3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsسراج البیان

Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

سو خدا کی مہربانی ہے کہ تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لئے نرم دل ہوگیا اور اگر تم سخت گو اور سخت دل ہوتا تو وہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے ، سو تو ان کو معاف (ف 2) کر اور ان کے لئے مغفرت مانگ اور کام میں ان سے مشورہ لے ۔ (ف 3) پھر جب تو اس بات کا قصد کرچکے تو تو خدا پر بھروسہ کر ، بیشک خدا توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ (ف 1)

بادشاہ اقلیم وعفو : (ف 2) عسکری قانون یہ ہے کہ جو لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں ، انہیں جان سے مار دیا جائے ، مگر شہنشاہ اخلاق چونکہ صرف سالار عسکر ہی نہیں تھے ‘ طبیب امراض قلوب بھی تھے ‘ اس لئے لوگوں کو معاف کردیا اور خندہ پیشانی سے پیش آئے ، اس آیت میں اسی خلق عظیم کی تشریح ہے کہ آپ رحمت خداوندی کے مظہر اتم ہیں اور بالخصوص خدائے رحیم نے آپ ﷺ کو لوائے عفو واخلاص دے کر بھیجا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہزاروں پروانے آپ ﷺ کے گردا گرد جمع ہیں اور اکتساب ضو میں مصروف ہیں ، پس آپ ﷺ ان سے عفو و استغفار کا سلوک روا رکھیں اور ہر بات میں ان سے مشورہ کرلیں تاکہ ایک طرف ان کی دلجوئی ہوجائے اور دوسری طرف یہ لوگ اپنی ذمہ داری محسوس کریں ۔ شورائی نظام حکومت : (ف 3) باوجود اس کے کہ حضور ﷺ صاحب الہام ووحی ہیں ، ہر آن مظہر مہبط انوار و تجلیات ہیں ، مجبور ہیں کہ نظام حکومت شورائی رکھیں ، آپ ﷺ کا نطق ، نطق خدا ہے ، پھر بھی خطاکاروں سے مشورہ طلبی کا حکم ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام بہرحال ایک ایسے نظام حکومت کا مؤید ہے جس میں تمام قوم کے جذبات وخیالات کی صحیح صحیح ترجمانی ہو ۔ یورپ آج جمہوریت کے تخیل کو وضع کرسکا ہے اور اس میں بھی صدہا نقائص ہیں ، مگر اسلام آج سے تیرہ صدیاں پہلے اس حقیقت کو بیان کرچکا ہے ۔ صدر شورائیہ کے اختیارات : (ف 1) (آیت) ” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ “۔ میں رسول خدا ﷺ کو مخاطب فرمایا ہے ، یعنی مشورہ طلبی کا مطلب صرف یہ ہے کہ قوم کے خیالات معلوم کئے جائیں ، مگر آخری اختیارات آپ ﷺ کو حاصل ہیں ۔ اس سے موجودہ نظام جمہوریت کا بنیادی نقص واضح ہے یعنی امیر جماعت یا خلیفہ صرف نمائندہ ہی نہیں ہوتا ، بلکہ قائد بھی ہوتا ہے ، اس لئے صرف کام لینا چاہئے موجودہ نظام میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ صدر محض نمائندہ ہوتا ہے اور اس طرح ووٹ دیانتداری پر مبنی نہیں ہوتے ، محض پارٹی بازی کے لئے ووٹ بڑھائے جاتے ہیں ، صدر کو آخری اختیارات تفویض کردینے کے معنی یہ ہیں کہ پارٹی بازی ختم ہوجائے گی ،
Ayahs 3:160–161

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو اس کے بعد کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور چاہئے کہ ایماند ار خدا ہی پر بھروسہ رکھیں ۔

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نبی ﷺ کی شان نہیں کہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا ، قیامت کے دن اس چیز کو کہ خیانت کی لائے گا ، پھر ہر کسی کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی (علیہ السلام) انتہا درجہ کا دیانت دار ہوتا ہے ، اس کی طرف ادنی خیانت کا انتساب بھی گناہ ہے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ بعض شرفاء نے خواہش کی تھی کہ ہمیں ہمارے مقررہ حق سے کچھ زاید دیا جائے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی (علیہ السلام) اس نوع کی غیر منصفانہ تقسیم کا ارتکاب نہیں کرسکتا ۔ لفظ غلول بہرحال عام ہے نبی (علیہ السلام) ہر نوع کی خیانت سے بالا ہے ۔ حل لغات : یغل : مصدر غلول ، خیانت ، بددیانتی ۔ بآء ، لوٹا ۔ پھرا ۔ ماوی : ٹھکانا ، جگہ ۔
Ayahs 3:162–163

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی مرضی کے تابع ہے ‘ کیا اس کے برابر ہے جو خدا کا غصہ کما لایا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیسی بری جگہ ہے ۔

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

خدا کے نزدیک ان لوگوں کے درجے ہیں اور جو وہ کرتے ہیں ‘ خدا دیکھتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مجاہدین جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں وہ ان سے یقینا بہتر ہیں جو گھروں میں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔ مجاہدین کی نسبت ارشاد ہے کہ (آیت) ” ھم درجت “ یعنی وہ اپنی جانفروشیوں کی قیمت آپ ہیں ، وہ مجسمہ اجر وثواب ہیں ۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

بیشک خدا نے مومنوں پر احسان کیا کہ ان میں انہیں کے درمیان سے ایک رسول اٹھایا کہ اس کی آیتیں ان پر پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا اور کتاب اور کام کی بات سکھاتا ہے ، اگرچہ وہ پہلے صریح گمراہی میں تھے ۔ (ف 2)

نوع انسانی کا سب سے بڑا محسن : (ف 2) اس آیت میں اللہ نے اس احسان عظیم کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں نے کونین کی لذتوں کو حاصل کیا ، حضور ﷺ کی آمد سے پہلے مطلع عالم پر جہل وجمود کے تاریک بادل چھا رہے تھے ، دنیا اخلاقی برائیوں کی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ، ایران سے لے کر روم تک انسانیت کا کہیں نام ونشان نہ تھا ، ہندوستان جو حکمت و دانائی کے لئے ہمیشہ سے مشہور ہے ‘ اس وقت عقیم ہوچکا تھا ۔ زبردست زیردستوں کا خون چوس رہے تھے اور زیر دست نہایت انکسار کے ساتھ زندگی کے دن گزار رہے تھے ، علم کا آفتاب غروب ہوچکا تھا ، سارے عرب میں چند لوگ تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ، باقی جزیرہ جہل ونادانی کے اتھاہ سمندر میں غرق تھا ، ان حالات میں دنیا کا ہر ذرہ ایک آفتاب ہدایت کا منتظر تھا ، جو آئے اور دنیا والوں کو ثور وعرفان سیمجلی کو دے ، چناچہ وہ آیا ، فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا رات کو ظلمت دن کی تابندگی سے بدل گئی ، خلاق واصلاح کا غوغا بلند ہوا ، امن وصلح عام کی طرح ڈالی گئی اور ایک دفعہ پھر انسانیت کو معراج کمال پر پہنچا دیا گیا ، ساری دنیا حکمت ومعرفت کے نشے میں چور ہوگئی ، زیردست زبردست ہوگئے اور قلم کا پرچم نہایت شان سے لہرانے لگا ، یہ کیوں ہوا ؟ اس لئے جو رسول آیا ‘ وہ کامل تھا ، جہاں اس نے اللہ کی آیات کے تفصیل و توضیح کی ‘ وہاں تزکیہ وتطہیر سے بھی کام لیا ، جہاں دماغوں کو روشنی بخشی وہاں دلوں کی دنیا کو بھی جلوؤں سے معمور کردیا ۔ حل لغات : من : احسان کیا ۔
Ayahs 3:165–166

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا تم کو جب ایک مصیبت پہنچی اور تم ان کو (یعنی کفار مکہ کو) دو چند (یعنی قتل وقید) پہنچا چکے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی ، تو کہہ کہ یہ تمہاری جانوں کی طرف سے آئی بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور دو فوجوں کے مقابلہ کے دن جو مصیبت تم پر آئی ‘ خدا کے حکم سے آئی تھی اور اس لئے کہ خدا ایمان داروں کو ظاہر کرے ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ عارضی شکست پر گھبراؤ نہیں ۔ یہ سب کچھ خدائے متعال کی مرضی و ارادے سے ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ ایمان دار اور منافق میں امتیاز ہوجائے اور تم دوست اور دشمن کو پہچان لو ۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

نیز ان لوگوں کو ظاہر کرے جو منافق ہوئے اور انہیں کہا گیا کہ آؤ خدا کی راہ میں لڑو ۔ یا دشمنوں کو دفع کرو تو کہنے لگے ، اگر ہم لڑائی جانتے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ چلتے ، اس دن وہ لوگ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے (ف 2) اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور خدا خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ۔

(ف 2) اس آیت میں ترک جہاد کو کفر سے تعبیر کیا ہے ، یعنی وہ لوگ جو وقت آنے پر حیل وتدابیر تراشتے رہتے ہیں ‘ ان کی دوں ہمتی انہیں میدان جہاد میں نکلنے نہیں دیتی ، انہیں اپنے ایمان کی تجدید کرنا چاہئے ، مسلمان روز ازل سے توحید کا اقرار کرچکا ہے ، اس کے لئے ناممکن ہے کہ ایک لمحہ بھی کفر سے موالات رکھے ، کم از کم اس کے دل میں ضرور کفر و استبداد کے خلاف جذبات نفرت و حقارت موجزن رہتے ہیں اور اگر یہ بھی نہیں تو قرآن حمید کی یہ ڈانٹ سن رکھیں (آیت) ” ھم للکفر یومئذ اقرب منھم لل ایمان “۔ یعنی اس دن وہ لوگ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے ۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

وہ لوگ جو آپ بیٹھ رہے اور اپنے بھائیوں کو کہا کہ اگر وہ ہماری مانتے تو مارے نہ جاتے تو کہہ اب تم اپنی جانوں پر سے موت کو ہٹا دینا ، اگر تم سچے ہو ۔ (ف 1)

(ف 1) قعود استعارہ ہے تخلف عن الجہاد سے ، یعنی وہ منافقین جو جہاد میں شریک نہیں ہوتے اور طرح طرح کے فلسفے چھانٹتے ہیں ، جن کی حیثیت فریب نفس سے زیادہ نہیں ، وہ کہتے ہیں اگر مجاہدین جہاد میں شرکت نہ اختیار کرتے تو ضرور بچ جاتے آج بھی منافقین اور پست ہمت لوگوں کا یہی وطیرہ ہے ۔ جہاد اور قربانی کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں اور جب مجاہدین پابجولاں کشاں کشاں جیلوں میں جاتے ہیں تو یہ ناصح مشفق بن کر نہایت ہمدردانہ انداز میں کہتے ہیں کہ اس شورش کا کیا صلہ ملا ؟ یہی ناکہ یہ لوگ قید وبند کی سختیاں جھیلیں گے ۔ قرآن حمید نے ان کے ان اعذار باردہ کو اس لئے دوبارہ سہ بارہ ذکر کیا ہے ‘ تاکہ مسلمان ہر زمانہ میں منافقین کی وسوسہ پردازیوں سے محفوظ رہیں ، کیونکہ یہ گروہ دشمنوں سے بھی زیادہ مضر ہے ، دشمن تو واشگاف طور پر مقابلہ پر آتا ہے ، یہ مسلمان بن کر شجر اسلامی کی بیخ کنی میں مصروف رہتے ہیں ۔ جو سامنے سے آئے ، اس کا علاج تو ممکن ہے ، مگر گھن کا کیا علاج اس لئے اس گروہ سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ان کو مردے نہ سمجھو ‘ بلکہ وہ زندہ ہیں (ف 2) اپنے رب کے پاس رزق کھاتے ہیں ۔

شہید زندہ ہیں : (ف 2) منافقین نے جب عام مسلمانوں میں موت کا ڈر پیدا کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے شہداء کو حیات جاوید کی خوش خبری سنائی اور منافقین کو بتایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہ قابل صد رشک زندگی ہے اور تمہیں کوئی حق نہیں کہ تم انہیں عام انسانوں کی طرح مردہ قرار دو ، جو لوگ اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیتے ہیں ‘ خدا انہیں بہترین زندگی سے نوازتا ہے اور وہ صبح وشام اللہ تعالیٰ کے حضور میں انواع و اقسام کے مرزوقات سے کام ودہن کی تواضع کرتے رہتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ شہیدجس نوع کی زندگی بسر کرتے ہیں وہ ہماری زندگی سے مختلف ہے ، اتنا تو مسلم ہے کہ شہداء مرنے کے بعد شہید قرار پاتے ہیں ، اس لئے انہیں یہ کہنا کہ وہ میرے ہی نہیں یہ سراسر غلط ہے ، البتہ مرنے کے بعد ان کی روحانی زندگی اتنی پاکیزہ ‘ بلند اور شان دار ہے کہ اسے عام موت سے تعبیر کرنا جس سے تحقیر وتوہین ٹپکتی ہو ، گناہ ہے ۔ شہید زندہ ہیں ‘ خدا کے حضور میں ‘ تاریخ کے اوراق میں اور لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں ۔ ع ثبت است برجریدہ عالم دوام ما ۔ حل لغات : فرحین : جمع فرح ۔ خوش وخرم ۔
Ayahs 3:170–171

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو چیز اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دی ہے اس پر خوش ہیں اور ان کی طرف سے جو ان کے پیچھے ہیں اور اب تک ان میں نہیں ملے خوش خبری لیتے ہیں ، یہ کہ نہ ان پر کچھ خوف ہے اور نہ ان کو کچھ غم ہے ۔

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خدا کی طرف سے نعمت اور فضل سے خوش وقت ہوتے ہیں اور اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا (ف 1)

(ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ شہداء کی سب روحیں طیور خوش منظر کی شکل میں شاداں وفرحاں جنت کے آب رواں پر مصروف پرواز رہتی ہیں ، اس وقت انہیں احساس ہوتا ہے کہ اے کاش ہم اس حیات جادواں کے کوائف روح پرور کو اپنے اعزء واقربا تک پہنچا سکتے اور ان کے اعمال میں بھی شہادت کے جام ارغوانی کے لئے گدگدی پیدا کرسکتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ انہیں بھی اس زندگی سے مطلع کردیا گیا ہے ، اس لئے ان کی خواہشوں میں اور اضافہ ہوجاتا ہے ، (آیت) ” ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم “۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

زخم کھانے کے بعد جن لوگوں نے اللہ اور رسول ﷺ کا حکم مانا ، خصوصا ان کے لئے جو ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ‘ بڑا ثواب ہے ۔ (ف 2)

(ف 2) مسلمان جب غزوہ احد سے واپس ہوئے ہیں ، ابو سفیان ؓ کو خیال آیا کہ ہم نے کیوں نہ مسلمانوں کو بالکل مار ڈالا ، اس نے ارادہ کیا کہ چل کر ایک دفعہ پھر مسلمانوں سے جنگ ہو اور جو بچے کھچے رہ گئے ہیں ‘ انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ، حضور ﷺ کو اس ارادہ کی اطلاع ہوگئی ، آپ ﷺ نے چند جانباز صحابہ ؓ اجمعین کو بلایا اور کہا وہی لوگ میرے ساتھ نکلیں جو پہلے ثابت قدم رہے ہیں اس پر مسلمان باوجودیکہ مجروح تھے اور زخموں سے چور چور تھے ‘ اٹھ کھڑے ہوئے ان کی شان منفعت نشان میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

جنہیں لوگوں نے کہا تھا کہ تمہارے لئے لوگوں نے لشکر جمع کیا ہے تو تم ان سے ڈرو ، اس بات نے ان کا ایمان بڑھایا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے ۔ (ف 3)

مجاہدین کا نعرہ مستانہ : (ف 3) بدر صغری کا واقعہ ہے ، ابو سفیان نے جب محسوس کیا کہ حسب وعدہ مسلمان مقام جنگ تک پہنچ جائیں گے تو اس نے نعیم کو بھیجا تاکہ مدینہ میں جا کر مسلمانوں کو مرغوب کرے ، اس نے آکر کہا ، مسلمانو ! تم کیا غضب کر رہے ہو ، ابو سفیان پوری تیاری کے ساتھ آرہا ہے ، مدینہ سے باہر قدم رکھا تو یاد رکھو ایک بھی تم میں سے بچ کر نہیں آسکے گا ، اگر مسلمان مجاہدانہ نکلے اور سالم وفائم واپس مدینہ لوٹے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ فوج کی کثرت ‘ سازوسامان کی چمک دمک مسلمان کے لئے مرعوب کن نہیں ہو سکتی ، اس سے تو اس کے دل میں اور قوت و توانائی پیدا ہوجاتی ہے ، اور وہ (آیت) ” حسبنا اللہ “ کا نعرہ مستانہ لگا کر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے ۔ حل لغات : استجابوا : قبول کیا ، مان لیا ۔ لبیک کہا الفرح : زخم ، حسبنا : ہمیں بس ہے ۔ ہمارے لئے کافی ہے ۔ سوء : تکلیف ۔
Ayahs 3:174–175

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

سو وہ خدا کے فضل اور نعمت کے ساتھ واپس آئے اور ان کو کسی طرح کی برائی نہ پہنچی اور وہ اللہ کی مرضی پر چلے اور اللہ کا فضل بہت بڑا ہے ۔

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ جو ہے سو شیطان ہے کہ تمہیں اپنے دوستو ! سے ڈراتا ہے سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ، اگر ایمان دار ہو (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خوف وحزن شیطان کی طرف سے ہے ۔ وہ رگوں کو بزدل بنا دیتا ہے اور عواقب ونتائج کی بھیانک اور خوفناک تصویر پیش کرکے کم حوصلہ اور پست ہمت لوگوں کو ولولہ جہاد سے روک دیتا ہے ، مگر وہ لوگ جو خدا پرست ہیں ‘ وہ بجز احکم الحاکمین کے اور کسی سے نہیں ڈرتے ، ان کا دل ہر قسم کے خوف وہراس اور ہر نوع کے حزن سے پاک ہوتا ہے ، وہ دنیا میں پوری بےخوفی سے رہتے ہیں ، وہ انجام سے بےپرواہ ہوتے ہیں ، وہ صرف یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فی الحال ان کے فرائض کیا ہیں وہ اس چیز کی مطلقا پرواہ نہیں کرتے کہ انہیں اس کے بعد کن نتائج و عواقب سے دوچار ہونا پڑے گا ، وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں کہ خدا انکا ہر آن معاون و مددگار ہے ۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور تو ان کی طرف سے جو کفر میں دوڑتے ہیں غمگین نہ ہو ۔ وہ ہرگز خدا کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، خدا چاہتا ہے کہ انہیں آخرت میں کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔ (ف 2)

(ف 2) انبیاء (علیہم السلام) کو جو محبت اپنی قوم کے ساتھ ہوتی ہے ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر وقت قوم کے درد میں بےچین رہیں حضور ﷺ جب یہ دیکھتے کہ باوجود میری ہر ممکن سعی اصلاح کے یہ لوگ کفر و طغیان کی جانب زیادہ مائل ہیں اور برے کاموں سے انہیں زیادہ رغبت ہے تو مارے دکھ اور تکلیف کے بےقرار ہوجاتے ، اس پر اللہ تعالیٰ بطور تسلی فرمایا کہ آپ بےکل نہ ہوں ، یہ لوگ اپنی معاندانہ روش سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے آپ جس مشن کو لے اٹھے ہیں ‘ ضرور کامیابی عنایت ہوگی اور لوگ جوق در جوق دین حنیف کو قبول کرلیں گے اور بہت سی سعید روحیں ایسی ہیں جو اس سعادت سے بہرہ ور ہونے کے لئے تڑپ رہی ہیں ، یہ اگر نہیں مانتے تو نہ ان کا اپنا ہی نقصان ہے ۔ حل لغات : اولیآء : دوست ، بھائی بند ۔ حضا : حصہ ۔ بہرہ بخرہ ۔
Ayahs 3:177–179

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا ۔ وہ ہرگز خدا کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے اور ان کے لئے دیھ دینے والا عذاب ہے ۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر یہ گمان نہ کریں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دیتے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم تو انہیں اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ وہ گناہ ہیں بڑھتے جائیں اور ان کے لئے رسوائی والا عذاب ہے ۔

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ وہ مومنوں کو اسی حالت پر چھوڑے رکھے جس پر تم اب ہو ۔ یہاں تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے ، اور خدا ایسا نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے (ف 1) لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (غیب کی خبر کے لئے) چن لیتا ہے سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے ۔

امتیاز حق و باطل : (ف 1) یہ آیت بھی سیاق احد میں ہے مقصد یہ ہے کہ یہ تمام مصائب جو اس جنگ میں برداشت کرنے پڑے ہیں ‘ یہ سب اس لئے تھے ، تاکہ حق و باطل میں فرق ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ زیادہ دیر تک منافقین کم ہمت لوگ مسلمانوں میں طے جلے رہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہیں ۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق الگ الگ اور ممتاز ہوجائیں ۔ (آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “ کہہ کر یہ بتایا ہے مخلص وغیر مخلص میں جو اختلاف ہے ‘ یہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہے یہ نہیں جانتے تھے کہ کون دل میں ایمان کی پونجی مستتر رکھتا ہے اور کون ہے جس کا دل خبث ونفاق سے متعفن ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے تمہیں آگاہ اور یہ خدا کا قانون ہے کہ وہ پیغمبر ﷺ کی وساطت سے ہی امور طلب کی اطلاع دیا کرتا ہے ، اس سے مقصود پیغمبر ﷺ کی اہمیت محسوس کرانا ہے کہ اس کا وجود مسعود کتنا باعث برکت وسعادت ہے اس آیت میں چند نکات قابل غور ہیں : ۔ 1۔ یہ کہ رسول ﷺ بجائے خود محبت و دلیل ہے ، اس کی وساطت تشریحات امور غیبیہ کے لئے از بس ضروری ہے ، اس کا ہر قول اور ہر فعل شریعت و قانون ہے جس سے بےنیازی الحاد ہے ۔ 2۔ یہ کہ نبوت اجتباء الہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے ‘ کسب و اجتہاد کا نہیں ۔ 3۔ یہ کہ بجز رسول ﷺ کے ” اطلاع علی الغیب “ یقینی وحتمی طور پر اور کسی کے لئے نہ ماننا چاہئے ۔ (آیت) ” فامنوا باللہ ورسلہ “ میں عام دعوت ایمان ہے ، رسل کو بصیغہ جمع رکھنے میں مصلحت یہ پیش نظر ہے کہ اسلام انبیاء (علیہم السلام) میں تفریق کو پسند نہیں کرتا ، وہ بیک وقت اسلام اور تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے ، اس کے نزدیک ایک سچے نبی کا انکار تمام انبیاء (علیہم السلام) کا انکار ہے ، فاضل رازی کہتے ہیں ” فمن اقربنبوۃ واحد منھم لزمۃ الاقرار بنبوۃ الکل “۔ بعض فریب خوردہ جہلا نے یہ سمجھا ہے کہ شاید حضور ﷺ کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اشارہ ہے ، یہ بھی فرقان حمید کے نظام عقائد کے خلاف ہے ، قرآن حکیم میں واضح طور پر نبوت کے دروازوں کو حضور ﷺ کے بعد ہمیشہ کے لئے مسدود کردیا گیا ہے ۔ ” الغیب “ کے معنی قرآن کی اصطلاح میں امور شرعیہ ہیں جو عام انسان اپنی عقل و تدبر سے نہیں جان سکتے ، مطلقا امور کون مراد نہیں کیونکہ ان کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں ۔ (آیت) ” ولا یعلم الغیب الا ھوہ “۔ حل لغات : نملی : مصدر املاء ڈھیل دینا ۔ الخبیث : ناپاک ۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور جنہیں خدا نے کچھ اپنے فضل سے دیا ہے اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف 1) اور زمین وآسمان کی میراث اللہ کی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے ۔ (ف 2)

(ف 1) ان آیات میں سرمایہ داری کی مخالفت نہایت موثر انداز میں بیان کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ مال و دولت کا وہ حصہ جو خدا کی راہ میں خرچ نہ ہو ‘ قیامت کے دن ان کے لئے طوق وسلاسل ہوجائے گا ۔ (ف 2) اس آیت میں اشتراکیت کا وہ بلند اصول بتایا گیا ہے جس تک ہنوز ہمارے سوشلسٹ نہیں پہنچ سکے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ میراث وملک حقیقۃ صرف رب السموت کے لئے ہے ، البتہ دنیاداروں کو بطور امانت کے سپرد کردیا گیا ہے ‘ تاکہ وہ اس کا صحیح استعمال کریں ۔
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان کی بات جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں سن لیں ، اب ہم جو انہیں نے کہا ہے لکھ رکھیں گے ، اور نبیوں (علیہم السلام) ناحق کرنا بھی اور ہم کہیں گے جلن کا عذاب چکھو (ف 3) ۔

(ف 3) بعض دفعہ یہودی سرمایہ داری کے نشے میں بےخود ہو کر ایسے کلمات کہہ جاتے ہیں جس سے خداوند ذوالجلال کی توہین مترشح ہوتی ، مثلا جب حضرت ابوبکر ؓ کو حضور ﷺ نے دعوت تامہ دے کر قبیلہ بنی قینقاع کی طرف بھیجا ، جس میں لکھا تھا کہ تم اسلام قبول کرلو اور صلوۃ وزکوۃ ادا کرو ، تو انہوں نے از راہ مزاح کہا ۔ ” کیا خدا فقیر ہے کہ اسے ہمارے صدقات کی ضرورت ہے “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ سخت گستاخی ہے ۔ یاد رکھو تمہاری اس گستاخی کا علاج سخت ترین عذاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ جلال میں اس نوع کے کلمات بہت برے ہیں ۔ حل لغات : یطوقون : مادہ تطویق ، طوق پہنانا ۔ بغیر حق : نادرست طور پر ، ناحق ، ناجائز ۔
Ayahs 3:182–183

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خدا نے ہم سے عہد کرلیا ہے کہ ہم کسی رسول ﷺ کو یقین نہ کریں ، جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی (اللہ کو) نہ چڑھائے کہ اس کو آگ کھا جائے (ف 1) ، تو کہہ مجھ سے پہلے کتنے رسول کھلے نشان اور یہی چیز (یعنی قربانی مذکورہ) جو تم کہتے ہو ، لے کے تمہارے پاس آچکے ہیں ، پھر تم نے ان کو قتل کیوں کیا تھا ؟ اگر تم سچے ہو ۔

سوختی قربانی : (ف 1) امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کعب اشرف ‘ کعب بن اسد اور دوسرے اکابر یہود حضور انور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ توراۃ میں لکھا ہے جب تک کوئی نبی سوختی قربانی کا معجزہ نہ دکھائے ، قابل تسلیم نہیں ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذبیحر ایک مخصوص مکان میں رکھا جائے جس کی چھت نہ ہو ۔ آسمان سے آگ نازل ہو جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور وہ آکر اس ذبیحہ کو جلا دے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس نوع کا مطالبہ یہودیوں کی طرف سے بعید نہیں اس لئے کہ وہ سخت جامد اور ادہام پرست تھے ، مگر مشکل یہ ہے کہ توراۃ میں سرے سے نبوت کا یہ معیار ہی مذکور نہیں اور قرآن حکیم کے الفاظ یہ ہیں کہ یہودی کہتے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ عھد الینا “ ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں کو اپنے مذہبی عقیدہ کی بنا پر حضور ﷺ کی نبوت کے متعلق شبہ تھا مگر وہ مذہبی عقیدہ کیا تھا ؟ اس کی پوری تفصیل قرآن حکیم میں مذکور نہیں ۔ توراۃ کے عمیق مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سوختی قربانی کا یہودیوں میں بہت رواج تھا ، ممکن ہے یہودیوں نے جب یہ دیکھا ہو کہ مسلمان قربانی کو جلاتے نہیں کھاتے ہیں تو ان کے دل میں شبہ پیدا ہوا ہو کہ یہ ہماری روایات مذہبی کے خلاف ہے اس لئے صحیح نہیں ۔ قرآن حکیم کے الفاظ میں آگ کے آسمان سے اترنے کا کہیں ذکر نہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ پہلے آگ آسمان سے اترا کرتی تھی ، (بجز اس قسم کی روایات کے جو تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں اور مستند نہیں) اس لئے صاف ظاہر معنی یہ ہوں گے کہ یہودیوں کا مطالبہ تھا کہ حضور ﷺ سوختی قربانی کو ان کے سامنے پیش کریں ۔ اس شبہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ تم ان سے پوچھو کہ انہوں نے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کیوں انکار کیا ؟ حالانکہ انہوں نے ان کے عام مطالبات کو پورا کیا تھا ۔ بات یہ ہے کہ لوگ انکار کرنے کے بعد دل کو تسلی دینے کے لئے اس قبیل کے بہانے گھڑ لیتے ہیں ، ورنہ خدا کے سچے پیغمبروں (علیہم السلام) نے ان کے اطمینان کے لئے کیا کیا نہیں کیا ۔ دلائل وبراہین کا انبار لگا دیا ۔ معجزات وخوارق سے یہ ورطہ حیرت میں گم ہوگئے مگر پھر بھی انکار بدستور رہا اور یہی کہتے رہے ، یہ جادو ہے اور ہماری آنکھیں عمل سحر سے متاثر کرلی گئی ہیں ۔ حل لغات : تاکلہ النار : آگ نے اسے بھسم کردیا ، جلا دیا ۔ زبر : کتابیں ، صحیفے ۔
Ayahs 3:184–185

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو تجھ سے پہلے کتنے رسول کہ نشانیاں اور ورق اور چمکتی کتاب لے کے آئے تھے ‘ جھٹلائے گئے ہیں ۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن سو جو دوزخ سے دور کیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا ‘ وہی مراد کو پہنچا ، اور دنیا کی زندگی صرف غرور کی پونجی (ف 1) ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں حیات فانی کی بےثباتی کا نقشہ کھینچا ہے کہ ہر شخص جرعہ موت سے کام ودہن تر کرے گا ، اس لئے وہ جو مقصود اصلی ہے نظروں سے اوجھل نہ ہو ، عمر عزیز کا ایک ایک لمحہ نصب العین کی طرف اقدام میں صرف ہو ۔ وہ شخص جو دائمی واخروی زندگی میں آگ کے عذاب سے بچ گیا اور جنت کے زینوں پر چڑھ گیا ، جان لیجئے کہ وہ کامیاب ہے اور جس کی ساری تگ ودو دنیا کے حصول تک محدود رہی ‘ وہ دھوکے میں ہے ۔ دنیا کو (آیت) ” کہنا درست واقعہ ہے ، بڑے بڑے سمجھ دار لوگ دنیا کی صحیح حیثیت سمجھنے سے قاصر ہیں ، قرآن حکیم کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کو نصب العین کا درجہ نہ دیا جائے جس کی تشریح آیندہ آیات میں مذکور ہے ۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

تم اپنے مالوں میں اور اپنی جانوں میں آزمائے جاؤ گے ۔ اور تم ضرور اہل کتاب سے اور مشرکین سے ایذا کی بہت سی باتیں سنو گے ، اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگار رہو تو یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے (ف 2)

(ف 2) یعنی مال و دولت کا حصول گناہ نہیں البتہ اللہ کے امتحانوں میں پورا نہ اتروا معصیت وکجروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مسلمان کے لئے کڑی مصیبتیں آئیں گی ، وہ مجبور ہے کہ برداشت کرے ، شرک وکفر کے حلقوں سے اسے دکھ پہنچے گا ، مگر وہ صبر اور استقامت سے کام لے ، یہی بات اللہ کو پسند ہے اور یہی عزیمت ہے ۔ حل لغات : زحزح : دور کیا گیا ، ہٹا دیا ۔ متاع الغرور : فریب والا سودا ۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ تم اس کتاب کا بیان لوگوں سے کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ اور انہوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے مقابلہ میں حقیر قیمت خریدی سو انہوں نے کیسی بری شے خرید کی (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہر اہل کتاب مکلف ہے کہ خدا کے احکام کو بالوضاحت دوسروں تک پہنچائے اور کسی قسم کی تحریف سے کام نہ لے مگر یہودیوں نے محض اس لئے حقائق کو بدل دیا کہ اس سے ان کا دنیوی مفاد متعلق تھا ۔ ہر معاوضہ جو حق وصداقت کے بدلے قبول کیا جائے ، قرآن مجید کی اصطلاح میں وہ ثمن قلیل ہے یعنی ایک ایسی حقیر رقم جو بمقابلہ اخروی انعام کے نہایت کم ہے ۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

وہ جو اپنے کئے پر خوش ہوتے اور جو نہیں کیا اس پر اپنی تعریف چاہتے ہیں (ف 2) ان کو عذاب سے چھوٹا ہوا نہ جان ۔ اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہے (ف 3)

(ف 2) آیت کے نزول میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ جیسے حضرت ابی سعید خدری ؓ سے روایت ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد محرفین یہود ہیں اور اصل بات یہ کہ دنای کا ہر بدباطن اور برا آدمی قدرتی طور پر چاہتا ہے کہ میرے ایمان کی تعریف کی جائے قرآن نے درحقیقت اسی نفسیت ستائش طلب کی توضیح کی ہے اور بتایا ہے کہ اہل حق وصداقت سے ان لوگوں کی اس قسم کی توقعات ناجائز ہیں وہ ان کے نفاق تحریف اور مداہنت کی تعریف نہیں کرسکتے ۔ (ف 3) مقصد یہ ہے خدا کی قدرتیں نہایت وسیع ہیں ، یہ لوگ دھوکے میں نہ رہیں ، وہ ان کے حالات کو خوب جانتا ہے اور اس میں یہ طاقت ہے کہ ایک لمحہ میں زمین وآسمان کو الٹ دے اور ان کو پیس کر رکھ دے ۔
Ayahs 3:189–190

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت خدا ہی کی ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمان کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لئے نشان ہیں (ف 1)

(ف 1) یعنی جس طرح نظام کواکب میں ہر آن تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، اور وقت وزمانہ صبح ومسا کے تغیرات سے محفوظ نہیں اسی طرح کفر و ایمان میں باہمی آویزش سے اور ضرور ہے کہ کفر کی تاریکی کے بعد ایمان کی روشنی کا زمانہ آئے اور پھر جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے ، اسی طرح حق و باطل میں بین اور واضح امتیاز ہے اور جس طرح رات کے بعد سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے ‘ اس طرح مایوسیوں کے بعد امیدوں کا افتاب طلوع ہوتا ہے اور جس طرح یہ درست ہے کہ تاریکیاں اجالے سے بدل جاتی ہیں ‘ اسی طرح موت کے اندھیرے حیات ما بعد کی صورت اختیار کریں گے اور جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آفتاب صبح کے طلوع ہونے کے بعد آسمان پر کوئی ستارہ نہیں چمکتا ایس طرح حضور ﷺ کے بعد جو خ اور نبوت ہیں آسمان ہدایت پر کوئی اور ستارہ طلوع نہیں ہوگا ۔ اسی طرح کے کئی دلائل و شواہد ہیں جو روز مرہ کے اختلاف لیل ونہار میں مخفی ہیں ، ضرورت اس کی ہے کہ اہل عقل و دانش اس جانب متوجہ ہوں ۔ یہ قرآن حکیم کا اعجاز بیان ہے کہ وہ ایک جملہ میں معارف ونکات کا دریا بہا دیتا ہے ۔
Ayah 3:191

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

ان کے لئے جو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے ہوئے خدا کو یاد کرتے ہیں ، اور آسمان و زمین کی پیدائش میں دھیان کرتے ہیں کہ اے رب تونے یہ عبث پیدا نہیں کیا ، تو پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ (ف 2)

فسلفہ مذہب : (ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ عقل مند اور خوردودانش وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور ہر حالت میں خدائے ذوالجلال کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں ، جو آسمان و زمین کے اسرار وخفایا کے متعلق غور وفکر سے کام لیتے ہیں اور بےاختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ اے رب ! تونے کسی چیز کو بےکار نہیں پیدا کیا اور اس کے بعد وہ اپنی زندگی بالکل قدرتی اور طبعی بنا لیتے ہیں ، تاکہ عذاب وسخط الہی سے بچ جائیں ۔ مقصد یہ ہے کہ طبیعات اور ناموسات الہیہ میں غوروفکر انسان کو خدا پرست بنا دیتا ہے اور اس میں یہ یقین پیدا کردیتا ہے کہ کائنات کی چیزیں بخت واتفاق کا نتیجہ نہیں ، بلکہ زبردست قدرت وعقل کا کرشمہ ہیں ۔ اور وہ لوگ جو حکم وفلسفہ کو مذہب کے منافی خیال کرتے ہیں وہ یا تو مذہب کی روح سے ناواقف ہیں یا عقل وفکر کی حدود سے نابلد اور بےبہرہ !
Ayahs 3:192–193

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے رب جسے تونے دوزخ میں ڈالا ، اس کو تونے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کے لئے پکارتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ سو ہم ایمان لائے ، اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری بدیوں کو دور کر اور ہمیں نیک کرداروں کے ساتھ وفات دے ۔ (ف 1)

دعوت ایمان : (ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کے متعلق صحیح غور وفکر ذوق عبادت و ایمان کی روح پیدا کردیتا ہے ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ رات کو اٹھتے ، آسمان کی طرف چشم بصیرت سے دیکھتے اور غور و فکر کی وجہ سے بےاختیار پکار اٹھتے کہ (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا “۔ اور سوچو کیا یہی وہ نتیجہ نہیں جو ایک مفکر طبیعات کے دماغ میں پہلے پہل چمکتا ہے ، تم خود کائنات کے اسرار وکفایا کے متعلق حکیمانہ تدبر سے کام لو ذرہ ذرہ سے یہی صدا سنائی دے گی (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا ۔ قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز دلائل ہے کہ وہ ایسے حقائق پیش کرتا ہے جو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہی غور وفکر کے نتائج ہیں ۔ یہ آیات فلسفہ و مذہب کے قریب ترین حدود سے ہمارا تعارف کراتی ہے ، ہر صحیح الدماغ اور عقل مند انسان جب دعوت ایمان وایقان پر غور کرتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے ” امنا “ کہ اے رب ہم نے تیری طرف بلانے والے کی آواز کو سنا ، اس لئے ہم آج سے ایمان کے شیدائی ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے مطالبہ استغفار وتکفیر گناہ ہے ، اور خدا کا وعدہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کریں گے تمہیں جنت میں جگہ دیں گے اور تمام گناہوں کو معاف کردیں گے یہ اس لئے تم نے صرف ہماری خاطر آرام و آسائش کو چھوڑا ۔ ہجرت اختیار کی اور کڑی سے کڑی مصیبتیں جھیلیں ، اہل کفر سے لڑے اور جام شہادت نوش کیا ، یعنی حسن ماب یا بہترین زندگی ایثار وقربانی ہی سے حاصل ہوتی ہے اور صحیح ایمان وہی ہے جو مسلمان کو کفر والحاد پر آتش زیر پا کر دے ، وہ مجبور ہوجائے کہ اس سے لڑے ۔ حل لغات : الابرار : نیک ۔ صالح ۔
Ayahs 3:194–196

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جو تونے رسولوں کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عنایت کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے ۔

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی محنت کرنے والے کی محنت ضائع نہیں کرتا مرد ہو یا عورت ، تم آپس میں ایک ہو ، پھر وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے ، اور لڑے اور مارے گئے ، میں ضرور ان کی بدیوں کو دور کروں گا اور ان کو باغوں مین جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، داخل کروں گا ، یہ اللہ کی طرف سے بدلہ ہے اور اللہ کے پاس اچھا بدلہ ہے ۔

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے (ف 1)

(ف 1) یعنی اہل کفر کا مختلف شہروں میں رہنا ، ان کی وسعت مادی ۔ سازوسامان کی کثرت درحقیقت کوئی چیز نہیں ۔ بات یہ تھی کہ قریش مکہ تجارت کے سلسلہ میں سارے ملک میں گھومتے پھرتے ، یہودی بھی دولت مند ہونے کی وجہ سے عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے ، مسلمان جب دیکھتے تو انہیں خیال ہوتا کہ ہم خدا کو ماننے والے ہیں اور عسرت وتنگ دستی میں بسر کرتے ہیں اور جو مستحق عذاب ہیں ، رفاہت سے ہیں یہ کیا بات ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ چند دنوں تک ایسا ہے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے کہ ان کی امارت وتمول برباد ہوگیا اور نہایت ذلت اور مسکنت سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ اہل کفر کو اس وقت تک ڈھیل دیتے ہیں جب تک وہ معصیت وسرکشی کی حدود سے نہیں گزر جاتے اور جب تک وہ معصیت وسرکشی کی حدود سے نہیں گزر جاتے اور جب تک کہ وہ خود اپنی ہلاکت کا سامان پیدا نہیں کرلیتے ، اور جب وہ بالکل آمادہ موت ہوتے ہیں تو زمانہ کی ایک ہی گردش سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوجاتے ہیں ۔