Ayah 11:18اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے ؟
29 ؎ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ یعنی یہ کہے کہ اللہ کے ساتھ خدائی اور استحقاق بندگی میں دوسرے بھی شریک ہیں یا یہ کہے کہ اللہ کو اپنے بندوں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے کوئی کتاب اور کوئی نبی ہماری طرف نہیں بھیجا بلکہ ہمیں بالکل آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جو ڈھنگ چاہیں اپنی زندگی کیلئے اختیار کرلیں یا یہ کہے کہ اللہ نے ہمیں یوں ہی کھیل کے طور پر پیدا کیا ہے اور یونہی ہم کو ختم کر دے گا کوئی جواب دہی ہمیں اس کے سامنے نہیں کرنی ہے اور کوئی جزاء و سزا کا تصور نہیں سو اس طرح کے ظالم ہیں جو رحمت الٰہی سے دور رکھے گئے ہیں اور اس کی رحمت سے دور کئے جانے کی ان کی وجہ اس طرح کی افتراء پردازیاں ہیں اور لوگوں کو اس کے ظلم کو قرآن کریم میں بہت جگہوں پر بیان کیا گیا اور ہر جگہ یہی کہا کہ ” اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے “۔ اس جگہ ہم چند ایک مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔
1۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظلم کرنے والا انسان کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں میں ان کے نام کی یاد کو روکے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو “۔ ( البقرہ 2 : 114)
2۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جس کے پاس اللہ کی ایک گواہی موجود ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ “ ( البقرہ 2 : 140)
3۔ ” اس شخص سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہوا جس نے اللہ پر جھوٹ بول کر افتراء کیا ہو اور اس طرح اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہ ہوا جو اس کی آیتوں کو جھٹلاتے۔ (الانعام 6 : 21)
4۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بول کر افتراء کرے ؟ یا کہے مجھ پر وحی کی گئی ہے اور حقیقت میں اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو ؟ اور اس سے بڑھ کر بھی کون ظالم ہوا جو کہے میں بھی ایسی بات اتار دکھائوں گا جیسی اللہ نے اتاری ہے “۔ (الانعام 6 : 93)
5۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اللہ پر افتراء پروازی کرے اور اس کے پاس کوئی علم بھی نہ ہو ؟ “ ( الانعام 6 : 144)
6۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی نشانیاں جھٹلائے اور ان سے گردن موڑے ؟ “۔ (الانعام 6 : 157)
7۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو جھوٹ بولتے ہوئے اللہ پر بہتان لگائے اور اس شخص سے بڑھ کر جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ “ (الاعراف 7 : 37)
8۔ ” پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اپنے جی سے جھوٹ بات بنا کر اللہ پر افتراء کرے اور اس شخص سے جو اللہ کی سچی آیتیں جھٹلائے “ ؟ (یونس 10 : 17)
9۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان باندھے ؟ “ (ھود 11 : 18)
10۔ ” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ کہہ کر بہتان باندھے ؟ “ ( الکہف 18 : 15)
11۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے پروردگار کی آیتیں یاد دلائیں جائیں اور وہ ان سے گردن موڑ لے اور اپنی بد اعمالیاں بھول جائے جو پہلے کرچکا “۔ ( الکہف 18 : 57)
12۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو “۔ ( العنکبوت 29 : 68)
13۔ ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے “۔ ( السجدہ 32 : 22)
14۔ ” پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جا رہی ہو “۔ ( الصف 61 : 7)
15۔ یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی کہ فرمایا ” اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء کرے ؟ یعنی مومن تو اللہ کی دلیل و حجت پر چلے جا رہے ہیں اور منکر اللہ پر افتراء کر رہے ہیں پس دونوں کی راہ ایک دوسرے سے متضاد ہوئی اور نتائج بھی متضاد ہوں گے پہلے نے اللہ کی بخشی ہوئی عقل سے کام لیا اور اس کی وحی پر ایمان لایا اور دوسرے نے عقل و بصیرت سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کی حی جھٹلائی تو ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہوئی۔
Ayah 11:19اللہ کی راہ سے روکنے والے کون ہیں ؟ وہی جو آخرت سے انکاری ہیں
30 ؎ وہ ظالم کون ہیں ؟ وہی جن کا اوپر بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا کہ وہ ہر سیدھی بات کو جو ان کے سامنے پیش کی جارہی ہو پسند نہیں کرتے اور ہر ٹیڑھی راہ ان کو پسند آتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ ٹیڑھی طبیعت کے انسان کو کہیں سدھی بات پسند ہی نہیں آتی اس لئے کہ وہ اس کی خواہشات نفس اور ان کے جاہلانہ تعصبات اور ان کے اوہام و تخیلات کے مطابق ٹیڑھی ہوجائے تو وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی حق سے متنفر کرنے کیلئے انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ حق کو اس طرح توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں کہ سننے والا ان سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس کو باطل سمجھنے لگتا ہے حالانکہ ان کے پاس اس کو باطل کر دکھانے کی کوئی دلیل نہیں ہوتی ۔ الایہ کہ اس کو کرنے والے بہت لوگ ہوتے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے کہ دیکھو ساری دنیا ایسا کرتی ہے اور یہی وہ ٹیڑھی راہ ہے جس کو وہ پسند کرتے ہیں اور آج بھی باطل پرستوں کا یہی شیوہ ہے کہ وہ اس راہ کو حق سمجھتے ہیں جس کو لوگوں کی اکثریت کرتی دکھائی دیتی ہو اس لئے کہ ان کے ہاں حق کا معیار ہی یہی ہے ۔ حالانکہ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی اس وقت سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر اختتام دنیا تک اصول خداوندی یہ رہا ہے اور رہے گا کہ اکثریت ہمیشہ غلط لوگوں کی ہی ہے اس وقت ہے اور ہمیشہ رہے گی کیوں ؟ اس لئے کہ کام کی چیز وہی ہوتی ہے جو خلاصہ ہو اور خلاصہ ہمیشہ اختصار کو کہا جاتا ہے اور ماحصل اور لب لباس ہمیشہ اپنے اصل کے مقابلہ میں بہت کم ہوتا ہے اگرچہ وہ قیمت کے لحاظ سے اکثریت کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہو۔ ایسے لوگوں کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیں اے اہل کتاب ! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے حالانکہ تم خواہ گمراہ ہو ، اچھا ! تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے “۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ سیدھی نہ رہے بلکہ اس پر کجی ڈال دیں اور آخرت کی زندگی سے بھی وہ لوگ منکر ہیں “۔ ( الاعراف 7 : 45) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور ایسا نہ کرو کہ ہر راستے میں جا بیٹھو اور جو آدمی بھی ایمان لائے اسے دھمکیاں دے کر اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی ڈالنے کے درپے ہو جائو “۔ ( الاعراف 7 : 86)
تفصیل ان آیات کی اصل مقامات سے دیکھیں جن کو حوالہ آیات کے ساتھ دیا گیا ہے۔
Ayah 11:20یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں بلکہ ان کیلئے دو گنا عذاب ہے
31 ؎ یہ لوگ دنیا میں بھی اللہ کو یعنی قانون الٰہی کو عاجز نہیں کرسکتے بلکہ محض قانون الٰہی ہی کی ڈھیل کے باعث وہ زندہ ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ دین کی کھلی دشمنی کے باوجد اس چند روز زندگی میں جو ان کا طوطی بدلتا رہا ہے اور ان کی عظمت و سطوت کا نقارہ بجتا رہا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہم سے زبردست اور طاقتور تھے اس لئے اپنی من مانی کرتے رہے۔ ایسا نہیں اگر ہم چاہتے تو ان کے بگڑے ہوئے دماغوں کو نمرود کی طرح ایک مچھر سے درست کروا دیتے اور ان کو کوئی ایسا مدد گار بھی نہ ملتا جو ان کو زبردستی ہمارے عذاب سے چھڑا لیتا بلکہ یہ ڈھیل تو ہم نے خود انہیں دے رکھی تھی تاکہ ہو جی بھر کرنا فرمانیاں کرلیں اور انہیں سخت سے سخت عذاب میں گرفتار کردیا جائے۔ ان بد بختوں کے وہ کان ہی بہرے ہوگئے تھے جو آواز حق کو سنتے ہیں وہ آنکھیں ہی اندھی ہوگئی تھیں جو نور حق کو دیکھ سکتی ہیں اور یقین جان لو کہ جو شخص بھی ہمارے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے ہم اس کو اسی طرح ڈھیل کی ماردیتے ہیں اور پھر جب ہمارا عذاب اس کو آ لیتا ہے تو اس کیلئے کوئی مدد گار نہیں ہوتا جو اس کو ہمارے عذاب سے بچا سکے بلکہ ان کیلئے دو گنا عذاب ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ ایک سزا خود اپنے کافر اور منکر رہنے کی اور دوسری ، دوسروں کو کافر و منکر بنانے کی کیونکہ وہ بھی ان ہی کا عمل تھا اور پھر ان کی یہ سزا برابر بڑھتی ہی جا رہی ہے جو ان کی دوبارہ زندگی تک بڑھتی ہی رہے گی۔
Ayah 11:21انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جن کے سہارا پر وہ جئے ہو بھی ان کے کام نہ آئے
32 ؎ کتنے بد بخت نکلے کیا ان کی اس بد بختی کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے جب ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اپنے معبود ان باطل سے بخشش اور نجات کی جو حسین توقعات انہوں نے وابستہ کر رکھی تھی وہ سب کی سب خاک میں مل گئیں ۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے لیکن ان کے معبود ان باطل کا تو کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔ اس لئے کہ انہوں نے جن کو مشکل کشا بنائے رکھا وہ اپنی ہی سمجھ کے مطابق بنائے رکھا ۔ ان مشکل کشا سمجھے گئیوں نے تو ان کو یہ حکم نہیں دیا تھا وہ ساری زندگی سراب ہی کو پانی سمجھتے رہے لیکن آخر سراب کا اس میں کیا قصور تھا۔
Ayah 11:22بلا شبہ ایسے لوگ ہی ہیں جو آخرت میں بھی خسارہ ہی میں رہیں گے
23 ؎” لا جرم “ کا مفہوم عربی زبان میں وہی ہے جو اردو زبان میں ” لا محالہ “ یا ” نا گزیر “ سے ادا کیا جاتا ہے اور جس سے کلام میں زور پیدا کرنا مراد ہوتا ہے کہ ” یہی وہ بد بخت ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے “ ۔ کیونکہ کچھ بد بخت تو وہ تھے جنہوں نے نیک اور اچھا کام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اور ان سے جو جو برائی ہوسکی وہ خوب کی لیکن ان کے مقابلے میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا وہ نیک اعمال ہی تھے کیونکہ وہ نیک سمجھ کر کرتے رہے لیکن آخر میں جب آ کر یہ راز کھلا کہ جس کو وہ نیک سمجھ کر کرتے رہے وہ تو سرا سر برا تھا اور ان کے پلے میں تو ایک بھی نیک نہیں ہے تو اس وقت جو حالت ان کی ہوگی وہ دیدنی ہوگی کیونکہ ان کا سارا کیا کرایا اکارت چلا گیا۔
Ayah 11:23رب کریم کی طرف عجز و نیاز سے جھک جانے والوں کا حال
34 ؎ ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اب ان سعادت مندوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ پہلے گروہ کے مقابلہ میں ان کے اعتقادات کیا ہیں ؟ فرمایا ان کا دستور زندگی کیا ہے ؟ ان کے دل کی کیفیت کیا ہے ؟ اس کے انجام سے آگاہ کیا گیا تاکہ سننے والے کو پتہ چل جائے کہ انہوں نے اپنے حسن عمل ، پاکئی قلب اور قوت ایمانی کی وجہ سے رحمت الٰہی کو اپنی ملتفت کرلیا ہے۔ ان کے دل کے یقین ، اعمال کے حسن اور عجز و نیاز اور سوز و گداز نے عنایات ربانی کو ان کی طرف متوجہ کردیا ہے۔
Ayah 11:24تمہاری نصیحت کیلئے ان دو فریقوں کی مثال بیان کی جا رہی ہے
35 ؎ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا ، کیا ان دونوں کا طرز عمل اور آخر کار دونوں کا انجام یکساں ہو سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو شخص نہ خود راستہ دیکھتا ہے اور نہ کسی ایسے شخص کی بات ہی سنتا ہے جو اسے راستہ بتا رہا ہو وہ ضرور کہیں نہ کہیں ٹھوکر کھائے گا اور کہیں کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوگا بخلاف اس کے جو شخص خود بھی راستہ دیکھ رہا ہو اور کسی واقف راہ کی ہدایات سے بھی فائدہ اٹھاتا ہو وہ ضرور اپنی منزل پر بسلامت پہنچ جائے گا۔ بس یہی فرق ان لوگوں کے درمیان بھی ہے جن میں سے ایک اپنی آنکھوں سے بھی کائنات میں حقیقت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رہنمائوں کی بات بھی سنتا ہے اور دوسرا نہ خود ہی اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اسے نظر آئیں اور نہ پیغمبروں اور دوسرے اللہ کے بندوں کی بات ہی سنتا ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ زندگی میں ان دونوں کا طرز عمل یکساں ہو ؟ اور پھر کیا وجہ ہے کہ آخر کار ان کے انجام میں فرق نہ ہو ؟ اس طرح زیر نظر آیت کو تمام پچھلی موعظت کا خلاصہ سمجھو ۔ فرمایا کہ دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جسے ایک اندھا بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے سننے والا کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا روشنی اور اندھیاری میں کوئی فرق نہیں ؟ کیا بصارت اور کو ری کا ایک ہی حکم ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ضروری ہے کہ دونوں کے احوال و نتائج ایک دوسرے سے متضاد ہوں اور دنیا میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ اس مثال کے بعد گزشتہ ایام و وقائع کا بیان شروع ہوگیا ہے جو فی الواقع دلائل و حجج کا ایک پورا سلسلہ ہے۔
Ayah 11:25نوح (علیہ السلام) کو ہم نے ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا
36 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) مورخین کے بیان کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے 1650 سال بعد پیدا ہوئے اور دوسرے روایات جو اس سے زیادہ قابل اعتماد ہیں ان کے مطابق 2262 سال بعد ہوئی لیکن یہ دونوں روایتیں علماء توریت کی ہیں ۔ اس طویل عرصہ میں ان لوگوں میں ہر طرح کی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں ۔ بدکاری ، اخلاقی پستی ، ظلم و سر کشی ، روز قیامت کا انکار جیسی ساری بیماریوں میں وہ مبتلا ہوچکے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دامن توحید بھی ان کے ہاتھوں سے مکمل طور پر چھوٹ چکا تھا ۔ اللہ وحدہٗ لا شریک لہ کی عبادت کو چھوڑ کر انہوں نے قوم کے لیڈروں اور مذہبی رہنمائوں اور بزرگوں کے بت بنا رکھے تھے اور ان مجسموں کو سامنے رکھ کر وہ اپنی قوم کے بزرگوں اور رہنمائوں کی پرستش کرتے تھے۔ ود ، سواع ، یعوق ، غوث اور نسر سب اسی طرح کے قوی بزرگ تھے جن کے انہوں نے مجسمے تیار کر رکھے تھے۔ اس طرح آخرت کی زندگی کا کوئی تصور ان کے ذہن و دماغ میں باقی نہ تھا۔ انہی چیزوں کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف بھیجا۔
Ayah 11:26نوح (علیہ السلام) کی تعلیم و تبلیغ بھی توحید الٰہی سے شروع ہوئی
37 ؎ نوح (علیہ السلام) نے دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلا درس توحید کا دیا اور پھر ترتیب وار درس شروع کردیئے اور قوم کی ساری بیماریوں کی ایک ایک کر کے نشاندہی فرما دی ۔ فرمایا میری قوم کے لوگو ! اللہ وحدہٗ لا شریک لہ کی عبادت کرو ، تمہارے شرکیہ اعمال دیکھ کر مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے۔ زیر نظر نوح (علیہ السلام) کا بیان ہو یا کوئی دوسری جگہ بہر حال نوح (علیہ السلام) کی قوم کا جو حال قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم نہ تو اللہ تعالیٰ کی وجود کی منکر تھی اور نہ ہی اس سے ناواقف تھی ، نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ مبتلا ہوگئی تھی وہ شرک کی گمراہی تھی یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے لیا تھا پھر اس بنیادی گمراہی سے بیشمار گمراہیاں اس قوم میں رونما ہوگئی تھیں جو خود ساختہ معبود خدائی میں شریک ٹھہرا لئے گئے تھے ان کی نمائندگی کرنے کیلئے قوم میں ایک خاص طبقہ پیدا ہوگیا جو تمام مذہبی ، سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا تھا اور اس نے انسانوں میں اونچ نیچ کی تقسیم پیدا کردی ، اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا اور اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کردیں ۔ نوح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اس کو بدلنے کیلئے ایک زمانہ دراز تک انتہائی صبر و حکمت کے ساتھ کوشش کرتے رہے مگر عامۃ الناس کو ان لوگوں نے اپنے مکر و فریب کے جال میں ایسا پھانس رکھا تھا کہ اصلاح کی کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی ۔ زیر نظر آیت میں نوح (علیہ السلام) نے قوم کو دو باتوں کا درس دیا ایک یہ کہ اللہ کے سوا اور کسی کی بندگی نہ کرو ، دوسری یہ کہ اگر تم سر کشی سے باز نہ آئے تو عذب کا ایک بڑا ہی درد ناک دن آنے والا ہے۔
Ayah 11:27قوم کے سرداروں نے نوح (علیہ السلام) کی تضحیک کی ہر ممکن کوشش کی
38 ؎ نوح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو توحید کا پیغام سنایا تو چند سلیم الفطرت لوگوں نے فوراً لبیک کہا گویا ان کی پیاسی طبیعتیں اس کی طلب میں زندہ تھیں لیکن یہ لوگ معدودے چند آدمی تھے اور ساتھ ہی کمزور و نادار بھی تھے اور وہ طبقہ جو برسر اقتدار تھا اس کو آپ کی دعوت پسند نہ آئی اس لئے انہوں نے ایک ساتھ نوح (علیہ السلام) پر اعتراضات شروع کردیئے اور آپ کے ماننے والوں پر بھی طعن وتشنیع کے تیر چلائے ۔ نوح (علیہ السلام) کے متعلق تو انہوں نے یہ کہا کہ آپ کون ہیں نبوت کا دعویٰ کرنے والے ، آپ تو ہماری طرح ایک بشر ہیں اور جس طرح کے بشر سے وہ واقف تھے اور جس قسم کی انسانیت کے وہ فرد تھے وہ تو واقعی اس قابل نہ تھا کہ اسے منصب نبوت و رسالت پر فائز کیا جاتا اور آپ کے پیروکاروں کو انہوں نے کمینہ اور رذیل ہونے کا طعنہ دیا یا ان کی نگاہیں دراصل اپنی ہی بشریت کو دیکھتی رہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ انسان بھی تو وہ مخلوق ہے کہ اگر وہ صحیح معنوں میں انسان ہو تو فرشتے اس کی گرد کو بھی نہیں پا سکتے۔ انہوں نے فقط جسمانی لحاظ سے آپ کو اپنے جیسا ایک گوشت پوست کا انسان سمجھ کر آپ کی نبوت سے انکار کردیا اور کچھ ان کو اس بات نے بھی تقویت دی کہ وہ قولی طور پر نبوت و رسالت کو بشریت سے کوئی ماوراء شے تسلیم کرتے تھے پھر انہوں نے جب ان لوگوں کو دیکھا جو نوح (علیہ السلام) سے بیعت ہوئے تھے کہ وہ سارے کے سارے مفلوک الحال اور کمزور لوگ ہیں تو ان کی جو تھوڑی ہی مت تھی وہ بھی ماری گئی کہ ان کمزور لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا اور کام کرنا ان کے ذہن میں نہ آتا تھا اور نہ ہی وہ ان کو اس طرح بیٹھنا اور شریک حال ہونا پسند کرتے تھے۔
وہ لوگ چونکہ خود اپنے آپ کو صاحب الرائے اور صاحب حیثیت ، صاحب ثروت اور باب دادا والے تسلیم کرتے تھے اور ان کمزور اور مفلوک الحال لوگوں کو غورو فکر کئے بغیر ایک بات کو ماننے والے تصور کرتے تھے گویا ظاہر بین سے رائے قائم کرنے والے ان کو سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اس تحریک کو اس لئے قبول کر گئے ہیں کہ ان کی نظر عمیق نہیں ہے اور یہ لوگ باپ دادا کی حیثیت کو نہیں سمجھتے کیوں ؟ اس لئے کہ خود بےحیثیت لوگ ہیں لہٰذا انہوں نے فقط اس وجہ سے بےعقل اور ناسمجھ لوگ خیال کیا اور پھر جب وہ نوح (علیہ السلام) کے پیرو کار بن گئے تو اس وجہ سے انہیں نوح (علیہ السلام) سے بھی نفرت ہونے لگی اور پھر رفتہ رفتہ یہ نفرت بڑھتے بڑھتے بہت ہی بڑھ گئی ۔ انہوں نے واضح طور پر نوح (علیہ السلام) کو کہہ دیا کہ تم بھی ہماری طرح ایک بشر ہو اور یہ لوگ جو تمہارے معتقد ہوئے ہیں وہ بھی خستہ حال اور سادہ لوح قسم کے لوگ ہیں جن کے ناموں تک کو کوئی نہیں جانتا ، جن کے باپ دادا سے کوئی واقف نہیں اور قوم و برداری میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے اور اس طرح ان پیشوں سے وہ وابستہ ہیں جو ہماری نظروں میں گٹھیا قسم کے پیشے سمجھے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ گھٹیا قسم کے پیشوں کے کرنے والے بھی خود گھٹیاہی ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے نزدیک آپ کو جھوٹا کہنے کی یہی دلیل کافی ہے جو سود لیلوں سے بھی زیادہ وزنی ہے۔
قوم کے سرداروں نے جو جواب نوح (علیہ السلام) کو دیا ہے اس کا ماحصل تین شقوں میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ 1۔ یہ کہ قوم کے سرداروں نے اور اونچے طبقہ کی جماعتوں نے انکار و سر کشی کی اور ایمان صرف وہ لائے جو قوم میں ذلیل سمجھے جاتے تھے۔ 2۔ مخالفین نے کہا کہ تم بھی ہماری طرح ایک آدمی ہو پھر تمہاری بات کیوں یعنی تم میں کوئی ایسا اچنبھا پایا جاتا ہو جو اور آدمیوں میں نہیں پایا جاتا یا دیوتائوں کی طرح تم بھی اتر آئے ہوتے تو تمہاری تصدیق کی جاتی ۔ بھلا انسان بھی کبھی نبی و رسول ہوتا ہے۔ 3۔ یہ کہ جو ہم میں کمینے قسم کے لوگ ہیں وہی بےسمجھے بوجھے تمہیں مان رہے ہیں ۔ پھر کیا ان بیوقوفوں کی طرح ہم بھی مان لیں ؟ علاوہ ازیں ہم ایسی جماعت کیوں کیونکر شریک ہوسکتے ہیں جہاں رذیل و شریف میں کوئی امتیاز ہی نہیں ؟
Ayah 11:28نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو جو جواب سنایا وہ یہ تھا
39 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو جواب دیا کہ لوگو ! انسان کی ہدایت تو انسان ہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے اور وہ اتناا ہی کرسکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہو۔ تم کہتے کہ میں جھوٹا ہوں لیکن بتلائو اگر تم مجھے سچا سمجھتے تو کیا اس بات کی توقع کرتے کہ میں تم کو جبراً ہدایت کی راہ دکھا دوں پھر اللہ کی طرف سے کتنی ہی واضح دلیل حق مجھے مل گئی ہو لیکن تم سمجھنے سے انکار کردو تو میں کیا کرسکتا ہوں ؟ غور کرو کہ اگر میں ایک دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے حضور سے ایک رحمت بھی مجھے بخش دی ہو یعنی راہ حق دکھا دی ہو مگر وہ تمہیں دکھائی نہ دے تو میں اس کے سوا کیا کرسکتا ہوں جو کر رہا ہوں ؟ کیا ہم جبراً تمہیں راہ دکھا دیں حالانکہ تم اس سے بیزار ہو ؟ غور کیجئے کہ نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو قوم کے سرداروں نے جھٹلایا اور آپ پر ذاتی حملے بھی کئے ۔ اس کے باوجود آپ کی جبین پر بل نہیں پڑتا اور یا قوم ( اے میری قوم) کے پیارے اور محبت بھرے الفاظ سے ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے ہیں ، ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہیں ۔ فرمایا تم مجھے اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہو ، بلا شبہ میں بشر ہی ہوں اس لئے کہ بشر ہی انسانوں کی اصلاح کیلئے بھیجا جاسکتا ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا اور زندگی بسر کرتا ہوں لیکن تم میں اور مجھ میں باوجود انسان ہونے کے ایک فرق بھی موجود ہے وہ یہ کہ مجھے روشن دلیل ( بینۃ) دی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی خصوصی رحمت سے سرفراز فرمایا ہے جس کی تمہیں ہوا تک بھی نہیں لگی ذرا سوچو کہ تم میری مثل کیسے ہوگئے لیکن افسوس کہ تمہاری نگاہوں کو اندھا بنا دیا گا اور وہ اس مقام نبوت اور رسالت کو نہیں سمجھ سکیں اور بجائے اس کے کہ تم اپنی اصلاح کی فکر کرتے تم نے میری رسالت ہی کا انکار کردیا ۔ اللہ نے مجھ پر خاص رحمت کا نزول کیا لیکن تم پر اس کی حقیقت نہ کھل سکی ۔ اچھا ! اگر تم میری دعوت کو ناپسند کرتے ہو تو مجھے کیا پڑی ہے کہ میں خواہ مخواہ تمہیں اس کے قبول کرنے پر مجبور کروں ۔ میرا کام اظہار حق تھا وہ کردیا گیا اب تم جانو اور تمہارا کام ۔ میں تم پر اپنی دعوت پیش کرسکتا تھا چناچہ وہ میں نے کردی لیکن کسی بات کو منوانا میرا کام نہیں اور نہ ہی مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
Ayah 11:29میں تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا میں اللہ کا پاغکم تم کو سنا رہا ہوں
40 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تو ایک بےغرض نا صح ہوں اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کیلئے یہ ساری مشتقیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کرسکتے جو اس امر حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لئے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو۔ تم اس طرح کے مطالبات کر کے اپنے ہی بارے میں یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں کیونکہ جو شخص اپنے فائدے اور نقصان کی بھی سمجھ نہ رکھتا ہو اس کو آخر کیا کہا جائے گا اس لئے تمہارا یہ مطالبہ کہ میں غریب لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دوں میں منظور نہیں کرسکتا اور تمہاری یہ ضد تم ہی پر چھوڑتا ہوں ۔ ہاں ! میرا ایمان ہے کہ وہ اپنے رب کو ملنے والے ہیں کیونکہ ان کے کام مجھے باور کرا رہے ہیں۔
Ayah 11:30اگر میں ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھادوں تو مجھے اس کے وبال سے کون بچائے گا ؟
41 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جن لوگوں کو ذلیل سمجھتے ہو تو میں کبھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ وہ ذلیل ہیں اور انہیں خوبی وسعادت نہیں مل سکتی ۔ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ میں گرفتار ہو جائوں ، پھر کون ہے جو اللہ کے مقابلہ کیلئے میری مدد کرے گا ؟ کیا تم اتنی معمولی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے ؟ تم میرا مذاق اڑاتے ہو ، مجھے برا بھلا کہتے ہو ، میرے دوستوں کو ذلیل و خوار قرار دیتے ہوے ان کو حقیر خیال کرتے ہو اور میں ہوں کہ تم کو پھر بھی دعوت حق دیتا چلا جا رہا ہوں ۔ کیا میں اس طرح تم سے کوئی مال بٹورنا چاہتا ہوں ؟ ہرگز نہیں ، میں تم سے کچھ نہیں مانگتا میرا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ، اس کا حکم مان رہا ہوں اور میرے اجر کا بھی وہی ذمہ داری ہے ۔ میں ان لوگوں کو ہرگز نہیں نکال سکتا جو خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے ایمان لائے ۔ یقینا وہ اپنے رب سے ضرور ملاقات کریں گے اور کان کھول کر سن لو کہ وہی لوگ ہیں جو اپنے رب سے وہ کچھ حاصل کرلیں گے جو ان ہی کے حصے کیلئے اللہ نے رکھا ہے اور رہے تم لوگ تو تم یقینا عقل سے کورے ہو۔
Ayah 11:31دیکھو ، میں تم کو یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں
42 ؎ زیر نظر آیت میں نوح (علیہ السلام) کی وہ تقریر نقل کی گئی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سب اعتراضات سننے کے بعد ان کو کچھ اصولی ہدایات دینے کیلئے ارشاد فرماء جس میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت و رسالت کیلئے وہ چیزیں ضروری نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں اس میں لوگوں کے اس خیال کی تردید مقصود ہے جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ جب اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں تو ان کے ہاتھ میں خزانے ہونے چاہئیں جن سے لوگوں کو اپنی تحریک کیساتھ وابستہ کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً خرچ کرتے رہیں ۔ نوح (علیہ السلام) نے واضح کردیا کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو متاع دنیا میں الجھائیں اور ان پر خزانے نچھاور کر کے ان کو اپنے ساتھ ملائیں اور مال و دولت کے بل بوتے پر لوگوں سے اپنا آپ منوائیں اور ساتھ ہی ان الفاظ نے ان لوگوں کے خیال کی بھی تردید کردی کہ جو بعض لوگ سمجھا کرتے ہیں کہ اللہ نے ابنیاء کرام (علیہ السلام) کو بلکہ اولیاء اللہ کو بھی مکمل اختیار دے رکھا ہے اور اللہ کی قدرت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں جس کی چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں نہ دیں ۔ تو نوح (علیہ السلام) کے اس ارشاد سے یہ واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے خزانوں کا مکمل اختیار کسی نبی کو بھی سپرد نہیں کیا ، ولی کا تو کیا ذکر ؟ ہاں ! اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور یہ بھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ہر وقت متلاشی ہوتے ہیں کوئی کام رضائے الٰہی کے خلاف نہیں کرتے۔
میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ میں غیب جانتا ہوں ہاں ! میں کہتا ہوں کہ عالم الغیب صرف اللہ ہے
43 ؎ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں کا یہ خیال بھی تھا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا رسول ہوتا ہے وہ ” عالم الغیب “ بھی ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہوتا ہے اس لئے آپ نے یہ کہہ کر ” میں نے یہ نہیں کہا کہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں “ لوگوں کی اس غلط فہمی کا بھی ازالہ فرما دیا اور اس جملہ نے واضح کردیا کہ نبوت و رسالت علم غیب کی مقتضی نہیں اور کیسے ہوتی جب کہ علم غیب حق تعالیٰ کی خصوصی صفت ہے جس میں کوئی نبی یا فرشتہ شریک نہیں ہو سکتا خیال رہے کہ جو بات کسی کو بتا دی جائے اس کو ” غیب “ کا نام نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کا نام علم ہے جو سیکھنے ، سکھانے اور سمجھنے سمجھانے کی بات ہے یہی وجہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو بذریعہ وحی بتا دیتا ہے بلا شبہ نبی اس کو جانتا ہے لیکن کسی بات کو بغیر کسی کے بتائے جاننا اور کسی کے بتانے سے جاننا اسکے فرق سے کون واقف نہیں ؟ اس طرح یہ الفاظ بھی ہماری تفہیم کیلئے استعمال ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ” عالم الغیب “ ہے اور ان الفاظ کی جو حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں اور ہرچیز کو بذاتہ جانتا ہے نہ کہ کسی کے بتانے سے اور نبی و رسول اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جتنا چاہتا ہے بتا دیتا ہے اور اس سے نہ کسی کو انکار ہے اور نہ ہی کوئی انکار کرسکتا ہے۔
نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو کہا کہ میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ میں فرشتہ ہوں
44 ؎ اس جملہ میں نوح (علیہ السلام) نے قوم کے اس نظریہ کو دوبارہ تردید فرما دی کہ نبی و رسول بشر نہیں ہوتا بلکہ کوئی مافوق ابشر چیز کا نام ہے۔ فرمایا میں نے تم کو یہ بات نہیں کہی اور نہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ میں انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہوں ۔ ہاں ! فرشتہ بلا شبہ رسول ہوتا ہے لیکن وہ رسول ہونا صرف اس انسان کیلئے ہے جس کو اللہ تعالیٰ رسالت کیلئے چن لیتا تھا اس کو پیغام پہنچانے کی جو طاقت اور قوت اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے ہاں منتقل فرماتا اس کا نام فرشتہ یا ملک ہوتا تھا اور انہی طاقتوں میں سے ایک کا نام جبرئیل (علیہ السلام) ہے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) پر پیغام الٰہی پہنچانے والا متصور ہوتا تھا اور اس فرشتہ کو اسلام کی زبان میں روح القدس بھی کہا جاتا ہے۔
جن لوگوں کو تمہاری نظریں حقیر و ذلیل دیکھتی ہیں میں نہیں کہتا کہ ان کو بھلائی نہیں ملے گی
45 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو صاف صاف یہ بات بھی سنا دی کہ جن لوگوں کو تمہاری نظریں حقیر و ذلیل دیکھتی ہیں میں تمہاری خاطر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کو کوئی خیر و بھلائی نہیں ملے گی کیونکہ خیر اور بھلائی کا تعلق اس دنیوی مال و دولت سے مطلق نہیں بلکہ ہر انسان کے قلب و ذہن سے ہے اور دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس کا قلب خیر و بھلائی کے قابل ہے اور کس کا نہیں۔ ہاں ! میں یہ بات ضرور کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ظاہر کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے اگر ان کا باطن درست ہوا اور اگر ان کا سینہ نور تحید سے فی الواقع منور ہوا تو ان کی ظاہری خستہ حالی کے باوجود وہ انہیں اپنی خیرات و برکات سے مالا مال کر دے گا کیونکہ اس کے ہاں ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کی کوئی قیمت نہیں اور دلوں کے رازوں سے وہ خوب واقف ہے۔
جو تم کہہ رہے ہو اگر میں وہی کہنا شروع کر دوں تو میں تو ظالموں سے ہو جائوں
46 ؎ اس جملہ پر غور کرو کہ ان مخاطبین کو کیا کچھ کہہ دیا اور بظاہر جو کچھ کہا وہ ان کو نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو کہا ۔ فرمایا جو ان غریب و نادار لوگوں کے متعلق تم کہتے ہو اگر میں بھی ایسا کہوں تو میں ظالم ہو گای اور ان کو بہت خوبصورتی کے ساتھ فرما دیا کہ تم ایسی بات کہہ کر بہت بڑے ظلم کے مرتکب ہوتے ہو اور جس چیز کے بل بوتے تم نے یہ ظلم کیا ہے وہ اس قدر عارضی ہے کہ اس کا پہلا پہر پچھلے سے بالکل مختلف ہے کیونکہ مال و دولت کوئی ایسی چیز نہیں جس کو ثبات ہو یا جس کے ساتھ آخرت کا کوئی خاص تعلق قائم ہو کہ جس کو وہ مل گئی اس کی آخرت سنور گئی ، نہیں بلکہ اکثر و بیشتر یہی ہوا اور یہی دیکھا گیا کہ اس نے جہاں قدم جمائے وہاں آخرت کی بربادی لازم و ضروری ٹھہری۔ الاماشاء اللہ۔
زیر نظر آیت میں جو کچھ نوح (علیہ السلام) نے قوم کے سرداروں کو کہا اس کا ایک ایک فقرہ سامنے رکھ کر غور کرتے جائو تم کو معلوم ہوگا کہ شاید یہ ہمارے زمانہ کے سرداروں ، چودھریوں ، وڈیروں ، مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں کی ایک ایک بیماری اس وقت ہماری قوم کے سرداروں اور وڈیروں میں موجود ہے اگر اس کا تجزیہ کریں گے تو بات بہت بڑھ جائے گی اس لئے آپ کی توجہ ہم نے مبذول کرا دی اب مکمل تجزیہ خود کرتے جائو تم پر ساری بات روز روشن طرح عیاں ہوجائے گی۔
Ayah 11:32قوم کے لوگوں نے کہا آپ نے ہم سے بہت جھگڑا کیا اب وہ عذاب ہم پر لے آ ، اگر تو سچا ہے ؟
47 ؎ قوم کے سرداروں نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ایک جھگڑا قرار دیا اور آپ کے لائے ہوئے دلائل و مواعظ و غور و کفر کرنے کی ذرا فکر نہ کی بلکہ فکر کرنے سے انکار کردیا اور یہاں تک سر کشی کی کہ وہ خود عذاب الٰہی کے ظہورکا مطالبہ کرنے لگے اور بر ملا کہنے لگے کہ اے نوح ! تو نے ہم سے بہت جھگڑا کرلیا ۔ ہم آپ کی باتیں سن سن کر تنگ آگئے ہیں ہم سے یہ روز روز کی فرخش برداشت نہیں ہوتی آپ جس چیز کی ہم کو ہر وقت دھمکی دیتے رہتے ہیں اس کو لے آیئے تاکہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہوجائے اگر آپ سچے ہیں تو بس اب اپنا وعدہ پورا کیجئے تاکہ ایک بات کا فیصلہ ہوجائے لیکن ان کو کیسے سمجھایا جائے کہ جس چیز کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ تو ان کی ہلاکت ہے اور اگر وہ ہلاک ہوگئے تو پھر فیصلہ الٰہی کے نافذ ہوجانے کے بعد کون سمجھے گا کہ وہ وعدہ جو نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنا رہے تھے وہ پورا ہوگیا اور دوسری بات یہ ہوئی کہ اس وعدہ الٰہی کے نفاذ کے بعد جو کچھ ہونا طے پایا وہ تو ہوجائے گا لیکن اس ہونے سے ان کو کیا فائدہ ہوا ؟ وہ تو یقینا سراسر خسارہ ہی میں رہے پھر خسارہ کا مطالبہ کرکے انہوں نے کونسا بڑا کام سر انجام دیا ؟ افسوس ! کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بخشش کے طالب ہوتے ، اس کی ہدایت طلب کرتے اور حق کی جستجو کرتے تاکہ ان کا کچھ فائدہ ہوجاتا ۔
Ayah 11:33قوم کے مطالبہ کا جواب نوح (علیہ السلام) کی طرف سے یہ دیا گیا
48 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کی باتوں کا جواب اس طرح دیا کہ لوگو ! عذاب الٰہی میرے اختیار میں کہاں ؟ اور ایسی باتوں پر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اختیار کب دیتا ہے میں تو تم کو اللہ کا پیغام سنا رہا ہوں اور وہ وہی ہے جو اس نے مجھ سے کہا ہاں ! میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ جب مناسب سمجھے گا عذاب نازل کر دے گا اور پھر تمہارے لئے کوئی راہ بھی بچ کر نکلنے کی نہیں ہوگی۔ اس طرح جو باتیں نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہوئیں بالکل وہی محمد رسول اللہ ﷺ کو پیش آئیں اور جو شبہات اہل مکہ کے سرداروں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ظاہر کئے وہی شبہات ہزاروں سال پہلے سرداروان قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت میں ظاہر کئے تھے پھر ان کے جواب میں جو باتیں سیدنا نوح (علیہ السلام) کہتے تھے بعینہٖ وہی باتیں محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی وم کے لوگوں سے کیں اور یہی باتیں آگے چل کر دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے جو قصص بیان ہوئے ان میں دکھائی گئیں کہ ہر قوم کا رویہ اہل مکہ کے رویہ سے اور ہر نبی کی تقریر پیغمبر اسلام ﷺ سے ہو بہو مشابہ ہے۔ اس بیان سے قرآن کریم مخالفین کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ انسان کی گمراہی ہر زمانے میں بنیادی طور پر ایک ہی طرح کی رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے معلموں کی دعوت بھی ہر عہد اور ہر سر زمین میں یکساں رہی ہے اور ٹھیک اسی طرح ان لوگوں کا انجام بھی ایک ہی جیسا ہوا ہے۔ یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ۔ فرمایا اگر اللہ چاہے گا تو اس عذاب کو لے آئے گا اور یاد رکھو کہ تم میں اتنی ہمت نہیں کہ اگر اس کا عذاب نازل ہوجائے تو تم اس کو روک دو تم اللہ کو کسی حال میں بھی عاجز نہیں کرسکتے۔
Ayah 11:34مشیت الٰہی کا فیصلہ تم کو تباہ کرنے کا ہو تو میں کون ہوں جو تم کو بچا سکوں
49 ؎ اللہ تعالیٰ کی رضا کسی کو گمراہ کرنے یا تباہ و برباد کرنے کی نہیں ہوتی لیکن جب انسان اپنے ارادہ و اختیار سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے خود ہی گمراہ ہونے کی کوشش کرے اور راہ راست کی طرف نہ آئے تو مشیت الٰہی میں یہ قانون طے ہے کہ مخالفین و معاندین کو ایک قوت تک ڈھیل دینے کے بعد ان کی باگیں کھینچ لی جائیں اور پھر جب مشیت الٰہی کا وہ فیصلہ نافذ ہوجائے تو کوئی ماں کا لال اس فیصلہ کو روک نہیں سکتا ۔ یہی بات نوح (علیہ السلام) نے بیان فرمائی کہ اے میرے قوم ! اگر اللہ نے تمہاری ہٹ دھرمی ، شرپسندی اور خیر سے بےرغبتی دیکھ کر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ تمہیں راست روی کی توفیق نہ دے اور جن راہوں پر تم خود بھٹکنا چاہتے ہو انہیں میں تم کو بھٹکا دے تو اب تمہاری بھلائی کیلئے میری کوئی کوشش بھی کار گر نہیں ہو سکتی ۔ میرا اور تمہارا ایک ہی رب ہے اور ہم اور تم نے مل کر اپنے اللہ ہی کے سامنے جواب کیلئے حاضر ہونا ہے۔ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی درگار بےنیاز میں بصد نیازدست بد دعا رہنا چاہئے کہ یہ سفینہ حیات خیر و سلامتی سے کنارہ پر جا لگے۔
Ayah 11:3550 ؎ یہ پیغام نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی بعینہٖ یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر یہ کلام اور یہ پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ میں نے خود گھڑ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے تو یہ جرم میرا ہے ، اس کی سزا تمہیں نہیں دی جائے گی لیکن کان کھول کر سن لو کہ یہ پیغام فی الواقع اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کا انکار کر کے جو جرم تم کر رہے ہو وہ معاف کیا جائے گا اور نہ اسے فراموش کیا جائے گا اس کی سزا تمہیں بھگتنی ہوگی لہٰذا تم اس سزا کیلئے تیار ہو جائو ۔ ہم نے اس پیغام کو تو نوح (علیہ السلام) کی طرف ہی وحی کیا گیا تسلیم کیا ہے اگرچہ سارے انبیاء (علیہ السلام) اور خصوصاً صاحب قرآن محمد رسول اللہ ﷺ کے حالات کے بھی مطابق ہے تا ہم بعض مفسرین نے اس کو براہ راست پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کے متعلق بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دراصل مکہ والوں کے اعتراضات کا جواب ہے جو اس جگہ جملہ معترضہ کے طور پر بیان کیا گیا ۔ بہر حال کہا یہ گیا ہے کہ ” لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ اس آدمی نے اپنے جی سے بات گھڑ لی ہے “ تو اس کا جواب یہ دلوایا جا رہا ہے کہ آپ یہ اعتراض کرنے والوں کو کہہ دیجئے کہ ” اگر میں نے یہ بات گھڑی ہے تو اس کا جرم بھی تو مجھ ہی پر ہے “ پھر جو جرم کرے گا وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا ۔ پھر جو جرم میں نے کیا اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا تو ظاہر ہے کہ جو جرم تم کر رہے ہو اس کا وبال بھی تم ہی پر ہوگا اور میں تو اس سے بری الذمہ ہی رہوں گا ۔ اگر بات ییھ ہے تو عنقریب اس کا فیصلہ کردیا جائے گا اور پھر بات خود بخود واضح ہوجائے گی کہ مجرم کون ہے ؟ اور جرم کس نے کیا ہے ؟
Ayah 11:36نوح (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ جو لوگ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے بس لا چکے اب فیصلہ کا وقت آنے والا ہے
51 ؎ نوح (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کی مدت جب پوری ہوگئی تو آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی اور قوم کیلئے ہر آنے والا دن گزشتہ سے بد تر ہونے لگا وہ اس طرح کہ وہ مخالفت میں بالکل چھوٹ ہوگئے اور کسی ضابطہ اخلاق کے بھی پابند نہ رہے اور دشمنی میں انہوں نے وہ بد اخلاقیاں کیں کہ جن کا ذکر بھی باعث شرم ہے۔ نوح (علیہ السلام) کو اس سے جو کو فت ہوتی ہوگی وہ ہم آپ سن بی نہیں سکتے تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو اپنے حکم خاص سے مطلع فرما دیا اور وحی نے بات واضح کرتے ہوئے آپ کو جو اطلاع دی وہ یہ تھی کہ جن کی قسمت میں دولت ایمان رقم تھی وہ ایمان لا چکے اب ان کے علاوہ اور کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا اس لئے آپ ان لوگوں کیلئے غم زدہ نہ ہوں ۔ اب مہلت کی گھڑیاں بس ختم ہونے ہی والی ہیں اور ان کی تباہی کا مقرر وقت آپہنچا ہے اور تورات میں بھی اس چیز کا ذکر جن الفاظ میں کیا گیا ہے وہ بھی قابل مطالعہ ہیں ۔ قرآن کریم کی عبارت زیر نظر آیت میں آپ نے پڑھی اور تورات کی عبارت بھی ملاحظہ فرما کر دونوں کا فرق آپ خود معلوم کرلیں ۔ چناچہ مذکور ہے کہ :
” اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال سدا برے ہی ہوتے ہیں ، تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین سے مٹا ڈالوں گا ۔ انسان سے لے کر حیوان اور رینگنے والے جانور اور ہوا کے پرندوں تک کیونکہ میں ان کے بنانے سے ملول ہوں ( پیدائش 6 : 5 تا 7)
عبارت بول بول کر کہہ رہی ہے کہ میں الہام الٰہی نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام ہوں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے انسان کے اعمال کا علم نہ تھا اس لئے اس کو پیدا کیا لیکن جب اس کے کرتوتوں سے دنیا بھر گئی تو پتہ چلا کہ یہ کتنی خطرناک مخلوق تھی اسے تو پیدا ہی نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ لیکن پیدا تو وہ ہوگیا اس لئے اب کف افسوس ملنے لگا ۔ خود سوچئے کہ یہ اسلوب بیان شان الٰہی کے شایان ہے ؟
Ayah 11:37نوح (علیہ السلام) کو کشتی تیار کرنے کا حکم اور ظالموں کے متعلق مخاطب نہ ہونے کی تلقین
52 ؎ قرآن کریم نے نوح (علیہ السلام) کو صرف کشتی بنانے کا حکم دینے کا ذکر کیا اور بعد میں کشتی پر اپنے لوگوں کو سوار کرنے کا اشارہ فرمایا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا لیکن تورات میں اس کشتی کی پوری تصویر بیان کی گئی کہ وہ کتنی لمبی ، کتنی چوڑی اور کتنی اونچی تھی ؟ وہ اس طرح ہے کہ یہ کشتی طول میں 525 فٹ عرض میں 50/ 87 فٹ اور بلندی میں 50/52 فٹ تھی ۔ چناچہ تورات میں ہے کہ ’ ’ تو اپنے واسطے گو پھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لئے بنا ۔ اس کشتی میں کو ٹھریاں تیار کرنا اور اس کے اندر اور باہر رال لگانا اور اس کو ایسی بنا کر اس کی لمبائی تین سو ہاتھ اور اس کی چوڑائی پچاس ہاتھ اور اس کی اونچائی تسر ہاتھ کی ہو اور اس کشتی میں ایک روشندان بنانا اور اوپر سے لے کر ہاتھ بھر چھوڑ کر اسے ختم کردینا اور کشتی کی ایک طرف دروازہ بنا اور نیچے کا طبقہ اور دوسرا اور تیسرا بھی بنا “۔ ( پیدائش 6 : 14 ، 16) یہ کشتی کس ساخت اور پیمانہ کی تھی اس کی جو تفصیلات بائبل میں ہیں قرآن کریم نے اس سے یکسر قطع نظر کرلی ہے اس لئے کہ ان تفصیلات سے حاصل کچھ بھی نہیں اور اس قسم کی تحقیقات کے زیادہ درپے ہوجانا کوئی مفید خدمت دین کی نہیں۔
امام رازی (رح) نے خوب فرمایا ہے کہ یہ ساری بحثیں بیکار ہیں مومن کیلئے بس اس قدر جان لینا کافی ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس وقت کی مومن آبادی اور ضروری کے جانوروں کے جوڑے اس میں سما گئے تھے
کہ قرآن کریم میں مذکورہ اسی قدر ہے ( کبیر) اور صاحب روح المعانی نے بھی بالکل اسی طرح کی تقریر کی ہے۔ باقی رہا یہ لفظ جو فرمایا کہ ” با عیننا “ سو محاورہ میں اس سے کہنا یہ ہوتا ہے کہ ہماری حفاظت اور نگرانی کے ساتھ۔
(کبیر ، روح المعانی ، ابو البقاء)
فرمایا اے میرے رسول نوح ! ایک بات یاد رکھو کہ اب مشرکوں کے متعلق مجھ سے مخاطب نہ ہونا اور نہ ہی کسی کی سفارش کرنا اس لئے کہ اب ان کے غرق ہونے کا وقت آپہنچا ہے اور جب ہمارا حکم کسی کی ہلاکت کا آجائے تو اس میں رد و بدل نہیں کیا جاسکتا نہ ہم اپنا حکم بدلتے ہیں اور نہ ہی کسی کو بدلنے کی جرأت ہے اس لئے کسی مغضوب کی سفارش نہ کرنا ۔ ایک بہت بڑی مدت ان کو ڈھیل دی گئی لیکن انہوں نے اس سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا اور اب فائدہ اٹھانے کا وقت ختم ہوگیا ۔
Ayah 11:38نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانا شروع کی اور قوم کے لوگوں نے ٹھٹھہ اور مذاق بنا لیا
53 ؎ کیا نوح (علیہ السلام) نے کشتی خود تیار کی تھی یا تیار کرائی تھی ؟ کتاب و سنت سے یہ صاف طور پر واضح نہیں ہوتا کہ آپ نے سارا کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا یا دوسروں سے کرایا ؟ خود نہیں لگے یا کہ خود ہی کام کیا اور دوسروں سے بھی کرایا ؟ اس لئے بعض مفسرین نے کشتی تیار کروانے کا بھی مراد لیا ہے اور اکثر و بیشتر مفسرین نے نوح (علیہ السلام) کا خود کشتی بنانا ہی مراد لیا ہے اور بعض نے خود کام کرنے اور دوسروں سے کام لینے کا ذکر بھی کیا ہے اور ان ساری باتوں میں کوئی تضاد نہیں ۔ آپ نجاری کا کام جانتے ہوں ممکن ہے کہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سارا کام آپ نے ہدایات الٰہی کے مطابق دوسروں سے کرایا ہو ۔ قرآن کریم نے جس طرح اس کشتی کی لمبائی ، چوڑائی اور اونچائی اور پھر اس میں مختلف کمروں اور درجوں کا ذکر نہیں کیا اسی طرح اس کا ذکر بھی نہیں کیا کہ اس کے تیار کرنے یا کرانے کی کیا صورت اختیار کی گئی اور لکڑی کون کونسی استعمال ہوئی ؟ اور وہ کہاں کہاں سے لائی گئی ؟ اسلئے کہ ان چیزوں کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی قصص قرآنی کا اصل مدعا عبرت پذیری ہے اور عبرت پذیری سے ان چیزوں اور ایسی باتوں کا کوئی واسطہ نہیں چناچہ امام فخر الدین رازی (رح) رقم طراز ہیں کہ مجھے اس قسم کے مباحث بالکل پسند نہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے فقط اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ وہ اتنی وسیع تھی کہ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، آپ (علیہ السلام) کا کنبہ اور آپ (علیہ السلام) کے پیرو کار اور جانوروں کا جو ان کی وقتی ضرورت کیلئے تھے سب کا جوڑا جوڑا اس میں سما گیا ۔ ( کبیر)
فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے اور آپ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ خصوصاً قوم کے سردار آپ (علیہ السلام) کے اس کام کے باعث آپ (علیہ السلام) کے مذاق اڑا رہے تھے۔ آپ (علیہ السلام) ان کو زیادہ سے زیادہ جو کہتے وہ یہی تھا کہ بھائیو ! ہمارا مذاق کیوں اڑاتے ہو ابھی وقت آنے والا ہے کہ سارا راز کھل جائے گا کہ تمہارا مذاق کرنا کیا ہے اور ہمارا کشتی کو تیار کرنا کیا ؟ اور یہ آج تم ہم سے مذاق کر رہے ہو یہی تمہارا مذاق کرنا کل تمہارے ساتھ مذاق ہو کر رہ جائے گا اس لئے کہ تم اس مذاق کے وبال سے دو چارہو جائو گے غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ انسان دنیا کے ظاہر سے کس قدر دھوکا کھاتا ہے۔ جب نوح (علیہ السلام) دریائی علاقہ سے بہت دور خشکی پر اپنی کشتی تیار کرا رہے ہوں گے تو فی الواقع لوگوں کو یہ ایک نہایت ہی مضحکہ خیز فعل محسوس ہوتا ہوگا اور وہ یقینا ہنس ہنس کر کہتے ہوں گے کہ بڑے میاں کی دیوانگی آخر کو یہاں تک پہنچی کہ اب آپ (علیہ السلام) ماشاء اللہ خشکی میں کشتیاں تیرا ئیں گے اور ان پہاڑوں کے ساتھ ٹکریں لگائیں گے۔
بلا شبہ اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ آسکتی ہوگی کہ چند روز بعد واقعی یہاں کشتی چلے گی ۔ وہ آپ (علیہ السلام) کے اس فعل کو آپ (علیہ السلام) کی خرابی دماغ کا ایک صریح ثبوت قرار دیتے ہوں گے اور ایک ایک سے کہتے ہوں گے کہ اگر پہلے تم کو اس شخص کے پاگل پن میں کچھ شبہ تھا تو لو اب اپنی آنکھوں سے اس کے ” بہترے “ ہوجانے کی نشانی دیکھ لو لیکن جو شخص حقیقت کا علم رکھتا تھا اور جسے حکم الٰہی سے معلوم تھا کہ کل یہاں اس کشتی کی کیا ضرورت پیش آئے گی اسے ان لوگوں کی جہالت اور بیخبر ی پر اور پھر ان کے احمقانہ اطمینان پر الٹی ہنسی آئی ہوگی یا کم از کم افسوس تو یقینا ہوگا کہ آنے والے کل کو جب یہ لوگ اپنے اس مذاق کی زد میں خود آئیں گے تو ان کی حالت بھی کیسی دیدنی ہوگی ؟ وہ بھی اپنے اس علم کی بناء پر یہ کہتا ہوگا کہ کس در نادان ہیں یہ لوگ کہ یہ شامت ان کے سر پر تلی کھڑی ہے ، میں انہیں خبردار کرچکا ہوں کہ تمہاری شامت بس آیا ہی چاہتی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس سے بچنے کی تیاری بھی کر رہا ہوں مگر یہ کتنے مطمئن بیٹھے ہیں اور انجام سے خود تو غافل تھے ہی لیکن میرے بتانے سے بھی وہ ٹس سے مس نہیں ۔ اس معاملہ میں اگر فی نفسہ گہرائی میں اتر کر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے ظاہر و محسوس پہلو کے لحاظ سے عقل مندی و بیوقوفی کا جو معیار مقرر کیا جاتا ہے وہ اس معیار سے کس قدر مختلف ہوتا ہے جو علم حقیقت کے لحاظ سے ” علم “ قرار پاتا ہے کہ بعض اوقات ظاہر بیس آدمی جس چیز کو انتہائی دانش مندی سمجھتا ہے وہ حقیقت شناس آدمی کی نگاہ میں انتہائی بیوقوفی ہوتی ہے لیکن اس جگہ حقیقت شناس آدمی سے ہماری مراد اللہ تعالیٰ کا رسول (علیہ السلام) ہے اور جب تک رسالت کا سلسلہ جاری تھا رسول (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لانا اس لئے ایمان بالغیب کا مسئلہ ٹھہرایا گیا تھا رسالت کا منصب ختم ہونے کے بعد درجہ رسالت کا ایمان کسی غیر رسول کے ساتھ رکھنا بذاتہ شرک فی الرسالت ہے اور ہمارے اس بیان میں ظاہر بیں سے مراد وہ لوگ ہیں جو منصب رسالت کے ساتھ منکر تھے اس وقت نہ رسالت کا منصب موجود ہے اور نہ ہی اس کے انکار کا کوئی مسئلہ در پیش ہے اس جگہ اس مضمون کے بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے منصب رسالت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آپ کی ہدایات یعنی سنت سے آزاد رہنا چاہتے ہیں ان کی مثال بالکل ان ظاہر بینوں ہی کی سی ہے جن کا اس جگہ بیان ہو رہا ہے۔
Ayah 11:39وہ وقت دور نہیں جب اس بات کا فیصلہ کردیا جائے گا کہ دائمی عذاب میں کون گرفتار ہے ؟
54 ؎ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں اور وڈیروں کیلئے ایک عذاب وہ تھا جو چند ہی دنوں کے بعد طوفان و
طغیانی کی صورت میں آنے والا تھا اور ایک عذاب وہ ہے جو اس دنیوی زندگی کے ہاتھ سے نکل کر آخرت کی زندگی کے پنجہ کے بعد شرع ہونے والا تھا۔ بلا شبہ اس دنیا کا عذاب بھی عذاب ہی ہے اور اس دنیا کے عذاب سے بھی رسوائی لازم ہے لیکن یہاں جو مراد لی گئی ہے وہ آخرت ہی کا عذاب ہے جو اس زندگی کے خاتمہ کے بعد شروع ہوگا ۔ اس لئے کہ اس زندگی کے ختم ہونے کے ساتھ تو پوری قوم کی قوم کا خاتمہ تھا سوائے چند معدودے آدمیوں کے جو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے لیکن جب پوری قوم کی قوم اس عذاب میں پھنس کر ہلاک ہوجانے والی تھی تو پیچھے عبرت پکڑنے والا کون تھا ؟ اور ان کی رسوائی کن لوگوں کی آنکھوں میں دکھائی دے گی جب کہ دیکھنے والی کوئی آنکھ ہی باقی نہ رہی ۔ اس لئے یہاں رسوا کرنے والے عذاب کا تعلق عالم برزخ اور عالم آخرت ہی کے ساتھ سمجھنا چاہئے اور وہی اصل عذاب تھا جو نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا باعث ہوا اور ان کی صرف دنیا ہی برباد نہ ہوئی بلکہ آخرت بھی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔