Ayah 11:63صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو میں اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں ؟
85 ؎ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کی باتیں بڑے غور سے سنیں اور اچھی طرح سمجھ کر ان کو جواب دیا اور فرمایا میری قوم کے بزرگو ! تم غور نہیں کرتے کہ اگر ایک شخص پر اللہ نے علم و بصیرت کی راہ کھول دی ہو اور وہ دیکھ بھی رہا ہو کہ سچائی وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھ رکھی ہے تو پھر کیا محض لوگوں کے پاس خاطر سے اس کا اظہار نہ کرے ؟ اچھا بتلائو اگر وہ حکم الٰہی سے سرتابی کرے تو کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ سے اسے بچا لے گا اگر میں محض اس خیال سے کہ تمہاری امیدوں کو ٹھیس نہ لگے سچائی کا اعلان نہ کروں تو اس کا مطلب کیا نکلے گا ؟ یہی نکلے گا کہ میں اپنے آپ کو تباہی میں ڈال دوں اور ذرا تم بھی غور کرو کہ مجھے کیا کہہ رہے ہو اور کیا منوانا چاہتے ہو ؟
معلوم ہوتا ہے کہ صالح (علیہ السلام) کا تعلق بھی کسی کھاتے پیتے گھرانے ہی سے تھا اس لئے پہلے تو لوگوں نے بڑی منت سماجت کی ہوگی اور اپنی توقعات اور امیدوں کا واسطہ دیا ہوگا کہ آپ اس انوکھی قسم کی دعوت سے باز آجائیں لیکن جب ان باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہ ہوا تو پھر ذرا ڈرا دھمکا کر آپ کو رام کرنے کی کوشش کی ہوگی انہیں کی ترغیب و ترہیب کے جواب میں آپ نے فرمایا ہوگا کہ اے قوم کے لوگو ! مانا کہ تم کو نور ہدایت نظر نہیں آ رہا لیکن میں تو دیکھ رہا ہوں کہ آفتاب صداقت ضوفشاں ہے میری آنکھ کو تو اپنے رب کریم کی وحدانیت اور کبریائی کے جلوے قدم قدم پر نظر آ رہے ہیں پھر میں کیسے ان تابندہ حقائق کا انکار کرسکتا ہوں ، مجھے اس نے اپنی بےپایاں رحمتوں سے نوازا ہے میں ان کی ناشکری کی کیسے جرأت کرسکتا ہوں اگر تم کور چشم ہو تو میرے پاس اس کا کیا علاج ہے ؟ ان حقائق کو بےنقاب دیکھ کر میں صرف تمہاری خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ان کا انکار کر دوں تو اگر میرے رب نے مجھے پکڑ لاق تو کیا تم میں سے کسی میں اتنا دم خم ہے کہ وہ مجھے اس سے چھڑا لے اگر تم میری دعوت قبول کر کے اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے بچانا نہیں چاہتے تو میرے حال پر تو ترس کھائو اور مجھے اپنے ساتھ غرق ہونے پر مجبور نہ کرو۔
کیا تم مجھے تباہی کی طرف لے جانا چاہتے ہو ؟ کیا یہ میری خیر خواہی ہے ؟
86 ؎ صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم کو اللہ کا پیغام سناتا ہوں جس کو تم سننے کیلئے تیار نہیں ہو اور الٹا مجھے خیر خواہ بن کر سمجھا رہے ہو کہ میں ان بزرگوں اور پیشوائوں کی باتیں مان لوں جو تم نے خود ہی گھڑ لی ہوئی ہیں اور ان کے ذمہ لگا دی ہیں۔ میں ان کو کیسے مان سکتا ہوں ؟ کیونکہ میرا تو ان باتوں کو ماننے میں سراسر نقصان ہے۔ مجھے ایسی نادان دوستوں کی نصیحتوں کی ضرورت نہیں جو اپنی بےسمجھی سے مجھے بھی راہ حق سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے مالک حقیقی کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کریں مجھے سیدھی راہ سے ہٹا کر الٹی راہ چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 11:64میری قوم کے لوگو ! یہ اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے اس کا خیال رکھنا ضروری ہو گا
87 ؎ جیسے آپ پچھے سورة الاعراف کی آیت 73 میں پڑھ چکے کہ پالتو جانوروں کو اللہ کے نام پر چھوڑنے کا طریقہ بہت قدیم سے چلا آ رہا ہے چناچہ بابل اور ہندوستان میں اس کا سراغ ہزاروں برس پیشتر تک ملتا ہے لیکن اس سے لوگوں نے اپنے اپنے بزرگوں ، پیروں اور مرشدوں اور ان کی بتوں اور خانقاہوں کے نام سے بھی جانور چھوڑے جو دوسرے شرکوں کی طرح ایک قسم کا شرک ہی تھا۔ بہرحال صالح (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس اونٹنی کو جس پر سوار ہو کر وہ اپنی قوم کی بستیوں میں تبلغق کرتے تھے اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور قوم کو سمجھایا کہ یہ اونٹنی اس معاملہ میں تمہارے لئے اتباع حق کی آزمائش ہے اگر تم نے اس کوئی ضرر پہنچایا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تم اللہ کے سامنے جھک گئے ہو اور تم نے دل سے اس کو تسلیم کرلیا ہے اور اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچائی تو پھر تم کو عذاب الٰہی اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور پھر جو کچھ حکم الٰہی میں ہے وہ ہو کر رہے گا۔ صالح (علیہ السلام) نے اس اونٹنی کو اللہ کے حکم سے بطور نشانی ٹھہرا دیا لیکن تعجب یہ کہ اس اونٹنی کو لوگوں نے بعد میں کچھ سے کچھ بنا دیا اور بےسروپا باتیں اس کے متعلق بیان کرنا شروع کردیں۔
جیسا کہ روایات میں آتا ہے اونٹنی کو ہلاک کرنے والا تو ایک ہی شخص تھا لیکن اس کو تائید پوری قوم کی حاصل تھی اور وہ اس کی حرکت پر رضامند تھے اس لئے اس کی سزا بھی صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ پوری قوم کو ملی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر کسی سرکش اور نافرمان کو قوم کی تائید و حمایت حاصل ہو تو ساری قوم مجرم قرار دی جاتی ہے اور سبھی کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور وہ مر گئی اور ساری قوم اپنی بدبختی کے انجام کو پہنچ گئی۔ تفصیل اس کی سورة الاعراف آیت 78 میں کی گئی ہے اور اس کا مزید مختصر مگر جامع ذکر تذکرہ صالح (علیہ السلام) میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو ابھی قریب اس ذکر کے بعد کردیا جائے گا۔
Ayah 11:65قوم ثمود کے بدبختوں نے اس اونٹنی کی ٹانگیں کٹوا دیں اور خود بھی نتیجہ سے دوچار ہو گئے
88 ؎ صالح (علیہ السلام) کے منع کرنے سے وہ لوگ ضد میں آگئے اور ضد میں آ کر انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اگرچہ یہ کام کرنے والا ایک ہی بدبخت تھا لیکن پوری قوم کی مدد اس کے ساتھ تھی۔ انہوں نے جو کچھ کرنا چاہا کرلیا تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ میں نے تو تم کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن تم نے وہ کام کر دکھایا جس کے بعد مزید ڈھیل تم کو شاید نہ دی جاسکے تاہم اللہ کے حکم سے ہی آپ کو کہتا ہوں کہ اب صرف تین دن آپ کو مزید انتظار کرنا ہوگا یہ بھی تمہارے لئے آخری ڈھیل ہے اگر تم نے اس ڈھیل سے بھی فائدہ حاصل نہ کیا تو تمہارا کام تمام کردیا جائے گا صرف تین دن ہیں اور یہ وعدہ ایسا ہے کہ کبھی جھوٹا نہیں ہوگا یہ کہہ کر صالح (علیہ السلام) اس انتظار میں رہے کہ شاید بدبختوں کو اب ہی سمجھ آجائے لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانا کرتے ہیں۔ جب تین دن گزرنے کو تھے تو صالح (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت کر گئے تو پھر دما دم مست قلندر ہوگیا۔
Ayah 11:66ہم نے صالح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور رسوائی سے بچا لیا
89 ؎ ” پھر جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی ہمارے قانون میں جو ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا جب وہ آگیا تو ان پر عذاب نازل ہوا جس نے کفار کو موت کی نیند سلا دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و رسول صالح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اس تباہ کن عذاب سے بھی محفوظ رکھا کہ ان کو وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم دے دیا گیا تھا لہٰذا ان کو ایک خراش تک بھی نہ آئی اور دوسرا ان کو شرمساری سے بھی بچالیا کیونکہ اگر آپ کے کہنے کے مطابق عذاب نہ اترتا تو آپ کو کتنی خفت اٹھانی پڑتی۔ کافر تالیاں بجاتے ، آوازیں کستے اور ان کی اذیت رسانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا لیکن ایسا کیوں ہوتا جب کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا وقت طے پر فیصلہ ہونا طے تھا۔
Ayah 11:67ظالموں کو ایک ہی روز کی کڑک نے آ لیا اور صبح ہونے سے پہلے ان کا کام تمام ہو گیا
90 ؎ تین دن گزر گئے اور وہ مدت پوری ہوگئی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے نزول کیلئے مقرر کی گئی تھی اور جس نے کفار و مشرکین کو موت کی نیند سلا دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اس کے ساتھیوں کو اس تباہ کن عذاب سے مکمل طور پر بچالیا اور ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اس طرح وہ عین وقت سے پہلے ہی وہاں سے نکال لئے گئے اور ان کو شرمساری سے بھی بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کر کے رہتا ہے اس لئے کہ وہ بہت ہی قوت والا اور عزت والا ہے۔ وعدہ خلافی کمزدوروں سے ہوتی ہے اور اللہ کے سامنے ساری دنیا کمزور ہی ہے اس لئے کہ اس کی طاقت کے سامنے کسی کی طاقت نہیں کام دیتی اور جس رسوائی اور شرمساری سے اللہ نے صالح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بچایا وہ دنیا کی رسوائی و شرمساری بھی ہے اور آخرت کی خواری و شرمساری بھی۔