیجئے کہ دنیا و آخرت کی سعادت و فلاح کی یہی بہترین ذخیرہ ہے۔ متعلقہ آیات کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ متن قرآن کریم سے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” اور ہم نے قوم عاد کی طرف اس کے بھائی بندوں میں سے ہود (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا۔ اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم نہیں ڈرتے ہو ؟ اس پر قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا تھا کہ ہمیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم حماقت میں پڑگئے ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹ بولنے والوں سے ہو۔ ہود (علیہ السلام) نے کہا ، بھائیو ! میں احمق نہیں ہوں میں تو اس کی طرف سے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، فرستادہ ہوں میں اس کا پیام تمہیں پہنچاتا ہوں اور یقین کرو کہ تمہیں دیانتداری کے ساتھ نصیحت کرنے والا ہوں۔ کیا تمہیں اس بات پر اچنبھا ہو رہا ہے کہ ایک ایسے آدمی کے ذریعے تمہارے پروردگار کی نصیحت تم تک پہنچی جو خود تم ہی میں سے ہے ؟ اللہ کا یہ احسان یاد کرو کہ قوم نوح کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تمہاری نسل کو زیادہ وسعت و توانائی بخشی ، پس چاہئے کہ اللہ کی نعمتوں کی یاد سے غافل نہ ہو تاکہ ہر طرح کامیاب ہو جائو۔ انہوں نے کہا کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کی پرستش کرنے لگیں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو وہ بات لا دکھائو جس کا ہمیں خوف دلا رہے ہو۔ ہود (علیہ السلام) نے کہا یقین کرو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب واقع ہوگیا ہے (کہ تمہاری عقلیں ماری گئی ہیں اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہی کے حوالے کر رہے ہو) کیا ہے جس کی بناء پر تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ؟ محض چند نام جو تم نے اور تمہارے بزرگوں نے اپنے جی سے گھڑ لئے ہیں اور جن کیلئے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری اچھا (آنے والے وقت کا) انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ پھر ایسا ہوا کہ ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں ان کی بیخ و بن اکھاڑ دی حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی ایمان لانے والے نہ تھے۔ (الاعراف 7 : 65 تا 71) ” اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف اس کی بھائی بندوں میں سے ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، یقین کرو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ (حقیقت کے خلاف) افتراء پردازیاں کر رہے ہو۔ اے میری قوم کے لوگو ! میں اس بات کیلئے تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا پھر کیا تم (اتنی صاف بات بھی) نہیں سمجھتے ؟ اور اے میری قوم کے لوگو ! اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو اور اس کی جناب میں توبہ کرو وہ تم پر برستے ہوئے بادل بھیجتا ہے اور تمہاری قوتوں پر نئی نئی قوتیں بڑھاتا ہے اور دیکھو جرم کرتے ہوئے اس سے منہ نہ موڑو۔ ان لوگوں نے کہا کہ اے ہود (علیہ السلام) ! تو ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر تو آیا نہیں (جسے ہم دلیل سمجھیں) اور ہم ایسا کرنے والے نہیں کہ تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ، ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود کی تجھ پر مار پڑگئی ہے (اس لئے تو اس طرح کی باتیں کرنے لگا ہے۔ ) ہود (علیہ السلام) نے کہا ، میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن ہستیوں کو تم نے اس کا شریک بنا رکھا ہے مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں ، تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ تدبیریں کرسکتے ہو ضرور کرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو پھر دیکھو کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ میرا بھروسا اللہ پر ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی ، کوئی حرکت کرنے والی نہیں کہ اس کے قبضے سے باہر ہو میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے یعنی اس کی راہ ظلم کی راہ نہیں ہو سکتی۔ پھر اگر اس پر بھی تم نے روگردانی کی تو جس بات کیلئے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے تم کو پہنچا دی اور اگر تم ڈٹے رہے تو میرا پروردگار کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ دے دے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے یقینا میرا پروردگار ہرچیز کا نگران حال ہے۔ یہ ہے سرگزشت عاد (علیہ السلام) کی۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیاں جھٹلائیں اور ان کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر و سرکش کے حکم کی پیروی کی اور ایسا ہوا کہ دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت پڑی (یعنی وہ رحمت الٰہی سے دور کردیئے گئے) اور قیامت کے دن بھی۔ سن رکھو کہ قوم عاد نے اپنے پروردگار کی ناشکری کی اور سن رکھو کہ عاد کیلئے (بھی) محرومی کا اعلان ہوا جو عاد کی قوم تھی۔ “ (ہود 11 : 50 تا 60) ” پھر ہم نے قوم نوح کے بعد قوموں کا ایک دوسرا دور پیدا کردیا۔ ان میں اپنا رسول (ہود (علیہ السلام) بھیجا جو خود انہی میں سے تھا (اس کی پکار بھی یہی تھی) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، کیا تم ڈرتے نہیں ؟ اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی اور آخرت کے پیش نظر آنے سے منکر تھے اور جنہیں دنیا کی زندگی میں ہم نے آسودگی دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ اس سے زیادہ اس (ہود (علیہ السلام) کی کیا حیثیت ہے کہ تمہارے ہی جیسا ایک آدمی ہے۔ جو کچھ تم کھاتے پیتے ہو یہ بھی کھاتا ہے۔ اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرلی تو بس سمجھ لو کہ تم تباہ ہوئے۔ تم سنتے ہو کہ یہ کیا کہتا ہے ؟ یہ تمہیں امید دلاتا ہے کہ جب مرنے کے بعد محض ہڈیوں اور مٹی کا چورہ چورہ ہو جائو گے تو پھر تمہیں موت سے نکالا جائے گا۔ کیسی انہونی بات ہے جس کی تمہیں توقع دلاتا ہے۔ زندگی تو بس ! یہی زندگی ہے جو دنیا میں ہم بسر کرتے ہیں ، یہیں مرتے ہیں ، یہیں جینا ہے ایسا کبھی ہونے والا نہیں کہ مر کر پھر جی اٹھیں ، کچھ نہیں یہ ایک مفتری آدمی ہے جس نے اللہ کے نام سے جھوٹ موٹ بات بنا دی ہم کبھی اس پر یقین لانے والے نہیں۔ اس پر اس رسول (ہود (علیہ السلام) نے دعا مانگی کہ اے اللہ ! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے پس تو میری مدد فرما۔ حکم ہوا کہ عنقریب ایسا ہونے والا ہے کہ یہ لوگ اپنے کئے پر شرمسار ہوں گے۔ چناچہ فی الحقیقت ایک ہولناک آواز نے انہیں پکڑا اور ہم نے خس و خاشاک کی طرح انہیں پامال کردیا تو محرومی ہو اس گروہ کیلئے کہ ظلم کرنے والا ہے۔ (المومنون 23 : 31 تا 41) ” عاد (قوم) نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یاد کرو جب ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا کیا تم ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو ، گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ہی ڈالتے ہو۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ڈرو اس سے جس نے تم کو وہ کچھ دیا ہے جو تم جانتے ہو۔ تمہیں جانور دیئے ، اولادیں دیں ، باغات دیئے اور چشمے دیئے۔ مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تو نصیحت کر یا نہ کر ہمارے لئے سب یکساں ہے ، یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آرہی ہیں اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ آخر کار انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یقیناً اس میں ایک بڑی ہی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور پیار کرنے والا بھی۔ “ (الشعراء 26 : 123 تا 140) ” عاد کا یہ حال تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور۔ ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور ہے ؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نیں ہ۔ “ (حم السجدہ 41 : 15 ، 16) ” ذرا انہیں عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کا قصہ سنائو جب کہ اس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے۔ اس نے کہا اس کا علم تو اللہ کو ہے میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھاج۔ گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا… نہیں ، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کیلئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے ، اپنے رب کے حکم سے ہرچیز کو تباہ و برباد کر ڈالے گا ، آخر کار ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ ان کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔ ان کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے مگر نہ وہ کان ان کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور اس چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا مذاق اڑاتے تھے۔ “ (تم بھی اپنے اپنے کانوں ، آنکھوں اور دلوں سے کام لیتے رہو۔ ) (الاحقاف 46 : 21 تا 26) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) عاد میں جب کہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےخیر ہوا بھیج دی کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔ “ (الذاریات 51 : 42) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا تھا ؟ اور کیسی تھیں میری تنبیہات ؟ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کہ کیا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات ؟ “ (القمر 54 : 18 تا 21) ” اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اللہ نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کر رکھا (تم وہاں ہوتے) تو پھر دیکھتے کہ وہ لوگ وہاں اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ اب کیا ان میں سے کوئی تمہیں باقی بچا ہوا نظر آتا ہے۔ “ (الحاقہ 69 : 6 ، 8) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے عاد (قوم) کے ساتھ کیا کیا ؟ ہاں وہی اونچے ستونوں والے (عاد) ارم کے ساتھ ؟ جن کی مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی ؟ “ (الفجر 89 : 6 تا 8) یہ تھے وہ تذکار جو ہود (علیہ السلام) کی قوم جن کو ” عاد قوم “ کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے قرآن کریم میں بیان ہوئے۔ اب سیدنا ہود (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے بعد خود ہود (علیہ السلام) کی وفات کے متعلق بھی مختلف اقوال بیان کئے گئے ہیں۔ چناچہ اہل عرب ہود (علیہ السلام) کی وفات اور ان کی قبر مبارک کے متعلق مختلف دعوے کرتے ہیں مثلاً اہل حضر موت کا دعویٰ ہے کہ عاد کی ہلاکت کے وقت وہ حضر موت کے شہروں میں ہجرت کر آئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی اور وادی ” برہوت “ کے قریب حضر موت کے مشرقی حصہ میں شہر ” تریم “ سے قریباً دو مرحلے پر دفن ہوئے۔ اور حضرت علی ؓ سے ایک اثر مروی ہے کہ ان کی قبر حضر موت میں ” کثیب احمر “ (ایک سرخ ٹیلہ) پر ہے اور ان کے سامنے جھائو کا درخت کھڑا ہے۔ اور اہل فلسطین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطین میں دفن ہیں اور انہوں نے وہاں ان کی قبریں بنا رکھی ہیں اور حقیقت حال اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن ان تمام روایات میں حضرموت کی روایات صحیح معلوم ہوتی ہیں اس لئے کہ عاد کی بستیاں حضرموت ہی کے قریب تھیں لہٰذا قرینہ یہی چاہتا ہے کہ قوم کی تباہی کے وقت ہود (علیہ السلام) قریب ہی کی آبادیوں میں قیام پذیر ہوئے ہوں گے اور وہیں وفات پائی ہوگی اور وہ یہی حضرموت کا مقام ہے۔ مزید تفصیلات کیلئے قصص القرآن کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اب اس جگہ استفادہ کیلئے چند باتوں کا مزید اختصار کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے تاکہ کچھ نہ کچھ ہماری یاد میں رہ جائے ، اللہ کرے کہ ہماری یاد میں کچھ رہ بھی جائے۔ 1۔ عاد قوم میں سیدنا ہود (علیہ السلام) کا ظہور ہوا۔ 2۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، تمہارے عقائد و اعمال حقیقت کے خلاف محض افترا ہیں۔ 3۔ میں کسی معاوضے کا طالب نہیں یہ محض ادائے فرض کا تقاضا ہے جو مجھے دعوت الی الحق پر مجبور کر رہا ہے۔ 4۔ ان کی قوم نے ان کے مواعظ پر کان دھرنے سے کھلا کھلا انکار کردیا اور بالکل واضح الفاظ میں انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس کوئی ایسی بات نہیں جو ہمارے نزدیک دلیل ہو اس لئے ہم تو اپنے معبودوں کی پرستش چھوڑنے والے نہیں۔ 5۔ ہمارے خیال میں جو بات آتی ہے وہ تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار تم کو لگ گئی ہے اس لئے ایسے خیالات آنے لگے ہیں۔ 6۔ ہود (علیہ السلام) نے کہا تم کہتے ہو کہ تمہارے معبودوں کی مجھ پر مار ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھے تمہارے معبودوں سے کوئی سروکار نہیں۔ اب تم اور تمہارے سارے معبود سوائے اللہ کے جو کچھ میرے خلاف کرسکتے ہو کر دیکھیں۔ تمہارا بھروسہ ان معبودوں پر ہے ، میرا اللہ پر جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے ، جو میری اور تمہاری سب کی بگڑی بنانے والا ہے۔ 7۔ میرا کام تبلیغ حق تھا وہ میں نے کردیا اب اگر سچائی کی طرف سے تم نے رخ پھیر ہی لیا ہے تو جان لو کہ قانون الٰہی کے مطابق تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو مل جائے گی اور تم ہلاکت سے دوچار ہو جائو گے۔ 8۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مومنوں نے نجات پائی ، سرکش ہلاک کردیئے گئے۔ 9۔ سورة ہود کی آیت 56 میں جو الفاظ ” ربی و ربکم “ آئے ہیں ان کا زور جس بات پر ہے اسے سمجھ لینا چاہئے۔ ان تمام مشرک قوموں کی جو دنیا میں گزر چکی یا اس وقت موجود ہیں کسی کو اس بات سے انکار نہ تھا کہ کوئی خالق ہستی موجود نہیں بلکہ سب کی سب قومیں ایسی ہستی تو مانتی تھیں اور مانتی ہیں یعنی توحید ربوبیت سے کوئی قوم نہ بیخبر تھی اور نہ ہے لیکن ساری گمراہی یہ تھی کہ توحید و الوہیت میں کھوئے گئے تھے کہ وہ سمجھتی تھیں اور سمجھتی ہیں کہ اس پروردگار ہستی کے ماتحت دوسری ہستیاں بھی ہیں جنہیں تصرف کا اختیار مل گیا ہے اس لئے ہمیں ان کی پرستش کرنی چاہئے پس ” ربی و ربکم “ کا مطلب یہ ہوا کہ میرا بھروسہ تو اس پر ہے جسے میں بھی رب یقین کرتا ہوں اور تم بھی رب مانتے ہو۔ 10۔ اس سورة کی آیت (59) سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد پر ظالم و سرکش حکمران حکومت کرتے تھے اور فراغنہ مصر کی طرح اپنے آپ کو الہ کا خطاب دیتے تھے۔ اس لئے اس جگہ فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور سرکش و ظالم حکمرانوں کا کہا مانا یعنی جو حق و صداقت اور عدل و انصاف کی طرف بلاتے تھے ان سے تو منکر ہوئے اور جو ظلم و سرکشی کرتے تھے ان کے پیچھے چلتے تھے اور اگر غور کرو گے تو آج بھی اسی طرح کی گمراہی عام دیکھو گے پھر ایسے گروہ کیلئے بجز ہلاکت اور کیا ہو سکتا ہے ؟ 11۔ اسی طرح ” رسلہ “ کے لفظ سے کس کو شبہ ہونا ممکن ہے کہ جب ذکر ہر جگہ ایک رسول (علیہ السلام) یعنی ہود (علیہ السلام) کا ہے تو ایک جگہ ” رسلہ “ یعنی انہوں نے رسولوں کا انکار کیا اس کا مطلب کیا ہوا ؟ بلاشبہ انہوں نے انکار تو ایک رسول (علیہ السلام) کا کیا تھا لیکن ہر رسول نے چونکہ ایک ہی تعلیم دی ہے اس لئے کسی ایک رسول (علیہ السلام) کا انکار اور ایک کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ اس طرح ان کے انکار کو ” جحود “ سے تعبیر کیا کہ ” جعلوا بایات ربھم “ تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کے انکار کی نوعیت کیا تھی ؟ ” جحود “ کے معنی یہ ہیں کہ محض ہٹ دھرمی اور شرارت سے انکار کیا تھا یہ نہیں کہ وہ اصل حقیقت کو سمجھ ہی نہ سکے ہوں۔ 12۔ ہود (علیہ السلام) اور دوسرے سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی یہ سنت ایک بہترین اسوہ ہے کہ تبیغو و پیغام حق کی راہ میں بدی کا بدلہ نیکی سے دیا جائے اور تلخی کا جواب شیریں کلامی سے دیا جائے۔ ہاں مبلغ ان لوگوں کی بدکرداری اور سرکشی پر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون ” جزائے عمل “ یا ” پاداش عمل “ کو ضرور یاد دلاتا رہے اور آنے والے وقت کے انجام بد پر ان کو تنبیہہ کرے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی بندوں میں سے صالح (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، وہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر اس میں تمہیں بسا دیا پس اس سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ، یقین کرو کہ میرا پروردگار ہر ایک کے پاس ہے اور ہر ایک کی دعاؤں کا جواب دینے والا ہے

ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور انہوں نے توحید کا درس دیا 81 ؎ زیر نظر آیت سے صالح (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہوا اس سورة میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے تذکار میں سے یہ تیسرا تذکرہ ہے۔ ثمود قوم بھی عاد قوم کی دوسری شاخ تھی۔ ان کا مسکن حجاز اور شام کا درمیانی خطہ تھا۔ یہ لوگ ان لوگوں لوگوں نے کہا اے صالح ! پہلے تو تو ایک ایسا آدمی تھا کہ ہم سب کی امیدیں تجھ کی اولاد تھے جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے باعث بچ گئے تھے اور وہاں سے نقل مکانی کر کے اس علاقہ میں آباد ہوگئے تھے۔ یہاں آ کر وہ خوب پھیلے پھولے۔ ان کے آنے سے یہ خطہ لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور سرسبز و شاداب باغات کے باعث رشک ارم بن گیا۔ فن تعمیر میں انہوں نے خصوصی مہارت حاصل کی۔ علوم و فنون میں ترقی اور زراعت و باغبانی میں مہارت کی وجہ سے ان کی معاشی حالت بہت عمدہ ہوگئی لیکن دولت کی فراوانی اپنے جلو میں جن خرابیوں کو لاتی ہے وہ بھی پوری قوت سے ان میں نشو ونما پانے لگیں۔ ان کی اکثریت کا اپنے مالک حقیی سے رشتہ ٹوٹ گیا اور باطل خدائوں کی چوکھٹ پر جبیں سائیں کرنے لگے اور پھر عقیدہ کی گمراہی کے ساتھ اخلاق کی گر اوٹ طبعی چیز تھی اور اس طرح کرتے کرتے ان میں اتنی برائیاں پھیل گئیں جو حد و شمار سے باہر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کیلئے سیدنا صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو انہی کی قوم کے ایک فرد تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو سب سے پہلا سبق توحید ہی کا سکھانا چاہا اور برملا ان کو کہا اے میری قوم ! تمہارا معبود تو وہ ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور پھر تم کو اس میں آباد کرنے کا اہتمام فرمایا اور وہ تمام اسباب فراہم کردیئے جو تمہاری بقاء کیلئے ضروری تھے لیکن تم نے جن لوگوں کو معبود بنا رکھا ہے وہ نہ تو تمہارے خالق ہیں اور نہ ہی رزاق ہیں انہوں نے تم کو کچھ بھی نہیں دیا اور وہ بیچارے دے بھی کیا سکتے ہیں جو اپنے وجود میں اسی رب ذوالجلال والاکرام کے محتاج ہیں اور جس خالق نے تم کو پیدا کیا ہے اس نے ان کو پیدا کیا تھا۔ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے کیا کیا ؟ یہی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے اجسام کے مجسمے تراش لئے اور آج وہ تمہارے فن سنگ تراشی اور مجسمہ سازی کے مرہون منت ہیں یا اگر تم نے ان کے مجسمے تیار نہیں کئے تو ان کی قبروں پر قبے اور روضے بنا لئے تو وہ بھی تو ساری تمہاری ہی کاریگری ہے ورنہ ان کے اندر تو وہی کھائی گئی ہڈیوں کے سوا کچھ بھی نہیں وہ تمہارے آباد کرنے والے نہیں اور نہ ہی تمہاری آبادی کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ تمہارا نگہبان تو وہی تمہارا خالق ومالک ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور پھر تمہارے لئے رزق کا مکمل بندوبست فرما دیا۔ تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم اپنے خالق کی پہچان کرو اور اس کو حاجت روا سمجھو 82 ؎ صالح (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا کہ اگرچہ تمہاری زندگی کا اکثر حصہ کفر و شرک میں برباد ہوچکا ہے لیکن ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اس کی رحمت تمہاری منتظر ہے اب بھی اگر سچے دل سے توبہ کرلو گے تو تمہاری عمر بھر کی خطائوں اور گناہوں کو بخش دے گا اور جس رب کریم کو تم بہت دور سمجھتے ہو اور وہ تم کو دکھائی نہیں دیتا اس لئے تم ان کی طرف بڑھتے ہو جو تم کو نظر آتے ہیں اگرچہ وہ خود نہ سہی تاہم تم نے ان کے مجسمے اور مقبرے بنا رکھے ہیں تاکہ تمہارے تصور میں ان کی کوئی نہ کوئی تصویر اور شکل موجود رہے اور اس رب ذوالجلال والاکرام کا کوئی تصور اپنے ذہن میں نہیں بٹھا سکتے۔ یاد رکھو کہ وہ تمہارے بالکل قریب ہے۔ رگ جاں سے بھی زیادہ قریب اور مہربان اتنا ہے کہ جو مانگو گے ملے گا۔ اس کے در کرم سے تو کوئی سائل بھی محروم نہیں لوٹتا۔ تم ان مرے ہوئے اور اپنے تخیل کے بنائے ہوئے معبودوں پر فریفتہ ہو جو نہ تمہیں دیکھتے ہیں اور نہ ہی تمہارے فریاد سنتے ہیں اور اس رب کریم سے منہ موڑ رہے ہو جو تمہارے دل کی دھڑکن سے بھی اچھی طرح واقف ہے کیونکہ تمہارے دلوں کی دھڑکنیں اس کی جاری کردہ ہیں اور اس کی رضا سے تمہارے دل دھڑک رہے ہیں اور جب تک وہ چاہے گا دھڑکتے رہیں گے اور وہی ہے جو تمہاری مشکلوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

لوگوں نے کہا اے صالح (علیہ السلام) ! پہلے تو تو ایک ایسا آدمی تھا کہ ہم سب کی امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں پھر کیا تو ہمیں روکتا ہے کہ ان معبودوں کی پوجا نہ کریں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آ رہے ہیں ؟ ہمیں تو اس بات میں شک ہے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو کہ ہمارے دل میں اترتی نہیں

قوم کے لوگوں نے کہا کہ آپ پر تو ہماری بڑی امیدیں لگی تھیں لیکن تم الٹے نکل آئے 83 ؎ قوم کے لوگوں نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمیں تو تمہاری ذات سے بڑی بڑی امیدیں تھیں کہ ہماری سرداری اور پیشوائی کرو گے۔ یہ تمہیں کیا ہوگیا کہ ہمارے بزرگوں کے طریقہ کو برا کہتے ہو اور اس سے ہمیں ہٹانا چاہتے ہو ؟ اس سے معلوم ہوا کہ صالح (علیہ السلام) بچپن ہی سے شرافت و متانت کے پتلے تھے۔ ان کی ہر ہر بات سے ذہانت اور دانائی ظاہری ہوتی تھی۔ ان کا دامن حیات ہر قسم کی آلودگیوں اور کمزوریوں سے پاک تھا۔ ان کو دیکھ کر ان کی قوم کے افراد ان کے شاندار مستقبل کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیا کرتے تھے۔ وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر ہماری قومی عظمت کو چار چاند لگا دے گا۔ اس کی حکیمانہ قیادت میں ہم خوب ترقی کریں گے لیکن جب انہوں نے ان کے بزرگوں کی عبادت سے روکنا شروع کردیا جن کی عبادت مدتوں سے ان کے آبائو اجداد کرتے چلے آ رہے تھے اور اللہ رب العزت کی وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم دیا تو وہ ٹھٹھک کر رہ گئے۔ وہ صالح (علیہ السلام) کی زبان سے یہ کیا سن رہے ہیں ان کو اپنے کانوں پر اعتبار ہی نہ آ رہا تھا۔ وہ اس سوچ میں پڑگئے کہ یہ کیا ہوگیا ہے جسے ہم قومی عروج و اقبال کا ضامن سمجھتے تھے وہ تو قوم کے بنیادی عقیدہ پر کلہاڑا چلانے لگا اس سے تو قوم کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا اس طرح کی باتیں کرتے اور بڑی حیرت میں گم ہو کر کہتے کہ اے صالح ! ہم نے تو تم سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تم یہ کیا کر رہے ہو۔ غور کرو کہ ہم ان بزرگوں ، پیروں اور مرشدوں کو پکارنا چھوڑ دیں جن کو آج تک ہم اور ہمارے آبائو اجداد پکارتے چلے آ رہے ہیں ہمیں تو تمہاری اس عجیب و غریب دعوت پر یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم نے ایسی باتیں کیوں کہنا شروع کردیں تمہاری باتوں نے تو ہمیں ایک تذبذب میں ڈال دیا ہے تیری باتوں نے تو ہمارا چین ختم کردیا ہے۔ تیری باتوں سے ہمارا دل قلق کیا ہے اور ہمارا اضطراب روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے کہ ہم نے کیا سمجھا تھا اور آپ نے کیا کر کے دکھا دیا۔ ہمیں آپ کی باتوں پر ذرا بھر یقین نہیں آتا کیا آپ بہک گئے ہیں 84 ؎ ہمیشہ یہ بات دیکھی گئی ہے اور اب بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ جب کبھی ایک غیر معمولی قابلیت کا آدمی قوم میں پیدا ہوتا ہے تو لوگ اس کی قابلیت سراہتے ہیں اور اس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشوا ہوگا ، باپ دادا کا نام روشن کرے گا لیکن جب وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جو ان کے طور طریقہ کے خلاف ہوتی ہے تو وہ گردن موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں تو بالکل نکما نکلا ہماری ساری امیدیں خاک میں ملا کر رکھ دیں۔ گویا بزرگی و پیشوائی کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جو بات حق معلوم ہو اس کی لوگوں کو دعوت دی جائے بلکہ یہ ہے کہ لوگ جسے حق سمجھتے ہوں اس کی پیروی کی جائے اور پرزور طریقہ سے اس کی تائید و تصدیق کی جائے اگر اس کے خلاف کوئی بات کہے تو اس کو دندان شکن جواب دیا جائے اور لوگوں کو اس طرف دعوت دی جائے۔ آج بھی یہی کچھ ہوتا ہے اور ہو رہا ہے کہ جس گروہ اور جس فرقہ نے کوئی چیز اپنا لی ہے اور اختیار کرلی ہے خواہ وہ کتنی ہی ردی قسم کی ہو اس کے لئے کوئی دلیل بھی موجود نہ ہو لیکن علمائے امت کہلانے والے اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے نظریات کو پکا کرنے کیلئے فرضی دلائل مہیا کرتے ہیں تاکہ ان نظریات پر اپنے گروہ کو پکار رکھا جاسکے انہی علمائے گرامی کی قدر ہوتی ہے اور انہی کے لوگ گرویدہ ہوتے ہیں گویا یہ گمراہی عالمگیر گمراہی ہے جو قوم میں کل بھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے اور ساری قوموں کو یہ بیماری لاحق ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی اور قوم کے لوگوں کا کبھی شک نہ نکلا ہے اور نہ نکلے گا اور یہی وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو صالح (علیہ السلام) کی قوم کہلائے۔