3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsسراج البیان

Ayahs 3:197–199

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ ان کے لئے تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا بچھونا ہے ۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، مہمانی ہے خدا کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس موجود ہے وہ نیکوں کے لئے بہتر ہے ۔

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے بعض ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے اور اس پر بھی جو تم (مسلمانوں) پر نازل ہوا اور اس پر بھی جو ان پر نازل ہوا خدا کے آگے ڈرتے ہیں اور خدا کی آیتوں پر حقیر قیمت نہیں لیتے انہیں کو ان کے رب سے بدلہ ملے گا ، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو قطعا متعصب نہیں ، وہ جب کتاب اللہ کو سنتے اور سمجھتے ہیں تو ایمان لے آنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن آیات میں اہل کتاب کے ایمان لے آنے کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد کامل اسلام قبول کرنا ہے نہ کہ صرف ایمان باللہ کیونکہ اس آیت میں (آیت) ” وما انزل علیکم “ کی تصریح موجود ہے ۔ حل لغات : تقلب : چلنا پھرنا ۔ نزل : مہمانی ، جو شے سب سے پہلے مہمان کے سامنے رکھی جائے ، اہل جنت کو مہمان کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح مہمان کی خاطر ومدارات میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا جاتا ، اسی طرح یہ لوگ مہمانوں کی طرح خدا کے ہاں رہیں گے ۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

مومنو ! ثابت قدم رہو اور مضبوطی پکڑو اور (جہاد میں) لگے رہو اور اللہ ڈرتے رہو ۔ شاید تم اپنی مراد کو پہنچو (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں سورة ال عمران کا اختتام ہے اور اس میں تقریبا تمام ان اوصاف کا ذکر کیا ہے جو کامیاب انسان کے لئے ضروری ہے ، صبر ‘ مصابرہ اور رباط ، یہ تین چیزیں ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے صبر کے معنی حسب ذیل ہیں :۔ 1۔ توحید ومعرفت میں غور وفکر ۔ 2۔ فرائض ومندوبات پر مدامت ۔ 3۔ مشتبہات سے احتراز ۔ کیونکہ ان ہر سہ معافی میں مشقت وکوفت ہے جس کا برداشت کرلینا صبر ہے ، وقت نظر کی مشکلات سے کون ناواقف ہے ، فرائض ومندوبات پر مداومت بھی دشوار ہے ، اور منہیات سے احتراض سے احتراز تو بہت ہی مشکل امر ہے ۔ اس کے بعد ” مصابرہ “ کا درجہ ہے ، مصابرہ کہتے ہیں ہر اس تکلیف کے برداشت کرنے کو جس کا تعلق دوسرے نفس سے ہے یعنی اعزہ و اقارب کی تکلیفیں ‘ اہل ملک وملت کی تکلیفیں اور مخالفین غیر حکومت کے مصائب ومظالم ، جو شخص ان مشکلات کو برداشت کرلے وہ مصابر ہے ۔ اس کے بعد ” رباط “ کی تلقین ہے ، رباط لغۃ گھوڑے باندھنے کو کہتے ہیں مقصد یہ ہے کہ مخالفین کے لئے ہر وقت خیل وحشم کے ساتھ تیار رہو ۔