3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsسراج البیان

Ayahs 3:119–120

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

سنتے ہو تم ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں اور تم پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو غصہ سے تم پر انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں ، تو کہہ تم اپنے غصہ میں مرو اللہ دلوں کی باتیں جانتا ہے ۔

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تم کو کچھ بھلائی پہنچے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو ان کا فریب تمہارا کچھ ضرر نہ کرے گا جو کچھ وہ کرتے ہیں ، سب خدا کے بس میں ہے (ف 1)

(ف 1) قرآن حکیم علیم بذات الصدور خدا کی کتاب ہے ‘ اس لئے ضرور ہے کہ مخالفین کی ایک ایک نفسیت کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ مخالف مخالف ہے اور موافق موافق ، تاکہ مسلمان کسی دھوکے میں نہ رہیں ، ان کے نفاق کا علاج بھی بتا دیا فرمایا (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا “ یعنی اگر تم گھبرا نہ جاؤ اور پوری استقامت سے کام لو اور محتاط رہو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ۔ مسلمان کو جس قدر تدبر ‘ استقلال اور احتیاط و اعتدال کی تلقین کی گئی ہے ، وہ اسی قدر بیوقوف کاہل اور غیر معتدل ہے ۔ حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں نے یہودیون پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا ، انہوں نے دھوکا دیا ، منافقین کے ساتھ وفق ومسالمت سے کام لیا ، وہ مخالفین کے ساتھ مل گئے ، عیسائیوں کی تعریف کی ‘ وہ بگڑ گئے ، اس صورت میں ضروری تھا کہ ان سب سے ایک دم تعلقات منقطع کر لئے جائیں اور انہیں بتا دیا جائے کہ ہم تمہاری تمام منافقانہ چالوں سے واقف ہیں ۔ حل لغات : حسنۃ : نیکی ، یہاں مراد مسرت ہے ۔ مساعد : نشستیں ، مورچے ، بیٹھنے کی جگہیں ۔
Ayahs 3:121–123

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور جب تو صبح اپنے گھر سے نکلا اور مسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھلانے لگا ، اور خدا سنتا جانتا ہے ۔

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم میں سے دو جماعتوں نے بزدل ہونا چاہا حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور چاہئے کہ مومن خدا ہی پر بھروسہ کریں ۔

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا بدر کی لڑائی میں جب تم ذلیل تھے تمہاری مدد کرچکا ہے سو اللہ سے ڈرو ، شائد کہ تم شکر گزار ہو ۔ (ف 1)

غزوہ احد : (ف 1) غزوہ بدر کے بعد مقام احد پر کفار جمع ہوئے مقصود یہ تھا کہ بدر کا انتقام لیا جائے حضور ﷺ کو اطلاع ملی تو صحابہ ؓ اجمعین سے مشورہ طلب کیا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کو خصوصیت سے بلایا ، اس نے مشورہ دیا کہ آپ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کریں ، اس لئے کہ ہم جب بھی مدینہ سے باہر رہ کر لڑے ہیں ہمارا نقصان ہوا ہے مقصد یہ تھا کہ مخالف آسانی سے مدینہ پر قبضہ کرلیں ، یہ ایک چال تھی ، دیگر صحابہ ؓ اجمعین نے فرمایا ، ہم چاہتے ہیں کہ میدان میں نکل کر جام شہادت پئیں ، ایسا نہ ہو کہ مخالف ہمیں بزدل سمجھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے خواب مین دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اس سے میں نیک فال اخذ کی ہے ، میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار آگے سے ٹوٹ گئی ہے ، اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ قدرے شکست ہوگی ، صحابہ ؓ اجمعین نے زور دیا کہ آپ ﷺ باہر نکل کر لڑیں ، انہیں شوق شہادت نے بےقرار کر رکھا تھا ، حضور ﷺ اندر گئے اور مسلح ہو کر باہر نکلے ، اب صحابہ ؓ اجمعین بچھتائے کہ کہیں ہم نے حضور ﷺ کے ارادہ کے خلاف تو انہیں مجبور نہیں کیا ، کہنے لگے کہ حضور ﷺ کی جو خواہش ہو وہ بہتر ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ، خدا کا بہادر پیغمبر جب ایک دفعہ مسلح ہوجائے تو ہتھیار نہیں اتارتا ، اس کے بعد حضور ﷺ نے کوچ فرمایا ، صحابہ ؓ اجمعین ساتھ ساتھ چلے ۔ عبداللہ بن ابی نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں تو سخت مایوس ہوا اور اپنے تین سو آدمی لے کر الگ ہوگیا ، حضور ﷺ وہاں پہنچے ، صفیں درست کیں ایک ایک سپاہی کی جگہ مقرر کی ، عبداللہ بن جبیر ؓ کو تیراندازوں کا امیر مقرر کیا اور فرمایا ، اس درے پر مضبوطی سے کھڑے رہنا ۔ جب جنگ شروع ہوئی اور مسلمان مخالفین پر چھاگئے تو غنیمت کے لالچ میں اور یہ سمجھ کر کہ اب تو میدان ہمارے ہی ہاتھ میں ہے مسلمان مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہوگئے ، مخالفین نے مسلمانوں کے تغافل سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں پر پل پڑے ، نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں بھاگڑ مچ گئی ، حضور ﷺ کے چوٹیں آئیں ، اگلے دانٹ ٹوٹ گئے اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا ، عام مسلمانوں میں یہ مشہور کردیا گیا کہ حضور ﷺ شہید کردیئے گئے ہیں جس سے سخت بددلی پھیل گئی ، اس کے بعد چند جان نثار حضور ﷺ تک پہنچ گئے اور بڑی بےجگری سے لڑے ۔ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہی ہیں ، دیکھو بدر میں تمہاری تعداد بہت کم تھی اور کفار کا ایک لشکر جرار مقابلہ پر تھا پھر بھی فتح اسلام کے شیدائیوں کو ہوئی ، فرشتوں کا نزول خدا پرستوں کی تائید وتثبیت کے لئے تھا مادیت پر ست لوگ ممکن ہے اس کو تسلیم نہ کریں ، مگر واقعہ یہ ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے عقیدت مندوں کو عزت و غلبہ سے نوازتا رہتا ہے ۔ فرشتے بدر میں نازل ہوئے تھے جیسا کہ جمہور مفسرین کا خیال ہے اور سیاق کلام سے بھی ظاہر ہوتا ہے ، احد میں نہیں ۔ (آیت) ” اذ غدوت من اھلک “۔ الخ میں یہ بتایا ہے کہ نبی صرف محراب ومنبر میں ہی نہیں گرجتا ‘ بلکہ میدان جنگ میں بھی وہ سپاہیانہ حصہ لیتا ہے ، حضور ﷺ چونکہ جامعیت کبری کے وصف سے متصف تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ تدابیر جنگ سے بھی کما حقہ ‘ واقف ہوں ، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ میں دین ودنیا کی خوبیاں جمع ہیں ، ایک طرف مسجد میں امام ہیں اور دوسری طرف جنگ میں بطل فنا ۔
Ayahs 3:124–129

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تو مسلمانوں سے کہہ رہا تھا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہاری مدد کرے ۔

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

البتہ اگر تم جمے رہو (رسول ﷺ کی مخالفت سے) ڈرتے رہو اور دشمن اپنے جوش سے اسی دم تم پر دھاوا کریں تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو شان دار گھوڑوں پر سوار ہوں ، تمہاری مدد کرے ۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور خدا نے یہ (وعدہ امداد) اس لئے کیا ہے کہ تم کو خوشی ہو اور تمہارے دل اس وعدہ سے تسلی پائیں اور فتح تو صرف اللہ زبردست حکمت والے ہی کی طرف سے ہے ۔

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ وعدہ اس لئے کیا ہے) تاکہ بعض کافروں کو ہلاک کرے یا ذلیل کرے کہ وہ نامراد پھرجائیں ۔

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کام میں تیرا کچھ اختیار نہیں ہے یا خدا ان پر پھر آوے (یعنی مہربان ہو) یا انہیں عذاب کرے کیونکہ وہ ظالم لوگ ہیں ۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے جسے وہ چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1)

اللہ کی شان بےنیازی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ آسمان و زمین جو کچھ ہے وہ خدائے متعال کے قبضہ قدرت میں ہے ، زمین کی بستیان اور آسمان کی بلندیاں سب اس کی قوت و عظمت پر دال ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو اس کی خدائی سے باہر ہو ۔ وہ اگر بدترین لوگوں کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور جنت ونعیم کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا اور اگر محبوب ترین اشخاص کو دہکتے ہوئے جہنم میں ڈال دے تو کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی وہ باجبروت وباملکوت خدا ہے ، یہ صحیح ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا ، اس کا عدل ورحم اسے شفقت ورحم پر مجبور کریگا مگر جہاں تک اس کے جلال وقدرت کا تعلق ہے ‘ وہ ہر ضابطہ اور قانون سے اعلی وارفع ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء ویعذب من یشآء واللہ غفور رحیم “ ۔ حل لغات : طرف : حصہ جانب ۔ پہلو ۔ یکبتھم ، مصدر کبت ، ذلیل کرنا ۔ خآئیبین ، جمع خآئب ۔ نامراد اور ذلیل وناکام ۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے مومنو ! دونے پر دونا سودنہ کھاؤ ۔ اور اللہ سے ڈرو ، شاید تم مراد کو پہنچو (ف 1)

اضعافا مضاعفۃ : (ف 1) سود کی مکمل بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے یہاں اس کی مزید شناعت آئی ہے کہ یہ کیا انصاف ہے ، تم اصل رقم سے کئی گنا زیادہ وصول کرلیتے ہو اور پھر تمہارا قرض باقی رہتا ہے ، بات یہ ہے کہ جاہلیت میں ایک شخص متعین حد تک کے لئے سود پر روپیہ دیتا ، جب وہ مقررہ وقت آتا اور مقروض نہ دے سکتا تو اس سے کہا جاتا کہ اصل رقم میں اضافہ کرو تو مدت بڑھائی جاسکتی ہے ، اسی طرح سود (آیت) ” اضعافا مضاعفۃ “ ہوجاتا جو قطعا ناقابل برداشت ہے ، اسلام نے اس سے روکا ہے ، اس کا یہ مقصد نہیں کہ جائز مقدار میں سود کا لینا دینا جائز ہے ، جیسا کہ بعض نافہم لوگوں نے سمجھا ہے ، یہ قید (آیت) ” اضعافا مضاعفۃ “۔ کی امر واقعہ کے اظہار کے لیے ہے ، نہ تعبین وتحدید کے لئے ،
Ayah 3:131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ (ف 2)

مزید ناراضی : (ف 2) سورة بقر میں سود خور کو خدا کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا بتایا تھا ، یہاں اسے مستحق عذاب قرار دیا ہے اور عذاب بھی وہ جو کفار کے ساتھ مخصوص ہے جس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ اسلام سود کو کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیتا ، اس لئے کہ سود خوری نسل انسانی کو بےکار بنا دیتی ہے اور ایک ایسا گروہ پیدا کردیتی ہے جو جماعت کے لئے نہایت مضر ثابت ہوتا ہے ، عوام میں جس قدر برائیاں پھیلتی ہیں ، وہ گروہ امراء کی بدولت پھیلتی ہیں ، انکی تعیش پسندانہ زندگی عوام کے اخلاق کے لئے مستقلا خطرہ ہے ، اسلام جو اخلاق واصلاح کا علمبردار ہے کیسے سود کی اجازت دے سکتا ہے ۔ حل لغات : اضعافا مضاعفۃ : زائد از زائد ۔ والکاظمین الغیظ : غصہ پی جانے والے ، کظم کے اصل معنی روکنے اور بند کرنے کے ہیں ۔
Ayahs 3:132–135

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول ﷺ کی تابعداری کرو ، شاید تم پر رحم ہو ۔

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا پھیلاؤ سارے آسمان اور زمین ہے ، پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسائش اور تنگی میں خرچ کرتے اور غصہ کو دبا لیتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں اور اللہ نیکوں سے محبت رکھتا ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

وہ لوگ جو کھلا گناہ کریں یا اپنے حق میں کچھ ستم کریں تو خدا کو یاد کریں ، پھر اپنے گناہوں کی مغفرت مانگیں ، اور اللہ کے سوا گناہوں کو کون بخش سکتا ہے ؟ اور جو کچھ کیا ہے اس پر جان بوجھ کر اڑے نہ رہیں ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں مسلمان کے نصب العین کو واضح کیا ہے کہ وہ مجسمہ اطاعت ہوتا ہے ، اس کا ہر ارادہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ماتحت ہوتا ہے ، اور وہ دنیا کی دلفریبیوں پر نہیں ریجھتا ، وہ جنت ومغفرت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا ، مغفرت کے معنی مختلف آئے ہیں ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس سے مراد اسلام ہے ، حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ اس سے مقصود ادائے فرائض ہے ، حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں ، پانچ نمازیں ہیں ، سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں ، تکبیر اعلی سے تعبیر ہے ۔ مگر لفظ کی وسعتیں کسی تخصیص کی متحمل نہیں ، ان اقوال میں بھی تضاد نہیں ، ان بزرگوں نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق جس طرز عمل کو زیادہ اچھا سمجھا ، مغفرت کا اولین مصداق قرار دیا ، مقصود بہرحال یہ ہے کہ مسلمان کی نگاہیں بہت بلند ہیں ، وہ مقام رضا ومغفرت کو لپک لپک کر اور دوڑ دوڑ کر حاصل کرنا چاہتا ہے ، (آیت) ” عرضہا السموت “۔ سے مراد وسعت و کشادگی کی تشریح ہے ، ” بلاد عریضہ “۔ بڑے بڑے ملکوں کو کہتے ہیں ۔ مقصود یہ ہے کہ زمین وآسمان کی بلندیاں اور پہنائیاں جنت کی وسعت بےپایاں کا ایک حصہ ہیں ، بعض لوگوں نے ” عرض “ کے بھی کہئے ہیں ، مگر عربیت کے لحاظ سے کچھ زیادہ جچتے نہیں ۔
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسوں کا بدلہ ان کے رب سے مغفرت اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے اور عمل کرنے والے کا اچھا بدلہ ہے ۔ (ف 2)

ستہ ضروریہ : (ف 2) ان آیات میں چھ ان صفات کی توضیح کی گئی ہے جن سے مغفرت کا حصول ہوتا ہے ، (1) عسرویسر حالت میں خدا کی راہ میں خرچ کرنا ۔ (2) مقدر وقوت کے باوجود غصہ کو ضبط کرلینا ، مبروجو بڑے نجومی ہیں ‘ کہتے ہیں کظلم کا لفظ اس وقت بولا جاتا جب مشکیزہ بھر جائے اور بہتے ہوئے پانی کو بند کیا جائے چناچہ کظم السقاء کے معنی ہوتے ہیں ، کتم علی امتلائہ منہ “ یعنی خوبی جب ہے جب غصہ سے آنکھوں میں خون اتر آئے ، بدن میں کپکپی اور تھرتھری پیدا ہوجائے اور پھر خدا کا ڈر اور حسن سلوک کا جذبہ تمہیں انتقام سے روک دے ، یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں بہادر بنا دیتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دشمن کو گرا دے ، بلکہ وہ ہے جو غصہ کو پچھاڑ دے ، (3) معاف کردینے کا درجہ غصہ پی جانے سے زیادہ بلند ہے ، یعنی انتقام نہ لینے کے بعد دل سے بھی بغض وعناد کے خیالات کو دور کر دے اور پوری پاکیزگی کے ساتھ دشمن سے ملے (4) احسان یعنی حسن سلوک سے کام لے ، فرمایا ، خدا کو ایسے ہی بندے پسند ہیں ، (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ (5) احساس زیاں یعنی برائی کے بعد فورا پشیمانی ۔ (6) عدم اسرار و قبول واعتراف کا جذبہ ۔ ظاہر ہے یہ وہ ستہ ضروریہ ہے جس پر اسلامی اخلاق کی بنیاد ہے اور جو مقام جنت کے حصول کے لئے از بس ضروری ہے کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسلام آئیڈیل اخلاق پیش نہیں کرتا ۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت واقعات گزر چکے ہیں سو تم زمین کی سیر کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے (ف 3)

(3) اس آیت میں مسلمان کو تلقین کی ہے کہ وہ عبرت وبصائر کو ڈھونڈے اور تلاش کرے اور دیکھے کہ وہ لوگ جو آسمانی ہدایات کو نہیں مانتے اور اخلاق واصلاح کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کتنا عبرت ناک حشر ہوتا ہے اور کس طرح وہ آنے والی نسلوں کے لئے سرمایہ بصیرت بنتے ہیں اور زبان حال سے کہتے ہیں ۔ ان اثار ما تدل علینا فانظروا بعدنا الی الاثار : حل لغات : سنن : طریق ۔ رستے ۔
Ayahs 3:138–139

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لئے بیان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے ۔

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور سست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تمہیں (مشرکین عرب پر) غالب رہو گے (ف 1) اگر تم مومن ہو ۔

انتم الاعلون : (ف 1) اس آیت میں مسلمانوں کو بشارت دائمی کی خبر سنائی ہے کہ مسلمان اگر مسلمان ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ کفر سے مغلوب رہے اور یہ اس لئے کہ اسلام نام ہی ایک ایسے زندہ طرز عمل کا ہے جو فلاح دارین کا کفیل وضامن ہے ، اس کے اصول اتنے پاکیزہ اور حیات بخش ہیں کہ مان لینے کے بعد علو واختیار کی تمام نصیحتیں از خود حاصل ہوجاتی ہیں ، مگر شرط وہی ایمان کامل ہے جس سے عمل پہیم الگ نہیں ، قرآن حکیم کی اصطلاح میں ” مومن “ صرف چند اصول و فروع کو مان لینے والے کا نام نہیں ‘ بلکہ ایسے زبردست خدا پرست انسان کا نام ہے جس کی رگوں میں خون کی بجائے اسلام کی کہریائی رو دوڑ رہی ہو ‘ جو بےچین اور مضطرب داغ دماغ کا مالک ہو ‘ جس کی عملیت فولاد کو برما دے اور پتھر اور چٹانوں میں جان پیدا کردے ‘ جو انتہا درجہ کا صابر ، منتظم اور باقاعدہ ہو جس میں پوری عسکری روح ہو ، جو دنیا کو تہ وبالا کردینے کا عزم صمیم اپنے اندر رکھتا ہو ‘ وہ نہ جامد اور غیر متحرک ہو جو غلام اور ذلیل ہو ‘ جس میں کوئی ارادہ نہ ہو اور جس کا ایمان منطقی حدود سے آگے نہ بڑھے ۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم نے (جنگ احد میں) زخم کھایا تو وہ قوم (کفار مکہ) بھی ایسا ہی زخم کھا چکی ہے (جنگ بدر میں) اور یہ ایام ہیں جن کو ہم آدمیوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں (ف 2) اس لئے کہ خدا کو ایمان دار لوگ معلوم ہوجائیں اور اس لئے کہ بعض کو تم میں سے گواہ پکڑے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔

(ف 2) ان آیات میں بزدل مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، جیسے چوٹیں تم نے کھائی ہیں ‘ ویسے ہی تمہارے دشمن بھی زخمی ہوئے ہیں اور یہ عارضی غلبہ جو کفار کو ہوگیا ہے ، اس لئے ہے ، تاکہ مخلصین کا امتحان ہوجائے ، (آیت) ” تلک الایام نداولھا بین الناس “۔ سے مراد یہ نہیں کہ غلبہ کبھی تمہیں میسر ہوتا ہے اور کبھی کفار کو بلکہ مقصود یہ ہے کہ یہ تکلیف کے دن اور آزمائش کی گھڑیاں سب کے لئے یکساں ہیں ، مومن کے لئے ابتلا ہے اور کافر کے لئے عذاب ، ورنہ اصل نصرت وفتح صرف مسلمانوں کے لئے مختص ہے ۔ حل لغات : قرح : زخم ۔ چوٹ ۔ یمحص : مصدر تمحیص ۔ خالص بنانا ۔
Ayahs 3:141–143

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس لئے کہ ایمان داروں کو اللہ خالص کرے اور کافروں کو مٹا دے ۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تمہیں یہ خیال ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو خدا نے ان لوگوں کو ظاہر ہی نہیں کیا جو تم میں جہاد کرنے والے ہیں اور نہ ہی ان کو ظاہر کیا جو صبر کرنے والے ہیں ۔

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو اس موت (احد) کی ملاقات سے پہلے مرنے کی آرزو کرتے تھے ، سو تم اب موت کو (ف 1) اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ چکے ۔

گمان باطل : (ف 1) اسلام قبول کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام باطل قوتوں کے ساتھ جنگ چھڑ جائے ، اس لئے کہ جو شخص حق نواز ہوگا ‘ ضرور ہے کہ طاغوت کا دشمن ہو ، شیطان کی دوستی اور اسلام یہ دو مختلف چیزیں ہیں جو کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں اس لئے جو مومن ہے اور جس کا نصب العین جنت کا حصول ہے ، وہ اس گمان باطل میں نہ مبتلا رہے کہ بغیر جہاد کئے اور مصیبتیں جھیلے خدا کی رضا کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو عام جماعت کو مخاطب کیا ہے کہ تم غزوہ احد سے پہلے شوق شہادت میں بےچین تھے ، اب تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں نہیں اٹھ کر اپنی عزیمیت وقوت کا ثبوت دیتے اور کیوں ثابت نہیں کردیتے کہ ہم جنت کے وارث ومستحق ہیں ۔ (آیت) ” ولما یعلم “ سے مراد یہ ہے کہ مجاہدین وصابرین کا گروہ متمیز طور پر الگ ہوجائے اور واضح طور پر الگ ہوجائے کون خدا کی راہ میں جان دیتا ہے اور کون ہے جو جی چراتا ہے ، نہ یہ کہ خدا جان لے اس لئے کہ اس کے علم میں واقعات و حوادث سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ اس کا علم ہمیشہ سے کامل اور ہمہ گیر ہے ۔ حل لغات : خلت : خلایۃ کے معنی ہوتے ہیں ، وہ خلوت میں اس سے ملا ، رجل خلی بےکار آدمی کو کہتے ہیں ، خلا کے معنی ہیں ہو گزرا مجازا اس کا اطلاق موت پر بھی ہوتا ہے ۔
Ayahs 3:144–146

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف ایک رسول ﷺ ہے ، اس سے پہلے بہت سے رسول ﷺ گزر گئے ، پھر کیا اگر وہ مر جائے یا مارا جائے تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی اپنے الٹے پاؤں پھرے گا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑسکتا ، اور خدا شکر گزاروں کو بدلہ دے گا ۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی نفس بغیر حکم خدا کے مر نہیں سکتا ، وقت مقرر لکھا ہوا ہے اور جو کوئی دنیا میں بدلہ چاہے گا ہم اس میں سے اسے دیں گے اور جو کوئی آخرت کا بدلہ چاہے گا ہم اس میں سے اسے دیں گے ، اور ہم شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے ۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ بہت خدا پرستوں نے مل کر جہاد کیا ، سو وہ اس مصیبت سے جو انہیں راہ خدا میں پہنچی ، نہ سست ہوئے اور نہ تھکے اور نہ دبے اور خدا ثابت رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے (ف 1)

تلقین عزیمت : (ف 1) جب غزوہ احد میں بھاگڑ مچی اور عبداللہ ابن قیمہ نے یہ مشہور کردیا کہ رسالتمآب ﷺ شہید ہوگئے ہیں تو بعض مسلمان ہمتیں ہار بیٹھے اور جم کر نہ لڑ سکے ، حضور ﷺ نے فرمایا ” الی عباد اللہ “ کہ خدا کے بندو ادھر آؤ ، لوگ حضور کے گردا گرد جمع ہوگئے ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ تمہیں ہوگیا جو تم بھاگ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا ، ہم نے جب سنا کہ آپ ﷺ ہم میں نہیں رہے تو ہم گھبرا گئے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ محمد ﷺ کی حیثیت ایک پیغمبر سے زائد نہیں ، اس سے پہلے بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں ، ہوسکتا ہے آپ اس دنیا کو چھوڑ جائیں ، کیا اس صورت میں تم دین مستقیم کو چھوڑ دو گے ؟ دوسرے لفظوں میں بتانا یہ مقصود تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) ایک خاص مشن کی تکمیل کے لئے تشریف لاتے ہیں اور جب وہ تکمیل پذیر ہو چکتا ہے ‘ رفیق اعلی سے جاملتے ہیں ، یہ قطعا ضروری نہیں ہے کہ وہ قیامت تک امت میں زندہ رہیں اور امت کو راہ راست پر لاتے رہیں ، بلکہ ہر نبی کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے ، جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر عام انسانوں کی طرح قفس عنصری کو چھوڑ جاتے ہیں ، اس لئے یہ عذر قرین دانش نہیں کہ چونکہ پیغمبر ہم میں نہیں ‘ اس لئے دین چھوڑ دیا جائے یا ان کی حمایت چھوڑ دی جائے چناچہ حضرت انس بن نضر ؓ اس نکتہ کو بھانپ لئے ، جب لوگ بھاگ رہے تھے اس وقت انہوں نے للکار کر کہا کہ اے قوم آؤ ۔ حضور ﷺ کے بعد جی کر کیا کرو گے ؟ اگر وہ فوت ہوگئے تو ان کا خدا تو زندہ ہے ہم اس کی محبت میں مر جائیں ، یہ آپ ﷺ کے بعد زندہ رہنے کی ذلت سے زیادہ موزوں ہے ، تقریبا اسی قسم کے جرات آموز الفاظ صدیق اکبر ؓ کے تھے ، جب حضور ﷺ کا انتقال ہوا ۔ آپ ؓ نے یہی آیت صحابہ ؓ اجمعین کے سامنے پیش کی اور بتایا کہ یہ خدا کا زبردست قانون ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے ، وہ ضرور ایک نہ ایک دن اس دنیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوگا ۔ یہ آیت کا سلیس اور صحیح مطلب ہے بعض لوگوں نے خواہ مخواہ اسے وفات مسیح (علیہ السلام) پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے ، آیت مذکورہ صرف اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء ہو گزرے ہیں وہ بھی انسان تھے اور انسانی حوادث سے ہو کر گزرے ہیں ، اس لئے حضرت محمد ﷺ بھی اوروں سے الگ حقیقت نہیں رکھتے ۔ اس آیت میں مسیح (علیہ السلام) کا کہیں ذکر نہیں ، البتہ عموم ہے ، کلیت واستغراق نہیں اور دوسرے مواضح پر جہاں ان کا نام ہے ، وضاحت سے حیات مسیح (علیہ السلام) کا ثبوت ملتا ہے ، منطقی طور پر مخصوص و متعین دعوی کے لئے و متعین دلائل ضروری ہیں ، مگر ہمارے مخالفین ہمیشہ خطابیات سے کام لیتے ہیں ۔
Ayahs 3:147–148

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان کا قول صرف یہی تھا کہ انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ اور جو زیادتی ہمارے کاموں میں ہم سے ہوئی تو معاف کر دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ہمیں کافر قوم پر مدد دے ۔

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پھر خدا نے بھی ان کو دنیا کا ثواب اور آخرت کا اچھا ثواب دیا اور خدا نیکوں سے محبت رکھتا ہے ، (ف 2) ۔

اللہ والوں کا جہاد : (ف 2) جس طرح ایک مادہ پرست انسان کے نصب العین میں زمین وآسمان کا فرق اسی طرح ان کے طریق کار ہیں اور عام لوگوں کی روش میں عظیم امتیاز پایا جاتا ہے ، مادیت پرست لوگ مادی خواہشات کے حصول کے لئے لڑتے ہیں اور اللہ والے بلند نصب العین کے ماتحت میدان جہاد میں کودتے ہیں ۔ دنیا داروں کے سامنے خدا کی بادشاہت پھیلانے کا مقصد ہوتا ہے ، ظالم اپنے نفس امارہ کے لئے لڑتے ہیں اور خدائی مجاہد اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ، پھر جس طرح ان کے مقاصد میں اختلاف ہے ، اسی طرح ان کے طریق جنگ میں بھی اختلاف ہے ۔ دنیا کے قیاصر واکاسرہ مادی قوتوں کو جمع کرتے ہیں اور اقلیم ایمان عقیدت کے شہنشاہ بصیرت ونیاز مندی کے متاع عزیز کو ۔ ان آیات میں اسی نقشہ کو پیش کیا ہے کہ انبیاء کا ساتھ دینے والے سپاہی جنگ ولے کے نغموں سے مست ہو کر نہیں لڑتے ، شراب و لے سے مخمور ہو کر دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرتے ، بلکہ ایمان ومغفرت کا افشردہ پیتے ہوئے جنگ میں نبرد آزما ہوتے ہیں ، خدا سے ڈرتے ہوئے اپنی لغزشوں سے معافی چاہتے ہوئے (آیت) ” ثبت اقدامنا “۔ کے نعرے لگاتے ہوئے جنگ کی آگ میں کودتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا دنیا کا ثواب اور عقبی وآخرت کی فیروز مندیاں ان پر سے نچھاور کردیتا ہے ، اس لئے کہ وہ جنگ میں بھی جہاں عام سپاہی اخلاق پش پشت ڈال دیتے ہیں ، احسان ومروت کا پیکر ہوتے ہیں ، ان کی دشمنی سوائے باطل اور باطل پرست کے اور کسی شے سے نہیں ہوتی ، وہ اللہ کے لئے لڑتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑتے ہیں اور اللہ کے لئے جیتے ہیں ، ان کی کوئی حرکت اور ان کا کوئی اقدام ان کے اپنے لئے نہیں ہوتا ، وہ پوری بےغرضی اور بےلوثی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔
Ayah 3:149

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر دیں گے ، پھر تم گھاٹے میں جا پڑوگے (ف 1)

(ف 1) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے فرائض دینی میں پوری توجہ سے منہمک رہیں اور ان کفار کی قطعا پرواہ نہ کریں ، یہ تو چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو ضرور گمراہ کرلیا جائے ، فرمایا اگر تم خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایات پڑھتے رہے تو وہ بہترین معاون وناصر ہے ۔
Ayahs 3:150–151

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ تمہارا اللہ کار ساز ہے اور وہ اچھا مددگار ہے ۔

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

اب ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالیں گے (ف 2) اس لئے کہ انہوں نے خدا کا شریک ٹھہرایا ہے ، جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے رہنے کی جگہ بری ہے ۔

اسلامی رعب : (ف 2) ان آیات میں وعدہ ہے کہ ہم کفار کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ رعب طاری رکھیں گے اور یہ اس لئے کہ وہ مشرک ہیں اور مشرک ہمیشہ بزدل ہوتا ہے یعنی بت پرست اور مشرک انسان ہر قوت و عظمت کے سامنے جھکتا ہے وہ دشمن کی بھی پوجا کرتا ہے ، اور دوست کی بھی اس لئے اس میں تاب مقاومت نہیں رہتی ، بخلاف مسلمان کے کہ وہ موحد ہے اور بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے سامنے نہیں جھکتا ۔ یہی چیز اسے دلیر بنائے رکھتی ہے ۔ دیکھ لو آج بھی مسلمان مخالفین کے لئے کتنا مرعوب کن ہے ، یہ مانا کہ وہ اس وقت دم توڑ رہا ہے ، مگر کون ہے جو میرے ہوئے شیر کا سامنا گوارا کرتا ہے ؟ (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ شرک اور بت پرستی کے لئے شروع سے کوئی دلیل ہی نہیں یعنی یا تو خدا ایک ہے اور یا پھر دنیا میں کوئی خدا نہیں عقل وبرہان کے لئے تیسری راہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اسلامی کلمہ توحید ” لا الہ الا اللہ “ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا وجود ہے اور یقینا ہے تو وہ ” الا “ کے ساتھ ہے ، ورنہ ” لا الہ الا اللہ “ کی دہریت ۔ حل لغات : اعقاب : جمع عقب بمعنی ایڑی ۔ تحسون : اوجس ، جڑ سے کاٹنا کلی استیصال بےدریغ قتل ۔
Ayahs 3:152–153

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا اپنا وعدہ تم سے سچا کرچکا ، جب تم اس کے حکم سے کافروں کو کاٹتے تھے ، تاآنکہ تم نے نامردی کی اور حکم عدولی کر کے کام میں جھگڑا ڈالا ، اس کے بعد کہ وہ تمہاری محبوب شے (یعنی فتح کی صورت) دکھلا چکا تھا ، تم میں کوئی دنیا چاہنے لگا اور کوئی آخرت چاہنے لگا ، پھر خدا نے تم کو ان کافروں کی طرف سے پھیر دیا ، تاکہ تمہیں آزمائے ، اور وہ تو تم کو معاف کرچکا ۔ اور اللہ ایمان داروں پر فضل کرتا ہے ۔

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

اور جب تم (شکست کھا کر پہاڑ پر) چڑھے جاتے تھے اور پیچھے مڑ کر کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول ﷺ تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا ، پھر خدا نے تمہیں غم پر غم کا بدلہ دیا ، یہ اس لئے ہوا کہ تم اس چیز کا جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی اور اس تکلیف کا جو تمہیں پہنچی غم نہ کھاؤ اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف 1)

عصیاں رسول ﷺ کا نتیجہ : (ف 1) احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ضعیف ال ایمان لوگ ڈگمگا گئے ، انہیں شک نے آگھیرا کہ خدا نے جو نصرت واعانت کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ پورا نہیں ہوا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا کا وعدہ سچا ہے ، اس میں کبھی تخلف نہیں ہوا ، کیا تم نے جب تک پارس اطاعت کو ملحوظ رکھا ، کامیاب نہیں رہے ؟ اولا تو ایسا ہوا کہ مسلمان مخالفین پر چھا گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میدان حرب اب انہیں کا حصہ ہے ، وہ لوگ جنہیں حضور ﷺ نے تیر اندازی کے لئے درہ پر متعین کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ آخر تک تم یہیں رہنا ۔ ان میں بعض لوگ غنیمت کے لالچ ہیں ایک ہوگئے اور لگے مال غنیمت لوٹنے ، خالد بن ولید ؓ نے جو اس وقت کفار کے لشکر کے سردار تھے ، اور درہ کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ کردیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے حضور ﷺ کی اطاعت ترک کردی اور دنیا طلبی کے جذبہ سے متاثر ہو کر مال و دولت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے ، یہ درست ہے کہ نصرت کا وعدہ تھا ، اور یہ بھی درست ہے کہ وعدہ کو ہر حال میں پورا ہونا چاہئے مگر یہ تو سوچئے ، وعدہ کن سے تھا ، کیا وعدے کے مخاطب صرف وہی لوگ نہیں تھے جو ہر حال میں فرمودہ رسول ﷺ کو قابل اتباع سمجھیں ، اس صورت حال میں ظاہر ہے کہ منافقین کا اعتراض بالکل لغو ہوجاتا ہے ، (آیت) ” ولقد عفاعنکم “ کے معنی یہ ہیں کہ آکر مسلمانوں کو اپنی اس نافرمانی کا احساس ہوا اور وہ بارگاہ ایزدی میں توبہ کے لئے جھک گئے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ، اس لئے کہ اس کا شیوہ ہی عفو ورحم ہے ، اس آیت کے بعد بھاگنے والوں پر کوئی الزام نہیں جب اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا تو ہم اعتراض کرنے والے کون ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شرف صحبت حاصل ہے ۔ جنہوں نے براہ راست انوار و تجلیات نبوی کا مشاہدہ کیا ہے اور جمال یار کو بالمشافہ دیکھا ہے ، اس لغزش بشری پر انہیں موردالزام محض الحاد ہے ، وہ آنکھیں جو بعقیدت چہرہ اقدس کو دیکھتی رہی ‘ وہ کبھی محروم دیدار نہیں رہیں گی ، اس کے بعد بھ اگر کا نقشہ کھینچا ہے کہ کس طرح تم بھاگے چلے جاتے تھے ، فرط بدحواسی میں تم نے رسول ﷺ کی آواز کو بھی نہیں سنا ، وہ تمہیں (آیت) ” الی عباد اللہ “ کی پکار سے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا اور تم تھے کہ بھاگے چلے جا رہے تھے ، تمہاری ان غلطیوں کا خمیازہ آلام وہموم تھے جن سے تمہیں دو چار ہونا پڑا ، تم نے دیکھا کہ تمہارے سامنے کئی مسلمان جام شہادت پی گئے ، حضور ﷺ کے چہرہ اقدس کو لہولہان کردیا گیا اور اس پر مستزاد یہ کہ مشہور کردیا گیا کہ حضور ﷺ شہید ہوگئے ہیں ۔ یہ سب کچھ صرف اس لئے ہوا کہ تم جادہ اطاعت رسول ﷺ سے الگ ہوگئے اور تم نے پیغمبر خدا ﷺ کی ہدایات کی پروا نہیں کی اور یہ نہیں سوچا کہ فتح ونصرت تو محض رہن اطاعت رسول ﷺ ہے ۔ حل لغات : تصعدون : اصفاد فی الارض کے معنی ہیں ۔ اوپر کی طرف چڑھے چلے جانا ۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اللہ نے غم کے بعدتمہارے آرام کے لئے تم پر اونگھ اتاری (ف 1) کہ تم میں سے بعضوں کو گھیر رہی تھی اور بعض کو اپنی جانوں کی فکر پڑی تھی ، وہ خدا کی نسبت جاہلیت کا باطل گمان کرتے تھے ، کہتے تھے کہ اس لڑائی کی کوئی بات ہمارے ہاتھ میں ہے ، تو کہہ کل کام اللہ کا ہے اور وہ اپنے دلوں میں وہ بات چھپاتے ہیں جو تجھ پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں یہ کہ اگر اس لڑائی میں کچھ بھی ہمارا دخل ہوتا تو ہم (یعنی ہمارے ساتھی) اس جگہ قتل نہ کئے جاتے تو کہہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا ‘ وہ اپنی قتل گاہ کی طرف ضرور باہر نکل آتے ، اور اللہ تمہارے دلوں کی باتیں آزمانا چاہتا تھا اور جو تمہارے دلوں میں ہے اسے خالص کرنا چاہتا تھا ، اور اللہ دلی باتوں سے خبردار ہے ۔

سکون خاطر کی حیران کن مثال : (ف 1) باوجود ان مصائب کے جن سے مسلمانوں کو غزوہ احد میں گزرنا پڑا ، سکون خاطر کی یہ حالت ہے کہ عین حالت جنگ میں نیند نے آگھیرا کیا ، اس سے بہتر طمانیت قلب کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے ؟ میدان جنگ میں جہاں اچھوں اچھوں کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں ، اللہ والے کچھ اس طرح داد شجاعت دے رہے ہیں کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹ رہی ہیں ، اونگھ رہے ہیں اور نبرد آزمائیاں ہو رہی ہیں ، اس طرح نیند کا آجانا اللہ کا خاص فضل تھا جس کا ان آیات میں اظہار ہے ، اس سے مسلمان کچھ دیر کے بعد بالکل تازہ دم ہوگئے اور تمام کوفت بھول گئے ۔ حل لغات : نعاس ۔ اونگھ ، جھپکی ۔ ظن الجاھلیۃ : زمانہ جاہلیت کے خیالات ، برز : مصدر بروز ، بمعنی ظاہر ہونا ، مضاجع : جمع مضجع ۔ خواب گاہ ۔
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

دو فوجوں کے بھڑنے کے دن جو لوگ تم میں سے پیچھے ہٹ گئے تھے ، ان کے بعض گناہوں کی شامت (ف 1) سے انہیں شیطان نے ڈگا دیا تھا اور خدا نے ان کا قصور (ف 2) معاف کردیا ، بیشک اللہ بخشنے والا بردبار ہے ۔

تقدیر : (ف 1) عبداللہ بن ابی اور دوسرے منافق احد کی شکست کو اسلام کے خلاف بطور دلیل استعمال کرتے اور کہتے کہ اگر محمد ﷺ سچے ہوتے تو ضرور فتح ہوتی اور ہمارے ساتھی کبھی میدان جنگ میں نہ مارے جاتے ، اس شبہ کا جواب گزشتہ آیات میں دیا جا چکا ہے کہ شکست نافرمانی ومعصیت کا نتیجہ ہے ۔ اگر تیر انداز درہ نہ چھوڑتے تو کبھی شکست نہ ہوتی میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا ۔ ان آیات میں ان کی دوسری کج حجتی کا جواب دیا ہے ، وہ یہ کہ مسلمان اگر جہاد کے لئے نہ نکلتے تو نہ مارے جاتے ، دوسرے لفظوں میں وہ ضعیف الاعتقاد مسلمانوں میں بد دلی اور بزدلی کے جذبات پیدا کرنا چاہتے تھے کہ موت وحیات ہمارے اختیار میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ غلط وہم ہے ، زندگی اور اس سے محرومی اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، جب خدا تمہاری موت کا فیصلہ کرچکا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ تم بچے رہو ۔ تقدیر الہی قطعی اور حتمی ہے جس میں ذرہ برابر شک وشبہ نہیں ، وہ جو خدا کے علم میں ہے ہو کر رہے گا ۔ دنیا کی کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی ، بڑے سے بڑا انسان بھی اپنی پوری دانش وعقل کے ساتھ تقدیر کے فیصلوں کے سامنے بیچارہ و عاجز ہے ، جس وقت سے انسان عرصہ شہود پر آیا ہے ، موت کے آہنی پنجہ میں گرفتار ہے اور یہ وہ قید ہے جس سے قطعا رہائی نہیں ۔ بڑے بڑے نماردہ اور فراعنہ اور وہ جنہیں خدا پر یقین نہیں ؟ موت کا شکار ہوتے ہیں اور اس ذلت کے ساتھ کہ سارا کبر و غرور خاک میں مل گیا ہے ، مگر مجبوری کے یہ معنی نہیں کہ ہمیں کبھی بھی اختیار نہیں ۔ مسلمانوں میں تقدیر وتدبیر کے متعلق دو گروہ ہیں ، ایک مطلقا اپنے آپ کو مجبور سمجھتے ہیں ، ایک وہ ہیں جو افعال میں اپنے آپ کو مختار سمجھتے ہیں ، دونوں کا منشانیک ہے ، مگر صحیح راہ درمیان و اعتدال کی ہے یعنی نہ تو ہم اس درجہ مجبور ہیں کہ تکلیف شرعی سے ہی بےنیاز ہوجائیں اور نہ اس درجہ آزاد وخود مختار ہیں کہ خدا کی قدرت مطلقہ پر حرف آئے ، ان دونوں کے بین بین ہمیں اختیار بھی حاصل ہے ، اور قدرے مجبور بھی ہیں ، اور جس حد تک ہم مختار ہیں ‘ اپنے افعال کے ذمہ دار ہیں ، کوئی سمجھ دار انسان اس سے انکار نہیں کرسکے گا کہ ہمارے بعض افعال ضرور ایسے ہیں جنہیں ذمہ دارانہ افعال کہا جاسکتا ہے اور یہی وہ قدر ہے جس پر جزا وسزا مرتب ہوگی ۔ (ف 2) ان آیات میں دوبارہ بعض صحابہ ؓ اجمعین کی لغزش کو ظاہر کیا ہے اور ساتھ ہی اعلان عفو بھی فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اب ان پر اعتراض کرنا گناہ ہے اور ہم تو قطعی اسحقاق نہیں رکھتے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے طرز عمل پر تنقید کریں ، ہم جو سر سے پاؤں تک گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں ، کیونکر ان پاکیزہ روح لوگوں پر اعتراض کریں جو (آیت) ” عفا اللہ عنھم “ کا درجہ حاصل کرچکے ہیں ، ہمارے اعمال کی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام نیکیاں ان کے ایثار و خلوص کے مقابلہ میں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی جگہ وہ بتقاضائے بشری اپنی کمزوریوں سے واقف ہوں اور خائف ہوں ہم جس مقام میں ہیں ہمیں قطعا زیبا نہیں کہ مزکی اعظم ﷺ کے صحابہ ؓ اجمعین پر زبان طعن دراز کریں ۔ اعاذنا اللہ عنہ ۔
Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! تم ان کافروں کی مانند نہ بنو جو اپنے بھائیوں کے حق میں جب وہ سفر کر نکلیں ، ملک میں یا جہاد میں ہوں ‘ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ رہتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے ، تاکہ ان کے دلوں میں اس بات سے حسرت پیدا کرے ، حالانکہ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور خدا تمہارے کام دیکھتا ہے ۔

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر خدا کی راہ میں تم مارے جاؤ یا مر جاؤ تو خدا کی رحمت اور مغفرت اس سے بہتر ہے جو تم دنیا میں جمع کرتے ہو ۔

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مر گئے یا قتل ہوئے تو اللہ ہی کی طرف جمع ہو گے ، (ف 1)

بہترین پونجی : (ف 1) خدا کی راہ میں مر جانا اور جان سے کھیل جانا بہترین زاد راہ ہے جو آخرت کی کٹھن منزل میں ہمارے کام آئے گا ، وہ لوگ جو دنیا کی لذات میں ” خود فراموشی “ کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے نصب العین کو بھول جاتے ہیں ‘ ایسے بیوقوف مسافر کی طرح ہیں جو راہ کی دلچسپیوں میں پڑ کر مقصود سفر کر کھو دیتے ہیں ، اور جو شاہد مقصود تک پہنچنے کے لئے اپنی پوری قوتوں کے ساتھ کوشاں ہوتے ہیں ، وہ قطعی ساحل مراد پر پہنچ کر رہتے ہیں ، ان دو آیتوں میں شہادت کے اس متاع ثمین کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔