6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsسراج البیان

Ayahs 6:155–156

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب ہے (یعنی قرآن) ہم نے نازل کی برکت والی ہے ، سو تم اس پر چلو ، اور ڈرو ، شاید تم پر رحم ہو (ف 1) ۔

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے صرف دو ہی فرقوں (یہودونصاری) پر کتاب نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے ۔

(ف 1) قرآن حکیم کتاب مبارک ہے یعنی اس کے استفادے سے خیروبرکت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں ، اور یہ خوش اعتقادی نہیں ، حقیقت ہے جب بھی اس پر عمل کیا گیا ہے ، اس نے اپنے معجزات وخوارق سے دنیا کو حیران کردیا ہے ۔ آج جس قدر زندگی جس قدر روشنی اور بیداری نظر آرہی ہے یہ قرآن ہی کا طفیل ہے ۔ حل لغات : دراسۃ : پڑھنا مطالعہ کرنا ۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم یہود ونصاری زیادہ ہدایت پر ہوتے سو اب تمہارے رب سے تمہارے پاس دلیل آگئی ہے اور ہدایت ورحمت ، سو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ، سو عنقریب ہم انکو جو ہماری آیتوں سے منہ موڑتے ہیں ان کے منہ موڑنے کے بدلے میں برے عذاب کی سزا دیں گے (ف 1) ۔

(ف 1) قرآن بینہ بھی ہے اور ہدایت ورحمت بھی یعنی دلائل وبراہین کا مجموعہ ہے ، رشدو ہدایت کا مرقع ہے ، اور رحمت ایزدی کا اعلان اس کے بھی اگر کوئی شخص تکذیب کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے ۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا یہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ، یا تیرا رب ان کے پاس آئے یا کوئی نشانی تیرے رب کی ظاہر ہو (حالانکہ) جس دن تیرے رب کی ایک نشانی ظاہر ہوگی کسی کو اس کا ایمان مفید نہ ہوگا ، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا ، یا اپنے ایمان میں پہلے سے کچھ بھلائی نہ کی تھی ، تو کہہ راہ تکتے رہو ، (ف 2) ۔ ہم بھی راہ تکتے ہیں ،

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اس درجہ وضاحت و تفصیل کے بعد بھی جو نہیں مانتے کو کیا فرشتوں کا انتظار ہے کہ آئیں اور ان کی روحوں کو قبض کرلیں یا عذاب الہی کے متوقع ہیں ، یا یہ چاہتے ہیں کہ قیامت آجائے ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب قیامت آگئی تو اس وقت کا پچتانا کام نہیں آئے گا ، (آیت) ” اویاتی ربک “ سے مجازا عذاب الہی مراد ہے ، یعنی خدا اپنی قوتوں کے ساتھ آئے ، جاہ و جلال کا مظاہرہ کرے اور انکو چشم زدن میں غارت کر دے ۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں ‘ اور کئی فرقہ ہوگئے ، تجھے ان سے کیا کام ، ان کا معاملہ خدا کی طرف ہے پھر وہ انہیں جتائے گا جو وہ کرتے تھے (ف 3) ۔

فرقہ بندی منظور نہیں !: (ف 3) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ آئیں اور خدا کے مقدس نام پر سب کو جمع کر جائیں اس لئے طبعا انہیں گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوجانا پسند نہیں ، وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ توحید کے مضبوط رشتہ کو عملا تھام لیں ، سب ایک ہوجائیں ، ان کی ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفاد فنا ہوجائیں تمام کائنات انسانی ایک وحدت ایک نظام اور ایک رنگ میں نظر آئے سب خدا کے پرستار ہوں ، سب کا مقصد اللہ کے دین کی پیروی اور فرمانبرداری ہو ، کوئی اختلاف اور کوئی امتیاز باقی نہ رہے ، اس آیت کا یہی مقصد ہے کہ حضور ﷺ کو فرقہ بندوں سے کچھ تعلق نہیں ، حضور ﷺ نسل انسانی کو ایک مرکز توحید پر اکٹھا کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں مگر تعجب یہ ہے کہ آج حضور ﷺ ہی کی ذات مختلف گروہوں اور جماعتوں میں منقسم ہے ۔ حل لغات : یصدفون : شدید اعراض کو صدف کہتے ہیں ، غالبا صدف ” بعیر سے مستفاد ہے جس کے معنی اونٹ کی ایک ٹانگ کے ٹیڑھا ہوجانے کے ہیں ۔ بہاؤ کے پہلو کو صدف الجبل سے تعبیر کرتے ہیں ، بہرحال شدت اعراض یا سخت کجروی کے معنی ہیں ۔
Ayahs 6:160–162

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جس نے نیکی کی ، اس کے لئے دس گنا ہے اور جس نے بدی کی ، وہ صرف بدی کے برابر سزا پائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا ، (ف 1) ۔

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

تو کہہ ، میرے رب نے مجھے سیدھی راہ سوجھائی ہے ، صحیح دین ملت ابراہیم (علیہ السلام) جو ایک طرف کا تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا ،

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

تو کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا ، اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کیلئے ہے ،

(ف 1) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدرجہ غایت کرم فرما اور رحیم ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور کوئی نفس انسانی جہنم کی آگ میں نہ جلے نیکیوں کا دس گنا بڑھ جانا تو ایک شکل ہے اس کے التفات سامی کی ورنہ دراصل اس کا ارادہ ہی یہ ہے کہ اس کے بندے رحمت و بخشش کے فیضان عظیم سے محروم نہ رہیں ۔
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے یہی حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف 2) ۔

معیار حیات کی بلندی : (ف 2) ان آیات میں زندگی کا جو معیار اور نصب العین پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کشاکش حیات کا ہر نشیب و فراز تگ ودو کی ہر قسم اور قربانی کی ہر شکل اللہ کے لئے مختص ہو ، مسلمان کا جینا اور مرنا اللہ کے لئے ہو ، اس کی عبادتیں اور نمازیں رب العزت کے لئے وقف ہوں ، اس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لئے ہو ، اللہ کے دین کے لئے ہو ، یعنی مسلمان کی اللہ سے الگ کوئی زندگی نہیں کوئی انفرادی خواہش نہیں ، کوئی ذاتی مطالبہ اور مفاد نہیں ، یہ خلوص و احسان کا آخری مقام ہے ، توحید تفرید کا صحیح مطلب ہے اور خدا پرستی کا سچا اظہار ہے ، یہ نہیں ، تو سمجھ لیجئے ریا کاری ہے اور فریب : حل لغات : قیما : وہ نظام حیات جو امور دین اور امور معاد کے لئے بطور قوام و اساس کے ہو ،
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

تو کہہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ‘ اور وہ ہر شئے کا رب ہے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے ، اور کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ، سو وہ تمہیں جتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے (ف 1) ۔

ذاتی ذمہ داری کا احساس : (ف 1) قرآن حکیم نے مذہب کا جو تخیل پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص بجائے خود ذمہ دار ہے ، کفارہ اور مشرکانہ شفاعت غلط ہے تناسخ باطل ہے ، کیونکہ ہر شخص ہر ذات اور ہر تعین اپنے احساسات اور اعمال کا کفیل ہے ، (آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ بالکل حقیقت نفس الامری ہے ۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور اسی نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ، اور بعض کے درجے بعض پر بلند کئے ، تاکہ اپنے دیئے ہوئے میں تمہیں آزمائے بیشک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 2) ۔

(ف 2) اس ایک آیت میں تین حقائق کی جانب اشارہ ہے ، 1۔ یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے مسلمان کو خلعت خلافت دے کر بھیجا ہے ۔ 2۔ یہ ایک صداقت ہے کہ باہمی امتیاز اور تفاضل موجود ہے ۔ 3۔ یہ ایک سچائی ہے کہ خدا یہاں مجرموں کو سزا دیتا ہے وہاں نیک اور صالح بندوں کے لئے انتہا درجہ کا کرم فرما بھی ہے ۔