11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ وقت آگیا کہ ہماری بات ظہور میں آئے اور تنور نے جوش مارا تو ہم نے حکم دیا ہر قسم کے دو دو جوڑے کشتی میں لے لے اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ رکھ مگر اہل و عیال میں وہ لوگ داخل نہیں جن کے متعلق پہلے یہ بات کہی جا چکی ہے نیز ان لوگوں کو بھی لے لے جو ایمان لا چکے ہیں اور نوح کے ساتھ ایمان نہیں لائے تھے مگر بہت تھوڑے آدمی

ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو تنور اہل پڑا ہم نے حکم دیا کہ کشتی میں سوار ہو جائو 55 ؎ نوح (علیہ السلام) کی قوم کی غرقابی کی موعودعلامت ظاہر ہوگئی اور ان کے عذاب دنیوی کا وقت سر پر آگیا ” اور تنور ابل پڑا “ اس کے اصل اور صحیح معنی صرف اس قدر ہیں کہ زمین سے پانی نے جوش مارنا شروع کیا ۔ سطح زمین یا بلند زمین سے پانی ابلنے لگا ۔ بہر حال تنور سے مراد یہ روٹیاں پکانے کا تنور مراد نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اگرچہ بارش کے دنوں میں جب بارشوں کی زیادتی ہو تو اس تنور سے بھی پانی ظاہر ہوجاتا ہے تا ہم اس جگہ یہ مراد نہیں اور نہ ہی پانی جوش مار کر ابلنے لگتا ہے بلکہ یہ تو اس موعود عذاب کے ظاہر ہونے کی صورت تھی جو علامت کے طور پر اس وقت ظاہر ہوگی ۔ سیدنا علی ؓ سے ” فارالتنور “ سے مراد صبح صادق کا وقت بھی لیا گیا ہے کہ عذاب موعود کا وہ وقت تھا اور عین وقت پر جب فجر طلوع ہو رہی تھی تو عذاب الٰہی بھی نمودار ہوگیا ۔ تعجب ہے کہ زور دار بارشیں شروع ہونے کے باوجود ان کم بختوں کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ کشتی کے چلنے کی علامات تو شروع ہوچکی ہیں اب اس وقت سے فائدہ اٹھائیں لیکن مشیت ایزدی نے ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھیں کہ وہ دیکھنے کے باوجود گویا اندھے ہوگئے۔ جب طوفان آگیا تو نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اپنی ضرورت کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اپنے ساتھ کشتی میں چڑھا لیں اور جتنی مدت الہام میں بتائی گئی ہوگی اس مدت کے اندازہ کے مطابق ان سب جانوروں اور انسانوں کی خوراک بھی تاکہ ضروریات زندگی جو حیوانات سے انسان کی وابستہ کردی گئی ہیں ان کو پورا کیا جاسکے۔ دراصل ہمارے ہاں ان واقعات کی کہنہ معلوم کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی جاتی ہے اور پھر اس کی کہنہ بیان کرنے میں جو فرضیت سے کام لیا جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ کتاب و سنت ہی کا مقام حاصل کرجاتا ہے اور پھر انہی چیزوں پر اس قدر زور دیا جاتا ہے کہ واقعہ کی اصلی حقیقت اور بیان کی ضرورت اس میں مستور ہو کر رہی جاتی ہے اور جو واقع کی روح ہوتی ہے وہ بالکل ختم ہوجاتی ہے اور جسم پر لوگ لڑتے مرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کا ایک نیا شغل شروع ہوجاتا ہے ۔ شیطان خوش ہوتا ہے کہ چلو اصل حقیقت سے تو دور ہوئے اور اب کون کیا کہتا ہے ہماری بلا سے۔ یہی صورت یہاں واقع ہوئی اس قصہ سے اصل حقیقت جو واضح کی گئی وہ تو یہ تھی کہ اس کائنات ہستی میں جو کچھ اللہ نے بنایا اور پیدا کیا ہے اس سے حتیٰ المقدور زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا اور ضروریات زندگی کی چیزوں کی حفاظت اور نگہداشت من حیث القوم لازم و ضروری ہے ۔ وقت کی ضرورت کے مطابق اپنے دفاع کا اس طرح بندوبست کرنا کہ دنیا کی دوسری قومیں اسلام پر اپنی فوقیت و برتری قائم نہ کرسکیں اور اس طرح نئی نئی ایجادات کا ایجاد کرنا قومی زندگی ہے۔ اس طرح غور و فکر کرتے جائو تم کو کتنے ہی اسباق ہیں جو اس کشتی سے ملیں گے جس کے بنانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو دیا اور پھر ان ہدایات میں ہماری زندگی کی کتنی ہدایات اور رہنمائیاں ہیں جو ان دو لفظوں میں بیان کردی گئی ہیں کہ اے نوح (علیہ السلام) ! ہر ضرورت کے جانور کا ایک جوڑا بھی کشتی میں سوار کر اور اپنے سارے گھر والوں یعنی ماننے والوں کو بھی مگر ہاں ! جن پر ہلاکت کا قلم پھر چکا ہے وہ تیرے ساتھ باوجود تیرے گھر والوں میں شمار ہونے کے سوار نہیں ہوں گے اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ چند معدودے آدمی ہی ایمان لائے تھے اکثریت تو پہلے ہی مخالفوں کی تھی ۔ اس جگہ تورات میں دو متضاد بیان دیئے گئے ہیں معلوم نہیں کہ تورات والے اس کا کیا مفہوم بیان کریں گے۔ چناچہ تحریر ہے کہ : ” اور جانوروں میں سے ہر قسم میں سے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا کہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں ۔ دو نر و مادہ ہوں اور پرندوں کی ہر قسم میں سے اور چرندوں کی ہر قسم میں سے اور زمین پر رینگنے والوں کی ہر قسم میں سے دو دو تیرے پاس آئیں کہ وہ جیتے بچیں “۔ ( کتاب پیدائش 6 : 19 ، 20) اور دوسری جگہ ہے کہ : ” کل پاک جانوروں میں سے سات نر اور ان کے مادہ اور ان میں سے جو پاک نہیں دو دو نر اور ان کی مادہ اپنے ساتھ لے لینا اور ہوا کے پرندوں میں سے بھی سات سات نر اور مادہ لینا تاکہ زمین پر ان کی نسل باقی رہے “۔ (پیدائش 7 : 2) ایک جگہ اس طرح ہے : ” دو دو نر اور مادہ کشتی میں نوح (علیہ السلام) کے پاس گئے جیسا خدا نے نوح کو حکم دیا تھا “۔ ( کتاب پیدائش 7 : 9) قرآن کریم نے ” زوجین اثنین “ کے الفاظ بیان کئے جس کا اکثر مترجمین نے ترجمہ ” جوڑوں میں سے دو دو “ کے الفاظ سے کیا لیکن ہماری تفہیم میں ” دو دو جوڑے “ کا مطلب ” ہر ضرورت کی چیز سے دو دو یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ مراد ہے کیونکہ قرآن کریم ” زوج “ جوڑے کے ہر فرد کو کہتا ہے جیسا کہ عورت کو بھی زوج کہا جاتا ہے اور مرد کو بھی زوج جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ ” و خلق منھا زوجھا “ اس سے اس کا زوج پیدا کیا اس لئے ” زوجین “ جب تثنیہ ہوگا تو اس سے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ ہوں گے اور قرآن کریم میں بھی ہے کہ ” وانہ خل الزوجین الذکر الانثی “ اس نے زوجین یعنی نر اور مادہ پیدا کئے۔ نوح (علیہ السلام) نے بحکم الٰہی ضرورت کے جانور اور اپنے لوگ کشتی میں سوار کر لئے 56 ؎ ” الا من سبق علیہ القول “ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کو یہ خبر دی گئی تھی کہ تیرے گھر والوں میں سے کوئی ایسا فرد بھی ضرور ہے جس کی ہلاکت کا حکم بھی موجود ہے اور وہ یقینا وہی ہے جو کشتی میں سوار نہیں ہوگا اور پیچھے اس بات کا اشارہ بھی گزر چکا ہے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! جو مشرک ہیں ان میں تیرے گھر والے ہوں یا غیر ان کی ہلاکت کے وقت مجھ سے مخاطب نہ ہونا یعنی کسی کی سفارش نہ کرنا اس لئے کہ جب ہمارا قانون ہلاکت نافذہوجاتا ہے تو اس میں ترمیم و تنسیخ نہیں ہوتی اس کے لئے بہت بڑی مدت رکھی گئی تھی جس سے انہوں نے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا یا کیا تو بہت ہی کم اور پھر ہمارے ہاں قلت و کثرت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ حق اور ناحق کو دیکھا جاتا ہے ۔ حق ثابت رہتا ہے اور باطل اپنے وقت پر مٹا دیا جاتا ہے۔
Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور کہا نوح (علیہ السلام) نے اب کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ کے نام سے اسے چلنا ہے اور اللہ ہی کے نام سے ٹھہرنا ہے ، بلاشبہ میرا پروردگار بخشنے والا رحمت والا ہے

نوح (علیہ السلام) ، آپ (علیہ السلام) کے لوگ سوار ہوگئے اور کشتی اللہ کے نام سے چلنے لگی 57 ؎ اس سے ایک سوال پیدا ہونا ضروری تھا کہ آیا یہ طوفان پوری دنیا پر آیا ہے یا کسی ایک علاقہ میں ؟ پھر اس سے ایک سوال یہ نکلا کہ کیا آپ نے دنیا بھر کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اپنے ساتھ لیا تھا یا وقتی ضرورت کی چیزوں کا ایک ایک جوڑا ؟ محققین کا جواب یہ ہے کہ طوفان صرف اس علاقہ میں آیا جہاں نوح (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی لیکن زیادہ تر مفسرین کا بیان طوفان کے عالمگیر ہونے کے متعلق ہی ہے لیکن کتاب و سنت سے کوئی ایسی نص پیش نہیں کی جاسکتی جس سے صراحتہ ً اس طوفان کا عالمگیر ہونا ثابت ہو ۔ ہاں ! بعض نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ” رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا “ ( اے رب ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ) لیکن ” الارض “ سے مراد آپ (علیہ السلام) کی قوم کی زمین بھی مراد لی جاسکتی ہے جیسا کہ فرعون کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہے کہ ” وان فرعون لعال فی الارض “ الارض سے مراد ساری روئے زمین نہیں بلکہ ملک مصر مراد ہے۔ اس طرح ” الکافرین “ بھی حرف بالام ہے یعنی وہ مخصوص کافر جو آپ (علیہ السلام) کی قوم سے متعلق تھے اور آپ (علیہ السلام) ان کو ایک مدت مدیر تک ہدایت کی طرف بلاتے رہے۔ پھر قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی تصریح ملتی ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی بعثت تمام عالم کیلئے نہیں تھی بلکہ صرف اپنی قوم کیلئے تھی جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” ولقد ارسلنا تو حا الی قومہ “ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ سر سید (رح) نے اس کی وضاحت نقل کی ہے اور علامہ سید آلوسی (رح) نے بھی لکھا ہے کہ والذی یمیل القلب الیہ ان الطوفان لم یکن عاما ( روح المانی) یعنی دل اس طرف مائل ہے کہ طوفان عام نہیں تھا۔ اس سے اس بات کی وضاحت خود بخود ہوگئی کہ نوح (علیہ السلام) کو دنیا بھر کے حیوانات کشتی میں لے جانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ وہ جانور اپنے ہمراہ لئے ہوں گے جن کی کشتی میں ضرورت تھی یا کشتی سے اتر کر فوری طور پر ضرورت تھی اور جن کو دور دراز کے علاقوں میں سے جو طوفان کی زد سے محفوظ تھے لے آنا مشقت اور تکلیف کا موجب تھا اور امام فخر الدین رازی (رح) بھی سورة المومنون کی آیت 27 کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ای کل زوجین من الحیوان الذی یحضرہ فی الوقت اثنین الذکر الاثنی لکی لا ینقطع نسل ذلک الحوان ( کبیر) ” من کل “ کا لفظ بھی ضرورت ہی کی ہرچیز پر بولا گیا ہے اور اس کا استعمال بھی قرآن کریم میں عام ہے۔ زیر نظر آیت ہی میں کشتی یا سواری کے جانور یا سواری کی ہرچیز پر سوار ہوتے وقت اس کے آداب کی تعلیم بھی فرما دی کہ ” بسم اللہ مجرھا و مرسھا “ کہہ کر سوار ہونا چاہئے ” مجرے “ کے معنی جاری ہونے یا چلنے کے ہیں اور ” مرسیٰ “ کے معنی رکنا اور ٹھہرنا کے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کشتی کا چلنا بھی حکم الٰہی سے ہے اور اس ٹھہرنا بھی اس کی قدرت کے تابع ہے اور یہ بھی کہ سواری چلانے والا اپنا کوئی کمال نہ سمجھے بلکہ یہ کمال الٰہی ہے کہ اس نے اس کو عقل بخشی جس سے کام لے کر وہ سواری کی چیز تیار کرسکا اور اس عقل کے ذریعہ اس کو چلا بھی سکا ۔ غور کرو کہ سواری کی چیز میں جو میٹریل استعمال ہوا وہ کس کا بنایا ہوا تھا ؟ یہ لوٹا ، لکڑی ، المونیم اور طرح طرح کی دھاتیں جن سے وہ کام لے رہا ہے کس نے بنائیں ؟ اور وہ کون ہے جس نے ان ساری چیزوں کو جوڑنے اور فٹ کرنے کی صلاحیت عطا کی ؟ یہ نجاری اور لوہار کا کام جو بہت ہی با برکت ہیں ان کی صلاحیت کس نے انسان میں رکھی ؟ ایک ایک سوال کرو اور پھر اپنے ہی ذہن و دماغ سے اس کا فیصلہ کرتے جائو تم کو معلوم ہوگا کہ سارا کمال تو اس ہی ذات رب العالمین کا ہے جس نے انسان کے عقل عطا فرما کر اشرف المخلوقات کا خطاب دیا۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور دیکھو ایسی موجوں میں کہ پہاڑ کی طرح اٹھتی ہیں کشتی انہیں لیے جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا وہ کنارہ پر تھا اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ

پانی کی موجوں میں کشتی چل رہی تھی کہ نوح (علیہ السلام) کو فرزند نظر آیا تو اس کو سوار ہونے کی دعوت دی 58 ؎ ” ایسی موجوں میں کہ پہاڑ کی طرح اٹھتی ہیں اور کشتی انہیں لئے جا رہی ہے “۔ اس آیت میں گویا طوفان کی شدت کا بیان ہو رہا ہے یعنی یہی نہیں کہ سیلاب آگیا اور وادیاں اور بستیاں ، پہاڑیاں اور اونچے ٹیلے دیکھتے ہیدیکھتے نظروں سے غائب ہوگئے۔ نہیں ! بلکہ اس میں خوفناک قسم کی تند و تیز موجیں اٹھ رہی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی کا پہاڑچلا آ رہا ہے کبھی سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر سمندر کی لہروں کا منظر دیکھا ہوگا کہ دور دور تک سطح سمندر ہموار نظر نہیں آتی بلکہ پہاڑوں کی طرح بڑی بڑی اونچی ٹھلیں اٹھتی دیکھ کر دل دہل جاتے ہیں ۔ بس کچھ اس طرح کی کیفیت ہو چلی تھی کہ نوح (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا نظر پڑا جو آپ کی رفاقت چھوڑ چکا تھا لیکن پدرانہ شفقت اپنا کام کرگئی اور آپ (علیہ السلام) نے اس کو کشتی پر سوار ہونے کی دعوت دے دی کہ اے بیٹے ! کافروں کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور توبہ کرلے اور آپ (علیہ السلام) کو بشریت کے تقاضا نے یہ بات بھلا دی کہ اب تو فیصلہ الٰہی ہوچکا ہے کہ جو ایمان لا چکا ، لا چکا اسکے بعد کوئی نہیں ہوگا جس کی یہ توفیق نصیب ہوگی۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

(نوح کے بیٹے) نے کہا میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا ، وہ مجھے پانی کی زد سے بچا لے گا نوح (علیہ السلام) نے کہا آج اللہ کی بات سے بچانے والا کوئی نہیں مگر ہاں وہی جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی ، پس وہ انہی میں ہوا جو ڈوبنے والے تھے

نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا ؟ 59 ؎ باپ نے ایسے نازک وقت میں بھی بیٹے کو ایمان کی دعوت دی اور کشتی پر سوار ہوجانے کا کہا لیکن اس بد بخت نے ایسے نازک وقت میں بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا کہ آپ فکر نہ کریں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان سے بچ جائوں گا اور وہ مجھے پانی کے زور سے بچا لے گا ۔ بیٹے نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ اس کی عقل کا فیصلہ یہی ہوا کہ کشتی پر سوار ہو کر جان بچائی نہیں جاسکتی کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور پانی اس زور سے چڑھ رہا ہے کہ کشتی بان مشکل ہی سے کشتی کو سنبھال سکے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ کشتی پورے زور سے کسی پہاڑ سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گی ۔ اس لئے اس نے یہ سمجھا کہ اس طوفان سے بچنے کے لئے پہاڑ کے اوپر چڑھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ۔ کشتی پر سوار ہونے کے لئے ایمان کی ضرورت تھی اور وہ اس کے پاس موجود نہیں تھا اور حقیقت یہی ہے کہ عقل جب وحی الٰہی کے تابع نہ رہے بلکہ کلی طور پر آزاد ہوجائے تو اس کا انجام بھی ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے بڑے بڑے لوگوں کو راہ ہدایت سے دور کردیا اکثر نے یہ سمجھا کہ دین و مذہب کے معاملہ میں عقل کی ضرورت نہیں ہے اس لئے انہوں نے ہر اس بات کو جو دین کے نام سے کی جائے عقل سے سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی اور بعض نے عقل کو اس قدر استعمال کیا کہ وہ وحی الٰہی پر عقل کو ترجیح دینے لگے اور حقیقت عقل کو وحی الٰہی کے تابع رکھنے میں مستور تھی ، ہے اور رہے گی ۔ پانی کی بہتات ہو تو کیا ہوتا ہے ؟ لیکن اگر پانی بالکل معدوم ہوجائے تو پھر کیا نتیجہ ہوگا ؟ اس لئے مان لینا چاہئے کہ زندگی کے لئے اعتدال ضروری ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے دوبارہ بیٹے کو فیصلہ الٰہی سے مطلع کیا 60 ؎ نوح (علیہ السلام) نے دوبارہ بیٹے کو مطلع کیا کہ اے نالائق و ناسمجھ ! یہ سیلاب و طوفان معمولی اور طبعی واقعہ نہیں بلکہ یہ تو عذاب الٰہی ہے۔ پہاڑوں کی کیا مجال کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے بچا سکیں ، بچنے کا تو ایک ذریعہ تھا کہ تم سچے دل سے توبہ کرتے اور رحمت الٰہی کے دامن میں پناہ لیتے۔ آپ ﷺ کا یہ کہنا بھی اس وقت شفقت پدرانہ ہی کے باعث تھا ورنہ اگر وہ توبہ کر بھی لیتا تو یقیناً اس عذاب سے نجات حاصل نہ کرسکتا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ ایک وقت تک لاک ہوچکا تھا۔ جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا گیا ہے۔ مثل ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ہمارے بعض مفسرین نے اپنی فرقہ واریت کو سہارا دینے کیلئے اس مقام کو ایسے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی حال میں درست نہ تھی اور نہ ہی اس سے وہ نتیجہ اخذ ہوتا تھا جو انہوں نے اخذ کرنے کی لاحاصل کوشش کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ : ” بعض ظاہر پرست اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی بےبسی ثابت کرنے کیلئے بطور دلیل اکثر یہ آیت پڑھتے ہیں ، انہوں نے کبھی اتنا سوچنے کی زحمت نہ کی کہ یہ عجز کس کی طرف سے ہے اگر نوح (علیہ السلام) کا بیٹا منت سماجت کرتا کہ ابا جان مجھے بچا لیجئے اور آپ (علیہ السلام) فرماتے کہ نہیں میں تمہیں نہیں بچا سکتا تو ان حضرات کا استدلال قابل التفات ہوتا۔ یہاں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپ (علیہ السلام) تو بار بار فرما رہے ہیں کہ آ جا کشتی پر سوار ہوجا ، بچ جائے گا لیکن وہ اپنی بدبختی کے باعث انکار کر رہا ہے کہ میں کشتی میں نہیں چڑھوں گا۔ “ حالانکہ جو بات بتائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ بیٹا بلاشبہ نوح (علیہ السلام) کا تھا اور نوح اللہ کے نبی و رسول تھے لیکن جب بیٹے کے اعمال درست نہ نکلے تو اس کو نوح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت بھی کچھ کام نہ آئی۔ اس لئے اس سے امت کو سبق یہ دیا گیا کہ نجات حاصل کرنے کیلئے اعمال کا درست ہونا ضروری ہے۔ حسب و نسب نجات کیلئے کافی نہیں۔ حسب و نسب کے لحاظ سے تو کنعان نوح (علیہ السلام) کا بیٹا تھا لیکن جب اس کے اعمال درست نہ تھے تو نوح (علیہ السلام) کی ولایت بھی اس کے کچھ کام نہ آئی۔ باپ بیٹے میں ابھی بات چیت ہو رہی تھی کہ پانی کے ایک ریلہ نے اس کا کام تمام کر دیا 61 ؎ نوح (علیہ السلام) بیٹے کو کہہ رہے تھے کہ آج کے دن اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں مگر وہی جس کو بچانا چاہے اور اس نے اس طوفان سے بچانے کیلئے یہ حکم دیا ہے کہ اس کشتی کے سواروں کے سوا کوئی بچ نہیں سکے گا لہٰذا جس کو وہ بچانا چاہے گا اس کو کشتی پر سوار ہونے کی توفیق ملے گی۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ پانی کا ایک ریلہ آیا اور اس مغرور اور متمرد کو تنکے کی طرح بہا کرلے گیا اور اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا ، اس لئے کہ وہ غرق ہونے والوں میں سے تھا۔ اس طوفان کا ذکر بائبل میں اس طرح ہے کہ ” اور پانی بڑھ گیا اور کشتی کو اوپر اٹھا دیا سو کشتی زمین پر سے اٹھ گئی اور پانی زمین پر بڑھا اور بہت زیادہ ہوا اور کشتی پانی کے اوپر بہتی رہی اور پانی زمین پر نہایت بڑھ گیا اور سب اونچے پہاڑ جو آسمان کے نیچے تھے چھپ گئے ، پندرہ ہاتھ پانی ان کے اوپر بڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے۔ “ (پیدائش 7 : 17 ، 21)
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم ہوا اے زمین ! اپنا پانی پی لے اور اے آسمان ! تھم جا ! اور پانی کا چڑھاؤ اُتر گیا اور حادثہ انجام پا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور کہا گیا ، نامرادی اس گروہ کے لیے ہے کہ ظلم کرنے والا گروہ تھا

زمین کو پانی نگل جانے اور آسمان کو بارش سے تھم جانے کا حکم دے دیا گیا 62 ؎ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا معاملہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کے غرق ہونے کے ساتھ وابستہ تھا ادھر کنعان ڈوبا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پانی نگل جانے کا حکم دے دیا اور اسی طرح آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا۔ اس طرح پانی اترنا شروع ہوگیا اور حکم الٰہی نافذ ہوگیا کہ نوح (علیہ السلام) کی ساری قوم سوائے ان لوگوں کے جو کشتی پر سوار تھے سب کے سب تباہ و برباد ہوگئے۔ چناچہ تورات میں ہے کہ : ” سمندر کے سوتے اور آسمان کے دریچے بند کئے گئے اور آسمان سے جو بارش ہو رہی تھی تھم گئی اور پانی زمین پر سے گھٹتے گھٹتے ایک سو پچاس دن کے بعد کم ہوا اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی اور پانی دسویں مہینے تک برابر گھٹتا رہا اور دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آئیں۔ “ (پیدائش 8 : 2 تا 5) لیکن قرآن کریم ان زوائد چیزوں کو بیان نہیں کرتا اس لئے اس میں جو بیان ہوا وہ سراسر جلال و تمکنت ہے اس کی نظیر دنیا بھر کے صحائف میں بھی نہیں ملتی اس نے نہایت سادہ اور معنی خیز الفاظ میں صرف یہ الفاظ کہنے پر اکتفا کیا کہ ” حکم ہوا اے زمین ! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا ! (پھر کیا تھا کہ) پانی کا چڑھائو اتر گیا اور حادثہ انجام پا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر رک گئی اور نامرادی اس گروہ کے حصہ میں آئی جو ظلم کرنے والا گروہ تھا۔ “ اور کشتی ایک پہاڑ کی چوٹی پر آ کر ٹھہر گئی۔ اس پہاڑ کا نام قرآن کریم نے ” جودی “ بتایا۔ یہ پہاڑی سلسلہ اراراط کے پہاڑوں میں ایک پہاڑ کی چوٹی کا نام ہے۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی اس نے کہا خدایا ! میرا بیٹا تو میرے گھر کے لوگوں میں سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ بھی سچا ہے ، تجھ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کوئی نہیں

نوح (علیہ السلام) کی مناجات بارگاہ رب ذوالجلال و الاکرام 63 ؎ نوح (علیہ السلام) نے رب ذوالجلال والاکرام کے حضور اپنی عرض اس طرح پیش کی اور کہا کہ اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا تو میرے گھر والوں ہی میں سے ہے اور تیرا وعدہ بھی بالکل سچا ہے اور تو ہر حکم کرنے والے سے اوپر حاکم ہے۔ اس طرح میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا کہ میرے بیٹے کی ہلاکت کیوں ؟ یہ التجا نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کے غرق ہونے سے پہلے کی تھی یا بعد ؟ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے۔ اگر پہلے ہو تو اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کنعان کھلم کھلا کفر نہیں کرتا تھا لیکن اس کے دل میں نفاق تھا۔ نوح (علیہ السلام) نے اس کے ظاہری اسلام کے پیش نظر یہ گزارش کی کہ بار الہا ! یہ میرا بچہ ہے ؟ اور ڈوب رہا ہے اور تو نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ میں تیرے اہل کو بچائوں گا۔ جواب دیا گیا کہ یہ تیرا بیٹا مسلمان نہیں کیونکہ اس کے دل میں کفر و نفاق ہے اس کے اعمال اچھے نہیں اس لئے اس کے متعلق مت سفارش کرو اور بعض نے کہا کہ وہ کھلا کافر تھا لیکن غلبہ محبت کی وجہ سے خیال نہ رہا اور یہ عرض کر بیٹھے ، جس پر تنبیہہ کی گئی۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ (علیہ السلام) کی یہ ندا بیٹے کے ڈوب جانے کے بعد کی تھی جو یقیناً زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس ندا کا ذکر وکان من المغرقین کے بعد ہوا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ الٰہی میرے بیٹے کے غرق ہوجانے کی وجہ کیا ہے ؟ حالانکہ وہ میرا بیٹا تھا۔ اس استفسار میں پہلے تو فوراً فرمایا کہ ” انہ لیس من اھلک “ وہ تیرے اہل و عیال سے نہیں ہے بعد میں اس کی وجہ بھی بتا دی کہ انہ عمل غیر صالح وہ بدعمل اور بدکردار تھا اور ایسے شخص کو نبوت کے پاک خاندانوں کا فرد شمار نہیں کیا جاسکتا۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت کا سبب صرف کسی نیک بندے اور بزرگ کی اولاد ہونا نہیں بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ اگر کوئی نعمت ایمان سے محروم ہے تو اس کو کسی بزرگ باپ کا بیٹا ہونا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ خواہ وہ باپ نوح (علیہ السلام) جیسا عظیم المرتبت نبی ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک نجات اور ترقی درجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہے جس کی موت کفر پر ہوئی اس کیلئے بخشش نہیں اور نہ ہی اس کیلئے کسی کی شفاعت قبول ہوگی لیکن جو ایماندار ہو گو شومئے قسمت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا رہا ہو اس کیلئے شفاعت اور بخشش کا دروازہ کھلا ہے۔ جو لوگ اس واقعہ سے انبیاء و صلحا کی شفاعت کا انکار کرتے ہیں وہ بھی حق و انصاف سے دور ہیں اور جو اس گھمنڈ میں احکام الٰہی کی نافرمانی کرتے ہیں کہ وہ فلاں بزرگ کی اولاد سے ہیں ان کی سیاہ بختی بھی دیدہ عبرت نگاہ کو خون کے آنسو رلاتی ہے۔ کیا انہیں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ جب رب ذوالجلال والاکرام کے ہر حکم کی بجا آوری ان کے بزرگ آبائو اجداد کی زندگی کا واحد نصب العین تھا جنہوں نے ایک قدم بھی تقویٰ کی راہ سے ادھر ادھر نہیں رکھا۔ ان کی اولاد ہو کر اس پروردگار عالم کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ جس کریم نے ان کے بزرگوں کی شب بدٰاریوں ، اشکباریوں ، نیاز مندیوں اور دل گدازیوں پر رحم فرما کر انہیں عزت و ناموری کے اتنے بلند مقام تک پہنچایا کیا ان کے فرزندوں کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اپنے مولا کریم کی اطاعت و بندگی کو چھوڑ کر اس کی نافرمانی کو اپنا شعار بنائیں۔ اس غلط نظریہ نے ان شریف خاندانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے شاید ہی کسی اور حادثہ نے پہنچایا ہو۔ کاش ان خاندانوں کے چشم و چراغ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور خداداد صلاحیتوں کو خدمت دین اور خدمت خلق کیلئے استعمال کریں تو وہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر کتنی بخششیں فرماتا ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ نیک اور پاکبازوں کی اولاد ، اخلاق و کردار کے لحاظ سے بہت ہی پیچھے رہ گئی۔ والی اللہ المشتکی۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ، اے نوح (علیہ السلام) ! وہ تیرے لوگوں میں سے نہیں ہے وہ تو بدعمل ہے (اور کوئی عمل بھی اس کا اچھا نہیں ہے اور وہ بدعملوں کا ساتھی ہے) پس جس حقیقت کا تجھے علم نہیں اس بارے میں سوال نہ کر میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ ناواقفوں میں سے نہ ہو جا

حکم الٰہی ہوا کہ اے نوح (علیہ السلام) وہ تیرا نہیں اس لئے کہ اس کے اعمال اچھے نہیں 64 ؎ فرمایا اے نوح (علیہ السلام) ! ہم نے تجھے اور تیرے لوگوں کو بچانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل حق ہے ” تیرے لوگوں “ سے ہماری مراد تیرا حسب و نسب نہیں تھا بلکہ تیرے فرمانبردار لوگ ہیں جو تجھ پر دل و جان سے ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کے دین کیلئے سب کچھ پیش کیا اور وہ تیرے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے۔ کیا ہم نے نہیں کہا تھا کہ تیرے فرمانبردار تیرے ساتھ کشتی میں سوار ہوں گے اور نافرمان تیری بات کو نہیں مانیں گے اب تو ہی بتا کہ کیا تیرا بیٹا تیرے ساتھ کشتی پر سوار ہوا ؟ نہیں تو آخر کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تیری تعلیم کو دل و جان سے قبول نہیں کرتا تھا اور پھر تو نے اس کو آوازیں دیں لیکن اس نے تیری ایک نہ سنی اور جب تیری نافرمانی کے باعث ہم نے اپنے وعدے کے مطابق اس کو ہلاک کردیا تو اب تجھے تعجب ہونے لگا ج کہ وہ کیوں ہلاک ہوا ؟ ہم تیرا تعجب دور کرنے کیلئے آپ کو پھر بتاتے ہیں کہ وہ اس لئے ہلاک ہوا کہ اس کے اعمال اچھے نہ تھے اور آپ (علیہ السلام) کو اے نوح (علیہ السلام) ایک بار پھر نصیحت کرتے ہیں کہ ایسی بات کے متعلق درخواست نہ کرو جس کے متعلق تم کو معلوم نہ ہو کہ آیا یہ سوال کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے ؟ گویا سوال کرنے سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ آیا وہ سوال کرنے کا سائل کو حق بھی ہے یا نہیں ؟ اور جس سے متعلق یہ فیصلہ نہ ہو سکے اس کے متعلق سوال کرنا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ وہ سراسر جہالت ہے ، اس دفعہ تو ہوا جو ہوا لیکن آئندہ یہ احتیاط لازم و ضروری ہے۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کو اور آپ (علیہ السلام) کے توسط سے سارے انسانوں
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا خدایا ! میں اس بات سے تیرے حضور پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی بات کا سوال کروں جس کی حقیقت کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور رحم نہ فرمایا تو میں ان لوگوں میں سے ہوجاؤں گا جو تباہ حال ہوئے

نوح (علیہ السلام) نے جو سوال کیا تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے معذرت کر لی 65 ؎ نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے ایسی بات کی درخواست کروں جس کا مجھے علم نہ ہو کہ آیا اس کے متعلق درخواست کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اب اگر تو نے مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں خسارہ اٹھا کر برباد ہو جائوں گا۔ غور کرو کہ بارگاہ الٰہی سے ذرا تنبیہہ ہوئی تو فوراً سراپا عجز و نیاز بن گئے اور معافی مانگنی شروع کردی۔ اللہ کے بندوں کی یہی وہ نشانی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا تعلق اللہ کی ذات سے کس قدر گہرا ہوتا ہے کہ ذرا لغزش ہوئی تو فوراً تائب ہوگئے کہ گویا استغفار کا کوئی بہانہ تلاش کر رہے تھے۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا اے نوح (علیہ السلام) ! اب کشتی سے اتر ہماری جانب سے تجھ پر سلامتی اور برکتیں ہوں نیز ان جماعتوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسری کتنی ہی جماعتیں ہیں جنہیں ہم بہرہ مند کریں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے عذاب دردناک پہنچے گا

نوح (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اب کشتی سے اتر آئو تم پر سلامتی ہی سلامتی ہے 66 ؎ اس قصہ کا خاتمہ ہونے کو ہے۔ فرمایا کہ جب طوفان تھم گیا اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی جو دی پہاڑ پر رک گئی اور زمین کا پانی زمین نے نگل لیا اور باقی ماندہ پانی نہروں ، دریائوں اور جھیلوں کی شکل میں محفوظ ہوگیا جس کے نتیجہ میں زمین انسانی رہائش کے قابل ہوگئی تو نوح (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اب آپ پہاڑ سے زمین پر اتر آئیے اور کوئی فکر نہ کیجئے کیونکہ آپ کے ساتھ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں گی یعنی آفات اور مصائب سے سلامتی اور مال و اولاد میں وسعت و برکت ہوگی۔ پھر یہ سلامتی و برکت کا وعدہ جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے کیا گیا ہے صرف آپ (علیہ السلام) کی ذات گرامی تک ہی محدود نہیں بلکہ فرمایا گیا کہ ان تمام امتوں اور جماعتوں پر جو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی و برکت نازل ہوگی۔ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو زیر نظر آیت میں ” امم “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو ” امۃ “ کی جمع ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کشتی میں سوار ہونے والے مختلف قوموں اور امتوں پر مشتمل تھے حالانکہ پہلے معلوم ہوچکا کہ کشتی میں سوار ہونے والے زیادہ تر نوح (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ تھے اور معدودے چند دوسرے مومن بھی تھے تو ان لوگوں کو مختلف امتیں اور قومیں اس لحاظ سے فرمایا گیا کہ ان کی آنے والی نسلوں میں مختلف قومیں اور امتیں ہوں گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جن ضرورت کے جانوروں کے جوڑے اپنے ساتھ سوار کئے گئے تھے انہی کو مختلف قومیں اور امتیں قرار دے کر یہ بیان دیا گیا ہو کیونکہ قرآن کریم کی زبان میں وہ بھی ساری چیزیں انسانوں ہی کی طرح امتیں کہلاتی ہیں اور اس لحاظ سے ” امم من معک “ سے وہ تمام جانوروں کی نسلوں کو امتوں کے نام سے پکارا یا یاد کیا گیا ہے اور بات دونوں طرح صحیح ہو سکتی ہے اور اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ہاں ! آیت کا آنے والا حصہ اس دوسرے مفہوم جن امتوں اور قوموں پر رحم کا اعلان کیا جا رہا ہے یہ ایک وقت تک مہلت ہے 67 ؎ اوپر کے مضمون کی مزید تشریح کی ضرورت معلوم ہوئی کہ سلامتی و برکت کے مضمون میں تفصیل کی جائے کیونکہ قیامت تک آنے والی نسل انسانی میں تو مومن بھی ہوں گے اور کافر بھی۔ مومن کیلئے تو دنیا میں بھی سلامتی و برکت نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی لیکن اس نسل میں جو کفار ہوں گے وہ تو جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ ان کو سلامتی و برکت کا عمل قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا ؟ اس لئے آخر آیت میں فرمایا ” ان جماعتوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسری کتنی ہی جماعتیں ہیں جن کو ہم بہرہ مند کریں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے عذاب دردناک پہنچے گا۔ “ گویا یہ بتایا گیا کہ دنیا کی سلامتی و برکت تو اللہ تعالیٰ کا خوان یغما ہے جس سے دوست و دشمن سبھی کھاتے پیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شریک ہوں گے جو نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں کفر اختیار کریں گے لیکن آخرت کی نجات و فلاح یہ صرف مومنوں کیلئے مخصوص ہوگی۔ کافر کو اس کے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دلا کر فارغ کردیا جائے گا۔ آخرت میں اس کیلئے بجز عذاب کے کچھ نہیں ہوگا۔