6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsسراج البیان

Ayahs 6:78–80

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج چمکتا دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے ، یہ سب سے بڑا ہے ، پھر جب وہ بھی چھپ گیا ، تو کہا کہ اے قوم میں ان سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو ، بیزار ہوں (ف 1) ۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے آسمان و زمین کے خالق کی طرف ایک طرفہ ہو کے اپنا منہ کیا ہے ، میں مشرکوں میں نہیں ۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا ، وہ بولا کیا تم خدا کے بارہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو ، حالانکہ اس نے مجھے ہدایت کی اور میں تمہارے معبودوں سے جن کو تم خدا کا شریک کرتے ہو نہیں ڈرتا ، مگر یہ کہ میرا رب ہی کچھ چاہے ، علم کے لحاظ سے میرا رب ہر شئے پر حاوی ہے ، تم دھیان نہیں کرتے ؟

سیر ملکوت : (ف 1) ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے انتقالات ذہنی یا واردات توحید کا بیان کیا گیا ہے ، یعنی یہ کہ کیونکر وہ توحید کے راز تک پہنچے جبکہ ان کے گروہ پیش شرک وبت پرستی کی آندھیاں چل رہی تھیں ، یہ واضح رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کے لئے بھی چاند اور تاروں کو معبود نہیں مانا ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) فطرتا سلجھے ہوئے دماغ کے آدمی تھے ، وہ فورا بھانپ گئے کہ چمکتے تاروں اور درخشان ‘ مہتاب وجہانتاب میں کوئی بھی خدا ہونے کا استحقاق نہیں رکھتا ، کیونکہ یہ سب افول وزوال سے دوچار ہوتے ہیں البتہ صرف ایک ذات ہے جسے اللہ کے پروقار لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ، اور وہ وہ ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ، ابراہیم (علیہ السلام) کے سلسلہ فکر کو اس انداز میں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کواکب پرست حضرات توحید کی طرف رجوع کریں ، اور وہ ان حقائق پر غور کریں ، جنہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا ہے ۔ توحید دراصل انسانی غور وفکر کا معراج کمال ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس کاوش فکر کو سیر ملکوت سے تعبیر کیا ہے ۔ حل لغات : بازغۃ : چمکتا ہوا ، عربی میں شمس مؤنث ہے ، افلت : غروب ہوگیا ، چھپ گیا ، بریئ : پاک ہونا ، آزاد ہونا ۔
Ayahs 6:81–82

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں کیوں ان سے ، ڈروں جن کو تم شریک کرتے ہو ، اور تم اس سے نہیں ڈرتے کہ تم خدا کے ساتھ ایسوں کو شریک کرتے جن کی اس نے تم پر کوئی سند (ف 1) ۔ نہیں اتاری ، سو اب دونوں فرقوں میں سے امن کا کوئی زیادہ حقدار ہے ، اگر تم سمجھ رکھتے ہو ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم (شرک) نہ ملایا ، انہیں کے لئے امن ہے ، اور وہی راہ ہدایت پر ہیں ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ایک صادق الخیال انسان سے بت پرستی کی کوئی توقع نہیں ، کی جاسکتی ، وہ جانتا ہے کہ یہ بےجان عقیدہ ہے ، اور یہ معبود ان باطل کسی طرح کا گزند نہیں پہنچا سکتے ۔ (آیت) ” مالم ینزل بہ علیکم سلطنا “۔ سے غرض یہ ہے ، کہ شرک کی تائید میں عقل وفکر کے لئے قطعا گنجائش نہیں ۔
Ayahs 6:83–86

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابل میں دی تھی ، ہم جس کے چاہیں اور جسے بلند کریں ‘ بیشک تیرا رب (ف 2) ۔ حکمت والا خبردار ہے ۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) بخش دیا ، سب کو ہم نے ہدایت کی ، اور پہلے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت کی تھی ، اور اس کی اولاد میں سے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور مو سے (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت کی تھی ، اور ہم یوں نیکوں کو بدلہ دیتے ہیں ۔

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو ، سب نیک بختوں میں تھے ۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو ، اور سب کو ہم نے سارے جہان پر فضیلت دی ۔

حجت حق : (ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز استدلال کی تعریف کی ہے اسے حجت حق اور برہان قرار دیا ہے ، اور پھر یہ بیان فرمایا ہے کہ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ یعنی توحید ہی رفع درجات کا سبب ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی تفرید وتجرید بہترین مشغلہ ہے ، وہ شخص جو مشرک ہے ، معرفت کے بام بلند تک اس کی رسائی ناممکن ہے ، کوئی نیکی اور کوئی عبادت اسے خدا تک نہیں پہنچا سکتی ، اور وہ جو توحید کا قائل ہے توحید پر عامل ہے ، اس کے لئے درجات و مراتب ہیں ، تشریف و تقرب ہے ، وہ اس قابل ہے ، کہ اللہ اسے اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔ حل لغات : حجتنا : حجت کے معنی مضبوط اور ناقابل تردید دلیل کے ہیں ۔
Ayahs 6:87–88

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے باپ دادوں ، اور ان کی اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو ، اور ہم نے انہیں برگزیدہ گیا (ف 1) ۔ اور راہ راست کی ہدایت کی ۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ‘ ایسی ہدایت کرے ، اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے ۔

(ف 1) ان آیات میں توحید کے علمبرداروں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی ہے اور بتایا ہے ، کہ ان کے تمام فضائل ان کی ساری بزرگیاں محض اس وجہ سے تھیں ، کہ یہ لوگ موحد تھے خدا کے پرستار تھے ، صراط مستقیم پر گامزن تھے ، صداقت ، اور سچائی کے رہ سپار تھے ، ورنہ شرک اور بت پرستی اعمال کر ضائع کردیتی ہے ۔ ” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور شریعت اور (ف 1) ۔ نبوت دی ، پس اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان پر ایک قوم مقرر کی ہے ‘ وہ ان باتوں کے منکر نہیں ۔

(ف 1) کتاب حکم اور نبوت ایک ہی چیز کے تین پہلو ہیں یعنی انہیں کتاب یا پروگرام دیا گیا ، حکم کے معنی پیغمبرانہ اجتہاد کے ہیں ، اور نبوت کے معنی اصابت اعمال کے ہیں ۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں ‘ جنہیں خدا نے ہدایت کی تھی ، تو تو ان کی ہدایت (ف 2) ۔ پر چل ، تو کہہ کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کچھ مزدوری نہیں مانگتا ، یہ تو جہان والوں کے لئے محض نصیحت ہے ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ میں اور انبیاء گزشتہ میں قطعا امتیاز موجود نہیں ۔ سب کی راہ ایک ہے منزل مقصود ایک ہے ، طریق تگ و دو ایک ہے ، سب ایک خدا کی طرف بلاتے ہیں ، سب شرک کی تردید کرتے ہیں ، سب توحید کی تلقین کرتے ہیں ، اور سب مخلص ہیں ، سوا اللہ کے اور کسی سے ضروری نہیں چاہتے ۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسے کہ اس کی قدرت جاننی چاہئے تھی (ف 3) جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ، تو کہہ جو کتاب موسیٰ لایا تھا وہ کس نے نازل کی تھی ؟ وہ لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت ہے تم نے اسے ورق ورق کر رکھا ہے ان کو تم ظاہر کرتے ہو ، اور بہت کچھ چھپا رکھتے ہو ، اور اس تورات میں تمہیں وہ باتیں سکھلائی گئیں تھیں جو نہ تم جانتے تھے اور تمہارے باپ دادے ، تو کہہ اللہ ہی نے اتاری ، پھر انہیں چھوڑ دے کہ اپنی بک بک میں کھیلا کریں ۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے برکت والی ہے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لئے نازل کی ہے کہ تو اس سے اصلی شہر (مکہ) اور اس کے نواحی کو ڈرائے ، اور جو آخرت کو مانتے ہیں ، وہ قرآن کو مانتے ہیں ، اور وہ اپنی نماز سے خبردار ہیں ۔

ما قدرو اللہ حق قدرہ : (ف 3) سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے سب کو اسی نے خلعت حیات سے نوازا ہے ، اسی نے زندہ رکھا اور زندگی کے لوازمات پورے کئے وہی سنتا ہے ، وہی جانتا ہے ۔ دکھ ، درد اور تکلیف ومصیبت میں اسی کی کارسازی بروئے کار آتی ہے ، وہ نہ چاہے تو دنیا میں پتہ نہ ہل سکے ، یہ سب اس کے انعامات ہیں ، مگر انسان ہے کہ اسے نہیں پہچانتا ۔ حق قدرہ : سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ کی معرفت کی کوئی حد ہے کس کے بس میں ہے کہ وہ باندازہ نعمت اس کا شکریہ ادا کرسکے ؟ ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ہزار در ہزار نعمتوں کو مرہون منت ہے پھر انسان کے لئے یہ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی تعریف و ستائش سے کما حقہ عہدہ برآہو سکے ، غرض یہ ہے کہ تم جو کچھ اور جس حد تک کرسکتے ہو ، اس سے تو دریغ نہ کرو یہ تو بالکل سہل اور ممکن ہے ، کہ تمہارا سر کسی دوسرے کے آستانے پر نہ جھکے ، تم شرک سے باز آجاؤ اور ایک اللہ سے تعلق خاطر رکھو ۔ اس کے تشکر کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرو ، کیونکہ وہ شخص جو اللہ کے حکموں کو نہیں مانتا وہ اس کی ربوبیت کی نعمتوں سے ناآشنا ہے ، حل لغات : حبط : ضائع ہوگیا ، عمل میں حبط اعمال کے معنی عمل کی نااستواری ہیں ۔ قراطیس : جمع قرطاس بمعنی کاغذ ، ورق : ام القری : مکہ کا نام ، کیونکہ اس نواع کی تمام آبادیوں میں یہ پہلی آبادی ہے ۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ، یا کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے ‘ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نازل نہ ہوئی ہو ‘ اور جو کہے کہ جیسے اللہ نازل کرتا ہے ، میں بھی ویسا نازل کروں گا (ف 1) ۔ اور کاش تو اس وقت ان کی کیفیت دیکھے جب ظالم موت کی بیہوشی میں ہوں گے ، اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلا کے کہیں گے ‘ اپنی جانیں نکالو ، آج تمہیں جزا میں ذلت کا عذاب ملے گا ، یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم خدا پر جھوٹ بولتے ، اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے ۔

تین قسم کے ظالم : (ف 1) وہ شخص جو اللہ کے دین کی طرف غلط باتیں منسوب کرتا ہے بدعات وسیئات کو دین کے نام سے پھیلاتا ہے اور رسوم وعوائد کو دین سمجھتا ہے ، ظالم ہے مفتری ہے ۔ وہ شخص جو مدعی نبوت ہے الہام ووحی کو اپنی ذات سے منسوب کرتا ہے ، اپنی رسالت کا اعلان کرتا ہے ، اور براہ راست اللہ سے استفادہ معارف کا دعویدار ہے ، حالانکہ خدا نے اسے منصب نبوت پر فائز نہیں کیا ، اسے پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا ، اور الہام ووحی سے قطعا محروم ہے ظالم ہے ، اور اللہ کی جانب غلط باتوں کو منسوب کرتا ہے اسی طرح وہ بھی ظالم اور مفتری علی اللہ ہے ، جو خدا پیغام کو ٹھکراتا ہے ، اس پر عمل پیر نہیں ہوتا ، اور کہتا ہے میں بھی اسی طرح کا قرآن لکھ سکتا ہوں ۔ تینوں کی سزا یہ ہے کہ موت کی سختیاں جھیلیں گے فرشتے ذلت و حقارت سے پیش آئیں گے ، اور انہیں بدترین رسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا ، مرنے کے بعد ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس تمرد وکبر کے لئے کیا وجہ جواز ہے ، یہ وقت نہایت کڑا اور ذلیل کن ہوگا ، کوئی جواب نہ سوجھے گا اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جھونک دیئے جائیں گے ، مقصد واضح ہے کہ افتراء علی اللہ بہت بڑا جرم ہے ، جس کی سزا موت سے شروع ہوگی ۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ جھوٹے نبی کے لئے فورا مرجانا ضروری ہے اور تیس سال تک اگر کوئی مدعی نبوت زندہ رہ جائے تو اس کی صداقت میں شبہ نہیں ہو سکتا غلط کہتے ہیں رسول کے معنی تو یہ ہیں کہ تیس سال تک خدا جھوٹ کو برداشت کرلیتا ہے مگر اس سے بعد نہیں آیت زیر بحث سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں ڈھیل دیتا ہیں اور موت کے بعد ان کی آنکھیں کھلتی ہیں اس وقت ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ظلم اختیار بہت سنگین جرم ہے ۔ حل لغات : غمرات : جمع غمرۃ ۔ بمعنے استعمال ، الھون : ذلت رسوائی ۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور تم ہمارے پاس ایک ایک کر کے آئے جیسے ہم نے پہلی دفعہ تمہیں پیدا کیا تھا ، اور جو اسباب ہم نے تمہیں دیا تھا اس کو تم پس پشت چھوڑ آئے ہو ، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تمہارا یہ دعوی تھا کہ وہ تمہارے شریک ہیں تمہارے درمیان کا پیوند ٹوٹ گیا ، اور جو دعوی تم کرتے تھے جاتا رہا (ف 1) ۔

عبرتناک انجام : (ف 1) وہ لو جو دنیا میں اللہ کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کی دلفریبیاں انہیں غفلت و انکار پر مجبور کردیتی ہیں اور وہ جو مقدس سہاروں کے بل پر زندہ ہیں جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد ہمارے شرکاء اور معبود ہمیں خدا کے عذاب سے بچائیں گے ، انہیں اس عبرتناک انجام پر غور کرنا چاہئے کہ وہ تنہا خدا کے حضور میں جائیں گے ، جاہ وحشم کے تمام سامان یہیں رہ جائیں گے ، آسائش وتکلفات ان کا ساتھ نہیں دیں گے ، اور وہ معبود اور سفارشی جن پر ان کا بہت دعوی ہے صاف مکرجائیں گے ، کوئی رشتہ ارادت اور تعلق نیاز مندی باقی نہیں رہے گا (آیت) ” لقد تقطع بینکم “ کا منظر ہوگا ، شیوخ بدعت اور پیران بدکردار مریدوں سے بھاگیں گے اور مرید ہوں گے کہ لپک لپک کر آگے بڑھیں گے ، اس وقت کتنا حسرتناک منظر ہوگا ،
Ayahs 6:95–97

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھوڑ کے اگاتا اور مردہ سے زندہ اور زندہ میں سے مردہ نکالتا ہے ، یہی اللہ ہے ، پھر کہاں الٹے جاتے ہو (ف 2) ۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

پھوڑ نکالنے والا صبح کی روشنی اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کے لئے بنایا ہے یہ اندازہ ہے زور آور خبردار کا ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے تارے بنائے ، تاکہ تم جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں ان سے راہ پاؤ ، ہم نے اہل علم کو یہ آیتیں کھول سنائیں ۔

(ف 2) اصل سہارا وہ ہے جس کے اختیارات وسیع ہیں جو انگوریوں کو پیدا کرنے والا جو موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے ، اور زندگی کو موت میں جو رات کی تاریکی سے صبح کو ہویدا کرتا ہے ، اور رات کو آرام دہ بناتا ہے ، جس نے سورج اور چاند کے لئے ایک خاص نظام مقرر کر رکھا ہے ، اسے عزیز وعلیم کو چھوڑ کر تم کہاں بھاگ رہے ہو ۔ حل لغات : فالق : مادہ فلق پھاڑنا ، چیرنا ۔ حسبانا : بمعنی باقاعدہ حساب سے ۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی ہے (ف 1) ۔ جس نے تمہیں ایک شخص (آدم) سے پیدا کیا پھر کہیں قرار گاہ ہے اور کہیں سپردگی کا مقام ہے بیشک سمجھ داروں کو ہم نے آیتیں کھول سنائیں ۔

(ف 1) خدا کی صفات کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا ہے کہ تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے یعنی تم میں باہمی کوئی امیتاز نہیں سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو ، اور احترام کے مستحق ۔ نیز یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان تمام آیات پر غور کرنا علقمندی اور دانائی ہے ۔ حل لغات : مستقر : مقام استقرار ۔ مستودع : مقام وداع ، عاقبت اور دنیا سے تعبیر ہے ۔
Ayahs 6:99–100

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر اس سے ہم نے ہر قسم کی روئیدگی اگائی ، پھر اس میں سے ہم نے سبزہ نکالا ، جس سے ہم دانے نکالتے ہیں ایک پر ایک چڑھا ہوا ، اور کھجور کے گابھے میں گچھے لٹکتے ہیں ‘ اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار نکالتے ہیں ، ہم شکل ، اور جدے جدے ، اس کے پھل کی طرف دیکھو ، جب پھل لاتا ہے اور اس کا پکنا دیکھو ، اس میں مومنین کے لئے نشانیاں ہیں (ف 1) ۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور جنات کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ اسی نے انہیں پیدا کیا اور بےسمجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشتے ہیں ‘ وہ پاک ہے اور ان باتوں سے جو وہ بتاتے ہیں بہت دور ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ ایماندار لوگ اللہ کی نعمتوں کو نگاہ میں رکھتے ہیں اور اس کے احسانات کو بھولتے نہیں وہ گردوپیش کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو ہر بات میں انہیں اللہ کی قدرتیں نظر آتی ہیں لہذا شرک میں مبتلا نہیں ہوتے کائنات کا ذرہ ذرہ انہیں دعوت توحید دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔
Ayahs 6:101–102

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا نئی طرح (بلامادہ) بنانے والا ہے اس کے بیٹا کیونکر ہوگیا ، حالانکہ اس کے کوئی جورو نہیں ، اور اس نے ہر شئے کو پیدا کیا ، اور وہ ہر شئے سے واقف ہے (ف 2) ۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے سو تم اس کی عبادت کرو ، اور وہ ہر شئے کا نگہبان ہے ۔

(ف 2) مکہ کے مشرک جنات سے ڈرتے تھے اور انہیں براہ راست متصرف خیال کرتے تھے ، نیز فرشتوں کے متعلق کہتے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں عیسائیوں کا عقیدہ مشہور ہے ، وہ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ بےعلمی کی باتیں ہیں ، خدا ان باتوں سے بالا وبلند ہے ، جب اس کے کوئی بیوی ہی موجود نہیں تو بیٹا کیا ہوگا ۔ حل لغات : خرقوا : مادہ خرق ، یعنی چھیلنا ، یا تراش لینا ، مقصد یہ ہے کہ یہ عقیدہ از خود بنا لیا گیا ہے ، نبوت موجود نہیں ، بنات : لڑکیاں ۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

آنکھیں اسے نہیں پا سکتیں ‘ اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے ، اور وہ باریک بین خبر دار ہے (ف 1) ۔

لا تدرکہ الابصار : (ف 1) اسلام نے جو اللہ تعالیٰ کا تخیل پیش کیا ہے وہ نہایت بلند ہے ، اس میں تحیم اور تشکل کو قطعا دخل نہیں ، وہ کہتا ہے آنکھیں جن کی پہنچ ادیات میں سے سب سے زیادہ وسیع ہے اور ہمہ گیر ہے ، اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں ، ان میں وہ روشنی اور بینائی ہرگز موجود نہیں ہے ، جس سے رب السموت کا احاطہ کیا جاسکے ، مگر بایں عظمت وعلو ، وہ ہمارے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے ، وہ باوجود مادیات سے الگ اور متعال ہونے کے ہماری باریک سے باریک حاجات کو بھی جانتا ہے ، اس لئے کہ لطیف ہے اس آیت سے قیامت میں عدم رؤیت کا ثبوت نہیں ملتا ، قرآن حکیم میں نص موجود ہے ، (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ “۔ یعنی کچھ خوش بخت چہرے ایسے بھی ہوں گے جو اس کے دیدار سے محروم نہیں رہیں گے ، مقصد یہ نہیں کہ اس وقت ہم اللہ تعالیٰ کو ویسے ہی دیکھیں گے جیسے دنیا کی عام چیزوں کو دیکھتے ہیں بلکہ رؤیت سے مقصود یہ ہے کہ ہم وہاں عجیب ناقابل بیان مسرت حضور ہی محسوس کریں گے اور اس کی جلوہ آرائیوں سے آنکھیوں کو ٹھنڈک پہنچائیں گے یہ تقرب و حضور کا انتہائی درجہ اور مقام ہے جو مسلمانوں کو حاصل ہوگا ۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

بیشک تمہارے رب سے تمہارے (ف 2) ۔ پاس دلیلیں آچکیں ‘ پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے ہے اور جو اندھا رہا سو اپنے برے کو ، اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں ۔

بصآئر : (ف 2) غرض یہ ہے کہ یہ واشگاف حقائق ہیں جنہیں اسلام کی صداقت اور سچائی کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے ، اور اگر ان دلائل کے بعد بھی جو لوگ ہدایت سے محروم رہیں انہیں چاہئے کہ اپنی کور باطنی کا ماتم کریں ۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور یوں ہم پھیر پھیر کر آیتیں بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ کہیں کہ تو تو پڑھا ہوا ہے (ف 3) ۔ اور اس لئے کہ ہم اس کو سمجھ والوں کیلئے بیان کریں ،

(ف 3) ” ولقولوا درست “ غرض یہ ہے حضور ﷺ پڑھے لکھے تو تھے نہیں مگر قرآن کو پیش کیا ہے تو معارف وحقائق سے معمور اس لئے لامحالہ یہی کہیں گے ، قرآن کسی دوسرے شخص کی تصنیف ہے ، بیوقوف یہ نہیں سوچتے کہ اس تسلسل اور پاکبازی کے ساتھ اس تفصیل اور استقلال کے ساتھ کہیں دوسروں کی باتوں کو پیش کیا جاسکتا ہے ،
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

تو اسی وحی پر چل جو تیرے رب سے تجھے آئے ، اس کے سو کوئی معبود نہیں ہے ، اور مشرکوں سے منہ پھیرلے (ف 4) ۔

(ف 4) یعنی ان لوگوں کے اعتراضات بالکل سطحی ہیں آپ بلا تاسف کے احکام الہی کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا ، تو وہ شریک نہ ٹھہراتے اور تجھے ہم نے ان پر نگہبان نہیں بنایا ، اور تو ان پر داروغہ ہے ۔ (ف 5) ۔

(ف 5) غرض یہ ہے کی اختلاف ناگزیر ہے اللہ چاہتا ہے حق و باطل میں امتیاز رہے ، دن اور رات میں تفاوت رہے ، تاکہ موحدین کو اجر دیا جائے اور وہ جو شرک کی تاریکیوں میں گرفتار ہیں ، انہیں سزا دے ، مقصد یہ نہیں کہ خدا شرک وبت پرستی سے خوش ہے ، بلکہ اس کی مشیت تکوینی کا اقتضاء یہی ہے کہ حق کے ساتھ ساتھ باطل کو بھی رکھا جائے ۔ مشیت تشریعی اور مشیت تکوینی میں یہی مابہ الامتیاز ہے ۔
Ayahs 6:108–110

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور تم مسلمان ان کے معبودوں کو جن کو وہ خدا کے سوا پکارتے ہیں ‘ برا نہ کہو کہ وہ بےسمجھے سرکشی سے اللہ کو برا کہیں گے اسی طرح ہم نے ہر امت کے لئے ان کے اعمال اچھے دکھلائے ہیں ‘ پھر انہیں اپنے رب کی طرف جانا ہے سو وہ انہیں جتائے گا جو وہ کرتے تھے ۔ (ف 1) ۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور (اہل مکہ) بتاکید اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس ایک معجزہ بھی آئے تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے ، تو کہہ معجزے تو خدا کے پاس ہیں ‘ اور تم (مسلمانوں) کو کون سمجھائے کہ جب ان کے پاس معجزہ آئے گا تو وہ جب بھی نہ مانیں گے ۔

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جیسا کہ وہ پہلی ہی بار اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں چھوڑ دینگے ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے ۔

اسلام کی بےمثال روا داری : (ف 1) بست پرستی کی اسلام نے بیحد مذمت کی ہے اور اس عقیدہ کو بےدلیل اور جاہلانہ عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر باوجود اس کے رواداری کا یہ عالم ہے کہ بتوں کو گالیاں دینے سے روکا ہے یعنی ایک غلط اور بےحقیقت عقیدہ کا احترام بھی اس حد تک ضروری ہے کہ اسے اشتعال انگیز صورت میں پیش نہ کیا جائے ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ جاہل اور ناآشنائے تہذیب مشرک اللہ کو گالیاں دینا شروع کردیں ، یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے دلوں کو بےوسیع بنا دیا ہے ، مسلمان اور تعصب کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، وہ لوگ جو مخالفین کے صلحاء اور نیک انسانوں کو گالیاں دیتے ہیں وہ اسلام کے مخالف ہیں اور تمام اس بدزبانی کے ذمہ دار ہیں جو مخالفین سے وہ سنتے ہیں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خود خوش گفتار رہو ، اور دوسروں سے خوش گفتاری کی توقع رکھو ۔ حل لغات : جھدایمانھم : مضبوط قسمیں ۔ یعمھون : مادہ عمہ ، بےبصیرتی کور باطنی ، اور دل کا نور معرفت سے محروم ہوجانا ۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے نازل کریں ، اور ان سے مردے باتیں کریں اور ہم ہر شئے کو ان کے سامنے جلا کر کے کھڑا کریں ، تو بھی وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے ، جب تک کہ خدا نہ چاہے لیکن ان میں اکثر لوگ نادان ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے تمام مطالبات کو پورا بھی کردیا جائے جب بھی یہ منکر ہی رہیں گے ۔ کیونکہ اسلام کو قبول کرلینے کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام اور نام و خرافات سے دستبردار ہوجائیں ، ایثار و تعاون کو شیوہ بنا لیں ذاتی وجاہتیں اور اعزاز چھوڑ دیں ، اللہ کے لئے جئیں اور اللہ کے لئے مریں ، دنیا کی بجائے دین نصب العین قرار دیں ، مادیت سے علیحدہ ہوجائیں ، دن رات روحانیت کے درپے ہیں ، ایمان ویقین کی دولت کو حاصل کرنے کے لئے آخری لمحہ حیات تک صرف کر ڈالیں ، اور یہ ان کے لئے ازحد مشکل ہے ، کیونکہ ان کے دلوں میں کفر سرایت کرچکا ہے اور ایمان کیلئے جگہ باقی نہیں رہی ۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیطان آدمی اور شیطان جن بنائے کہ فریب دینے کی طمع کی ہوئی باتیں ایک دوسرے کے جی میں ڈالتے ہیں ، اور اگر تیرا رب چاہتا ، تو وہ ایسا نہ کرتے ، تو انہیں چھوڑ دے (ف 2) ۔ اور جو کچھ کہ باندھ لیتے ہیں ۔

(ف 2) شیطان کی دوقسمیں ہیں ، ایک تو وہ ہے جو نظروں سے اوجھل ہے دل میں وسوسہ انداز ہوتا ہے اور حواس باطنی پر چھا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو چلتا پھرتا محسوس ہوتا ہے ، یہ انسانوں میں سے بدترین نوع کے لوگ ہیں ، ان کا کام یہ ہے کہ برائیوں کو سنوارکر پیش کریں ، اور گناہ کی باتوں کو ملمع اور فریب کا جامہ پہنائیں تاکہ عوام نہ سمجھ سکیں ، اور پرہیزگاری کی نعمت سے محروم رہ جائیں ۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور وہ (شیطانی الہام) اس لئے ہے تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اسکی طرف مائل ہوں اور تاکہ وہ اس سے راضی ہوں اور جو برے کام کر رہے ہیں کرتے رہیں (ف 3) ۔

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری محسوس کرنے والا شخص شیطان کے پھندے میں نہیں پھنستا ، ایسی باتوں کی طرف وہ ہوتا ہے جو نادان ہو ، اور آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو ، یعنی اعمال کی اہمیت سے بےپروا ہو ۔ حل لغات : قبلا : قبیل کی جمع ہے بمعنی گروہہا یا مصدر ہے ۔ زخرف القول : ملمع سازی کی یعنی ایسی بات جو بظاہر آراستہ اور بباطن خراب ہو ،
Ayahs 6:114–115

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

سو کیا میں اللہ کے سوا کسی غیر منصف مقرر کروں اور اسی نے تمہاری طرف واضح کتاب نازل کی اور جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ واقعی تیرے رب کی نازل کی ہوئی ہے پس تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شک کرنے والوں میں نہ ہو (ف 1) ۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور سچ اور انصاف کے ساتھ تیرے رب کی بات پوری ہوئی اس کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور وہ سنتا جانتا ہے ۔

حکم صرف خدا ہے : (ف 1) دنیا میں کوئی شخصیت ایسی نہیں جس کی ہر بات براہ راست حجت وسند ہو ، انبیاء (علیہم السلام) کا منصب یہ ہے کہ وہ اللہ کی اجازت سے لوگوں کو رشد وہدایت کی دعوت دیتے ہیں ، اور دراصل اللہ کی جانب بلاتے ہیں ، اس لئے براہ راست حکم اور سند صرف اللہ ہی کی ذات ہے ۔ مفصلا : سے غرض یہ ہے کہ قرآن میں حضور ﷺ کی نبوت کے دلائل تفصیل سے موجود ہیں ، چناچہ اہل کتاب کا حق شناس طبقہ کھلے طور پر حضور ﷺ کی صداقت کا اعتراف کرتا ہے ۔ تفصیل کا لفظ قرآن عظیم میں جہاں جہاں آیا ہے اس سے غرض دلائل نبوت یا دلائل اسلام کی تفصیل ہے اور اس کا تعلق غیر مسلموں سے ہے یعنی وہ اس نقطہ نگاہ سے جب قرآن کو دیکھیں گے ، تو مکمل اور مفصل پائیں گے ۔