26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 26:201–213

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ عذاب دردناک نہ دیکھ لیں گے

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

پھر جب وہ (عذاب) اچانک ان کے سامنے آجائے گا اور ان کو اس (کے آنے) کی خبر بھی نہ ہوگی۔

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

تو (چلا اٹھیں گے اور) کہیں گے، '' کیا (اب) ہمیں مہلت مل سکتی ہے ؟ ''۔

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تو کیا یہ (لوگ) ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں۔

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

کیا تم نے (اس پر) غور کیا کہ اگر ہم برسوں ان کو (دنیوی) فائدے اٹھانے (بھی) دیں۔

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر جس (عذاب) کا ان سے وعدہ ہے وہ ان پر آجائے۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو جو (دنیوی) فائدے انہوں نے اٹھا لئے (اب) ان کے کیا کام آئیں گے ؟۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور (دیکھو) ہم نے (منکرین کی) جتنی بستیاں غارت کی ہیں سب میں خبردار کرنے والے (پیغمبر حق موجود) تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کرنے کو اور ہم ظالم نہ تھے۔

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اس (قرآن) کو (جیسا یہ منکرین خیال کرتے ہیں) شیاطین لے کر نہیں اترتے ہیں۔

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

وہ نہ اس قابل ہیں اور نہ یہ ان کے بس کی بات ہے۔

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

بیشک وہ تو (وحی کی) سماعت سے بھی دور رکھے گئے ہیں۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارنے لگنا ورنہ تم بھی مبتلائے عذاب کئے جانے والوں میں ہوجاؤ گے۔

[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Ayahs 26:214–218

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ۔

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو لوگ بھی ایمان لا کر تمہاری پیروی کریں ان سے بہ تواضع پیش آؤ۔

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو (ان سے صاف) کہہ دو کہ میں تمہارے افعال سے بری (الذمہ) ہوں۔

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس زبردست اور ہمیشہ رحم کرنے والے پر بھروسہ رکھو۔

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے جس وقت تم اٹھتے ہو۔

[36] اٹھنے سے مراد نماز کے لئے بھی اٹھنا ہوسکتا ہے اور تبلیغ رسالت کے لئے اٹھنا بھی۔
Ayah 26:219

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور سجدہ گزار لوگوں میں (بھی) تمہاری حرکات و سکنات کو دیکھتا ہے۔

[37] یعنی جب تم جماعت کی نماز میں نقل و حرکت یعنی سجدہ و رکوع کرتے ہو، یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی معیت میں لوگوں کی اصلاح کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہو۔
Ayahs 26:220–223

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں سے کہو کہ) میں تمہیں بتاؤں شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں ؟۔

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر جھوٹے بدکار پر اترا کرتے ہیں۔

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

سنی سنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

[38] یعنی شیاطین فرشتوں سے کچھ سن گن لے کر اس میں بہت سا جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ یہ کفار کے اس الزام کا جواب ہے کہ وہ نبی ﷺ کو کاہن کہتے تھے۔
Ayahs 26:224–226

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور (یہ پیغمبر شاعر بھی نہیں جیسا کہ یہ منکرین خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ) شاعر (تو خود گمراہ ہوتے ہیں اور) ان کی پیروی بھی گمراہ (لوگ ہی) کرتے ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ (شاعر خیالی باتوں کے) ہر ایک میدان میں سرگرداں پھرا کرتے ہیں۔

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور ایسی باتیں کہا کرتے ہیں جو خود نہیں کرتے

[39] یعنی شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا۔ وہ عصمت و عفت کی قصیدہ خوانی کرے گا اور خود انتہا درجے کا بدچلن اور سیہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک و قوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ شاعروں کی یہ خصوصیت نبی ﷺ کے طرزعمل کی عین ضد تھی۔ آپ کے قول و فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گردوپیش معاشرے میں کوئی شخص بھی انکار نہ کرسکتا تھا۔ لہذا کفار کا آپ ﷺ کو شاعر کہنا حقیقت کے خلاف تھا۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

ہاں مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو اس کا (واجبی) بدلہ لے لیا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کیسی جگہ ان کو لوٹ کر جانا ہے۔

[40] یہاں ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو مومن اور نیک کردار ہوں، اپنے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور نیکی کی تبلیغ کرتے ہوں، جذبہ دینی کو ابھارتے ہوں اور اسلام کی ہجو کرنے والوں کا احسن طریقے سے جواب دیتے ہوں۔ شاعرِدربار نبوت حسان بن ثابت ؓ ، مولانا روم اور علامہ اقبال کی شاعری اسی طبقے میں آتی ہے۔