6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsسراج البیان

Ayahs 6:116–118

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر تو انکی مانے گا جو دنیا میں بکثرت ہیں (یعنی کافر) تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکائیں گے وہ سب صرف گمان کے تابع ہیں ، اور سب اٹکلیں دوڑاتے ہیں ۔ (ف 2)

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تیرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہی خوب جانتا ہے انہیں جو ہدایت پر ہیں ۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو وہ چیز کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ۔

اکثریت کی رائے : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر اسلام کی صداقت کو جھوٹ سے نہیں بدل سکتی ، صداقت کے لئے اکثریت شرط نہیں سچائی سچائی ہے ، اگرچہ ایک عالم اس کا مخالف ہو ، مکہ والوں کو ذبیحہ کے متعلق کچھ شبہات تھے ، وہ کہتے تھے اسلام میں ذبیحہ کا اصول عام دنیا سے مختلف ہے اس لئے ناقابل قبول ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہی درست ہے ، اکثریت کی پیروی گمراہی ہے ۔ (آیت) ” ان تطع “۔ اور ” یضلوک “ ۔ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضور ﷺ کے لئے عوام کی پیروی کا امکان ہے بلکہ قرآن کا یہ عام انداز بیان ہے کہ وہ حضور ﷺ کو مخاطب کرنا ہے اور مراد آپ کے ماننے والے ہوتے ہیں ، ورنہ آپ کے لئے ضلالت کا امکان کہاں ، (آیت) ” وما ضل صابکم وما غوی “۔ کی نص موجود ہے ۔ حل لغات : یخرصون : مادہ خرص ، اندازہ وتخمینہ سے کچھ کہنا ، مقصد یہ ہے کہ مشرکین مکہ کے پاس ضابطہ و قانون نہیں ہے جسے عقل کی کسوٹی پر پرکھا جاسکے محض ادہام ، روایات ہیں جو تخمینہ واندازہ پر مبنی ہیں ۔
Ayahs 6:119–120

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور کیا سبب ہے (ف 1) ۔ کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ، حالانکہ اللہ تمہارے لئے وہ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی ہیں کھول کر بیان کرچکا ہے ۔ مگر وہ چیزیں جس کی طرف تم ناچار ہوجاؤ اور بہت لوگ بےعلمی کے سبب اپنی خواہشوں کے مواقع لوگوں کو بہکاتے ہیں تیرا رب ہی ان کو خوب جانتا ہے جو حد سے نکلے ہوئے ہیں ۔

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ گناہ چھوڑ دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ اپنے کئے کی جزا پائیں گے ۔

(ف 1) ایک اعتراض ذبیحہ پر یہ تھا کہ مسلمان خود مار کر کھالیتے ہیں اور خدا کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس کی کیا وجہ ہے َ اس کا جواب یہ ہے کہ ذبح کرنے یہ راز مضمر ہے کہ اس سے توحید کا اعلان ہوتا ہے ، اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے ، اور مسلمان کو یہ انتباہ ہوتا ہے ، کہ کسی وقت اللہ کو فراموش نہ کرے ، (آیت) ” الا ما اضطرر تم الیہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اگر کھانے کو کچھ نہ ملے اور زندگی خطرے میں ہو تو حرام بھی کھالے ، زندگی بہرحال زیادہ عزیز ہے ، اور اصل میں حلت و حرمت کی بحث محض بقاء حیات کے لئے وہ چیزیں جو حیات انسان کے لئے مفید ہیں ، شریعت نے ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں رکھی اور وہ جو مضر ہیں ، انہیں حرام قرار دیا ہے ، حل لغات : اضطررتم : اضطرار کے معنی ہیں ‘ بےاختیاری ، اور بیچارہ ہونے اور بیچارہ کرنے کے ۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اس میں سے نہ کھاؤ اور وہ گناہ ہے ، اور شیاطین اپنے رفیقوں کے دل میں ڈالتے ہیں ، تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو تم مشرک ہوجاؤ گے (ف 1) ۔

(ف 1) وہ ذبیحہ جس پر خدا کا نام نہ لیا جائے حرام ہے ، کیونکہ اس طریق سے نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ، اور دنیا میں شرک پھیلتا ہے ، ورنہ دراصل گوشت میں کوئی امتیاز نہیں ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ قدم قدم پر مسلمان توجہ الی اللہ کا سبق سیکھے ۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا ایک شخص کہ مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلایا اور اس کو روشنی دی ، کہ وہ اسے لے کے لوگوں میں پھرتا ہے اس شخص کی مانند ہوجائے گا جس کی صفت یہ ہے کہ اندھیروں میں میں ہے وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح کافروں کے لئے ان کے اعمال مزین کئے گئے ہیں (ف 2) ۔

اسلام زندگی اور نور ہے ! (ف 2) اسلام اپنے طریق عبادت میں ، عقائد اور اخلاق ورسوم میں ، یکسر زندگی اور نور ہے ، روشنی اور برہان ہے ، اس کی کوئی بات غلط اور بےدلیل نہیں ہوئی ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان کفر کے جمود سے نکلا ہے ، اور ایمان کی نورافروز زندگی میں داخل ہوگیا ہے ، اس لئے یہ اب کفر کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھ سکتا ۔ حل لغات : الظلمت : جمع ظلمت ، مقصود تشبیہ ہے ، یعنی کفر کی تاریکیاں ، اکابر : بڑے بڑے لوگ ، لفظ عام ہے رؤساء الدار اور رؤساء علم دونوں شامل ہیں ۔
Ayahs 6:123–124

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کر رکھے ہیں تاکہ وہاں حیلے کیا کریں اور جو حیلہ وہ کرتے ہیں اپنی جانوں ہی سے کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے (ف 1) ۔

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی چیز نہ ملے جو خدا کے رسولوں کو دی گئی ہے اللہ اپنی رسالت کے رکھنے کی جگہ خوب جانتا ہے ، اب مجرموں کو خدا کے یہاں ذلت نصیب ہوگئی اور ان کے مکروں پر ان کو سخت عذاب ہوگا ۔

(ف 1) اکابر نے ہمیشہ مخالفت کی ہے کیونکہ ان کی کبر پسندی اور غرور کو ایمان کی سادگی اور مسکنت سے کوئی تناسب نہیں ، باوجود اس کے کہ اسلام زندگی ہے اور نور ہے پھر بھی قوم کے بڑے بڑے لوگ ابتداء محروم ہی رہے ۔ مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے اسلام کی مخالفت میں کیا کیا نہیں کیا ، آپ کے کام میں کیا کیا مشکلات پیدا نہیں کیں ، مگر بالآخر ان کو معلوم ہوگیا ، کہ ہماری تمام کوششیں رائیگاں گئی ہیں ، اس آیت میں اسی حقیقت کی جانب اشارہ ہے ۔ معیار رسالت : انکار کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ظاہری عظمت اور برتری کو معیار قرار دیتے تھے ہر فضیلت روحانی کا ان کا خیال یہ تھا کہ ثبوت کا استحقاق ہمیں حاصل ہے ، کیونکہ ہمارے پاس سرداری ہے ، دولت ہے دنیوی عزت کے سامان ہیں ‘ وجاہت ہے قوم میں نام ہے ، اور وہ سب کچھ حاصل ہے ، جو ایک معزز انسان کے لئے ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم نہیں جانتے ، نبوت و رسالت کے لوازم کیا کیا ہیں ۔ نبوت ایک بخشش ہے ، ایک موہبت ہے جس کے لئے استعداد خاص کی ضرورت ہے ، جس سے تم سب محروم ہو ۔ ہمیں یہی منظور ہے کہ ایک یتیم بےنوا کو ساری کائنات کو سر پرست بنا دیں ، ایک ایسے شخص کو جو تمہاری نظروں میں بےمایہ اور مفلس ہے خزانوں اور ممالک کا مختار کردیں ، ہم یہی چاہتے ہیں ، کہ تمہارے غرور کو کچلا جائے اور محمد ﷺ کے اعزاز کو بلند کیا جائے ، کہو ، کیا اعتراض ہے ؟ ۔ حل لغات : صغائر : ذلت صغر سے ہے یعنی چھوٹا ہے ، حرجا : مکان حرج : اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں گھنے درخت کثرت سے ہوں اور مویشی وہاں نہ جاسکیں ۔
Ayahs 6:125–126

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جسے اللہ ہدایت کرنا چاہتا ہے ، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے ، اس کا سینہ نہایت تنگ بھیجا ہوا کردیتا ہے ، گویا وہ زور سے آسمان پر چڑھتا ہے ، اسی طرح اللہ بےایمانوں پر ناپاکی ڈالے گا (ف 1) ۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ تیرے رب کی سیدھی راہ ہے ‘ فکر کرنے والوں کے لئے ہم نے آیات کھول سنائی ہیں ۔

مومن کا سینہ : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان نہایت فراخدل ہوتا ہے ، اس کا سینہ معارف وصداقت کا گنجینہ ہے ، حق بات کے قبول کرلینے میں ذرہ بھر تامل نہیں ہوتا ، اور وہ جو گمراہ ہے ، نہایت متعصب اور تنگدل ہوتا ہے ، سچی بات کو ماننے میں بھی ہزار پس وپیش ہے تامل ہے ، جھجک ہے ، رسم و رواج کے پردے حائل ہیں ، مذہبی تنگ نظری مانع ہے ، تقلید وجمود سنگ راہ ہے ، یعنی اسلام تعصب کی تاریکیوں کو دور کردیتا ہے ، ظلمت وتنگ نظری کے پردے چاک کردیتا ہے ، اور انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ ہر صداقت کا احترام کرے ۔ یہی وجہ ہے ، مسلمان میں ہر عیب موجود ہے ، مگر وہ اب تک تعصب کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا ، کیونکہ یہ چیز اس کی فطرت کے خلاف ہے ۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے رب کے پاس سل امتی کا گھر ہے (ف 2) ۔ اور وہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کا دوست ہے

سل امتی کا گھر : (ف 2) جنت کا ایک نام ” دارالسلام “۔ ہے ، یعنی روح وجسم کی سل امتی کا ملجاواء نے ، جہاں ہر اضطراب اور بےچینی کا علاج ہے ، جہاں نفس کی بےقراریاں دور ہوتی ہیں ، جہاں کامل سکون اور طمانیت میسر ہے ،
Ayahs 6:128–130

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان سب کو جمع کرے گا (کہا جائیگا) اسے جنات کی جماعت (یعنی شیاطین) تم نے بہت آدمی تابع کر لئے اور وہ آدمی جو شیاطین کے دوست ہیں ‘ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم میں ایک نے دوسرے کے وسیلہ سے کام نکالا تھا اور ہم اپنے مقررہ وقت پر تو پہنچے جو تونے ہمارے لئے مقرر کیا تھا ، خدا کہے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے اس میں تم ہمیشہ رہو گے ، مگر جو چاہے اللہ ، تیرا رب حکمت والا خبردار ہے (ف 1) ۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو دوست کردیتے ہیں ، یہ سبب اس کے کہ تھے وہ کماتے ۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنات اور آدمیوں کے گروہ کیا تمہیں میں سے تمہارے پاس رسول نہیں آئے کہ تم کو ہماری آیات سناتے اور تمہارے اس دن کے سامنے آنے سے تمہیں ڈراتے تھے ؟ کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی ، اور انہیں دنیاوی زندگی نے فریب دیا تھا ، اور انہوں نے اپنی جانوں پر گواہی دی کہ وہ کافر تھے ۔

(ف 1) دنیا میں گناہ کے لئے قدم قدم پر آسانیاں ہیں ، جہاں چاہو ، جب چاہو ، نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کرلو مشکل یہ ہے کہ نیک بنو شرارت اور گناہ کے بیشمار وداعی اور اسباب ہیں ، نیکی اور صداقت کے محرکات کم ہیں ایک طرف نفس امارہ ہے ، اس کی خواہشیں ہیں ، شیاطین کے دامہائے تزویر ہیں ، اور دھوکے ہیں ، کچھ پنہاں ہیں ، کچھ ظاہر ہیں ، دوسری جانب تنہا عقل ، جس کی بیچارگی معلوم ۔ ان آیات میں نہایت سادہ انداز میں اس حکیمانہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، قیامت کے دن اللہ شیطانوں سے کہے گا ، تم نے بہت گمراہی پھیلائی ، آج مکافات کا دن ہے ، آؤ تمہیں سزا دیں ، کمزور ایمان کے لوگ جو شیطان کے بھرے میں جلد آجاتے ہیں ، اعتراف کریں گے کہ ہم نے دنیا میں ان سے تعاون کیا ، اور ہم دونوں مجرم ہیں ۔ حل لغات : الا ما شآء اللہ : تاکید مضمون کے لئے ہے یعنی جہنم سے تمہیں کوئی قوت نہیں نکال سکتی ۔ معشر : گروہ ، جماعت ۔ القری : جمع قریۃ ، بمعنی بستی ۔
Ayahs 6:131–132

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو ظلم کے سبب اس حال میں ہلاک نہیں کرنے والا کہ وہاں کے لوگ بیخبر ہوں (ف 1) ۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب کے لئے حسب اعمال درجے ہیں اور تیرا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ۔

اتمام حجت : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہر چیز کے لئے کچھ قواعد تجویز کر رکھے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا ، ان کی زندگی اور بقا کے لئے بیحد ضروری ہے ، انسانوں اور جنوں کے لئے بھی خدائے ذوالجلال نے وقتا فوقتا ہدایات نازل کی ہیں ، تاکہ بقاوارتقاء کے لئے وہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھیں ، جس طرح انسانوں کے لئے انبیاء ورسل ہیں ، اسی طرح جنوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کے طریق مقرر کر رکھے ہیں ، جن بھی انسانوں کی طرح ایک ذمہ دار مخلوق ہے ، جو ہمیں نظر نہیں آتی ، مگر ان کے وجود سے انکار محض بےعقلی ہے ، ایسے شواہد اور دلائل موجود ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے ، کہ جنات ایک نوع کی پراسرار مخلوق ہے ، ہمارے علم نے اس درجہ ترقی نہیں کی کہ ہم ان سے زیادہ متعارف ہو سکتے ۔ البتہ ان کے وجود کا احساس ہوتا رہتا ہے ۔ آیت کا مقصد اتمام حجت ہے یعنی اللہ کا پیغام سب کو برابر پہنچتا ہے ۔
Ayahs 6:133–134

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا رب بےپروا صاحب رحمت ہے اگر چاہے تمہیں تولے جاوے ، اور تمہارے بعد جسے چاہے تمہارا جانشین کر دے ‘ جیسے کہ اوروں کی نسل سے تمہیں پیدا کردیا (ف 2) ۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس کا تم سے وعدہ ہے ، سو آنے والا ہے اور تم ہمیں تھکا نہ سکو گے ۔

(ف 2) اللہ کی بےنیازی مذکور ہے یعنی اللہ کا منشاء پورا ہو کر رہے گا ، تم رہو نہ رہو اس کا جلال ابد الآباد تک قائم رہے گا ، تم اگر نہ مانو گے ، اور اس کے حکموں کو ٹھکرا دو گے ، تو وہ ایسے اور لوگ پیدا کر دے گا ، جو اطاعت شعار ہوں ، اسے یہی منظور ہے کہ اس کا دین سربلند رہے ، اس کی بات مانی جائے ، اس کے حکموں کو پوری فرمانبرداری کے ساتھ تسلیم کیا جائے ، اور اگر اس کے لئے تیار نہیں ہو ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی حکومت بہر حال برقرار رہے گی ، حل لغات : درجت : رتبے ،
Ayahs 6:135–136

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

تو کہہ اے میری قوم تم اپنی جگہ کام کرتے رہو میں اپنی حالت میں کام کرتا رہوں گا ، سو تم آئندہ جان لو گے ، کہ عاقب کا گھر کس کو ملے گا بیشک ظالم نجات نہیں پاتے (ف 1) ۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کی پیدا ہوئی کھیتی اور مواشی میں سے اللہ کے لئے ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے پھر اپنے گمان میں کہتی ہیں ، یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے وہ خدا کو نہیں پہنچتا اور جو خدا کا ہے ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے ، کیا برا انصاف کرتے ہیں ۔

عاقبت کن کی ہے ؟ (ف 1) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر وضلالت کو چیلنج ہے ، سب لوگ اپنی سی کر دیکھیں ، حق کی پرزور مخالفت کرلیں ، رب کے پیارے اور دوستوں کو وحی بھر کے تکلیفیں دے لیں ، پوری قوت کے ساتھ شیطنت پھیلائیں ، دار درس کو ہاتھ میں لے لیں ، اور جسے چاہیں ، ٹانگ دیں ، آخرت اور عاقبت کے لحاظ سے مظلوموں کی فتح ہوگی حق پرست کامیاب رہیں گے اللہ اپنے بندوں کی اعانت کرے گا ، کیونکہ ظلم و استبداد کے لئے بقا نہیں ، جھوٹ اور شرک فانی وعارضی ہے ،
Ayahs 6:137–138

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح اگر مشرکین کی نظر میں انکے شریکوں نے ان کی اولاد کا قتل کرنا عمدہ دکھلایا ہے ، تاکہ وہ انہیں ہلاک کریں ، اور انکا دین ان پر رلا ملا دیں ، اور اگر خدا چاہتا تو مشرک ایسا کام نہ کرتے ، سو تو انہیں چھوڑ دے ” وہ جانیں اور ان کا جھوٹ (ف 2) ۔

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے ، اسے کوئی نہ کھائے مگر جسے ہم چاہیں اپنے گمان میں اور بعض چوپائے ہیں جن پر سواری حرام ہے اور بعض چوپائے ہیں کہ ان پر (بوقت ذبح ) اللہ کا نام نہیں لیتے ، خدا پر جھوٹ باندھ کے وہ انہیں ان کے جھوٹ کی سزا دیگا ۔

(ف 2) شرک پرستی کے معنی یہ ہیں ، کہ بہت سی ناجائز باتوں کو محض جہالت کی وجہ سے قبول کرلیا جاتا ہے رسوم و رواج کی اندھا دھند پر وی کی جاتی ہے ، چاہے جان تک ضائع ہوجائے ، قتل اولاد کس قدر ہولناک جرم ہے مگر مکہ کے مشرک اسے جائز قرار دیتے تھے ، محض جذبہ غیرت کی پرستش کے لئے بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے یعنی غیرت ایک بت ہے ، جس کی بھینٹ ہزاروں بچیوں کو چڑھا دیا جاتا تھا ، (آیت) ” ولو شآء اللہ مافعلوہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی چاہتی ہے ، اجالے کے ساتھ اندھیرا بھی باقی رہے ، ورنہ شرک اسے قطعا پسند نہیں غرض یہ ہے کہ حضور ﷺ زیادہ غم نہ کریں ، اور ان کی گمراہی پر حد سے زیادہ تاسف نہ فرمائیں ،
Ayahs 6:139–140

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے ان کا کھانا ہمارے مردوں کو خالص حلال ہے اور عورتوں کو حرام ہے ، اور اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہوتے ہیں سو خدا ان تقریروں کی انہیں سزا دے گا ، وہ حکمت والا خبردار ہے (ف 1) ۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

اور بےوہ خراب ہوئے جنہوں نے بیوقوفی سے بےسمجھے اپنی اولاد کو قتل کیا اور جو رزق اللہ نے انہیں دیا تھا ، خدا پر جھوٹ باندھ کے اسے حرام سمجھ لیا ، بیشک بہک گئے اور راہ نہ پائی ۔

صنمیات قریش : (ف 1) ان آیات میں قریش کی صنمیات کا تذکرہ ہے یعنی وہ کن کن چیزوں کو حرمت وعزت کی نگاہ سے دیکھتے ، اور کن کن چیزوں کو تقدیس کا درجہ دیتے ، بعض کھیت بتوں کے لئے مخصوص ہوتے بعض چراگاہوں کو ناقابل استعمال ٹھہراتے ، پھر اس طرح مال مویشیوں کی بھی ان کے ہاں تقسیم تھی ، بعض مقدس سمجھے جاتے اور چراگاہوں میں آزاد چھوڑ دیئے جاتے ، ان پر سوار ہونا ، یا بوجھ لادنا ممنوع قرار دیا جاتا ، پھر پہلے سے یہ بھی طے کرلیتے کہ اگر اس قسم کی مادہ سے بچہ پیدا ہوا ، تو وہ مردوں کے لئے حلال ہے ، عورتوں کے لئے حرام ، اور اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو دونوں شریک رہیں ، یہ اور اس قسم کی بیسوں باتیں محض جہالت اور اختراء ہیں اور یہ مشرکانہ زندگی کا لازمہ ہیں ، قرآن حکیم ان تمام رسوم کو لغو اور بیہودہ قرار دیتا ہے ۔ حل لغات : حجر : حرام ممنوع ، تقدیس و حرمت کی وجہ سے ناقابل استعمال :
Ayahs 6:141–142

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جس نے ٹیٹوں پر چڑھائے ہوئے اور بغیر ٹیٹوں پر چڑھائے ہوئے باغ اور کھجوریں اور کھیت پیدا کئے جن کے پھل طرح طرح کے ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے کے مشابہ اور جدا جدا بھی (ف 1) ۔ اس کے پھل میں سے کھاؤ جب کہ پھل لگیں اور اس کا حق ادا کرو جس دن کھیتی کٹے اور بےجا نہ اڑاؤ کہ وہ بیجا اڑا دینے والوں کو پسند نہیں کرتا (ف 2) ۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور پیدا کئے چوپاؤں میں محض بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین سے لگے ہوئے ، جو اللہ نے تمہیں رزق دیا کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، وہ صریح تمہارا دشمن ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ کھیت اور باغات انگوریاں اور پھل ، جانور اور تمام آسائش کی چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ، پھر اس کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک ٹھہرایا جائے ، ان تمام انعامات کا تقاضا تو یہ ہے ، کہ تم صرف اللہ کا شکریہ ادا کرو ، مگر تم ہو کہ ڈھوروں تک کو اس میں شریک اور ساجھی بناتے ہو ، عشر : (ف 2) جب کھیت کٹے اور غلبہ جمع ہو ، تو اس میں سے دسواں حصہ بطور زکوۃ کے دنیا چاہئے ، بشرطیکہ زمین بارانی ہو ، اور اگر چاہی ہو ، پانی خود مہیا کرو ، یا اس کا ٹیکس ادا کرو ، تو بیسواں حصہ ضروری ہے ۔ حل لغات : فرشا : بچھے ہوئے یعنی بہت چھوٹے قد سے مراد ہے ، خطوت : جمع خطوط ، بمعنے قدم ،
Ayahs 6:143–144

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

اللہ نے آٹھ جوڑے پیدا کئے ہیں بھیڑ میں سے دو ، اور بکری میں سے دو ، تو اہل مکہ سے پوچھ کہ کیا دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا جو ان مادوں کے بچہ دانیوں میں لپٹ رہا ہے مجھے علم کے ساتھ خبر دو ، اگر تم سچے ہو (ف 1) ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ میں سے دو ، اور گائے میں سے دو ، تو پوچھ کہ آیا دونوں نر حرم کئے ہیں ، یا دونوں مادہ ، یا جو ان مادوں کے بچہ دانیوں میں لپٹ رہا ہے ‘ کیا تم حاضر تھے ، جب خدا نے تمہیں یہ حکم دیا تھا ؟ سو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ، تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے ، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھلاتا ۔

(ف 1) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جو بعض جانوروں کو محض تخمین وہ ہم کی بنا پر حرام قرار دیا ہے ، اس کے لئے کوئی علمی دلیل موجود نہیں حرام ہونے کی معنی یہ ہیں کہ اس سے کسی برے ، یا جاہلانہ نظام کی تائید ہوتی ہو ، یا وہ جانور صحت کے لئے مضر ہو یا اس کے کھانے سے اخلاق وروحانیت پر برا اثر پڑے ، یا ذوق سلیم اسے گوارا نہ کرے ، اور جب ان میں سے کوئی بات بھی موجود نہ ہو ، تو محض صنمیات کی پیروی میں کیونکر نر یا مادہ کو ناجائز قرار دے لیں ، حل لغات : وصکم : تمہٰں تاکید کی ۔ توصیۃ : کے معنی بتاکید کسی بات کا اظہار کرنا ہے ۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

تو کہہ جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز کہ وہ اسے کھائے حرام نہیں پاتا ، مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو ، یا بہتا ہوا خون ، یا سور کا گوشت ، کیونکہ وہ ناپاک ہے ، کوئی گناہ کی چیز ہو کہ بوقت ذبح غیر اللہ کا نام اس پر پکارا جائے ، پھر جو کوئی عاجز ہوا ، اور وہ بغاوت کرنے والا اور حاجت سے کھانے والا نہ ہو (ف 1) ۔ تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۔

حرام چیزیں کون کون ہیں ؟ (ف 1) اسلام نے بھی بعض چیزوں کو حرام اور ناقابل استعمال ٹھہرایا ہے ، مگر وہ محض وہم وظن کی بنا پر نہیں ، بلکہ علم وتجز کی روشنی مین ۔ مردار حرام ہے ، اس لئے کہ عہد وحشت کی یادگار سے ، کوئی مہذب اور شائستہ قوم مردار نہیں کھاتی ، اس لئے بھی کہ اس کے تعفن سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں خون بھی حرام ہے ، کیونکہ یہ بھی صحت کے لئے مضر ہے ، اور درندگی کی علامت ہے ، سؤر بھی حرام ہے کیونکہ اس کا کھانا جسم و روح دونوں کے لئے مضر ہے ، تشمم کے مرض کو پیدا کرتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہوجاتی ہے ، اخلاق کے لئے بھی اس کا کھانا سخت نقصان دہ ہے اس سے غیرت جاتی رہتی ہے ، بتوں اور بزرگوں کے چڑھاوے یا نذرانے بھی حرام ہیں ، کیونکہ اس طرح نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ، جو بالکل گوارا نہیں ۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کیا ، اور گائے اور بکری میں سے ان کی چربی حرام کی ، مگر جس قدر ان کی پشت پر لگی ہو ‘ یا انتڑیوں میں ‘ یا ہڈی کے ساتھ ملی ہو ، اور یہ ہم نے انکی شرارت کے بدلے میں انکو سزا دی تھی اور ہم سچے ہیں (ف 1) ۔

یہودیوں کی دشوار پسندی کا نتیجہ : (ف 1) یہودیوں کی عادت تھی کہ وہ از خود بہت سی چیزیں ایجاد کرلیتے اور تقشدو زہد کے لئے بہت سی چیزوں کو ممنوع قرار دے لیتے ، اللہ تعالیٰ نے جب ان کے غلو کو دیکھا تو بطور تعزیر کے واقعی انکی منع کردہ چیزوں کو ممنوع قرار دے دیا ، تاکہ انہیں اپنی بیہودگی کا احساس ہو اور معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کو مشکل بنانے میں خود کسی حد تک وہ مشکلات میں مبتلا ہوجائے گا ۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر یہود تجھے جھٹلائیں تو کہہ تمہارے رب کی رحمت میں بڑی سمائی ہے ، اس کا عذاب مجرموں سے نہیں ہٹ جاتا (ف 2) ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو نہایت اور حد درجہ رحیم ہے وہ نہیں چاہتا ، اس کے بندے تنگی اور ضیق میں زندگی بسر کریں ، مگر جب وہ خود ہی اپنے لئے پابندیوں اور تکلیفوں کو انتخاب کرلیں ، تو وہ بطور سزا و عذاب کے انہیں مشکلوں میں مبتلا کردیتا ہے ، اور حقیقت میں جب دین اس حد تک پھیل جائے ، اور وسیع ہوجائے کہ ہر لمحہ رسوم و خرافات کی پیروی ضروری ہو ، بات بات میں سختی اور تکلیف کا سامنا ہو تو پھر یہ مذہب نوع انسانی کے لئے عذاب ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگ جو دین کو بدعات کا مجموعہ خیال کرتے ہیں اور جنہوں نے بیحد رسمیں ایجاد کرلی ہیں ان کو دیکھو کس قدر مجبوری کی زندگی بسر کر کرتے ہیں ، سوسائٹی کے ڈر سے وہ جوں توں ان رسموں کو ادا کرلیتے ہیں ، مگر دل میں عذاب اور کوفت محسوس کرتے ہیں ، حل لغات : باس : شدت ، تکلیف ، عذاب ۔
Ayahs 6:148–150

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب مشرک کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے شرک نہ کرتے اور نہ ہم کوئی شئے حرام کرتے ، اسی طرح ان کے اگلوں نے جھٹلایا ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا تو کہہ ، تمہیں کچھ علم بھی ہے ، کہ اسے ہمارے سامنے نکالو ، تم تو صرف گمان ہی کے تابع ہو اور اٹکل ہی کرتے ہو (ف 1) ۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

تو کہہ اللہ ہی کی حجت پوری ہے ، اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا ۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

تو کہہ اپنے ان گواہوں کو بلا لاؤ ، جو یہ گواہی دیں ، کہ خدا نے یہ شئے حرام کی ہے ، پھر اگر وہ گواہی بھی دیں ، تو تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ گواہی نہ دیجو ، اور جنہوں نے ہماری آیات جھٹلائیں ، اور آخرت کو نہ مانا اور اپنے رب کی برابری کی ، تو ان کی خواہشوں پر نہ چلیو ۔

(ف 1) مجرموں کا ایک بہت بڑا عذر یہ بھی ہوتا ہے کہ خدا کو ایسا ہی منظور ہے ، خدا اگر نہ چاہے تو ہم اور ہمارے آباء کے اختیار میں کیا ہے ، جو گناہ کا ارتکاب کریں ، کم بخت یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر یہ گمراہیاں منظور ہوتیں تو انبیاء کیوں بھیجتا اور کتابیں کیوں نازل فرماتا ، اور نہ ماننے والوں کو سزائیں کیوں دیتا ، مکہ کے مشرک بھی یہی کہتے ، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس عذر کا جواب دیا ہے اور پوچھا ہے ، کہ بتاؤ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے جس سے اللہ کی کفر پسندی طور شرک نوازی ثابت ہو ، یا محض اٹکل اور تخمین کی بنا پر ایسا کہتے ہو ، یہ درست ہے ، خدا اگر چاہتا ، تو سب کو ہدایت کی توفیق دیتا ، مگر اس صورت میں تم کسی چیز کے مستحق نہ رہتے ، اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے ساتھ گمراہی کو پیدا کیا ہے ، تاکہ تمہارا امتحان ہو اور معلوم ہو کہ تم نے جو کچھ کیا ہے ، اختیار اور عقل کی بنا پر کیا ہے ، حل لغات : الحجۃ البالغۃ : کامیاب دلیل ۔ اتل ما حرم : مین بعض لوگوں نے حرم کے معنی اوجب کے لئے ہیں ، تاکہ ترتیب درست رہے ۔
Ayahs 6:151–152

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

تو کہہ آؤ میں تمہیں پڑھ کے سناؤں تو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے (فرماتا ہے) کہ اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ، اور والدین سے نیکی کرو ، اور افلاس کے ڈر سے اولاد کو نہ مارو ، تمہیں اور انہیں رزق ہم دیتے ہیں ، اور بےحیائی کے نزدیک نہ جاؤ جو ظاہر ہو اس کے بھی ، اور جو چھپی ہو اس کے بھی اور جس جان کا قتل خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرو ، مگر حق پر ، یہ باتیں ہیں جن کا تمہیں حکم ملا ہے شاید تم سمجھو (ف 1) ۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے نزدیک نہ جاؤ مگر جس طرح بہتر ہو ، یہاں تک کہ اپنی جوانی کو پہنچے اور انصاف کے ساتھ ماپ اور تول پوری کرو ، ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور جب بولو تو انصاف سے بولو ، اگرچہ قرابتی کیوں نہ ہو ، اور اللہ کا عہد پورا کرو ، یہ باتیں ہیں جن کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے شاید تم سوچو ۔

خدا کے احکام تسعہ : (ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود ومشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم محض رسوم شرک کی پیروی کرتے ہو ، اصل باتیں جو انسان کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہیں ، نہیں جانتے ، آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کیا کیا چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں ۔ 1۔ شرک ، کیونکہ اس سے انسانی عزت و حرمت زائل ہوجاتی ہے نفس ذلیل ہوجاتا ہے ، جہالت پھیلتی ہے اور دماغی افق تاریک ہوجاتا ہے ۔ 2۔ والدین کی نافرمانی ۔ اس سے عقوق وسرکشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، احسان فراموشی کی عادت پڑجاتی ہے ، جو شخص والدین کے لئے تکلیف وہ ہے اور سماج یا سوسائٹی کے لئے کبھی مفید ثابت نہیں ہو سکتا ، والدین کی اطاعت شعاری بہترین اخلاق پیدا کرتی ہے ۔ 3۔ قتل اولاد : اس میں ضبط تولید کا مفہوم بھی شامل ہے ، 4۔ ارتکاب فواحش : یعنی مسلمان کو بہرنوع پاکباز ہونا چاہئے بےحیائیوں سے نسل انسانی خراب ہوجاتی ہے ، صحت بگڑتی ہے ، افلاس آتا ہے ، اور دل تاریک ہوجاتا ہے ۔ 5۔ ناجائز قتل ، یعنی بلاسبب شرعی کسی کو مار ڈالنا ، اسلام ایک ضابطہ ہے ، فوضویت باعدم قانون کی روح کو پسند نہیں کرتا ، کیونکہ اس سے انسانی زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔ 6۔ یتیم کا مال نگل جانا : یہ بدترین اور ذلیل ترین قسم کا گناہ ہے ، اسلام حقوق انسانی کا سب سے بڑا پاسبان ہے اس لئے اس نوع کے جرائم گوارا نہیں کرسکتا ۔ 7۔ کم تولنا : کیونکہ اس سے تجارت عامہ کو نقصان پہنچتا ہے اور بددیانتی پیدا ہوتی ہے ۔ 8۔ بےانصافی : 9۔ اللہ کے عہد کیساتھ بیوفائی یعنی شریعت فطرت کے ساتھ بےاعتنائی ، یہ نوحکم دین کی اصل اور اساس ہیں ، وہ لوگ جو ان پر عمل پیرا ہیں کیا یہ بہترین قوم نہیں ؟
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور (کہا ہے) کہ یہ میری سیدھی راہ ہے ، سو اس پرچلو ، اور کئی راہیں نہ چلو ، کہ وہ راہیں تمہیں اس کی راہ سے الگ کر دینگی یہ ہیں ، جو اس نے تمہیں حکم دیئے ، شاید تم ڈرو (ف 1) ۔

صراط مستقیم : (ف 1) ان ھذا سے مراد توحید و تفرید ہے والدین کے ساتھ احسان ومروت ہے ، احترام حقوق ہے ، پاکبازی اور پاکددامنی ہے جو مت نفس ہے یتامی پر وی ہے عدل و انصاف ہے اور اللہ کے حکموں کی رعایت وفرمانبرداری ہے ، یہی صراط مستقیم ہے ، یہی سیدھی راہ ہے اور یہی وہ پگڈنڈی ہے جو قصر جنت تک برابر چلی گئی ہے ، ان احکام کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکنا گمراہی مول لینا ہے ، اور روح ومغز دین سے محمدی ہے ۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی ، نیکو کار کے لئے پوری نعمت ، اور ہر شئے کی پوری تفصیل اور ہدایت اور رحمت ، شاید کہ وہ اپنے رب کی ملاقات کا یقین کریں (ف 2) ۔

(ف 2) ثم اتینا : سے غرض یہ ہے کہ تورات میں بھی انہیں احکام کو بوضاحت بیان کیا گیا تھا یعنی عقائد واخلاق میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی مقصد یہ تھا کہ اہل کتاب میں جذبہ ایمان پیدا ہو آخرت کے محاسبہ سے ڈریں اور اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ۔ حل لغات : بعھد اللہ : مقصود میثاق شریعت ہے ۔