6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsسراج البیان

Ayahs 6:38–42

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور کوئی چلنے والا جانور ، یا دو بازو سے اڑنے والا پرندہ زمین میں نہیں ہے مگر تم آدمیوں کی مانند وہ بھی امتیں ہیں ، ہم نے کتاب میں کوئی چیز لکھنے میں نہیں چھوڑی پھر وہ اپنے رب کی طرف جائیں گے (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، وہ تاریکیوں میں بہرے اور گونگے ہیں ، جسے چاہئے اللہ گمراہ کرے ، اور جسے چاہے راہ راست پر لائے ،

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ کا عذاب تم پر آجائے یا تم پر قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ، اگر تم سچے ہو ۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکارو گے سو وہ اس کام کو جس کے لئے اسے پکارا ہے اگر چاہے رفع کرے ‘ اور جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے انہیں بھول جاؤ گے ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بہت امتوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے تھے پھر ہم نے انہیں سختی اور تکلیفوں میں ڈالا تھا ، کہ شاید وہ عاجزی کریں ،

قانون ہدایت کی ہمہ گیری : (ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔ سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ، یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ، بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ، 1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا گیا ہے ۔ 2۔ تمام سامی مذاہب میں آخرت کا عقیدہ موجود ہے ۔ 3۔ تناسخ صرف آرین مذاہب میں پایا جاتا ہے غالبا ” امم “ کا لفظ محل استدلال ہے مگر ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ امت کے معنی عربی میں مطلقا گروہ کے ہیں جس میں کوئی وجہ اشتراک پائی جائے اس میں حیوانات اور پرندے بھی داخل ہیں ، بلکہ یہ لفظ اس سے بھی عام ہے ہو مشترک الاطراف چیز اس میں داخل ہے ۔ حل لغات : دآبۃ : جانور ، مایدب علی الارض : امم : جمع امت ، علامہ راغب فرماتے ہیں ، ہر وہ مجموعہ جس میں کوئی بات مشترک ہو ۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

سو جب ہمارا عذاب ان پر آیا ۔ وہ عاجز کیوں نہ ہوئے لیکن ان کے دل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نظروں (ف 1) ۔ میں اچھی دکھلائے تھے ۔

(ف 1) کبھی کبھی اللہ تعالیٰ انسانوں کو تکلیف میں مبتلا کو دیتا ہے ، تاکہ دلوں وانفعال کے تاثرات پیدا ہوں ، اور وہ خدا سے ڈریں ، مگر مشرکین کا یہ حال ہے کہ ہرچند انہیں عذاب میں مبتلا کیا گیا ، مصائب آکے تکلیفیں پہنچیں ، وہ بدستور انکار کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں قساوت پیدا ہوگئی ہے روشنی گناہوں کی ظلمت میں ماند پڑگئی ہے حق نفسانیت کے سامنے کمزور ہوگیا ۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ اس نصیحت کو جو انہیں دی گئی تھی بھول گئے ، تو ہر شئے کے دروازے ہم نے ان پر کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوش ہوئے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا ، پس تب ہی وہ ناامید ہوگئے (ف 2) ۔

(ف 2) خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک نباہ نہیں ہوئی ، جب تک برائیاں کثرت کے ساتھ ان میں نہ پھیل جائیں ، اور معصیت میں وہ نہ ڈوب جائیں ، جب ہر عیب کو وہ ثواب جاننا شروع کردیتے ہیں ، اور اللہ کی پکڑ سے غافل ہوجاتے ہیں ، تو یکایک اللہ کی غیرت میں جوش پیدا ہوتا ہے اور ان کو ایک دم فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ حل لغات : الباسآئ : تکلیف اور بؤس ۔ مبلسون : ناامید ، مایوس ، البس ، اسی سے مشتق ہے ، یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس ۔
Ayahs 6:45–46

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

سو ظالم لوگوں کی جڑ کاٹی گئی ، اور تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہان کا رب ہے (ف 1) ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر اللہ تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے ، اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے ‘ تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لا دے ، دیکھ ہم کیونکر طرح طرح سے نشانیاں بیان کرتے ہیں ، پھر بھی وہ منہ موڑتے ہیں ۔

ظالموں کا نہ رہنا ہی اچھا ہے : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ ظالم اور ناحق شناس طبقوں کا دنیا سے مٹ جانا ہی باقی دنیا کے لئے مفید ہے ، کیونکہ جس طرح بیماریاں تباہ کن ہوتی ہیں ، اور متعدی ہوتی ہیں ، اسی طرح روحانی امراض بھی ہولناک صورت اختیار کرلیتے ہیں ، اور اگر ان کو باقی رہنے دیا جائے ، تو تمام قوموں کا اخلاق خطرہ میں پڑجاتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں مٹا دیتا ہے ، تاکہ ان کے مفاسد ان ہی تک محدود رہیں ۔
Ayahs 6:47–49

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر اللہ کا عذاب تم پر ناگاہ یا آشکارا آجائے ، تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا ؟ (ف 2) ۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور رسولوں کو ہم فقط اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ خوشی اور خوف سنائیں ، سو جس نے مانا ، اور سنور گیا ، ان پر نہ کچھ خوف ہوگا ، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں ان کی نافرمانی کے سبب عذاب ہوگا ۔

(ف 2) غرض یہ ہے کہ تم ہر وقت غیر محفوظ ہو تم نہیں جانتجے کب اللہ کا غصہ بھڑکے اور کب تم کو جوارح سے محروم کردیا جائے ۔ اس لئے ہر آن غوروفکر سے کام لو ، اور عقل وہوش کو سنبھالو ، خدا کے دین کو سمجھنے کی کوشش کرو ، ورنہ یاد رہے تباہی اور ہلاکت دور نہیں ۔ حل لغات : دابر : اصل ، جڑھ پیٹھ ، یصدفون : مادہ صدف یعنی روگردانی کرنا ۔
Ayahs 6:50–52

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

تو کہہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے میں ‘ اور نہیں کہتا کہ میں غیب دان ہوں اور نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ، تو اسی وحی کے تابع ہوں ‘ جو مجھے ہوتی ہے ، تو کہہ کیا اندھا ، اور بینا برابر ہیں ؟ کیا تم فکر نہیں کرتے ؟ (ف 1) ۔

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

قرآن سے اس کو نصیحت کر جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جمع ہوں گے ، اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی اور شفیع نہ ہوگا ، شاید وہ بچیں ۔

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کو صبح وشام پکارتے اور اس کا چہرہ تلاش کرتے ہیں ‘ انہیں موت نکال ‘ ان کے حساب میں تیرا کچھ دخل ہے ‘ کہ تو انہیں اپنے پاس سے نکال دے اور تو ظالموں میں سے ہوجائے ۔

(آیت) ” ولا اعلم الغیب : (ف 1) حضور ﷺ کا درجہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے کائنات میں کوئی شخص آپ کا درجے اور مرتبے میں سہیم وشریک نہیں ان کے پاس رشد وہدایت کے اور معارف ونکات کے بےپناہ خزانے موجود تھے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ دنیا کے لحاظ سے سرمایہ افلاس کا بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کی قدوسیت اور پاکیزگی میں کس کو شبہ ہے ، مگر بااین ہمہ وہ فرشتہ نہیں تھے ، اسی طرح ان کا علم کائنات میں سب سے زیادہ ہے اور رسول سے بڑھ کر اور کون عالم ہوتا ہے پھر بھی وہ غیب نہیں جانتے تھے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے ، غیب کی تشریح متعدد مواقع پر گزر چکی ہے ، اجمالا یہ سمجھ لیجئے غیب کا جاننا انسانوں کے لئے نہ وجہ فضیلت ہے اور نہ ممکن ۔ اللہ کا یہ بہت بڑا انعام ہے کہ ہم بعض حقائق سے ناواقف ہیں ، آج نہیں اپنی موت کا علم ہوجائے تو کیا کرو ، ایک دم مر جاؤ ، دنیا کے تمام کام رک جائیں ، حضور ﷺ بھی ان مصالح عامہ کی وجہ سے غیب نہیں جانتے تھے یعنی وہ نہیں جانتے تھے کہ کس طرح ان کا لخت جگر کربلا کے میدان میں ذبح کردیا جائے گا ، وہ یقینا اس حقیقت سے ناآشنا تھے کہ طائف میں جسد اطہر کو پتھروں اور اینٹوں سے مجروح کردیا جائے گا ، وہ آگاہ نہیں تھے کہ واقعہ افک میں کیا شرارت کام کر رہی ہے بےچین رہتے ہیں اور جب تک قرآن نازل نہیں ہوتا حضرت عائشہ ؓ کی جانب سے دل صاف نہیں کیا یہ واقعات ثبوت کے لئے کافی نہیں ؟ اس میں توبین کا کوئی پہلو نہیں ، مقصود صرف یہ ہے کہ رسول کا منصب نبوت جس علوم کا محتاج ہے وہ اسے حاصل ہوتے ہیں ، اس کے لئے یہ جاننا ضروری نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے (آیت) ” افلا تتفکرون “۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض سے آزمایا ہے ‘ تاکہ وہ یوں کہیں کہ کیا ہمارے درمیان سے اللہ نے انہیں (ف 1) (غربا) پر فضل کیا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو نہیں جانتا ؟ (ف 2) ۔

اسلام اور معیار فضیلت : (ف 1) دولتمند اور ذی وجاہت طبقہ ہمیشہ سے امتیازات خصوصی کا طالب رہا ہے ۔ اسلام کو اول اول جب مفلس اور بےمایہ لوگوں نے قبول کیا تو یہ ناک بھوں چڑھانے لگے اور محض اس بنا پر اسلام کی برکات سے محروم رہتے کہ اس کے ماننے والے غریب کیوں ہیں ، وہ یہ بھی چاہتے تھے ، حضور ان لوگوں کو جن کے دل دولت ایمان سے مالا مال ہیں ، اپنے قریب نہ آنے دیں ، اور ہماری آؤبھگت کریں ۔ اس آیت میں دراصل انہیں لوگوں کی تردید مقصود ہے فرمایا یہ مخلص ہیں صبح ومشا وشام اللہ کو یاد کرتے ہیں ، ان کے قلوب میں ایمان کی روشنی ہے ، یہ گو دنیوی وجاہت سے محروم ہیں مگر ان کے دل دارین کی برکتوں سے معبور ہیں ۔ اسلام کا اصول یہی ہے ، وہ صرف جذبات کو دیکھتا ہے ظاہری شان و شکوہ اس کے نزدیک کچھ چیز نہیں ، اس کے دربار معدلتآگین میں گداگر اور شہنشاہ دونوں برابر ہیں ۔ (ف 2) مقصد یہ ہے کہ دولتمند ہونا خوبی نہیں ، شاکر ہونا فضیلت ہے ، وہ شخص جو آسودہ حال ہے ، اور خدا کی نعمتوں سے صحیح معنوں میں استفادہ نہیں کرتا یعنی منعم حقیقی کو بھول گیا ہے وہ فضل وامتنان کے قابل نہیں اور وہ جو گوغریب ہے ، مگر اللہ کا شکر گزار ہے اس قابل ہے کہ دربار نبوی میں جگہ پائے حل لغات : ولا تطرد : مادہ طرد ، بمعنی دور رکھنا بہکا دینا ۔ من : احسان کیا ۔
Ayahs 6:54–55

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں کو ماننے والے تیرے پاس آئیں ، تو تو ان سے کہہ سلام علیکم ، تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت لکھ لی ہے ، کہ اگر کوئی تم میں سے نادانی سے برا کام کرے ، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے ، تو بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور ہم آیتوں کی یوں تفصیل بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے ۔

(ف 1) یعنی مسلمانوں کے لئے سل امتی کا پیغام ہے ، اللہ کی رحمتیں ان کا خیر مقدم کرتی ہیں ۔ ان کی لغزشیں درخور عفو ہیں ، بشرطیکہ توبہ و استغفار کو ہاتھ میں نہ دیں ۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

تو کہہ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو ‘ مجھے ان کا بوجنا منع ہوا ہے ، تو کہہ میں تمہاری مرضی پر نہیں چلتا ، اگر چلوں تو میں بہک چکا اور ہدایت یافتوں میں نہ رہا (ف 2) ۔

(ف 2) رسول عوام کی خواہشات نفس کا احترام نہیں کرتا ، بلکہ وہ اس لئے مبعوث ہوتا ہے تاکہ قیادت کے صحیح اصولوں کے ماتحت اہوا ، و فواحش کے خلاف جہاد کرے ۔
Ayahs 6:57–58

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

تو کہہ مجھے میرے رب سے شہادت پہنچی اور تم نے اس کو جھٹلایا ہے ، میرے پاس وہ چیز نہیں جس کے مانگنے میں تم جلدی کرتے ہو ، اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ، وہ حق ظاہر کرتا ہے اور وہ ہی اچھا فیصلہ کرنے والا ہے (ف 3) ۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

تو کہہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی ، جس کے مانگنے میں تم جلدی کرتے ہو ، تو میرا تمہارا فیصلہ ہی ہوجاتا ۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اگر دلائل طلب کرتے ہو تو جان لو کہ (آیت) ” انی علی بینۃ من ربی “۔ مجھے اللہ نے دلیل وباہین سے بہر وافر عطا کر رکھا ہے ، میں اپنے ہر دعوے کو علے وجہ البصیرت پیش کرسکتا ہوں ، اور اگر عذاب کا مطالبہ ہے تو یہ اللہ کے علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا کہ علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا ، تم کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا ، اس وقت تم کچھ نہ کرسکو گے ۔ حل لغات : ولتستبین : مادہ بیان ، بمعنے ظاہر ہونا ، اھوآء : جمع ھوا ، محض ، نفس کی خواہش ، الفاصلین : مادہ فصل بمعنی فیصلہ کرنا ، جمع فاصل ۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور اس کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا اور اسے معلوم ہے جو جنگل اور دریا میں ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا جسے وہ نہ جانتا ہو ، اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں ، اور نہ تروخشک ہے ، جو کھلی کتاب میں نہ ہو (ف 1) ۔

علم الہی کی ہم یہ گیری : (ف 1) (آیت) ” کتاب مبین “۔ ایک اصطلا ہے ، جو تعبیر ہے علم الہی سے یعنی خدا کے علم میں کائنات کی تمام تفصیلات موجود ہیں ، وہ بحر وبر کی وسعتوں سے آگاہ ہے ، پتے پتے اور ڈال ڈال سے واقف ہے ، زمین کی تاریکیوں میں جو کچھ بھی ہے ، اسے علم ہے ، بعض کے نزدیک کتاب مبین سے مراد قرآن ہے ، مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ سیاق وسباق میں اللہ کے علم اور وسیع اختیارات کا ذکر ہے ، محل اشتباہ لفظ مبین ہے ، جواب یہ ہے کہ مبین کا لازم کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے یعنی کتاب واضح ۔ ان معنوں میں اللہ کا علم مبین بھی ہے کہ قیامت کے دن ہماری تمام لغزشوں کو ظاہر کر دے گا ، بہرحال مقصود خدا کے معارف کی وسعت بیان کرنا ہے ۔ حل لغات : مفاتیح : جمع مفتح ، ، بمعنی گنجی ، چابی یا مفتح ، بمعنی خزانہ ۔
Ayahs 6:60–62

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے جو تمہیں رات کو مار ڈالتا ہے اور جو تم نے دن میں کیا ہے جانتا ہے پھر تمہیں دن میں زندہ کرتا ہے تاکہ وقت مقررہ پورا ہوجائے پھر تمہیں اس کی طرف جانا ہے ، پھر تمہیں جتائے گا جو تم کرتے تھے (ف 1) ۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان (فرشتے) بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم میں کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے قبضہ میں لے لیتے ہیں اور وہ قصور نہیں کرتے ۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ سب اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے ، پہنچائے جائیں گے سنتے ہو حکم اسی کا ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے ۔

(ف 1) یعنی موت اور نیند میں صرف بیداری کا امتیاز ہے ، خدا چاہے تو انسان کو بستر ہی پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلا دے ، یہ اس کا کرم اور نوازش ہے کہ ہمیں زندگی کی دوبارہ مہلت دیتا ہے ، تاکہ دنیا کی تگ ودو میں حصہ لے سکیں ، مگر یہ انتباہ ہے ، تاکہ انسان کبھی عیش چند روزہ پر مغرور نہ ہوجائے ،
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

تو کہہ جنگل اور دریا کی تاریکیوں سے تمہیں کون بچاتا ہے ؟ جسے تم گڑ گڑاتے اور چپکے پکارا کرتے ہو ، کہ اگر وہ ہمیں اس بلا سے بچالے ، تو ہم شکر گزاروں میں ہوں گے (ف 2) ۔

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

تو کہہ اللہ ہی تمہیں ان تاریکیوں اور ہر سختی سے بچاتا ہے ، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو ۔

(ف 2) انسان میں یہ عجیب نفسی کمزوری ہے ، کہ جب مصیبت میں مبتلا ہو ، جب چاروں طرف سے گھر جائے ، جب مصیبت میں مبتلا ہو ، جب چاروں طرف سے گھر جائے ، اور مخلصی کی تمام راہیں مسدود ہوجائیں جب لق ودق صحراؤں میں گم ہوجائے جب جہاز پر بیٹھے ، اور ہر آن غرق ہوجانے کا خطرہ موجود ہو ‘ اس وقت اللہ کو یاد کرتا ہے ، خلوص وتضرع سے اس کا نام لیتا ہے ، اور اس کی استعانت کے لئے بےقرار ہوجاتا ہے ۔ مگر جہاں مصیبت دور ہوئی ، خطرہ کا وقت گزر گیا پھر سرکشی اور تمرد عود کر آیا ، پھر تغافل اور شرک نوازی میں مشغول ہوگیا ، یا تو صرف اللہ کا نام تھا ، یا اب اپنی قوت اور تدبیر پر اعتماد ہے اپنی عقل کی تعریف ہے دینوی اور مادی سہاروں پر بھروسہ ہے ، یہ نیرلگی وبوالعجمی لائق عبرت ہے ، اس آیت میں اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہا یہ گیا ہے جب مصیبتوں اور مشکلات میں خدا کو یاد کرتے ہو تو پھر آسودگی اور رفاہیت میں اسے فراموش کردینے ، اور بھول جانے کے کیا معنی ۔
Ayahs 6:65–67

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

تو کہہ وہی اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے عذاب بھیجے ، یا تم میں کئی فریق کردے ، اور بعض کی بعض کی لڑائی (کامزہ) چکھائے ، دیکھ ہم کیونکر ہیر پھیر کر نشانیاں بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ سمجھیں (ف 1) ۔

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اے محمد ﷺ تیرے قوم نے قرآن کو جھٹلایا اور وہ تو حق ہے تو کہہ میں تمہارے اوپر داروغہ نہیں ۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائیگا ۔

عذاب تخرب : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ بت پرستی پر اصرار ، حق وصداقت کے خلاف اعلان جنگ یاد رکھو بہتر نہیں خدا ہر وقت قادر ہے ، کہ تم پر عذاب بھیج دے زمین تمہارے لئے پھٹ سکتی ہے ، اور سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ تم میں جمعیت نہ رہے ، اختلاف وتخریب کی آندھیاں چلیں ، اور کفر و طغیان کی تناودرختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ، حل لغات : شیعا : جمع شیعۃ ۔ گروہ ، جماعت ۔ یخوضون ، مادہ خوض عام طور پر اسلام کے خلاف غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تو اے محمد ﷺ ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں بکتے ہیں تو ان سے یک سو ہوجایا کر یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں بکنے لگیں ، اور اگر شیطان تجھے بھلا دے ، تو بعد نصیحت کے ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ (ف 1) ۔

(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان عام طور پر اس طرح ہے کہ بظاہر حضور ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے ، مگر مقصود اس سے عام مسلمان ہوتے ہیں ، یہ آیت اسی قبیل سے ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ عام مسلمان کفر والحاد کی مجلسوں میں شرکت نہ کریں ، جن میں بجز توہین اسلام اور کوئی شغل نہ ہو ، کیونکہ اس طرح مذہبی عصبیت دور ہوجاتی ہے ، اور انسان بری سے بری بکواس کو سننے کا عادی ہوجاتا ہے ۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور ذمہ ان کے حساب کا پرہیزگاروں پر کچھ نہیں ، لیکن یاد دلانا ہے ، شاید وہ ڈریں (ف 2) ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اگر تم ان کی برائیوں میں شریک نہ ہوجاؤ اور الحاد وزندقہ کی باتوں کی تردید کرسکو ، تو شرکت میں مضائقہ نہیں ، اسلام تنگ نظر نہیں ، وہ یہ نہیں چاہتا کہ مسلمان مخالف کی باتیں نہ سنیں ، بلکہ غرض یہ ہے کہ حمیت دینی اور عصبیت ملی اس قسم کے مشغلوں سے زائل ہوجاتی ہے ، اس لئے محتاط رہو ،
Ayahs 6:70–72

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ ٹھہرایا ، اور حیات و دنیا نے انہیں فریب دیا ، تو انہیں چھوڑ دے ‘ اور قرآن سے نصیحت دے ، کہ کوئی جی اپنے اعمال میں گرفتار نہ ہوجائے ، اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی ولی اور شفیع نہیں ہے ، اور اگر وہ سارے معاوضے بھی اپنے بدلے میں دیگا تو بھی وہ اس سے قبول نہیں کئے جاویں گے ، یہی لوگ ہیں جو اپنے اعمال کے سبب گرفتار ہوں گے ، ان کے لئے ان کے کفر کے بدلے میں کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے (ف 3) ۔

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

تو کہہ کیا ہم اللہ کے سوا اسے پکاریں ، جو ہمارا بھلا برا کچھ نہ کرسکے ، اور اللہ سے ہدایت پاکر کیا ہم الٹے پھرجائیں ؟ اس کی مانند جسے شیطانوں نے جنگل میں بہکا کر حیران کر یا ہے ، اس کے دوست راہ راست پر بلاتے ہیں ، کہ ہماری طرف آ ، تو کہہ جو خدا کی ہدایت ہے ، وہی ہدایت ہے اور ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم رب العالمین کی مانیں ۔

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ نماز پڑھو ، اور اس سے ڈرو ، اور وہ وہی ہے جس کی طرف تم جمع ہوگئے ۔

دین کو کھیل نہ سمجھو ! (ف 3) غرض یہ ہے کہ دین کا احترام ضروری ہے یہود ونصاری کی طرح نہ ہوجاؤ جن کے دلوں میں مذہب ایک غیر ضروری مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ نہیں ۔ (آیت) ” ولا شفیع “۔ سے شفاعت مطلقہ کی تردید مقصود ہے ‘ یعنی غیر مشروط شفاعت ، اہل باطل کا خیال تھا کہ چونکہ ہم انبیاء کی جانب منسوب ہیں ، اور اس انتساب پر نازاں ہیں اس لئے شفاعت قطعی ہوگی ، مکہ کے مشرک یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے بت ، ہمارے اولیاء اللہ پر دباؤ ڈال کر ہمیں بخشوائیں گے قرآن حکیم نے اس نوع کی سفارش کو ممنوع اور ناجائز قرار دیا ، اور بالکل مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ حل لغات : الذکری : مصدر ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی یاد آنے کے بعد نہ بیٹھو ، ان تبسل : مادہ بسل بمعنی روکنا ، محروم رکھنا ، حمیم : کھولتا ہوا پانی ۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور سے بنایا ، اور جس دن وہ (قیامت کو) کہے گا ، کہ ہوجا ، وہ ہوجائے گی (ف 1) ۔ اس کی بات سچی ہے اور اس کی سلطنت ہوگی جس دن صور پھونکا جائے گا (ف 1) ۔ اور وہ کھلی اور چھپی بات جانتا ہے اور وہ تدبیر والا خبردار ہے ۔

(ف 1) اسلامی تخیل اللہ تعالیٰ کے باب میں یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اسے اسباب وذرائع کی قطعا حاجت نہیں ، وہ جب چاہے ، دنیا کو مجرد مشیت کے فنا کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح اس میں یہ بھی قدرت ہے ، کہ کائنات کو ایک لمحہ کے اندر مہیا کر دے ، اسے صرف ارادہ کرنا ہے ، اس کے بعد شئے مراد کا خلعت وجود اختیار کرلینا ضروری ہے ، اس آیت میں یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک وقت لائے گا جب تمام انسانوں کو پھر سے زندہ ہونے کا حکم دے گا ۔ کن کہنے سے مقصود یہ ہے کہ اس کے ارادہ اور فعل میں کوئی تخلف نہیں ہوتا ، یوں کہہ لیجئے ، اس نے کہا اور چیز موجود ہوگئی ، ورنہ وہ لفظ کن کا محتاج نہیں ، اور لفظ کن میں پیدا کرنے کی تاثیر ہے غرض اس کی قوت کاملہ اور مطلقہ کا اظہار ہے ۔ حل لغات : استھوتہ : استھوا کے معنی سرگشتہ کرنے کے ہیں یعنی اس کا شیاطین نے سرگشتہ کردیا ہو ۔ حیران : بمعنی سرگشتہ ، پریشان ، سرسیمہ شوریدہ سر ۔ (ف 1) نفخ صور کی تفصیلی بحث گذر چکی ہے اجمالا بحث یہ ہے ، کہ : 1۔ قرآن میں مختلف ناموں سے اس تخیل کا وجود پایا جاتا ہے ، اس لئے لفظ صور کی تاویل درست نہیں ۔ 2۔ احادیث میں صراحت سے نرسنگا اور فرشتہ کا ذکر ہے ۔ اور اس میں کوئی مضائقہ اور استحالہ بھی نہیں ، ممکن ہے ، یہ محض اطلاع اور انتباہ ہو یعنی بالا استقلال فناء حیات کی تاثیر اس میں موجود نہ ہو ، بلکہ مقصود یہ ہو کہ وقت مقرر آپہنچا ہے ۔ اور یہ بھی محال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں خاص تاثیر ودیعت کر رکھی ہو ، ہم علم الاصوات کی تمام وسعتوں سے آگاہ نہیں ، جب بھی یہ جانتے ہیں کہ آواز میں دس کی قوتیں ہو سکتی ہیں ۔
Ayahs 6:74–77

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے (ف 2) ۔ باپ آزر کو کہا تھا ، کیا تو بتوں کو معبود ٹھہراتا ہے ، میں تجھے اور تیری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت دکھلانے لگے ، اور تاکہ وہ یقین لانے والوں میں ہوجائے ۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

سو جب اس پر رات نے اندھیرا کیا تو اس نے ایک تارا دیکھا ، کہا یہ میرا رب ہے ، پھر جب وہ چھپ گیا تو کہا کہ چھپ جانیوانے مجھے پسند نہیں آتے ۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند چمکتا دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے پھر جب وہ بھی چھپ گیا ، تو کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ کرے گا ، تو میں بیشک گمراہوں میں رہوں گا ۔

دائرہ تبلیغ کا نقطہ آغاز : (ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ ہے جو ان کے والد سے متعلق ہے ، مقصد یہ ہے کہ انبیاء تبلیغ کو گھر سے شروع کرتے ہیں ، اور انہیں حق بات کے کہنے میں کبھی تامل نہیں ہوتا ۔ بعض لوگ یہاں لابیہ کے لفظ سے چچا مراد لیتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک انبیاء کے باپ کافر نہ ہونے چاہئیں مگر یہ محض وہم ہے ، اگر رات کی تاریکی سے خورشید خ اور کا طلوع ہو سکتا ہے ، تو پھر شرک کی ظلمتوں سے توحید کے بدر منیر کا نکل آنا کیوں ناجائز ہے ۔ حل لغات : صور : نرسنگاہ ۔ ملکوت : بادشاہت نصرت عالم فرشتگان ، عالم ارواح ، جن ، جنون بمعنی چھپانا ۔